Baaghi TV

Category: کراچی

  • علی زیدی کو خبرنامہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ،حل کی بات کریں،مصطفیٰ کمال

    علی زیدی کو خبرنامہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ،حل کی بات کریں،مصطفیٰ کمال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ سندھ حکومت صوبے کی صورتحال کی ذمہ دار ہے

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت ذمہ داری میئر کراچی پر نہیں ڈال سکتی ،میئر کے پاس کچرا اٹھانے،نالوں کی صفائی اور سیوریج نظام کی بہتری کے اخیتارات ہیں،میئر کے پاس مشکل حالات میں بھی فنڈز جاتے ہیں تو کام دکھنا چاہیے ،کراچی کی بدقسمتی ہے ،اس کو صرف چوروں نے نہیں چوکیداروں نے بھی لوٹا

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں زبانی کلامی اضلاع بنائے گئے ،پیپلزپارٹی حکومت نے زبانی کلامی اضلاع بنائے،وفاقی وزیر علی زیدی کو خبرنامہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ،حل کی بات کریں،علی زیدی وزیراعظم کے پاس جاکر مسائل سے آگاہ کریں ،

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ سڑکیں جو پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں بارش کے بعد مزید خراب ہوگئیں ہیں،ایک بارش نے وفاق ، صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں کی اصلیت سامنے رکھ دی ہے۔ متعدد کمپنیوں کو بجلی کی ترسیل کے لائسنس جاری کیے جائیں ، حکمرانوں نے عوامی مسائل کو حل نہ کرنے کا ارادہ کیا ہواہے، بارش میں کے الیکٹرک کی نااہلی کے باعث عوام کا جینا محال ہوگیا ہے

    واضح رہے کہ شہر قائد کراچی میں دو روز شدید بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کرنٹ لگنے کے واقعات سے ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں،شہر قائد کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی تھی

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    شہر قائد کراچی کے علاقے ضلع وسطی، شرقی اور غربی میں موسلا دھار بارش سے ہر طرف پانی ہی پانی کھڑا ہو چکا ہے۔ انتظامیہ اس ساری صورتحال میں غائب ہے۔ لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں سے پانی نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    شہر میں کرنٹ لگنے کے واقعات آج بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ بلدیہ سپارکو روڈ پر کرنٹ لگنے کے واقعات میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ ادھر ترجمان کے الیکٹرک نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے بجلی کا حصول جان لیوا ہے۔

    کراچی میں بارشوں کے بعد اورنگی ٹاؤن میں سیلابی صورتحال ہے۔ لوگوں کو گھروں سے نکالنے کیلئے کشتیوں کی مدد لی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر ناصر شاہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ نشیبی علاقوں میں ایسی صورتحال ہے۔ ایک، دو گھنٹے میں پانی نکل جائے گا۔ نارتھ ناظم آباد کا کافی علاقہ کلیئر ہے۔ ہماری ساری ٹیمیں کام کرنے میں لگی ہوئی ہیں، جلد ساری صورتحال بہتر ہو جائے گی، اس وقت کسی کی جان کو خطرہ نہیں ہے

     

    دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے

  • دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے

    دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی سے ایک صحافی فیضان لاکھانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے

    فیضان لاکھانی نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برآمدے میں بجلی کا بورڈ لگا ہوا ہے اور اس سے پانی نکل رہا ہے، باہر بارش بھی ہو رہی ہے، امکان ہے کہ بارشی پانی اس بجلی کے بورڈ سے نکل رہا ہو

    ویڈیو بنانے والے شخص کا کہنا تھا کہ دیکھ پانی کہاں سے نکل رہا ہے؟ یہ بڑا خطرے والا سسٹم ہے

    ایک صارف نے لکھا کہ یہ ڈاؤ یونیورسٹی ہے، چھت سے پانی آ گیا ہے اس میں

    ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اسی میں کسی موری میں بھٹو بھی چھپا بیٹھا ھے

    واضح رہے کہ شہر قائد کراچی میں دو روز شدید بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کرنٹ لگنے کے واقعات سے ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں،شہر قائد کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی تھی

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    شہر قائد کراچی کے علاقے ضلع وسطی، شرقی اور غربی میں موسلا دھار بارش سے ہر طرف پانی ہی پانی کھڑا ہو چکا ہے۔ انتظامیہ اس ساری صورتحال میں غائب ہے۔ لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں سے پانی نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    شہر میں کرنٹ لگنے کے واقعات آج بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ بلدیہ سپارکو روڈ پر کرنٹ لگنے کے واقعات میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ ادھر ترجمان کے الیکٹرک نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے بجلی کا حصول جان لیوا ہے۔

    کراچی میں بارشوں کے بعد اورنگی ٹاؤن میں سیلابی صورتحال ہے۔ لوگوں کو گھروں سے نکالنے کیلئے کشتیوں کی مدد لی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر ناصر شاہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ نشیبی علاقوں میں ایسی صورتحال ہے۔ ایک، دو گھنٹے میں پانی نکل جائے گا۔ نارتھ ناظم آباد کا کافی علاقہ کلیئر ہے۔ ہماری ساری ٹیمیں کام کرنے میں لگی ہوئی ہیں، جلد ساری صورتحال بہتر ہو جائے گی، اس وقت کسی کی جان کو خطرہ نہیں ہے

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

  • اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بارش کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال میں کراچی کے عوام کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے،

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت، وزیر بلدیات اور مئیر کراچی کہاں ہیں؟نالوں کی صفائی کے لیے ورلڈ بنک سے ملنے والے 1 ارب روپے کا حساب دیا جائے۔ پی ٹی آئی کے اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ عوام کے مسائل کیا ہیں،پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی حکومت میں ہیں لیکن کراچی کے عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے، حکمران جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگانے میں مصروف ہیں اور کراچی کے عوام مسلسل پس رہے ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کے الیکٹرک نے بدترین لوڈ شیڈنگ اور اور بلنگ کے دہرے عذاب سے پہلے ہی عوام کو دوچار کیا ہواہے، بارش کے دوران بھی شہر کے اکثر علاقے بجلی سے محروم ہوگئے۔ جماعت اسلامی عوام کے ساتھ ہے،جماعت اسلامی اور الخدمت کے رضاکاروں نے اورنگی ٹاؤن اورکٹی پہاڑی کے علاقوں میں عوام کی مدد کے لیے ریسکیو کی ذمہ داری ادا کی ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی صوبہ سندھ کے ریونیو میں تقریباً 90 فیصد اور قومی خزانے میں 70 فیصد جمع کرواتا ہے مگر بارش کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال میں شہر کا اور شہریوں کا جو حال ہوا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وفاق اور صوبے نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ میئرکراچی ہمیشہ اختیارات کے نہ ہونے کا رونا روتے ہیں اور یہ راگ الاپتے ہوئے 4 سال گزار دئیے،وہ جواب دیں کہ ان کو جتنے اختیار و وسائل اور بجٹ میسر تھے وہ کہاں استعمال ہوئے۔

    حافظ نعیم الرحمن کا مزید کہنا تھا کے الیکٹرک کو پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور نواز لیگ نے ہمیشہ سپورٹ کیا ہے اور آج پی ٹی آئی بھی کے الیکٹرک کے خلاف کوئی کارروائی کرنے پر تیار نہیں۔ کے الیکٹرک کی نا اہلی وناقص کارکردگی اور بد انتظامی بار بار کھل کر سامنے آرہی ہے لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت اور نیپرا کے الیکٹرک کے خلاف تادیبی کارروائی نہیں کر رہے.

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

  • بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل سے میئر کراچی اور میئر حیدرآباد کی ملاقات ہوئی ہے

    گورنر سندھ کو حالیہ بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ وفاق کراچی کی صورتحال کا نوٹس لے -فنڈز کی کمی کی وجہ سے بارش کی تباہ کاریوں سی نمٹنا مشکل ہے .

    میئر حیدرآباد طیب حسین نے بھی شھر کے حالات پر تفصیلی بریفنگ دی ، میئر حیدرآباد کا کہنا تھا کہ شھر کے مختلف علاقوں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں – بلدیہ عظمی حیدرآباد کے پاس فنڈز کی شدید کمی ہے – مختلف اسکیمیں تعطل کا شکار ہیں – بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنا بھی مشکل ہوگیا ہے –

    گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبہ کے حالات سے بخوبی واقف ہے -کراچی کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے -وفاقی حکومت کی حیدرآباد کے حالات پر بھی نظر ہے -وزیراعظم عمران خان سے بات کرکے آئندہ بارشوں کے لیے جامع حکمت عملی تیار کریں گے –

  • بحریہ ٹاؤن کراچی میں ڈکیتی کی واردات،سیکورٹی کے دعوے دھرے رہ گئے

    بحریہ ٹاؤن کراچی میں ڈکیتی کی واردات،سیکورٹی کے دعوے دھرے رہ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کراچی کے مکین محفوظ نہ رہے، بحریہ ٹاؤں میں ڈکیتی کی وارداتیں ہونے لگیں

    بحریہ ٹاؤن کراچی قائد ولاز میں ایک اور ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے، رہائشی افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک کروڑ سے زائد مالیت کی ڈکیتی ہوئی ہے،ڈاکو مالیوں کی شکل میں گھر میں گھسے اور مکینوں کو اسلحہ کے زور پر باندھ کر لاکھوں روپے لے اڑے۔

    بحریہ ٹاؤن جسے محفوظ سمجھا جاتا تھا، انکے تمام دعوے دھرے رہ گئے، بنگلے میں ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئے ہیں، چند ملزمان مالیوں کا روپ دھار کر بحریہ ٹاؤن میں داخل ہوئے اور گھاس لگانا شروع کیا، موقع دیکھ کر ایک گھر میں داخل ہوئے، مکینوں کو یرغمال بنایا اور نقدی، سونا لوٹ کر فرار ہو گئے

    نجی ٹی وی کے مطابق جب سیکورٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا، داخلی خارجی راستوں پر سیکورٹی ہوتی ہے جو بحریہ کے رہائشیوں کو تو تنگ کرتی ہے لیکن ڈاکوؤں کو نہیں روک سکی،

    ڈکیتی کی یہ واردات اس وقت ہوئی جب بحریہ کے مالک اسوقت بحریہ کراچی میں ہی موجود تھے، رہائیشوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گھروں میں حفاظتی انتظامات مکمل نہیں ہیں، گرل نہیں لگائی گئی، مطالبہ کیا گیا ہے کہ سیکورٹی بڑھائی جائے

    بحریہ ٹاؤن میں جنسی زیادتی کا شکار 8 سالہ بچی دم توڑ گئی، پولیس کا ملزم کو گرفتار کرنیکا دعویٰ

  • کراچی میں بارش، وزیراعظم سے ریسکیو کے لئے فوج بھیجنے کا مطالبہ آ گیا

    کراچی میں بارش، وزیراعظم سے ریسکیو کے لئے فوج بھیجنے کا مطالبہ آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف سندھ نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے کہا ہے کہ وہ کراچی میں ہونے والے تیز بارش کا فوری طور پر نوٹس لیں۔

    پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان خان نے وزیراعظم عمران خان سے کہا ہے کہ وہ کراچی میں ریسکیو کرنے کے لیے پاک فوج کو ہدایات دیں۔ پی ٹی آئی رہنما نے نے پاک فوج سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کراچی کے شہریوں کو بچانے کے لیے آگے آئے۔

    خرم شیر زمان نے کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وزیر بلدیات صرف دو دن میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ افسوسناک امر ہے کہ کراچی بارش میں ڈوب چکا ہے لیکن سید ناصر حسین شاہ سب اچھا ہے، کا رٹا لگا رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سب اچھا ہے، کی رٹ لگانے والے حکمران کراچی دشمنی کا فرض ادا کررہے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف سندھ کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے بھی گزشتہ دنوں وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کے الیکٹرک کا مسئلہ حل کرنے کے لیے متعلقہ وفاقی وزیر کو کراچی بھیجیں اور جب تک مسئلہ حل نہ ہو اس وقت تک انہیں پابند کریں کہ وہ واپس اسلام آباد نہ جائیں

    واضح رہے کہ شہر قائد میں مسلسل دوسرے روز ہونے والی موسلا دھار بارش سے کئی علاقوں کی سڑکیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگی ہیں، موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں بند، لوگوں کو شدید مشکلات، کرنٹ لگنے سے دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں

    شہر قائد کراچی کے علاقے ضلع وسطی، شرقی اور غربی میں موسلا دھار بارش سے ہر طرف پانی ہی پانی کھڑا ہو چکا ہے۔ انتظامیہ اس ساری صورتحال میں غائب ہے۔ لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں سے پانی نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    شہر میں کرنٹ لگنے کے واقعات آج بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ بلدیہ سپارکو روڈ پر کرنٹ لگنے کے واقعات میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ ادھر ترجمان کے الیکٹرک نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے بجلی کا حصول جان لیوا ہے۔

    کراچی میں بارشوں کے بعد اورنگی ٹاؤن میں سیلابی صورتحال ہے۔ لوگوں کو گھروں سے نکالنے کیلئے کشتیوں کی مدد لی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر ناصر شاہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ نشیبی علاقوں میں ایسی صورتحال ہے۔ ایک، دو گھنٹے میں پانی نکل جائے گا۔ نارتھ ناظم آباد کا کافی علاقہ کلیئر ہے۔ ہماری ساری ٹیمیں کام کرنے میں لگی ہوئی ہیں، جلد ساری صورتحال بہتر ہو جائے گی، اس وقت کسی کی جان کو خطرہ نہیں ہے۔

  • کراچی کے مختلف علاقوں‌ میں 8 گھنٹے سے زائد بجلی کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا محال کر دی

    کراچی کے مختلف علاقوں‌ میں 8 گھنٹے سے زائد بجلی کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا محال کر دی

    کراچی کے مختلف علاقوں‌ میں 8 گھنٹے سے زائد بجلی کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا محال کر دی
    باغی ٹی وی : کراچی کے مختلف علاقوں میں 8 گھنٹے سے زائد بجلی کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا محال کر دیا، ملیرسٹی، سرجانی ٹاؤن، لانڈھی، کورنگی سمیت کئی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
    کے الیکٹرک کی جانب سے بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود شہر میں لوڈشیڈنگ تھم نہ سکی۔ مختلف علاقوں میں 8 گھنٹوں سے زائد کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ سرجانی ٹاؤن، لانڈھی، کورنگی، ملیر سٹی، اورنگی ٹاؤن، کیماڑی، ہزارہ کالونی، لیاقت آباد، گلشن حدید سمیت دیگر علاقے لوڈشیڈنگ سے زیادہ متاثر ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ تکنیکی فالٹس اور لوڈ مینجمنٹ کے نام پر پورا پورا دن بجلی بند رہتی ہے۔

    غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر، نیپرا نے کے الیکٹرک کا لائسنس معطل کرنے کاعندیہ دے دیا


    اس سے قبل کراچی میں ہونے والی بارشوں کے وقت متاثرہ مقامات پر کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی)، ڈی ایم سی اور محکمہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے سکنگ پمپ نصب کیے جاتے تھے جن کی مدد سے پانی کی نکاسی ہوتی تھی البتہ حالیہ بارشوں میں ایک بھی پمپ نصب نہیں کیا گیا۔

  • پاکستان اور کراچی تباہ ہو رہا ہے،کراچی کی بیماری کا علاج ہمارے پاس ہے، مصطفیٰ‌کمال

    پاکستان اور کراچی تباہ ہو رہا ہے،کراچی کی بیماری کا علاج ہمارے پاس ہے، مصطفیٰ‌کمال

    پاکستان اور کراچی تباہ ہو رہا ہے،کراچی کی بیماری کا علاج ہمارے پاس ہے، مصطفیٰ‌کمال

    باغی ٹی وی :کراچی کی حالت زار پر ایک بار پھر مصطفی کمال کا کہنا ہے بجلی ہے نہ پانی، کراچی والوں پر رحم کیا جائے، کراچی کی بیماری کا علاج ہمارے پاس ہے، کیا شہری حکومت کے پاس نالے صاف کرنے کے بھی اختیارات نہیں، جمہوری دہشت گردی سے شہر قائد تباہ ہو رہا ہے، سندھ کو تقسیم نہیں کرنے دیں گے۔

    پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان اور کراچی تباہ ہو رہا ہے، لوگوں کو مارنے والے پروٹوکول میں گھوم رہے ہیں، کراچی کی عوام کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے، مئیر کراچی کے پاس اتنے اختیارات ہیں کچرا اٹھایا جا سکتا تھا، کراچی بیمار ہوگیا ہے اس کے اچھے ڈاکٹر ہم ہیں۔

    مصطفی کمال کا کہنا تھا موجودہ حکمرانوں کے ناموں کو ای سی ایل میں ڈالنا چاہیئے، ہم نے بھی سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی، لیکن سندھ حکومت خود کراچی کو تقسیم کر رہی ہے، سندھ حکومت نے شہر کو 6 اضلاع میں تقسیم کر دیا، اب مزید ضلع کے سطح پر تقسیم کرنے جا رہی ہے، سندھ حکومت تعصب کے بنیاد پر کراچی میں کام کر رہی ہے، کے پی کے سے لا کر ضلع وسطی میں ڈی سی لگا دیا گیا۔

  • بارش سے  کراچی تالاب کامنظر پیش کرنے لگا، کئی ہلاکتیں

    بارش سے کراچی تالاب کامنظر پیش کرنے لگا، کئی ہلاکتیں

    بارش سے کراچی تالاب کامنظر پیش کرنے لگا، کئی ہلاکتیں

    باغی ٹی وی :کراچی تالاب کی مانند منظر پیش کرنے لگا ، شہر کی سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل، گاڑیاں بہہ گئیں، بارش کا پانی گھروں میں داخل، شارع فیصل، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور صدر میں صورتحال زیادہ خراب، لوگوں کو شدید مشکلات، فلائٹ آپریشن متاثر، کئی پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا، بارش کا سلسلہ رات بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

    سب سے زیادہ بارش گلشن حدید میں ریکارڈ کی گئی۔ عید الاضحیٰ کے لئے سپر ہائی وے لگائی گئی مویشی منڈی بھی بہہ گئی۔ قربانی کے جانور آسمان تلے آگئے۔ لیاقت آباد گجر نالہ ابلنے سے نزدیک رہائشی مکانات زیر آب آ گئے جس سے مکینوں کی مشکلات بڑھ گئیں،رش شروع ہوتے ہی کے الیکٹرک کے پانچ سو فیڈرز نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ کئی گھنٹوں بعد تین سو فیڈرز کی فنی خرابی دور کردی گئی،بیشتر علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچھولی ابھی جاری ہے۔ ملیر، لانڈھی، کورنگی اور لیاقت آباد میں بجلی بحال نہیں ہو سکی ہے۔

    اولڈ سٹی ایریا، گلستان جوہر اور ایف بی ایریا کے مختلف بلاکس کو بجلی معطلی کا سامنا ہے۔ بارش رکی تو صورتحال کا جائزہ لینے سندھ سرکار کے وزرا نے شہر کا دورہ کیا اور متعلقہ افسران کو نکاسی آب کے کاموں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار لیکن بجلی غائب

    کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار لیکن بجلی غائب

    کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار لیکن بجلی غائب

    باغی ٹی وی :کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا جبکہ کئی علاقوں‌ سے بجلی غائب ہو گئی. محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ کل تک جاری رہے گا۔

    کراچی میں مون سون کے تیسرے سپیل کے دوران مختلف علاقوں میں بارش پر شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔ سرجانی ٹاون، کلفٹن، بوٹ بیسن، گڈاپ، گارڈن، فیڈرل بی ایریا، جمشید روڈ میں ہلکی بارش ہوئی۔ بارش کے بعد گلشن اقبال، لیاقت آباد، نارتھ کراچی کے علاوہ ناگن چورنگی، کریم آباد، لانڈھی اور بفرزون میں بجلی غائب ہو گئی۔ سہراب گوٹھ، ملیر، یونیورسٹی روڈ، لیاری میں بھی شہری بجلی کو ترستے رہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں 20 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے جبکہ بارش کا سلسلہ کل تک جاری رہنے کا امکان ہے، شہر کا موجودہ درجہ حرارت 33 ڈگری ہے۔ بارش کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چلیں گی