Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی،بلوچستان اور چترال میں بارشوں سے تباہی

    کراچی،بلوچستان اور چترال میں بارشوں سے تباہی

    ملک بھر میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی ہے کراچی سمیت بلوچستان میں شدید بارشوں کے باعث کئی درجنوں افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں شدید بارشوں کے باعث پہاڑی ندیوں میں نچلے درجے کا سیلاب ہے کوہ سلیمان کے پہاڑوں سے آنے والے سیلابی ریلے اور آبشاروں سے شاہراہ متاثر ہوگئی۔ ژوب ڈی آئی خان زیر تعمیر سی پیک روٹ کے کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈ نگ کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہے وڈھ میں قومی شاہراہ پر پھنسے سیکڑوں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے، مسافروں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ان مسافروں کو خوراک کی بھی قلت کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب چترال میں برساتی نالوں میں طغیانی نے تباہی مچادی جس سے 10 سے زائد گھر مکمل تباہ ہوگئے طغیانی کے باعث کئی جگہوں پر رابطہ پل بھی بہہ گئے۔ اپر کوہستان میں تیز بارش سے برساتی نالوں میں بھی طغیانی آگئی اور پانی داسو ڈیم کے رہائشی کیمپوں میں داخل ہوگیا موسم کی شدت سے تحصیل کندیا میں کئی گھروں کی دیواریں، چھتیں اور شیلٹر گرگئے،میرپور آزاد کشمیر و گردونواح میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے-

    کوٹ ادو اور گردو نواح میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری، بارش کا پانی گھرو ں میں داخل،عوام کو مشکلات کا سامنا ہے ،جبکہ چنیوٹ اور گردونواح میں موسلادھار بارش ہوئی ٹبہ سلطان پور میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا بارش کے باعث 15 روز میں 5 افراد کرنٹ لگنے سے جان کی بازی ہار گئے-

    دوسری جانب پشاور میں بارش کے باعث کئی مقامات پر پانی جمع ہوگیا جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ کراچی کے مختلف علاقوں میں رات بھر وقفے وقفے سے تیز بارش کے باعث متعدد علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، سڑکيں ندی نالوں میں بدل گئیں اور نالے ابل پڑے بارش اور سڑکوں پر زیادہ پانی جمع ہونے کے باعث متعدد شہریوں کی موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں بند ہوگئیں۔

    صدر اور ٹاور سمیت اولڈ کراچی کی سڑکیں اور گلیاں ڈوب گئیں، کئی کئی فٹ پانی جمع ہوجانے سے شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا مسلسل بارش کے باعث ملیر ریور برج میں گہرا شگاف پڑگیا جس کے بعد ایک ٹریک کو بند کردیا گیا۔ کے پی ٹی، سب میرین اور مہران انڈر پاس میں بھی بارش کا پانی جمع ہوگیا ناگن چورنگی پر سڑکیں اور فٹ پاتھ پانی میں ڈوب گئے، جس سے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھ گئیں اولڈ سٹی ایریا پاکستان چوک کےاطراف بھی پانی جمع ہو گیا زیب النساء اسٹریٹ کی دکانوں میں برساتی پانی داخل ہو گیا کراچی کےاہم کاروباری مرکزصدرکی مصروف شاہراہ زیرآب آ گئیں-

    پی ای سی ایچ ایس، لیاقت آباد سی ون ایریا اور عزیز آباد بلاک 2 سمیت کئی علاقوں میں پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا شہر کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 4 کمرشل اور سکس کی سڑکوں پر پانی کا راج رہا فیز فور کے کئی مکانوں میں پانی داخل ہوگیا جس سے شہریوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا سندھ حکومت نے کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی مدد کے لیے پمپ بھیج دیئے ہیں۔

    ادھر کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ بارش کے دوران حفاظت کے باعث 90 فیڈرز بند کئے ہیں کراچی میں مسلسل بارش کی وجہ سے فلائٹ آپریشن بھی متاثر ہوگیا۔ کراچی آنے اور جانے والی درجن بھر پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ کئی تاخیر کا شکار ہیں۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید بارش برسانے والے بادل پورے کراچی پر موجود ہیں۔ شہر میں آج بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق 30 جولائی سے ایک اور سسٹم اثر انداز ہوسکتا ہے۔

    وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کراچی کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے پانی کی نکاسی کا جائزہ لیااس موقع پر انہوں نے کہا کہ کراچی میں اتوار کی صبح سے کابینہ کے ارکان سڑکوں پر ہیں اور پانی نکالنے کے عمل کی نگرانی کررہے ہیں لوکل گورنمنٹ عملہ، کنٹونمنٹ اور ڈی ایچ اے سمیت تمام ادارے محنت کر رہے ہیں حیدرآباد کی بھی صورتحال اب بہتر ہے، لطیف آباد 7 نمبر انڈر پاس ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا ہے انہوں نے متاثرین سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر مدد کے لیے 1736 اور 919 ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔

    ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بھی کراچی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور سوشل میڈیا پر نکاسی آب کی وڈیو جاری کی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ انہوں نے آئی آئی چندریگر روڈ کا دورہ کیا۔ ویڈیو دیکھے تو اندازہ ہو سکتا ہے کہ نالے میں کس رفتار سے پانی جا رہا ہے۔ تاہم شہر میں شدید بارش ہو رہی ہےمشکل حالات ہیں۔ عملہ سڑکوں پر موجود ہے، حکومت نے نالوں کی صفائی پر کام کیا جس کے مثبت نتائج نظر آرہے ہیں۔

    آئی جی سندھ نے بارشوں کے شدید اسپیل کے دوران سندھ بھر میں بہترین ریسکیو ورکنگ (بہت احسن انداز میں امدادی کاموں) پر سندھ پولیس کو شاباش دی ہےایک میڈیا پیغام میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ تھانہ اور ٹریفک پولیس کی کارکردگی قابلِ ستائش اور لائق تعریف ہے بارشوں سے متاثرہ علاقوں اور شاہراہوں پر پولیس کا شہریوں کی مدد اور تعاون کا جذبہ خدمت انسانیت کی بہترین مثال ہے۔

    آئی جی سندھ کا مزید کہنا تھا کہ قوی امید ہے کہ پولیس شہریوں کی بے لوث خدمت، مشکل وقت میں ان سے تعاون اور ہر محاذ پر ان کی حفاظت کے تسلسل جیسے اقدامات کو جاری رکھے گی۔

    حکومت سندھ نے بارشوں کے پیش نظر کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے جس کے بعد وفاقی حکومت نے بھی بارش کے پیش نظر کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں آج وفاقی حکومت کے دفاتر میں چھٹی کا اعلان کردیااس حوالے سے کابینہ ڈویژن نے چھٹی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی، حیدرآباد ڈویژن میں ضروری سروسز سمیت رین ایمرجنسی میں کام کرنے والے دفاتر کھلے رہیں گے کراچی میں ہونے والی تیز بارشوں کے باعث کراچی یونیورسٹی نے آج ہونے والے تمام امتحانات بھی ملتوی کردیے ہیں،کراچی یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ امتحانات کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    کراچی میں گزشتہ روز موسلا دھار بارش میں شام گئے شدت کے بعد پیدا صورتحال کے باعث گرین لائن بس سروس پیر کو بھی معطل ہے گرین لائن بس سروس آپریشن کو اتوار کی رات مقررہ وقت سے پہلے ہی معطل کر دیا گیا تھا ترجمان بی آر ٹی ایس کا کہنا تھا کہ بارش میں تیزی اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے بی آر ٹی ایس کا آپریشن اتوار کی رات معمول کے وقت سے ایک گھنٹہ پہلے معطل کردیا گیا تھا رات گئے تک گرین لائن بس سروس کا روٹ بیشتر مقامات پر زیر آب ہونے اور پیر کو بھی بارش کی پیش گوئی کی وجہ سے گرین لائن بس سروس آج (پیر) کی صبح بھی معطل رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے ایسا مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

  • حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    کراچی :حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف پڑگیا اور متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب بہنے لگا ہے۔جس کی وجہ سے حکام نے اس علاقے میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا ہے ،

    واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق ناردرن بائی پاس دعا ہوٹل کے قریب حب نہرکا حصہ ٹوٹا ہے، اس نہر سےکراچی کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب جا رہا ہے، شدید بارش کی وجہ سے یہ حصہ ٹوٹا ہے، پانی عیسٰی اور خمیسو گوٹھ میں داخل ہوسکتا ہے، ایک گھنٹہ گزرنے کے باوجود انتظامیہ نہیں پہنچ سکی، ذرائع کے مطابق کراچی میں پانی کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب پولیس کا کہنا ہےکہ پانی منگھوپیرکے غیر آباد علاقے میں جا رہا ہے، شگاف کو پرکرنے کے لیے مشینری لائی جارہی ہے، حب کینال کی مرمت تک پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔پولیس کے مطابق تاحال منگھوپیر کی کسی رہائشی آبادی کے متاثر ہونےکی اطلاع نہیں ہے۔

    اتوار کی علی الصبح سے کراچی اور گرد و نواح میں وقفے وقفے سے کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔کراچی میں اس قدر بارش ہورہی ہے کہ کراچی بارش سے پانی پانی ہوگیا ہے

    کراچی میں مون سون بارشوں کا تیسرا اسپیل اپنے اثرات دکھا رہا ہے، اتوار کی علی الصبح سے شہر کے مختلف علاقوں اور گرد و نواح میں وقفے وقفے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون کے تیسرے اسپیل کے دوران اب تک سب سے زیادہ بارش آج سب سے زيادہ بارش قائد آباد ميں 86.5 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔رات سے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی تو کہیں درمیانی بارش کا سلسلہ جاری ہے ،یوں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے ذیادہ بارش قائدآباد میں 21 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی

    گڈاپ ٹاؤن20، گلشنِ حدید10، صدر9، کیماڑی8، نارتھ کراچی6.2، سعدی ٹاؤن6 ملی میٹر، جناح ٹرمینل، گلشنِ معمار، کورنگی میں 5.2، پی اے ایف فیصل بیس 4.5 ملی میٹر ایئرپورٹ اولڈ ایریا، یونیورسٹی روڈ3.6، ڈی ایچ اے فیزٹو3.4 ملی میٹر،گلشن حديد62، پی اے ايف مسرور بيس پر 54.5 ، کيماڑی ميں 54 ملی ميٹر بارش کی گئی ۔

    بارش کے پانی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے سرجانی ٹان ، نارتھ کراچی اور نیو کراچی میں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں۔ کئی سڑکوں پر پانی جمع ہے جب کہ گڑھے جوہڑ بنے ہوئے ہیں۔

    کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند

    دوسری جانب شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو دُہری اذیت کا سامنا ہے۔محکمہ موسمیات نے کراچی سميت اندرون سندھ ميں بارشوں کا موجودہ سلسلہ 26 جولائی تک جاری رہنے کی پيشگوئی کی ہے۔

    مون سون بارشوں سے متعلق محکمہ موسمیات کا تازہ الرٹ جاری

    شہر کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰٓ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے تیز بارش کی پیش گوئی کی ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بارش رحمت والی ہو زحمت نہ ہو، لوگوں سے گزارش ہے کہ غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ جب بارش تیز ہوتی ہے تو سڑکوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے۔ حکومت سندھ کے وزرا اور انتظامیہ کے لوگ سڑکوں پر ہیں، کوئی بھی صورتحال ہو انتظامیہ کو ہر جگہ موجود پائیں گے۔

    بارش برسانے والا ہوا کے کم دباؤ کا سسٹم سندھ میں داخل ،محکمہ موسمیات

    شادمان نالے میں خاتون کے ڈوبنے کے واقعے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس واقعےکا مجھے بہت افسوس ہے، نالوں کی صفائی کا کام پورا سال چلتا رہتا ہے، شادمان نالے پر کام پہلے بھی چل رہا تھا۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کی صورتحال قابو میں ہے، کراچی شہرکی سڑکیں اور انڈر پاسز کلیئر ہیں، بلدیاتی عملہ میدان میں موجود ہے، سڑکوں کے اطراف جمع پانی کی نکاسی کی جاری

  • آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے،قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک

    آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے،قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک

    کراچی: اسٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے-

    باغی ٹی وی : قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے ایس بی پی پوڈ کاسٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام آن ٹریک ہے، آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو اتنا آسان نہ لیا جائے۔


    انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) حکام تمام اقدامات سے مطمئن ہیں، اسٹاف لیول معاہدے سے بورڈ میٹنگ میں بڑی آسانی ہوتی ہے ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے پاکستان کو پیسے مل جائیں گے۔

    دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈاکٹر مرتضیٰ سید نےای میل پر جواب میں بتایا کہ آئی ایم ایف کےساتھ جاری پروگرام کےسبب ہماری اگلے 12 مہینوں کی مالی سال 23-2022 کے لیے 33.5 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت پوری ہو چکی ہےجبکہ مالی صورت حال کے حوالے سے مارکیٹ کے غیر ضروری خدشات چند ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ اسٹاف لیول معاہدے کا اگلا جائزہ اجلاس پاکستان کو کمزور ممالک کی فہرست سے الگ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا جبکہ زیادہ تر ممالک کو آئی ایم ایف کی حمایت حاصل نہیں۔

    انہوں نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے قرضوں کی صورتحال جو مارکیٹوں کےلیے اہم نقطہ ہے،اس کی صورتحال قرضوں والے دیگر کمزور ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر ہے،پاکستان پر بیرونی قرضے کم ہیں،پریزینٹیشن میں پاکستان کی صورتحال کا موازنہ حال ہی میں دیوالیہ ہونے والے سری لنکا سےکرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی بیرونی دباؤ آیا پاکستان نےزری پالیسی کو سخت کردیا اور روپے کی قدر کم کرنے کی اجازت دی۔

    ہمیں امید ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں حقیقت ظاہر ہو جائے گی اور پاکستان کے حوالے سے غیر ضروری خدشات ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان کے مقابلے میں سری لنکا کی مالی صورت حال زیادہ خراب ہے۔

  • بارش برسانے والا ہوا کے کم دباؤ کا سسٹم سندھ میں داخل ،محکمہ موسمیات

    بارش برسانے والا ہوا کے کم دباؤ کا سسٹم سندھ میں داخل ،محکمہ موسمیات

    کراچی کے مختلف علاقوں میں رات سے ہی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : گلبرگ، لیاقت آباد، ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ پر وقفے وقفے سے بوندا باندی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ لانڈھی،کورنگیِ نصیر آباد، یونیورسٹی روڈ،ملیر، پی آئی بی، ناظم آباد میں بھی پھوار پڑ رہی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کراچی میں آج سے منگل تک تیز بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کی جانب سے شہریوں کو بلاضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    کراچی میں ایک اور طوفانی بارش کی پیش گوئی کردی گئی لیکن گزشتہ بارش کے آثار اب تک باقی ہیں، جگہ جگہ سڑکوں پر پڑنے والے گڑھے اب تک بھرے نہ جاسکے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کا امکان ہے،بارش برسانے والا ہوا کے کم دباو کا سسٹم سندھ میں داخل ہو گیا،موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ،ہوا کی رفتار 18 کلو میٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی ،دن میں درجہ حرارت 28 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہے گا،مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کا امکان ہے-

    لیاقت پور اور گردونواح میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ،بارشوں کے بعد نشیبی علاقے زیر آب ہیں،جتوئی اور گردونواح میں بھی موسلا دھار بارش،بجلی غائب ہے

    واضح رہے کہ چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے کراچی میں صبح 8 سے 9 بجے کے درمیان تیز بارش کا امکان ظاہر کیا تھا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کل پورا دن شہر میں وقفے وقفے سے تیز بارش جاری رہ سکتی ہےسردار سرفراز کے مطابق کراچی میں 200 ملی میٹر یا اس سے زائد بارش کا امکان رہے گا۔

    دوسری جانب چترال میں بارش کے بعد برساتی نالوں میں طغیانی نے تباہی مچادی، 10سے زائد گھرمکمل تباہ ، ضلعی انتظامیہ کئی جگہوں پر رابطہ پل بھی بہہ گئے،15گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے ،گرم چشمہ روڈ ٹریفک کے لیے بند ہے ، ٹنل روڈ کلیئر کر دیا گیا، باقی جگہوں پر کام جاری ہے-

    کوہلو اور گرد نواح میں بارش کا سلسلہ جاری ہے،پژہ اور تمبو میں تیز بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی، بارش کے باعث بجلی کے مختلف فیڈر زٹرپ کرگئے-

    کشمور، گڈو ،بخشاپور و اورگردونواح میں موسلا دھار بارش جاری ہے،بارش کے باعث مواصلاتی نظام درہم برہم ،متعدد علاقوں میں بجلی بند ہے-

  • قانون اور آئین پر عمل درآمد کرتے ہوئے اداروں کا احترام کیا جائے، سید صدر الدین شاہ راشدی

    قانون اور آئین پر عمل درآمد کرتے ہوئے اداروں کا احترام کیا جائے، سید صدر الدین شاہ راشدی

    فنکشنل لیگ سندھ کے صدر اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنما سید صدر الدین شاہ راشدی نے کہا ہے کہ قانون اور آئین پر عمل درآمد کرتے ہوئے اداروں کا احترام کیا جائے-

    باغی ٹی وی : انہوں نے کہا کہ ملک کو خطرہ لاحق ہے اور اب مداریوں والا کھیل تماشا بند ہونا چاہیے ، حکمرانوں نے غریب عوام کا جینا حرام کردیا ہے ، پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی لہذا نتائج کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات فوج کی نگرانی میں کروائے جائیں اور فوری طور پر عام انتخابات کرانے کی تاریخ کا بھی اعلان کیا جائے-

    سید صدر الدین شاہ راشدی نے کہا کہ سندھ بھر میں بارشوں کی پیشگوئی کے باوجود حکومتی اقدامات نظر نہیں آرہے اللہ پاک سندھ پر رحم فرمائے آمین ان خیالات کا اظہار انہوں جی ڈی اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صفدر عباسی اور اطلاعات سیکریٹری سردار عبدالر حیم سے اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران کیا –

    سید صدر الدین شاہ راشدی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اور زرداری لیگ کا گٹھ جوڑ اب عوام کے سامنے آگیا ہے ، زرداری مافیا الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کی ریکارڈ دھاندلی کے باوجود انتخابات میں جی ڈی اے بھاری اکثریت سے ووٹ حاصل کرکے سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر اُبھرے ہے زرداری لیگ نے سندھ میں 15 سالوں سے لوٹ مار کر کے عوام اور سندھ کے اداروں کو تباہ و برباد کردیا ہے ادارے مفلوج ہوچکے ہیں جبکہ عوام بدحال ہیں انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بلدیاتی اداروں کو مکمل اختیارات دیئے جائیں –

    انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے سیاسی اور معاشی حالات کی صورتحال سنگین نوعیت پر پہنچ چکیں ہیں اور عوام سخت مہنگائی لاقونیت اور بیروزگاری کی وجہ سے پریشان حال ہے انہوں نے کہا کہ عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات فوج کی نگرانی میں صاف و شفاف طریقے سے کرائے جائں کیونکہ پہلے مرحلے میں بلدیاتی انتخابات میں زرداری مافیا نے الیکشن کمیشن اور پولیس کے ذریعے سے من پسند نتائج حاصل کیے ،اور اب حکمران اپنی شکست کو دیکھتے ہوئے میدان سے فرار ہو گئے ہیں ۔

    سید صدر الدین شاہ راشدی کا کہنا تھا کہ اب قانون اور آئین کا مذاق نہ بنایا جائے اور ملک کے اندر انارکی نہ پھیلائی جائے۔

  • پولیس پر تشدد کے جرم میں ملوث دلہا کے والد سمیت 3 افراد گرفتار

    پولیس پر تشدد کے جرم میں ملوث دلہا کے والد سمیت 3 افراد گرفتار

    کراچی: لیاری ایکسپریس وے گارڈن انٹرچینج پر پولیس پر تشدد اور فائرنگ کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ملزم فیض احمد اپنے دو بیٹوں کی بارات لے کر جب حسن اسکوائر سے لیاری ایکسپریس وے پر چڑھے تو وہاں موجود عملے نے منع کیا کہ لیاری ایکسپریس وے پر موٹر سائیکل لے جانا منع ہے اس کے باوجود ویگو اور دیگر گاڑیوں میں سوار افراد ناکہ توڑ کر لیاری ایکسپریس وے پر چلے گئے۔

    عملے نے فوی وائرلیس پر اگلے ناکے پر موجود پولیس افسر کو پیغام بھیجا کہ آپکی طرف باراتی آرہے ہیں بارات میں موٹر سائیکلیں بھی موجود ہیں انھیں واپس بھیج دیں افسر نے باراتیوں کو روک کر سمجھانے کی کوشش کی موٹر وے پر موٹر سائیکلیں لانا منع ہے اس کے باوجود باراتی نہیں مانے اس دوران باراتی اور موٹر وے پولیس میں تکرار ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی-

    ملزمان نے پولیس افسر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی سرکاری ایس ایم جی رائفل چھین کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 رضا کارسمیت 4 افراد زخمی ہوگئے اور سرکاری گاڑی کے شیشے توڑ کر اسے جزوی طور پر نقصان پہنچایا گیا جس کے بعد باراتی موقع سے فرار ہوگئے۔

    گارڈن پولیس نے انسپکٹر سید نعمان کی مدعیت میں دہشت گردی ایکٹ ، سرکاری کام میں مداخلت، ہنگامہ آرائی، سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچا اور پولیس افسر پر تشدد کرنے کا مقدمہ درج کروایا تھا جس کے بعد گارڈن پولیس نے پرانی سبزی منڈی کے قریب کرنال بستی پر چھاپہ مار کر دولہا کے والد سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس نے جائے وقوعہ کی سی سی فوٹیج حاصل کر کے پرانی سبزی منڈی کے قریب کرنال بستی پر چھاپہ مارا اور تین ملزمان فیض احمد ، یاسر اور سراج کو گرفتار کرلیا گرفتار ملزم فیض احمد دولہا کے والد اور پرانی سبزی منڈی کے رہائشی ہیں ملزم فیض احمد مقدمے میں نامزد ہے۔

  • کراچی: ماڑی پور میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے بچہ جاں بحق،2 افراد زخمی

    کراچی: ماڑی پور میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے بچہ جاں بحق،2 افراد زخمی

    کراچی میں ماڑی پور کے علاقے مچھرکالونی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک بچہ جاں بحق جبکہ دو راہگیر شدید زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق ماڑی پور مچھرکالونی میں فرار ہوتے ہوئے ڈاکوؤں کی فائرنگ کی زد میں آنیوالا بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا جبکہ دو شدید زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    حکام کے مطابق بچے کی شناخت 8 سالہ نبی عالم کے نام کی گئی۔ پولیس کی جانب سے فرار ڈاکوؤں کی گرفتاری کےلیے کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    ادھر کراچی میں شدید بارشوں کی وجہ سے بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں، ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ بارشوں کے حوالے سے اگلے تین دن انتہائی اہم ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کی زیر صدارت بارشوں سے متعلق اجلاس ہوا جس میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ایڈمنسٹریٹرز اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ایڈمنسٹریٹرز نے انتظامات سے متعلق ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو تفصیلی بریفنگ دی۔

    ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اگلے تین دنوں کے لیے بارشوں کی پیشنگوئی کے مدنظر تمام انتظامات مکمل رکھے جائیں، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ایڈمنسٹریٹر ز اپنے اپنے اضلاع میں کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں۔

  • عامرلياقت کی سابقہ اہليہ دانيہ شاہ کےخلاف ايف آئی اے ميں درخواست جمع

    عامرلياقت کی سابقہ اہليہ دانيہ شاہ کےخلاف ايف آئی اے ميں درخواست جمع

    کراچی:عامرلياقت کی سابقہ اہليہ دانيہ شاہ کےخلاف ايف آئی اے ميں درخواست جمع،اطلاعات کے مطابق عامر لیاقت حسین کی بیٹی دعا عامر اور سابق اہلیہ بشریٰ نے انکی تیسری اہلیہ دانیہ کیخلاف ایف آئی اے سائبر کرائم میں درخواست جمع کرادی ہے۔

    عامر لیاقت کی سابق اہلیہ بشریٰ کا کہنا ہے دانیہ شاہ کی جانب سے وائرل ويڈيوز عامرلياقت کی موت کی وجہ بنی۔

    سابق اہليہ عامر لياقت بشریٰ بی بی کا کہا تھا کہ شرعی طورپردانيہ عامر لياقت کی بيوی نہيں رہی، دانيہ شاہ کئی ويڈيوزميں کہہ چکی ہيں کہ وہ عامرلياقت سے خلع لے چکی۔

    بشریٰ بی بی کا موقف ہے کہ دانيہ شاہ کی جانب سے وائرل ويڈيوز عامرلياقت کی موت کی وجہ بنی۔ دانيہ کے خلاف ايف آئی اے ميں ثبوت جمع کراديے ہيں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم انصاف چاہتے ہيں، شرعی طور پر پوسٹ مارٹم ناپسنديدہ عمل ہے اسلئے نہيں کرايا۔ مزید کہا کہ قتل کا تاثرغلط ہے،عامرلياقت کی موت طبعی تھی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سیشن جج جنوبی کی عدالت میں عامر لیاقت کی سابق اہلیہ دانیہ شاہ کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کاروائی سے متعلق درخواست پر ایف آئی اے کی جانب سے جواب جمع کرادیا گیا تھا ۔سیشن جج جنوبی کی عدالت میں عامر لیاقت کی سابق اہلیہ دانیہ شاہ کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کاروائی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

    ایف آئی اے کی جانب سے جواب جمع کرادیا۔ ایف آئی اے نے جواب میں کہا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں۔ عامر لیاقت کے اہلخانہ کی جانب سے دانیہ شاہ کے خلاف کاروائی سے متعلق کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کسی کی غیر اخلاقی تصاویر یا ویڈیو سوشل اپ لوڈ کرنا سنگین جرم ہے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم کو اختیار ہے کہ اس طرح کی شکایت پر کاروائی کرسکتی ہے۔

    لیکن درخواستگزار متاثرہ فریق کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ درخواستگزار کی جانب جس ویڈیو کا دعوی کیا گیا ہے اس سے متعلق کوئی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔ درخواستگزار اس طرح کی شکایت کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست مسترد کی جائے۔ عدالت نے درخواست کی سماعت 14 جولائی تک ملتوی کردی۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر ایف آئی اے کی رپورٹ پر دلائل طلب کرلیے۔ سماجی تنظیم نے دانیہ شاہ کے خلاف سیشن عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت ایف آئی اے کو دانیہ شاہ کے خلاف کارروائی کا حکم دے۔ دانیہ نے عامر لیاقت کی نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کیں۔

  • بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس کا نفاذ، تاجروں نے 5دن کا الٹی میٹم دیدیا

    بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس کا نفاذ، تاجروں نے 5دن کا الٹی میٹم دیدیا

    کراچی: تاجروں نے بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس کا نفاذ واپس لینے کیلئے 5 دن کا الٹی میٹم دیدیا۔ آل کراچی تاجر اتحاد عتیق میر کا کہنا ہے کہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو کے الیکٹرک ہیڈ آفس پر احتجاجی دھرنا دیں گے۔

    حکومت نے بجٹ 23-2022ء میں تمام تاجروں پر بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر کے الیکٹرک نے رواں ماہ تمام کمرشل میٹرز کے بلوں میں اضافی ٹیکس شامل کردیا ہے۔

    حکومت نے فائلرز پر 3 ہزار روپے جبکہ نان فائلرز پر 6 ہزار روپے اضافی ٹیکس نافذ کیا ہے۔

    آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے اعلان کیا ہے کہ کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے بدھ 27 جولائی 2022ء تک بجلی کے بلوں سے 6 ہزار روپے منہا کرنے کا فیصلہ نہ کیا تو کراچی کے تاجر کے الیکٹرک ہیڈ آفس پر احتجاجی دھرنا دیں گے اور دھرنا اس وقت تک ختم نہیں کیا جائے گا جب تک تاجروں کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے۔

    عتیق میر کے مطابق جمعہ کو تاجروں کی اہم اور مرکزی تنظیموں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تاجروں سے بجلی کے بلوں میں ماہانہ 6 ہزار روپے کے ٹیکس کو قبول نہیں کیا جاسکتا، اس فیصلے کیخلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

    اجلاس کے بعد ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ صارفین بلوں میں شامل بھاری اور ناقابل برداشت رقوم کے سبب ادائیگی سے قاصر ہیں، ان کے بلز درست ہونے تک ادائیگی کی تاریخ میں اضافہ کیا جائے اور لیٹ پیمنٹ سرچارج وصول نہ کیا جائے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فنانس بل کے مطابق فکس ٹیکس کے پہلے سلیب 30 ہزار روپے تک کے بلوں پر 3 ہزار روپے ماہانہ تجویز کیا گیا تھا، جس میں سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس شامل تھے، لیکن کے الیکٹرک کے رواں ماہ جاری کئے گئے بلوں میں بلاتفریق اور کسی منصوبہ بندی کے بغیر صرف سیلز ٹیکس کی مد میں 6 ہزار روپے ماہانہ شامل کئے گئے ہیں جو کہ فنانس بل کے مجوزہ سلیب کے برعکس اور سراسر زیادتی پر مبنی ہیں۔

    عتیق میر نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے ذاتی طور پر ٹیکس ڈپارٹمنٹ، کے الیکٹرک اور کراچی چیمبر کے ذمہ داران سے مسلسل رابطہ کیا، جس میں یہ عجیب بات سامنے آئی کہ کے الیکٹرک نے فنانس بل اور ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی ہدایات کو سمجھے بغیر یہ رقم شامل کردی ہے، اس اقدام کے نتیجے میں کراچی کے تاجر شدید غم و غصے اور اشتعال کا شکار ہوگئے ہیں۔

    دریں اثناء آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی بدھ کو ہنگامی اجلاس ہوا تھا جس میں مارکیٹوں کی سطح پر احتجاجی مظاہروں کا فیصلہ کیا گیا تھا، اس فیصلے کے مطابق جمعرات کو کریم سینٹر اور جمعہ کو ایم اے جناح روڈ پر احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

    ایسوسی ایشن کے رہنماء شرجیل گوپلانی کے مطابق احتجاجی مظاہرے جاری رہیں گے، احتجاج کا دائرہ بڑھایا جارہا ہے، ظالمانہ ٹیکس کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

  • ملک میں 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی طبعی دماغی مرض کا شکار ہے

    ملک میں 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی طبعی دماغی مرض کا شکار ہے

    دماغی فعلیات (فزیالوجی) کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں کم ازکم 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی طبعی دماغی مرض کی شکار ہے جن میں دردِ سر عام کیفیت ہے۔ یہ بات انہوں نے عالمی یومِ دماغی صحت کی مناسبت سے کہی ہے۔

    ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق: ہر سال، 22 جولائی دماغی صحت کے عالمی دن کے لیے وقف ہے،اس سال ورلڈ فیڈریشن آف نیورولوجی (ڈیلیو ایف این) نے دماغی صحت بہتر بنانے اور دماغی و اعصابی بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے کی مشترکہ کوشش پر توجہ مرکوز کی ہے۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان میں دماغی امراض روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسکے باوجو کہ ملکی سطح پر آبادی کی بنیاد پر دماغی امراض کی کوئی مربوط تحقیق نہیں ہوئی اسکے باوجود ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کی 10 فیصد آبادی مختلف دماغی امراض میں مبتلا ہے۔

    22 کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف50 کے قریب مراکز میں نیورولوجسٹ کی سہولتیں میسر ہیں۔ پاکستان میں 1998 کے بعد سے نیشنل ہیلتھ سروے نہیں کیا جاسکاجبکہ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ملک میں دماغی امراض سمیت مختلف بیماریوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ پروفیسر واسع نے کہا کہ بیماریوں کے بوجھ میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے مریضوں کے اہلخانہ پر معاشی ناہمواریوں کا بھی سامنا ہے۔

    ڈاکٹر نادر نے کہا کہ اس وقت دنیا میں ہر سال 9 ملین افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے مختلف دماغی امراض میں مبتلا ہو کر موت کا شکار ہو رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت تیزی کے ساتھ فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اگر اس صورتحال کا بروقت تدارک نہیں کیا گیا توآنے والے دنوں میں دماغی امراض اور اموات کی شرح میں مزید اضافہ ہونے کے امکانات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی سطح پر فضائی آلودگی کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ آنے والی نسل کو آلودگی سے بچایا جا سکے۔

    مقررین نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت آلودگی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے صاف ہوا،ماحول کی صفائی اور شجر کاری کا کوئی انتظام نہیں جس سے آلودگی پر قابو پایا جاسکے،ہمارے شہروں میں صنعتی زون قائم ہونے کی وجہ سے زہر آلود دھواں سانس اور دیگر زہنی امراض میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انسانی دماغ کو صاف ستھرا اور پرسکون ماحول درکار ہوتا ہے جس کے نتیجے میں انسان کا بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام مضبوط ہوتا جبکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ماحول دوستی کے حوالے سے حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر کوئی انتظام موجود نہیں ہے جس کی وجہ آئندہ سالوں میں دماغی امراض کی شرح میں اضافے کے ساتھ ساتھ اموات میں بھی اضافے کا امکان ہے۔

    اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک نے پریس کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جسمانی معذوری کی نمبر ایک وجہ دماغی امراض ہیں،امراض کے نتیجے میں اموات ہونے میں دماغی امراض کا بوجھ دوسرے نمبر پر ہے،ہر تین میں سے ایک انسان کو دماغی مرض لاحق ہے۔

    دنیا بھر میں دماغی امراض بہت بڑی تعداد میں انسان صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ مائیگرین (درد شقیقہ) دنیا کے تقریبا تین بلین انسانوں کی روزمرہ زندگی نہ صرف متاثر کرتا ہے بلکے مختلف تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ عام طور پر پرائمری قسم کے سر درد 50 سال سے کم عمر کے انسانوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں اور اسطرح کے سر درد کی وجہ سے جہاں انسان کی معیار زندگی خراب ہو جایا کرتی ہے وہیں بیماری کی وجہ سے روز مرہ کام کاج متاثر ہونے کے بعد ایک معاشی بحران کا باعث بن جایا کرتا ہے۔ فالج، کمزور یادداشت(الزائمر)، رعشہ، مرگی سمیت دیگر دماغی امراض پاکستان سمیت دنیا بھی کی آبادی میں بڑے تناسب سے پائے جاتے ہیں۔ ان دماغی عارضہ کے باعث جہاں جسمانی نظام صحت خرابی کا شکار ہو جاتا ہے وہیں ان امراض کے باعث خاندان سمیت معاشرے کو صحت مند انسانوں کی کمی واقع ہو جایا کرتی ہیں جسکے باعث فرد، خاندان و معاشرے ایک معاشی بحران کی جانب گامزن ہو جاتا ہے۔

    شرکا نے کہا کہ عالمی یوم دماغ 2022 کے موقع پر آئیں سب مل کر دماغی امراض کے حوالے سے “آگاہی” پیدا کریں کیونکہ دماغی صحت ذہنی، سماجی و جسمانی تندرستی کے لیے “بنیاد” ہے۔ دماغی امراض سے “بچاؤ” کیلئے مشترکہ کوششیں کریں کیونکہ دماغ کے بہت سے امراض سے “بچاؤ” ممکن ہے۔ ان امراض کے حوالے سے وکالت کریں تاکہ عالمی سطح پر ہونیوالی دماغی صحت کی کوششوں کا حصہ بنیں۔