سندھ حکومت نے کرونا ایس او پیز سے متعلق نیا حکم نامہ جاری کردیا۔ محکمہ داخلہ سندھ نے کرونا ایس او پیز میں توسیع اور نئی پابندیوں سے متعلق حکم نامہ جاری کردیا ہے۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ سندھ بھر میں کرونا کی نئی پابندوں کا نفاذ 16 مئی تک رہے گا۔نئے حکم نامے کے مطابق تجارتی سرگرمیاں اب جمعے کی جگہ ہفتہ اوراتوار مکمل بند ہوں گی۔ تجارتی مراکز اور مارکیٹوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق سندھ بھر کی مارکیٹیں اور تجارتی مراکز سحری سے شام 6 بجے تک کھلنے کی اجازت ہوگی جبکہ ہفتہ اور اتوار کو تمام تجارتی وکاروباری مراکز مکمل بند رہیں گے۔
محکمۂ داخلہ سندھ کے مطابق ہفتے اور اتوار کو اشیائے ضروریہ کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہوگی۔ 16 مئی تک سیاسی، ثقافتی، سماجی اور کھیلوں کی ہرطرح کی سرگرمیوں پرپابندی ہوگی، ریسٹورنٹس میں ان ڈورڈائننگ کی فراہمی پر مکمل پابندی جبکہ آؤٹ ڈور کھانوں کی ٹائمنگ افطاری کےبعد سے رات12بجےتک ہوگی اور ہفتے اور اتوار کو بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بھی بند رہے گی۔ نوٹی فکیشن میں ہدایت کی گئی ہے کہ رات 12 بجے کے بعد صرف ہوم ڈلیوری اورٹیک اوےکی اجازت ہوگی۔
Category: کراچی
-

کاروباری و تجارتی مراکز کے نئے اوقات کار جاری، چھٹی کے دن بھی تبدیل
-

سندھ میں کورونا سے اموات کی تعداد 4544 ہو گئی
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 11623 نمونوں کی جانچ کی گئی جس کے مطابق مزید 561 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 اموات رپورٹ ہوئیں۔ اس طرح اموات کی مجموعی تعداد 4544 ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج مزید 404 مریض صحتیاب ہوئے ہیں اور ابتک صحتیاب افراد کی مجموعی تعداد 259792 ہوچکی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اب تک 3450136 نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے اور اب تک 271523 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت 7187 مریض زیر علاج ہیں۔ جن میں سے 6794 گھروں میں، 10 آئسولیشن سینٹرز میں اور 383 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ جبکہ 356 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے اور 39 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔ صوبے کے 561 نئے کیسز میں سے 278 کا تعلق کراچی سے ہے۔ جن میں ضلع شرقی 139، ضلع جنوبی 65، ضلع وسطی 31، ملیر 19، ضلع غربی 17 اور کورنگی میں7 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جبکہ دیگر اضلاع میں حیدرآباد 79، شکارپور 17، شہید بے نظیر آباد 14، کشمور اور سکھر 13۔ 13، گھوٹکی 12، بدین، جامشورو، مٹیاری اور دادو میں11۔11 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ٹھٹھہ 10، سانگھڑ 9، خیرپور، ٹنڈو محمد خان اور نوشہرو فیروز 8۔8، ٹنڈو الہیار 7، عمرکوٹ 6، جیکب آباد اور سجاول 5۔5، لاڑکانہ اور میرپور سے 4۔4 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
-

مرتضیٰ وہاب نے وزیراعظم کے دورہ سندھ پر کڑی تنقید کی
ترجمان سندھ حکومت نے وفاقی کابینہ میں کی جانے والی تبدیلیوں ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو سوچنا چاہیے کہ وزیر خزانہ بدلنے سے فرق نہیں پڑیگا، شایداب وزیراعظم تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے وزیراعظم کے دورہ سندھ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ہر سال رمضان المبارک میں وزیراعظم کی سندھ میں دلچسپی ہو جاتی ہے، یہ رمضان میں کراچی آتے ہیں اور اپنے ہسپتال کیلئے چندہ مانگ کر چلے جاتے ہیں، آج بھی گورنر ہاؤس میں تقریب ہوگی، شوکت خانم ہسپتال کیلئے فنڈ ریزنگ کر کے چلے جائیں گے۔مرتضیٰ وہاب نے ماضی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ستمبر2020میں کراچی تشریف لاتے ہیں، جہاں وہ کراچی والوں کےلئے 1100 ارب کا اعلان کرتے ہیں، آج کراچی والے ایک بار پھر منتظرہیں کہ وہ پیسے کہاں ہیں؟ کراچی والے دیکھ رہے ہیں کہ کیا کام ہوئے کیا ڈیویلپمنٹ ہوئیں؟،50لاکھ گھر1کروڑ نوکریاں دینی تھیں مگر کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہ ہوسکا، وزیراعظم اعلانات کرتے ہیں لیکن وعدے وفا نہیں ہوتے، ا ن سے تو ماضی کے منصوبے مکمل نہیں ہو رہے، اسی لئے آج سے کپتان کا نیا نام اعلان خان تجویز کرنا چاہوں گا۔ترجمان سندھ حکومت نے اپنی پریس کانفرنس میں وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ کھلاڑی تھے کھلاڑی ہیں اور رہیں گے، یہ معیشت اور عوام کے ساتھ کھیل رہے ہیں، وفاقی کابینہ میں کی جانے والی تبدیلیوں پر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو سوچناچاہیے کہ وزیرخزانہ بدلنے سے فرق نہیں پڑیگا، شایداب وزیراعظم تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔مرتضیٰ وہاب نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کی عوام ابھی تک یونیورسٹی کے منتظرہیں جبکہ صورت حال یہ ہے کہ ابھی تک پی ٹی آئی والوں نے یونیورسٹی کیلئے ایک روپیہ خرچ نہیں کیا اور کپتان نے اب تک یونیورسٹی کا چارٹرڈ تک منظور نہیں کیا۔
-

محکمہ داخلہ سندھ نے دھرنے اور مظاہرے روکنے کے لئے دفعہ 144 نافذ کردی
محکمہ داخلہ سندھ نے 11 مقامات پر دھرنے اور مظاہرے روکنے کے لئے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، پابندی کا اطلاق ہفتہ 17 اپریل سے اگلے دو ماہ کے لئے ہوگا۔محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے جن علاقوں میں دھرنے اور مظاہرے روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں نیشنل ہائی وے، انڈس ہائی وے، ریلوے ٹریک اور متصل علاقے شامل ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق اندورن شہروں کو جانے والی شاہراہوں پر احتجاج اور دھرنے دینے پر بھی پابندی ہوگی۔ کراچی میں نادرن بائی پاس، ماڑی پور روڈ، حب ریور روڈ او رشاہراہ عثمان پر احتجاج کرنے پر پابندی ہوگی۔اس کے علاوہ کراچی کی شاہراہ فیصل اور لیاری ایکسپریس وے پر احتجاج اور دھرنے سمیت ریلیاں نہیں نکالی جا سکیں گی۔ پابندی کے باعث ان مقامات پر دھرنے، ریلیاں اور احتجاج نہیں کیا جا سکے گا۔
-

ملیرسٹی سے شہر میں منشیات کی سپلائی میں ملوث دو خواتین گرفتار
ملیرسٹی سے شہر میں منشیات کی سپلائی میں ملوث دو خواتین گرفتار۔
باغی ٹیوی کی رپورٹ کے مطابق گرفتار خواتین خاندانی منشیات فروش ہیں۔دونوں خواتین کے خاندان کے متعدد افراد منشیات فروشی کے مقدمات میں جیل میں ہیں۔گرفتار خواتین سے ساڑھے سات کلو سے زائد حشیش برآمد۔گرفتار خواتین عزیزہ عرف چلی اور جنت بی بی عرف مامی کے نام پولیس کو انتہائی مطلوب منشیات فروشوں کی فہرست میں شامل تھے۔ دونوں خواتین کیخلاف 20 سے زائد منشیات کے مقدمات تھانہ ملیر سٹی میں درج ہیں۔گرفتار خواتین کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات حاصل کر لی گئیں۔دونوں خواتین شہر کے مختلف علاقوں میں منشیات کی سپلائی پہنچاتے تھیں۔گرفتار خواتین کیخلاف مقدمہ درج ہو گیا ہے اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ -

جمیل احمد نے ملازمین کیخلاف مقدمہ درج کرادیا
کراچی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قومی اسمبلی کے رکن جمیل احمد کے 2 ملازم بھائیوں پر ایم این اے کو دھمکیاں دینے اور رقم واپس نہ کرنے پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔کام کرنے سے انکار پرپی ٹی آئی کے ایم این اے کیپٹن جمیل احمد کے 2 ملازم بھائیوں پر ملیر کینٹ تھانے میں جمیل احمد کے پولیٹیکل سیکرٹری آصف کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملازم اشرف اور اس کے بھائی افضل کے خلاف مقدمہ ایم این اے کو دھمکیاں دینے اور دھوکہ دہی کرنے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ مدعی نے بتایا کہ ماہ جنوی میں اشرف نے شادی کا بہانہ بناکر ایم این اے سے 15 ہزار روپے تنخواہ اور 10ہزار روپے ادھار لیکر گیا اور جب اس سے رابطہ کیا گیا تو اس نے ادھار کی رقم واپس کرنے اور واپس آنے سے منع کر دیا۔ ملزم کے بھائی محمد افضل نے فون پر ایم این اے کو خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں اور گالم گلوچ بھی کی۔ دوسری جانب ملزمان کے والد کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے افضل کو کیپٹن (ر) جمیل نے جھوٹی ایف آئی آر درج کروا کر بند کروایا ہے جبکہ گرفتار ملزم کی والدہ کا کہنا ہے کہ جمیل احمد ظالم آدمی ہے اور میرے بیٹے کو گالم گلوچ کرتا تھا جس کے باعث وہ نوکری چھوڑ کر آیا۔اُدھر رکن قومی اسمبلی جمیل احمد اور ملازم اشرف کے درمیان مبینہ گفتگو میں جمیل اشرف ان سے پوچھ رہے ہیں کہ تم 15 دن کا کہہ کر کیوں واپس نہیں آئے حالانکہ تمہیں ایڈوانس بھی دیا گیا۔ اس پر اشرف بتاتا ہے کہ فی الحال اس کا واپس آنے کا ارادہ نہیں، جمیل احمد کہتے ہیں کہ اگر تم بتاتے تو میں پہلے والا کُک نہ نکالتا، میں تم پر اور تمہارے باپ پر کراچی میں ایف آئی آر کٹواتا ہوں۔ اس دوران اشرف، رکن قومی اسمبلی کو ایزی پیسہ کے ذریعے رقم واپس لوٹانے کا بھی کہتا ہے لیکن جمیل احمد نہیں مانے اور اشرف کو گالیاں اور دھمکی دیتے رہے۔
-

ضلع ملیر میں جمعہ کے اجتماعات کے لئے مساجد اور امام بارگاہوں پرسکیورٹی کےانتہائ سخت انتظامات نظر آئے
ضلع ملیر میں آج جمعہ کے اجتماعات کے لئے مساجد اور امام بارگاہوں پر پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائ سخت انتظامات۔
مساجد اور امام بارگاہوں کی طرف آنے جانے والی شاہراوں اور گذرگاہوں پر انتہائی مربوط سکیورٹی اورپولیس پیٹرولنگ کو یقینی بنانے کی ہدایات دیں گئیں ہیں۔تمام ایس ایچ اوز کو نماز جمعہ کے دوران اور نماز کے بعد اجتماعات کےاختتام تک مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کی سکیورٹی انتظامات کی کڑی نگرانی کرنے کی ہدایت کی گئی۔ایس ایس پی ملیر کے مطابق ضلع میں تعینات تمام سب ڈویژنل آفیسرز جملہ سکیورٹی معاملات کی ازخود نگرانی کرینگے۔ ایس ایس پی عرفان بہادرنےمساجد اور امام بارگاہوں میں آنے والے تمام گاڑیوں کی مکمل چیکنگ کرنے کی ہدایت کی۔ سکیورٹی ڈیوٹی سر انجام دینے والے تمام پولیس اہلکاروں کو نماز کی ادائیگی کیلئے آنے والے افراد کی مکمل جامہ تلاشی لینے کی ہدایت دی گئیں مساجد اور امام بارگاہوں کے اطراف سے ٹھیلوں اور گاڑیوں کو مخصوص دوری پر پارک کرنے کی ہدایت۔ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کومساجد اور امام بارگاہوں کے اطراف کسی بھی مشکوک سرگرمیوں کو دیکھتے ہی فوری ریسپونس کرنےاور کمانڈنگ آفیسر کو اطلاع کرنے کی ہدایت جاری جبکہ سکیورٹی ڈیوٹی پر مامورتمام اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹ پہننے اور چاک و چوبند اور مستعد ہو کر ڈیوٹی سرانجام دینے کی کیساتھ اپنی حفاظت کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئیں تھیں۔ -

دو مبینہ ڈکیتوں کی پولیس پر فائرنگ, ملزم زخمی حالت میں گرفتار
کراچی کے علاقے گلستان جوہر بلاک چودہ 14 میں دو مبینہ ڈکیتوں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ پولیس کے مطابق ملزمان کو روکنے کی کوشش کی گئی تھی نہ رکنے پر موٹر سائیکل سوار اہلکاروں نے تعاقب کیا جس پر ملزمان نے فائرنگ کردی۔ ملزمان کی فائرنگ کی وجہ سے راہ گیر بھی زد میں آیا، ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا جس سے اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ملزم کا ساتھی فرار ہو گیا واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
-

کراچی میں ایک بار پھر چکن کی قیمتوں کو پر لگ گئے
کراچی: ماہ صیام میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ شہر کراچی میں ایک بار پھر چکن کی قیمتوں کو پر لگ گئے۔ چکن کا گوشت 500 روپے فی کلو فروخت ہونے لگا۔ ماہ مبارک میں بھی کراچی کے عوام مہنگائی سے تنگ، چکن کی قیمتیں پھر حد سے تجاوز کرگئیں۔ بڑھتی قیمتوں پر کمشنر کراچی کی خاموشی نے بڑا سوالیہ نشان اٹھادیا۔ چکن کی بڑھتی قیمتوں کا کون ذمہ دار کون ہے دکاندار نے صاف ہاتھ اٹھالیے کہتے ہیں کمزور گردن پر چھری پھیرنا کہاں کا انصاف ہے۔ پیچھے سے گوشت مہنگا ملتا ہے آگے سستا کیسے بیچیں۔ دکانداروں نے حکومت سندھ اور کمشنر کراچی سے پرائس لسٹ پر نظر ثانی کی اپیل کردی کہتے ہیں گوشت کے ریٹ صحیح کیے جائیں۔
-

کراچی امراض قلب اسپتال کو این آئی سی وی ڈی کا حصہ بنانے کیلئے محکمہ قانون بلدیات سے مدد طلب
محکمہ صحت سندھ نے کراچی امراض قلب اسپتال(کے آئی ایچ ڈی)کو کارڈیو کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات تیز کرتے ہوئے محکمہ قانون اور بلدیات سے بھی مدد طلب کرلی ہے ۔ حکام محکمہ صحت کے مطابق کراچی امراض قلب اسپتال کو این آئی سی وی ڈی کا سیٹلائٹ سینٹر بنایا جائے گا . اس سلسلے میں محکمہ صحت نے تمام قانونی پہلووں پر عمل کرکے سمری وزیراعلی سندھ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
این آئی سی وی ڈی کاحصہ بننے کے بعد اسپتال کو دیگر سیٹلائٹ سینٹرزکی طرح چلایا جائیگا ۔ حکام محکمہ صحت کے مطابق 170 بستروں کے اسپتال کو چلانے کیلئے الگ بجٹ کی منظوری بھی لی جائے گی۔