کراچی ملک کا ایک یتیم اور لاوارث شہر ہے۔گزشتہ ہفتہ چند دنوں کی تیز بارش سے شہرمیںجوبربادی ہوئی ٹیلی ویژن چینل صبح شام دکھاتے رہے۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنی حالت ِزار کی ویڈیوز نشر کرتے رہے۔ یہ اس شہر کا حال ہے جو وفاقی حکومت کی آمدن کا تقریباً نصف مہیا کرتا ہے اور سندھ حکومت کے محصولات کا نوّے فیصدلیکن بارش کی صورت میں نکاسئی آب کے انتظام سے محروم ہے۔ کراچی کے محنت کش عوام کماتے ہیں جس پر جاگیردار‘ وڈیر ے عیش کررہے ہیں لیکن شہر کے باشندوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ نہ صاف پانی ضرورت کے مطابق دستیاب ہے‘ نہ نکاسئی آب‘ نہ کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا بندوبست ہے ‘ نہ پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظام۔ آدھا شہر کچی آبادیوں میں مقیم ہے۔ یہ کہنا کہ کراچی سمندر کے کنارے آباد ساحلی شہرہے آدھا سچ ہے۔ اب یہ شہرشمال اور مغرب کی جانب اتنا پھیل گیا ہے کہ اسکا بہت سا حصّہ سمندر کے کنارے واقع نہیں ہے بلکہ دُور واقع کیر تھرپہاڑیوں کے کنارے کو چُھو رہا ہے۔ ان پہاڑیوں میں قدرت نے ہزاروں برس میں پانی کے نکاسی کے راستے بنائے ہوئے ہیں۔ جب بارش ہوتی ہے تو پہاڑیوںسے پانی ان راستوں سے بہہ کر نیچے آتا ہے یعنی سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقہ میں جو کراچی کا مغربی علاقہ ہے۔ یہ برساتی نالے ملکر ہی شہر کی دو ندیاں بناتے ہیں جنہیں لیاری اور ملیر ندی کہا جاتا ہے۔ یہ ندیاں پانی لیکر سمندر میں گرتی ہیں۔ ان قدرتی نالوں کے راستوں میں رہائشی کالونیاں بن چکی ہیں جنکے ساتھ نکاسئی آب کی غرض سے ڈرین نہیں بنائے گئے۔ ان قدرتی برساتی نالوں اور ندیوں سے ریت نکالی جاتی ہے جس سے تعمیرات کی جاتی ہیں۔اس لئے ان ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ مزید تیز ہوگیا ہے جو شہر کا رُخ کرلیتا ہے۔ ماہر تعمیرات اور اربن پلانرعارف حسن صاحب کے مطابق شہر میںچونسٹھ پینسٹھ بڑے نالے ہیں اور ہزاروں چھوٹے چھوٹے نالے ہیں۔لیکن ہاؤسنگ سوسائٹیاں بناتے ہوئے ان نالوں کو محفوظ نہیں کیا گیا بلکہ ان پر تعمیرات کرلی گئیں۔ پانی کے بہہ جانے کے قدرتی راستے مسدود کردیے گئے۔ چھوٹے چھوٹے نالے غائب ہوگئے۔اس پر مستزاد سڑکوں کے ساتھ بنائی جانے والی ڈرین ندیوں میں نہیں گرتیں جس کی وجہ سے بالآخر انکا پانی سڑکوں پر بہنے لگتا ہے۔جب زیادہ مینہ برستا ہے تو شہر کی سڑکیں برساتی نالوںمیں تبدیل ہوجاتی ہیں جسکا مظاہرہ ہم نے چند دنوں پہلے دیکھا ۔ 1960کی دہائی تک کراچی کاسرکاری ترقیاتی ادارہ (کے ڈی اے) اپنی اسکیموں میں گھروں کا گندہ پانی (سیویج) اور برساتی پانی کے نکاس کے لیے الگ الگ نظام بناتا تھا۔ تاہم نجی ہاوسنگ اسکیموں نے اپنے سیویج بڑے برساتی نالوں میں ڈالنے شروع کردیے۔ بعد میں کے ڈی اے نے بھی ایسا کرنا شروع کردیا۔ اب شہر کا بیشتر سیوریج برساتی نالوں میں جاتا ہے۔ سیوریج کا فضلہ برساتی نالوں میں جمتا ہے لیکن ان کی باقاعدگی سے صفائی نہیں کی جاتی کہ پانی کا بہاؤ ہوتا رہے۔ کچھ عرصہ پہلے عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک نے کراچی میں نکاسئی آب کے لیے اچھی خاصی فنڈنگ کی تھی لیکن وہ بھی ناقص فالو اَپ کی نذر ہوگئی۔اس وقت حالت یہ ہے کہ ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی جو کراچی شہر میں سب سے زیادہ ٹیکس جمع کرتی ہے اپنے رہائشیوں کونکاسئی آب کی مناسب سہولت تک مہیا نہیں کرسکتی۔ حقیقت یہ ہے کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ کالونی ایک بڑے برساتی نالہ کے راستے میں بنائی گئی ہے جو پانی کے سمندرمیں نکاس کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی طرح کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ہاؤسنگ سوسائٹی بھی ایک بڑے قدرتی نالہ کا بہاؤ روکتی ہے۔ مائی کلاچی بائی پاس ایک بڑے نالے کے راستے میں تعمیر کیاگیا ہے۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ نالوں میںکی گئی ناجائز تجاوزات نے پوری کردی۔ کراچی کے بڑے نالوں کے بیچوں بیچ مکان اور دکانیں بنائی گئی ہیں۔پانی کیسے سمندر میں جائے؟شہر کے تین بڑے نالوں کا راستہ صاف کرنے کے لیے کم سے کم اسیّ ہزار مکانات منہدم کرنا پڑیں گے ۔جب یہ سب غیر قانونی کام ہورہا تھا تو حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے یاان کاموں میںشریک کار تھے۔ حال ہی میں نیا ناظم آباد کے نام سے ایک نئی پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیم بنائی گئی جہاں بارش میں مکانات نو دس فٹ پانی میں ڈوب گئے۔ اس کالونی میںبرساتی پانی کے نکاس کے لیے کوئی ڈرین نہیں بنائی گئی۔ لوگوں کی کروڑوں روپے کی جائیداد تباہ ہوگئی۔ اس ناقص ہاؤسنگ اسکیم کو بنانے والے اور اسکی منظوری دینے والے دونوں قصور وار ہیںلیکن بااثر لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کراچی شہر کی بیس سے زیادہ بڑی سڑکیں ہیں جس کے ارد گرد بڑے بڑے بنگلے تھے لیکن انہیں کسی منصوبہ بندی کے بغیر تجارتی علاقہ بنادیا گیا۔ اب وہاں بڑے بڑے پلازے ‘ شاپنگ مالز ہیں۔ جہاں چند سو لوگ رہتے تھے وہاں ہزاروں لوگ بزنس کرتے ہیں ۔ لاکھوں لوگ آتے جاتے ہیں۔ یہ نہیں سوچا گیا کہ زیادہ لوگوں کے لیے استعمال کا پانی‘ نکاسئی آب کا بندوبست کیسے ہوگا اور ٹریفک کا ہجوم کیسے قابو کیا جائے گا۔ پارکوں کی کچی زمین پانی جذب کیا کرتی تھی وہاںچائنہ کٹنگ کرکے مکانات بنادیے گئے۔ ناجائز تجاوزات اور تجارتی علاقے قرار دیے جانے کے کام ایم کیو ایم نے انجام دیے۔ شہر کی تباہی میں وہ برابر کی ذمہ دار ہے۔ کراچی کے انفراسٹرکچر میں گزشتہ با رہ برسوں میں بہت کم سرمایہ کاری کی گئی۔ پیپلز پارٹی جب اقتدار میں آتی ہے‘ کراچی شہر کو نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ اسے یہاں سے ووٹ نہیں ملتے۔ اس بار تواسکے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری لیاری کی پکی سمجھے جانے والی اپنی خاندانی نشست سے بھی ہار گئے تو جذبہ انتقام اور بھی زیادہ ہے۔ رواں مالی سال کراچی شہر سے سندھ حکومت کو سوا تین سو ارب روپے کی آمد ن متوقع ہے لیکن سالانہ ترقیاتی بجٹ میں اسکے لیے صرف پچیس تیس ارب روپے کی اسکیمیںمختص ہیں۔ حالانکہ اس شہر کے بنیادی مسائل حل کرنے کی خاطر سالانہ ڈیڑھ دو سو ارب روپے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ کراچی شہرسے کما کر اپنی جھولیاں بھرنے والے بہت ہیں لیکن اس پر خرچ کرنے والا کوئی نہیں۔ بارش کے بعد جب بھی شہر میں سیلاب آتا ہے چند روزاسکا اثر رہتا ہے۔ موجودہ حالات میں بہتری کے لیے کوئی ٹھوس کام ہوجائے تو معجزہ ہی ہوگا۔ ٭٭٭٭٭
Category: کراچی
-

وزیراعلیٰ سندھ کی ورلڈ بینک سے تعاون کی اپیل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ورلڈ بینک کے نئے کنٹری ڈائریکٹر ناجی بین ہیسین نے ویڈیو لنک کے ذریعے ملاقات کی ہے.
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ورلڈ بینک کنٹری ڈائریکٹر فار پاکستان نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے ملاقات کی، وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ چیئر مین پی اینڈ ڈی محمد وسیم ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی شریک تھے
ورلڈ بینک کنٹری ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ہم سندھ کے ساتھ پارٹنر شپ کو اہمیت دیتے ہیں ؛ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کے ساتھ آبپاشی کے پروجیکٹس کیے ؛ کراچی ٹرانسفارمیشن اسٹریٹیجی پروجیکٹس شروع ہوگیا ہے ؛ کراچی میں اگست کی بارشوں نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے ؛ اوسطاً 200 ایم ایم بارشی ہوئی ہے ؛
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ شدید بارشوں نے شہر کے انفرااسٹرکچر کو بے حد نقصان پہنچایا؛ کراچی کے علاوہ میرپورخاص ، بدین ، سانگھڑ اور عمر کوٹ میں بھی بارشوں نے تباہی مچاہی ہے؛زراعت تباہ ہوگئی ہے ؛ ہم چاہتے ہیں ورلڈ بینک سندھ حکومت کے ساتھ انفرااسٹرکچر کی تعمیر ِ نو میں تعاون کرے؛دیہی علاقوں میں بھی انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے مدد کرے ؛
وزیراعلیٰ سندھ نے ورلڈ بینک کو کراچی کی اربن پراپرٹی سروے کرنے کے لیے درخواست کی؛ چیئرمین پی اینڈ ڈی نے کہا کہ کراچی کو فوری بریگیڈ سروس اور ایمبولینس سروس کی ضرورت ہے ؛وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ورلڈ بینک تعاون کرے؛
ورلڈ بینک نے سندھ حکومت کو ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کروا دی
-

کراچی : ندی نالوں پر تجاوزات کے خلاف آپریشن ، مکینوں کا شدید احتجاج
کراچی میں ندی نالوں پر تجاوزات کے خلاف آپریشن ، مکینوں کا شدید احتجاج
باغی ٹی وی : کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے اعلان کے بعد لیاقت آباد ایف سی ایریا میں گھر خالی کرنے کے اعلانات پر علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا۔
ڈی سی سینٹرل نے صبح سات بجے تک گھر خالی کرانے کا اعلان کیا جس کے خلاف علاقے کے افراد نے مظاہرہ کیا اور ناظم آباد اور لیاقت آباد کے درمیان ٹریفک معطل کر دی۔پولیس اور سندھ حکومت نے بعد میں واضح کیا کہ آپریشن رہائشی نہیں کمرشل تجاوزات کے خلاف کیا جائے گا جس پر مظاہرین منتشر ہوئے اور ٹریفک بحال کیا گیا۔
احتجاج ہوتے ہی سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ کسی کا گھر نہیں گرایا جائے گا، آپریشن کمرشل تجاوزات کے خلاف کیا جا رہا ہے.کراچی میں لیاقت آباد ایف سی ایریا میں علاقہ مکینوں کو گھر خالی کرنے اور انہیں مسمار کرنے کے معاملے پر سیاسی جماعتوں نے اظہار تشویش کیا ہے۔ترجمان ایم کیوایم پاکستان نے کہا ہے کہ کراچی میں نالوں کے اطراف اور دیگر سرکاری املاک پر رہائش پذیر عوام کو متبادل جگہ فراہم کرنا ریاست کا فرض ہے۔
ترجمان نے کہا کہ جس طرح لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر سے پہلے بھی متاثرین کو زر تلافی اور متبادل جگہ فراہم کی گئی تھی اسی طرح نالوں کے اطراف رہائش پذیر خاندانوں کو بے گھر کرنے سے پہلے انہیں کم از کم متبادل جگہ فراہم کرنے کے بعد ہی تعمیرات توڑنے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔
پاک بحریہ کا کراچی میں بارش سے متاثرہ علاقوں میں سرچ ، ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن
کراچی بارش، وزیراعلیٰ سندھ کا پھنسے شہریوں کو سکولوں میں منتقل کرنے کا حکم
کراچی میں بارش سے نقصان پر وزیراعظم کا تشویش کا اظہار، گورنر سندھ کو دیا بڑا حکم
بلوچستان میں بارشوں سے زمینی رابطے منقطع،بچہ ڈوب کا جاں بحق،9 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ
حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک
کراچی میں بارش کے باعث مختلف سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار
کراچی،بارش کا پانی سرکاری عمارتوں میں داخل،الخدمت کی امدادی سرگرمیاں جاری
واضح رہے کہ کراچی میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی جس کے باعث نظام زندگی مکمل طورپردرہم برہم ہوگیا۔ شہرمیں متعدد سڑکیں اورشاہراہیں ایک بار پھر تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سندھ رینجرز کا کہنا ہے کہ شہری مدد کے لیے 1101 ہیلپ لائن یا 9001111-0347 پر بذریعہ واٹس ایپ رابطہ کریں۔ سندھ رینجرزکی جانب سے ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری ہے جب کہ رینجرز متاثرہ علاقوں میں خوراک کی فراہمی کے لیے این جی اوز کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔
آپ کی تجاوزات سے شہر ڈوب رہا ہے،وزیراعلیٰ سندھ شہریوں پر برس پڑے
-

کراچی میں گجر نالے پر قائم تجاوزات کے خلاف آپریشن کی تیاریاں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں گجر نالے پر قائم تجاوزات کے خلاف آپریشن کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ،آپریشن میں پاک فوج اور رینجرز کی ٹیمیں بھی شامل ہوں گی۔
اطلاعات کے مطابق شہر کے بارہ مقامات پر گرینڈ آپریشن کے ذریعے تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا،گجر نالے کے تین، لیاری ندی کے دو،اورنگی نالے کے تین،ملیر ندی میں دو جبکہ محمود آباد نالے کے اطراف دو مقامات پر تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا۔
حکام نے گجر نالے پر قائم تجاوزات کے خلاف آپریشن کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلے مرحلے میں کمرشل تجاوزات یعنی باڑے، دکانیں اور دیگر تجاوزات کے خلاف آپریشن ہوگا،دوسرے آپریشن میں کیفے پیالہ سے تین ہٹی تک تجاوزات ختم کی جائیں گی جبکہ تیسرا آپریشن نیو کراچی نالے پر کیا جائے گا۔بہت ہو گیا، اب ریلوے کو ٹھیک کرنا ہو گا، شیخ رشید کی اجلاس میں افسران کو ہدایت
آپ کی حکومت کے پاس جو بھی کام جاتا ہے وہ لامحدود مدت کے لیے ہوتا ہے ،چیف جسٹس کے ریمارکس
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری، چیف جسٹس کا اہم شخصیت کیخلاف مقدمہ درج کرنیکا حکم
کراچی گوٹھ بن چکا،حکومت کی ناکامی کے نتائج بہت خطرناک ہوں گے،چیف جسٹس کے ریمارکس
کراچی میں نالوں کی صفائی، سپریم کورٹ نے این ڈی ایم اے کو بڑا حکم دے دیا،کہا مزید ذمہ داری بھی دیں گے
لوگ مرتے ہیں، یہ جا کر ضمانت کرا لیتے ہیں،لوگوں کو ان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔ چیف جسٹس
امریکی ایمبیسی کو نہ جانے کس بات کا خطرہ تھا،کراچی میں یہ کام کریں، چیف جسٹس کا حکم
دو تین نالے صاف کرکے آپ کہتے ہیں کراچی کا مسئلہ حل ہوگیا؟ چیف جسٹس نے سندھ حکومت کی استدعا کی مسترد
حکام کا کہنا ہے کہ بیک وقت تین مقامات پر تجاوزات کے خلاف ایک ساتھ آپریشن ہوگا یہ ۤآپریشن کیفے پیالہ سے شروع ہوگا اور ضیاالدین اسپتال تک تجاوزات مسمار کریں گے۔ آپریشن میں پاک فوج اور رینجرز کی ٹیمیں بھی شامل ہوں گی اس کے ساتھ ساتھ شہری انتظامیہ کے نمائندے بھی آپریشن میں شریک ہوں گے۔
متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اینٹی انکروچمنٹ مہم کی نگرانی کریں گے،گرینڈ آپریشن کیلئے بارہ ایکسیویٹرز بھی منگوالیے گئے ہیں،تمام ایکسیویٹرز کے ساتھ جیک ہیمرلانا لازمی ہوگا،آپریشن کے دوران ندی نالوں کے دونوں اطراف تیس فٹ کی جگہ کلیئر کی جائے گی،تجاوزات پر رہائش پذیر افراد کے لئے عارضی کیمپس بنائے جائیں گے۔
ریلوے ٹریک ڈیتھ ٹریک بن چکا، سیکرٹری ، سی ای او اور تمام ڈی ایس فارغ کرنا پڑیں گے، چیف جسٹس
الیکشن سے پہلے جھاڑو پھر جائے گا،پاکستان بدلنے جا رہا ہے، شیخ رشید
دوسری جانب ضلع وسطی میں غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے،ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی کے مطابق آپریشن دو مراحل پر مشتمل ہے،پہلے مرحلے میں کمرشل سرگرمیوں کیلئے قائم غیر قانونی کا خاتمہ کیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں غیرقانونی مکانات کوخالی کرایا جائے گا،ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ مکینوں کو بے گھر نہیں کرینگے،رہائشیوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کے بعد ہی آپریشن کا دوسرا مرحلہ شروع کیا جاے گا
وفاقی حکومت کی اگر کے الیکٹرک پر رٹ نہیں تو پورے ملک پر نہیں،کیا پاکستان ایسے چلے گا؟ چیف جسٹس
-

پاک بحریہ کا کراچی کے بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک بحریہ کا کراچی کے بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے
ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاک بحریہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے کورنگی کاز وے پر ڈوب جانے والے افراد کی تلاش کے لئے سرچ آپریشن کیا،پاک بحریہ کی ریسکیوٹیموں نے کراچی کے مختلف علاقوں میں محصور افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا.
ترجمان پاک بحریہ کے مطابق یوسف گوٹھ, سرجانی ٹاؤن,ناظم آباد اور دیگر متاثرہ علاقوں کے ہزاروں افراد کو تیار کھانا اور پینے کا صاف پانی فراہم کیا گیا.پاک بحریہ کی میڈیکل ٹیموں نے مختلف علاقوں میں محصور سینکڑوں افراد کو طبی امداد بھی فراہم کی،متاثرہ علاقوں میں امدادی آپریشن کے دوران اقدامات کی بہتری کے لئے مختلف علاقوں کا فضائی جائزہ لیا گیا.
کراچی میں بارش، سڑکیں تالاب بن گئیں، انڈرپاسز بند، حب ڈیم بھر گیا،پانی گھروں میں داخل
بلوچستان میں بارشوں سے زمینی رابطے منقطع،بچہ ڈوب کا جاں بحق،9 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ
حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک
بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی
دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے
ترجمان پاک بحریہ کے مطابق میر پور بٹھورو میں سیم نالے کا شگاف پُر کرنے کے لئے پاک بحریہ کی ٹیمیں اور ضروری سامان روانہ کر دیا گیا. سجاول کے سینکڑوں بارش متاثرین میں راشن بیگز بھی تقسیم کیے گئے.
-

شہباز شریف کا کراچی میں بھر پور استقبال،پہنچتے ہی وزیراعظم سے بڑا مطالبہ کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کراچی پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے شہریوں سے اظہار ہمدردی کے لیے آئے ہیں،
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کراچی میں سیلاب سے تباہ کاریاں ہوئی ہیں،بارش کے باعث لوگوں کے اثاثے ڈوب گئے،ملک کومشکل حالات کا سامنا ہے اس لیے سیاست نہیں کرنی چاہیے،کراچی میں ترقیاتی کام ہونے چاہیئں ،
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ وفاق نے کراچی والوں سے اربوں فنڈز کا وعدہ کیا،وہ فنڈز کہاں ہیں؟وفاق سندھ کی مشاورت سے امدادی کاموں میں حصہ لے،وزیراعظم عمران خان کراچی آ کرسندھ حکومت کے ساتھ بیٹھیں،
میاں محمّد شہباز شریف صاحب کا کراچی پہنچنے پر بھرپور استقبال کرتے ہوئے #ShehbazSharifInKarachi pic.twitter.com/AZiKRVqBTT
— Mustafa Malik (@Mustafamalik29) September 2, 2020
شہبا زشریف کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف ڈاکٹرز کی ہدایت کےبعد بلاتاخیرواپس آئیں گے،امیر غریب سیلاب کی تباہ کاریوں سے پریشان ہیں،گرین لائن وفاقی حکومت کی ذمہ داری تھی،یہ وقت سیاست کا نہیں ،مسائل کے حل کرنے کا ہے
شہباز شریف کراچی پہنچے تو ن لیگی کارکنان نے انکا بھر پور استقبال کیا،ن لیگی کارکنان کی جانب سے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں،
شہبازشریف سیلاب متاثرین سےہمدردی اورفاتحہ خوانی کے لئے ملیرجائیں گے,شہبازشریف بلاول ہاؤس جائیں گےاورسابق صدر آصف زرداری سےملاقات کریں گے،شہبازشریف سابق صدرکی مزاج پرسی کریں گے ،شہبازشریف آصف زرداری سے قومی وسیاسی امور پر تبادلہ خیال کریں گے،شہبازشریف فیصل ایدھی سےملاقات کریں گےاورایدھی ٹاورکادورہ بھی کریں گے
شہباز شریف ضلع غربی میں اپنےانتخابی حلقےاین اے249میں متاثرہ علاقوں کادورہ کریں گے،شہبازشریف ناظم آباد کے شہریوں سے بھی ملاقات کریں گے
-

کراچی کے حالات پر مہوش حیات اور انوشے اشرف کی حکام بالا پر شدید تنقید
پاکستان ٹی وی انڈسٹری کی معروف اداکارہ و میزبان انوشے اشرف اور تمغہ اممتیاز اداکارہ مہوش حیات کی طوفانی بارشوں کے بعد کراچی کے متعدد علاقوں میں پیدا ہونے والی صورتحال پر حکام بالا پر شدید تنقید کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر اداکارہ کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ اس مشکل صورتحال سے گزرنے کے باوجود حکام بالا میں سے کسی ایک نے بھی استعفیٰ نہیں دیا۔
Not ONE resignation from the authorities in Karachi. You can’t shame the shameless. Every person who calls Karachi his home needs to attend the peaceful protests and demand better. #KarachiRains #KarachiSinks
— Anoushey Ashraf (@Anoushey_a) August 31, 2020
انہوں نے کہا کہ آپ بے شرموں کو شرمندہ نہیں کرسکتے۔ اداکارہ نے کراچی کے شہریوں کو پُرامن احتجاج میں بھرپور شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کراچی کو اپنا گھر مانتے ہیں تو شہر کی بہتری کیلئے اپنی شرکت یقینی بنائیں۔
https://www.instagram.com/tv/CEi7ortAaUj/?igshid=c75fsu1emvyp
دوسری جانب کراچی میں ہونے والے پُرامن احتجاج میں شوبز شخصیات میں سے عاصم جوفا اور زوئی ویکاجی نے بھی شرکت کی زوئی ویکاجی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر احتجاج کے دوران شرکت کی ویڈیو شئیر کی-تمغہ امتیاز حاصل کرنے والی پاکستان کی معروف اداکارہ مہوش حیات نے بھی کراچی کی ابتر صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل پر ذمہ داروں کا جوابدہ ہونا ضروری ہے۔
My anger knows no abounds. How can a modern city like #Karachi not have the infrastructure to cope with rain in 2day's age?Our suffering over the past few days proves that those responsible need to be held accountable!Heads have to roll or this’ll keep happening.Enough is enough!
— Mehwish Hayat TI (@MehwishHayat) August 30, 2020
سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے بعد کراچی کا حال دیکھ کر میرا غصہ اپنی انتہا پر ہے انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں کراچی جیسے بڑے شہر کا انفرا اسٹکچر ایسا کیوں نہیں ہے کہ بارشوں سے صحیح طور پر نمٹا جاسکے؟اداکارہ نے کہا کہ بارش کے بعد کراچی کے شہریوں پر پڑنے والے مصائب اس بات کی دلیل ہیں کہ اب ذمہ داروں کو جوابدہ ہونا ضروری ہے بس بہت سہہ لیا کراچی نے-
https://www.instagram.com/p/CEkRaVos-2A/?igshid=3telsgkhi7cb
یاسر حسین نے کہا کہ اتنے روز گزر جانے کے بعد بھی نہ بجلی ہے نہ گیس ہے پانی نکالنے والا کوئی نہیں آیا سورج پر چھوڑ دیا ہے تو بل لینے کیوں آتے ہیں سولر پینل ہی لگا دو بے شرمی کی انتہا ہے-خیال رہے کہ کراچی میں جمعرات کی بارش کے بعد جانے والی بجلی کلفٹن اور ڈیفنس کے کئی علاقوں میں اب تک بحال نہ ہو سکی، چھ روز سے بجلی کی بندش کےخلاف کلفٹن بلاک 4 اور8 میں شہریوں نے احتجاج بھی کیا کراچی کے کچھ علاقوں میں 72 گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی بجلی بحال نہیں ہوسکی ہے، سرجانی ٹاؤن، یوسف گوٹھ میں گزشتہ 8 دن سے اب بھی بجلی کی فراہمی معطل ہے –
تُرک اداکارکا سیلابی صورتحال سے پریشان پاکستانی عوام سے ہمدردی کا اظہار
اداکار شان شاہد کا کراچی میں مون سون بارشوں کے باعث تباہی اور بجلی کی عدم فراہمی…
کراچی بارشیں:عروہ حسین حکومت کے خلاف بولنے والوں برہم
اداکار خالد انعم کی وزیر اعظم عمران خان سے شہر قائد کو ہنگامی بنیادوں پر بچانے کی…
کراچی کےنکاسی کےنظام سے تو بہتر ہزاروں سال قبل موہنجوداڑواورہڑپہ کا نکاسی نظام…
بارشوں نے کراچی کو تباہ نہیں کیا بلکہ انہوں نے صرف بوسیدہ نظام کو بے نقاب کیا ہے
کراچی میں بارش نااہلی کی سطح سے براہ راست متناسب ہے کہ وہ شہر جس کے پاس پانی نہیں…
بارشوں کی وجہ سے کراچی کی حالت دیکھ کر شوبز شخصیات پریشان
-

وفاقی حکومت کی اگر کے الیکٹرک پر رٹ نہیں تو پورے ملک پر نہیں،کیا پاکستان ایسے چلے گا؟ چیف جسٹس
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے متعلق کیس پر کی۔
دوران سماعت سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک اور پاور ڈویژن پر شدید برہمی کا اظہار کیا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاور ڈویژن کی رپورٹ کے الیکٹرک سے پیسے لے کر بنائی گئی، جس پاور ڈویژن والے افسر نے رپورٹ جمع کرائی اس کو پھانسی دے دینی چاہیے۔ کیوں نہ ایسی رپورٹ پر جوائنٹ سیکرٹری کو نوکری سے فارغ کر دیں، ہم نے موجودہ صورتحال پر رپورٹ مانگی تھی انہوں نے مستقبل کا لکھ دیا، مسقبل کو چھوڑ دیں، اب کیا کررہے ہیں اس کا بتایا جائے، پاور ڈویژن والوں کو کراچی لے جائیں دیکھیں لوگ کیسے ان کو پتھر مارتے ہیں، کراچی جاکر ان لوگوں کا دماغ ٹھیک ہو جائے گا۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے کہا تھا کہ نیپرا اور دیگر ادارے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کا حل نکال کر آئیں، کراچی میں بارشوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔ کے الیکٹرک والے اسٹے آرڈر لے کر پانچ سال تک بیٹھے رہتے ہیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ خواہ مخواہ کہا جاتا ہے کراچی ملکی معیشت کا 70 فیصد دیتا ہے، کراچی کے پاس دینے کے لیے اب کچھ نہیں۔ کراچی میں اربوں روپے جاری ہوتے ہیں لیکن خرچ کچھ نہیں ہوا، 4 سال میئر رہنے والے نے ایک نالی تک نہیں بنائی۔ لوکل گورنمنٹ والوں کو جتنے بھی پیسے ملے وہ تنخواہوں پر خرچ کئے گئے ہیں۔ آج بھی آدھا کراچی پانی اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، کراچی میں کے ایم سی اور کنٹونمنٹ بورڈ ہے لیکن ان کے ملازم نظر نہیں آرہے، شہر کی دیکھ بھال کا ذمہ حکومت کا ہے لیکن ہمیں علم ہے کہ کراچی کے کرتے دھرتے کچھ نہیں کریں گے۔ وہ تومنہ سے نوالہ بھی چھین لیتے ہیں۔ پہلے ہی اربوں روپے بیرون ملک جاچکے ہیں، کراچی میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، کراچی والوں کے بیرون ملک اکاونٹ فعال ہوچکے ہیں۔
جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کے الیکٹرک عوام کو بجلی اور حکومت کو پیسے نہیں دیتی، 2015 سے کے الیکٹرک نے ایک روپیہ حکومت کو نہیں دیا، حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت، حکومت کو بے بس کیا جارہا ہے کیونکہ اس کے پاس اہلیت نہیں، حکومت کے الیکٹرک کی کلرک اور منشی بنی ہوئی ہے، کے الیکٹرک نے 2015 سے رقم جمع نہیں کرائی آپ لوگ ان کے ترلے کررہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی اگر کے الیکٹرک پر رٹ نہیں تو پورے ملک پر نہیں، وفاقی حکومت بالکل بے بس ہے، وفاقی حکومت کیا کررہی ہے؟ اس کی آخر رٹ کہاں ہے، وفاقی حکومت ایسے پاکستان چلائے گی۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ کراچی میں حکومت بے بس نظر آرہی ہے، کراچی کے شہری اس وقت کے الیکٹرک کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں، کے الیکٹرک والے کراچی شہر کے ساتھ بہت برا کررہے ہیں۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کے الیکٹرک کے پاس پیداواری صلاحیت نہیں تو پھر بجلی پیداوار کا خصوصی اختیار ختم ہو جاتا ہے، پاور ڈویژن کا جواب واپس لیتا ہوں نیا جواب جمع کرائیں گے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پاور سیکٹر کے پاس کام کرنے کا دم نہیں، ملک میں پیٹرول کا بڑا اسکینڈل آیا ،ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر آگئی، دس روز تک ملک مکمل بند رہا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیٹرول کے معاملے پر کمیشن بنایا ہے، جواب میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمیشن کا کیا فائدہ جس نے کام کرنا تھا وہ کر گیا۔
ریلوے ٹریک ڈیتھ ٹریک بن چکا، سیکرٹری ، سی ای او اور تمام ڈی ایس فارغ کرنا پڑیں گے، چیف جسٹس
الیکشن سے پہلے جھاڑو پھر جائے گا،پاکستان بدلنے جا رہا ہے، شیخ رشید
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت عوام کے فائدے کے لیے حکومت کے پاس کچھ نہیں ہے، اداروں کی آپس میں کوئی ہم آہنگی نہیں، تمام حکومتی ادارے کے الیکٹرک کی معاونت کے لئے ہیں، اس بار بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے، پاور ڈویژن کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں گے۔
بہت ہو گیا، اب ریلوے کو ٹھیک کرنا ہو گا، شیخ رشید کی اجلاس میں افسران کو ہدایت
آپ کی حکومت کے پاس جو بھی کام جاتا ہے وہ لامحدود مدت کے لیے ہوتا ہے ،چیف جسٹس کے ریمارکس
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری، چیف جسٹس کا اہم شخصیت کیخلاف مقدمہ درج کرنیکا حکم
کراچی گوٹھ بن چکا،حکومت کی ناکامی کے نتائج بہت خطرناک ہوں گے،چیف جسٹس کے ریمارکس
کراچی میں نالوں کی صفائی، سپریم کورٹ نے این ڈی ایم اے کو بڑا حکم دے دیا،کہا مزید ذمہ داری بھی دیں گے
لوگ مرتے ہیں، یہ جا کر ضمانت کرا لیتے ہیں،لوگوں کو ان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔ چیف جسٹس
امریکی ایمبیسی کو نہ جانے کس بات کا خطرہ تھا،کراچی میں یہ کام کریں، چیف جسٹس کا حکم
سپریم کورٹ نے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کرکے فیصلے کا اختیار ہے، نیپرا قانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار کا فیصلہ کرے،10 دن میں نیپرا ٹربیونل کے ممبران تعینات کئے جائیں اور سیکشن 26 کے اختیار کے استعمال پر کوئی عدالت حکم امتناع نہیں دے سکے گی۔ سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک کے خلاف نیپرا اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع بھی خارج کر دیے
دو تین نالے صاف کرکے آپ کہتے ہیں کراچی کا مسئلہ حل ہوگیا؟ چیف جسٹس نے سندھ حکومت کی استدعا کی مسترد
-

کراچی میں دھماکہ، متعدد افراد زخمی
کراچی میں دھماکہ، متعدد افراد زخمی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں ناظم آباد بورڈ آفس کے قریب پٹرول پمپ میں دھماکہ ہوا ہے
پولیس کے مطابق دھماکہ سلنڈر کا تھا، سلنڈر پھٹنے سے 5 افراد زخمی ہو گئے جنہیں طبی امداد کے لئے عباسی شہید ہسپتاک منتقل کر دیا گیا،زخمیوں میں فضل۔ عبداللہ۔ خالد ۔ نورشاد اور اظہر شامل ہیں
دھماکے سے جناح یونیورسٹی برائے خواتین کی دیوار کو بھی نقصان پہنچا ہے،سلینڈر اور ملبے تلے دب کر دو موٹرسائیکلیں بھی تباہ ہوئی ہیں.
دھماکے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ سلنڈر پھٹنے سے ہوا
واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی مومن آباد تھانے کے گیٹ پر دستی بم حملہ ہوا تھا،ایس ایس پی ویسٹ فدا حسین کے مطابق نامعلوم ملزمان نے دستی بم پھینکا لیکن وہ باہر گیٹ کے قریب گرا۔ پولیس کی بروقت فائرنگ سے ملزمان فرار ہوگئے ۔ ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے
پاکستان کو غیر مستحکم کرنیکی سازشیں کرنیوالے ناکام رہیں گے، گورنر بلوچستان
کراچی اسٹاک ایکسچینج حملہ،چینی سفارتخانہ بھی میدان میں آ گیا، مذمت کے ساتھ کیا بڑا اعلان
کراچی ،دہشت گردانہ حملے میں شہید پولیس اہلکار کی نماز جنازہ ادا
کراچی حملہ، مولانا فضل الرحمان کی مذمت، ساتھ ہی بڑا مطالبہ کر دیا
دہشت گردی کا حملہ ناکام بنانے والے پولیس کے بہادر سپاہیوں اورمحافظوں کو وزیراعظم کا سلام
بھارت کے دہشتگردی میں ہاتھ کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،ثروت اعجاز قادری
دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانیوالے اہلکاروں کو انعام دینے کا فیصلہ
ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق دستی بم حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔دو پولیس اہلکار گرنے سے خراشیں آنے سے معمولی زخمی ہوئے ہیں جنہیں علاج کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،ایک کانسٹیبل کو کمر پر کریکر کے بال بیرنگز جبکہ دوسرے اہلکار کو بازوں پر بال بیرنگز لگے ہیں ،
کراچی حملہ ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی اداروں نے دشمن کا بہادری سے مقابلہ کیا، وزیر اعظم
شہر قائد کے بعد پشاور میں سیکورٹی اداروں نے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ بنایا ناکام
آج کے حملے کے تانے بانے بھارت کے سلیپرسیل سے ملتے ہیں، وزیر خارجہ
قوم کے تعاون سے دہشت گردوں کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیں گے،آرمی چیف
علاقہ پولیس کے مطابق تھانے پر کریکر حملے کی اطلاع ملتے ہی رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق زخمی اہلکار کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
-

کراچی میں تھانے پر دستی بم حملہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی مومن آباد تھانے کے گیٹ پر دستی بم حملہ ہوا ہے
ایس ایس پی ویسٹ فدا حسین کے مطابق نامعلوم ملزمان نے دستی بم پھینکا لیکن وہ باہر گیٹ کے قریب گرا۔ پولیس کی بروقت فائرنگ سے ملزمان فرار ہوگئے ۔ ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے
ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق دستی بم حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔دو پولیس اہلکار گرنے سے خراشیں آنے سے معمولی زخمی ہوئے ہیں جنہیں علاج کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،ایک کانسٹیبل کو کمر پر کریکر کے بال بیرنگز جبکہ دوسرے اہلکار کو بازوں پر بال بیرنگز لگے ہیں ،
علاقہ پولیس کے مطابق تھانے پر کریکر حملے کی اطلاع ملتے ہی رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق زخمی اہلکار کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعپ سے ثبوت و شواہد اکھٹے کئے جارہے ہیں۔ علاقہ پولیس وہاں موجود افراد سے بھی معلومات اکھٹی کررہی ہے۔پولیس اورریجنرز نے پورے علاقے کوگھیرے میں لے رکھا ہے
شہر قائد کراچی میں دستی بم حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے،رواں ماہ 15 اگست کو گلشن حدید کے مکین دہشت گردی کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے نامعلوم دہشتگردوں نے گلشن حدید مارکیٹ میں دستی بم سے حملہ کیا تھا
کراچی حملہ ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی اداروں نے دشمن کا بہادری سے مقابلہ کیا، وزیر اعظم
شہر قائد کے بعد پشاور میں سیکورٹی اداروں نے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ بنایا ناکام
آج کے حملے کے تانے بانے بھارت کے سلیپرسیل سے ملتے ہیں، وزیر خارجہ
قوم کے تعاون سے دہشت گردوں کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیں گے،آرمی چیف
پاکستان کو غیر مستحکم کرنیکی سازشیں کرنیوالے ناکام رہیں گے، گورنر بلوچستان
کراچی اسٹاک ایکسچینج حملہ،چینی سفارتخانہ بھی میدان میں آ گیا، مذمت کے ساتھ کیا بڑا اعلان
کراچی ،دہشت گردانہ حملے میں شہید پولیس اہلکار کی نماز جنازہ ادا
کراچی حملہ، مولانا فضل الرحمان کی مذمت، ساتھ ہی بڑا مطالبہ کر دیا
دہشت گردی کا حملہ ناکام بنانے والے پولیس کے بہادر سپاہیوں اورمحافظوں کو وزیراعظم کا سلام
بھارت کے دہشتگردی میں ہاتھ کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،ثروت اعجاز قادری
دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانیوالے اہلکاروں کو انعام دینے کا فیصلہ
گلشن حدید میں کریکر حملے سے متعلق بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اپنی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے۔ بم ڈسپوزل حکام کے مطابق کریکر بم کا وزن ڈھائی سو گرام تھا جس میں بارود کا وزن 65 گرام تھا۔ جائے وقوع سے کریکر کے ٹکڑے، لیور اور پن ملی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کریکر حملہ گزشتہ دنوں ہونے والے کریکر حملوں سے مماثلت رکھتا ہے۔دوسری جانب پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 1 موٹرسائیکل پر دو ملزمان سوار تھے،
10 جون کو شہر قائد کراچی میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے رینجرز کی گاڑی پر کریکر سے حملہ کیا تھا،گلستان جوہر کے بلاک 5 میں کریکر سے حملہ اس وقت کیا گیا جب رینجرز اہلکاروں نے اپنی گاڑی کو ایک پنکچر کی دکان پہ روکا تھا۔
