Baaghi TV

Category: کراچی

  • چیئرمین واپڈا کا  واپڈا تکنیکی ٹیم کے ہمراہ گریٹر کراچی واٹر سپلائی سکیم (کے فور) کا دورہ

    چیئرمین واپڈا کا واپڈا تکنیکی ٹیم کے ہمراہ گریٹر کراچی واٹر سپلائی سکیم (کے فور) کا دورہ

    چیئرمین واپڈا کا اعلیٰ سطحی واپڈا تکنیکی ٹیم کے ہمراہ گریٹر کراچی واٹر سپلائی سکیم (کے فور) کا دورہ،چیئرمین واپڈا اور تکنیکی ٹیم کو منصوبے پر پیش رفت اور درپیش مسائل کے بارے میں بریفنگ دی گئی ،کے فور پراجیکٹ ڈیزائن، روٹ اور فعالیت کے حوالے سے سنگین تکنیکی مسائل کا شکارہے،واپڈا تکنیکی ٹیم مسائل پر تفصیلی رپورٹ بنائے گی،مسائل کے ممکنہ حل بھی تجویز کئے جائیں گے،تفصیلی رپورٹ کی روشنی میں کے فور پراجیکٹ پر عملدرآمد کا لائحہ عمل بنایا جائے گا

    تفصیلات کے مطابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (ریٹائرڈ) نے گریٹر کراچی واٹر سکیم (کے فور پراجیکٹ) کا دورہ کیا۔ واپڈا کی اعلیٰ سطحی تکنیکی ٹیم بھی اِس دورے میں اُن کے ہمراہ تھی۔ تکنیکی ٹیم واپڈا کے ماہر اور تجربہ کار انجینئر ز کے ساتھ ساتھ منصوبوں پر عملدرآمد کے ماہرین پر مشتمل تھی۔ ماہرین میں ایڈوائزر (پراجیکٹس)، جنرل منیجر(کوارڈی نیشن اینڈ مانیٹرنگ) واٹر، جنرل منیجر (سنٹرل ڈیزائن آفس)، جنرل منیجر (ہائیڈرو پلاننگ) اور جنرل منیجر(پراجیکٹس) ساؤتھ شامل تھے۔

    دورے کے پہلے مرحلے میں چیئرمین واپڈا اور اعلیٰ سطحی تکنیکی ٹیم نے ضلع ٹھٹھہ میں کینجھر جھیل پر واقع کے فور پراجیکٹ کے اِن ٹیک کا معائنہ کیا۔ جہاں حکومت سندھ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کے فور نے منصوبے کی موجودہ صورتِ حال اور اِس کی تعمیر کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ ایف ڈبلیو او کے پراجیکٹ منیجر نے منصوبے پر اب تک کی تعمیراتی پیش رفت جبکہ او سی ایل کنسلٹنٹس کے ڈائریکٹر نے منصوبے کو درپیش مسائل کے بارے میں بتایا۔

    بعد ازاں چیئرمین واپڈا ا ور پراجیکٹ سے متعلق آفیسرز نے کے فور منصوبے کے روٹ کا فضائی جائزہ بھی لیا۔دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کے فور پراجیکٹ ڈیزائن، روٹ اور فعالیت کے حوالے سے سنگین تکنیکی مسائل کا شکار ہے اور اِن مسائل کو حل کئے بغیر منصوبے پر پیش رفت نہیں ہوسکتی۔ واپڈا تکنیکی ٹیم اِس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرے گی،جس میں اِن تمام مسائل کا احاطہ کیا جائے گا اور اِن کے ممکنہ حل بھی تجویز کئے جائیں گے اور مذکورہ رپورٹ کی روشنی میں کے فور منصوبے پر عملدرآمد کے لئے
    لائحہ عمل بنایا جائے گا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ کے فور پراجیکٹ کراچی کو یومیہ 260 ملین گیلن پانی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ قبل ازیں اِس منصوبے کی تعمیر کی ذمہ داری حکومت سندھ کے پاس تھی، تاہم سندھ حکومت کے ساتھ ایک انتظام کے تحت اب یہ منصوبہ وزیر اعظم کے کراچی پیکیج کے تحت وفاقی حکومت تعمیرکررہی ہے۔ اوراس پس منظر میں وفاقی حکومت نے کے فور منصوبے پر عملدرآمد کی ذمہ داری واپڈا کو تفویض کی ہے۔

  • چرس شریف لوگ پیتے ہیں، پینے کی اجازت دی جائے،شہری سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا

    چرس شریف لوگ پیتے ہیں، پینے کی اجازت دی جائے،شہری سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چرس پینے کی اجازت لینے کے لیے شہری سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا

    سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں شہری غلام اصغر سائیں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 10 گرام تک چرس پینے کی اجازت دی جائے،

    سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہرنے درخواست پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کیسی درخواست لے کر آئے ہیں ،کیا آپ چاہتے ہیں ملک میں سب لوگ چرس پینا شروع کردیں؟۔

    عدالت نے کہا کہ بتائیں آپ پر کتنا جرمانہ عائد کیا جائے ،درخواست گزار غلام اصغر سائیں نے کہا کہ غریب آدمی ہوں مفاد عامہ کی درخواست لیکر آیا ہوں ، 10 گرام چرس رکھنے پر جرمانہ بھی ختم کیا جائے ،چرس شریف لوگ پیتے ہیں جنہیں پولیس تنگ کرتی ہے،دنیا کے بیشتر ممالک میں چرس پینے کی اجازت ہے ۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پینی ہے تو ان ممالک میں چلے جائیں یہاں اجازت نہیں ،ایسی درخواستیں عدالت میں کیوں لے کر آتے ہیں ،

    درخواست گزار نے عدالت میں کہاکہ چرس پینے کی اجازت دینے سے ملک میں کی آمدنی بڑھے گی اور ریونیو بنے گا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہیں چاہئے ایسا ریونیو ،آمدنی بڑھانے کے اوربھی جائزطریقے ہیں ۔درخواست میں وزارت قانون، وفاق اور دیگر کو فریق بنایاگیا تھا،

    عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کرمسترد کردی۔

  • آرزو راجہ  کیس: پنجاب کے صوبائی وزیر انسانی حقوق سندھ حکومت پر برس پڑے

    آرزو راجہ کیس: پنجاب کے صوبائی وزیر انسانی حقوق سندھ حکومت پر برس پڑے

    کراچی میں 13 سالہ کر سچین بچی کے اسلام قبول کرنے کے بعد 44 سالہ شخص سے نکاح کرنے کئے کیس میں پنجاب کے صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم سندھ حکومت پر برس پڑے-

    باغی ٹی وی : پنجاب کے صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم نے آرزو راجہ کیس کے حوالے سے باغی ٹی وی کے ساتھ گفگتو کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں سب سے بڑی وائلیشن سندھ حکومت سے ہوئی جہاں پر کم عمر میں شادی کا ایکٹ 2103 میں منظور ہوا لیکن سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس ایکٹ پر 7 سال سے رولز ایمڈ ریگولیشن نہیں بن سکے –

    انہوں نے کہا کہ 18 سال سے کم بچی کی شادی اور پھر اس کے بعد اہم بات یہ ہے کہ سندھ پولیس نے اس ایکٹ کے رول کو ہوا میں اڑا دیا حالانکہ وہاں 18 سال سے کم عمر کی بچی کی شادی نہیں ہو سکتی لیکن انہوں نے 13 سا ل کی بچی کی شادی کی اور پولیس نے ب فارم جوکہ نادرہ کی یہ ہماری شناخت ہے اور اگر آپ شناختی کارڈ اور ب فارم کو ریجیکٹ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پاکستان کے اداروں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں-

    پنجاب کے صوبائی وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ سندھ کی پولیس نے یہ کیا کہ بجائے وہ ان کو تحفظ دیتے انہوں نے 13 سال کی بچی اور نکاح خوان نے اس بچی کا نکاح کیا پہلے بھی اسی نکاح خوان نے نہیا نامی بچی کا اسی طرح غلط نکاح کیا جس کی وجہ سے عدالت نے اس نکاح خان کے گرفتاری کے وارنٹ نکالے اس طرح انہوں نے دوسری مرتبہ یہ وائلیشن کی ہے-

    اعجاز عالم نے کہا کہ 13 اکتوبر سے بچی کے ساتھ یہ ہوا تو سندھ حکومت کوچاہیے تھا کہ اپنا ردعمل دیتی لیکن اس واقعے کے 15 دن کے بعد ان کی پارٹی کے چئیرمین نے ٹوئٹ میں رد عمل دیا اور اس میں وہ ٹوئٹ کیا بھی اپنی ہی حکومت کے خلاف ان کی حکومت ہی نے تو یہ کام کیا ہے-

    صوبائی وزیر نے کہا کہ جب پنجاب میں زیبنب کیس ہوا تھا تو مراد علی شاہ پنجاب میں آئے تھے اور کہا تھا کہ ہم وہاں پر سندھ کے ہر ڈسٹرکٹ میں پروٹیکشن شیلٹر بنائیں گے جہاں پر ایسی بچیوں اور بچوں کو رکھا جائے لیکن ویاں پر ابھی تک پچھلے 5 سال سے 10 بائے 10 کا ایک کمرہ نہیں بنا سکے-

    اعجاز عالم نے مزید کہا کہ ابھی اگر گورنمنٹ نے ایک بازیابی کی ہے تو ایک شیلٹر روم میں بھیجا دارالامان میں کیا اگر اس طرح کے شیلٹر روم ہوتے تو اب اگر آرزو کو ریکور کرنے کے بعد ری ایپلیکیشن کے بھیجا جاتا ہے تو اسے بلاول ہاؤس میں تو نہیں بھیجیں گے آپ کے پاس اس طرح کے سینٹر ہوں گے تو اس کو وہاں بھیجا جائے گا-

    پسند کی شادی کرنے والی آرزو راجہ کا بیان سن کر عدالت نے کیا حکم دے دیا؟

    پنجاب کے صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم نے عدالت کی اس کیس میں کاگردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ معزز عدالت نے آج کی سنائی میں آرزو راجہ کا بیان لیا ہے اور اس کی میڈیگل ایگزامین کے لئے ڈاکٹروں کا ایک بورڈ بنا دیا ہے تو ہم ابھی تک تو مطمن ہیں معزز عدالت کورٹ کے کہ وہ کس طرح یہ کورٹ سندھ ہائی کورٹ میں چل رہا ہے تو ہم مطمن ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس طرح یہ چھوٹی عمر میں شادی کو دیکھتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کی زبردست قسم کی پروٹیکشن ملے-

    واضح رہے کہ عدالت نے آرزو راجہ نے عدالت میں بیان میں کہا ہے کہ اس کی عمر 18 سال ہے اور اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر کے نکاح کیا ہے اور اسے اس کے شوہر کے ساتھ رہنے دیا جائے جائے جس پر عدالت نے آرزو راجہ کی عمر کے تعین کیلئے میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آرزو کو لیڈی پولیس کی تحویل میں طبی معائنہ کیلئے لے جایا جائے،عدالت نے سیکرٹری ہیلتھ کو میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیدیا،کیس کی مزید سماعت9 نومبر تک ملتوی کردی گئی ۔عمر کے تعین تک درخواست گزار شیلٹر ہوم میں رہیں گی

    آرزو اغوا یا قبول اسلام معمہ الجھ گیا لاہور احتجاج میں کر دی بڑی ڈیمانڈ

    واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے سندھ حکومت آرزو راجہ کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے عدالت سے رجوع کرے گی۔

    بلاول نے کہا کہ آرزو راجہ کیس میں اگر معزز عدالت کو شبہات ہیں تو انہیں دور کیا جائے گا، سندھ حکومت اپنے دائرہ کار میں انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کم عمری میں شادی سے متعلق قانون پر عمل درآمد کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔

    دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے شواہد بتارہے ہیں کہ آرزو راجہ کم عمر ہے، اس کی شادی اور مذہب کی تبدیلی جبری طور پر کرائی گئی ہے، یہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ۔

    خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرے شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کے کیس میں پولیس کو آرزو فاطمہ کے شوہر علی اظہر اور اس کے اہل خانہ کی گرفتار سے روک دیا۔

    پسند کی شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کیس میں عدالت کا بڑا حکم

    درخواست گزار آرزو نے مؤقف اختیا کیا تھا کہ ‘میرا تعلق عیسائی گھرانے سے تھا مگر بعد میں اسلام قبول کرلیا اور نام آرزو فاطمہ رکھا، میں نے اپنے گھر والواں کو بھی اسلام قبول کرنے کا کہا مگر انہوں نے انکار کردیا جبکہ میں نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے-

    آرزو نے بتایا کہ اپنی مرضی سے علی اظہر سے پسند کی شادی کی ہے، پسند کی شادی کرنے پر میرے والد نے میرے شوہر کی پوری فیملی کے خلاف مقدمہ درج کرادیا ہے مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔

  • پسند کی شادی کرنے والی آرزو راجہ کا بیان سن کر عدالت نے کیا حکم دے دیا؟

    پسند کی شادی کرنے والی آرزو راجہ کا بیان سن کر عدالت نے کیا حکم دے دیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں اسلام قبول کرکے پسند کی شادی کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی،

    آرزو اور علی اظہر کو عدالت میں پیش کردیا گیا،آرزو راجہ نے اپنا بیان دہراتے ہوئے کہا کہ میں نے مرضی سے نکاح کیا ہے،میری عمر 18 سال ہے،عدالت نے کہا کہ دستاویزات کے مطابق آپ کی عمر 18 سال سے کم ہے ،جسٹس کے کے آغا نے کہاکہ میڈیکل بورڈ بنے گا وہ آپ کی عمر کا فیصلہ کرے گا۔

    بیرسٹر صلاح الدین نے وفاقی وزیرشیریں مزاری کی طرف سے وکالت نامہ جمع کرا دیا،وکیل نے کہا کہ لڑکی کہہ چکی ہے اسے اغوا نہیں کیا گیا،عدالت نے آرزو سے استفسار کیا آپ کو کسی نے اغوا کیا ہے؟، آرزو نے کہا کہ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا مجھے شوہر سے دور نہ کریں ، جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ ہم سٹیپ بائی سٹیپ چلیں گے کسی جلدی میں نہیں ۔

    جبران ناصر وکیل والدین نے عدالت میں کہا کہ لڑکی کی عمر کا تعین ضروری ہے،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ گزارش ہے چیمبر میں بھی لڑکی کا بیان ریکارڈ کیا جائے، عدالت نے کہا کہ ہم باریک بینی سے جائزہ لیں گے اور جانچ کرائیں گے ، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ لڑکی کا بیان ریکارڈ نہ کیا جائے، وہ کم عمر ہے ،جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ اگر وہ 18 سال کی ہے تو اس کا حق ہے جس کے ساتھ رہے ،اس نے خود کہا ہے اسے اغوا نہیں کیا گیا۔

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہمارا کیس یہاں صرف ایف آئی آر ختم کرنے کا تھا جس پر عدالت نے کہا کہ اب معاملہ کچھ اور ہے ہمیں لڑکی کی عمر دیکھنی ہے

    عدالت نے آرزو راجہ کی عمر کے تعین کیلئے میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آرزو کو لیڈی پولیس کی تحویل میں طبی معائنہ کیلئے لے جایا جائے،عدالت نے سیکرٹری ہیلتھ کو میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیدیا،کیس کی مزید سماعت9 نومبر تک ملتوی کردی گئی ۔عمر کے تعین تک درخواست گزار شیلٹر ہوم میں رہیں گی

    واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے سندھ حکومت آرزو راجہ کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے عدالت سے رجوع کرے گی۔

    بلاول نے کہا کہ آرزو راجہ کیس میں اگر معزز عدالت کو شبہات ہیں تو انہیں دور کیا جائے گا، سندھ حکومت اپنے دائرہ کار میں انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کم عمری میں شادی سے متعلق قانون پر عمل درآمد کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔

    دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے شواہد بتارہے ہیں کہ آرزو راجہ کم عمر ہے، اس کی شادی اور مذہب کی تبدیلی جبری طور پر کرائی گئی ہے، یہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ۔

    خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرے شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کے کیس میں پولیس کو آرزو فاطمہ کے شوہر علی اظہر اور اس کے اہل خانہ کی گرفتار سے روک دیا۔

    درخواست گزار آرزو  نے مؤقف اختیا کیا تھا کہ ‘میرا تعلق عیسائی گھرانے سے تھا مگر بعد میں اسلام قبول کرلیا اور نام آرزو فاطمہ رکھا، میں نے اپنے گھر والواں کو بھی اسلام قبول کرنے کا کہا مگر انہوں نے انکار کردیا جبکہ میں نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے.

    آرزو اغوا یا قبول اسلام معمہ الجھ گیا لاہور احتجاج میں کر دی بڑی ڈیمانڈ

    آرزو  نے بتایا کہ اپنی مرضی سے علی اظہر سے پسند کی شادی کی ہے، پسند کی شادی کرنے پر میرے والد نے میرے شوہر کی پوری فیملی کے خلاف مقدمہ درج کرادیا ہے مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔

    پسند کی شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کیس میں عدالت کا بڑا حکم

  • کورونا وائرس ،سندھ حکومت نے شہریوں کو خبردار کر دیا

    کورونا وائرس ،سندھ حکومت نے شہریوں کو خبردار کر دیا

    سندھ میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز، حکومت سندھ نے ایک بار پھر شہریوں کو خبردار کردیاسندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے اہم ویڈیو بیان جاری کر دیا ،کورونا وائرس کے پیش نظر رواں برس مارچ میں سندھ حکومت نے اہم فیصلے کئے۔ فیصلوں پر عملدرآمد میں شہریوں نے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا۔

    تمام افرد کے تعاون کی وجہ سے سندھ میں کورونا کیسز کی شرح ایک فیصد تک محدود رہی۔لیکن اسکے بعد شہریوں میں ایک تاثر اُبھرا کے کورونا پاکستان سے ختم ہوگیا ہے۔ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کورونا ابھی بھی پاکستان بھر میں موجود ہے۔تشویشناک بات یہ ہے کہ کورونا کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    گزشتہ روز سندھ میں کورونا کے کیسز کی شرح بڑھ کر ساڑھے چھ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    خدارا ہمیں احتیاط برتنے کی سخت ضرورت ہے۔
    گھروں سے نکلے وقت ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ ضرور برقرار رکھیں۔سرد موسم میں نزلہ زکام اور کھانسی کی شکایات عام ہورہی ہیں۔ایسے میں اپنی حکومت کے ساتھ پہلے جیسا تعاون کرتے ہوئے ماسک کا ضرور استعمال کریں۔ اپنے چہرے منہ اور ناک کو ماسک یا کپڑے سے ضرور ڈھانپیں۔ دفاتر، تجارتی مراکز، شادی بیاہ کی تقریبات، ریستوران اور رش والے مقامات پر سماجی فاصلہ اور ماسک کا استعمال ناگزیر ہے۔

  • کراچی پولیس نے بلڈر کے بیٹے  کے اغواءکا معمہ حل کر لیا

    کراچی پولیس نے بلڈر کے بیٹے کے اغواءکا معمہ حل کر لیا

    کراچی (باغی ٹی وی )گلشن معمار سے بلڈر کے بیٹے عادل ولد تاج عالم کے اغواء ہونے کا معاملہ،پولیس نے عادل کو بلوچستان کے علاقے چھٹ پٹ سے ڈھونڈ نکالا۔

    پولیس نے والد کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کیخلاف اغواء کا مقدمہ نمبر 507/2020 درج کیا تھا۔عادل ولد تاج عالم نے اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر جانے کا اعتراف کیا۔

    عادل پوری منصوبہ بندی سے پہلے کوئٹہ گیا اور وہاں سے جھٹ پٹ کے علاقے میں قیام کیا۔پولیس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے عادل کی مانیٹرنگ کرتی رہی۔عادل نے جھٹ پٹ پہنچ کر اپنے کزن سے رابطہ کیا اور اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔

    عادل کے گھر والوں نے رابطے کے متعلق پولیس کو آگاہ کیا۔ایس ایچ او گلشن معمار فوری بلوچستان کے علاقے جھٹ پٹ روانہ ہوئے اور عادل کو کراچی لے آئے۔پولیس مزید ضابطے کی کارروائی مکمل کر رہی ہے

  • حکومت کو ڈھائی سال ہوگئے انکی الیکشن کمپین اب تک ختم نہیں ہوئی،مصطفیٰ کمال برس پڑے

    حکومت کو ڈھائی سال ہوگئے انکی الیکشن کمپین اب تک ختم نہیں ہوئی،مصطفیٰ کمال برس پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اب حکومت کے ساتھ اپوزیشن پارٹیوں سے بھی عوام نا امید ہیں،

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اپوزیشن یا انکے کسی بندے کو برا بھلا کہنا حکومتی وزرا کا کام بن گیا ہے ،حکومت کو ڈھائی سال ہوگئے انکی الیکشن کمپین اب تک ختم نہیں ہوئی،جلسے جلوس ہورہے ہیں اور وفاقی حکومت کو ناجائز اور نااہل کہتے ہیں،ملک کا نظام اس طرح دیر تک نہیں چل سکتا، پاکستان اسوقت سٹیٹس کو شکار ہو گیا ہے، میرے نزدیک اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس سے امید چھین لو،سیلاب کی تباہی بربادی کے ایک ماہ بعد گیارہ جماعتوں نے جلسہ کیا،

    مصطفیٰ کمال کامزید کہنا تھا کہ حالات اتنے برے ہیں کہ عدالتیں فیصلہ دے رہی ہیں کہ اب اگر کسی ڈسٹرکٹ میں کتے نے کسی کو کاٹا تو ایف آئی آر ڈی سی کے خلاف کٹے گی۔ عوام بدترین حال میں رہنے پر مجبور ہیں،بنیادی انسانی حقوق میسر نہیں۔ حکمران صرف کرپشن میں سرگرم ہیں۔

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ کراچی والو باہر نکلو ورنہ تمھاری نسلوں کو یہ گدھ نوچتے رہیں گے ،کراچی کے نظام کو تعلیمی اداروں کو سرکاری ہسپتالوں میں بہترین علاج کے لیئے مہنگائی کے خلاف اٹھو اے کراچی والوں اس جلسے میں بھرپور شرکت کرو اپنی فیملی کے ساتھ شرکت کرو یہ جلسہ تمھارا اپنا جلسہ ہے،8 نومبر کو باغ جناح کے عوامی جلسے میں بھرپور شرکت کریں

    کراچی کی عوام کو ایک قطرہ پانی کا نہ دینے والے انقلاب لانے کی بات کر رہے ہیں، مصطفیٰ کمال برس پڑے

  • پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، دو ڈاکو ہلاک

    پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، دو ڈاکو ہلاک

    سکھن، لیبر اسکوائر میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے دو ڈاکو موقع پر ہلاک ہو گئے تفصیلات کے مطابق

    ایک ہلاک ڈاکو کی شناخت شاہنواز کے نام سے کر لی گئی۔ہلاک ڈاکو پیشہ ور مجرم تھا۔
    ہلاک ملزم شاہنواز کا کریمنل ریکارڈ حاصل کر لیا گیا۔

    ملزم شاہنواز ڈکیتی اور راہزنی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا۔

    ملزم کیخلاف تھانہ جمشید کواٹر میں مقدمہ نمبر 313/2009 ڈکیتی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ہلاک ملزم کیخلاف تھانہ گزری اور شاہ فیصل میں بھی متعدد مقدمات درج ہیں۔

    ہلاک ملزم متعدد بار گرفتار ہو کر جیل جا چکا تھا۔
    ملزم شاہنواز ساتھی کیساتھ ملکر شہر بھر میں ڈکیتی اور چھینا جھپٹی کی وارداتیں کرتا تھا۔

    جبکہ دوسرے ہلاک ڈاکو کی شناخت کا عمل جاری ہے۔برآمد اسلحہ فارنزک کیلئے روانہ کر دیا گیا

  • کراچی میں بھتہ حوروں نے پھر سر اٹھا لیا،پولیس بے بس

    کراچی میں بھتہ حوروں نے پھر سر اٹھا لیا،پولیس بے بس

    کراچی میں قانون کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی، بھتہ خوری ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے، کیبل نیٹ کا کاروبار کرنے والے شہری کو بوری میں بند کرے کی دھمکی مل گئی۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی آپریشن کے بعد روپوش متحدہ لندن کے مبینہ بھتہ خوروں نے پھر سر اٹھا لیا، شہرِ قائد کے علاقے محمود آباد کے رہائشی اسکائی انٹرنیٹ کیبل کا کاروبار کرنے والے افضل خان کا کہنا ہے کہ متحدہ لندن کے بھتہ خوروں شہروز نواب، عمران ملک عرف مانی اور عدنان قریشی عرف ببلو نے مجھے بھتہ نہ دینے پر بوری میں بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔

    افضل خان کا کہنا ہے کہ مجھے دھمکی دی گئی کہ اگر کام بند نہیں کیا تو بوری میں بند ہونے کیلئے تیار ہوجاؤ، جس پر میں نے بلوچ کالونی تھانے سے متعدد بار رابطہ کیا لیکن مجھے کوئی مدد نہ مل سکی۔ افضل خان نے ایس ایس پی ایسٹ کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے درخواست جمع کرادی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے پیر کے روز ایس ایس پی ایسٹ نے طلب کیا ہے۔ امید کرتا ہوں کہ انصاف ضرور ملے گا۔

    متاثرہ شہری افضل خان کے مطابق 9 ماہ قبل بھی ان سے 1 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا گیا جس پر انہوں نے 50 ہزا روپے ادا کیے تھے مگر اب کاروبار بند کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ اسکائی انٹرنیٹ کیبل ہم خود چلائیں گے۔ یہ چاہتے ہیں کہ میں انہیں خود زیادہ سے زیادہ رقم کی پیشکش کروں۔ میں اتنی بڑی رقم کہاں سے لاؤں گا۔ افضل خان نے اعلیٰ حکام سے انصاف فراہم کرنے کیلئے اقدامات کی اپیل کی ہے۔

  • پسند کی شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کیس میں عدالت کا بڑا حکم

    پسند کی شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کیس میں عدالت کا بڑا حکم

    پسند کی شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کیس میں عدالت کا بڑا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ،پسند کی شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے پولیس کو آرزو فاطمہ کو بازیاب کراکے دارلامان بھیجنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے آئی جی سندھ اور دیگر کو 5 نومبر کےلیے نوٹس جاری کردیئے

    جسٹس امجد سہتو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم قانون کے مطابق چلیں گے عدالت جذباتی نہیں ہوتی، یہاں قانون موجود ہے کوئی کم عمری کی شادی نہیں ہوسکتی ،اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی ہوگی تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پہلے لڑکی بازیاب ہوجائے پھر میڈیکل کا حکم دے سکتے ہیں ،لڑکی کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے، لڑکی کی بازیابی کے بعد دیگر امور کا جائزہ لیا جائے گا ،

    https://twitter.com/RegnlTelegraph/status/1323122389929070597

    واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے سندھ حکومت آرزو راجہ کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے عدالت سے رجوع کرے گی۔

    بلاول نے کہا کہ آرزو راجہ کیس میں اگر معزز عدالت کو شبہات ہیں تو انہیں دور کیا جائے گا، سندھ حکومت اپنے دائرہ کار میں انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کم عمری میں شادی سے متعلق قانون پر عمل درآمد کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔

    دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے شواہد بتارہے ہیں کہ آرزو راجہ کم عمر ہے، اس کی شادی اور مذہب کی تبدیلی جبری طور پر کرائی گئی ہے، یہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ۔

    خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرے شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کے کیس میں پولیس کو آرزو فاطمہ کے شوہر علی اظہر اور اس کے اہل خانہ کی گرفتار سے روک دیا۔

    درخواست گزار آرزو  نے مؤقف اختیا کیا تھا کہ ‘میرا تعلق عیسائی گھرانے سے تھا مگر بعد میں اسلام قبول کرلیا اور نام آرزو فاطمہ رکھا، میں نے اپنے گھر والواں کو بھی اسلام قبول کرنے کا کہا مگر انہوں نے انکار کردیا جبکہ میں نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے.

    آرزو  نے بتایا کہ اپنی مرضی سے علی اظہر سے پسند کی شادی کی ہے، پسند کی شادی کرنے پر میرے والد نے میرے شوہر کی پوری فیملی کے خلاف مقدمہ درج کرادیا ہے مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔

     

    آرزو اغوا یا قبول اسلام معمہ الجھ گیا لاہور احتجاج میں کر دی بڑی ڈیمانڈ