Baaghi TV

Category: کراچی

  • سیکورٹی فراہم کی جائے،بینک اکاؤنٹس بحال کیا جائے، دعا زہرہ کا شوہر عدالت پہنچ گیا

    سیکورٹی فراہم کی جائے،بینک اکاؤنٹس بحال کیا جائے، دعا زہرہ کا شوہر عدالت پہنچ گیا

    سیکورٹی فراہم کی جائے،بینک اکاؤنٹس بحال کیا جائے، دعا زہرہ کا شوہر عدالت پہنچ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی سے بھاگ کر شادی کرنے والی دعا زہرہ کے شوہر ظہیر نے بینک اکاؤںٹس اور شناختی کارڈ کی بحالی کے لئے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے

    دعا زہرہ کے شوہر ظہیر اور شبیر کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست پر فوری سماعت کی بھی استدعا کی گئی ہے، سندھ ہائیکورٹ نے ظہیر کی استدعا منظور کر لی ہے ، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کچھ دیر میں درخواست پر سماعت کرے گا

    ظہیر اور شبیر نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا کہ وہ کراچی میں دعا زہرا کیس کے ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں، دونوں کو پیشی کے دوران سکیورٹی خدشات لاحق ہیں محکمہ داخلہ سندھ،آئی جی اور دیگر کو دونوں درخواست گزاروں کو سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے بینک اکاؤنٹس اور شناختی کارڈ بحال کرنے کا بھی حکم دیا جائے

    دعا زہرا کی عدم بازیابی پر سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان کے شناختی کارڈز اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد نادرا اور اسٹیٹ بینک نے عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے ان کے شناختی کارڈز اور اکاؤنٹس منجمد کر دیئے تھے

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

    دعا زہرہ کیس،عمر کے تعین کیلئے ایک بار پھر میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

     دعا زہرہ کو عدالت نے دارالامان بھجوانے کا حکم 

    واضح رہے کہ دعا زہرہ نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی تھی، دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کا کہنا ہے کہ کہ دعا اور میرا رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا اور پچھلے تین سال سے ہمارا رابطہ تھا دعا زہرہ کراچی سے خود آئی ہے دعا نے میرے گھر کے باہر آکر مجھے میسج کیا وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی میرے گھر والے شادی پر آمادہ تھے میرے گھر والے بھی چاہتے تھے کہ دعاکے گھر والے رضامند ہوں لیکن دعا کے گھر والوں نے شادی کیلئے مثبت جواب نہیں دیا اسی وجہ سے یہ خود اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی

  • تحریک لبیک پاکستان کا بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے پر الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنے کا اعلان

    تحریک لبیک پاکستان کا بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے پر الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنے کا اعلان

    الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کو مؤخر کرنے کے غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری رکھنے کا اعلان کردیا گیا ہے ۔امیر کراچی و پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی مفتی محمد قاسم فخری نے الیکشن کمیشن پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی حلال کمائی کو الیکشن کمیشن کے یکطرفہ فیصلے کی نذر نہیں ہونے دیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقررہ تاریخ 24 جولائی پر ہی بلدیاتی الیکشن کروائے جائیں۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ جمعہ کی نماز الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر ہی ادا کی جاۓ گی ۔امیر کراچی مفتی محمد قاسم فخری نے الیکشن کمیشن سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن بتاۓ کس کے ایجنڈے پر بلدیاتی الیکشن ملتوی کئے گئے ؟ انہوں نے کہا کہ تباہ حال کراچی کو مزید تباہی کی جانب دھکیلنے نہیں دیں گے ۔ مرکزی امیر TLP حافظ سعد رضوی کی کراچی میں قدم رکھتے ہی الیکشن کمیشن نے الیکشن منصوخ کردیا ۔

    انہوں نے الیکشن کمیشن سمیت تمام مخالفین پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ اہلیان کراچی اب کسی دھند یا بارش کے نام پر بیچے جانے والے منجن کو برداشت نہیں کریں گے ۔نائب امیر کراچی مفتی عمر فاروق قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جانب سے امیر محترم کے شاندار استقبال سے مخالفین گهبرا گۓ ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کے مزید یکطرفہ فیصلے برداشت نہیں کئے جائیں گے ۔سرپرست اعلیٰ کراچی علامہ اعجاز رضا اختر القادری نے کہا کہ تحریک لبیک عوامی حقوق پر کسی کی سودے بازی برداشت نہیں کرے گی ۔ ناظم اعلیٰ کراچی علامہ غلام یاسین قادری کراچی کے باشعور عوام کراچی کی تباہی کے ذمہ داروں کو پہچان چکے ۔ علاوہ ازیں نامزد امیدوار این اے 245 علامہ احمد رضا قادری سمیت تحریک لبیک پاکستان کراچی ڈویژن کے تمام اضلاع کے رہنمااؤں نے خطاب کیا جب کہ ہزاروں کی تعداد میں عوام اور کارکنان اهتجاجی مارچ میں شرکت کی ۔

  • سندھ میں بلدیاتی انتخابات کو موخرکرنے کی کوئی درخواست نہیں دی،سعید غنی

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات کو موخرکرنے کی کوئی درخواست نہیں دی،سعید غنی

    وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو ایسی کوئی درخواست نہیں بھیجی ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا جائے۔بلدیاتی انتخابات 24 جولائی کو ہوجاتے تو یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں تھے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کے التواء کو پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت کے گلے میں ڈالنا سوائے سیاسی مفادات کے حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کو چیف سیکرٹری سندھ یا وزیر اعلیٰ سندھ نے یا کسی اور ادارے کو کوئی خط نہیں لکھا کہ الیکشن کو آگے بڑھایا جائے یہ خالصتاً الیکشن کمیشن کا اپنا فیصلہ ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے جاری ایک ویڈیو بیان میں کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ روز الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا ہے اس کا الزام کچھ سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت پر لگا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقائق سب کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ جو غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں اس کا خاتمہ ہوسکے۔

    سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو ایسی کوئی درخواست نہیں بھیجی ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن اور بعد ازاں ایم کیو ایم کی جانب سے مردم شماری کو جواز بنا کر انتخابات کو موخر کرنے کی جو درخواست دائر کی تھی اس میں بھی پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں جو درخواست جمع کروائی گئی تھی اس کے جواب میں سندھ حکومت نے کہا تھا کہ اس حوالے سے ایک سلیکٹ کمیٹی سندھ اسمبلی کی تمام جماعتوں کی بنائی گئی ہے، جس میں پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، جی ڈی اے، جماعت اسلامی اور ٹی ایل پی شامل ہیں۔

    اس سلیکٹ کمیٹی میں سوائے جماعت اسلامی کے تمام سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی قانون میں ترامیم تک انتخابات موخر کرنے کا کہا اور پیپلز پارٹی نے بطور سندھ حکومت ان تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ہائی کورٹ کے سامنے رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کئی مرتبہ میں نے، سید ناصر حسین شاہ، مرتضیٰ وہاب اور دیگر نے بھی اپنی پریس کانفرنسز میں واضح طور پر کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی بھی انتخابات کو آگے کرنے کی بات نہیں کی ہے اور آج بھی ہمارا یہی موقف ہے۔

    سعید غنی نے کہا کہ اس تمام صورتحال کے بعد صوبائی الیکشن کمیشن کا ایک خط سامنے آیا، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ان کی چیف سیکرٹری سندھ، مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز و دیگر سے مٹینگز ہوئی اور انہوں نے ان سے تفصیلات لی اور اس خط میں انہوں نے اپنے ڈسٹرکٹ کے فیلڈ آفیسرز کا بھی تذکرہ کیا ہے،۔ سعید غنی نے کہا کہ میری خود چیف سیکرٹری سندھ سے اس سلسلے میں بات ہوئی ہے اور انہوں نے بتایا کہ ان کی صوبائی الیکشن کمیشن سے ریگولر مٹینگز ہوتی رہتی ہیں کیونکہ الیکشن میں  الیکشن کمیشن ساری لاجسٹک اور سپورٹ  ایڈمنسٹریشن کو فراہم کرنی پڑتی ہے۔اس 15 جولائی کو چیف سیکرٹری کے ساتھ الیکشن کمیشن کی ہونے والی مٹینگز میں بارشوں کے حوالے سے تو زیادہ بات نہیں ہوئی  تاہم 18 جولائی کے اجلاس میں بارشوں کا تذکورہ ضرور ہوا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ ہمارے فیلڈ آفیسرز کی جانب سے جو رپورٹ ملی ہے، اس میں انہوں نے بارشوں کے باعث کچھ پولنگ اسٹیشن اور کچھ راستے خراب ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ علاقوں میں الیکشن کا انعقاد مشکل ہوجائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس رپورٹ میں ڈی سی دادو کی رپورٹ کا ذکر ہوا تھا، جس میں انہوں نے 9 یوسیز میں الیکشن کے انعقاد پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے بعد بھی سیکرٹری الیکشن کمیشن اور صوبائی الیکشن کمیشن کا رابطہ چیف سیکرٹری سندھ سے رہا، لیکن چیف سیکرٹری نے کسی اور قطعی طور پر ان سے یہ درخواست نہیں کی کہ انتخابات کو آگے کردیا جائے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ الیکشن کمشنر نے جاری خط میں خود اس بات کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے میٹ آفس سے موسم کی رپورٹ لی اور اپنے فیلڈ آفیسرز سے رپورٹ لی،متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے جو رپورٹ دی ان تمام کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات 24 جولائی کو ہوجاتے تو یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم انتخابات سے بھاگ نہیں سکتے کیونکہ جو فیز ون ہوا ہے اس میں ہم نے تمام اضلاع میں کلین سوئپ کیا ہے  اور ان علاقوں اور شہروں میں بھی جہاں پیپلز پارٹی روائتی طور پر کمزوررہی ہے وہاں بھی ہم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سکھر، نوابشاہ، میر پورخاص  کے شہری علاقوں میں کلین سوئپ کیا ہے اور اب فیز ٹو میں بھی اور جہاں انتخابات ہونا ہیں وہاں بھی حیدرآباد میں پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے، جس کے 25 سے زائد چیئرمین بلا مقابلہ منتخب ہوچکیں ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ایک جماعت جو پہلا فیز کلین سوئپ اور دوسرا فیز بھی کامیابیوں کو سامنے دیکھ رہی ہو تو وہ کیوں انتخابات سے بھاگے گی۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی 2015 کے مقابلے میں ہم اس سے بہتر پوزیشن میں ہیں اور ہم اس کے مقابلے کئی گنا زیادہ نشستیں جیت جانے کی پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تیاری بھرپور تھی۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمارے کارکن اور امیدواروں میں انتخابات کے التواء سے مایوسی پھیلی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ آج پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ ہم اس فیصلہ پر عدالت میں جائیں، جبکہ خود سلیکٹ کمیٹی میں پی ٹی آئی نے انتخابات کو موخر کرنے کا کہا تھا۔ اسی طرح ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور دوسری جماعتوں نے بھی انتخابات آگے کرنے کا کہا تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے التواء کی وجوہات اپنے نوٹیفیکشن میں درج کردی ہیں، اب اس کو پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت کے گلے میں ڈالنا سوائے سیاسی مفادات کے حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ انتخابات 24 جولائی کو ہی ہوتے تاہم اگر الیکشن کمیشن نے اس کو موخر کرکے آگے کیا ہے تو اس کا جواب وہ الیکشن کمیشن سے ہی لیں۔

    سعید غنی نے کہا کہ نہ ہی چیف سیکرٹری سندھ نے، نہ ہی وزیر اعلیٰ سندھ نے الیکشن کمیشن کو کوئی خط نہیں لکھا ہے اور نہ ہی کسی اور ادارے کو کہ انتخابات کو آگے کروا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ خالصتاً الیکشن کمیشن کا اپنا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوسرے فیز کو مکمل طور پر موخر کرنے سے ہمیں مایوسی ہوئی ہے اور یہ پیپلز پارٹی کے حق میں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ایک ماہ کی تاخیر سے امیدواروں پر مالی بوجھ کے ساتھ ساتھ ان کو مایوسی بھی ہوگی اور ووٹرز بھی اس فیصلے سے مایوس نظر آرہے ہیں۔

  • سندھ اور بلوچستان کو ملانے والا پل ایک بارپھر ٹریفک کیلئے بند

    سندھ اور بلوچستان کو ملانے والا پل ایک بارپھر ٹریفک کیلئے بند

    کراچی:صوبہ سندھ اور بلوچستان کو قومی شاہراہ کے ذریعے ملانے والا پل ایک بار پھر ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے۔

    نیشنل ہائی وے اتھارٹی حکام کے مطابق ضلع لسیبلہ میں قومی شاہراہ پر واقع پل کو حب ندی سے گزرنے والے سیلابی ریلے نے شدید متاثر کیا ہے، پل کے 3 ستونوں کی حفاظتی دیواریں سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہیں، جن کی مرمت اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر شروع کردیئے گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق پل کو حفاظتی نقطۂ نظر سے عارضی طور پر ٹریفک کی آمد و رفت کیلئے بند کردیا ہے۔

    ادھرکراچی سمیت سندھ بھر میں 23 سے 26 اگست تک ایک اور طوفانی بارشوں کے اسپیل کی محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے پیش نظر چیف سیکریٹری سندھ کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا جس میں متوقع بارشوں کےحوالے سے انتظامات پر متعلقہ حکام نے تفصیلی بریفنگ دی جب کہ صورتحال کے پیش نظر صوبے بھر میں محکمہ صحت اور بلدیاتی کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    چیف سیکریٹری سندھ سہیل راجپوت نے اجلاس میں شریک افسران پر واضح کیا کہ بارش کے پانی کی نکاسی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی اور بارشوں کے دوران کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اپنے ہیڈ کوارٹر نہیں چھوڑیں گے۔

    اجلاس کو ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ سندھ میں ہفتے کے روز سے مون سون کا زوردار اسپیل شروع ہوگا جس کے دوران صوبے کے بیشترعلاقوں میں 300 ملی میٹر تک بارش متوقع ہے۔

  • کراچی میں بارشوں کا ایک اور الرٹ جاری

    کراچی میں بارشوں کا ایک اور الرٹ جاری

    محکمہ موسمیات نے کراچی میں بارشوں کا ایک اور الرٹ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات نے 22 جولائی کی رات یا 23 جولائی کی صبح تک طاقتور ہواؤں کا سلسلہ سندھ میں داخل ہونےکا امکان ظاہر کیا ہے جو 26 جولائی تک اثرانداز رہےگا۔

    لاہورمیں بارش نے 20 سال کا ریکارڈ توڑ دیا،گلی محلےاورسڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش…

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں 24 سے 26 جولائی کے دوران اکثر مقامات پرگرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے جبکہ کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 23 سے 26 جولائی کےدوران تھرپارکر اورعمرکوٹ میں اکثر مقامات پرگرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جب کہ میرپورخاص، بدین، ٹھٹھہ اور دیگر علاقوں میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    کے الیکٹرک نے بجلی 11 روپے 39 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری کر لی

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بھی خضدار، لسبیلہ،حب اور کیرتھر رینج میں بارشوں سے حب ڈیم پر دباؤ پڑ سکتا ہے جبکہ دادو،جامشورو اور نشیبی علاقوں میں سیلابی ریلہ آنےکا بھی امکان ہے۔

    دوسری جانب محکمہہ موسمیات نے کراچی میں آج اور کل مطلع کبھی مکمل اور کبھی جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے شہر میں ہلکی بارش اور بوندا باندی کا بھی امکان ہے، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 سے 34 ڈگری سینٹی تک رہ سکتا ہے۔

    دوسری جانب لاہور میں 7 گھنٹے کی مسلسل بارش نے 20 سال کا ریکارڈ توڑ دیا گلی محلے اور سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں ایم ڈی واسا کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ بارش تاج پورہ میں 234 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے-

    ائیرپورٹ ایریا میں 188 ملی میٹر بارش ہوچکی ہے۔مغل پورہ کے علاقے میں 171، چوک ناخدا میں 159، پانی والا تالاب کے علاقے میں 158 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔لکشمی چوک میں 141، گلشن راوی کے علاقہ میں 128، فرخ آباد میں 119 ملی میٹر بارش ہوئی۔

    بلدیاتی انتخابات ملتوی،جماعت اسلامی کی الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر دھرنا…

  • کے الیکٹرک نے بجلی 11 روپے 39 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری کر لی

    کے الیکٹرک نے بجلی 11 روپے 39 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری کر لی

    کے الیکٹرک نے بجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست دے دی۔

    باغی ٹی وی : کے الیکٹرک کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جس میں جون کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کراچی والوں کیلئے بجلی 11 روپے 39 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع کروادی گئی ہے، جس پر نیپرا کے الیکٹرک کی درخواست پر 28 جولائی کو سماعت کرے گا۔

    نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک نے جون کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ بجلی 11.39 روپے مہنگی کرنے کی درخواست کی ہے۔

    دوسری جانب سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) حکام نے بھی جون کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 9 روپے 90 پیسے فی یونٹ اضافے کی سمری ارسال کردی ہے درخواست میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ 13 ارب یونٹ بجلی پیدا ہوئی، جس کی لاگت 213 ارب روپے تھی۔

    ملک میں فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت فی یونٹ 36 روپے 20 پیسے، کوئلے سے 20 روپے 80 پیسے، مقامی گیس سے 8 روپے 92 پیسے، ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 28 روپے 38 پیسے آئی-

    درخواست کے مطابق ایران سے 19 روپے 57 پیسے فی یونٹ میں بجلی درآمد کی گئی۔42پیسے فی یونٹ بجلی لائن لاسز کی نذر ہو گئی۔

  • دعا زہرا کی بازیابی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    دعا زہرا کی بازیابی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرا کی بازیابی کی درخواست پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : سندھ پولیس نے دعا زہرا کے شوہر ظہیر احمد کو عدالت میں پیش کیا جہاں جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔

    دورانِ سماعت جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ لڑکی کو تو ہرصورت کراچی لانا ہے، جرم کراچی میں ہوا ہے توکیس کی سماعت بھی کراچی میں ہوگی، کیس اسی شہرمیں زیر التوا ہے،کراچی میں بھی شیلٹرہوم ہیں، کراچی میں بھی لڑکی کوکوئی خطرہ نہیں ہوگا،کراچی کے شیلٹر ہوم میں بھی حفاظتی انتظامات ہوں گے-

    عدالت نے ملزم ظہیر کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ چاہتے ہیں لڑکی کو کراچی منتقل نہ کیا جائے؟ اس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ لڑکی کوکراچی منتقل نہیں کیا جاسکتا، لڑکی اگرکسی سے نہ ملنا چاہے توبھی کوئی اس سے نہیں مل سکتا، عدالت بھی چاہے تو لڑکی سے ملنے کا نہیں کہہ سکتی۔

    وکیل کے دلائل پر عدالت نے کہا کہ لڑکی کم عمر ثابت ہوچکی ہے، اس کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں، ہم لڑکی کی کسٹڈی والدین کے حوالے کرنے کا حکم نہیں دے رہے۔

    دورانِ سماعت سندھ اور وفاقی حکومت کے وکلا نے بھی دعا زہرا کو کراچی منتقل کرنے کی حمایت کردی جس پر عدالت نے لڑکی کی بازیابی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیاعدالت نے کہا کہ درخواست پر فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا۔

    واضح رہےکہ دعا زہرا کی بازیابی کے لیے والد مہدی کاظمی نے درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے ملزم ظہیر احمد کو نوٹس جاری کیا تھا-

  • بلدیاتی انتخابات ملتوی،جماعت اسلامی کی  الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر دھرنا دینے کی دھمکی

    بلدیاتی انتخابات ملتوی،جماعت اسلامی کی الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر دھرنا دینے کی دھمکی

    جماعت اسلامی نے گزشتہ روز الیکشن کمیشن کی جانب سے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے دھرنا دینے کی دھمکی دی ہے-

    باغی ٹی وی : امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم سندھ کے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہیں ہمارا مطالبہ ہے الیکشن وقت پر کرائے جائیں، ہم ان کی سازش کو ناکام کریں گے، الیکشن ملتوی کرنا جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے 22 جولائی کو الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے پی ٹی آئی کے رہنما علی زیدی نے حیدرآباد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کی جانب سے سندھ میں بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہیں الیکشن کمیشن پہلے ہی متنازع تھا اب اور ہوگیا، ہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

    خیال رہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 24 جولائی کو پولنگ ہونا تھی لیکن گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ملتوی کردیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیاگیا کراچی میں بارشوں کی پیشگوئی کے باعث انتخابات ملتوی کرنےکی درخواست کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے فیصلہ متحدہ قومی موومنٹ، چیف سیکرٹری، جی ڈی اے اور صوبائی الیکشن کمشنرکی درخواست پرکیا ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ اب 28 اگست 2022 کو ہوگا۔

  • بلدیاتی انتخابات ملتوی،پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    بلدیاتی انتخابات ملتوی،پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ میں جانے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کے رہنما علی زیدی نے حیدرآباد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کی جانب سے سندھ میں بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہیں الیکشن کمیشن پہلے ہی متنازع تھا اب اور ہوگیا، ہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

    اس کے علاوہ سابق گورنر سندھ عمران اسمعیل نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات اور این اے 245 کا انتخاب ملتوی ہونا پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کی شکست کی نشانی ہے ضمیروں کا سوداگر پنجاب میں منڈی سجا کر سندھ میں انتخابات سے بھاگ رہا ہے، ٹھپہ مافیا آج پھر راہ فرار اختیار کر چکا۔

    دوسری جانب خرم شیرزمان نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہا،الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں، ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے قبل ازوقت دھاندلی کی۔

    خیال رہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 24 جولائی کو پولنگ ہونا تھی لیکن گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ملتوی کردیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیاگیا کراچی میں بارشوں کی پیشگوئی کے باعث انتخابات ملتوی کرنےکی درخواست کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے فیصلہ متحدہ قومی موومنٹ، چیف سیکرٹری، جی ڈی اے اور صوبائی الیکشن کمشنرکی درخواست پرکیا ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ اب 28 اگست 2022 کو ہوگا۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے ساتھ کراچی میں این اے 245 کا ضمنی الیکشن بھی ملتوی کردیا ہے الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 245 کاضمنی الیکشن ملتوی کردیا گیا ہے، این اے 245 کراچی میں ضمنی الیکشن 27 جولائی کو شیڈول تھا۔

    خیال رہےکہ این اے 245 کی نشست پی ٹی آئی کے ایم این اے عامر لیاقت کے انتقال پر خالی ہوئی تھی الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 245 کراچی کا ضمنی انتخاب اب 21 اگست 2022 کو ہوگا۔

  • قائم مقام گورنر سندھ آغا سراج درانی سے روزنامہ 92 نیوز اور بلوچستان ٹائمز کے ایڈیٹر اور معروف مصنف سعید خاور کی ملاقات

    قائم مقام گورنر سندھ آغا سراج درانی سے روزنامہ 92 نیوز اور بلوچستان ٹائمز کے ایڈیٹر اور معروف مصنف سعید خاور کی ملاقات

    کراچی : قائم مقام گورنر سندھ آغا سراج درانی سے روزنامہ 92 نیوز اور بلوچستان ٹائمز کے ایڈیٹر اور معروف مصنف سعید خاور نے گورنر ہاﺅس میں ملاقات کی۔ اس موقع پر مصنف سعید خاور نے قائم مقام گورنرسندھ کو اپنی تھر پر تحقیقی کتاب "Thar-The Land of Thurst” بارے میں آگاہی دی۔ واضح رہے کہ انگریزی میں لکھی گئی سعید خاور کی کتاب کا اردو، سندھی اور سرائیکی زبان میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ قائم مقام گورنر سندھ نے تھر کی مکمل تاریخ لکھنے پر مصنف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مصنف سعید خاور صحرائے تھر کی بھرپور معلومات پر مبنی کتاب تحریر کرنے پر خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تھر کے لوگ بہت محنتی اور جفاکش ہوتے ہیں، تھر کی اپنی ثقافت، رسم و رواج اور سماجی روایات ہیں اس ثقافت میں انتہائی خوبصورت و دلکش رنگ بھی ہیں، خاص طور پر صحرائے تھر کا مور دنیا میں اپنی مثال آپ ہے، بلاشبہ صحرائے تھر کے بغیر صوبہ کی تاریخ نامکمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب سے طلبہ اور دیگر لوگوں کو تھر کی تاریخ کا علم ہوگا اور عظیم دھرتی سندھ کی ترقی میں تھر کا اہم کردار ثابت ہوگا۔ تاریخی صحرا تھر ملکی و قوم کی ترقی کے لئے بیش بہا خزانہ ہے۔ صحرائے تھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انمول تحفہ ہے کیونکہ یہ صحرا نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے۔ قائم مقام گورنرسندھ نے کہا کہ مصنف نے تھر سے متعلق اہم معلومات جمع کی ہیں ،تھر کی اس سے خوبصورت تاریخ نہیں لکھی جا سکتی، مصنف نے بڑی محنت سے اس کتاب کو تحریر کیا۔ مصنف سعید خاور نے کمال ہی کر دیا ہے، یہ کتاب اہل علم کے لئے تھر کی تاریخ کے حوالہ سے خزانہ اور ریفرینس بک ثابت ہو گی، انتہائی شاندار الفاظ کے چناﺅکے ساتھ تاریخی تحریر عوام میں یقینا شرف قبولیت پائے گی ۔