کراچی پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پی پی پی سندھ کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری سید ناصر حسین شاہ کی جانب سے اراکین سندھ اسمبلی کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے میں شریک ہیں، اس موقع پر شیری رحمان، فریال تالپور، سید مراد علی شاہ، تاج حیدر، آغا سراج درانی، مخدوم محبوب الزمان و دیگر بھی موجود ہیں-
Category: کراچی
-

جعل ساز لڑکی نے سوشل میڈیا پر دوستی کر کے سکھر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو لوٹ لیا
کراچی: شہر قائد میں ایک جعل ساز لڑکی نے سوشل میڈیا پر دوستی کر کے سکھر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو لوٹ لیا۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر کی گئی دوستی کا انجام سامنے آ گیا، ایک جعل ساز لڑکی نے سکھر کے نوجوان کو کراچی بلا کر لوٹ لیا۔
پولیس نے بتایا کہ سکھر کا 17 سالہ نوجوان 5 روز قبل لڑکی کے بلانے پر کراچی چلا آیا تھا، نوجوان کے اہل خانہ کو شبہ ہوا کہ ان کے بیٹے کو کسی نے اغوا کر لیا ہے، اور وہ اس کی تلاش میں کراچی پہنچ گئے۔پولیس نے بتایا کہ 17 سالہ لڑکا اپنی گرل فرینڈ کو طارق روڈ پر شاپنگ کرا رہا تھا، جب اس کے اہل خانہ نے اسے زبردستی گاڑی میں بٹھانا چاہا تو لوگ اس کو اغوا کی واردات سمجھ بیٹھے، جس پر وہاں شہریوں کی بھیڑ جمع ہو گئی۔
پولیس کا بیان ہے کہ سکھر کے نوجوان کو دوستی کے جال میں پھانس کر لڑکی نے 70 ہزار روپے بٹورے اور موقع سے فرار ہو گئی،اس دوران پولیس متاثرہ لڑکے اور اس کے اہل خانہ کو شہریوں سے بچا کر فیروز آباد اسٹیشن لے آئی۔پولیس نے بتایا کہ مبینہ جعل ساز لڑکی نوجوان سے مزید 30 ہزار روپے کا تقاضا کر رہی تھی، جب کہ وہ ستر ہزار کی شاپنگ پہلے ہی کرا چکا تھا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ نوجوان سے معلومات حاصل کر کے جعل ساز لڑکی کو تلاش کیا جا رہا ہے۔ -

کراچی پی ٹی آئی کے سینئر رہنما ڈاکٹر مسرور سیال گرفتار
کراچی پی ٹی آئی کے سینئر رہنما ڈاکٹر مسرور سیال کو گرفتار کر لیا گیا پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان جنرل سیکرٹری سعید آفریدی کی جانب سے مذمت ڈاکٹر مسرور سیال کی گرفتاری انتقامی کارروائی کا تسلسل ہے،خرم شیر زمان سندھہ پولیس پی پی کی غلامی میں اندھی ہوچکی گرفتاریوں اور جیلوں سے تحریک انصاف کی آواز بند نہیں کی جاسکتی،سعید آفریدی عوام اندازہ لگالے کے کس طرح پی پی الیکشن میں کامیاب ہوتی ہے ہم سیاسی کارکن ہیں دہشتگرد نہیں سندھہ حکومت اپنا قبلہ درست کرے
-

قیوم آباد سے رینجرزپر حملوں میں ملوث دہشت گرد گرفتار
کراچی کے علاقے قيوم آباد سے رينجرز پر دستی بم حملوں میں ملوث ملزم گرفتار کرليا گيا، ملزم کا تعلق کالعدم ایس آر اے سے ہے کاؤنٹر ٹيررازم ڈيپارٹمنٹ نے خفيہ اطلاع پر کورنگی کے علاقے قيوم آباد کے قريب کارروائی کی، جس ميں دہشت گرد وکاش کمار عرف سونو کو گرفتار کرليا گيا۔سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ملزم کا تعلق ایس آر اے ( سندھودیش ریولوشنری آرمی) کے اصغر شاہ عرف سجاد شاہ گروپ سے ہے، جو رينجرز کی موبائلوں اور چوکيوں پر دستی بم حملوں ميں ملوث ہے، ملزم کے قبضے سے ہينڈ گرنيڈ بھی ملا ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سجاد شاہ گروپ کے دیگر دہشت گردوں کو پناہ بھی دیتا تھا، ملزم نے نیشنل آئل ریفائنری میں کام کرنیوالے چینی انجینئرز کی ریکی بھی کی تھی۔سی ٹی ڈی نے گرفتار ملزم کیخلاف دھماکہ خیز مواد رکھنے سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا، مزید تحقیقات جاری ہیں۔
-

کراچی ٹک ٹاکرز کے قتل کے الزام میں گرفتار خاتون جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
کراچی کی مقامی عدالت نے خاتون ٹِک ٹاکر اور دیگر 3 افراد کے مبینہ قتل کے مقدمے میں نامزد خاتون کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیا پولیس نے 2 فروری کو گارڈن کے علاقے میں مسکان، عامر، ریحان اور سجاد کے قتل میں سویرا نامی ملزمہ کو حراست میں لے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا ٹِک ٹاکرز کے قتل کے الزام میں گرفتار خاتون کا جسمانی ریمانڈ منظور
تفتیشی افسر نے زیر حراست ملزمہ کو جوڈیشل مجسٹریٹ (جنوبی) کے روبرو پیش کیا کہ وہ تفتیش اور تحقیقات کے لیے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی۔پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کی جائے
تاہم جج نے ملزمہ کو جوڈیشل تحویل میں لے لیا اور آئی او کو ہدایت کی کہ ملزمہ کو اگلی تاریخ کو تحقیقاتی رپورٹ کے ساتھ پیش کیا جائے آئی او کے مطابق کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) اور وقوعہ کے مقام پر ملزمہ کی موجودگی کی بنیاد پر ملزمہ کو تحویل میں لیا گیا۔گزشتہ سماعت میں عدالت نے نامزد خاتون کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا پولیس کے مطابق چاروں ہلاک ہونے والے افراد سوشل میڈیا بالخصوص ٹک ٹاک پر سرگرم تھے انہیں 2 فروری کی صبح انکل سریا ہسپتال کے قریب گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا اس میں مزید کہا گیا تھا کہ مسکان نے عامر کو فون کیا اور پیر کی رات ملاقات کرنے کو کہا تھااس نے مزید بتایا کہ عامر نے ایک کار کا بندوبست کیا اور اپنے دوستوں ریحان اور سجاد کے ساتھ ان سے ملنے گیا وہ شہر میں گھوم رہے تھے اس دوران عامر اور مسکان نے بھی ٹِک ٹاک کی ویڈیو بنائی اور اس دوران نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا پولیس نے بتایا کہ مسکان کار کے اندر ہی ہلاک ہوگئی تھی جبکہ دیگر تینوں افراد کو کار کے باہر گولی مار دی گئی۔پولیس نے مزید بتایا کہ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ ریحان اور سجاد نے اس سے قبل ایک ٹِک ٹاک ویڈیو بنائی تھی جس میں وہ ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے دکھائے گئے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے اس ویڈیو کا نوٹس لیا تھا اور ان دونوں افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ -

قیوم آباد کورنگی روڈ سےدہشتگرد گرفتار
کراچی سی ٹی ڈی اور رینجرز کی مشترکہ کارروائی، قیوم آباد C سیکٹر کورنگی روڈ سے سندھ ری پبلیکن آرمی کا دہشتگرد گرفتار کراچی ملزم وکاش کمار عرف سونو سندھ ری پبلیکن آرمی کے سربراہ سجاد شاہ کا قریبی ساتھی ہے،کراچی سندھ ری پبلکن آرمی حال ہی میں رینجرز کی موبائلز اور چوکیوں پر ہینڈ گرنیڈ حملے میں ملوث ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سجاد شاہ گروپ کے دیگر دہشت گردوں کو پناہ بھی دیتا تھا، ملزم نے نیشنل آئل ریفائنری میں کام کرنیوالے چینی انجینئرز کی ریکی بھی کی تھی۔سی ٹی ڈی نے گرفتار ملزم کیخلاف دھماکہ خیز مواد رکھنے سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا، مزید تحقیقات جاری ہیں.
-

درجنوں سے زائد وارداتوں میں ملوث دونوں ملزمان گرفتار
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کورنگی عوامی کالونی پولیس نے دو اسٹریٹ کرمنلز کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا گرفتار ملزمان ایان اور کاشان اسٹریٹ کرائم کی درجنوں سے زائد وارداتوں میں ملوث ہے دونوں ملزمان شہری کو لوٹ رہے تھے گشت پر مامور ایس ایچ او عوامی کالونی نے دونوں ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا ملزمان کے قبضے سے دو بغیر لائسنس ٹی ٹی پستول موبائل فونز اور چھینی ہوئی رقم اور موٹرسائیکل برآمد کرلی ہے ملزمان عادی جرائم پیشہ ہیں ماضی میں چوری ڈکیتی سمیت مختلف جرائم میں گرفتار ہوکر جیل جاچکے ہیں پولیس نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 114/2021 اور 115/2021 بجرم دفعہ 397/34 پاکستان پینل کوڈ کے تحت مقدمہ درج کردیا ہے ایف آئی آر نمبر 116/2021 اور 117/2021 بجرم دفعہ 23(1)A سندھ آرمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کردیا گیا
گرفتار ملزمان کو لٹنے والے شہریوں نے شناخت کرلیا جس کا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 119/2021 اور 120/2021 اور 121/2021 بجرم دفعہ 397/34 پاکستان پینل کوڈ کے تحت مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے
گرفتار ملزمان کو مزید کارروائی کےلئے تفتیشی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے -

کورونا ویکسین نا لگوانے والے ملازمین کیخلاف سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ
کورونا ویکسین نا لگوانے والے ملازمین کیخلاف سندھ حکومت کا بڑا فیصلا
کورونا ویکسین نا لگوانے والے ملازمین کیخلاف سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ محکمہ صحت سندھ نے کورونا ویکسین نا لگوانے والے ملازمین کا کورونا صحت رسک الاﺅنس بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت سندھ کے مطابق تمام ملازمین کورونا ویکسین لگوانے کے پابند ہونگے۔ ملازمین میں میڈیکل و پیرا میڈیکل سٹاف شامل۔ کورونا صحت الاﺅنس ایم ایس اور ضلع صحت افسر کے کے کلیئر سرٹیفکیٹ سے مشروط کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ۔محکمہ صحت کے ملازمین کورونا ویکیسین لگوا کر ایم ایس یا ضلع صحت افسر سے سرٹیفکیٹ حاصل کریں گے۔ نوٹی فکیشن کورونا ویکسین نا لگوانے اور سرٹیفکیٹ حاصل نا کرنے والے ملازمین کا کورونا صحت الاﺅنس بند کیا جائے گا ۔ -

کراچی پرایویٹ اسپتال کی لفٹ گرنے سے نوجوان جاں بحق
کراچی کے علاقے آرام باغ پر نجی اسپتال کی لفٹ گرنے سے نوجوان جاں بحق ہوگیا۔ لواحقین نے انتظامیہ کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کردیا۔کراچی کے علاقے آرام باغ حقانی چوک پر نجی پرایویٹ اسپتال کی لفٹ گرنے کے واقعے میں نوجوان زخمی ہوا، انتظامیہ نے نوجوان کو سول اسپتال بھجوادیا اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے حادثے سے متعلق بتایا ہی نہیں، ساری سہولیات ہونے کے باوجود جہانزیب کو سول اسپتال بھجوادیا گیا جہاں وہ انتقال کرگیا۔لواحقین نے واقعے پر آرام باغ تھانے کے باہر احتجاج کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کردیا۔
-

ڈاکٹر ماہا کو قتل نہیں کیا گیا، انہوں نے خودکشی کی؟
کراچی کی ڈاکٹر ماہا کو قتل نہیں کیا گیا، انہوں نے خودکشی کی، پولیس کی تفتیشی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ماہا نے خود کو گولی مار کر خودکشی کی، زیادتی کے شواہد بھی نہیں ملے۔ڈاکٹرماہا واقعہ کے روز تین گھنٹے 37 منٹ تک ڈاکٹر عرفان کے کلینک پر رہی،تاہم ڈاکٹر عرفان قریشی مریضوں کے علاج میں مصروف رہےاور ڈاکٹر ماہا سےنہیں مل سکے تفتیشی حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے ڈاکٹر عرفان قریشی کے خلاف ثبوت نہیں ملے۔ڈاکٹر ماہا کیس میں پولیس نے تفتیش مکمل کرلی جس کے مطابق ڈاکٹر عرفان بے گناہ قراردے دیے گئے۔تفتیشی حکام کے مطابق سعد صدیقی اور تابش نے غیر قانونی طور پرڈاکٹر ماہا کو پستول فراہم کیا اوراسی پستول سے ڈاکٹر ماہا نے خودکشی کی تھی، کیس میں پولیس نے مجموعی طور پر 39 گواہوں کے بیانات ریکارڈکیے۔
