پاکستان کے معروف بزنس مین جاوید آفریدی نے ایک ایسی الیکٹرک گاڑی متعارف کرانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جس کی قیمت 10 لاکھ روپے سے بھی کم ہوگی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹرپر جاوید آفریدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ پاکستانیوں کو سستی ترین الیکٹرک گاڑیاں دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ٹوئٹر پر جاوید آفریدی نے چین کی ایک منی الیکٹرک کار کی وڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وولنگ منی الیکٹرک وہیکل پاکستانی مارکیٹ میں 10 لاکھ روپے سے کم میں دستیاب ہوگا۔وولنگ منی الیکٹرک وہیکل گاڑیاں چین کی سرکاری کمپنی سیاک موٹرز بناتی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ چینی گاڑیوں نے امریکی کمپنی ٹیسلا کی مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کو فروخت میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
Category: کراچی
-

جاوید آفریدی کا سستی ترین الیکٹرک گاڑی متعارف کرانے کااعلان
-

ے یو آئی ضلع غربی کے تحت 300 سے زائد مقامات پر نماز تراویح کا اہتمام
ے یو آئی ضلع غربی کے تحت ضلع بھر میں 300 سے زائد مقامات پرنمازتراویح کا اہتمام کیا جارہاہے،جے یوآئی ضلع غربی کراچی کے جنرل سیکرٹری مولانافخرالدین رازی مدرسہ حمادیہ مظہرالعلوم اتحاد ٹاؤن میں27 روزہ نماز تراویح اور سیکرٹری اطلاعات حافظ حبیب الرحمن خاطرفقیرکالونی میں 10 روزہ نماز تراویح میں قرآن کریم سنا رہے ہیں، ضلعی مجلس عاملہ ،شوری،مجلس عمومی اور پی ایس و یوسیز کے حفاظ وعلماکرام ارکان بھی اپنے مساجد ومدارس اورنجی مقامات پرتراویح میں قرآن کریم سنانے کا اہتمام کررہے ہیں،مولانافخرالدین رازی کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کو قرآن کریم سے گہری مناسبت ہے،قرآن پر ایمان اسی وقت مفید اور معنی خیز ہوسکتا ہے، جب ہم قرآن کے پیغام کو سمجھیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہیں، قرآن کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے اور اس کی ہدایت کے ذریعے اپنے معاملات کو طے کرنے کی کوشش کریں،قرآن نے اس امت کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بھی صورت گری کی ہے،قرآن پر ایمان اسی وقت مفید اور معنی خیز ہوسکتا ہے، جب ہم قرآن کے پیغام کو سمجھیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہیں۔
قرآن کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے اور اس کی ہدایت کے ذریعے اپنے معاملات کو طے کرنے کی کوشش کریں,قرآن نے اس امت کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بھی صورت گری کی ہے، اکابر کا قرآن کریم سے عشق ہم سے تقاضا کررہا ہے کہ ہم بھی قرآن کریم سے اپنے لگا میں اضافہ کریں اور قرآن کریم کی تلاوت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں، اللہ تعالی عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔ -

شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات تشویشناک ہیں : رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء و رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر نے کہا کہ شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات تشویشناک ہیں بڑی گاڑیوں میں سوار ڈرائیورز کی غفلت چھوٹی گاڑیوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہورہی ہے، کراچی میں سندھ حکومت نے 13 سالوں میں عوام کیلئے کوئی سفری سہولت فراہم نہیں کی جس کے باعث عوام پرائیویٹ گاڑیوں میں سفر کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، حادثات کے نتیجے میں سندھ حکومت متاثرہ خاندانوں کی مالی مدد تو دور کی بات ہے انہیں ہسپتال کی سہولیات تک فراہم نہیں کرسکتی، ٹریفک حادثات کے متاثرین سڑک پر تڑپتے رہیں ان متاثرین کیلئے کوئی سرکاری ایمبولنس تک فراہم نہیں کی جاتی، کراچی شہر فلاحی اداروں کی نسبت و کاوشوں سے چل رہا ہے پی ٹی آئی رکن ِ اسمبلی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ٹریفک حادثات کو رکنے کیلئے سندھ حکومت سخت اقدامات کرے، بڑے ٹرالر میں سوار ڈرائیورز سے ان کے ڈرائیونگ لائسنس طلب کیے جائیں ڈرائیورز کی خصوصی ٹریننگ کا عمل سرکاری سطح پر شروع کیا جائے ، شہرمیں حادثات کا بڑھتے ہوئے رجحان کے پیچھے سندھ حکومت کا عوام کو ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کروانے کی وجہ سے ہے شہر میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کے لیے خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں عوام کی جانیں قیمتی ہیں، حکومتی غفلت کے باعث قیمتی جانوں کا ضائع قبول نہیں کیا جائیگا۔
-

بلدیہ ٹاؤن کے علاقے میں ہر قیمت پر پانی کی فراہمی کو ممکن بناؤں گا : ڈاکٹر مفتاح اسماعیل
میاں محمد نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں کراچی کے پانی کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اپنے حصے کی 12 ارب 50 کروڑ کی رقم سندھ حکومت کو ادا کی لیکن افسوس کہ بلدیہ ٹان سمیت پورے کراچی کے پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بنایا جانے والا K-4 کا منصوبہ آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور NA-249 کے امیدوار ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے بلدیہ ٹاؤن کے علاقہ، بجلی نگر، یونین کونسل نمبر 23 میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ پانی زندگی کی سب سے بنیادی ضرورت ہے لیکن افسوس کہ بلدیہ ٹان کے عوام کو اس بنیادی ضرورت سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں رہنے والے اوسطا 5 ہزار روپے مہینہ صرف پانی کی خریداری پر خرچ کرتے ہیں جو سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔
ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ میں کامیابی کے حصول کے بعد انشااللہ تعالی آپ کے علاقے میں ہر قیمت پر پانی کی فراہمی کو ممکن بناں گا۔
انہوں نے کہا کہ 29 اپریل کراچی کے وسائل لوٹنے والوں کا یومِ احتساب کا دن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ ٹاؤن کو صاف پانی کی فراہمی سمیت دیگر تمام سہولیات کے لیے آپ نے شیر کے نشان پر مہر لگا کر اسے کامیاب کروانا ہوگا۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ کرپٹ اور نااہل حکمرانوں سے نجات چاہتے ہیں تو اس روز بزرگوں اور خواتین کو بھی اپنے ہمراہ پولنگ اسٹیشن پر لے کر جانا ہوگا۔ -

کراچی والوں کےلئے بڑی خبر، عدالت نے گجر اور اورنگی نالے پر قائم لیز مکانات نہ توڑنے کا حکم دے دیا
کراچی : عدالت نے نالہ تجاوزات کے خلاف جاری مہم میں تجاوزات کی آڑ میں لیز مکانات توڑنے پر حکم امتناعی میں توسیع کردی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جب تک مقدمات زیر سماعت ہیں تب تک نالوں کے گرد لیز مکانات نہ توڑیں جائیں۔
تفصیلات کے مطابق اینٹی انکروچمنٹ ٹریبونل میں تجاوزات کی آڑ میں لیز مکانات کو مسمار کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ۔ عدالت نے محکمہ انسداد تجاوزات کو تجاوزات کی آڑ میں مزید لیز مکانات مسمار کرنے سے روکنے کےحکم امتناع میں توسیع کردی۔اینٹی انکرو چمنٹ ٹریبونل نے کے ایم سی اینٹی انکروچمنٹ، ڈپٹی کمشنر اور دیگر اداروں کی جانب سے جوابات جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے آئندہ پر ریکارڈ سمیت پیش ہونے کے احکامات جاری کردیے۔
عدالت نے گجر نالے پر نارتھ ناظم آباد، ایف بی ایریا بلاک فائیو اور دیگر گھروں کو مسمار کرنے سے روک رکھا ہے، ٹریبونل نے کے ایم سی انیٹی انکروچمنٹ ،ڈپٹی کمشنر اور دیگر سے 29 اپریل کو جواب جمع کرانے کی بھی ہدایت کردی ہے۔ درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ گجر نالے پر سندھ کچی آبادی، کے ڈی اے اور کے ایم سی نے گھروں کو لیز جاری کی تھی ، گلبرگ ایف بی ایریا، نارتھ ناظم کوثر نیازی کالونی میں مکانات لیز ہیں، تجاوزات کی آڑ میں متعلقہ ادارے لیز مکانات کو بھی توڑ رہے ہیں انہیں روکا جائے۔
عدالتی فیصلےسے گجر اور اورنگی نالے کےمکینوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے ہمارے سروں کی چھت برقرار رکھی آج ہم خوش ہیں۔ -

سندھ حکومت کراچی کے تمام شہریوں کو فراہمی ونکاسی آب کی یکساں سہولیا ت فراہم کرنا چاہتی ہے: سعید غنی
صوبائی وزیراور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سعیدغنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کراچی کے تمام شہریوں کو فراہمی ونکاسی آب کی یکساں سہولیا ت فراہم کرنا چاہتی ہے ، اس ضمن میں سندھ حکومت اور وزیربلدیات کے اقدامات قابل ستائش ہیں ،کراچی کے شہریوں میں دستیاب پانی کی نلوں ولائنوں کے ذریعے منصفانہ تقسیم کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے ،صوبائی حکومت کی جانب سے شہر میں نکاسی آب کے نظام کو درست کرنے کیلئے بھی واٹربورڈ کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں ،واٹربورڈ کے افسران سمیت دیگر عملہ فرائض جذبہ کے تحت ادا کرے ، شہر کی خدمت پر مامور ومصروف ادارے کے استحکام کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی ، حکومت سندھ نے واٹربورڈ اور اس کے ملازمین کوکبھی کسی مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑا ، ادارے کے تمام ملازمین کو قواعد کے مطابق حاصل حقوق دیئے جارہے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے واٹربورڈ کے ایم ڈی سیکریٹریٹ میں منعقدہ اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ شہریوں کورمضان المبارک کے دوران دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے ہرممکن اقدامات کیئے جائیں،اجلاس کے دوران ایم ڈی واٹربورڈ اسداللہ خان نے صوبائی وزیرکورمضان المبارک میں فراہمی ونکاسی آب کے لئے واٹربورڈکے خصوصی اقدامات سے آگاہ کیا ،انہوںنے بتایا کہ اس ضمن میں وزیربلدیات وچیئرمین واٹربورڈ سیدناصر حسین شاہ کی ہدایات پر واٹربورڈ میںپہلے ہی ہائی الرٹ نافذ ہے ،شہر سے تقریباً 200کلومیٹر کے فاصلے سے پانی وصول کرنے سے لے کر دنیا کے سب سے بڑے شہروں کی فہرست میں شامل کراچی کے آخری سرے تک پہنچانے کا کام باقاعدہ ایک نظام کے تحت کیا جارہا ہے ، شہر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے ناغہ سسٹم پہلے ہی نافذ ہے جبکہ پانی کے ضیاع کوروکنے اور اس پانی کو بھی شہریوں تک پہنچانے کیلئے شہر اور شہر کے مضافات میں بچھی لائنوں ، کنڈیوٹ،سائفن وریزر وائرز ،فلٹرپلانٹس ،پمپنگ اسٹیشنوں کی صٖفائی و مرمت فوری طور پر کی جاتی ہے ، واٹربورڈ کا عملہ شہراور شہر کے مضافات میں قائم واٹروسیوریج پمپنگ اسٹیشنوں کو سال بھر بغیر کسی وقفہ رواںرکھنے کیلئے مختلف شفٹوں میں 24گھنٹے کام کرتا ہے ،نکاسی آب کے نظام کو چلانے اور اس ضمن میں شکایات کے ازالے کیلئے دن کے ساتھ ساتھ رات کے مختلف پہر بھی واٹربورڈ متحرک رہتا ہے ،کراچی کی بڑھتی آبادی اور شہر کی ضرورت سے کافی کم پانی کی دستیابی سے مسائل جنم لیتے ہیں تاہم بہترین حکمت عملی ومنصوبہ بندی کے ذریعہ واٹربورڈ کے ماہرین، انجینئرز وافسران ان مسائل سے نمبردآزما ہیں،اس موقع پر صوبائی وزیرنے اپنے حلقہ انتخاب میں پانی کی کمیابی کی شکایات کی وجوہات معلوم کیں اور ان کے فوری خاتمے کے احکامات بھی دیئے ،اجلاس میں پی پی کے رہنما فرحان غنی ،احمد علی واٹربورڈ کے چیف انجینئر واٹرٹرنک مین ظفر پلیجو ، سپرنٹنڈنگ انجینئر روشن دین ،محمد ریاض ،ایگزیکٹیوانجینئر اعجاز احمد، عمران عبداللہ ،عرفان اللہ ، صدیق تونیو، عزیز اللہ اور دیگر بھی موجود تھے ۔
-

سندھ کی تمام یونین کونسلوں کو نادرا کے آن لائن سسٹم سے منسلک کرنے کا منصوبہ کامیاب
سندھ کی تمام یونین کونسلوں کو نادرا کے آن لائن سسٹم سے منسلک کرنے کا منصوبہ کامیاب، رئیل ٹائم ڈیٹا اپگریڈیشن سسٹم سے جعلی دستاویزات کے اجرا پر قابو پایا جاسکے گا۔
محکمہ بلدیات ہاوئسنگ و ٹاون پلاننگ سندھ نے ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کرلیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ سید نجم احمد شاہ جو کہ گزشتہ کئی ماہ سے صوبے کی تمام یونین کونسلوں کو نادرا کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک اور رئیل ٹائم ڈیٹا اپ گریڈیشن کے منصوبے پر کام کررہے تھے۔باغی ٹیوی کی رپورٹ کے مطابق انجینئر سید نجم احمد شاہ نے بتایا کہ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی خصوصی ہدایت پر گزشتہ کئی ماہ سے نادرا حکام اور محکمہ بلدیات سندھ کے افسران کے مشترکہ اجلاس منعقد کئے جاتے رہے جس کے تحت سندھ کی تمام یونین کونسلز کو نادرا کے مرکزی ڈیٹا بیس سے رئیل ٹائم اپ گریڈیشن کے تحت منسلک کرنا مقصود تھا، جس میں بفضل خدا مکمل طور پر کامیابی حاصل ہوچکی ہے۔اس حوالے سےتفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے سیکرٹری بلدیات سندھ نے بتایا کہ نادرا اور لوکل گورنمنٹ حکام کے درمیان2006 میں جو معاہدہ قرار پایا تھا اس کے تحت پیدائش، اموات، نکاح و طلاق کے سرٹیفکٹس کے اجرا کے لئے مینیول طریقہ کار رائج تھا۔ جنوری 2020 میں اس سارے پراسس کو مکمل طور پر آن لائن ڈیٹا بیس سے منسلک اور رئیل ٹائم میں اپ ڈیٹ کرنے کے لئے کاوشوں کا آغاز کیا گیا اور گزشتہ چار ماہ کے دوران اس حوالے سے تیز اور اہم ترین پیش رفت کے نتیجے میں بالاخر صوبے کی تمام یونین کونسلز نادرا کے مرکزی آن لائن ڈیٹا بیس سے منسلک کرکے فعال کردی گئی ہیں جس کے تحت کسی بھی یونین کونسل سے ایک بار جاری ہونے والا سرٹیفکٹ دوبارہ کسی صورت ملک کی کسی اور یونین کونسل سے جاری نہیں ہوسکے گا۔ نجم احمد شاہ کے مطابق اس سارے پراسس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور گراوئنڈ لیول پر اس کے عمل در آمد کے لئے رات و دن کی پروا کئے بغیر کام کیا گیا جس کے لئے تمام نادرا و لوکل گورنمنٹ حکام مبارک باد کے مستحق ہیں۔
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبہ سندھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس منفرد اور عوامی بہبود کے منصوبے کو نہ صرف ڈیزائن کیا بلکہ عوام کی سہولت کے لئے باقاعدہ فعال بھی کردیا گیا ہے۔ اس سارے عمل میں نادرا حکام کا کردار بھی لائق تحسین ہے اور حکومت سندھ مستقبل میں بھی عوامی بہبود کے منصوبہ جات لانچ کرتی رہے گی۔نجم احمد شاہ نے مزید بتایا کہ رئیل ٹائم اپ گریڈیشن پراسس کے تحت محض ایک گھنٹے میں درج شدہ کوائف نادار کے مرکزی ڈیٹا بیس سے تصدیق کے بعد یونین کونسلز میں نمودار ہوجائیں گی، جس کے بعد پورے ملک کی کسی بھی دوسری یونین کونسل یا ٹاون کمیٹی سے ان ہی کوائف پر مشتمل بوگس یا جعلی سرٹیفکٹ کا اجرا ممکن نہیں ہوگا۔ -

انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کو این آئی سی وی ڈی کے حوالے کرنے کا فیصلہ
سندھ حکومت نے کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کو قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ صحت سندھ نے سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کردی ہے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر قومی ادارہ برائے امراض قلب پروفیسر ندیم قمر نے دی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر اہتمام چلنے والے 170 بستروں پر مشتمل کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کو قومی ادارہ برائے امراض قلب کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کے آئی ایچ ڈی کو قومی ادارہ برائے امراض قلب کا سیٹلائٹ سنیٹر بنانے کی سمری وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کر دی گئی ہے اور جیسے ہی سمری منظور کرکے نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا، وہ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کا انتظام سنبھال لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز فی الوقت بلدیہ عظمٰی کراچی کے زیر انتظام ہے لیکن سمری کی منظوری اور نوٹیفکیشن کے جاری ہونے کے بعد یہ ادارہ سندھ حکومت کے انتظامی کنٹرول میں آجائے گا۔واضح رہے کہ170 بیڈز پر مشتمل کے آئی ایچ ڈی سابق ناظم کراچی نعمت اللّٰہ خان نے قائم کیا تھا جو کہ جون 2005 میں آپریشنل ہوا لیکن گذشتہ کچھ عرصے میں بد انتظامی اور مالی مشکلات کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔پروفیسر ندیم قمر کا مزید کہنا تھا کہ کے آئی ایچ ڈی کو تکنیکی طور پر سندھ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (ایس آئی سی وی ڈی) کے حوالے کیا جائے گا، لیکن عملی طور پر کے آئی ایچ ڈی، قومی ادارہ برائے امراض قلب کے زیر انتظام ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے کراچی کے شہریوں کو امراض قلب کے علاج کی بہترین سہولتیں حاصل ہو جائیں گی۔
-

کے ایم سی ملازمین کی اپنے شعبوں میں ترقی ان کا حق ہے : لیئق احمد
ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ کے ایم سی ملازمین کی اپنے شعبوں میں ترقی ان کا حق ہے لیکن اس کے لئے شفاف اور قانونی طریقہ کار اپنانا ہے، محکمہ ایچ آر ایم جلد از جلد تمام ملازمین کی سینیارٹی لسٹ اور ریکروٹمنٹ رولز تیار کرے تاکہ ملازمین کی تقرری اور ترقی کے معاملات کو قواعد و ضوابط کے مطابق لایا جاسکے، یہ بات انہوں نے اپنے دفتر میں ڈپارٹمینٹل پروموشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر کمیٹی کے ممبران میٹروپولیٹن کمشنر افضل زیدی، سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن خالد خان، سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم اصغر درانی، سینئر ڈائریکٹر اسپورٹس کلچر اینڈ ریکریشن منصور قاضی، ڈی پی سی کمیٹی کے سیکریٹری ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد علی اور ڈائریکٹر ظفر راجپوت بھی موجود تھے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی میں سروس اسٹرکچر موجود نہیں اور نہ ہی افسران و ملازمین کی مکمل سینیارٹی لسٹ تیار کی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی میں ایک طویل عرصے سے صلاحیت و قابلیت کی بنیاد پر افسران و ملازمین کی ترقیوں کا عمل رکا ہوا ہے ،بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران و ملازمین کی کانفیڈنشل رپورٹ (اے سی آر )ہر سال تیار ہونی چاہئے ،ملازمت میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا حق ہر ملازم کو حاصل ہے، ترقی کے لئے تمام قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ عمل جاری رہنا چاہئے، ملازمین کو ان کا حق بروقت ملے گا تو ان کی کارکردگی بہتر ہوگی جس کا فائدہ ادارے کو پہنچتا ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے ڈپارٹمینٹل پروموشن کمیٹی کے ممبران سے کہا کہ محکمہ ایچ آر ایم کے ساتھ مکمل رابطہ رکھیں اور جو ہدایات دی گئیں ہیں ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، ہمارا اولین مقصد ادارے اور شہر کی بہتری ہونا چاہئے جس عہدے یا آسامی کے لئے جو افسر موزوں ہے اسے کام کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے، کے ایم سی کے انتظامی معاملات کو درست خطوط پر استوار کرنے کا وقت آگیا ہے، تمام قواعد و ضوابط موجود ہیں جن کے مطابق ملازمین کی ترقی کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے، اگر اس حوالے سے کسی پیچیدگی کا سامنا ہے تو اسے قواعد کی روشنی میں جلد از جلد دور کیا جائے ، اس موقع پر ڈپارٹمینٹل پروموشن کمیٹی کے ممبران نے اپنی تجاویز پیش کیں اور مختلف محکموں کی طرف سے افسران وملازمین کی تقرری و ترقی کے حوالے سے پیش کئے گئے کیسز کی تفصیلات سے آگاہ کیا، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہاکہ کمیٹی کے ممبران پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے لہٰذا جلد از جلد بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام ملازمین کی ان کے گریڈ اور تنخواہی اسکیل کے مطابق اپ ڈیٹ سینیارٹی لسٹ تیار کرائیں اور اس کے لئے تمام محکموں کے ساتھ رابطہ کرکے درست اور تصدیق شدہ ریکارڈ حاصل کیا جائے ، ریکروٹمنٹ رولز تیار ہوں گے تو معلوم ہوسکے گا کہ کسی بھی آ سامی پر تقرری کے لئے مطلوبہ صلاحیت اور اہلیت کیا ہے اور اس کے مطابق یہ عمل مکمل کیا جائے گا جس سے مختلف عہدوں پر تقرری اور ترقی کا عمل غیر متنازعہ اور شفاف بنے گا اور کسی کو شکایت نہیں ہوگی ، انہوں نے ہدایت کی کہ ڈی پی سی کے اجلاس باقاعدگی سے ہونے چاہئیں جن میں طریقہ کار کے مطابق تمام امور انجام دیئے جائیں۔
-

حوثی باغیوں کی عوام پر کاروائیوں پر اقوام متحدہ بھی بول اٹھی
حوثی باغیوں کی عوام پر کاروائیوں پر اقوام متحدہ بھی بول اٹھی
باغی ٹی و ی یمن میں حوثی باغیوں کی کاروائیوں سے عالمی تشویش بڑھنے لگی ہے . امریکا نے حوثی ملیشیا کی ان کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے جو یمن میں جنگ اور بد امنی کو طول دینے کی وجہ بن رہی ہیں۔ جمعے کے روز امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں زور دیا گیا ہے کہ یمن کے بحران کو جاری رکھنے کا سبب بننے والے حوثی ملیشیا کے مذکورہ تصرفات کا خاتمہ کیا جائے۔ بیان کے مطابق یمن کے لیے امریکی ایلچی ٹم لینڈرکنگ اور یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹن گریفتھس اقوام متحدہ کے زیر قیادت امن کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی کارستانیاں یمنی عوام کے مصائب کو طول دے رہی ہیں اور اس تنازع کو ختم کرنے کے واسطے کی جانے والی عالمی برادری کی کوششوں کو برباد کر رہی ہیں۔ بیان میں تمام یمنی فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فائر بندی کے جامع سمجھوتے کو یقینی بنائیں اور مذاکرات کا حصہ بنیں جن کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی ایک جامع سیاسی معاہدہ طے پا سکے۔
امریکی وزارت خارجہ نے سعودی عرب میں شہری تنصیبات اور دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کی مسترد کیا ہے اور حوثی باغیوں کی کوششوں کو مذموم قرار دیا ہے ۔