Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی کا ڈوبنا ایک المیہ،میئر کراچی حاضر ہو کر جواب دیں،سندھ ہائیکورٹ

    کراچی کا ڈوبنا ایک المیہ،میئر کراچی حاضر ہو کر جواب دیں،سندھ ہائیکورٹ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندہائیکورٹ میں کراچی میں کچرے اوربرساتی پانی ختم نہ ہونے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے سندھ حکومت اوربلدیاتی اداروں کی جانب سے کام نہ کرنے پر اظہار برہمی کیا،عدالت نے ڈائریکٹرکے ایم سی اورمئیرکراچی وسیم اختر کوطلب کرلیا

    جسٹس خادم حسین شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کا ڈوبنا ایک المیہ ہے،کسی کواحساس نہیں ہے،کراچی میں ہرطرف غیر قانونی تعمیرات کی گئی ہیں،

    واضح رہے کہ شہر قائد کراچی میں دو روز شدید بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کرنٹ لگنے کے واقعات سے ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں،شہر قائد کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی تھی

    علی زیدی کو خبرنامہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ،حل کی بات کریں،مصطفیٰ کمال

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے

    شہر قائد کراچی کے علاقے ضلع وسطی، شرقی اور غربی میں موسلا دھار بارش سے ہر طرف پانی ہی پانی کھڑا ہو چکا ہے۔ انتظامیہ اس ساری صورتحال میں غائب ہے۔ لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں سے پانی نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    کراچی ڈوبنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کو ہوش آ گیا،اجلاس میں اہم حکم دے دیا

  • کراچی پریس کلب میں رینجرزاہلکاروں کے داخلے پرصحافیوں کا احتجاج،ڈی جی رینجرز سے کاروائی کا مطالبہ

    کراچی پریس کلب میں رینجرزاہلکاروں کے داخلے پرصحافیوں کا احتجاج،ڈی جی رینجرز سے کاروائی کا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ رینجرز نے کراچی پریس کلب کا غیر اعلانیہ دورہ کیا، رینجرز اہلکار گاڑیوں میں آئے اور پریس کلب میں داخل ہونے کے بعد وہاں تصویریں بنائیں، مختلف مقامات کی تلاشی لی

    اس دوران صحافیوں نے تصاویر بنانا چاہیں تو انہیں روک دیا گیا، کراچی پریس کلب میں رینجرز اہلکاروں کی آمد پر صحافی برادری نے احتجاج کیا ہے، کراچی پریس کلب کی گورننگ باڈی نے رینجرز کے پریس کلب میں داخلے کی مذمت کرتے ھوئے کہا ہے کہ اس طرح کلب کے تقدس کو پامال کیا گیا ھے،

    کراچی پریس کلب کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق گورننگ باڈی نے پیر کے روز رینجرز کے کلب میں داخلے پر ردعمل کا اظہار کیا گیا، پریس کلب کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ امن و امان اور تحفظ کے معاملات خاص اہمیت کے حامل ہیں،لیکن اس کو بنیاد بنا کر پریس کلب میں گھس آنا قابل تشویش ہے

    پریس کلب کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ اس واقعہ پر صحافی برادری احتجاج کرتی ہے،گورنر باڈی نے ڈی جی رینجرز سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کریں

    واضح رہے کہ کراچی پریس کلب میں باوردی اہلکاروں کا داخلہ بغیر اجازت ممنوع ہے، کراچی پریس کلب پاکستان کا سب سے بڑا پریس کلب اور تحریکوں کا مرکز ہے، سابق صدر پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے دوران ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے ملکر پریس کلب کے باہر تحریک چلائی تھی، اس دوران نیوز چینلز بھی بند کر دیے گئے تھے جس پر صحافیوں نے بھی احتجاج کیا تھا اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کراچی سے 100 سے زائد صحافیوں نے گرفتاریاں پیش کی تھیں

  • کراچی بارش کے بہتے پانی میں تیرتے جوتے پر چوہے کی پناہ لی ہوئی ویڈیو وائرل

    کراچی بارش کے بہتے پانی میں تیرتے جوتے پر چوہے کی پناہ لی ہوئی ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پر ایک پرانی ویڈیو وائرل ہو رہی جس میں بارش کے بہتے پانی میں تیرتے جوتے پر چوہے کی پناہ لی ہوئی ہے چوہے کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر صارفین کی دلچسپی کا باعث بنی ہو ئی ہے-

    باغی ٹی وی : شہر قائد کراچی میں دو روز شدید بارشوں کی وجہ سے کراچی تالاب کی مانند منظر پیش کرنے لگا ، شہر کی سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل، گاڑیاں بہہ گئیں، بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا جبکہ بعض علاقوں میں تو بارش کی وجہ سے نالہ ابلنے سے نزدیک رہائشی مکانات زیر آب آ گئے-

    عید الاضحیٰ کے لئے سپر ہائی وے لگائی گئی مویشی منڈی بھی بہہ گئی تھی لیاقت آباد گجر نالہ ابلنے سے نزدیک رہائشی مکانات زیر آب آ نے سے مکینوں کی مشکلات بڑھ گئیں تھیں –

    بارش کی وجہ سے جہاں لوگوں کی مشکلات بڑھیں وہیں جانور اور کیڑے مکوڑے بھی اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے اور بارش کے پانی میں بہہ گئے-

    لوگ ان بارشوں کی وجہ سے جہاں سوشل میڈیا پر پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں وہیں کچھ دلچسپ پوسٹس بھی شئیر کر رہے ہیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک صارف نے ایک پرانی رواں ماہ کے پہلے مہینے 12 جنوری کی ویڈیو کراچی میں بارشوں کے لحاظ سے دوبارہ شئیر کی جس میں بارش کے پانی کی وجہ سے بے گھر ہونے والے چوہے نے بارش کے پانی پر تیرتے ہوئے جوتے پر پناہ لے رکھی ہے-


    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بارش کی وجہ سے بھیگا ہوا اور بے گھر ہوا چوہا پریشان اور بے بس سہما ہوا جوتے پر بیٹھا نامعلوم منزل پر رواں دواں ہے-

    جبکہ ویڈیو میں ایک ہلکی سی جھلک گھروں اور دوکان کی بھی دیکھی جا سکتی ہے جو بارش کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں-

    یہ ویڈیو رواں سال 12 جنوری کو ہجوم نامی ٹویٹر اکاؤنٹ پر شئیر کی گئی تھی جسے صارف کی طرف سے ٹائی ٹینک کا نام دیا گیا تھا-


    واضح رہے کہ دو روز شدید بارشوں کی وجہ سے کراچی تالاب کی مانند منظر پیش کرنے لگا ، شہر کی سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل، گاڑیاں بہہ گئیں، بارش کا پانی گھروں میں داخل، شارع فیصل، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور صدر میں صورتحال زیادہ خراب، لوگوں کو شدید مشکلات، فلائٹ آپریشن متاثر، کئی پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا تھا

    جبکہ سب سے زیادہ بارش گلشن حدید میں ریکارڈ کی گئی۔ عید الاضحیٰ کے لئے سپر ہائی وے لگائی گئی مویشی منڈی بھی بہہ گئی تھی لیاقت آباد گجر نالہ ابلنے سے نزدیک رہائشی مکانات زیر آب آ نے سے مکینوں کی مشکلات بڑھ گئیں تھیں –

    سندھ حکومت کا کراچی بھر کے شہریوں کیلئے چائے کا بڑا انتظام

  • سندھ حکومت کا کراچی بھر کے شہریوں کیلئے چائے کا بڑا انتظام

    سندھ حکومت کا کراچی بھر کے شہریوں کیلئے چائے کا بڑا انتظام

    شہر قائد کراچی میں دو روز شدید بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کرنٹ لگنے کے واقعات سے ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں،شہر قائد کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی تھی

    باغی ٹی وی : حال ہی میں ہونے والی بارش سے کراچی تالاب کی مانند منظر پیش کرنے لگا ، شہر کی سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل، گاڑیاں بہہ گئیں، بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا جبکہ بعض علاقوں میں تو بارش کی وجہ سے نالہ ابلنے سے نزدیک رہائشی مکانات زیر آب آ گئے-

    سندھ حکومت کی اس صورتحال میں نا اہلی اور ناقص انتظام پر کراچی کے لوگ سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں –
    https://twitter.com/Amalqahay/status/1287995847096107011?s=08
    عمالقہ حیدار نامی ایک بلاگر نے کراچی میں بارش کے پانی سے بھرے ایک تالاب کی تصویر شئیر کرتے ہوئےلکھا کہ سندھ گورنمنٹ نے پورے کراچی کیلئے دودھ پتی چائے کا بندوبست کر کے گنیز بک میں اپنا نام لکھوا دیا-

    سید عثمان شاہ نامی صارف نے ایک ٹک ٹاک ویڈیو شئیر کی جس میں بارش کی وجہ ست ٹرین کی پٹریاں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں اور ٹرین پانی میں ڈوبی پٹریوں پر چل رہی ہے-


    ٹک ٹاک ویڈیو شئیر کرتے صارف نے لکھا کہ سندھ حکومت کا ایک اور کارنامہ ٹرین پانی پر چلادی –

    واضح رہے کہ دو روز شدید بارشوں کی وجہ سے کراچی تالاب کی مانند منظر پیش کرنے لگا ، شہر کی سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل، گاڑیاں بہہ گئیں، بارش کا پانی گھروں میں داخل، شارع فیصل، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور صدر میں صورتحال زیادہ خراب، لوگوں کو شدید مشکلات، فلائٹ آپریشن متاثر، کئی پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا تھا

    جبکہ سب سے زیادہ بارش گلشن حدید میں ریکارڈ کی گئی۔ عید الاضحیٰ کے لئے سپر ہائی وے لگائی گئی مویشی منڈی بھی بہہ گئی تھی لیاقت آباد گجر نالہ ابلنے سے نزدیک رہائشی مکانات زیر آب آ نے سے مکینوں کی مشکلات بڑھ گئیں تھیں –

    کراچی کی اس صورتحال پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں مون سون کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس ہوا.

    اجلاس میں صوبائی وزراء سعید غنی، ناصر شاہ، وقار مہدی، راشد ربانی، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری، کمشنر کراچی ، سیکریٹری بلدیات، سیکریٹری فنانس، ایم ڈی ایس ایس ڈبلیو ایم اے، ایم ڈی واٹر بورڈ شریک ہوئے

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ قدرتی آبی گزرگاہوں پر عمارتیں بن گئی ہیں، * نالوں کے ساتھ تجاوزات ہیں، جس کے باعث بارش کا پانی نہیں نکلتا، صرف نالوں کی صفائی مسئلے کا حل نہیں، لوکل باڈیز کے پاس ایک باقائدہ مکینزم ہونا چاہئے، جب 30 ایم ایم بارش ہو تو کیا ایس او پی ہوگی اگر 40 ایم ایم بارش ہوگی تو کیا ایس او پی ہوگی، اس بارش کی مختلف مراحل کا منصوبہ ہونا چاہے-

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہر میں جو سڑکیں نالوں کے ڈزائن ڈفیکٹ ہیں انکو ٹھیک کریں، ایریگیشن والے مل کے حساب سے بندوں کی کمزور اور مضبوط پوائنٹ کا حساب رکھتے ہیں، کراچی کیلئے تمام کمزور مقامات کے حل کا منصوبہ ہونا چاہئے، * مجھے ان علاقوں کا تفصیلی پلان چاہئے جہاں گھروں میں پانی گیا ہے، مجھے شہر کی تمام 28 سب ڈویژنز کا پلان دیں، میں ہر سب ڈویژن پر وزیر یا مشیر کی ڈیوٹی لگائوں گا، مجھے واٹر بورڈ، ایس ایس ڈبلیو ایم اے، کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے بہتریں انجنیئرز کی مشاورت سے بہتریں پلان چاہئے

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان خان نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے کہنا تھا کہ وہ کراچی میں ہونے والے تیز بارش کا فوری طور پر نوٹس لیں پی ٹی آئی کارکن کا وزیراعظم عمران خان سے کہنا تھا کہ وہ کراچی میں ریسکیو کرنے کے لیے پاک فوج کو ہدایات دیں۔ پی ٹی آئی رہنما نے نے پاک فوج سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ کراچی کے شہریوں کو بچانے کے لیے آگے آئے۔

    خرم شیر زمان نے کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر بلدیات صرف دو دن میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ افسوسناک امر ہے کہ کراچی بارش میں ڈوب چکا ہے لیکن سید ناصر حسین شاہ سب اچھا ہے، کا رٹا لگا رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سب اچھا ہے، کی رٹ لگانے والے حکمران کراچی دشمنی کا فرض ادا کررہے ہیں۔

    پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کا دعویٰ تھا کہ کراچی تین ماہ کیلئے میرے حوالے کر دیں، صاف ہو جائے گا،کراچی والے میری صلاحیتوں سے واقف ہیں‌

    کراچی ڈوبنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کو ہوش آ گیا،اجلاس میں اہم حکم دے دیا

    بارش سے کراچی تالاب کامنظر پیش کرنے لگا، کئی ہلاکتیں

    کراچی میں بارش، وزیراعظم سے ریسکیو کے لئے فوج بھیجنے کا مطالبہ آ گیا

    کراچی تین ماہ کیلئےمیرے حوالےکردیں، صاف ہوجائےگا،کراچی والےمیری صلاحیتوں سے واقف ہیں‌:مصطفیٰ کمال کا دعویٰ

  • کراچی ڈوبنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کو ہوش آ گیا،اجلاس میں اہم حکم دے دیا

    کراچی ڈوبنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کو ہوش آ گیا،اجلاس میں اہم حکم دے دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں مون سون کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس ہوا.

    اجلاس میں صوبائی وزراء سعید غنی، ناصر شاہ، وقار مہدی، راشد ربانی، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری، کمشنر کراچی ، سیکریٹری بلدیات، سیکریٹری فنانس، ایم ڈی ایس ایس ڈبلیو ایم اے، ایم ڈی واٹر بورڈ شریک ہوئے

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ قدرتی آبی گزرگاہوں پر عمارتیں بن گئی ہیں، * نالوں کے ساتھ تجاوزات ہیں، جس کے باعث بارش کا پانی نہیں نکلتا، صرف نالوں کی صفائی مسئلے کا حل نہیں، لوکل باڈیز کے پاس ایک باقائدہ مکینزم ہونا چاہئے، جب 30 ایم ایم بارش ہو تو کیا ایس او پی ہوگی اگر 40 ایم ایم بارش ہوگی تو کیا ایس او پی ہوگی، اس بارش کی مختلف مراحل کا منصوبہ ہونا چاہے،

    وزیر بلدیات نے کہا کہ بارش کے دوراں وہ سڑکوں پر تھے،ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ اہم سڑکوں سے بارش کے رکتے ہی پانی کی نکاسی کردی گئی، * کچھ جگہوں پر نالے چوک ہوئے جس سے کچھ مسائل ہوئے،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہر میں جو سڑکیں نالوں کے ڈزائن ڈفیکٹ ہیں انکو ٹھیک کریں، ایریگیشن والے مل کے حساب سے بندوں کی کمزور اور مضبوط پوائنٹ کا حساب رکھتے ہیں، کراچی کیلئے تمام کمزور مقامات کے حل کا منصوبہ ہونا چاہئے، * مجھے ان علاقوں کا تفصیلی پلان چاہئے جہاں گھروں میں پانی گیا ہے، مجھے شہر کی تمام 28 سب ڈویژنز کا پلان دیں، میں ہر سب ڈویژن پر وزیر یا مشیر کی ڈیوٹی لگائوں گا، مجھے واٹر بورڈ، ایس ایس ڈبلیو ایم اے، کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے بہتریں انجنیئرز کی مشاورت سے بہتریں پلان چاہئے،

    واضح رہے کہ شہر قائد کراچی میں دو روز شدید بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کرنٹ لگنے کے واقعات سے ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں،شہر قائد کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی تھی

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے

    شہر قائد کراچی کے علاقے ضلع وسطی، شرقی اور غربی میں موسلا دھار بارش سے ہر طرف پانی ہی پانی کھڑا ہو چکا ہے۔ انتظامیہ اس ساری صورتحال میں غائب ہے۔ لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں سے پانی نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    شہر میں کرنٹ لگنے کے واقعات آج بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ بلدیہ سپارکو روڈ پر کرنٹ لگنے کے واقعات میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ ادھر ترجمان کے الیکٹرک نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے بجلی کا حصول جان لیوا ہے۔

    کراچی میں بارشوں کے بعد اورنگی ٹاؤن میں سیلابی صورتحال ہے۔ لوگوں کو گھروں سے نکالنے کیلئے کشتیوں کی مدد لی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر ناصر شاہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ نشیبی علاقوں میں ایسی صورتحال ہے۔ ایک، دو گھنٹے میں پانی نکل جائے گا۔ نارتھ ناظم آباد کا کافی علاقہ کلیئر ہے۔ ہماری ساری ٹیمیں کام کرنے میں لگی ہوئی ہیں، جلد ساری صورتحال بہتر ہو جائے گی، اس وقت کسی کی جان کو خطرہ نہیں ہے.

    علی زیدی کو خبرنامہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ،حل کی بات کریں،مصطفیٰ کمال

  • علی زیدی کو خبرنامہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ،حل کی بات کریں،مصطفیٰ کمال

    علی زیدی کو خبرنامہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ،حل کی بات کریں،مصطفیٰ کمال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ سندھ حکومت صوبے کی صورتحال کی ذمہ دار ہے

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت ذمہ داری میئر کراچی پر نہیں ڈال سکتی ،میئر کے پاس کچرا اٹھانے،نالوں کی صفائی اور سیوریج نظام کی بہتری کے اخیتارات ہیں،میئر کے پاس مشکل حالات میں بھی فنڈز جاتے ہیں تو کام دکھنا چاہیے ،کراچی کی بدقسمتی ہے ،اس کو صرف چوروں نے نہیں چوکیداروں نے بھی لوٹا

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں زبانی کلامی اضلاع بنائے گئے ،پیپلزپارٹی حکومت نے زبانی کلامی اضلاع بنائے،وفاقی وزیر علی زیدی کو خبرنامہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ،حل کی بات کریں،علی زیدی وزیراعظم کے پاس جاکر مسائل سے آگاہ کریں ،

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ سڑکیں جو پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں بارش کے بعد مزید خراب ہوگئیں ہیں،ایک بارش نے وفاق ، صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں کی اصلیت سامنے رکھ دی ہے۔ متعدد کمپنیوں کو بجلی کی ترسیل کے لائسنس جاری کیے جائیں ، حکمرانوں نے عوامی مسائل کو حل نہ کرنے کا ارادہ کیا ہواہے، بارش میں کے الیکٹرک کی نااہلی کے باعث عوام کا جینا محال ہوگیا ہے

    واضح رہے کہ شہر قائد کراچی میں دو روز شدید بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کرنٹ لگنے کے واقعات سے ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں،شہر قائد کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی تھی

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    شہر قائد کراچی کے علاقے ضلع وسطی، شرقی اور غربی میں موسلا دھار بارش سے ہر طرف پانی ہی پانی کھڑا ہو چکا ہے۔ انتظامیہ اس ساری صورتحال میں غائب ہے۔ لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں سے پانی نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    شہر میں کرنٹ لگنے کے واقعات آج بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ بلدیہ سپارکو روڈ پر کرنٹ لگنے کے واقعات میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ ادھر ترجمان کے الیکٹرک نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے بجلی کا حصول جان لیوا ہے۔

    کراچی میں بارشوں کے بعد اورنگی ٹاؤن میں سیلابی صورتحال ہے۔ لوگوں کو گھروں سے نکالنے کیلئے کشتیوں کی مدد لی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر ناصر شاہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ نشیبی علاقوں میں ایسی صورتحال ہے۔ ایک، دو گھنٹے میں پانی نکل جائے گا۔ نارتھ ناظم آباد کا کافی علاقہ کلیئر ہے۔ ہماری ساری ٹیمیں کام کرنے میں لگی ہوئی ہیں، جلد ساری صورتحال بہتر ہو جائے گی، اس وقت کسی کی جان کو خطرہ نہیں ہے

     

    دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے

  • دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے

    دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی سے ایک صحافی فیضان لاکھانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے

    فیضان لاکھانی نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برآمدے میں بجلی کا بورڈ لگا ہوا ہے اور اس سے پانی نکل رہا ہے، باہر بارش بھی ہو رہی ہے، امکان ہے کہ بارشی پانی اس بجلی کے بورڈ سے نکل رہا ہو

    ویڈیو بنانے والے شخص کا کہنا تھا کہ دیکھ پانی کہاں سے نکل رہا ہے؟ یہ بڑا خطرے والا سسٹم ہے

    ایک صارف نے لکھا کہ یہ ڈاؤ یونیورسٹی ہے، چھت سے پانی آ گیا ہے اس میں

    ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اسی میں کسی موری میں بھٹو بھی چھپا بیٹھا ھے

    واضح رہے کہ شہر قائد کراچی میں دو روز شدید بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کرنٹ لگنے کے واقعات سے ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں،شہر قائد کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی تھی

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    شہر قائد کراچی کے علاقے ضلع وسطی، شرقی اور غربی میں موسلا دھار بارش سے ہر طرف پانی ہی پانی کھڑا ہو چکا ہے۔ انتظامیہ اس ساری صورتحال میں غائب ہے۔ لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں سے پانی نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    شہر میں کرنٹ لگنے کے واقعات آج بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ بلدیہ سپارکو روڈ پر کرنٹ لگنے کے واقعات میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ ادھر ترجمان کے الیکٹرک نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے بجلی کا حصول جان لیوا ہے۔

    کراچی میں بارشوں کے بعد اورنگی ٹاؤن میں سیلابی صورتحال ہے۔ لوگوں کو گھروں سے نکالنے کیلئے کشتیوں کی مدد لی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر ناصر شاہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ نشیبی علاقوں میں ایسی صورتحال ہے۔ ایک، دو گھنٹے میں پانی نکل جائے گا۔ نارتھ ناظم آباد کا کافی علاقہ کلیئر ہے۔ ہماری ساری ٹیمیں کام کرنے میں لگی ہوئی ہیں، جلد ساری صورتحال بہتر ہو جائے گی، اس وقت کسی کی جان کو خطرہ نہیں ہے

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

  • اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بارش کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال میں کراچی کے عوام کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے،

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت، وزیر بلدیات اور مئیر کراچی کہاں ہیں؟نالوں کی صفائی کے لیے ورلڈ بنک سے ملنے والے 1 ارب روپے کا حساب دیا جائے۔ پی ٹی آئی کے اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ عوام کے مسائل کیا ہیں،پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی حکومت میں ہیں لیکن کراچی کے عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے، حکمران جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگانے میں مصروف ہیں اور کراچی کے عوام مسلسل پس رہے ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کے الیکٹرک نے بدترین لوڈ شیڈنگ اور اور بلنگ کے دہرے عذاب سے پہلے ہی عوام کو دوچار کیا ہواہے، بارش کے دوران بھی شہر کے اکثر علاقے بجلی سے محروم ہوگئے۔ جماعت اسلامی عوام کے ساتھ ہے،جماعت اسلامی اور الخدمت کے رضاکاروں نے اورنگی ٹاؤن اورکٹی پہاڑی کے علاقوں میں عوام کی مدد کے لیے ریسکیو کی ذمہ داری ادا کی ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی صوبہ سندھ کے ریونیو میں تقریباً 90 فیصد اور قومی خزانے میں 70 فیصد جمع کرواتا ہے مگر بارش کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال میں شہر کا اور شہریوں کا جو حال ہوا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وفاق اور صوبے نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ میئرکراچی ہمیشہ اختیارات کے نہ ہونے کا رونا روتے ہیں اور یہ راگ الاپتے ہوئے 4 سال گزار دئیے،وہ جواب دیں کہ ان کو جتنے اختیار و وسائل اور بجٹ میسر تھے وہ کہاں استعمال ہوئے۔

    حافظ نعیم الرحمن کا مزید کہنا تھا کے الیکٹرک کو پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور نواز لیگ نے ہمیشہ سپورٹ کیا ہے اور آج پی ٹی آئی بھی کے الیکٹرک کے خلاف کوئی کارروائی کرنے پر تیار نہیں۔ کے الیکٹرک کی نا اہلی وناقص کارکردگی اور بد انتظامی بار بار کھل کر سامنے آرہی ہے لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت اور نیپرا کے الیکٹرک کے خلاف تادیبی کارروائی نہیں کر رہے.

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

  • بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل سے میئر کراچی اور میئر حیدرآباد کی ملاقات ہوئی ہے

    گورنر سندھ کو حالیہ بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ وفاق کراچی کی صورتحال کا نوٹس لے -فنڈز کی کمی کی وجہ سے بارش کی تباہ کاریوں سی نمٹنا مشکل ہے .

    میئر حیدرآباد طیب حسین نے بھی شھر کے حالات پر تفصیلی بریفنگ دی ، میئر حیدرآباد کا کہنا تھا کہ شھر کے مختلف علاقوں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں – بلدیہ عظمی حیدرآباد کے پاس فنڈز کی شدید کمی ہے – مختلف اسکیمیں تعطل کا شکار ہیں – بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنا بھی مشکل ہوگیا ہے –

    گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبہ کے حالات سے بخوبی واقف ہے -کراچی کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے -وفاقی حکومت کی حیدرآباد کے حالات پر بھی نظر ہے -وزیراعظم عمران خان سے بات کرکے آئندہ بارشوں کے لیے جامع حکمت عملی تیار کریں گے –

  • بحریہ ٹاؤن کراچی میں ڈکیتی کی واردات،سیکورٹی کے دعوے دھرے رہ گئے

    بحریہ ٹاؤن کراچی میں ڈکیتی کی واردات،سیکورٹی کے دعوے دھرے رہ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کراچی کے مکین محفوظ نہ رہے، بحریہ ٹاؤں میں ڈکیتی کی وارداتیں ہونے لگیں

    بحریہ ٹاؤن کراچی قائد ولاز میں ایک اور ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے، رہائشی افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک کروڑ سے زائد مالیت کی ڈکیتی ہوئی ہے،ڈاکو مالیوں کی شکل میں گھر میں گھسے اور مکینوں کو اسلحہ کے زور پر باندھ کر لاکھوں روپے لے اڑے۔

    بحریہ ٹاؤن جسے محفوظ سمجھا جاتا تھا، انکے تمام دعوے دھرے رہ گئے، بنگلے میں ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئے ہیں، چند ملزمان مالیوں کا روپ دھار کر بحریہ ٹاؤن میں داخل ہوئے اور گھاس لگانا شروع کیا، موقع دیکھ کر ایک گھر میں داخل ہوئے، مکینوں کو یرغمال بنایا اور نقدی، سونا لوٹ کر فرار ہو گئے

    نجی ٹی وی کے مطابق جب سیکورٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا، داخلی خارجی راستوں پر سیکورٹی ہوتی ہے جو بحریہ کے رہائشیوں کو تو تنگ کرتی ہے لیکن ڈاکوؤں کو نہیں روک سکی،

    ڈکیتی کی یہ واردات اس وقت ہوئی جب بحریہ کے مالک اسوقت بحریہ کراچی میں ہی موجود تھے، رہائیشوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گھروں میں حفاظتی انتظامات مکمل نہیں ہیں، گرل نہیں لگائی گئی، مطالبہ کیا گیا ہے کہ سیکورٹی بڑھائی جائے

    بحریہ ٹاؤن میں جنسی زیادتی کا شکار 8 سالہ بچی دم توڑ گئی، پولیس کا ملزم کو گرفتار کرنیکا دعویٰ