بیچ کا راستہ نکالیں اور واضح پالیسی بتائیں،عدالت نے کس کو حکم دے دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں آئی بی اے ہیڈ ماسٹرز کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی
سیکریٹری تعلیم و دیگر حکام سندھ ہائیکورٹ میں پیش ہوئے سندھ ہائیکورٹ نے سیکریٹری تعلیم سے جواب طلب کرلیا .عدالت نے سیکریٹری تعلیم کو ہدایت کی کہ بیچ کا راستہ نکالیں اور واضح پالیسی بتائیں، عدالت نے سیکرٹری تعلیم سے سوال کیا کہ اساتذہ نے امتحان پاس کیا تو کیوں مستقل نہیں کیا جا رہا؟ سیکرٹری تعلیم نے عدالت میں بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے گریڈ 17 والوں کی تعیناتی پبلک سروس کمیشن کی ذریعے ہوگی،
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ہیڈ ماسٹرز کو اب کیا کرنا ہے؟ انہوں نے تو امتحان پاس کیا ہے، عدالت نے سیکرٹری تعلیم سے سوال کیا کہ ان کو رکھنا ہے یا نہیں کوئی واضح پالیسی بتائیں، سیکرٹری تعلیم نے سندھ ہائیکورٹ میں جواب دیا کہ یہ ورلڈ بینک کا پروجیکٹ ہے، سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 5 اپریل تک ملتوی کردی
قبل ازیں آئی بی اے ٹیسٹ پاس ہیڈ ماسٹرزنے ایک ماہ تک احتجاج کیا تو سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے انکے ساتھ مذاکرات کئے،آئی بی اے ہیڈ ماسٹرز اپنی مستقلی کے لئے سندھ اسمبلی کے باہر سراپا احتجاج رہے،اس دوران پولیس کی جانب سے ان پر تشدد بھی کیا گیا،سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا تھا کہ کووڈ کے باعث سب سے زیادہ نقصان تعلیم کے شعبہ کو ہوا ہے،ایک سال کے دوران کئی ایسے منصوبے ہم شروع نہیں کرسکے جو پلان کئے ہوئے تھے، آئی بی اے پاس ہیڈ ماسٹرز کا معاملہ ہائی کورٹ میں ہے،









tftناسلا ٹاور کے رہائشی کا کہنا ہے کہ عدالت نے بلڈنگ گرانے کا حکم دیا ہے اگر یہ گھر والوں کو بتادوں کو وہ جیتے جی مر جائیں گے، یہ نالے پر نہیں بنا یہاں بنگلہ ہوا کرتا تھا، بلڈر کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں شاہراہ قائدین پر قائم ٹاور گرانے کا حکم دیا تھا، عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ پوری بلڈنگ ہی نالے پر کھڑی ہے۔انہوں نے ڈی جی ایس بی سی اے کی سرزنش کی اور کہا کہ ایس بی سی اے والے خود ملے ہوئے ہیں، کل آپ سپریم کورٹ کی عمارت کسی کو دے دیں گے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کمشنر کراچی کی جانب سےڈپٹی کمشنر کی رپورٹ پیش کرنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی کو فارغ کریں، انہیں تو کچھ معلوم ہی نہیں، ہمارا آرڈر کیا تھا اور یہ کیا بتا رہے ہیں۔عدالت نے ہل پارک تجاوزات کیس میں مکینوں کی فریقین بننے کی درخواست مسترد کردی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جنہوں نے گھر خریدے وہ اتنے معصوم نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ معاوضہ الگ معاملہ ہے، پہلے جگہ خالی ہونی چاہیے۔