Baaghi TV

Category: کراچی

  • افواج پاکستان نے دشمن کو ناقابل فراموش سبق سکھایا، قوم  ساتھ کھڑی ہے،شہباز شریف

    افواج پاکستان نے دشمن کو ناقابل فراموش سبق سکھایا، قوم ساتھ کھڑی ہے،شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی بری، فضائی اور بحری افواج نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا ہے جسے وہ قیامت تک یاد رکھے گا، اور اس تاریخی کامیابی میں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنی افواج کے ساتھ کھڑی رہی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے کراچی میں نیول افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج کا آپس میں مربوط اور منظم تعاون تاریخ کا سنہری باب ہے، اور حالیہ صورتحال میں جس انداز سے تینوں مسلح افواج نے دشمن کے عزائم خاک میں ملائے، وہ ہماری قومی طاقت کی واضح عکاسی کرتا ہے۔بری فوج نے دشمن کے ٹھکانوں پر ٹھیک نشانے لگائے، پاک فضائیہ کے شاہینوں نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دشمن کو سبق سکھایا، اور پاک بحریہ نے اپنی زبردست تیاری سے دشمن کے عزائم کو سمندر میں ڈبو دیا۔”بحریہ نے دوارکا کی تاریخ دہرانے کے لیے مکمل تیاری کر رکھی تھی، لیکن دشمن نے ہماری تیاری اور ماضی کی پٹائی دیکھ کر مزید رسوائی سے بچنے کے لیے حملے کی ہمت نہ کی۔

    وزیراعظم نے پی این ایس مہران کے شہید لیفٹیننٹ یاسر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو کر مادرِ وطن کی حفاظت میں جان قربان کی، اور پاکستان کے وقار پر آنچ نہ آنے دی۔یہ شہداء اور غازی ہمارے قومی فخر اور قربانی کی روشن مثال ہیں.

    "شہباز شریف نے کہا کہ بھارت کا فخریہ ایئرکرافٹ کیریئر ’وکرانت‘ 400 ناٹیکل میل کے اندر آنے کی جرات نہ کرسکا، اور پانچ گنا بڑی بھارتی بحریہ مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی۔رافیل طیاروں کی تباہی اور ہمارے جوانوں کی جرأت دیکھ کر بھارت کی نام نہاد طاقت میدان چھوڑ گئی، ہماری شارکس نے ہندوستانی وہیل کو مار بھگایا۔”پاکستان کی بندرگاہیں، بالخصوص کراچی اور بن قاسم، جنگی دباؤ کے باوجود مکمل طور پر فعال رہیں، جبکہ بھارت کے مغربی ساحل پر تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئیں۔ یہ ہماری عمدہ حکمت عملی اور دفاعی برتری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    انہوں نے اس کامیابی کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان کی بہترین کوآرڈینیشن کا نتیجہ قرار دیا۔شہباز شریف نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور تمام تنازعات کا پرامن حل چاہتا ہے، تاہم اگر دشمن نے دوبارہ جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو اُسے ہر محاذ پر تیار پائے گا۔ہمیں اپنے وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنا آتا ہے، ہم کسی پر جارحیت نہیں کرتے، لیکن کسی جارح کے لیے زمین تنگ کر دینا جانتے ہیں۔”

    کرنل صوفیہ دہشت گردوں کی بہن کہنے والے بی جے پی وزیر کی معافی مسترد

    پی ایس ایل،اسلام آباد کا طوفانی آغاز، کراچی کو جیت کے لیے 252 رنز کا ہدف

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، 9 دہشتگرد ہلاک

    سینیٹ اجلاس میں سیکیورٹی فورسز پر الزام لگانے پر اراکین میں تلخ کلامی

    چین کی پاک بھارت کشیدگی پر تشویش، تحمل کا مشورہ

  • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    کراچی: ملک بھر میں آج پھر سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کے نرخ یکدم بڑھ گئے،آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 4000 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 42 ہزار 500 روپے ہوگئی ہے 10 گرام سونا 3429 روپے مہنگا ہوکر 2 لاکھ 93ہزار638 روپے کا ہوگیا ہے عالمی صرافہ بازار میں سونے کا بھاؤ 40 ڈالر اضافے سے 3241 ڈالر فی اونس ہے۔

    دنیا بھرمیں سونے کے ذخائر کے حوالے سے امریکا پہلے نمبر پرہے جبکہ ایشیا میں یہ اعزاز چین کے پاس ہے،بھارت عالمی سطح پر آٹھویں اورایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے، پاکستان عالمی فہرست میں 49 ویں نمبر ہے امریکا، جرمنی اور اٹلی سونے کے ذخائر کے حوالے سرفہرست ہیں، ایشیاء میں چین اور بھارت سونے کے سب سے زیادہ ذخائر رکھتے ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کراچی پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف کراچی پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچ گئے-

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ان کا استقبال کیا اس موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف بھی موجود تھے،وزیراعظم اپنے دورے کے دوران پاک بحریہ کے جوانوں اور افسران سے ملاقات کریں گے اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کریں گے، وزیراعظم کا یہ دورہ پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قومی دفاع میں کردار کو سراہنے کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے،وزیراعظم شہباز شریف کراچی میں گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں سندھ کے ترقیاتی منصوبوں، امن و امان اور دیگر اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

    کاروباری ہفتے کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان رہا ،100 انڈیکس میں 515 پوائنٹس کا اضافہ ہوا-

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر تیزی ریکارڈ کی گئی ، 100 انڈیکس میں 515 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس سے انڈیکس ایک لاکھ 20 ہزار 164 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا،گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری دن کاروبار کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس ایک لاکھ ، 19 ہزار 649 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اضافہ ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری، ترسیلات زر میں استحکام اور کاروباری ماحول میں بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہےماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مثبت پیش رفت، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دیا ہے۔

    دوسری جانب انٹر بینک میں امریکی کرنسی کے مقابلے میں روپے کی قدر بہتر ہو گئی ہے ، انٹر بینک میں 20 پیسے کی کمی کے بعد ڈالر کی قیمت 281 روپے 46 پیسے ہو گئی ہے-

  • افغان ٹرانزٹ پر  ناجائز منافع خوری روکنے کے لیے 10 فیصد پروسیسنگ فیس عائد

    افغان ٹرانزٹ پر ناجائز منافع خوری روکنے کے لیے 10 فیصد پروسیسنگ فیس عائد

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے افغان ٹرانزٹ کے ذریعے ہونے والی ناجائز منافع خوری اور غیر قانونی تجارت کے خلاف اہم قدم اٹھاتے ہوئے 10 فیصد پروسیسنگ فیس نافذ کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس فیصلے کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا اور ٹیکس وصولی میں بہتری لانا ہے۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ابتدائی طور پر افغان ٹرانزٹ کے تحت درآمد کی جانے والی 5 نئی اقسام کی اشیاء پر یہ فیس لاگو ہوگی۔ ان میں زرعی آلات، کرینیں، ڈیٹا مشینیں، الیکٹرانکس اور بجلی و الیکٹرانک کباڑ شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، وزارتِ تجارت کی سفارش پر یہ پالیسی مرتب کی گئی ہے، جس کا مقصد افغانستان میں کم کسٹم ڈیوٹی کے ذریعے پاکستان میں غیر قانونی منافع خوری کو روکنا ہے۔ حکومت اس حوالے سے بینک گارنٹی اور دیگر سخت اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ افغان ٹرانزٹ کی آڑ میں اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے یہ کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔ پروسیسنگ فیس کے نفاذ سے نہ صرف ٹرانزٹ سسٹم میں شفافیت بڑھے گی بلکہ ملکی خزانے کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

    شاہد آفریدی کا لائن آف کنٹرول کا دورہ، کشمیری عوام اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

    کالعدم ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر عبدالواحد افغانستان میں فائرنگ سے ہلاک

    پیر عادل: یورو ویگن کی ٹکر سے بچی شدید زخمی، حالت تشویشناک

    کراچی میں شدید گرمی کے دوران 14 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ، شہری پریشان

  • کراچی میں شدید گرمی کے دوران 14 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ، شہری پریشان

    کراچی میں شدید گرمی کے دوران 14 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ، شہری پریشان

    کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جہاں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 سے 14 گھنٹوں تک جا پہنچا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق لیاری، کورنگی، لانڈھی، نیو کراچی، نارتھ کراچی، سرجانی، ناظم آباد، ملیر، قائدآباد اور ایف بی ایریا کے مختلف بلاکس سمیت متعدد علاقوں میں مسلسل کئی گھنٹے بجلی کی بندش جاری ہے۔ علاوہ ازیں ماڈل کالونی، جہانگیر روڈ، پی آئی بی، مچھر کالونی، ریلوے کالونی، ماڑی پور اور ہاکس بے کے مکین بھی شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ کے دوہرے عذاب کا سامنا کر رہے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ پانی کی قلت بھی پیدا ہو چکی ہے۔دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان کا مؤقف ہے کہ شہر کا 70 فیصد بجلی نیٹ ورک لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہے، جبکہ باقی 30 فیصد علاقوں میں بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کے باعث مرحلہ وار لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔

    یاد رہے کہ وزیر مملکت برائے توانائی بھی یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ کراچی میں نقصان دہ فیڈرز پر 10 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ معمول کا حصہ ہے، تاہم شہریوں کے مطابق موجودہ صورتحال میں کئی علاقوں میں بجلی 14 گھنٹے تک غائب رہتی ہے، جو شدید گرمی میں ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔

    امریکہ میں بم دھماکہ، ایک شخص ہلاک، واقعہ دہشت گردی قرار

    اپووا اور ادیبوں کی افواج پاکستان سے یکجہتی.تحریر:طارق نوید سندھو

    پی سی بی کا سینٹرل کنٹریکٹ 2025-26،کیٹیگریز میں ممکنہ رد و بدل

    جنگی ناکامی کے بعد بھارتی حکومت کی بوکھلاہٹ، پاکستانی حمایت پر درجنوں افراد گرفتار

  • کراچی: وزیراعلیٰ سندھ کی میزبانی میں وفاقی وزراء اور صنعت کاروں کا اہم اجلاس

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ کی میزبانی میں وفاقی وزراء اور صنعت کاروں کا اہم اجلاس

    کراچی (باغی ٹی وی، خصوصی رپورٹ)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی میزبانی کی، جس میں وفاقی وزراء، صنعت کاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد کیپٹو پاور پلانٹس سے نیشنل گرڈ (ڈسکوز) کی طرف منتقلی کے عمل پر تبادلہ خیال اور اسے کابینہ کے فیصلے کے مطابق عملی جامہ پہنانے کے لیے لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ اجلاس میں صنعت کاروں کے تحفظات سنے گئے اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ان کی تجاویز اور خدشات پر حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری، وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثناء اللہ، ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر، اسد عالم، مرزا اختیار بیگ، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، وفاقی و صوبائی سیکریٹریز، ایم ڈی سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی)، سی ای او کراچی الیکٹرک مونس علوی، اور شہر کے ممتاز صنعت کاروں زبیر موتی والا، شبیر دیوان، جاوید بلوانی سمیت دیگر نے شرکت کی۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ کیپٹو پاور پلانٹس سے نیشنل گرڈ کی طرف منتقلی ایک لازمی عمل ہے، لیکن اسے صنعت کاروں کے لیے قابل قبول اور آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ صنعت کاروں کے اعتماد کو یقینی بنائے اور اس منتقلی کے لیے باہمی اتفاق سے ایک واضح ٹائم لائن طے کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیپٹو پاور پلانٹس سے منقطع ہونے والی گیس کو سندھ کے اندر ہی استعمال کیا جائے گا اور اسے صوبے سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔

    صنعت کاروں نے اجلاس میں اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل گرڈ کی بجلی کی سپلائی اکثر غیر مستحکم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے کیپٹو پاور پلانٹس بند کرکے مکمل طور پر گرڈ پر انحصار نہیں کر سکتے۔ انہوں نے "ڈی-گرڈ لیوی آرڈیننس 2025” کے تحت مجوزہ اضافی چارجز پر بھی اعتراض اٹھایا، کیونکہ گیس کمپنیاں پہلے ہی زائد چارجز وصول کر رہی ہیں۔ صنعت کاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کیپٹو پاور پلانٹس پر مزید ٹیکس عائد ہونے سے صنعتی شعبے پر ناقابل برداشت بوجھ پڑے گا، جو معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وہ سندھ حکومت کی دعوت پر صنعت کاروں کے تحفظات سننے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی کاوشیں شامل ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایسی پالیسیاں بنانے کی ہدایت دی ہے جو صنعتی ترقی کو فروغ دیں۔

    وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کے صنعتی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی صنعت کاروں کے ساتھ گزشتہ زوم میٹنگز اور ان کی کاوشوں کو سراہا۔

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اجلاس کو بتایا کہ صنعتی ٹیرف میں پہلے ہی 30 فیصد کمی کی جا چکی ہے اور ڈسکوز اپنی کارکردگی بہتر بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 7,000 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کرنے کا فزیبلٹی پلان تیار ہے اور اب تک 583 کیپٹو پاور پلانٹس نیشنل گرڈ سے منسلک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بالآخر تمام صنعتوں کو خودکار بجلی پیداوار سے نیشنل گرڈ پر منتقل ہونا پڑے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں تقریباً 660 کیپٹو پاور پلانٹس ہیں اور صنعت کاروں نے ٹیرف میں مجوزہ اضافے پر جائز تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد صنعت کاروں کی آواز کو براہ راست سننا اور ان کے مسائل کا حل نکالنا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے صنعت کاروں کے ساتھ براہ راست مشاورت پر آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ منتقلی کے عمل کے دوران صارفین پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے اور گیس کے استعمال کے حوالے سے سندھ کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔

    اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ صنعت کاروں کی تمام تجاویز اور تحفظات کو باضابطہ طور پر وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے پیش کیا جائے گا، جو اس حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے۔ اس کے علاوہ، ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی جو کیپٹو پاور پلانٹس سے نیشنل گرڈ کی طرف منتقلی کے دوران محصولات کے نفاذ اور عبوری عرصے کے تعین کا جائزہ لے گی۔

    وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثناء اللہ نے اج اس اجلاس کو "انتہائی نتیجہ خیز” قرار دیا اور یقین دہانی کرائی کہ وزیراعلیٰ اور صنعت کاروں کی تجاویز کو وزیراعظم تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون اور صنعت کاروں کے ساتھ مشاورت کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے۔

    یہ اجلاس کیپٹو پاور پلانٹس سے نیشنل گرڈ کی طرف منتقلی کے عمل کو منظم اور شفاف بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت صنعت کاروں کے مفادات کے تحفظ اور صوبے کی معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔

  • ملک شدید گرمی کی لپیٹ میں، سبی 50 ڈگری کے ساتھ گرم ترین شہر قرار

    ملک شدید گرمی کی لپیٹ میں، سبی 50 ڈگری کے ساتھ گرم ترین شہر قرار

    ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی نے زندگی کو متاثر کر رکھا ہے اور ہیٹ ویو کی کیفیت برقرار ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سبی میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جس نے اسے ملک کا گرم ترین شہر بنا دیا۔ تربت میں درجہ حرارت اگرچہ 45 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، تاہم گرمی کی شدت 49 ڈگری تک محسوس کی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔

    دیگر شہروں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں رہی۔ حیدرآباد، لاہور، فیصل آباد اور پشاور میں درجہ حرارت 42 ڈگری رہا، مگر گرمی کی شدت 47 ڈگری محسوس کی گئی۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں 45 ڈگری کی گرمی 48 ڈگری تک محسوس ہوئی، جب کہ کراچی میں 34 ڈگری کی گرمی 38 ڈگری جیسی محسوس کی گئی۔

    لاڑکانہ اور نواب شاہ میں درجہ حرارت 49 ڈگری، سکھر، دادو اور جیکب آباد میں 48 ڈگری اور کوئٹہ میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔شدید گرمی کے باعث شہریوں کی جانب سے ٹھنڈے مشروبات کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جب کہ گرمی سے متعلق بیماریوں کے کیسز میں بھی اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔

    کراچی کنگز کا پشاور زلمی کو جیت کے لیے 238 رنز کا بڑا ہدف

  • کراچی میں بجلی و پانی کی بدترین قلت، عوام سڑکوں پر، ٹریفک جام

    کراچی میں بجلی و پانی کی بدترین قلت، عوام سڑکوں پر، ٹریفک جام

    کراچی کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے دوران بجلی اور پانی کی عدم فراہمی کے خلاف شہری سراپا احتجاج بن گئے، جس کے نتیجے میں شہر کے اہم مقامات پر بدترین ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوگئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں جیسے شاہراہ پاکستان، جہانگیر روڈ، ملیر پندرہ، لیاقت آباد اور کریم آباد میں شہریوں نے سڑکیں بند کر کے احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کئی علاقوں میں 12 سے 16 گھنٹے تک بجلی بند کی جا رہی ہے، جس سے زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔کے الیکٹرک کی جانب سے شیڈول سے ہٹ کر ملیر، لانڈھی، کورنگی، سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی، سعود آباد سمیت کئی علاقوں میں غیر اعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ بعض علاقوں میں 48 گھنٹوں سے بجلی مکمل بند ہے۔

    بجلی کی عدم فراہمی سے پانی کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا ہے، گھریلو استعمال کے ساتھ ساتھ آر او پلانٹس بھی بند پڑے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ امتحانی سیزن میں طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ کراچی کا 70 فیصد نیٹ ورک لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہے۔30 فیصد نیٹ ورک پر بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔کمپنی کے مطابق معیاری صارفین کو 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

    مظاہرین نے کے الیکٹرک دفاتر کے باہر دھرنے دیے، نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ بجلی کی غیر اعلانیہ بندش فوری ختم کی جائے۔پانی کی سپلائی بحال کی جائے۔امتحانات کے دوران طلبہ کو سہولت دی جائے۔بعض مظاہرین نے شدید غصے میں واٹر ٹینکرز کے والوز کھول کر پانی ضائع کرنا شروع کر دیا، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مداخلت کرنا پڑی۔

    جعلی پیر خرم شاہ گرفتار، خاتون سے دھوکہ دہی اور نازیبا حرکات کا الزام

    جعلی پیر خرم شاہ گرفتار، خاتون سے دھوکہ دہی اور نازیبا حرکات کا الزام

    بھارت میں ترک کمپنی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کرنے پر عدالت پہنچ گئی

    ملک بھر میں مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، اموات کی تعداد 820 تک جا پہنچی

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی اندرونی کہانی منظر عام پرآگئی

  • گورنر سندھ کی 9 مئی میں ملوث پی ٹی آئی کارکنان کیلئے عام معافی کی تجویز

    گورنر سندھ کی 9 مئی میں ملوث پی ٹی آئی کارکنان کیلئے عام معافی کی تجویز

    کراچی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بے گناہ کارکنوں کے لیے عام معافی کی تجویز پیش کی ہے۔

    گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ جو کارکن لاعلمی میں یا دھوکے میں بیرونی سازش کا شکار بنے، انہیں معاف کر کے رہا کیا جانا چاہیے۔9 مئی کے واقعات نے ملک میں بے چینی اور سیاسی انتشار کو جنم دیا، تاہم یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر گرفتار شخص مجرم نہیں ہوتا۔ پی ٹی آئی کے کچھ عناصر نے جان بوجھ کر بیرونی سازش کا حصہ بن کر ملک کے خلاف اقدامات کیے، جبکہ بعض افراد لاعلمی اور جذباتی کیفیت میں ان سازشوں کا شکار بن گئے

    گورنر سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کارکنوں کی شناخت کی جائے جو حقیقتاً بے گناہ ہیں اور جنہیں محض سیاسی وابستگی یا غلط معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کے لیے عام معافی کا اعلان کر کے ایک مثبت پیغام دیا جا سکتا ہے، جس سے ملک میں سیاسی مفاہمت کی راہ ہموار ہوگی،ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہوگا، اور انتقامی سیاست سے گریز کرتے ہوئے نوجوانوں کو دوبارہ قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔