سندھ اسمبلی میں پری بجیٹ سیشن کیوں نہیں بلوایا قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کا سندھ حکومت کو خط.ہر سال جنوری سے مارچ تک پری بجیٹ سیشن بلوایا جاتا ہے اس سال کیوں نہیں بلوایا گیا۔ خط متن رول 143 سب رول 1 سندھ اسمبلی کے تحت پری بجیٹ سیشن میں تمام اراکین کی رائے لی جاتی ہے۔ ہر سال آنے والے بجیٹ پر بحث مباعثہ کیا جاتا ہے لیکن اس سال ابھی تک عمل نہیں ہوا۔سندھ حکومت اسمبلی کے قانون کے مطابق پری بجیٹ سیشن جلد بلوائے۔ تاکہ آنے والے بجیٹ پر بحث کی جاسکے۔سندھ اسمبلی کے رول 143 سب رول 2 کے تحت پانچ دن کے لئے بری بجیٹ سیشن بلوایا جائے۔
Category: کراچی
-

بیچ کا راستہ نکالیں اور واضح پالیسی بتائیں،عدالت نے کس کو حکم دے دیا
بیچ کا راستہ نکالیں اور واضح پالیسی بتائیں،عدالت نے کس کو حکم دے دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں آئی بی اے ہیڈ ماسٹرز کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئیسیکریٹری تعلیم و دیگر حکام سندھ ہائیکورٹ میں پیش ہوئے سندھ ہائیکورٹ نے سیکریٹری تعلیم سے جواب طلب کرلیا .عدالت نے سیکریٹری تعلیم کو ہدایت کی کہ بیچ کا راستہ نکالیں اور واضح پالیسی بتائیں، عدالت نے سیکرٹری تعلیم سے سوال کیا کہ اساتذہ نے امتحان پاس کیا تو کیوں مستقل نہیں کیا جا رہا؟ سیکرٹری تعلیم نے عدالت میں بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے گریڈ 17 والوں کی تعیناتی پبلک سروس کمیشن کی ذریعے ہوگی،
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ہیڈ ماسٹرز کو اب کیا کرنا ہے؟ انہوں نے تو امتحان پاس کیا ہے، عدالت نے سیکرٹری تعلیم سے سوال کیا کہ ان کو رکھنا ہے یا نہیں کوئی واضح پالیسی بتائیں، سیکرٹری تعلیم نے سندھ ہائیکورٹ میں جواب دیا کہ یہ ورلڈ بینک کا پروجیکٹ ہے، سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 5 اپریل تک ملتوی کردی
قبل ازیں آئی بی اے ٹیسٹ پاس ہیڈ ماسٹرزنے ایک ماہ تک احتجاج کیا تو سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے انکے ساتھ مذاکرات کئے،آئی بی اے ہیڈ ماسٹرز اپنی مستقلی کے لئے سندھ اسمبلی کے باہر سراپا احتجاج رہے،اس دوران پولیس کی جانب سے ان پر تشدد بھی کیا گیا،سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا تھا کہ کووڈ کے باعث سب سے زیادہ نقصان تعلیم کے شعبہ کو ہوا ہے،ایک سال کے دوران کئی ایسے منصوبے ہم شروع نہیں کرسکے جو پلان کئے ہوئے تھے، آئی بی اے پاس ہیڈ ماسٹرز کا معاملہ ہائی کورٹ میں ہے،
-

سپریم کورٹ کےحکم کے باوجود،تبدیلی اراضی کاگھناونا کھیل جاری
سپریم کورٹ میں تبدیلی اراضی کیس کی سماعت آج ہو گی یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے کراچی میں تبدیلی اراضی کے قوانین اور دیگر قانون کے تحت رہائشی اراضی تبدیل کرکے ایسے 903پلاٹس کی تمام تجارتی بنیاد کے ہر قسم کی تبدیلی سے روک دیا گیا ہے اور 22جنوری2019کو سپریم کورٹ نے ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس کے مطابق پابندی تاحکم ثانی وجودہے، سپریم کورٹ میں بروز جمعہ (آج)9اپریل کو مقدمہ نمبر815-K/2018 کی سماعت ہو گی ۔سابق ڈی جی افتخار قائم خانی نے 24جنوری 2019ء کے اپنے حکمنامہ میں ایسے مالکان، اٹارنی، قابضین،کرایہ داران، بلڈرز وغیرہ جو کہ ایسے پلاٹس، بلڈنگز، آفسز، ریسٹو رانٹس، گیسٹ ہاوئسز، میرج ہالز، اسکولز، مارکیٹ،پیٹرول پمپس، سی این جی پمپس اور دیگر کسی قسم کی تشکیل پر کوئی قانونی ٹائٹل یاحق رکھتے ہوں جہاں مذکورہ کمرشل بزنس رفاہی پلاٹس یا رہائشی پلاٹس،KDA/KMC/BOR، کاپرایٹو سوسائٹیز، کچی آبادیاں، کنٹوٹمنٹ بورڈز اوردیگر علاقے منظوری این او سی کی بنیاد پر یا این او سی کے بغیر ہیں انہیں اگاہ کیا تھاہے کہ مذکورہ بالاکیس میں سپریم کورٹ حکمنامہ کی تعمیل میں تمام پلاٹس، زمینوں کو ان کے اصل استعمال کے مطابق بحال کرنا لازمی ہے جس مقصد کے لئے مذکورہ زمین کا تعین کیا گیا تھا جیساکہ اصل لینڈیوز اورلے آوٹ پلان میں واضح کیا گیا ہے ۔سپریم کورٹ کی واضح ہدایت پر سب سے ذیادہ عملدآمد نہ کرنے والا ادارہ ماسٹرپلان سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کراچی کے مختلف کنٹوٹمنٹ بورڈ ز سمیت دیگر ادارے پابند ی کے باوجود تمام ادارے کھلے عام عدالت کے توہین عدالت کا یہ سلسلہ جاری ہے، سپریم کورٹ کی ہدایت پر 2016ء سے 2019ءتک ایسے 903پلاٹس جن کی تبدیلی اراضی کرکے تجارتی بنیاد پر کردیا گیا تھا تمام پلاٹوں کی حیثیت تاحکم ثانی عدالت نے روک دیا گیا تھا، پلاٹس نمبرG-24،بلاک 9کلفٹن کراچی، 898بتاریخ 20اگست2018ء کو تجارتی بنیاد پر فیصلے منسوخ کرتے ہوئے رہائشی پلاٹ قراردیدیا گیا، جن پر ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈ نگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے فہرست جاری کیا گیا ہے اس میں یہ پلاٹ شامل ہے ماسٹر پلان SBCA،کلفٹن کنٹوٹمنٹ بورڈز نے سپریم کورٹ کے احکامات کو ہوا میں اڑتے ہوئے پلاٹ کے تبدیلی اراضی کا قوانین کو استعمال کرتے ہوئے تمام امور کو غیر قانونی طور پر استعمال کیا،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ساتھ کلفٹن کنٹوٹمنٹ بورڈ نے سپریم کورٹ کے حکمنامہ کے برخلاف 35اسکوئر فٹ روڈ پر رہائشی عمارت کو کمرشل اور 20منزلہ عمارت تعمیرات کا غیر قانونی نقشہ جاری ہوتے ہی اچانک تعمیرات میں تیزی آگئی ہے،سپریم کورٹ نے حکمنامہ بتاریخ22جنوری 2019ء کو جاری کیا،جس کے نتیجے میں کراچی کے کلفٹن، نارتھ ناظم آباد، فیڈریل بی ایریا، ملیر ٹاون،گلشن اقبال، گلستان جوہر، نارتھ کراچی اور دیگر سوسائیٹز کے 903رہائشی پلاٹس کو تجارتی بنانے کا حکمنامہ ماسٹر پلان سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے منسوخ اور اجازت نامہ واپس لے لیاتھادلچسپ امریہ کہ ماسٹرپلان سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے غیر قانونی طور پر 35اسکوئر ٖفٹ روڈ پر رہائشی پلاٹ کو تجارٹی بنیاد پر اجازت نامہ جاری کیا تھاجس کو سپریم کورٹ کے ایک حکمنامہ کے ذریعہ کراچی میں تبدیلی زمین کی حیثیت کو منسوخ کردیا گیاہے لیکن کنٹوٹمنٹ بورڈ کلفٹن نے رہائشی پلاٹس کوجانچ پٹرتال کے بغیر پلاٹ G-24، 3700 اسکوئریارڈ زمین پر 20منزلہ کمرشل بلڈنگ کی تعمیرات کا نقشہ منظورکیا ہے غیر قانونی عمل میں کنٹوٹمنٹ بورڈ کے افسران نے بلاک 8/9کلفٹن میں رہائشی مکانات اور بنگلے پر بلند و بالا عمارت کی تعمیرات کی اجازت نامہ طویل عرصے سے جاری ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد پنجاب کالونی، پی این ٹی کالونی، دہلی کالونی، بلاک 8/9کلفٹن میں تجارتی بنیاد پر کئی کئی منزلہ یعنی بلند وبالا عمارتوں کی تعمیرات کا نوٹس بھی لے چکے ہے اور کنٹوٹمنٹ انتظامیہ کو انہدامی کارروائی کی ہدایت کردی گئی ہے، لیکن ا یک رہائشی پلاٹسG-24بلاک 9کلفٹن کراچی میں بغیر کسی منصوبہ کے رات کی تاریکی میں تعمیرات کے دوران زوردار دھم دھم کی آواز شاہراہ عبدالخالق جامی روڈ کے اطراف جاری ہے، ایک رہائشی بنگلہ میں 20منزلہ عمارت کی تعمیرسے بلاک 9کلفٹن کے مکینوں کو پانی، سیوریج کے مسائل کے علاوہ تما م اد گرد مکین متاثر ہوں گے، بجلی اوردیگر بحران پہلے ہی علاقے میں جنم لے رہی ہے، سپریم کورٹ کی ہدایت پر ماسٹرپلان نے جی 24پلاٹس کا رہائشی حیثیت میں تبدیلی کا فیصلے واپس لینے کے باوجود تعمیرات جاری ہے، اور تمام بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ بشمول کنٹوٹمنٹ بورڈز کلفٹن کی ایگزیکٹو کو تحریری طور پر آگاہ کردیا گیا تھا لیکن رشوت،کمیشن اور کیک بیک کی وجہ کنٹوٹمنٹ بورڈ کی انتظامیہ نے رہائشی پلاٹ کے20منزلہ نقشہ منظور کرکے کمرشل تعمیرات کی اجازت دیدیا ہے، اس بارے میں پلاٹ کے اطراف رہائشی مکینوں کاسخت اذیت کا شکار ہے۔منظور احمد کاکا نے بعض آلہ کار اور قریبی ذرائع کا دعوی کیا تھا، اور لامحدود اختیارات کے باعث شہر کی بربادی کا باقاعدہ ٹھیکہ بھی دیدیا گیا، اور سابقہ ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جرنیلوں، جن میں منظور احمد کاکا، آغا مقصود عباس، نور محمد، ممتاز حیدر، افتخار احمد قائم خانی،ظفر احسن، آشکار داور، شمش الدین سومرو شامل ہیں، کو اختیارات دینے والی ”ناپسندیدہ” ترامیم پر اب تک کسی فورمم سے کوئی انگلی نہی اٹھیں جس کے نتیجے میں متعدد سیاستدانوں، میڈیا گروپوں اور بیوروکریٹس کو ونڈفال منافع حاصل ہوا اور اربوں کھربوں روپے رشوت، کمیشن،کیک بیک سمیت شہریوں کے جبیوں میں وصول کیاہے ایڈوکیٹ ناصر احمد نے کہا کہ یہ ترامیم بلدیاتی نظام کے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں اور یہ بلدیاتی اداروں کے حق غصب کرنے کے مترادف ہے
-

کراچی میں سال رواں کی سب سے بڑی ڈکیتی میں ملوث ملزمان گرفتار
کراچی میں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی میں ملوث دو ملزمان گرفتار ۔ تفصیلات کے مطابق ایس آئی یو نے 5 اپریل کو جمشید روڈ پر بلڈر کے رائیڈر سے 3 کروڑ روپے مالیت کے پرائز بانڈز چھین کے فرار ہونے والے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ۔ 4 موٹر سائیکلوں پر سوار 6 ملزمان نے 3 کروڑ مالیت کے پرائز بانڈ لوٹے تھے ۔واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک ملزم کا چہرہ پولیس کے مخبر نے شناخت کیا ۔ تحقیقات کا دائرہ کار بڑھانے پر پولیس کو اِس گروہ کے بارے میں مزید معلومات ملیں ۔ اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے صدر بس اڈے پر حیدرآباد فرار ہونے والے دو ملزمان نوید عرف نعیم اور فرحان عرف رفیق کو گرفتار کرلیا ۔ ملزمان کے قبضے سے ڈھائی کروڑ روپے مالیت کے پرائز بانڈز برآمد کرلئے گئے ۔ گرفتار ملزمان نے گروہ کے دیگر ساتھیوں کے نام بھی پولیس کو بتادئیے ہیں جن میں ارمان عرف نومی ، عقیل ، ایان ، نوشاد ، اویس ، فضل ، ریحان اور علی شامل ہیں ۔ عدالت نے ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ۔
-

سندھ حکومت کی ایک اور منطق، دو سالہ ڈگری پروگرام کو غیر مستند قرار دے دیا
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ نے 2 سالہ ڈگری پروگرام کو غیر مستند قرار دے دیا۔
حکومت سندھ نے سندھ ہائی کورٹ کے 18 مارچ 2021 کے ایک فیصلے پر عمل کرتے ہوئے اخبارات میں اشتہار جاری کیا ہے جس کے مطابق 2 سالہ ڈگری پروگرام غیر مستند ہوگا اور صوبے بھر کے انٹرمیڈیٹ پاس طلبا وطالبات کو دو سالہ گریجویشن اور ڈگری ہولڈر طلبہ کو دو سالہ ماسٹرز پروگرام میں داخلوں سے روک دیا گیاہے۔
اب انٹر پاس طلبہ گریجویشن کے لیے الحاق شدہ کالجوں میں 4 سالہ بی ایس پروگرام میں داخلے حاصل کرسکتے ہیں۔ حکومت سندھ کے مطابق دو سالہ گریجویشن ختم ہونے کے بعد اب وہ کالجوں میں یا تو چار سالہ بی ایس پروگرام میں داخلہ لیں یا پھر دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام میں داخل ہوں جس کے لیے سیمسٹر سسٹم ہونا ضروری ہے. -

عمر سعید شیخ کو لاہور بھیج دیا گیا، حکام
کراچی جیل حکام نے تصدیق کی ہے کہ انتظامیہ نے عمر سعید شیخ کو ان کے آبائی شہر لاہور منتقل کردیا۔ وہ تقریباً 20 سال سے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کا الزام قید تھے، انہیں عدالت نے بری کرنے کا حکم دیا تھا۔پاکستانی نژاد برطانوی شہری عمر سعید شیخ کو سندھ ہائیکورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے الزام سے بری کردیا تھا، جس پر حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تاہم عدالت عظمیٰ نے بھی عدالت عالیہ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔عمر سعید شیخ پر 2002ء میں کراچی میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کے اغواء اور قتل کا الزام تھا، وہ تقریباً 20 سال سے قید میں ہیں۔عمر سعید شیخ کے قریبی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہیں کراچی جیل سے تقریباً شام 5 بجے لے جایا گیا، وہ بذریعہ ہوائی جہاز لاہور کا سفر کریں گے۔ایڈووکیٹ جنرل آفس سے رابطہ کرنے پر ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عمر سعید شیخ کو کوٹ لکھپت جیل میں قائم ریسٹ ہاؤس میں رکھا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ ریسٹ ہاؤس جیل افسران کے زیر استعمال ہے اور انہیں (عمر سعید شیخ) کو اس کی اپنی حفاظت کے پیش نظر وہاں منتقل کیا جارہا ہے۔عمر سعید شیخ کی کراچی سے لاہور منتقلی کی تصدیق ان کے وکیل نے بھی کی ہے۔ محمود اے شیخ نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبر درست ہے تاہم انتظامیہ کی جانب سے اہل خانہ کو یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کہاں رکھا جائے گا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق انہیں گھر پر رکھا جانا چاہئے۔سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ عمر سعید شیخ کو کراچی سے لاہور منتقل کرنے کی اس وقت اجازت دی تھی جب عمر کے اہل خانہ کی جانب سے ایک درخواست دائر کی گئی جس میں اسے لاہور منتقل کرنے کی استدعا کی گئی تھی، جہاں وہ خود رہائش پذیر ہیں۔
سندھ ہائیکورٹ نے گزشتہ سال 47 سالہ عمر سعید شیخ کو قتل کے الزام سے بری کرتے ہوئے سزائے موت کالعدم قرار دے دیدی تھی، جبکہ اس کی سزا کو اغواء کے الزام کے تحت کم کرتے ہوئے تقریباً دو دہائیوں بعد رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔حکومت نے عمر سعید شیخ کی بریت کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تاہم عدالت نے جنوری میں ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ اگر وہ کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو رہا کیا جائے۔ انتظامیہ نے عدالتی فیصلے کی روشنی میں عمر سعید شیخ کو سینٹرل جیل کراچی کے اندر ریسٹ ہاؤس منتقل کردیا تھا۔ ڈینیئل پرل کون تھا؟واضح رہے کہ امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا میں نمائندے ڈینیئل پرل 23 جنوری 2002 کو کراچی سے لاپتہ ہوئے تھے۔ 27 جنوری کو ایک غیر معروف تنظیم ‘دا نیشنل موومنٹ فار دا ریسٹوریشن آف پاکستانی سوورینٹی’ کی جانب سے دھمکی آمیز پیغام منظر عام پر آیا تھا کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر گوانتانامو بے میں قید پاکستانیوں کو رہا نہ کیا گیا، پاکستان کو ایف 16 طیارے فراہم نہ کیے گئے اور تاوان ادا نہ کیا گیا تو امریکی صحافی کو ہلاک کر دیا جائے گا۔21 فروری 2002 کو پاکستانی حکام کو ایک ویڈیو موصول ہوئی تھی جس میں ڈینیئل پرل کی ہلاکت دکھائی گئی تھی اور پھر اسی برس مئی میں کراچی میں ہی ایک گڑھے سے ایک سربریدہ لاش برآمد ہوئی جو ڈی این اے رپوٹ کے مطابق ڈینئیل پرل کی تھی۔اس معاملے میں کراچی کے آرٹلری میدان تھانے میں فہد نعیم، سید سلمان ثاقب، شیخ عادل، احمد عمر شیخ کے خلاف امریکی صحافی کے اِغوا اور قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر احمد عمر شیخ کو سزائے موت جبکہ باقی تین مجرمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ -

پیپلز پارٹی کراچی کے لوگوں کو ووٹ نہ دینے کی بد ترین سزا دے رہی ہے،طارق چاندی والا
جوائنٹ سیکریٹری اور کراچی چارٹرڈ سٹی اینالائزنگ کمیٹی کے ڈائریکٹر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ ایس بی سی اے، کے ایم سی اور کے ڈی اے، نااہلوں کے گڑھ بن چکے ہیں۔ کوٹہ سسٹم کے ذریعے تعینات ہونے والے افسران عوام کا خون چوس رہےہیں۔پیپلز پارٹی کراچی کے لوگوں کو ووٹ نہ دینے کی بد ترین سزا دے رہی ہے۔ پڑھے لکھے اور قابل لوگوں کوکرپٹ افسران سے نجات کے لئے متحرک ہونا پڑے گا۔ پانی اور سیوریج کے مسائل حل نہ ہوئے تو پاسبان بھرپور احتجاجی تحریک چلائے گی۔ عوام ساتھ دینے اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے آواز اٹھانے،باہر نکلیں۔ کوٹہ سسٹم کے ذریعے اورسیٹیں خرید کر تعینات ہونے والے افسران،عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے کراچی کے عوام کے لئے کچھ بھی نہیں کیا اس لئے ہر طرف "گو عمران گو "کے نعرے لگ رہے ہیں۔ اس وقت نااہل ترین لوگ قوم پر مسلط ہیں۔ پڑھے لکھے اور قابل لوگوں کو ان سے نجات کے لئے متحرک ہونا پڑے گا۔ صدیوں کی محرومی اور محکومی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا ہوگا۔ اگر پانی اور سیوریج کے مسائل حل نہ ہوئے تو پاسبان ڈیمو کریٹک پارٹی بھرپور احتجاجی تحریک چلائے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومتِ کے خلاف پاسبان کی تحریک جاری رہے گی۔ عوام ساتھ دیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے آواز اٹھانے گھروں سے باہر نکلیں اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت دیگراداروں کی کرپشن ختم کرنے اور تمام دیرینہ مسائل کا حل کراچی کو چارٹرڈ سٹی کا آئینی درجہ دینے میں ہے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ ایس بی سی اے ایک ناکام، خونی و قاتل ادارہ ہے، اسے بند کر دیا جائے؟ایس بی سی اے کے رشوت خور افسران عوام کے مجرم ہیں، ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ کوٹہ سسٹم نے سارے سسٹم کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔ شہر بھر میں ناقص معیار کی،بجلی پانی، سیوریج اور دیگر سہولتوں کے بغیر غیر قانونی اور بنا اجازت ناموں کی تعمیرات کورونا وائرس کی طرح پھیل رہی ہیں، نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔ایس بی سی اے کے راشی افسران کی غفلت اور بلڈرز مافیا کی ملی بھگت سے کراچی میں ہزاروں شہریوں کی زندگی داؤ پر لگ گئی ہے۔بلڈرز کو انتظامیہ، ایس بی سی اے،پولیس، بعض سیاسی عناصر اور دیگر متعلقہ محکموں کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے۔ بغیر پلان عمارتوں کی زوروشور سے تعمیرات جاری ہیں۔غیر قانونی اور غیر معیاری تعمیرات کراچی کی بلڈرز مافیا کا معمول بن چکا ہے،کوئی روکنے اورٹوکنے والانہیں ہے۔آخرکس قانون کےتحت بلڈرز مافیا کو مسلسل این آر اوز دیئے جارہے ہیں؟بغیر نقشے پاس کروائے بلڈرز نے کئی منزلہ عمارتیں تعمیر کر لی ہیں۔
-

کراچی سمیت سندھ بھر میںکاروباری سرگرمیاں بند رہیں گی، نوٹی فکیشن جاری
کراچی: محکمۂ داخلہ سندھ نے شہر قائد سمیت صوبے بھر میں کاروباری سرگرمیاں بند کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا محکمۂ داخلہ سندھ نے کراچی سمیت صوبے بھر میں جمعے اور اتوار کو کاروباری سرگرمیاں مکمل بند رکھنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ صوبے بھر میں جمعے اور اتوار کو میڈیکل اسٹورز ، اشیائے خوردونوش کی دکانیں اور ضروری سروسز کے دفاتر کھولنے کی اجازت ہوگی۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ جمعے اور اتوار کو گوشت کی دکانیں، بیکری ،پھلوں اور سبزیوں کی دکانیں صبح چھ سے رات 8 بجے تک کھلی رہیں گی جبکہ میڈیکل اسٹور 24 گھنٹے کھلنے کی اجازت ہوگی۔ کرونا ایس او پیز: سندھ میں تجارتی مراکز کے نئے اوقات کار کا اعلان محکمہ داخلہ سندھ نے آئی جی اور تمام ڈپٹی کمشنرز اور کمشنر کو ہدایت کی کہ تمام افسران وضاحتی مراسلے پر ہر صورت عمل درآمد کراوائیں۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ جمعہ اور اتوار کو گڈز ٹرانسپورٹ کھلی رہے گی جبکہ ایس او پی کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔واضح رہے کہ سندھ حکومت نے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے صوبے بھر میں بین الصوبائی ٹرانسپورٹ اور کاروباری و تجارتی مراکز کو ہفتے میں دو روز بند کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ عام دنوں میں مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کے اوقاتِ کار رات 8 بجے تک مقرر کیے ہیں۔
-

مہران ٹاؤن کورنگی میں مشترکہ کارروائی،2 ملزمان گرفتار
08اپریل2021 کو پاکستان رینجرز (سندھ) اور پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کراچی کے علاقے مہران ٹاؤن کورنگی میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے انتہائی مطلوب ڈکیت گروہ کے 2 ملزمان صدام حسین عرف علی اور سلیم عرف سلو کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ملزمان کراچی کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو لوٹنے، اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔ ملزمان کے قبضے سے ڈکیتی کی وارداتوں میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی بر آمد کر لی گئی جو نومبر 2020 میں تھانہ ڈیفنس کے علاقے سے چوری کی گئی تھی۔ملزمان کے دیگر ساتھیوں کا تعلق حب بلوچستان سے ہے۔ملزمان کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں آئی۔ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا کہ نومبر 2020 میں کراچی کے علاقے سولجر بازار میں ایک کار سوار کولوٹ مار کا نشانہ بنایا جبکہ فروری 2021 میں PECHSسوسائٹی میں ایک موٹر سائیکل سوار کو لوٹ کر موقع سے فرار ہو گئے جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کو باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔گرفتار ملزمان کوبر آمد شدہ موٹر سائیکل سمیت قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتار ی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی چیک پوسٹ،رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر0347-9001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
-

کراچی میں 11 منزلہ ناسلا ٹاور کو خالی کرنے کا نوٹس جاری
شہر قائد کے علاقے شاہراہ قائدین میں قائم گیارہ منزلہ ناسلا ٹاور کو خالی کرنے کا نوٹس جاری کردیا گیا۔سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے شاہراہ قائدین پر قائم گیارہ منزلہ ناسلا ٹاور کو خالی کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مالک اور مکین سات دن کے اندر عمارت خالی کریں۔نوٹس بلڈنگ کنٹرول ایسٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ عمارت کو بغیر کسی تکمیلی منصوبہ حاصل کے لیے آباد کیا گیا۔
tftناسلا ٹاور کے رہائشی کا کہنا ہے کہ عدالت نے بلڈنگ گرانے کا حکم دیا ہے اگر یہ گھر والوں کو بتادوں کو وہ جیتے جی مر جائیں گے، یہ نالے پر نہیں بنا یہاں بنگلہ ہوا کرتا تھا، بلڈر کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں شاہراہ قائدین پر قائم ٹاور گرانے کا حکم دیا تھا، عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ پوری بلڈنگ ہی نالے پر کھڑی ہے۔انہوں نے ڈی جی ایس بی سی اے کی سرزنش کی اور کہا کہ ایس بی سی اے والے خود ملے ہوئے ہیں، کل آپ سپریم کورٹ کی عمارت کسی کو دے دیں گے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کمشنر کراچی کی جانب سےڈپٹی کمشنر کی رپورٹ پیش کرنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی کو فارغ کریں، انہیں تو کچھ معلوم ہی نہیں، ہمارا آرڈر کیا تھا اور یہ کیا بتا رہے ہیں۔عدالت نے ہل پارک تجاوزات کیس میں مکینوں کی فریقین بننے کی درخواست مسترد کردی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جنہوں نے گھر خریدے وہ اتنے معصوم نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ معاوضہ الگ معاملہ ہے، پہلے جگہ خالی ہونی چاہیے۔
