حیدرآباد میں ہیروئن کے نشے کے رحجان میں انتہائی تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا‘ شہر کے درجنوں مقامات پر کھلے عام ہیروئن کی خریدفروخت جاری ہے‘ ایک محتاط اندازے کے مطابق حیدرآباد میں ہیروئنوں کی تعداد لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے ‘شہر کے ہوٹلز کے باہر اور فلاحی دسترخوانوں پر سفید پوش افراد کے بجائے نشے کے عادی افراد نے ڈھیر ے ڈال لئے ہیں ‘دوسری جانب پولیس کے اعلیٰ افسران نے حیدرآبا دکے تھانہ داروں کو منشیا ت فروشوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے روزانہ کی بنیادپر گداگروں کو گرفتار کرنے پر لگادیاہے ‘ حیدرآباد کے تھانہ دار اعلیٰ افسران کو خوش کرنے کے لئے گداگروں کو گرفتارکرکے کارگردگی دکھانے میں مصروف ہے ۔
Category: کراچی
-

بوٹ بیسن کے علاقے میں فائرنگ مرد اور خاتون جاں بحق
کراچی بوٹ بیسن کے علاقے میں فائرنگ مرد اور خاتون جاں بحق۔ جاں بحق ہونےوالے خاتون اورمرد موٹرسائیکل پرسوار تھے، مقتول شخص کی شناخت عدنان کے نام سے ہوئی ہے، مقتول کی موٹرسائیکل پر کوئی نمبر پلیٹ نہیں لگی، جائے وقوعہ سے گولیوں کے چھ خول ملے ہیں، واقعہ کی نوعیت کے حوالےسے تحقیقات کی جارہی ہیں، پولیس
-

دودھ کی قیمت میں غیرقانونی اضافے کا نوٹس
کمشنر کراچی نوید شیخ نے دودھ کی قیمت میں غیرقانونی اضافے کا نوٹس لے لیا۔ دودھ کی از خود قیمت میں اضافہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ۔ کمشنر نے دودھ فروشوں کوتنبیہ کر نے کے لئے ڈپٹی کمشنرز کو احکامات جاری کر دئیے۔ ڈپٹی کمشنرز متعلقہ دودھ فروشوں کے رہنماوں کے ساتھ اجلاس کریں،آگاہ کریں کہ دودھ کی قیمت میں ازخود اضافہ غیر قانونی ہے، دودھ کی قیمت مقرر کر نے کا اختیار کراچی انتظامیہ کا ہے خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
-

کراچی میں فائرنگ سے مشہور ٹک ٹاکر مسکان سمیت 2 افراد جاں بحق
کراچی کے علاقے گارڈن میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مشہور ٹک ٹاکر مسکان سمیت 2 افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔کراچی کے علاقے گارڈن انکل سریا اسپتال کے قریب نامعلوم افراد نے کار پر فائرنگ کرکے 4 افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے، فائرنگ کے نتیجے میں کار سوار ٹک ٹاکر مسکان جاں بحق ہوگئی جبکہ عامر خان، صدام اور ریحان نامی افراد کو شدید زخمی حالت میں سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں صدام نامی شخص زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے تعقب کے بعد گاڑی کے پیچھے سے 2 گولیاں مار کر گاڑی کو روکا اورپھر سڑک پر اتار کر تمام افراد کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ فائرنگ کا نشانہ بنے والے مسکان اور عامر کا ٹک ٹاک بھی منظر عام پر آگیا۔ذرائع کے مطابق ٹک ٹاک ویڈیو فائرنگ کے واقعے سے کچھ دیر قبل بنائی گئی ہے جبکہ عامر بلدیہ جبکہ مسکان لانڈھی کی رہائشی بتائی جارہی ہے۔ فائرنگ کے واقعے میں نائن ایم ایم پستول کا استعمال کیا گیا۔ پولیس نے شواہد جمع کرکے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ -

ہاکس بے پر بنے ہٹس مسمار کرنے کا فیصلہ
سندھ حکومت کی جانب سے ہاکس بے ساحل پر 3 اسٹار ہوٹلوں اور ہٹس بنانے کیلئے نجی سرمایہ کاروں کو مدعو کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ساحل پر موجود 254 ہٹس کی لیز منسوخ کردی گئی ہیں اور انہیں خالی کروا کر مسمار کردیا جائے گا۔
ساحل سمندر پر کے ایم سی کی اس پٹی کی لمبائی 5 کلومیٹر ہے اور اس کا کل رقبہ تقریبا 387 ایکڑ بنتا ہے، جب کہ اس سے متصل ساحلی حصے کے پی ٹی اور بورڈ آف ریونیو کی ملکیت ہیں۔ ساحلی زمین پر اے، اے ون اور ایس سیریز میں منقسم ہے اور ان میں سے اے سیریز میں وہ پلاٹس شامل ہیں جو عین سامنے کی طرف ہیں، جب کہ دیگر دو سیریز اس کے عقب میں ہیں۔
حکومت سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یونٹ کے ڈائریکٹر جنرل خالد محمود شیخ نے تصدیق کی ہے کہ اس ترقیاتی منصوبے پر عملدرآمد ان کا یونٹ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ حکومت ساحل سمندر کی ترقی کے لئے فیزیبلٹی پلان تیار کرنے کے لئے ایک کسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک طویل عمل ہے اور اس کی تیاری میں کم از کم 6 ماہ لگ جائیں گے۔ -
*منگھو پیر خودکشی کا افسوسناک واقع*
منگھوپیر سلطان آباد سیکٹر 3 میں نوجوان کا خودکشی کی کوشش سہیل ولد سکندر علی نے زہریلی دوا پی لی عباسی اسپتال منتقل کیا جارہا ہے
-

لینڈ مافیا کی شامت: پنجاب کے بعد سندھ کی باری
خرم شیر زمان سینئر رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پنجاب کے بعد سندھ کے لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی ہوگی۔ سندھ میں سرکاری زمینوں اور اداروں پر قابض مافیا کے خلاف کارروائی ہوگی۔ سندھ میں قبضہ مافیا پی پی کی گود میں پل رہی ہے۔
پی پی نے ملیر اور جنگلات کی زمین کو خاندانی میراث سمجھ کر قبضہ کیا۔ سندھ میں موجود سرکاری سرپرستی والے گلو بٹوں سے سندھ کی زمین کو آزاد کرائیں گے۔قبضہ اور بھتہ مافیا نے ن لیگ اور پی پی کا شیلٹر لیا ہوا ہے۔سرکاری اور عام آدمی کی زمینوں پر قبضہ پی پی کے وزراء کا ہے۔ سندھ میں سرکاری سرپرستی میں قبضوں کی رپورٹ وزیراعظم کو بھجیں گے۔لینڈ گریبنگ اور چائنا کٹنگ کا سنگ بنیاد پی پی کے دور میں پڑا۔منظور کاکا اور اویس ٹپی جیسے لوگ پی پی کی پہچان ہیں۔
شہر کراچی سمیت سندھ بھر اب قبضہ مافیا سے پاک ہوگا۔ -

*کراچی بحریہ ٹو کی لانچنگ مقامی لوگوں کے لئے عذاب کا باعث گوٹ کی زمین پر قبضے کا انکشاف *
ذرائع کے مطابق کراچی بحریہ ٹاؤن نے بڑی خاموشی سے مین سپر ہائی وئے پر کمانڈر سٹی کے ساتھ بحریہ ٹاؤں ٹو پر کام شروع کردیا اور دوہفتوں سے مسلسل بڑی بڑی مشینوں سے تیزی کا جاری ہے مگر اچانک تمام گوٹھ کے لوگوں نے بحریہ انتظامیہ پر ہلا بول دیا جسکی وجہ سے انتظامیہ کو کام روکنا پڑا اور متعلقہ تھانے کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور معاملے کی چھان بین شروع کر دی
-

پانی کے امراض کا بڑھتا پھیلاؤ:سندھ حکومت غفلت کی نیند میں مبتلا
پانی کے نام پر سندھ کے باسیوں کو زہر دینابند کیا جائے: پاسبان
کینجھر جھیل کی آلودگی انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ ہے: عبدالحاکم قائدپانی صحت کی علامت اور زندگی کی بقا کا ضامن ہے،حفاظت کی جائے، واٹر ریسورس کنزرویشن کے لئے با اختیار ادارہ بنایا جائے-
کراچی میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ پانی کے نام پر سندھ کے باسیوں کو زہر دینا بند کیا جائے۔ کینجھر جھیل میں بڑھتی ہوئی آلودگی انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ ہے۔ نوری آباد اور کوٹری کی فیکٹریوں سے خارج ہونے والے صنعتی فضلہ کی پانی میں آمیزش اسے زہریلا بنا رہی ہے، فوری سد باب کیا جائے۔ چیف منسٹر، گورنر ہاؤس، سندھ اسمبلی اور سیکریٹریٹ میں منرل واٹر پر مکمل پابندی عائد کر کے کھینجر جھیل سے پانی سپلائی کیا جائے تاکہ حکمرانوں کو پینے کے پانی کی آلودگی کے مسئلہ کا احساس ہو سکے۔ پانی کی صفائی کا خیال رکھا جائے، پانی کی صفائی کے نام پر مختص بجٹ کو ہڑپ ہونے سے محفوظ بنایا جائے۔ پاکستان میں واٹر ریسورس کنزرویشن کے لئے با اختیار ادارہ بنایا جائے۔پانی کے ذخائر کو آلودگی سے بچایا جائے۔ترقی یافتہ ممالک کی طرح بارش کے پانی کو محفوظ رکھنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔ پانی صحت کی علامت اور زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ قیمتی عطیہ خداوندی ہے، اس کی حفاظت کی جائے۔
پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں ملک پانی کی کمی اور آلودگی پر گفتگو کرتے ہوئے عبدالحاکم قائد نے مزید کہا کہ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جسے اگلے بیس سال میں پانی کی بد ترین قلت کا سامنا ہوگا۔ پاکستان کی پچاس فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ ستر فیصد آبادی کو گھر تک پانی نہیں پہنچتا۔ پانی کی قلت اور فراہمی ایک بہت اہم ایشو ہے۔ پاکستان میں اس وقت کم و بیش دو سو پچیس آب گاہیں موجود ہیں جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی آلودگی ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ کراچی، ٹھٹھہ اور نوری آباد کے لاکھوں لوگوں کو پانی کی فراہمی اسی جھیل سے کی جاتی ہے۔ اس جھیل کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور اس میں آلودگی شامل ہونے کی وجہ سے اس کا پانی مضر صحت ہوتا جا رہا ہے۔ کینجھر جھیل میں فیکٹریوں کا صنعتی فضلہ پھینکا جاتا ہے اور یہی پانی کراچی اور ٹھٹھہ میں عوام کو سپلائی کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے صحت کے سنگین خطرات پیدا ہورہے ہیں جس میں جگر کی خرابی، آنکھوں کی بیماریاں، ہیپا ٹائٹس اور کینسر جیسی خطرناک بیماریاں شامل ہیں۔ سندھ حکومت بے حسی اور لاپرواہی ترک کر کے خواب غفلت سے جاگ جائے۔عوام کی صحت اور جان سے کھیلنا بند کرے۔
ہر سال لاکھوں، کروڑوں روہے پانی کی صفائی کے نام پر مختص کئے جاتے ہیں اس کے باوجود عوام کو غیر معیاری اور مضر صحت پانی کیوں فراہم کیا رہا ہے؟ کینجھر جھیل کی آلودگی پر عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ محض روایتی بیانات سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ صحت مند شہری ہی اپنی صلاحیتوں سے ملک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ کمزور مومن تو خدا کو بھی پسند نہیں ہے۔اس وقت صوبے میں کتنے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ کام کر رہے ہیں، کتنے ناکارہ پڑے ہیں اور مزید کتنے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ کی ضرورت ہے؟ کیا صوبے اور ملک میں کوئی ایسا ادارہ ہے جو اس اہم مسئلہ کا نوٹس لے، رپورٹ بنائے اور صوبائی حکومت کا احتساب کر سکے؟ گر اس اہم مسئلہ کا نوٹس نہیں لیا گیا تو حکمرانوں اور ارکان اسمبلی کو آلودہ پانی کے انجکشن لگانے کی عوامی مہم کا آغاز بھی کیا جا سکتا ہے#
-

سندھ میں کرونا کا زور: مزید 543 کیسزرپورٹ
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان
وزیراعلیٰ سندھ نےکورونا وائرس کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں9018 نمونوں کی جانچ کی گئی ہے- گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 543 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں- گزشتہ 24 گھنٹوں میں 29اموات ہوئیں- اموات کی مجموعی تعداد 4033 ہوچکی ہے- آج مزید 314 مریض صحتیاب ہوئے ہیں- صحتیاب افراد کی مجموعی تعداد 225297 ہوچکی ہے- اب تک 2745153 نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے- اب تک 248269 کیسزرپورٹ ہوچکے ہیں- اس وقت 18939 مریض زیر علاج ہیں- 18160 گھروں میں ،15آئسولیشن سینٹرز میں اور764 مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں- 699مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے-
71 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں- 543صوبے کے ۔نئے کیسز میں سے350 کا تعلق کراچی سے ہے-ضلع شرقی 161،ضلع جنوبی 132، ملیر 25، ضلع وسطی 22، کورنگی اور ضلع غربی میں سے 5۔ 5 نئے کیسز رپورٹ ہوئے-
حیدرآباد 42،ٹنڈو محمد خان 39، خیرپور 20،عمر کوٹ 16، گھوٹکی 14، جیکب آباد 12،ٹنڈو الہیار 11، میرپور خاص 8، سکھر 2، جامشورواور سجاول میں سے 1۔1 نئے کیسز سامنے آئے-
