Baaghi TV

Category: کراچی

  • اپنے دور نظامت کے پانچ سالوں تک میں نے اپنی راتیں قربان کرکے پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی کو بنایا ہے : مصطفی کمال

    اپنے دور نظامت کے پانچ سالوں تک میں نے اپنی راتیں قربان کرکے پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی کو بنایا ہے : مصطفی کمال

    پاک سر زمین پارٹی کی جانب سے این اے 249 کے امیدوار اور چئیرمین پی ایس پی سید مصطفی کمال نے کہا کہ ہم میں اور این اے 249 کے دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان سب سے بڑا اور واضح فرق یہ ہے کہ وہ سب بلند و بانگ وعدے کرتے ہیں جبکہ میں نے سہولیات فراہم کر کہ دکھائی ہیں۔ پاکستان مجھے میرے کام سے جانتا ہے۔
    اپنے دور نظامت کے پانچ سالوں تک میں نے اپنی راتیں قربان کرکے پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی کو بنایا ہے۔ پاکستان کے حکمران دنیا کے واحد نااہل حکمران ہیں جو اپنی ہی قوم کو درست گنتے ہوئے خوفزدہ ہیں۔ پی ایس پی کی سیاست کا مقصد عوام کے غضب شدہ حقوق کا حصول ہے، جسکے لیے ہم کسی بھی حد سے گزر سکتے ہیں۔ آج ہر جگہ تباہی بربادی نظر آتی کیونکہ اس شہر کے چوکیدار چوروں کے ساتھ مل کر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔
    عوام پی ایس پی کو موقع دیں کیونکہ ہم سے بہتر انکے مسائل کو کوئی حل نہیں کر سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلدیہ ٹان سیکٹر A-3 ، یوسی 30 کے معززین کی دعوت افطار، مرکزی الیکشن آفس این اے 249 میں مختلف برادریوں، تاجروں کے وفود اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا چاند پہ جاری ہے پاکستان کے سب سے بڑے شہر پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں انہوں نے کہا کہ میں بلدیہ ٹان کے تمام مسائل سے واقف ہوں اور انکا حل بھی جانتا ہوں۔
    میرے دور میں بچھائی جانے والی 65 کلومیٹر لمبی پانی کی پائپ لائن جس سے یومیہ 60 لاکھ گیلن پانی بلدیہ کو ملتا تھا، آج بلدیہ کا پانی بند ہوگیا۔

  • ترقیاتی فنڈ میں بھی بڑے پئمانے پر کرپشن ہوئی،حلیم عادل شیخ

    ترقیاتی فنڈ میں بھی بڑے پئمانے پر کرپشن ہوئی،حلیم عادل شیخ

    قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کی ملیر کی عدالت میں میڈیا سے بات چیت کی۔سندھ حکومت نے اپنے اپوزیشن لیڈر کو عدالتوں کے چکر میں لگایا ہوا ہے.اپوزیشن لیڈر نے ان سندھ حکومت کو بے نقاب کرنا تھا۔لیکن کوئی فرق نہیں پڑتا ہم ان کو پہلے سے زیادہ بے نقاب کریں گے انہوں نے ہمارے معصوم کارکنوں کو دہشتگرد بنا کر پیش کیا ہے۔یہ لوگ معاشی دہشتگرد ہیں سندھ کے وسائل کو لوٹ رہے ہیں۔ عمران خان نے دوسری بار سندھ کو میگا پروجیکٹ دیئے ہیں۔ پہلے سندھ کے شہر کراچی کے لئے 11 سو ارب کا پیکیج دیا تھا۔کراچی پیکیج پر کام چل رہا ہے پئسے لگ رہے ہیں۔گزشتہ روز وزیر اعظم نے 446 ارب کا دوسرا سندھ کی عوام کو پیکیج دیا ہے۔ہمارے کپتان صرف اعلان نہیں کرتے عمل بھی کرواتے ہیں۔مرتضیٰ وہاب کچھ پڑھ کر بات کر لیا کریں۔تھرپارکر میں وزیر اعظم نے دو لاکھ پچہتر ہزار خاندانوں کو صحت کار دیئے۔سندھ حکومت نے 13 سالوں میں 7ہزار 8سو 80ارب آئے کہیں لگتے دکھائی نہیں دیئے۔ترقیاتی فنڈ میں بھی بڑے پئمانے پر کرپشن ہوئی تھی۔1700 ارب میں 600سو ارب کرپشن کے نذر ہوگئے۔وزیر اعظم عمران خان نے سندھ کی ترقی کے لئے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔مرتضی وہاب اترے ہوئے چہرے سے بھیگی بلی بن کر تنقید کرنے آئے تھے۔ مرتضی وہاب عوام کو بتاتے کہ 13 سالوں میں 7 ہزار 8سو 80 اررب کہاں خرچ ہوئے۔ یہ سندھ دشمن لوگ ہیں عوام کو سہولیات ملتے نہیں دیکھ سکتے۔ان کی سرکاری اسپتالوں میں تو بخار کی گولی نہیں ملتی۔سندھ کی اسپتالوں میں علاج معالج کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں ۔11ارب میں وفاق کے 725 ارب پر کام شروع ہوچکا ہے۔کی فور گرین لائن نالوں کی صفائی کا کام کراچی میں شروع ہوچکا ہے۔کرونا وبا میں بھی وفاق نے سندھ کی عوام کو ساٹھ ارب روپے دیئے ۔آج کا دیا گیا پیکیج ان کرپٹ وزیروں مشیروں پر بجلی بن کر گرا ہے۔13 سالوں تک انہوں نے عوام کے وسائل کو لوٹا ہے۔

  • جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک ، کنونشن اور جلسوں کا شیڈول جا ری کر دیا گیا

    جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک ، کنونشن اور جلسوں کا شیڈول جا ری کر دیا گیا

    جماعت اسلامی کے تحت تین کروڑ سے زائد عوام کے جائز و قانونی حقوق کے حصول اور گھمبیر مسائل کے حل کے لیے جاری ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘ رمضان المبارک میں بھی جاری رہے گے ۔ رمضان المبارک کے دوران کی جانے والی دعوتی سرگرمیاں شہر قائد کے مسائل اور حقوق کے حوالے سے منعقد کی جائیں گی ۔
    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اور امراء اضلاع خطاب کر یں گے ۔جماعت اسلامی کراچی کے ترجمان کے مطابق جلسوں اور کنونشن کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے ۔تحریک کے اگلے مرحلے میں متنازع مردم شماری کی منظوری کے کراچی دشمن فیصلے کے خلاف بھر پور احتجاج کیا جائے گا اور تحریک کے دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں پر عوامی دبائو میں اضافہ کیا جائے گا ۔
    فصیلات کے مطابق اتوار 18اپریل کو ضلع ائیر پورٹ (رفاہ عام سوسائٹی )میں ، 21اپریل کو ضلع شمالی(سندھی ہوٹل مارکیٹ ) ،24اپریل کو ضلع غربی(اسلام چوک ،اورنگی ٹائون سیکٹر ساڑھے گیارہ) ، 25اپریل کو ضلع وسطی ، 27اپریل کو ضلع جنوبی ، 28اپریل کو ضلع ائیر پورٹ ( آر سی ڈی گرائونڈ ، سعود آباد) 29اپریل کو ضلع ملیر ، 30اپریل کو ضلع گلبرگ وسطی ، 02مئی کو ضلع شرقی ، 4مئی کو ضلع قائدین ،8مئی کو ضلع کیماڑی اور 9مئی کو کورنگی میں جلسے و کنونشن منعقد ہوں گے ۔
    ترجمان کے مطابق جماعت اسلامی کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے ۔ شہر قائد کے گھمبیر مسائل کے حل اور قومی و صوبائی سطح پر کراچی کے جائز اور قانونی حقوق کے حصول تک جدو جہد جاری رہے گی ۔ 2017کی مردم شماری کو پہلے وفاقی کابینہ اور پھر مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کو جماعت اسلامی نے مکمل طور پر مسترد کیا ہے کیونکہ اس کراچی دشمن فیصلے کے بعد کراچی کی آبادی کو قانونی طور پر آدھا تسلیم کرلیا گیا ہے ، کراچی کو اس کے حق سے محروم کرنے میں پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم براہ راست اور برابر کی شریک ہیں ، ان دونوں پارٹیوں نے کراچی سے غداری کی ہے ۔
    جماعت اسلامی کی قیادت عوام کو موجودہ سنگین حالات اور بحران سے نجات دلا سکتی ہے ، ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘ کے مطالبات عوام کے مسائل کے حل کی ضمانت ہیں ،ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کووفاقی و صوبائی سطح پر اس کا جائز حق دیا جائے اور کراچی سے جمع شدہ ریونیوکا کم از کم 15فیصد کراچی پرخرچ کیا جائے ، ، کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے، کراچی کے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں ان کا حق دیا جائے، ان کو سندھ حکومت اور مقامی اداروں میں ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں دی جائیں، کراچی میں با اختیار شہری حکومت کے لیے موجودہ لوکل باڈی ایکٹ ختم کر کے فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا جائے، کے الیکٹرک کا 15سال کا فارنزک آڈٹ کیا جائے اور قومی اداروں اور عوام کے اربوں روپے واپس کروائے جائیں،پورے ملک کی صنعتوں میں سب سے بڑا کردار ادا کرنے والے کراچی کے صنعتی علاقوں کی حالت ِ زار درست اور بنیادی سہولتیں دی جائیں۔

  • پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 112 اموات،مریضوں میں بھی اضافہ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 112 اموات،مریضوں میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے –

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے اموات کا ریکارڈ آج پھر ٹوٹ گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 112 افراد انتقال کر گئے –

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 65 ہزار 279 ٹیسٹ کئے گئے 4 ہزار 976 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 7.62 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 15 ہزار 982 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 45 ہزار182 ہو چکی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا کے سبب س پنجاب میں 7 ہزار 271 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 541، خیبر پختونخوا 2 ہزار796، اسلام آباد 626، گلگت بلتستان 103، بلوچستان میں 222 اور آزاد کشمیر میں 423 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد 68 ہزار665، خیبر پختونخو 1 لاکھ 3ہزاراور419، پنجاب 2 لاکھ 61 ہزار173، سندھ 2 لاکھ 70 ہزار963، بلوچستان 20 ہزار662، آزاد کشمیر 15 ہزار137 اور گلگت بلتستان میں 5 ہزار 163 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں۔

    قبل ازیں حکومت کی جانب سے ایس او پیز جاری کی گئی ہیں جس کے مطابق ملک میں کورونا کی تیسری لہر کے پیشِ نظر حکومت کے وضع کردہ ایس او پیز پر سختی سے کاربند رہیں۔ ماسک کا استعمال کریں، بار بار ہاتھوں کو 20 سیکنڈ تک صابن سے دھوئیں۔ گھروں کو ہوادار بنائیں اور بلا ضرورت ہرگز گھر سے باہر نہ نکلیں۔ پُرہجوم جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔

    پنجاب میں ماسک پہننے کو لازمی قرار دِیا گیا ہے ، ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور جرمانے کے علاوہ چھ ماہ قید بھی ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا کہن اتھا کہ پنجاب حکومت این سی او سی کی ہدایت پر مکمل عمل کر رہی ہے، صوبے میں کورونا وائرس کی صورتحال خطرناک ہو گئی ہے، گجرات اور گوجرانوالہ کے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ صوبے بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار دیدیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی

  • لیاری ڈولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عامر خورشید کا تبادلہ کردیا گیا

    لیاری ڈولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عامر خورشید کا تبادلہ کردیا گیا

    کراچی لیاری ڈولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عامر

    خورشید کا تبادلہ کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق عامر خورشید

    کو سپریم کورٹ کے حکم پر ہٹایا گیا۔

    ایڈیشنل ہوم سیکریٹری عامر خورشید کے پاس اضافی

    چارج تھا۔کراچی حکومت سندھ نے بیسویں گریڈ کے افسر

    محمد اسحاق کھوڑو کو ڈائریکٹر جنرل لیاری ڈولپمنٹ

    اتھارٹی مقرر کیا گیا ہے جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

    گیا۔ محمد اسحاق کھوڑو اسپیشل سیکریٹری ماحولیات

    تھے۔

  • دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال کرنے سے حادثات کا اندیشہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے : ڈی آئی جی موٹر وے

    دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال کرنے سے حادثات کا اندیشہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے : ڈی آئی جی موٹر وے

    ڈی آئی جی موٹروے سائوتھ زون علی شیر جکھرانی نے کہا ہے کہ دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال کرنے سے حادثات کا اندیشہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔کراچی ایک میگا سٹی ہے مگر اس میں کوئی مناسب ڈرائیونگ اسکول موجود نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو محمد علی جناح یونیورسٹی کے طلبا و طالبات سے ایک روڈ سیفٹی سیمینار میں کیا۔
    علی شیر جھکرانی نے کہا کہ ماہ صیام ہمیں صبر اور دوسروں کے حقوق کی پاسداری کا درس دیتا ہے مگر ہمارے یہاں بدقسمتی سے ماہ صیام میں ڈرائیور حضرات جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور دوسرے ڈرائیور کے رائٹ وے کو خاطر میں نہیں لاتے جس کی وجہ سے خاص طور پر افطار کے ٹائم جلد بازی کی وجہ سے کافی حادثات رونما ہوتے ہیں ۔
    اس قسم کے خیالات کا اظہار ڈی آئی جی موٹروے ساوتھ زون علی شیر جکھرانی نے اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ کراچی ایک میگا سٹی کا درجہ رکھتی ہے مگر اس میں کوئی مناسب ڈرائیونگ انسٹیٹیوٹ موجود نہیں ۔

    جس کی وجہ سے غیر تربیت یافتہ ڈرائیور ز روڈ پر گاڑی چلاتے ہیں اور حادثات کی وجہ بنتے ہیں ۔ مزید انہوں نے کہا کہ آئی جی موٹرویزاینڈ ہائی ویز سید کلیم امام کی دیرینہ خواہش ہے کہ روڈ سیفٹی کے مضمون کو سلیبس کا حصہ بنایا جائے ۔ جو کہ پرائمری لیول سے نصاب میں شامل ہو۔ تاکہ ہماری آنے والی نسل روڈ سیفٹی کے اصولوں سے مکمل آگاہ ہو ۔روڈ سیفٹی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر زبیر اے شیخ صدر محمد علی جناح یونیورسٹی نے کہا کہ روڑ حادثات کی روک تھام کے لیے اس قسم کے آگاہی سیمینار منعقد ہونے چاہیے اور ہماری یونیورسٹی موٹروے پولیس کے ساتھ ایک ایم او یو سائن کرے گی جس میں کہ روڑ حادثات کی وجوہات ،ڈرائیور زکے رویوں پر ایک ریسرچ کروائی جائے گی جس میں ماہر نفسیات اور روڈ انجینئرنگ کے ماہرین موٹروے پولیس کے ساتھ مل کر ان کے اسباب اور اس کے سد باب پر غور کریں گے ۔

  • کراچی میں برطانوی اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی تصدیق

    کراچی میں برطانوی اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی تصدیق

    صوبائی دارالحکومت کراچی میں برطانوی اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی۔
    نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی میں تحقیق کے دوران برطانوی اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ۔ ادارے نے شہر کے مختلف علاقوں سے 75 نمونے لیے ۔ جن میں سے 50 کیس برطانوی اقسام اور 25 کیسز جنوبی افریقی قسم کے آئے ہیں ۔ سندھ حکومت پہلے کہہ چکی ہے کہ صوبے میں برطانوی وائرس موجود نہیں ہے ۔
    تاہم وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سخت ہدایات جاری کی ہیں جن پر عمل کر کراچی کے عوام اس وائرس سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

  • غریبوں کے لیے صرف 250 روپے میں سوٹ سینے والا درزی

    غریبوں کے لیے صرف 250 روپے میں سوٹ سینے والا درزی

    کراچی: درزیوں نے سلائی کی اجرت میں مزید 200 روپے کا اضافہ کردیا اور اب مردانہ شلوار قیمص کی سلائی 800 سے بڑھا کر ایک ہزار روپے وصول کی جارہی ہے لیکن شہر میں ایک ایسا درزی بھی موجود ہے جو غریبوں کے لیے ملبوسات صرف 250 روپے میں سیتا ہے۔ کینٹ اسٹیشن کے قریب فٹ پاتھ پر ٹیلرنگ شاپ چلانے والے ٹیلر ماسٹر ضیاء الحق کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔ ماسٹر ضیاء الحق کم عمری میں پولیو کی وجہ سے دونوں پیروں سے معذور ہوگئے تھے، وہ 1990ء سے کراچی میں مقیم ہیں اور انہوں ںے معاشرے پر بوجھ بنے بغیر محنت مزدوری کرکے روزگار کمایا۔ ضیاء الحق ہاتھ سے چلنے والی سلائی مشین چلا کر کپڑے سیتے ہیں۔ ان کے گاہکوں میں کینٹ اسٹیشن پر مزدوری کرنے والے قلی، ہوٹلوں میں کام کرنے والے ویٹر، رکشا ٹیکسی ڈرائیور اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے دیگر مزدور شامل ہیں۔ ضیاء الحق عام دنوں میں غریب مزدوروں کے کپڑوں کی مرمت کرکے روزگار کماتے ہیں، زیادہ تر غریب طبقہ کہیں سے ملنے والے کپڑے اپنے ناپ کے مطابق کرنے کے لیے ضیاء الحق کی خدمات حاصل کرتا ہے اور ضیاء الحق کوئی اجرت طے کیے بغیر اور اکثر اوقات بغیر اجرت کے بھی سلائی کردیتے ہیں۔ زیادہ تر افراد ان سے اپنے پھٹے ہوئے کپڑوں کی سلائی بھی کرواتے ہیں۔ کوئی پھٹی ہوئی جیب سلواتا ہے تو کوئی پھٹا ہواکالر تبدیل کروانے آتا ہے اور ضیاء الحق مسکراہٹ سجائے سب کا کام کردیتے ہیں۔

    ضیاء الحق کا کہنا ہے کہ وہ دکان کرائے پر حاصل کرنے کے وسائل نہیں رکھتے اس لیے دو سال سے کینٹ اسٹیشن کے قریب فٹ پاتھ پر ہی ٹیلرنگ شاپ بنارکھی ہے، یہ فٹ پاتھ ہی ان کی دکان اور ان کا گھر ہے جہاں وہ سوتے بھی ہیں آمد و رفت کے لیے ہاتھ سے چلانے والی تین پہیوں کی سائیکل استعمال کرتے ہیں۔ ضیاء الحق نے بتایا کہ وہ مزدوروں کے پھٹے لباس کی سلائی کرکے یا آلٹریشن کرکے یومیہ پانچ چھ سو روپے کمالیتے ہیں، عموماً نئے ملبوسات کی سلائی نہیں آتی لیکن بعض اوقات کوئی نیا سوٹ سلنے آتا ہے تو وہ بھی کم سے کم پیسوں میں تیار کرکے دے دیتے ہیں۔ ماسٹر ضیاء الحق سلائی میں مہارت رکھتے ہیں لیکن نئے ملبوسات میں کاج اوورلاک، استری وغیرہ کے لیے آنا جانا نہیں کرسکتے اس لیے نئے ملبوسات کم ہی تیار کرتے ہیں، اس کے بجائے ایک اور ٹیلر 600 روپے سلائی میں سوٹ بک کرکے ان سے سلواتا ہے جو انہیں فی سوٹ 200 سے 250 روپے ادا کرتا ہے۔ ماسٹر ضیاء الحق اب تک رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں ہوئے۔ ماسٹر ضیاء الحق نے بتایا کہ ریلوے کا ایک ملازم جو فٹ پاتھوں پر بیٹھے ہوئے افراد کو تنگ کرتا ہے انہیں بھی اکثر فٹ پاتھ سے ٹیلرنگ کی دکان سمیٹنے کے لیے دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ ماسٹر ضیاء الحق نے ریلوے کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ فٹ پاتھوں پر روزگار کمانے والوں کو تنگ کرنے والے ایسے اہل کاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ ان جیسے افراد مین سڑک یا ریلوے اسٹیشن کے اردگر د نہیں بلکہ ایک پل کے سائے میں چھوٹی سی فٹ پاتھ پر گوشہ نشین ہیں جو کسی کی آمدورفت میں رکاوٹ بھی نہیں ڈالتے۔

  • کراچی سیف سٹی منصوبہ،30 ارب کے 10 ہزار کیمرے لگانے کی منظوری

    کراچی سیف سٹی منصوبہ،30 ارب کے 10 ہزار کیمرے لگانے کی منظوری

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 30 ارب روپے کی لاگت سے شہر قائد کیلئے سیف سٹی منصوبہ شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔جس کے تحت شہر میں 3 مراحل میں 10 ہزار سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے اور آئندہ مالی سال 22-2021 سے شروع ہونے والے ہر مرحلے کو 12 ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے یہ فیصلہ سیف سٹی پروجیکٹ کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وزیر آئی ٹی نواب تیمور تالپور، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ عثمان چاچڑ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ، انچارج سیف سٹی پروجیکٹ عمران یعقوب منہاس، صوبائی این آر ٹی سی کے سربراہ بریگیڈ (ر) نیئر، جی ایم این آر ٹی سی سہیل انجم اور دیگرنے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ این آر ٹی سی نے ٹیکنیکل اور مالی تجاویز پیش کی ہیں، جن کی جانچ کمیٹی کے ذریعے اندازہ لگانے ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے این آر ٹی سی تجویز کا جائزہ لینے کیلئے سیف سٹی پروجیکٹ کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی ای او) کے تحت 9 رکنی ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی۔انہوں نے مقدس حیدر کو بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور محترمہ تبسم عباسی کو بطور چیف ٹیکنیکل افسر (سی ٹی او) چارج دینے کی تجویز کو بھی منظور کرلیا۔جانچ کمیٹی کیلئے سی ای او اور ٹیکنیکل افسران کو نوٹیفیکیشن جاری کیے جائیں گے، ٹیکنکل کمیٹی پی سی 1 دستاویزات کے مطابق تکنیکی اور مالی تجویز کا جائزہ لے گی اور محکمہ پی اینڈ ڈی کے مشاورت سے این آر ٹی سی کی تجویز کردہ منصوبے کے مراحل کا بھی جائزہ لے گی۔ٹیکنکل کمیٹی اس کام کو انجام دینے سمیت منصوبے پر عملدرآمد کی مجموعی سرگرمیوں کی بھی نگرانی کرے گی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے اس پر عملدرآمد کے منصوبے کی منظوری دی، جس کے تحت 3 مرحلوں میں 10 ہزار کیمرے لگائے جائیں گے اور ہر مرحلے کو 12 ماہ میں عرصے میں مکمل کیا جائے گا۔پہلے مرحلے میں شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں اور ضلع جنوبی میں 9اعشاریہ9 ارب روپے کی لاگت سے کیمرے لگائے جائیں گے۔دوسرے مرحلے میں 9اعشاریہ8 ارب روپے کی لاگت سے 3 اضلاع میں کیمرے لگائے جائیں گے، جن کا انتخاب بعد میں کیا جائے گا۔تیسرے اور اختتامی مرحلے میں 9اعشاریہ7 ارب روپے کی لاگت سے مزید3 اضلاع میں کیمرے لگائے جائیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ آئندہ مالی سال میں پہلے مرحلے کیلئے 10 ارب روپے کا بندوبست کریں۔انہوں نے کہا کہ میں آئندہ مالی سال 22-2021 کے آغاز میں اس منصوبے کو شروع کرنا چاہتا ہوں اور چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم کو بھی ہدایت کی کہ وہ موجودہ مالی سال کے اختتام تک تمام متعلقہ فورمز سے پی سی ون کی منظوری شروع کریں۔مراد علی شاہ کو بتایا گیا کہ 8000 کیمرے 12 میگاپگسل جبکہ 2000 کیمرا 8 میگا پگسل کے ہوں گے، اسی طرح 2000 سے زائد مقامات پر شمسی توانائی سے بیک اپ کے ساتھ 10 ہزار کیمرے لگائے جائیں گے ان کی مانیٹرنگ کیلئے ایک سنٹرل، ایک علاقائی کمانڈ سنٹر اور ڈیٹا بیس مراکز ہوں گے۔مراد علی شاہ کو بتایا گیا کہ اس وقت شہر میں 538 مقامات پر 2196 کیمرے لگائے گئے ہیں ان میں سے 1201 کے ایم سی ، 198 محکمہ آئی ٹی اور 155 سندھ پولیس کے ہیں۔

  • حلقہ این اے 249 کا ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کے لیے ایم کیو ایم نے درخواست جمع کرادی

    حلقہ این اے 249 کا ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کے لیے ایم کیو ایم نے درخواست جمع کرادی

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 کا ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کے لیے ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے ایک اوردرخواست جمع کرادی گئی ہے،ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواستوں میں موقف اپنایاگیا ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں کرونا کی تیسری لہر میں مثبت کیسز کی شرح 12فیصد تک ہے جبکہ حلقے میں این سی او سی کی کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی بھی سامنے آرہی ہے۔
    این اے 249 کے ضمنی الیکشن ملتوی کرنے کے لیے دو علیحدہ درخواستیں دی گئیں ہیں۔پہلی درخواست ایم کیوایم امیدوار حافظ مرسلین نے ریٹرننگ آفیسر کو دی جبکہ دوسری درخواست ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینر کنور نوید نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو ارسال کی ہے، دونوں درخواستوں میں یکساں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کرونا ایس اوپیز کے ساتھ گھر گھر انتخابی مہم چلانا مشکل ہے، ضمنی الیکشن کی انتخاب میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے، این اے 249 پر ضمنی الیکشن کرونا صورتحال کی بہتری تک ملتوی کئے جائیں اور الیکشن کمیشن جلد اس تناظر میں فیصلہ کرے۔
    واضح رہے کہ گذشتہ روز رکن سندھ اسمبلی و تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان کی جانب سے بھی الیکشن کمیشن کو کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 کا ضمنی الیکشن جمعرات کے بجائے اتوار کو کروانے کیلئے درخواست جمع کرائی گئی تھی جبکہ کشمیرکمیونٹی نامی ایک تنظیم کی جانب سے ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کی درخواست جمع کرائی گئی ہے۔