وزیر اعلیٰ سندھ نے صنعتی زونز میں انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے ایک ارب تیس کروڑ روپے منظور کئے ہیں۔ صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو کا کہنا تھا کہ حالیہ بارشوں سے صوبے کے صنعتی زونز میں انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ محدود مالی وسائل کے باوجود صنعتی زونز میں نوے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ صوبے میں صنعتی ترقی کے لئے صنعتی زونز میں انفراسٹرکچر کا بہتر ہونا بہت ضروری ہے۔ سائٹ کے محکمے میں زائد عملے کی بھرتی ایک بڑا مسئلہ اور زائد اسٹاف کے باعث بروقت تنخواہوں کی ادائیگی ایک مسئلہ تھی لیکن اب سائٹ کے محکمے میں بروقت تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں۔ جام اکرام اللہ دھاریجو کا کہنا تھا کہ فیکٹری مالکان بھی حکومت سندھ سے تعاون کریں۔ فیکٹری مالکان اپنے متعلقہ زونز میں تجاوزات قائم نہ ہونے دیں اور ترقیاتی کاموں میں حکومت سندھ کا ہاتھ بٹائیں۔ حکومت سندھ صنعت کاروں کے جائز مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔
جام اکرام اللہ دھاریجو نے مزید کہا کہ گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے صنعتی ترقی کو بہت متاثر کیا ہے لہذا وفاقی حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔ سندھ سمیت تمام صوبوں کو ان کے حصے کی گیس دی جائے۔ افسوس کی بات ہے کہ سندھ سب سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے لیکن پھر بھی گیس سے محروم ہے۔ صوبے میں روزگار کی فراہمی اور صنعتوں کی ترقی کے لیے نئے انڈسٹریل زونز قائم کئے جارہے ہیں۔
Category: کراچی
-

صنعتی زونز میں انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے ایک ارب تیس کروڑ روپے منظور
-

رکشہ گینگ گرفتار، شاہراہ فیصل پولیس کراچی
کراچی: شاہراہ فیصل پولیس نے کامےاب کارروائی کرتے ہوئے اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتیاں کرنے والے رکشہ گینگ کو گرفتار کرلیا ہے، تفصیلات کے مطابق گلستانِ جوہر کے قریب مشکوک رکشے میں سوار کرمنلز کی اطلاع ملی، ایس ایچ او شاہراہ فیصل افتخار حسین آرائیں نے اطلاع ملتے ہی ناکہ بندی کردی جس کے نتیجہ میں گلستانِ جوہر بلاک 12/13 کے قریب سے رکشہ نمبر D19/ 13028 میں سوار تین اسٹریٹ کرمنلز کو اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا گیا، گرفتار ملزمان کے قبضے سے تین بغیر لائسنس ٹی ٹی پستول بمعہ گولیاں برآمد کی گئی.
گرفتار ملزمان میں لال دنو ولد محمد پناہ دوسرا محمد قاسم ولد سیادو خان تیسرا عابد علی ولد اسام خان شامل ہیں، ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے کراچی کے مختلف علاقوں میں وارداتیں کرنے اور لاتعداد شہریوں کو لوٹنے کا اعتراف کیا ہے. ملزمان وارداتیں کرکے رکشے میں سوار ہوکر فرار ہوجاتے تھے.
ایس ایچ او افتخار حسین آرائیں نے گرفتار ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 116/2021 اور 117/2021 اور 118/2021 بجرم دفعہ 23(1)A سندھ آرمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے.گرفتار ملزمان کو مزید کارروائی کےلئے تفتیشی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے. -

تھانہ مبینہ ٹاٶن پولیس کی کامیاب کارروائی، دو ملزمان گرفتار
تھانہ مبینہ ٹاٶن پولیس کی کامیاب کاروائی دو ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مع اسلحہ و ایمونیشن برآمدگی کرکے گرفتار کر لیا گیا، ملزمان موباٸل فون وغیرہ دکان سے چوری کرکے فرار ہوجاتے تھے جسکی سی سی ٹیوی فوٹیج پولیس نے حاصل کرکے ملزمان کی گرفتاری عمل لائی گئی. گرفتار ملزمان فیروز ولد غلام فاروق اور عارف ولد عبدالرحیم کو سی سی فوٹیج میں باآسانی شناخت کیا جا سکتا ہے.
تفصیلات کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ملزمان کراچی کے تھانہ مبینہ ٹاٶن ,گلستان جوہر,سہراب گوٹھ اور تھانہ سچل میں اسٹریٹ کرائم اور چوری میں ملوث ہیں. ملزمان سے غیرقانونی اسلحہ دو عدد روالر 32 بور برآمد کئے گئے.
گرفتار ملزمان کی حسب ضابطہ گرفتاری کرکے تھانہ مبینہ ٹاٶن میں کاروائی عمل میں لائی گئی ہے، گرفتار ملزمان کا سابقہ رکارڈ معلوم کیا جا رہا ہے ۔مزید تفتیش جاری ہے. -

حکومت کا سینیٹ الیکشن میں مقابلہ کرنے کے لیئے تیار ہیں،بلاول کا اعلان
حکومت کا سینیٹ الیکشن میں مقابلہ کرنے کے لیئے تیار ہیں،بلاول کا اعلان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سینیٹ الیکشن کو بھی 2018 کے عام انتخابات کی طرح متنازعہ بنانا چاہتی ہے، حکومتِ سندھ اوپن بیلٹ کے متعلق صدارتی آرڈیننس کو عدالت میں چیلینج کرے گی۔
میڈیا سیل بلاول ہاوَس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ وہ اوپن بیلٹ کے ذریعے بھی حکومت کا سینیٹ الیکشن میں مقابلہ کرنے کے لیئے تیار ہیں، اور حکمران جماعت کے ناراض ارکان اوپن بیلٹ کے باوجود اپنی پارٹی کو ووٹ نہ دینے کے لیئے تیار ہیں۔ ہر شہری کو خفیہ ووٹ کا حق ہے تاکہ وہ مکمل پرائیویسی کے ساتھ اپنے ووٹ کے حق کا استعمال کر سکے تاکہ بعد ازاں کوئی اسے دباؤ میں نہ لا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بنیادی حق ہر الیکشن میں ہوتا ہے، لیکن اس پر اور صوبائی اراکین کے خفیہ ووٹ کے حق پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ سینیٹ الیکشن کے حوالے سے عدالت میں ریفرنس زیرِ سماعت ہے، لیکن پیپلز پارٹی حکومتِ سندھ کے ذریعے صدارتی آرڈیننس کو بھی چیلنج کرے گی، جبکہ ریفرنس پر میاں رضا ربانی اور صوبائی حکومت کے ذریعے اپنا موقف رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ چند گندے انڈے ضرور ہوں گے، جنہوں نے اپنے ووٹ فروخت کیئے ہوں گے، لیکن ارکان اسمبلی کی اکثریت اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سلیکڈ حکومت شفاف انتخابات چاہتی تھی تو بہت وقت تھا کیونکہ وہ تین سال سے حکومت میں ہیں، اور اس عرصے کے دوران انتخابی اصلاحات کر سکتے تھے، لیکن ان کی نیت خراب تھی۔ سلیکٹڈ حکومت کو یہ امید تھی کہ انہیں سینیٹ الیکشن میں بھی کھلی چھوٹ دی جائے گی، لیکن جب اس نے دیکھا کہ پی ڈی ایم مقابلہ کرنے کے لیئے تیار ہے اور ان کے ارکان اسمبلی بھی ناراض ہیں، تو انہوں نے پہلے عدالتی ریفرنس دائر کیا اور پھر آئینی ترمیم کا بل کمیٹی کے ذریعے بغیر کسی بات چیت کے مسلط کرنے کی کوشش کی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر سینیٹ الیکشن کے متعلق سازش کامیاب ہوئی تو یہ جمہوریت، پارلیمانٹ اور نظامِ انتخابات پر بہت بڑا حملہ ہوگا۔ اگر ایک جماعت اور شخص کی انا کی تسکین کی خاطر پاکستان کے آئین کو پائمال کیا جاتا ہے تو پھر یہ تمام اداروں کی جانب سے ملک کی جمہوری قوتوں کو ایک پیغام ہوگا اور اس سے وہ کیس کمزور پڑجائے گا کہ سسٹم کے اندر رہ کر جدوجہد کرنی چاہیئے۔ سب کو معلوم ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کوایک آرگنک اکثریت حاصل نہیں ہے، لیکن جمہوریت کو پائمال کرکے ہم پر یہ کٹھ پتلیاں مسلط کی گئی ہیں، اور یہ بڑی غلطی اب ملکی معیشت کو تباہی کی جانب دھکیل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان آئین و الیکشن قوانین کو پامال کرکے اپنی جعلی اکثریت کو چھپانا چاہتا ہے، لیکن پاکستان کی عوام اس کی اجازت نہیں دے گی۔ حیدرآباد میں ہونے والے جلسہ عام سے پورے ملک کی عوام کو پتا چل جائے گا کہ سندھ کے لوگ کیا چاہتے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران صوبائی وزراء ناصر حسین شاہ اور سعید غنی، ایم این اے شازیہ عطا مری بھی موجود تھیں
-

*ندا یاسر کی والدہ انتقال کر گئی*
معروف ادکار و ہدایت کار ندا یاسر اور اسپورٹس اینکر سویرا پاشا کی والدہ فہمیدہ نسرین اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ندا یاسر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے والدہ کے انتقال کی تصدیق کی۔
گزشتہ روز سویرا پاشا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر والدہ کی صحت یابی کی دعا کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ وہ آئی سی یو میں کیا پتہ کس کی دعا لگ جائے
اور اب ندا یاسر نے اپنے اسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی ماں کے ساتھ فیملی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہماری پیاری اور مضبوط ماں اب ہمیں ہمیشہ کے لئے تنہا چھوڑ کر چلی گئی۔ -

*حکومت سندھ کا چین سے معاہدہ طے*
سندھ حکومت کرونا وبا پر قابو پانے کے لیے چائنا سے ویکسین کے 2 کروڑ ڈوز خریدے گی۔وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا چین کے چین کے کاؤنسل جنرل لی بیجن سے ملاقات میں اتفاق۔
چائنیز کاؤنسل خانے میں ملاقات کے موقع پر صوبائی سیکریٹری صحت ڈاکٹر کاظم جتوئی بھی موجود تھے۔پاکستان میں کرونا وبا کے خاتمے کے لیے چین کا تعاون قابل تحسین ہے۔چین سندھ میں طبی سہولیات اور ہیلتھ ٹیکنالاجی میں مدد فراہم کرے۔چین کو سندھ میں ہسپتالیں اور دیگر ضروری ہیلتھ فیسلیٹیشن نیٹ ورک بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔سندھ کے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکلز کو چین کے ٹریڈیشنل چائنیز میڈیسن کی تربیت کے لیے چین بھیجا جاۓ گا۔سندھ میں کرونا کی ویکسینیشن کے لیے صوبے کو 2 کروڑ ڈوزز کی ضرورت ہے۔لوگوں کی زندگیاں محفوظ رکھنے کے لیے وکسینیشن مرحلے کو فعال رکھنا ضروری ہے۔کرونا ویکسین کی براہ راست خریداری کی اجازت کے لیے وفاقی حکومت سے بات کر رہے ہیں۔چین کے کاؤنسل جنرل لی بیجن کا صوبائی وزیر صحت سندھ کو ہر ممکن تعاون کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔لی بیجن کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں ہیلتھ ٹیکنالاجی کی فراہمی میں تعاون کے لیے چینی حکومت سے بات کروں گا۔ -

*ایف ٹی سی پر دو سگے بھائیوں کی فائرنگ سے ہلاکت کا معاملہ*
فائرنگ میں جاں بحق ہونے والے عابد کے بیٹے شہریار شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سید شاہنواز, شاہ نیاز رحمت شاہ,محمد کمال نے میرے والد اور چچا کو قتل کیا ہے
چچا سید ساجد اور انکی اہلیہ کے درمیان گھریلو مسائل تھے۔چچی ناراض ہوکر اپنے گھر چلی گئی تھی۔چچی کے بھائی شاہنواز شاہ والد کو فون کرکے کہا کہ بات چیت کرنے آرہے ہیں
بات چیت کے بہانے چچا کے گھر پر حملہ کردیا۔واقعہ کا مقدمہ محمودآباد میں درج تھا۔ملزمان نے ہم پر جھوٹی ایف آئی آرز بھی درج کرائی ہوئی ہیں
ہمارے خلاف شاہراہ نورجہان اور محمود آباد میں جھوٹے مقدمات درج کرائے گئے تھے
شاہراہ نورجہان تھانے میں درج مقدمے کی پیشی پر مقتولین عدالت گئے تھے
شہریار نے کہا ہے کہ ہم پولیس حکام اور تمام متعلقہ اداروں سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ -

۔دو سال سے زائدعرصہ گذر گیا، وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ کیا!!
کراچی: جنرل اسپتال کراچی کی ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے ایم ٹی آئی آرڈی ننس کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدارتی آرڈی ننس کے تحت جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر،قومی ادارہ امراض قلب اور قومی ادارہ اطفال کو اپنی تحویل میں لے ۔جناح اسپتال میں ڈاکٹر نعیم خان کی زیر صدارت ڈاکٹرایسوسی ایشن کے اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ایم ٹی آئی آرڈی ننس کی بھرپور حمایت کا فیصلہ کیا گیا ۔ڈاکٹر نعیم خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاق کے تینوں اسپتال جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ،قومی ادارہ امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) اور قومی ادارہ اطفال (این آئی سی ایچ)وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوگئے تھے مگر جنوری 2019میں سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں ان تینوں اسپتالوں کو واپس وفاق کو منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے ۔دو سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ کرتے ہوئے ان تینوں اسپتالوں کا انتظامی کنٹرول حاصل نہیں کیا ۔انہوںنے کہا کہ نومبر 2020میں وفاقی حکومت نے صدارتی آرڈی ننس جاری کیا جس کے تحت جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر،قومی ادارہ امراض قلب اور قومی ادارہ اطفال کو بورڈ آف گورنرز کے تحت انتظامی طور پر چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ڈاکٹر ایسوسی ایشن اس فیصلے کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ کراچی کے ان اسپتالوں کا انتظامی کنٹرول جلد سے جلد حاصل کرے ۔
-

کراچی سے گرفتار دہشتگردوں کے کس ملک میں رابطے تھے، ٹارگٹ کیا تھا؟ اہم انکشافات
کراچی سے گرفتار دہشتگردوں کے کس ملک میں رابطے تھے، ٹارگٹ کیا تھا؟ اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے آئی جی سندھ مشتاق مہر،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاھد اور انچارج سی آئی ڈی عمر خطاب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج بہت بڑا دن ہے۔ آج دھشتگردوں کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا۔ جو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ٹارگٹ خاص طور پر سندھ تھا۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کئی ماہ سے مختلف تھریٹ الرٹ تھے، جس پر سی ٹی ڈی سندھ پولیس، قانوں نافذ کرنے والے اداروں اور بالخصوص حساس اداروں نے بہت محنت کی۔ آج صبح کارروائی میں ایک خود کش بمبار موقع پر مارا گیا۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ 6 گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ الارمنگ صورت حال یہ ہے کہ ان کے پاس جو مواد تھا اس سے بڑی تخریب کاری کا اندیشہ تھا۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق گروہ کے زیادہ تر افراد کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے۔ را کے ملوث ہونے کے بھی پکے شواہد ملے ہیں ۔ہماری اہم تنصیبات اور شخصیات ٹارگٹ تھے ۔صوبائی وزیراطلاعات سندھ نے کہا کہ اھم اداروں میں سندھ اسمبلی بھی شامل ہے۔ اللہ کا شکر ہے۔ ہماری پولیس، سی ٹی ڈی افسران اور حساس اداروں نے کامیاب کارروائی کی۔ خطرناک گروہ کو پکڑا گیا ،جس کے تانے بانے افغانستان اور را سے جاکے ملتے ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم سب کے لیے پاکستان اہم ہے۔ ہمارے ادارے بھی مقدم ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ ہمارے ادارے ملک کو بڑے خطروں اور تخریب کاری سے محفوظ رکھتے ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں، ہمارا دشمن سامنے نہیں آتا، وہ ہمارے لوگوں کو استعمال کرتا ہے اور دھشتگردوں کو سہولت کار یہاں سے ملتے ہیں۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جو پاکستان کے خلاف بات کرتا ہے اس سے کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی، جو پاکستان کے خلاف بات کر رہا ہے اس کو یہاں رہنے کا حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا ملک ہے ،مل کر مضبوط کرنا ہے۔ ملک کی بات آئے تو ہم سب کو ساتھ ہونا چاہئے ،دشمن ملک میں امن نہیں چاہتے اور ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ پولیس با اختیار ہیں لیکن وہ سندھ پولیس کا حصہ ہیں ہم مل کر کام کرتے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے بعد تمام معلومات آپ کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ یہ جوائنٹ آپریشن تھا جس میں پولیس، سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے حصہ لیا.
اس موقع پر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں زاھد اللہ عرف سلیمان، بسم اللہ عرف حاجی لالا، محمد قاسم عرف حاجی صدیق، انعام اللہ عرف بلال اور گل محمد مسلح حالت میں گرفتار ہوئے ، جبکہ ملزمان سے چار ضرب کلاشنکوف بمہ میگزین، بارہ عدد میگزین کلاشنکوف، کلاشنکوف کے مزید زندہ راؤنڈ 500، تین عدد خود کش جیکٹس، ایک عدد رکشہ جس میں بارودی مواد نصب معہ 02 عدد راکٹ ، 12 عدد ڈیٹونیٹر، 13 عدد بارودی بلاکس ، 12 عدد ہینڈ گرنیڈز اور اہم تنصیبات کے نقشے و دیگر اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔
-

کثیرالملکی بحری مشق امن۔ 21 کی افتتاحی بریف کا انعقاد
کثیرالملکی بحری مشق امن۔ 21 کی افتتاحی بریف کا انعقاد
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کثیرالملکی بحری مشق امن21 کی میڈیا بریف آج فلیٹ ہیڈ کوارٹرز کراچی میں منعقد ہوئی۔ کمانڈر پاکستان فلیٹ رئیر ایڈمرل نوید اشرف نے میڈیا کے نمائندوں کو مشق کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
”امن کے لیے متحد” کے نعرے کے تحت پاک بحریہ کی جانب سے امن مشق پاکستان کے مثبت امیج کو اجاگر کرنے کے لئے ہر دو سال بعد منعقد کی جاتی ہے۔ یہ مشق علاقائی امن و استحکام ، سمندری حدود میں دہشت گردی کے خلاف عزم ، محفوظ اور پائیدار سمندری ماحول کو برقرار رکھنے کے لئے باہمی تعاون اور سب سے بڑھ کر علاقائی اور دیگربحری افواج کے مابین باہمی آپریشنز کی استعداد کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
پاکستان دہشت گردی اور ظلم کے خلاف جنگ میں لاتعداد قربانیوں اور نقصانات کے باوجود ثابت قدم رہا ہے۔ حالیہ وبائی مرض کرونا نے پہلے سے ہی پیچیدہ سیکیورٹی کے معاملات میں ایک اور جہت شامل کردی ہے۔ تاہم ، ہماری قیادت کے بروقت اور درست فیصلوں نے ہمیں مستحکم رکھا ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اورمتعدد چیلنجز کے خلاف اپنا بھرپورکردار ادا کرتا رہے گا۔ کسی بھی بحری ریاست کی طرح پاکستان بھی سمندری شعبے میں کئی اہم مفادات کا حامل ہے۔ محفوظ اور جرائم سے پاک سمندروں سے ہمارے مفادات تین واضح حقائق سے وابستہ ہیں: اول، تجارت کے لئے سمندروں پر ہمارا غیرمعمولی انحصار ، دوم سی پیک پراجیکٹ کو فعال بنانا؛ اورسوئم عالمی توانائی کی شاہراہ پر ہمارا اہم اسٹریٹجک مقام ۔ مجموعی طور پر یہ حقائق سمندری استحکام کو ہماری قومی سلامتی کا ایک اہم پہلو بناتے ہیں۔ چونکہ ہم صدیوں پرانے قول "sea unites while land divides” پر یقین رکھتے ہیں لہذاپاکستان سمجھتا ہے کہ سمندری تحفظ صرف اپنے لئے ہی نہیں بلکہ دیگر تمام ممالک کے لئے بھی اہم ہے جن کی خوشحالی اور ترقی سمندر کے ساتھ وابستہ ہے۔
مل جل کر کام کرتے ہوئے ہمیں یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ موجودہ عالمی سمندری ماحول روایتی اور غیر روایتی خطرات سے بھرا ہوا ہے جس کے لیے دوستانہ بحری افواج کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی ملک اکیلے مختلف قسم کے خطرات یا روزانہ کی بنیاد پر ابھرنے والے نئے خطرات سے نبرد آزما نہیں ہو سکتا۔ اس طرح خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ میری ٹائم سیکیورٹی انتہائی اہمیت حاصل کر چکی ہے۔
کمانڈر پاکستان فلیٹ نے کہاکہ پاکستان بحریہ مشترکہ میری ٹائم سیکیورٹی کے تصور پر پختہ یقین رکھتی ہے اور اسی وجہ سے وہ 2004 کے بعد سے دیگر بحری افواج کے ساتھ سمندری اورانسداد قزاقی آپریشنز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔2018 کے بعد سے ، پاک بحریہ علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرولز جاری رکھے ہوئے ہے ، جس میں پاک بحریہ کے بحری جہاز بحر ہند کے اہم علاقوں میں مستقل طور پر اپنی موجودگی کو برقرار رکھتے ہیں تاکہ وہ سمندر میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ مشق امن شرکا ءکو ایسے ہی اجتماعی ردعمل کے لئے تعاون کے متعدد مواقع فراہم کرتی ہے۔ ،امن مشق 21 علاقائی ہم آہنگی، باہمی تعاون کو فروغ دینے اور کثیر الجہتی خطرات کے خلاف متحدہ عزم کے اظہار کی ایک کوشش ہے۔
اس سال ،ساتویں امن مشق رواں ماہ منعقد ہوگی، جہاں سمندری اور فضائی اثاثوں ،اسپیشل آپریشنزفورسز / میرین ٹیموں اور مبصرین / سینئر افسران کے ساتھ تقریبا 45 ممالک حصہ لے رہے ہیں۔ مشق امن 21 دو حصوں پر مشتمل ہے،ہاربر اور سی فیز۔ ہاربر پر ہونے والی سرگرمیوں میں سیمینار، مباحثے، مظاہرے اور بین الاقوامی مبصرین کی ملاقاتیں شامل ہیں۔جبکہ بحری قذاقی اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی،فائرنگ اور سرچ اینڈ ریسکیوآپریشنز سی فیز میں ہونے والی نمایاں سرگرمیاں ہیں۔سی فیز اور مشق امن 21 کا سب سے اہم اور نمایاں پہلو انٹر نیشنل فلیٹ ریویو ہے جس کا جائزہ ملکی اور غیر ملکی معززین اور مندوبین لیں گے۔
ایڈمرل نوید اشرف نے بتایا کہ مشق امن21 استحکام، امن اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کے حصول اورباہمی معلومات کے تبادلے، باہمی اتفاق رائے اور شریک ممالک کی بحری افواج کے مشترکہ مفادات کو اجاگر کرنے کے لئے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشق اس امر کی عکاس ہے کہ مختلف قومیں نئے تعلقات کے قیام، باہمی تعاون کے جدید طریقے اور موجودہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے ایک تعمیری کردار ادا کر سکتی ہیں۔مشق امن 21 کا مقصدفاصلے کم کرنااور مشترکہ مقاصد کے حصول کے لئے باہمی تعاون کا فروغ ہے اور موثر میڈیا کوریج بحری امن کے لئے پاک بحریہ کی کاوشوں اوراس مشق کے اصل مقصد "امن کے لئے متحد” کو بہتر طور پر اجاگر کر سکتی ہے۔