Baaghi TV

Category: کراچی

  • سندھ میں پولیس نے اپنی الگ ریاست قائم کی ہوئی ہے،خرم شیر زمان

    سندھ میں پولیس نے اپنی الگ ریاست قائم کی ہوئی ہے،خرم شیر زمان

    ‏پی ٹی آئی رہنماء خرم شير زمان کی سندھ یونیورسٹی کے طالب علم عرفان جتوئی کے واقعے پر جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ، خرم شیر زمان کہتے ہیں ماورائے عدالت قتل پر چیف جسٹس نوٹس لیں، سندھ میں پولیس نے اپنی الگ ریاست قائم کی ہوئی ہے، ‏انکوائری رپورٹ تک ایس ایس پی سکھر ملوث پولیس اہلکاروں کو معطل کیا جائے،سندھ میں پولیس روڈوں پر اپنی عدالتیں لگانا بند کرے، ایس ایس پی سکھر راؤ انوار بننے کی کوشش کررہے ہیں.

  • سندھ میں ہزاروں اسکول بند ہیں، سیکرٹری تعلیم کا اعتراف

    سندھ میں ہزاروں اسکول بند ہیں، سیکرٹری تعلیم کا اعتراف

    کراچی سندھ کے سیکرٹری تعلیم نے صوبے میں ہزاروں اسکول بند ہونے کا اعتراف کرلیا۔سندھ ہائیکورٹ میں صوبے میں مفت تعلیم اور اصلاحات سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران سیکرٹری تعلیم کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہےکہ سندھ بھر میں 6866 اسکول بند ہیں اور صوبے بھر کے 7974 اسکول چلانے کے قابل ہی نہیں جب کہ کراچی کے 6 اضلاع میں 229 اسکول بند ہیں اور سب سے زیادہ ضلع ملیر میں 137 اسکول بند پڑے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ صوبے بھر میں 46549 اساتذہ کی کل آسامیاں خالی ہیں جن میں پرائمری اساتذہ کی 32510 اور جونیئر ایلیمنٹری اساتذہ کی 14039 آسامیاں خالی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں کیبنٹ کی منظوری کی بعد آئن لائن ٹرانسفر پوسٹنگ کی پالیسی متعارف کرائی ہے جس سے بند اسکول کھولنے میں مدد فراہم ہوگی جب کہ نئے اساتذہ کی بھرتیاں تھرڈ پارٹی آئی بی اے کے ذریعے کی جائیں گی اور اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے اشتہار بھی شائع کرادیا گیا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہےکہ نئے اساتذہ کی بھرتیوں سے بند اسکول کھولے جائیں گے اور اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم نصب کردیا ہے۔بعد ازاں عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر بتایا جائے کہ صوبے میں کتنے فیصد تعلیم مفت فراہم کی جارہی ہے جب کہ اساتذہ کی بھرتیوں سے متعلق بھی تمام کارروائی 4 ماہ میں مکمل کرکے بتائی جائے۔عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 13 اپریل تک ملتوی کردی۔

  • چکن اور دودھ کی قیمتوں میں اضافہ، حکومت سندھ نے نوٹس لے لیا

    چکن اور دودھ کی قیمتوں میں اضافہ، حکومت سندھ نے نوٹس لے لیا

    حکومت سندھ نے مرغی اور دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا ،پرائس اینڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کا کمشنر کراچی اور ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ لکھا گیا۔تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے پر انتظامیہ کیوں خاموش ہے ؟ سندھ حکومت نے کمشنرز کراچی سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔حکومت کی طرف سے جاری کردہ قیمت پر اشیاء ضرور یہ کی فروخت کروانا ضلع انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ۔قیمتوں میں اس قسم کا اضافہ حکومت کا امیج خراب کر رہے ہیں واضح رہے کہ پرائس اینڈ کنٹرول نے ڈپٹی کمشنر، اسٹنٹ کمشنرز اور کمشنرز کراچی کو فوری کاروائی کی ہدایت کر دی ، اور پرائس اینڈ کنٹرول کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ عوام کو طے شدہ داموں پر اشیاء ملنے چاہیے۔کراچی میں چکن اور دودھ کی قیمتوں میں اضافے دیکھا جارہا ہے،جو کہ سرکاری نرخ کی خلاف ورزی ہے،یہ ایکٹ 2005 کی بھی خلاف ورزی ہے۔جو ٹریڈرز ، مینوفیکچررز اور دکاندار قیمتیں بڑھا رہے ہیں،ان کے خلاف کوئی ایکشن سامنے نہیں آیا۔جو بھی قیمتیں بڑھانے میں ملوث ہیں،ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل لائی جائے۔منافع خور اور بلیک ملیر کے خلاف کارروائی کی جائے.

  • سندھ یونیورسٹی کے طالبعلم کی لاش برآمد

    سندھ یونیورسٹی کے طالبعلم کی لاش برآمد

    لاپتہ ہونے والے سندھ یونیورسٹی کے طالب علم عرفان جتوئی کی لاش سکھر کے علاقے پنوں عاقل سے برآمد کرلی گئی۔ورثا اور ساتھی طلبہ کے مطابق پولیس نے 8 فروری کو یورنیورسٹی کے ہوسٹل سے عرفان جتوئی کو حراست میں لیا تھا۔ پولیس نے طالب علم پر 20 سے زائد مقدمات درج ہونے کا دعویٰ کیا۔جاں بحق طالب علم کے والد نے بتایا کہ ’’پولیس نے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک میرے بیٹے کو حراست میں رکھا۔ جب ہم اس کی ضمانت کے لیے گئے تو انہوں نے ہم سے 25 ہزار روپے مانگے‘‘۔اس کے بعد اہل خانہ نے سندھ ہائی کورٹ سکھر، حیدر آباد اور کراچی میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ عرفان جتوئی کو 16 مارچ تک عدالت میں پیش کریں۔ساتھی طالب علموں نے عرفان کے ماورائے عدالت قتل کا الزام لگايا ہے۔ دوسری جانب ايس ايس پی سکھر عرفان سموں نے دعویٰ کیا ہے کہ عرفان جتوئی ڈاکو تھا جس کی ہلاکت پوليس مقابلے ميں ہوئی۔نوجوان کی ہلاکت کے خلاف شکارپور اور جامشورو ميں مظاہرے کرکے پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے شہر کی اہم شاہریں بھی بلاک کیں۔جاں بحق عرفان سندھ يونيورسٹی ميں ايم اے پوليٹيکل سائنس کا طالب علم تھا۔ سندھ بار کونسل نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے شفاف انکوائری کا مطالبہ کيا ہے.

  • جعلی طریقے سے پائلٹس امتحان پاس کرنے کا کیس، 4 ملزمان کی ضمانت

    جعلی طریقے سے پائلٹس امتحان پاس کرنے کا کیس، 4 ملزمان کی ضمانت

    اسپیشل کورٹ سینٹرل کراچی نے جعلی طریقے سے پائلٹس کو امتحان میں پاس کرنے کے کیس میں 4 ملزمان کی ضمانت منظور کرلی۔چاروں ملزمان کا تعلق سول ایوی ایشن کی لائسنسنگ برانچ سے ہے، ملزمان میں عبد الرئیس، آصف الحق، فیصل منظور انصاری اور خالد محمود شامل ہیں۔عدالت نے چاروں ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک، ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، ملزمان پر فراڈ، دھوکہ دہی سمیت دیگر الزامات عائد ہیں۔

  • ڈسٹرکٹ ویسٹ کے علاقہ سے انتہائی مطلوب اسٹریٹ کرمنل ملزمان گرفتار

    ڈسٹرکٹ ویسٹ کے علاقہ سے انتہائی مطلوب اسٹریٹ کرمنل ملزمان گرفتار

    ڈسٹرکٹ ویسٹ کے علاقہ سے انتہائی مطلوب اسٹریٹ کرمنل ملزمان گرفتار۔ ایس ایس پی ویسٹ سوہائی عزیز ملزمان اسٹریٹ کرائم سمیت منشیات فروشی اور موٹرسائیکل لفٹنگ کی وارداتوں میں ملوث تھے ایس ایچ او پیرآباد نے خفیہ اطلاعات پر سیکٹر 4 میں کاروائی کی۔کامیاب کاروائی کے دوران ملزمان بنام عدنان ولد فرمان اور عبداللہ ولد عمر گرفتار۔گرفتار ملزمان سے غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن اور چوری شدہ موٹرسائیکل نمبری KBT-1145 برآمد۔ملزمان سے برآمدہ موٹرسائیکل تھانہ پاپوش نگر کے علاقہ سے سرقہ کی گئی تھی۔موٹرسائیکل کی سرقیدگی کا مقدمہ الزام نمبر 27/2021 تھانہ پاپوش نگر میں درج ہے۔ملزمان کیخلاف ضابطہ کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کاروائی کا آغاز کردیا گیا۔ملزمان کو مزید تفتیش کےلئے تفتیشی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ملزمان عادی مجرم ہے ملزم عدناد پہلے بھی سنگین نوعیت کے ذیل مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جاچکا ہے۔مقدمہ الزام 150/2020 بجرم دفعہ 392/397/34 تھانہ مومن آباد مقدمہ الزام نمبر 495/2020 بجرم دفعہ 23(i)A تھانہ سرجانی ملزم عبداللہ ولد عمر بھی تھانہ سائیٹ اے منشیات کے مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جاچکاہے۔

  • فشری کے ملازمین متحرک،موجودہ صورت حال پرتحقیقاتی اداروں کوخطوط لکھ دیئے

    فشری کے ملازمین متحرک،موجودہ صورت حال پرتحقیقاتی اداروں کوخطوط لکھ دیئے

    فشری کے ملازمین متحرک،موجودہ صورت حال پرتحقیقاتی اداروں کوخطوط لکھ دیئے،خطوط میں الیکشن آفیسرکی ذاتی من مانیوں کااحوال بیان کردیا آئندہ چند روزمیں اہم گرفتاریوں کاامکان ہے،ہائیکورٹ کے احکامات کے مطابق عملدرآمد ناہوا تواحتجاج سمیت ہرآپشن پرغورکررہے ہیں،ملازمینچیئرمین کے استعفی کے بعد وائس چیئرمین کو نگراں چیئرمین کاچارج دیاجائے،ماہی گیروں کامطالبہچیئرمین نیب، ایف آئی اے،اینٹی کرپشن سمیت ملک کے معتبرادارے معاملات کی سنگینی کانوٹس لیں،ماہی گیرالیکشن آفیسرساجد سوریونے فشری میں سابق چیئرمین نثارمورائی کی یاد تازہ کردیمحکمہ نے الیکشن آفیسرتعینات کیاتاہم سیٹ ملتے ہی افسرشاہی کاآغازہوگیا12 سے 15 افرادپرمشتمل ٹیم وصولی کے لئے میدان میں اتاردی،گیٹ پاس کیش کی صورت وصول کیاجارہاہے،
    کراچی (اسٹاف رپورٹر)فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی میں محکمہ کوآپریٹو کی جانب سے تعینات الیکشن آفیسر کی جانب سے چیئرمین کے اختیارات استعمال کیے جانے کے باعث ادارے کے معاملات مزید ابتر ہوگئے ۔ملازمین کی اکھاڑپچھاڑ اور غیر ضروری احکامات کے باعث فشری میں احتجاج کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں ۔ساجد سورہیہ کی آمرانہ روش کے خلاف ملازمین نے اجتماعی استعفے دینے کے حوالے سے مشاورتی اجلاس طلب کرلیا ۔تفصیلات کے مطابق فشر مین کوآپریٹو سوسائٹی کے چیئرمین کی جانب سے استعفی دیئے جانے کے بعد ادارے کے حالات بتدریج تنزلی کا شکار ہیں اور غیر قانونی طور پر الیکشن آفیسر تعینات کیے جانے والے ساجد سورہیہ نے خود کو فشری کا ان داتا سمجھتے ہوئے غیر ضروری احکامات جاری کرنا شروع کردیئے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن آفیسر اس وقت چیئرمین فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے اختیارات استعمال کررہے ہیں اور ملازمین کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اس ضمن میں ادارے کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سابق چیئرمین کے دور میں ہونے والی اصلاحات کے باعث فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی ایک متحرک ادارے کے طور پر سامنے آئی تھی لیکن الیکشن آفیسر کی تعیناتی نے ملازمین کی کئی سالوں کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے ۔انہوںنے بتایا کہ الیکشن آفیسر ساجد سورہیہ کی جانب سے فشری کے معاملات کو آمرانہ انداز میں چلایا جارہا ہے اور ان کی کسی بھی بات سے اختلاف کرنے والے افسر ان کو عہدے سے ہٹانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔مذکورہ افسر نے بتایا کہ حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ ملازمین اب اپنی ملازمتوںکی پروا بھی نہیں کررہے ہیں اور ایک بڑے احتجاج کی تیاری کی جارہی ہے ،جس میں ساجد سورہیہ کی تعیناتی اور ان کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی ۔انہوںنے بتایا کہ متعدد ملازمین نے اپنے استعفے بھی تیار کرلیے تھے لیکن ساتھیوں کی مشاورت پر انہوںنے ابھی یہ استعفے پیش نہیں کیے ہیں تاہم اگر احتجاج کے باوجود ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو یہ استعفے اجتماعی طور پر پیش کیے جاسکتے ہیں ۔ادھر ذرائع کا کہنا ساجد سورہیہ کی تعیناتی سے نثار مورائی کے دور کی یاد تازہ ہوگئی ہے جب فشری میں گینگ وار کا دور دورہ تھا ۔ادارے میں رشوت کا بازار گرم ہے اور الیکشن آفیسر کے 12سے 15بندے وصولی کے کاموں میں صروف ہیں ۔الیکشن آفیسر کے منظور نظریہ افراد گیٹ پاس بنوانے کی بجائے کیش وصول کرتے ہیں ۔ملازمین کی جانب سے یہ اپیل بھی کی گئی ہے کہ نئے الیکشن تک وائس چیئرمین کو چیئرمین کے اختیارات دیئے جائیں اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کروایا جائے ۔ملازمین کمپیوٹرائزڈ ممبر شپ رکنے پر بھی شدید غم و غصے کا شکار ہیں ۔دوسری جانب فشری کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے تاحال پیپلزپارٹی کی قیادت کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ہے ۔فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے بعد اس حوالے سے اہم پیش رفت کا امکان ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ سابق چیئرمین کو استعفی واپس لے کر اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کی ہدایت کی جائے گی ۔

  • عورتوں کے حقوق کے لئے تمام تنظیموں کا اتحاد اور ورکنگ ریلیشن شپ انتہائی ضروری ہے، عزیز فاطمہ

    عورتوں کے حقوق کے لئے تمام تنظیموں کا اتحاد اور ورکنگ ریلیشن شپ انتہائی ضروری ہے، عزیز فاطمہ

    کراچی ، پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کی میڈیا کوآرڈینیٹر عزیز فاطمہ نے کہا ہے کہ اس سال ہونے والے عورتوں کے حقوق مارچ کا نیا انداز ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔ عورتوں کے حقوق کے لئے تمام تنظیموں کا اتحاد اور ورکنگ ریلیشن شپ انتہائی ضروری ہے۔

    گذشتہ سال کی طرح اس سال ایسے نعروں سے اجتناب جو خواتین کے حقوق کے لئے مذاق کا نشانہ بن گئے تھے مستحسن اقدام ہے۔ مظلوم کوئی بھی ہو اس کے لئے آواز بلند کی جائے، عافیہ صدیقی سے کسی قسم کا بیررکھے جانا مناسب نہیں۔ ملک کی پچاس فیصد آبادی کا ہر شعبہ میں پچاس فیصدحصہ ہونا ضروری ہے۔ پاکستان کی خواتین عملی زندگی کے ہر شعبہ میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں اور مزید آگے جانا چاہتی ہیں۔

    پاسبان خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے کیونکہ عورتوں کی حوصلہ افزائی کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ خواتین پاسبان کے پلیٹ فارم پر آئیں انہیں آزادی اظہار کے بھرپور مواقع ملیں گے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے عورت حقوق مارچ کی ٹیم سے نئے انداز کے کامیاب عورت مارچ کے انعقاد پر ہم اظہار تشکرکرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار عزیز فاطمہ نے 8مارچ کو عورتوں کے حقوق کے عالمی دن کے حوالہ سے کراچی پریس کلب پر ہونے والے مظاہرہ اور فریئر ہال میں ہونے والے پروگرام عورت مارچ میں شرکت کرنے والی خواتین سے پاسبان سیکریٹریٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جس میں پاسبان خواتین ونگ کی ممبران نے عافیہ صدیقی کی وطن واپسی اور رہائی کے لئے شرکت کی۔

    عزیز فاطمہ نے مزید کہا کہ گذشتہ سال کی بہ نسبت اس سال ہونے والے عورت مارچ کے موقع پر ایک نمایاں فرق محسوس ہوا۔ منتظمین کی اکثریت عافیہ رہائی تحریک کی کارکنوں سے بہت عزت سے پیش آئی اور انہیں اسٹیج پر آنے کی دعوت بھی دی گئی۔ چند انتہا پسند خواتین کو چھوڑ کرباقی خواتین شرکاء کا مثبت اور تعمیری رویہ خوش آئند ہے۔ ہم اس نمایاں تبدیلی پرعورت حقوق پروگرام اور مارچ ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی امید رکھتی ہے کہ وہ چند خواتین جنہیں عافیہ صدیقی سے کسی قسم کا بیر ہے وہ اپنا دل صاف کر لیں گی کیونکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی قوم کا اثاثہ ہے۔ اس وقت دنیا کی سب سے مظلوم عورت یقینا ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے جس کے حقوق اور آزادی کے لئے عورت مارچ اور دیگرخواتین کے حقوق کی تنظیمیں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔ آپسی چپقلش کی وجہ سے عافیہ سمیت وہ تمام خواتین جو اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں، ان کی منزل دور ہوجائے گی۔

    ہمیں اپنے چھوٹے بڑے تمام اختلافات بھلا کر ایک مضبوط رشتہ استوار کرنا ہوگا تا کہ پسی ہوئی، مظلوم اور کمزور خواتین کے حقوق کے لئے متحد ہو کر آواز اٹھائی جا سکے۔ ہمیں مل کر اس محاورہ کو غلط ثابت کرنا ہے کہ عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ فریئر ہال میں ہونے والے پروگرام کی آرگنائزر خواتین نے کسی بھی قسم کی بدسلوکی کا مظاہرہ نا کرتے ہوئے عافیہ ورکرز کو بینرز اور پینا فلیکس سمیت اپنی آواز عوام تک پہنچانے کا موقعہ دیا جس کے لئے وہ مبارکباد کی مستحق ہیں۔ خواتین کو ان کے جائز حقوق دلوانے کے ہدف تک پہنچنے کے لئے حکمت عملی میں جو نمایا ں تبدیلی نظر آئی اس پر عورت مارچ کی ٹیم کے شکر گذار ہیں

  • سندھ پولیس میں احتساب کے عمل کو یقینی بنانےکیلیے نیا یونٹ بنانےکا فیصلہ

    سندھ پولیس میں احتساب کے عمل کو یقینی بنانےکیلیے نیا یونٹ بنانےکا فیصلہ

    سندھ پولیس میں احتساب کےعمل کو یقینی بنانےکےلیےنئے یونٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے ، اس نئے یونٹ کا نام انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی یونٹ ہوگا جس کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی رینک کا سینئیر افسر کرےگا ۔ انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی نامی یونٹ کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی رینک کا افسر کرےگا اورحال ہی میں ترقی پانےوالے فرحت جونیجو اس کے سربراہ ہوں گے نیا یونٹ اور ایڈیشنل آئی جی کی پوسٹ ایک پرانی پوسٹ کو ختم کرکے بنائی جارہی ہے، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کی پرانی پوسٹ کو ختم کر کے نئی پوسٹ بنائی جارہی ہے ، اس پوسٹ کو ختم کرنے کی منظوری حکومت سندھ سے لے لی گئی ہے اور جلد محکمہ داخلہ ایڈیشنل آئی جی انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی اوراس یونٹ کا نوٹی فیکیشن جاری کردےگا۔ یونٹ کے قیام کا مقصد پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایات اور کرپشن کی روک تھام ہے، یونٹ میں سندھ پولیس کے تمام کمپلین سیلز کو شامل کیا جائےگا جب کہ اس سیل کے اختیارات بھی بڑھائے جائیں گے۔

  • چیئرمین سینیٹ کا انتخاب، پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر ایم کیو ایم سے مدد مانگ لی

    چیئرمین سینیٹ کا انتخاب، پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر ایم کیو ایم سے مدد مانگ لی

    چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماؤں سے مدد مانگ لی ہے۔اس سلسلے میں سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کا تین رکنی وفد ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادر آباد پہنچا۔ وفد میں ناصر شاہ، شرجیل میمن اور مرتضیٰ وہاب شامل تھے پیپلز پارٹی کے وفد کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں ساتھ نہیں دیا تو کوئی بات نہیں، یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ بنوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینئر عامر خان اپنے ہی اتحادی سے ناراض دکھائی دیئے، ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی کارکردگی سست روی کا شکار ہے، کس کو سپورٹ کرنا ہے؟ یہ فیصلہ رابطہ کمیٹی کرے گی۔دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے جمہوری انداز میں سندھ کے مسائل حل کرنے کے لئے مستقبل میں ساتھ کام کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔