Baaghi TV

Category: کراچی

  • دہشتگردی سے نمٹنے کے لیےکئی اقدامات کیے ہیں ،مراد علی شاہ

    دہشتگردی سے نمٹنے کے لیےکئی اقدامات کیے ہیں ،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت نے انتہاپسندی اور دہشتگردی سے نمٹنے کیلیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں۔ انتہاپسندی کو شکست اور امن کو فروغ دینے کیلیے سماجی رابطہ کاری کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس 25 کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ 240 شرکا میں پاک فوج کے افسران سول سرونٹس اور 24 دوست ممالک کے فوجی افسران شریک تھے۔ شرکا کی قیادت چیف انسٹرکٹر میجر جنرل محمد اختر کر رہے تھے۔ صوبائی وزرا شرجیل میمن، سردار شاہ، ناصر حسین شاہ، سعید غنی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ ، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ اور دیگر صوبائی سیکریٹریز نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت نے پولیس فورس کو مضبوط کرنے کیلیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں تربیتی پروگرام اور انفرا اسٹرکچر کی بہتری شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو اپ گریڈ کرنے کے علاوہ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ بھی شروع کیا ہے۔ مزید برا?ں ایس فور پروجیکٹ کے ذریعے سندھ بھر کے چالیس ٹول پلازہ پر چہرے اور نمبر پلیٹ کی خودکار شناخت کا نظام نصب کیا گیا ہے۔
    مراد علی شاہ نے بتایا کہ انویسٹی گیشن کے اخراجات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تھانوں کیلیے چار ارب اسی کروڑ روپے کا براہ راست بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کیلیے چار ارب نوے کروڑ اور دس لاکھ روپے کی ہیلتھ انشورنس کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔ شہدا پیکج بھی 10 ملین سے بڑھا کر 23 ملین روپے کردیا گیا ہے۔ شہید اہلکار کی ریٹائرمنٹ کی عمر تک لواحقین کیلیے تنخواہ کا اجرا اور خاندان کے دو افراد کو نوکری بھی دی جائے گی۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کچے کے علاقے میں چیلنجز سے نمٹنے کیلیے بھی کوشاں ہے۔ افرا اسٹرکچر اور سماجی خدمات کو بہتر کیا جا رہا ہے۔ پولیس کو ڈرون، اے پی سیز اور 7۔12 بور بندوقیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ نقل و حمل کو بہتر بنانے کیلیے سڑکیں اور پل بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ صوبے کے مالی حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بتایا کہ 25-2024 کا بجٹ 3 کھرب، پانچ ارب اور ساٹھ کروڑ روپے کا ہے جس میں نقد محاصل 1912 ارب روپے ہیں۔
    959 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوں گے جبکہ 184ارب اور اسی کروڑ روپے سرمایہ کاری پر خرچ ہوں گے۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ صوبے کے محاصل 2 کھرب، 56ارب اور 20 کروڑ روپے ہوں گے۔ 1900ارب اور اسی کروڑ روپے وفاقی منتقلی اور 661ارب اور 90 کروڑ روپے صوبائی وسائل سے حاصل ہوں گے تاہم حکومت کو رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ایف بی ا?ر سے 139 ارب روپے کم موصول ہوئے ہیں جبکہ صوبائی محاصل میں بھی 35ارب اور 90 کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔
    حکومتی اخراجات 300 ارب ، نوے کروڑ روپے ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں حکومت کو 28ارب، نوے کروڑ روپے خسارے کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مالیاتی نظم و ضبط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنخواہوں اور پنشن کے ساتھ ضروری ماہانہ اخراجات 143 ارب روپے ہیں۔ حکومت بیرونی امدادی منصوبوں میں انفرا اسٹرکچر، سماجی تحفظ اور سماجی خدمات کو ترجیح دے رہی ہے۔
    مراد علی شاہ نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب میں 70 فیصد صوبہ متاثر ہوا۔ ایک کروڑ 20 لاکھ افراد بیگھر اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ حکومت سندھ نے ہنگامی اقدامات کا آغاز کیا اور 20 ارب ڈالر نقصانات کا تخمینہ لگایا۔ جینیوا میں پاکستان موسمیاتی کانفرنس میں 11 ارب 60 کروڑ ڈالر کا بحالی منصوبہ پیش کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق رواں مالی سال کے 959 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں انفرا اسٹرکچر، تعلیم، صحت اور زراعت کی بہتری پر توجہ دی جا رہی ہے۔
    پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام میں پیش رفت جاری ہے۔ سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کو ایشیا کا چھٹا بہترین یونٹ قرار دیا گیا ہے۔ سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ جاری ہے۔ شمسی توانائی کے منصوبے سے 3 لاکھ 60 ہزار افراد مستفیذ ہو رہے ہیں۔ حکومت سندھ بحالی اور طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں کیلیے پرعزم ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ نے مقامی اداروں کا 23-2022 کے 82 ارب روپے کے مقابلے میں بجٹ بڑھا کر 267 ارب روپے کردیا ہے اور خصوصی پروگرام کے تحت ان کی صلاحیتوں میں ضافے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    مراد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس نے مقامی انتخابات کرائے اور اختیارات منتخب اداروں کو منتقل کیے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ سسٹم میں پانی کی کمی کی وجہ سے سندھ کو پانی کے بحران کا سامنا ہوگا اور زراعت تباہ ہوجائیگی۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ میں ہندووں سے متعلق ایک سوال سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ہندو پرامن طور پر مقیم ہیں۔ انہوں نے ہندو مسلم بھائی چارے کا ذکر کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ عام انتخابات کے دوران سندھ میں ایک رکن قومی اسمبلی اور دو رکن صوبائی اسمبلی ہندو منتخب ہوئے ہیں۔

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات: اسلام کی تبلیغ اور اتحاد پر زور

    سندھ میں خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات 14نومبر ہوں گے

  • کراچی کیلیے خوشخبری، 12 چینی کمپنیاں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار

    کراچی کیلیے خوشخبری، 12 چینی کمپنیاں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار

    بارہ چینی کمپنیوں نے کراچی میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چیئرمین چائنا بیلٹ اینڈ روڈ گروپ مسٹر وین زیائو کی قیادت میں ملنے والے چینی سرمایہ کاروں کے وفد کو کراچی میں سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی۔ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ کی معاونت وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اور تواناتی ناصر حسین شاہ، وزیر بلدیات سعید غنی، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ اور سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ نے کی۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت چین کی سرکاری اور نجی کمپنیوں کے اپنی مرضی کے منصوبوں میں براہ راست سرمایہ کاری یا حکومت سندھ کے ساتھ شراکت کریں، ہم دونوں صورتوں میں خیرمقدم کریں گے۔چیئرمین بیلٹ اینڈ روڈ نے کہا کہ چین کی بارہ سے زیادہ کمپنیاں کراچی میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان میں کچرے سے توانائی بنانا، گندے پانی کی صفائی، کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹ، الیکٹرک بسوں کی تیاری، پیٹرول بائیکس کو الیکٹرک توانائی پر منتقل کرنے والی کٹس کی تیاری اور شہر کے نکاسی کے نظام کی تعمیر نو کے منصوبے شامل ہیں۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت چینی کمپنیوں کو پلانٹ لگانے کیلیے تمام ضروری سہولیات مہیا کرے گی۔ وزیراعلیٰ اور چیئرمین بیلٹ اینڈ روڈ گروپ نے اتفاق کیا کہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور سرمایہ کارری بورڈ کے ساتھ ایک اور اجلاس کریں گے جس میں منصوبوں کے انتخاب اور کام کے آغاز پر بات کی جائے گی۔

    سندھ میں خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات 14نومبر ہوں گے

  • سندھ میں خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات 14نومبر ہوں گے

    سندھ میں خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات 14نومبر ہوں گے

    سندھ کی26اضلاع میں خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی کو موصولاطلاعات میں ترجمان ضلعی الیکشن نے بتایا کہ ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ 14نومبر کو ہوگی، صوبے میں 77مختلف کیٹگری کی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخاب ہوگا جبکہ کراچی میں مجموعی طور پر 10بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخاب ہوگا جن میں 4چیئرمین ، 2وائس چیئرمین اور 4وارڈ کونسلر کی نشستوں پر پولنگ ہوگی۔
    خیال رہے صوبے میں 22یوسی چیئرمین، 15وائس چیئرمین ، 29وارڈ ممبرزاور11ممبرز ڈسٹرکٹ کونسل کی نشستیں خالی ہیں۔یاد رہے ضمنی انتخاب کیلئے 7اکتوبر کو پبلک نوٹس جاری ہوگا، 9سے 11اکتوبر تک ریٹرننگ افسران کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کرائے جاسکتے ہیں۔واضح رہے صدر ٹاؤن کی یوسی 13کی نشست میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ایک سے زائد نشستوں پر کامیابی کے باعث چھوڑی تھی۔

    بھارتی آ رمی چیف کی حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف , ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا

  • کراچی میں حسن نصراللہ کی شہادت کے خلاف ریلی میں ہنگامہ آرائی: مقدمہ درج

    کراچی میں حسن نصراللہ کی شہادت کے خلاف ریلی میں ہنگامہ آرائی: مقدمہ درج

    کراچی کے علاقے ایم ٹی خان روڈ پر دو روز قبل ہونے والے ہنگامہ خیز واقعے کے مقدمے کا اندراج ڈاکس تھانے میں سرکاری مدعیت میں کرلیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت کے خلاف نکالی جانے والی ریلی میں ہونے والے تصادم اور پولیس پر حملے کے واقعات کے بعد درج کیا گیا ہے۔اتوار کے روز امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) اور دیگر تنظیموں کی جانب سے حسن نصراللہ کی شہادت کے خلاف نکالی جانے والی ریلی کے دوران یہ تصادم اس وقت ہوا جب مظاہرین نے امریکن ایمبیسی کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس اور ریلی میں شریک مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
    واقعے کی ایف آئی آر میں تفصیلات درج ہیں کہ مائی کلاچی اور ایم ٹی خان روڈ پر وحدت المسلمین مجلس کی قیادت میں چار سے پانچ ہزار افراد نیٹی جیٹی پل سے امریکن ایمبیسی کی جانب بڑھنے لگے۔ وحدت المسلمین کے رہنماؤں میں مولانا اصغر حسین شہیدی، مولانا ناظر حسین تقوی، مولانا باقرعباس اور مولانا صادق جعفری شامل تھے۔
    ایف آئی آر کے مطابق امامیہ اسٹوڈنٹس (ISO) کی قیادت میں موجود رضی حیدر، مبشر زیدی، صابر ابو مریم، غیور عباس اور ان کے ساتھ موجود دس سے بارہ افراد نے مظاہرین کو اشتعال دلایا۔ ان کی تقریروں کے بعد مشتعل افراد، جو ڈنڈوں اور پتھروں سے مسلح تھے، کنٹینرز کو ہٹانے کی کوشش کرنے لگے۔ اس موقع پر پولیس نے انہیں روکنے کی حکمت عملی اپنائی، لیکن مظاہرین نے پولیس پر حملہ کرتے ہوئے پتھراؤ اور ڈنڈوں کا استعمال کیا، جس سے متعدد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ جب پولیس نے مشتعل افراد کو قابو میں لانے کی کوشش کی تو مظاہرین نے خوف و ہراس پھیلایا اور آتشیں اسلحے سے فائرنگ شروع کردی۔ اس حملے میں کئی پولیس افسران اور ملازمین زخمی ہو گئے۔ مظاہرین نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، جن میں سرکاری موبائل گاڑی کا فرنٹ شیشہ اور بونٹ توڑ دیا گیا، جبکہ ایک موٹر سائیکل کو بھی آگ لگا دی گئی۔مظاہرین کے تشدد کا نشانہ میڈیا نمائندگان بھی بنے۔ جیو ٹی وی کے نمائندے دانیال کو سر پر پتھر مارا گیا، جس کے باعث وہ زخمی ہو گئے۔مقدمے میں رضی حیدر، مبشر زیدی، صابر ابو مریم، غیور عباس اور دیگر سو سے ڈیڑھ سو افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں کارسرکار میں مداخلت، ہنگامہ آرائی اور دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تمام نامزد افراد اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کر رہی ہے، اور اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں تاکہ ہنگامہ آرائی اور حملے کے ذمہ داران کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

  • حافظ نعیم الرحمان  کا ملین مارچ کا اعلان

    حافظ نعیم الرحمان کا ملین مارچ کا اعلان

    کراچی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ملین مارچ کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ غزہ میں ہزاروں لاشیں ملبے کے اندر موجود ہیں، غزہ کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، تمام مسلم ممالک کو غزہ کے ساتھ کھڑا ہوجانا چاہیئے تھا۔

    امیر جماعت اسلامی نے ملین مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے ہفتے میں بڑے مارچ اور جلسے کریں گے، کراچی اور اسلام آباد میں بڑا ملین مارچ کریں گے، حکومتیں کام نہیں کریں گی تو ان پر دباؤ ڈالیں گے، 7 اکتوبر کو دوپہر 12بجے عوام سڑکوں پر نکلیں، ہم غزہ کے لیے لڑ نہیں سکتے لیکن سڑکوں پر نکل کر پیغام تو دے سکتے ہیں، فلسطین کا معاملہ ایسا ہے جو پاکستان کی بنیاد میں ہے۔

  • پیپلز پارٹی کی بدترین حکمرانی عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے،جماعت اسلامی

    پیپلز پارٹی کی بدترین حکمرانی عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے،جماعت اسلامی

    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی 16سالہ بدترین حکمرانی عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے .

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کی ممبر شپ مہم کے سلسلے میں حیدری مارکیٹ ، نادرا میگا سینٹر کے قریب اور پاپوش نگر میں ممبر شپ کیمپوں کے دورے کے دوران کیمپوں پر موجود عوام سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کے اداروں اور وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے ،16برس میں مسائل حل کرنے کے بجائے بڑھائے اور شہر کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ، پیپلز پارٹی کراچی دشمن پارٹی ہے اور صرف لوٹ مار کرنا جانتی ہے ، حکمرانوں سے عوام کا حق لینے کے لیے جماعت اسلامی کی مزاحمتی جدو جہد جاری ہے ، ممبر شپ مہم میں بھی عوام اور تاجروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور جماعت اسلامی کے ممبر بن رہے ہیں ۔خواتین اور نوجوان بھی بڑی تعداد میں شامل ہو رہے ہیں ،جماعت اسلامی حکمرانوں سے عوام کا حق حاصل کر کے رہے گی ۔اس موقع پر امیر ضلع وسطی سید وجیہ حسن نے بھی خطاب کیا ۔

    حیدری مارکیٹ ممبر شپ کیمپ پر حیدری مارکیٹ مینجمنٹ کے صدر سید اختر شاہد،محمد ندیم و جاوید بھائی ، آل لیاقت آباد و حیدری جیولرز ایسوسی ایشن کے فراز احمد، آل حیدری بزنس ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سابق صدر سعید احمد اور دیگر تاجر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور جماعت اسلامی کے ممبر بنے ۔ قبل ازیں حیدری مارکیٹ پہنچنے پر منعم ظفر خان کا تاجر رہنمائوں اور دکانداروں نے شاندار استقبال کیا اور ان کی آمد کا بھر پور خیر مقدم کیا ۔
    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نچلی سطح پر ٹائون اور یوسی میں اختیارات منتقل نہیں کررہی ،جماعت اسلامی کے منتخب بلدیاتی نمائندوں نے اختیارات اور وسائل نہ ہونے کے باوجود دس ماہ میں تقریباًً100پارکوں کو بحال کیا ہے ،38ہزار سے زائد اسٹریٹ لائٹس لگائی گئی ہیں ، اوپن ائیر جم بنائے گئے ہیں ،کھیلوں کے میدان اور پارکوں کو آباد کیا ہے ، اسکول اپ گریڈ کیے گئے ، جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندے اختیارات ووسائل سے بڑھ کر عوام کی خدمت کررہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے ، اہل کراچی کو مایوس نہیں کریں گے ، اہل کراچی نے جماعت اسلامی کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے ، ہم اس اعتماد پر پورا اتریں گے ، انہوں نے کہا کہ اس وقت تاجروں کا سب سے بڑا مسئلہ تاجر دشمن اسکیم ہے ،جس کے ذریعے ان کوپریشان کیاجارہا ہے ، جماعت اسلامی نے تاجروں کی مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ایک تاریخی ہڑتال کی ۔تاجروں اور عوام پر ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی ۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ گزشتہ دنوں سندھ حکومت نے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے 138گاڑیوں کے لیے 2ارب روپے مختص کیے،جس کو جماعت اسلامی نے عدالت میں چیلنج کیا اور عدالت نے حکم امتناع جاری کیا ۔سندھ حکومت کو عوامی مسائل اور مشکلات سے کوئی سر کار نہیں ،کراچی میں سڑکیں ٹوٹی ہیں ،گٹر بہہ رہے ہیں ، نلکوں میں پانی پہنچانے کے بجائے ٹینکروں کے ذریعے فروخت کیا جارہا ہے اور اربوں روپے کمائے جارہے ہیں ، نعمت اللہ خان نے اہل کراچی کی بھرپور خدمت کی ، پانی کا کے تھری منصوبہ مکمل کیا اور کے فور شروع کیا لیکن ان کے بعد کراچی کے لیے ایک بوند پانی کا اضافہ نہیں ہوا ، ایم کیو ایم کے دو میئر ز آئے جنہوں نے سوائے اپنے مفادات سمیٹنے کے کچھ نہیں کیا ، 19سال ہوگئیK-4منصوبہ مکمل نہیں ہوا ، اب کہتے ہیں کہ 2025تک مکمل ہوجائے گا لیکن مکمل ہونے کے بعد بھی کراچی کو مکمل پانی دستیاب نہیں ہوگا کیونکہ پانی کی ترسیل کا نظام تباہ حال ہے ، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ’’حق دو کراچی تحریک ‘‘وسیع ہو کر ملک بھر میں ’’حق دو عوام کو تحریک‘‘ کی صورت اختیار کر گئی ہے ، راولپنڈی میں 14روزہ دھرنا پاکستان کے عوام کی دل کی آواز تھا، جس میں جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوا ، حکومت نے تحریری معاہدے کے باوجود خلاف ورزی کی ،فارم 47کی بنیاد پر مسلط حکمرانوں کو عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ،متوسط اور غریب طبقے کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے ، گھروں کے کرایوں سے زیادہ بجلی کے بل آرہے ہیں ، لوگ مجبور ہوکر خود کشیاں کررہے ہیں ، اس ظالمانہ نظام کے خلاف جماعت اسلامی کراچی سمیت پورے ملک میں آوا ز بلند کررہی ہے ۔

  • ملزمہ نتاشہ کی منشیات مقدمے میں ضمانت کا تحریری حکمنامہ جاری

    ملزمہ نتاشہ کی منشیات مقدمے میں ضمانت کا تحریری حکمنامہ جاری

    کارساز حادثے میں ملوث ملزمہ کی منشیات استعمال کرنے کے مقدمے میں بھی ضمانت منظور ہوگئی۔ سندھ ہائی کورٹ نے تحریری حکمنامے میں ملزمہ کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے باپ بیٹی کے ورثاء 6 ستمبر کو ملزمہ کو معاف کرنے کا حلف نامہ جمع کرواچکے ہیں جس کی وجہ سے اقدام قتل کے کیس میں ملزمہ پہلے ہی ضمانت حاصل کرچکی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا وہ شراب نوشی سے متعلق ہیں، تاہم عدالت یہ معاملہ ٹرائل کورٹ پر چھوڑتی ہے۔ملزمہ کے خلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، ان کی زیادہ سے زیادہ سزا 3 سال ہے۔ مرکزی کیس میں ورثاء کی ملزمہ سے صلح ہوچکی ہے۔

    کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ میں بھی تضاد ہے لہٰذا کیس مزید انکوائری کا بنتا ہے۔ ملزمہ کے تین بچے ہیں جو اسکول جاتے ہیں۔ انہیں ماں کی ضرورت ہے۔ ملزمہ گزشتہ 6 ہفتوں سے جیل میں ہے۔ عدالت ملزمہ کی 10 لاکھ روپے میں ضمانت منظور کرتی ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ کار ساز حادثہ کیس کو میڈیا میں بہت زیادہ کوریج ملی، سول سوسائٹی نے بھی اس واقعے پر آواز بلند کی جو ملزمہ کے حق میں نہیں تھی، یہ واضح کر دیں عدالت کسی دباؤ میں آئے بغیر قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی، جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا عدالت نے ان کا جائزہ لیا ہے۔ٕٕ

    شام میں لاکھوں غیر ملکی جنگجو پاسدارن انقلاب کے زیر کمانڈ موجودگی کا انکشاف

    کیس میں ملزمہ کے خلاف لگائی دفعات شراب نوشی سے متعلق ہیں، ملزمہ کے خلاف امتناع منشیات ایکٹ 1979 کی سیکشن 11 کا اطلاق حیران کن ہے، یہ نشہ آوار مواد ہے جو مبینہ طور پر ملزمہ کے جسم سے الکحول کی جگہ ملا، تاہم عدالت یہ معاملہ ٹرائل کورٹ پر چھوڑتی ہے، ملزمہ کےخلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا اس میں زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے، کیمیکل ایگزیمینر کی رپورٹ میں بھی تضاد ہے، کیس مزید انکوائری چاہتا ہے۔

    یو این یوٹیوب چینل پروزیراعظم شہبازشریف کا خطاب سب سے مقبول

    19 اگست کو حادثہ پیش آیا.یاد رہے کہ 19 اگست کو کراچی کے علاقے کارساز روڈ پر ایک تیز رفتار گاڑی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی تھی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔جاں بحق ہونے والے عمران عارف اور آمنہ عارف باپ اور بیٹی تھے۔ جاں بحق عمران عارف دکانوں پر پاپڑ فروخت کرتے تھے جبکہ خاتون آمنہ عارف نجی کمپنی میں ملازم تھی۔آمنہ عارف والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر دفتر سے گھر جا رہی تھیں کہ یہ حادثہ پیش آ گیا۔

  • کراچی پولیس چیف کی زیر صدارت سیف سٹی پروجیکٹ سے متعلق اجلاس

    کراچی پولیس چیف کی زیر صدارت سیف سٹی پروجیکٹ سے متعلق اجلاس

    کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کی زیر صدارت سیف سٹی پروجیکٹ کے فیز ون کے حوالے سے کراچی پولیس آفس میں اجلاس منعقد ہوا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سندھ سیف سٹی اتھارٹی آصف اعجاز شیخ ، چیف ٹیکنیکل آفیسر ، ڈی آئی جی ایڈمن کراچی رینج ، اے ڈی آئی جی ایڈمن اور پروجیکث ڈائریکٹر و دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سیف سٹی پروجیکٹ کے فیز ون میں ریڈ زون ایریا اور ایئر پورٹ کوریڈور میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے حوالے سے اجلاس کے شرکا کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ترجمان کراچی پولیس کے مطابق اس موقع پر کراچی پولیس چیف نے سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت جاری جملہ امور و اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایات بھی جاری کیں۔

    جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس؛ جامعہ کراچی نے اپنا جواب جمع کروا دیا

    ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کا پیپرکتنے لاکھ میں لیک ہوا؟طلبا کا انکشاف سامنے آ گیا

  • جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس؛ جامعہ کراچی نے اپنا جواب جمع کروا دیا

    جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس؛ جامعہ کراچی نے اپنا جواب جمع کروا دیا

    سندھ ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت اور پاکستان بار کونسل کی جواب جمع کروانے کی مہلت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہائیکورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ بار، کراچی بار اور دیگر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔جامعہ کراچی اور پولیس نے عدالت میں جواب جمع کروا دیا۔ جامعہ کراچی نے جواب میں کہا ہے کہ درخواستگزار کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس طرح کی پٹیشن دائر کرے۔ یونیورسٹی کی ڈگری کوئی پبلک ڈاکیومنٹس نہیں ہوتی جبکہ یہ صرف طالب علم کی ملکیت ہوتی ہے۔ درخواستگزار کو ڈگری کے جھوٹا ہونے کا اندیشہ تھا تو کراچی یونیورسٹی سے رابطہ کرسکتا تھا۔
    ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کا پیپرکتنے لاکھ میں لیک ہوا؟طلبا کا انکشاف سامنے آ گیا
    جامعہ کراچی نے کہا کہ درخواستگزار نے یہ کوشش کی ہے کہ وہ طالب علم کی ڈگری کو عدلیہ کی آزادی سے منسلک کرے۔ کراچی یونیورسٹی کو سنے بغیر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یونیورسٹی نے غیر قانونی کام کیا ہے۔ درخواستگزار نے مفروضوں کو بنیاد بناکر درخواست دائر کی ہے۔ اس درخواست کے ذریعے یونیورسٹی کے معاملات میں دخل اندازی کی گئی ہے۔
    کوئی بھی تعلیمی ادارہ سکھانے کا مرکز ہوتا ہے اور اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر چلتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کا حکم ان کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کا حکم کراچی یونیورسٹی کے اس ریکارڈ کے مطابق ہے جو انہیں مہیا کیا گیا ہے۔وفاقی حکومت اور پاکستان بار کونسل نے جواب جمع کروانے کے لئے مہلت کی استدعا کردی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اسلامیہ کالج پشاور کو درخواست میں فریق بنایا گیا ہی درخواستگزار کے وکیل نے مؤقف دیا کہ اسلامیہ کالج کو بھی فریق بنا رہے ہیں۔
    عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔ عدالت نے ان فئیر مینز کمیٹی کی سفارشات اور سینڈیکیٹ کا فیصلہ معطل کرکے جامعہ کراچی کو معاملے پر کسی بھی کارروائی سے روک رکھا ہے۔عدالت نے پیمرا کو ان فیئر مینز کمیٹی سے متعلق خبروں اور ایف آئی اے کو ڈگری سے متعلق تحقیقات سے بھی روک رکھا ہے۔

  • ماہ ستمبر میں اسٹاک مارکیٹ میں 2 ہزار 625 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ ہوا

    ماہ ستمبر میں اسٹاک مارکیٹ میں 2 ہزار 625 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ ہوا

    پاکستان اسٹاک ایکس چینج (پی ایس ایکس ) کے 100 انڈیکس میں ماہ ستمبر کے دوران تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

    کاروباری مہینے کے آخری دن 100 انڈیکس 177 پوائنٹس کم ہوا لیکن پورے ستمبر کے دوران 2 ہزار 625 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔پی ایس ایکس میں آج 29 کروڑ 79 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے، یوں کاروبار کی مالیت 14 ارب روپے رہی۔شیئر بازار میں آج مارکیٹ کیپٹلائزیشن 34 ارب روپے کی کمی کے بعد 10 ہزار 619 ارب روپے رہی۔دوسری طرف ماہ ستمبر کے اختتام پر 100 انڈیکس 81 ہزار 114 رہا، اس دوران انڈیکس 4 ہزار 665 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا۔ستمبر میں شیئر بازار کی بلند ترین سطح 82 ہزار 905 جبکہ کم ترین سطح 78 ہزار 240 رہی۔ستمبر 2024ء میں پی ایس ایکس میں 10 ارب 54 کروڑ شیئرز کے سودے ہوئے اور کاروبار کی مالیت 321 ارب روپے رہی۔ماہ ستمبر کے دوران مارکیٹ کیپٹلائزشین 134 ارب روپے کے اضافے کے ساتھ 10 ہزار 619 ارب روپے ہے۔

    ملائیشیا کے وزیراعظم کا 2 سے 4 اکتوبر تک پاکستان کا سرکاری دورہ