Baaghi TV

Category: کراچی

  • عافیہ کی رہائی کیلئے وزیراعظم کے خط کا  خیرمقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    عافیہ کی رہائی کیلئے وزیراعظم کے خط کا خیرمقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    گلوبل عافیہ موومنٹ کی رہنما اور ملک کی معروف نیورو فزیشن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کو خط لکھنے پروزیراعظم پاکستان کا دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے جاری کوششوں کے سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں آئینی پٹیشن نمبر 3139/2015 کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل منصور اقبال ڈوگل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے عافیہ صدیقی کی معافی کے لیے امریکی صدر کو خط لکھا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے ایڈووکیٹ عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے اس معاملے میں تیزی سے عملدرآمد پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ وزیراعظم پاکستان کا خط عافیہ کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرے گا۔بعد ازاں اس مثبت پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمدشہباز شریف کے خط کے بعد اب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جلد رہائی کے لیے حکومت کو مسلسل کوششیں کرنی ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کر نے پر پوری قوم حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی اور پاکستانی عوام کا اپنی حکومت اور سسٹم پر اعتماد بحال ہوگا۔ وزیراعظم کا خط پہلا قدم ہے،اب حکومت اگلے قدم اٹھانے کے لیے رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عافیہ کی رہائی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی وفود بھی امریکا بھیجے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی شہری بھی رحم اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کو خطوط لکھیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے خط لکھنے کے اقدام سے پاکستان کی حیثیت اقوام عالم میں مزید بہتر ہوگی۔ اگر حکومت ایسے ہی جراتمندانہ اقدامات کرتی رہی تو یہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرضوں کے جال کو توڑ کر ملکی معیشت کی حالت بہتر بنا سکتی ہے۔عافیہ موومنٹ پاکستان کے بانی رہنما اورپاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق امریکی انتظامیہ کو حکومت پاکستان کے خط کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت پاکستان نے غیر قانونی طور پر بیرون ملک میں قید اپنے کسی شہری کے لیے واقعی کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بہادرانہ اقدام پر وزیر اعظم شہباز شریف کو سراہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ حکومت اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ جاری رکھے گی۔

  • بانی پی ٹی آئی سیاسی رویہ اختیار کرے تو مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں،وزیربلدیات سندھ

    بانی پی ٹی آئی سیاسی رویہ اختیار کرے تو مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں،وزیربلدیات سندھ

    وزیر بلدیات سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ 18 اکتوبر 2007 سانحہ کارساز دنیا بھر میں دہشت گردی کا بڑا واقعہ تھا۔ شہیدوں کے ذکر کے بغیر جمہوریت کی بات مکمل نہیں ہو سکتی۔ آئینی ترامیم سب کی مشاورت سے ہوں گی، کوئی ایک جماعت کا فیصلہ نہیں ہوگا۔ اگر بانی پی ٹی آئی سیاسی اور جمہوری رویہ اختیار کرے تو تمام مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نےسانحہ کارساز کے اعظم بستی قبرستان میں مدفون 7 شہدا کی قبروں پر حاضری اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلی سندھ کے مشیر سید نجمی عالم، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے صدر اقبال ساندھ، ٹائون چیئرمین چنیسر ٹائون فرحان غنی، پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری آصف خان و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ آج ہم نے سانحہ کارساز میں شہید کارکنان کی قبروں پر حاضری دی ہے، اس قبرستان میں سات شہیدوں کے قبریں ہیں اور ہم کوشش کرتے ہیں جہاں جہاں سانحہ کارساز کے شہید دفن ہیں انکی قبروں پر حاضری دیں۔ سعید غنی نے کہا کہ 18 اکتوبر کو دہشت گردی کا واقعہ دنیا کا بڑا واقعہ تھا۔ اس سانحہ میں ہمارے 170 سے زائد کارکن شہید ہوئے اور 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے شہیدوں کی قربانی پاکستان میں جب جب جمہوریت کی بحالی کی تاریخ لکھی جائے گی، ان شہیدوں کے ذکر کے بغیر جمہوریت کی کہانی اور تاریخ اس سانحہ کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ جب 18 اکتوبر کو بم دھماکہ ہوا ہمارے جو کارکن تھے، جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ محترمہ کی گاڑی کے ساتھ جن کی ڈیوٹی تھی، وہ پہلے دھماکہ کے بعد بھاگتے وہ وہاں موجود رہے اور بی بی کے ٹرک کو مزید پروٹیکٹ کیا تو اس میں دوسرا دھماکہ ہوا، جس کے نتیجہ میں اتنی بڑی تعداد میں شہادتیں ہوئی۔
    سعید غنی نے کہا کہ یہ بھی ایک انوکھی اور عجیب مثال ہے، کہ بم کا دھماکہ ہوتا ہے اور کارکنان بھاگتے نہیں ہیں، یہ واقعہ ہمارے کارکنان کی اپنی قیادت کے ساتھ عزم ہے، محبت ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کو کتنی محبت تھی کہ بم دھماکے کے بعد بھی لوگ بھاگے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی پیپلز پارٹی اس ملک کی جمہوریت کے لئے قربانیں دے رہی ہیں، ہم نے اپنے کارکنان کی لاشیں اٹھائی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ اس ملک میں سوائے پاکستان پیپلز پارٹی کے کوئی ایسی جماعت نہیں کہ جس کے قائدین اور کارکنان نے جمہوریت کی بحالی کے لئے اتنی بڑی تعداد میں قربانیاں دی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں، پرامن سیاسی طریقے سے کام کرتے ہیں اور ہم نے اپنے قائدین اور کارکنان کی لاشیں اٹھائی ہیں اور دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لئے آئین میں طریقے کار موجود ہے، کوئی جماعت اپنی مرضی کی تجاویز مسلط نہیں کر سکتی۔
    اس ہے لئے دو تہائی اکثریت لازمی ہے اور جب دو دھائی اکثریت تو سب کی مشاورت سے آئینی ترمیم ہوگی۔ یہ اچھی بات ہے کہ سب مل جل کر بیٹھیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جب سے بنی ہے وہ تضادات کا شکار رہی ہے، ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں اور آج بھی وہ تضادات کا شکار ہیں۔ ایک طرف وہ آج بھی کہتے ہیں کہ ہم احتجاج کریں گے دوسری طرف وہ مولانا فضل الرحمن سے بات کرکے ان کے ذریعے حکومت سے بات کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
    پی ٹی آئی والے ترمیم چاہتے ہیں لیکن کھل کر نہیں بول رہے۔ احتجاج کی بات شاید ان کے دوسرے گروپ نے کی ہوگی اور ڈائیلاگ کی بات دوسرے گروپ سے کی ہوگی۔ اس سے پی ٹی آئی میں واضح گروپ بندی ثابت ہورہی ہے۔ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے ججز کو متنازعہ بنایا۔ ایک اور سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ملک میں مسائل کی جڑ بانی پی ٹی آئی عمران خان ہیں۔
    پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے ججز کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ سعید غنی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا رویہ غیر سیاسی ہے۔ وہ آج بھی کسی سیاسی جماعتوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہیں۔ آج تک اس ملک میں ان کے آنے کے بعد جتنے بھی کرائسیس ہوئے ہیں، یہ سب عمران نیازی کی ہٹ دھرمی اور انا پرستی کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب اس ہے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی، جو ایک آئینی عمل ہے اور اس آئینی عمل کے ذریعے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تھی تو دنیا تو ختم نہیں ہوگئی تھی۔
    عمران خان اسمبلی میں راہ کر بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کرسکتا تھا، عمران خان کے پاس اس وقت پنجاب اور خیبر پختون خواہ دونوں کی حکومت تھی، وہ دو صوبے میں حکومت کرکے جو نئی پی ڈی ایم کی حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتا تھا، لیکن اس نے جمہوری طر عمل اختیار نہیں کیا بلکہ جمہوریت اور ملک کے خلاف سازشیں شروع کردی کہ کسی طرح سے یہ حکومت نہ چل سکے،کسی طرح یہ ملک نہ چل سلے، کسی طرح سے یہ ملک کی تباہ و برباد ہوجائے، کسی طرح سے عوام مشکلات کا شکار ہوجاییں۔اس میں زیادہ مسائل جو پیدا کئے اس میں عدالتوں کے کچھ فیصلے بھی ہیں، جس کی وجہ سے یہ کرائسس مزید بڑھ گئے۔ اگر وہ سیاسی اور جمہوری رویہ اختیار کرے تو تمام کرائسز چند ہفتوں میں حل ہو سکتے ہیں۔

    کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

  • کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

    کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

    ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے کراچی کے علاقے آئی آئی چندریگر روڈ اور خیابانِ سحر،ڈی ایچ اے میں کارروائی کرتے ہوئے 2ملزمان گرفتار کرلیے ۔

    حکام کے مطابق ملزم آفتاب خواجہ ٹریول ایجنسی کی آڑ میں یو اے ای درہم کی غیرقانونی فروخت میں ملوث ہے ، ملزم آفتاب خواجہ کی نشاندہی پر مرکزی ملزم تنویر احمد بھی خیابانِ سحر سے گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کے موبائل فون سے حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی کی فروخت کے ثبوت برآمد کرلیے گئے ، ملزمان سے ملکی اور غیر ملکی کرنسی بھی برآمد کی گئی۔حکام کے مطابق ملزمان سے ایک کروڑ چھ لاکھ پاکستانی روپے، 13ہزار600امریکی ڈالر برآمد کیے گئے ، ملزمان سی23ہزار980 یوایای درہم، 420برطانوی پاونڈز، 480 یورو بھی برآمد کرلیے گئے ہیں ۔حکام نے کہا کہ ملزمان سی300 ترکیہ لیرا، 300 تھائی بھات بھی برآمد ہوئے ، ملزمان برآمد شدہ حوالہ ہنڈی کیثبوت و شواہد اور بھاری تعداد میں ملکی و غیر ملکی کرنسی کی موجودگی کیبارے میں ایف آئی اے حکام کو مطمئن نہ کرسکے۔ملزمان کے خلاف ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں فارن ایکسچینج ریگولیٹری ایکٹ 2020 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ۔

    سینیٹ اجلاس،شہدا کارساز، حماس رہنما یحییٰ سنوار کی شہادت پر کروائی گئی دعا

  • بینظیر بھٹو کے مخالفین بھی قابلت کو مانتے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    بینظیر بھٹو کے مخالفین بھی قابلت کو مانتے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےشہدائے کارساز کو خراج تحسین پیش کیا ہے

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کا 18 اکتوبر 2007 کو پاکستان کی عوام نے شاندار استقبال کیا، لوگوں کی واحد امید محترمہ بینظیر بھٹو تھی، کراچی ایئرپورٹ سے کارساز تک کا سفر 10 تا 11 گھنٹوں میں ہوا تھا، جب پہلا دھماکہ ہوا تو ہم نے سمجھا کہ ٹرانسفارمر پھٹا ہے بعد میں دوسرا شدید دھماکہ ہوا،جہاں سے آواز آئی وہاں دیکھا تو کافی ہمارے جیالے جانثار شہید ہوگئے تھے، محترمہ بینظیر بھٹو تھوڑی دیر پہلے ہی مزار قائد پر تقریر کو فائنلائیز کرنے نیچے گئی تھیں، کافی ہمارے کارکنان شہید اور زخمی ہوئے، بہادر ہیں ہمارے جیالے جنہوں نے دھماکوں کے باوجود محترمہ بینظیر بھٹو کی حفاظت کی،شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جان کو خطرہ ہونے کے باوجود وہ پاکستان آئیں،شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مخالفین بھی قابلت کو مانتے ہیں اور بھادری کو سلام پیش کرتے ہیں ،آج 17 سال ہوگئے ہیں اور ہم ہر سال شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرنے شہدائے کارساز آتے ہیں،عوام کو دعوت دیتا ہوں کہ آج چیئرمین بلاول بھٹو قیادت حیدرآباد میں یادگار شہیدا کی یاد میں جلسہ میں شریک ہوں،

    کارساز حملہ عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش تھی،شرجیل میمن

    بلاول بینظیر بھٹو کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں،فریال تالپور

    کارساز حملہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی،بلاول

    میرپورخاص: سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت، ریلی اور شمعیں روشن

    پاکستان کوسیاسی، معاشی اور جمہوری طاقت بنائیں گے،بلاول

  • کارساز حملہ عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش تھی،شرجیل میمن

    کارساز حملہ عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش تھی،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے 18 اکتوبر سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ 2007 کا وہ دن تھا جب ہمت اور امید کی علامت شہید بی بی برسوں کی جلاوطنی کے بعد اپنے پیارے وطن واپس آئیں،

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ شہید بی بی کی واپسی ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے امید کی کرن تھی، کارساز پر پیپلز پارٹی کے 180 جیالوں نے اپنی قائد کی حفاظت کے لیے خود کو قربان کر دیا، کارساز کے شہداء نے پاکستان کے جمہوری مستقبل کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا،زندگی کو لاحق خطرات کے باوجود شہید بی بی جمہوریت کی بحالی، پسماندہ افراد کا ہاتھ تھامنے کے لیے اپنے مشن پر ثابت قدم رہی،پیپلز پارٹی عوام کی آواز کا نام ہے، کارساز حملہ عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش تھی، کارساز جیسے حملوں کے باوجود ہمارے حوصلے مزید بلند ہوتے چلے گئے، کارساز کے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے خوشحال، پرامن اور جمہوری پاکستان کے وژن کے لئے قربانی دی، حکومت سندھ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں مستحکم جمہوریت اور عوامی خدمت کے لیے کوشاں ہے،

    بلاول بینظیر بھٹو کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں،فریال تالپور

    کارساز حملہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی،بلاول

    میرپورخاص: سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت، ریلی اور شمعیں روشن

    پاکستان کوسیاسی، معاشی اور جمہوری طاقت بنائیں گے،بلاول

  • بلاول   بینظیر بھٹو کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں،فریال تالپور

    بلاول بینظیر بھٹو کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں،فریال تالپور

    پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و رکنِ سندھ اسمبلی فریال تالپور نےسانحہ کارساز کی برسی پر پیغام میں کہا ہے کہ سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتی ہوں، ان کی قربانی لازوال ہے، آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت کی خاطر پیپلز پارٹی کی قیادت و کارکنان نے کتنی بڑی قربانیاں دی ہیں

    فریال تالپور کا کہنا تھا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے کارواں کو آمریت اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ روکنے میں ناکام ہوا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں،صدر مملکت آصف علی زرداری، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سوچ کے امین ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کا ہر جیالہ سانحہ کارساز کے شہداء کے کاز کا محافظ ہے،آج حیدرآباد کا عظیم الشان جلسہ عام ثابت کرے گا کہ پیپلز پارٹی کا اپنے شہداء اور ان کے مشن سے وابستگی بے مثال ہے،آئیے! آج یہ عہد کریں کہ ہم ملک میں جمہوریت کو مضبوط اور رواداری و مساوات کو فروغ دیں گے

    کارساز حملہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی،بلاول

    میرپورخاص: سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت، ریلی اور شمعیں روشن

    پاکستان کوسیاسی، معاشی اور جمہوری طاقت بنائیں گے،بلاول

  • کارساز حملہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی،بلاول

    کارساز حملہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےسانحہ کارساز کے 180 شہید جیالوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارساز حملہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ آمریت اور دہشت گردوں نے مل کر شہید محترمہ بینظیر بھٹو اورپارٹی کی مرکزی قیادت کو نشانہ بنایا،شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا، جب 30 لاکھ لوگ ان کے استقبال کے لیے موجود تھے،جو لوگ دہشت گردی اور تشدد کے ذریعے جمہوریت کی آواز کو دبانا چاہتے تھے، وہ ناکام ہو چکے،سانحہ کارساز یاد دلاتا ہے کہ بہادر جیالوں نے جمہوریت کے کاز کی خاطراپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا،جیالوں کی قربانی ہمارے اس طویل اور پرامن جمہوری پاکستان کے سفر کا اٹوٹ حصہ ہے، پرامن جمہوری پاکستان کی جدوجہد وہ سفر ہے جس کی قیادت شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کی،شہداء کارساز کا خون ہمیں انتہاپسندی اور ناانصافی کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دیتا ہے،ہمارے شہداء کی قربانی اُن مُٹھی بھر عناصر سےلڑنے کی ترغیب دیتی ہے جو عوام کے حقوق غضب کرنے پر تُلے ہوتے ہیں، ہمارا عزم شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے ساتھ مضبوط ہے،ہم ہر پاکستانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ثابت قدم رہیں گے، جمہوریت کی حفاظت کریں گے،قوم سانحہ کارساز کے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور ان کے مشن کو آگے بڑھائیں،آج ہم یہ تجدید عہد کرتے ہیں کہ جمہوریت کی حفاظت کریں گے،ہم عہد کرتے ہیں کہ انتہاپسندی کے خلاف ڈٹ جائیں گے،عہد کرتے ہیں کہ کسی طاقت کو ہمارے پیارے ملک کی ترقی کو پٹڑی سے اتارنے نہیں دیں گےعوام کی خدمت میں جمہوریت، انصاف اور قربانی کے اصولوں پر پیپلز پارٹی کا عزم غیر متزلزل ہے،

    میرپورخاص: سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت، ریلی اور شمعیں روشن

    پاکستان کوسیاسی، معاشی اور جمہوری طاقت بنائیں گے،بلاول

  • ایم کیو ایم کے ہر رکن نے اپنے حلقے کے 3 اسکولوں کی ذمہ داری لے لی، علی خورشیدی

    ایم کیو ایم کے ہر رکن نے اپنے حلقے کے 3 اسکولوں کی ذمہ داری لے لی، علی خورشیدی

    ایم کیوایم پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نےسندھ کے تباہ حال اسکولوں کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھالی ہے، ہر رکن اسمبلی نے اپنے حلقے کے تین اسکولوں کو گود لے لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے محکمہ تعلیم سندھ نے اراکین اسمبلی سندھ کے اسکول گود لینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔علی خورشیدی کا کہنا ہے سندھ میں تعلیم کے نظام کو ٹھیک کرنے کی اشدضرورت ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے شروع دن سے تعلیم کے نظام میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کی خواہش کا اظہار کیا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین اسمبلی کا اپوزیشن میں رہتے ہوے اسکولوں کو گود لینا انقلابی اقدام ہے۔واضح رہے کہ صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے ارکان اسمبلی کو خط لکھ کر اپنے حلقے کے اسکولز ایڈاپٹ کرنے کی دعوت دی تھی، ارکان اسمبلی کی طرف سے اسکولز ایڈاپٹ کرنے کے لئے تجاویز جمع کروانے کا سلسلہ شروع ہونے اور ضروری کارروائی کے بعد محکمہ اسکول ایجوکیشن کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اس عمل کو Minister Initiative for Adoption of School پروگرام کا نام دیا گیا ہے، پروگرام کا مقصد سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے سرکاری اسکولوں کی نگرانی اور ان کو مزید فعال کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہے، اس ضمن میں ارکان سندھ اسمبلی کی طرف سے آنے والی تجاویز کے مطابق حلقے کے اسکولوں کی نگرانی ان کے حوالے کردی گئی ہے، جس کے پہلے مرحلے میں کراچی 74 اسکولز کو 32 ارکان سندھ اسمبلی کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے، کراچی کے اسکول ایڈاپٹ کرنے والے قائد حزب اختلاف و ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے علی خورشیدی کے علاوہ ایم پی ایز سید محمد عثمان، معید انور، محمد عامر صدیقی، فیصل رفیق، محمد دانیال، محمد دلاور کے علاوہ ایم پی اے ریحان، فہیم احمد، شیخ عبداللہ، نصیر احمد، سید اعجازالحق، ریحان اکرم، عبدالوسیم، عبدالباسط، عادل عسکری، محمد افتخار عالم بھی اسکول کی ذمہ داری لینے والوں میں شامل ہیں، کراچی سے منتخب اسمبلی ارکان نے محمد معاذ محبوب، محمد مظاہر عامر، جمال احمد، شریف جمال، نجم مرزا، شوکت علی، ارسلان پرویز، فرحان انصاری نے اسکولز کو ایڈاپٹ کرلیا ہے، جبکہ مہیش کمار ہسیجا، انیل کمار، سمیتا افضال، سکندر خاتوں، فرح سہیل، قرت العین، بلقیس مختار بھی اسکول سنبھالنے والوں میں شامل ہیں۔

    آئینی ترمیم پر مشاورت جاری، حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے، خالد مقبول صدیقی

    بچوں کی اسمگلنگ کا کیس، صارم برنی کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ

  • اطالوی بحری جہازوں کی پاک بحریہ کے ساتھ مشقیں

    اطالوی بحری جہازوں کی پاک بحریہ کے ساتھ مشقیں

    اطالوی بحریہ کے ائیر کرافٹ کیرئیر ITS CAVOUR اور فریگیٹ ITS ALPINO نے 14 سے 16 اکتوبر تک کراچی کا دورہ کیا اور شمالی بحیرہ عرب میں دوطرفہ مشقیں کیں،مشق کا مقصد سمندر میں مشترکہ آپریشنز کے دوران باہمی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مہارت کو بڑھانا تھا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک بحریہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق دورے کے دوران، اطالوی وفد نے اطالوی سفیر کی قیادت میں اطالوی ڈیفنس جنرل اسٹاف کے کیپبلٹی ڈائریکٹر کے ہمراہ پاک بحریہ کے اعلیٰ حکام اور مقامی میڈیا نمائندگان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔اطالوی سفیر نے پاک اطالوی بحری اور تجارتی تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔اہم بحری ممالک کے ساتھ مشترکہ بحری مشقیں خطے میں بحری امن کو یقینی بنانے کے لیے پاک بحریہ کے عزم کا مظہر ہیں۔

    ارسا ایکٹ کےخلاف پورے سندھ میں احتجاج کیا جائے گا، راشد محمود سومرو

    ایم کیو ایم کا شہر میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار

    بچوں کی اسمگلنگ کا کیس، صارم برنی کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    چینی قونصلیٹ حملہ کیس میں کالعدم بی ایل اے کے 4 کارندوں کی شناخت

    کراچی کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ 12 گھنٹوں سے متجاوز

  • ارسا ایکٹ کےخلاف پورے سندھ میں احتجاج کیا جائے گا، راشد محمود سومرو

    ارسا ایکٹ کےخلاف پورے سندھ میں احتجاج کیا جائے گا، راشد محمود سومرو

    ے یو آئی کے صوبائی جنرل سیکریٹری علامہ راشد محمود سومرو کی 18 اکتوبر کو ارسا ایکٹ میں ترمیم کرکے سندھو دریا سے 6 کینالوں کو بنانے کی سازش کے خلاف کراچی سے نکلنے والے کارواں میں بھرپور شرکت کی ہدایت کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ ارسا ایکٹ میں ترمیم کرکے سندھو دریا پر 6 کینالوں کو نکالنے کی سازش کے خلاف 18 اکتوبر کو سیاسی، مذہبی اور قوم پرست تنظیموں کی جانب سے کراچی سے شروع ہونے والے احتجاج میں جے یو آئی کے کارکنان کوجھنڈوںسمیت بھرپور شرکت کی ہدایت کی ہے، انہوں نے کہا کہ سندھودریا پر ڈاکہ لگانے نہیں دینگے۔انہوں نے کہا کہ پریس کلب ملیر کراچی سے 18اکتوبر کو ایک بڑا کارواں شروع ہوگا جو18اکتوبر کو ٹھٹہ اور 19 اکتوبر کو بدین پہنچے گا۔انہوں نے ملیر، گھگر پھاٹک، سجاول، ٹھٹہ اور بدین اور دیگر جگہوں کے عہدیداران اور کارکنان کو بھرپور شرکت کی ہدایت کی ہے۔ علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ ارسا ایکٹ میں متضاد ترامیم کے خلاف سلسلہ وار پورے سندھ میں احتجاج کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اسلام کی سربلندی، دین کی چوکیداری اور سندھ کے باسیوں کے حقوق کی جہدوجہد جاری رکھے گی اور سندھ کو ایک بار پھر باب الاسلام بنائینگے۔ انہوں نے کہا کہ خود ان پروگراموں میں شرکت کی کوشش کرونگا۔

    ایم کیو ایم کا شہر میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار

    بچوں کی اسمگلنگ کا کیس، صارم برنی کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    کراچی کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ 12 گھنٹوں سے متجاوز

    میڈیکل ٹورازم کو فروغ دینے کے لیے نجی شعبے کو مکمل تعاون فراہم کیا جائیگا ،وزیر صحت سندھ