Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی والو!سب باتیں کرتےہیں لیکن ہم کراچی کوسنوارکردکھائیں گے:مصطفیٰ کمال کا پیغام

    کراچی والو!سب باتیں کرتےہیں لیکن ہم کراچی کوسنوارکردکھائیں گے:مصطفیٰ کمال کا پیغام

    کراچی :کراچی والو!سب باتیں کرتے ہیں لیکن ہم کراچی کوسنوارکردکھائیں گے،اطلاعات کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ بڑے بڑے آکر بڑے دعوے کررہےہیں کہ وہ کراچی کوخوشحال بنائیں گے مگرصورت حال پہلے سے ابترہی ہوئی ، لیکن میں کراچی والوں سے کہہ رہا ہوں کہ ہم دعوے نہیں عملی کرکے دکھاتے ہیں،کراچی کو خوشحال اور سنوارکردکھائیں گے ،

    پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کیلئے الیکشن میں ڈاکو ٹھپے لگاتے ہیں، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کراچی کے مسائل صرف پی ایس پی ہی حل کرسکتی ہے۔

    سندھ کے سیکنڈ فیز میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی دھواں دھار تقاریر اور دعوؤں اور الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    کراچی میں بروز بدھ 20 جولائی کو پریس کانفرنس سے خطاب میں پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کسی نے کراچی کی بہتری پر توجہ نہیں دی ہے، مگر ہم کراچی کے مسائل آسانی سے حل کرسکتے ہیں، ہم کراچی کو دوبارہ بنا سکتے ہیں۔

    وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے چیئرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی دو سیٹوں پر حکمرانی ہے، صوبے میں ن لیگ کا کوئی ووٹ بینک نہیں۔ ایم کیو ایم کے بغیر شہباز شریف وزیراعظم نہیں رہ سکتے اور انہوں نے 2 وزارتیں لے کر اپنے حصے کی رشوت لے لی ہے۔

     

    پی پی پر الزام عائد کرتے ہوئے سابق میئر کراچی نے کہا کہ سندھ پولیس صوبے کی نہیں پیپلزپارٹی کی پولیس ہے، اندرون سندھ سے پولیس اہلکار بلائے جانے کی اطلاعات ملی ہیں، پیپلز پارٹی الیکشن میں ریاستی مشینری استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پی پی انتخابات میں ڈاکوؤں سے ٹھپے لگواتی ہے۔

     

    مصطفیٰ کمال کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی غنڈہ گردی کے باعث آج ہم جہنم میں ہیں،آج جوطاقت ایم کیوایم کی سات سیٹوں میں ہے وہ چالیس سال میں کسی کے پاس نہیں تھی، اس کے باوجود گٹرمیں گرنے والوں کے لواحقین کوکوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

     

     

     یاد رہے کہ اس پریس کانفرنس سے پہلے سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم) پاکستان بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار کی مصطفیٰ کمال سے ملاقات ہوئی ،جس کے بعد فاروق ستار نے کہا ہے کہ بہادرآباد والوں نے میری واپسی کو ویلکم نہیں کیا، سندھ کے شہریوں کو لاوارثی کا احساس ہے، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہے۔

     

      انہوں نے یہ بات پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی دفتر میں سربراہ پی ایس پی سید مصطفیٰ کمال سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں سے ملاقات اور بات چیت کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

    کراچی کے سابق میئر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ یہ میرا پاکستان ہاؤس کا پہلا دورہ ہے، یہاں بڑے کھلے دل کے ساتھ آئے ہیں، سیاسی مخالفین کو پیغام دینا ہے کہ مسائل سے ہم گزر رہے ہیں، ہمارے درمیان مفاہمت کا آغاز ہو گیا ہے۔

    انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بہادر آباد والوں نے میری واپسی کو ویلکم نہیں کیا، 30 جون سے 17 جولائی تک انتظار کیا لیکن کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔

     

    ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ضمنی انتخاب نے موقع دیا کہ میں پاکستان ہاؤس سمیت جگہ جگہ جاؤں، ہمیں کسی کا راستہ نہیں روکنا ہے، اس شہر کی گلیوں کو اور لوگوں کو جانتے ہیں۔

     

    پی ایس پی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ  ہمارے لیے فاروق بھائی کا الیکشن میں کھڑا ہونا خود حیران کن تھا، فاروق بھائی تو ایم کیو ایم میں جا رہے تھے، یہ سب کچھ سرپرائز ہے۔

    کراچی کے سابق ناظم سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ فاروق بھائی نے جو بات کی ہے وہ سینٹرل کیبنٹ میں رکھیں گے، جو بھی فیصلہ ہوگا وہ سب کے سامنے کریں گے، ہمارا نظریہ سب کے سامنے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی کو ویلکم کرنے میں ہمیں کوئی مجبوری نہیں ہے، اچھی بات ہے ملتے جلتے رہنا چاہیے، چھ سال سے پی ایس پی کی جدوجہد میں ذات کی قربانی دی ہے۔ایک سوال کے جواب میں سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آج ہماری پختونوں، سندھیوں اور پنجابیوں سب سے دوستی ہے، ماضی کی باتیں ماضی کے تناظر میں ہوئی ہوں گی۔

     

    واضح رہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے- 245 پہ ہونے والے ضمنی انتخاب میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا انتخابی نشان تالا ہے۔

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے – 245 کی نشست پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کے انتقال کر جانے کی وجہ سے خالی ہوئی ہے۔

  • دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے سے جاںبحق 26 افراد کی نماز جنازہ ادا،27افراد کی تلاش جاری

    دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے سے جاںبحق 26 افراد کی نماز جنازہ ادا،27افراد کی تلاش جاری

    دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے کے المناک سانحے میں جاں بحق 26 افراد کو سندھ میں مچھکے کے قریب آبائی گاؤں حسین بخش سولنگی میں سپرد خاک کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نماز جنازہ میں قبیلے کے سربراہ سردار عباس خان سولنگی نے شرکت کی انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کم از کم 26 افراد کی نماز جنازہ آبائی قبرستان میں ادا کی گئی ہے، جن افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی ان میں 2 بچے اور ایک خاتون بھی شامل تھی۔

    سردار عباس خان سولنگی نے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں سے معاوضے کا مطالبہ کیا، انہوں نے دونوں صوبائی حکومتوں کو علاقے میں پلوں کی تعمیر میں ناکامی کا ذمہ دار قراردیا جس کی وجہ سے لوگ پار کرنے کے لیے لکڑی کی خستہ حال کشتیوں کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

    کشتی ڈوبنے کے واقعے کے ایک دن گزر جانے کے باوجود 27 افراد لاپتا ہیں رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق منگلا سے پاک فوج کے 18 غوطہ خوروں کی ایک ٹیم بھی امدادی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے رحیم یار خان پہنچ گئی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ حادثہ پیر کے روز پیش آیا تھا شادی کی تقریب میں شرکت کےبعد لوگ 2 کشتیوں میں سوار ہو کر اپنے گاؤں ماچکے واپس آرہے تھے کہ ایک کشتی اوور لوڈ ہو گئی تھی الٹنے والی کشتی میں 40 سے 45 مسافروں کی گنجائش تھی جب کہ حادثے کے وقت اس میں 95 مسافر سوار تھے-

    جس کے باعث ایک تختہ ٹوٹنے کے بعد کشتی الٹ گئی ڈوبنے والوں میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی شامل تھے جب کہ ڈوبنے والے تمام لوگوں کا تعلق سولنگی قبیلے سے تھا 45 افراد کو ابتدائی کوششوں میں بچا لیا گیا تھا، ریسکیو اہلکاروں نے 22 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں جب کہ 27 افراد آخری خبریں آنے تک لاپتا تھے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق علاقے میں حالیہ بارشوں کے باعث جائے حادثہ تک پہنچنے کا راستہ کافی خراب تھا اور گاڑیوں کو وہاں تک لے جانے کے لیے ٹریکٹر کا استعمال کرنا پڑا جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی۔

  • کسی کو بھی لسانی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے،آغا سراج درانی

    کسی کو بھی لسانی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے،آغا سراج درانی

    کراچی: سندھ کے قائم مقام گورنر آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ کسی کو بھی لسانی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے 1292 ویں عرس کی افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو میں قائم مقام اسپیکر سندھ آغا سراج درانی نے کہا کہ کسی کو لسانی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے۔ سندھ کا امن مقدم ہے اسے قائم رکھا جائے گا۔صوبے میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے ادارے کام کررہے ہیں۔

    قائم مقام گورنر نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ پُر امن ہوا دوسرا بھی امن سے مکمل ہوگا۔ جو بھی غیرقانونی طورپر رہائش پذیر ہے اسے واپس اپنےملک بھیجا جائے گا۔ صوبے میں امن قائم رہے اورلوگ خوشحال زندگی گزاریں اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔

    عبد اللہ شاہ غازی کراچی، سندھ، پاکستان کے نہایت معروف و برگزیدہ ولی اللہ مانے جاتے ہیں کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع عبد اللہ شاہ غازی کا مزار انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل ہے بیسویں صدی کے اوائل تک یہ مزار، ایک ریتلے پہاڑی کے ٹیلے پر ایک چھوٹی سی کٹیا کی شکل میں واقع تھا۔ مزار کی تعمیر اور توسیع، مزار کے اس وقت کے متولی اور سیہون شریف سے تعلق رکھنے والے قلندری سلسلے کے صوفی بزرگ سید نادر علی شاہ نے کی۔

    مزار کی مشہور عمارت، اس کی سیڑھیاں، جامع مسجد، لنگر خانہ، قوالی ہال اور مہمان خانہ انہی کی زیر نگرانی تعمیر کیے گئے مزار کا سبز اور سفید دھاری دار گنبد کراچی کی شناخت بنا یہ مزار ہر فرقے ، نسل اور معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ لنگر کا دو وقت مفت کھانا اور قوالی، مزار کی سرگرمیوں کا لازمی حصہ قرار پائیں۔ عرصہ دراز تک درگاہ کے انتظامات مرشد نادر علی شاہ کے زیر نگرانی چلتے رہے سنہ 1962 میں محکمہ اوقاف نے مزار کا انتظامی کنٹرول سنبھالا۔ سنہ 2011 میں، اس مزار کو ایک پاکستانی تعمیراتی کمپنی، بحریہ ٹاؤن کے حوالے کیا گیا، جس نے مزار کے بیرونی حصے کی از سر نو تعمیر کی اس پر کراچی کے رہائشیوں کی طرف سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔

    عبد اللہ شاہ غازی امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے حسن مثنی کے پوتے امام محمد نفس الزکیہ کے فرزند ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب ابومحمد عبد اللہ الاشتر بن محمد نفس زکیہ بن عبد اللہ محض بن حسن مثنی بن امام حسن بن علی بن ابی طالب ہے۔ حضرت حسن مثنی کی شادی فاطمہ کبری بنت امام حسین ابن علی سے ہوئی اسی وجہ سے آپ حسنی حسینی سید ہیں۔

    گوگل پر جاری تفصیلات کے مطابق سنہ 720ء میں مدینہ میں ولادت ہوئی اور آپ سندھ میں تقریباً 760ء میں تشریف لائے اور اپنے ساتھ بہت زیادہ مقدار میں گھوڑے لائے تھے جو اپ نے کوفہ، عراق سے خریدے تھےابن خلدون کے بقول خلیفہ ابو جعفر منصور کے زمانے میں سندھ کا عامل عمر بن حفص تشیع کی جانب میلان رکھتا تھا۔

    محمد نفس ذکیہ کے فرزند عبد اللہ اشتر، جن کو عبد اللہ شاہ غازی کے نام سے جانا جاتا ہے، 400 افراد پر مشتمل زیدیوں کی ایک جماعت کے ساتھ اس کے پاس آئے تو اس نے انھیں خاصے احترام سے نوازا۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور دوانیقی کو جب اس کی خبر پہنچی تو اس نے ہشام بن عمر ثعلبی کو ان کا تعاقب کرنے کے لیے سندھ روانہ کیا جہاں ہشام کے بھائی اور ان کے درمیان قتال ہوا جس کے نتیجے میں عبد اللہ شاہ غازی شہید ہوئے اور ان کے ساتھی اس علاقے میں بکھرگئے ذہبی اور ابو الفرج اصفہانی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہےطبری نے یہ واقعات 768ء (151 ہجری) میں نقل کیے ہیں-

  • ملک بھر میں آج سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی

    ملک بھر میں آج سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے آج سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیش گوئی کی ہے-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق 20 سے 26 جولائی تک کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد اور پنجاب کے کئی شہروں کے ساتھ بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان، اوکاڑہ، بہاول نگر، رحیم یار خان اور ملتان میں بھی بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ژوب، زیارت، بارکھان، بولان، سبی، قلات اور خضدار میں بھی بارش ہوگی ۔

    اس کے علاوہ محکمہ موسمیات کی جانب سے 24 سے 26 جولائی کے دوران سندھ کے تمام اضلاع میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کے مطابق کراچی، ٹھٹھہ، بدین میں بارش سے نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب مانسہره، دير، کشمير، بارکھان، کوہلو، سبی، بولان اور ڈی جی خان کے ندى نالوں میں طغيانی کا خدشہ ہے۔

    راولپنڈی ، اسلام آباد اور گردوناھ میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے ،بارش کے ساتھ ٹھنڈی ہوا نے موسم خوشگوار بنا دیا جبکہ ہری پورشہر اور گردونواح کے علاقوں میں تیز ہواوں کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری ہے شکر گڑھ میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ، موسم خوشگوار بنا دیا ہے

  • عدالت کا دعا زہرا کیس کا تفتیشی افسر تبدیل کرنے کا حکم

    عدالت کا دعا زہرا کیس کا تفتیشی افسر تبدیل کرنے کا حکم

    کراچی :دعا زہرا کیس کا تفتیشی افسر تبدیل،اطلاعات کے مطابق کراچی کی ماتحت عدالت نے دعا زہرا کیس کا تفتیشی افسر تبدیل کرنے کا حکم دے دیا۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کراچی شرقی میں دعا زہرا کیس کے تفتیشی افسر کی تبدیلی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، دوران سماعت تفتیشی افسر پیش نہیں ہوئے۔

    دعا زہرا کے والدین کے وکیل نے تفتیشی افسر کی تبدیلی کے لئے دلائل دیئے جب کہ استغاثہ نے موقف اختیار کیا کہ انہیں تفتیشی افسر کی تبدیلی پر کوئی اعتراض نہیں۔

    عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد ڈی ایس پی شوکت شاہانی کی جگہ کسی دوسرے افسر کو تفتیشی افسر مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

    دعا زہرا کے والدین کے وکیل جبران ناصر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ عدالت نے تفتیشی افسر کی تبدیلی کے احکامات جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کسی اہل افسر کو مقرر کیا جائے جسے اس نوعیت کے کیسز کی تفتیش کا تجربہ ہو۔

    دعا زہرا کی دارالامان منتقلی پر جبران ناصر کا کہنا تھا کہ والدین نے اپنی بیٹی حکومتی تحویل میں آنے پر سکھ کا سانس لیا ہے۔

    مدعی کے وکیل نے کہا کہ دعا زہرا کی دارالامان منتقلی کی 2 ہی وجوہات ہوسکتی ہیں، یا تو اغوا کار کے لیے دعا زہرا ایک بوجھ بن گئی تھی یا پھر یہ اقدام عدالت کو گمراہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال بھی ہوسکتی ہے۔

    جبران ناصر نے حیرانی کا اظہار کیا کہ ایک 14 سے 15 سال کی لڑکی کو بھلا کیسے اس قدر عدالتی معاملات کی سوجھ بوجھ ہے کہ اسے کس عدالت میں کس وقت رجوع کرکے اپنے حق میں فیصلہ لینا ہے۔

  • دعا زہرہ کی جان کو خطرہ، دارالامان بھیجنے کا حکم

    دعا زہرہ کی جان کو خطرہ، دارالامان بھیجنے کا حکم

    شہر قائد کراچی سے پسند کی شادی کرنے کے لیے بھاگنے والی دعا زہرہ کو عدالت نے دارالامان بھجوانے کا حکم دے دیا

    دعا زہرہ نے عدالت سے اپیل کی کہ میری جان کو خطرہ ہے، مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ مجھے دارالامان بھیجنے کا حکم جاری کرے ،دعا زہرہ کے وکیل کی جانب سے دائر درخواست کے بعد سیشن کورٹ نے دعا زہرا کی استدعا قبول کرتے ہوئے دعا کو دارالامان بھیجنے کا حکم جاری کردیا

    دعا زہرا نے عدالت میں دائردرخواست میں کہا تھا کہ میرے شوہر ظہیر کے ساتھ میرے تعلقات اچھے نہیں ہیں میں شوہر سے علیحدگی اختیار کرچکی ہوں اور مجھے والدین سے کوئی تحفظ نہیں ہے اس لئے مجھے دارالامان بھیجا جائے

    دوسری جانب دعا زہرہ مبینہ اغوا کیس کے تفتیش افسر کی تبدیلی کی درخواست پر سماعت ہوئی،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست منظور کرلی ،عدالت نے پولیس حکام کو تفتیشی افسر تبدیل کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے ایڈیشنل آئی جی اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو قابل افسر مقرر کرنے کا حکم دے دیا،

    ماتحت عدالت نے درخواست کو صنفی تشدد سے متعلق عدالت منتقل کرنے کا ریفرنس سیشن عدالت کو بھیجا تھا ،دعا کے والد مہدی کاظمی نے تفتیشی افسر تبدیل کرنے کی استدعا کی تھی درخواست میں تفتیشی افسر پر عدم اعتماد کرتے ہوئے نیا تفتیشی افسر مقرر کرنے کی استدعا کی تھی

    کل کہیں گے افغانستان سے سگنل آرہے ہیں تو ہم کیا کرینگے؟ دعازہرہ کیس میں عدالت کے ریمارکس

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

    دعا زہرہ کیس،عمر کے تعین کیلئے ایک بار پھر میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

    واضح رہے کہ دعا زہرہ نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی تھی، دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کا کہنا ہے کہ کہ دعا اور میرا رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا اور پچھلے تین سال سے ہمارا رابطہ تھا دعا زہرہ کراچی سے خود آئی ہے دعا نے میرے گھر کے باہر آکر مجھے میسج کیا وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی میرے گھر والے شادی پر آمادہ تھے میرے گھر والے بھی چاہتے تھے کہ دعاکے گھر والے رضامند ہوں لیکن دعا کے گھر والوں نے شادی کیلئے مثبت جواب نہیں دیا اسی وجہ سے یہ خود اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی

  • دانیہ شاہ نےعامر لیاقت کے ر پوسٹ مارٹم کیلئے درخواست دائر کردی

    دانیہ شاہ نےعامر لیاقت کے ر پوسٹ مارٹم کیلئے درخواست دائر کردی

    کراچی: مرحوم عامر لیاقت حسین کی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ نے شوہر کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : سندھ ہائیکورٹ میں عامر لیاقت کی قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم روکنے کی اہلخانہ کی درخواست پر سماعت ہوئی جس دوران مرحوم کی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ نے کیس میں فریق بننے کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کیں۔

    سندھ میں ایک اور مون سون سسٹم داخل ہونے کی پیشگوئی،کراچی میں مزید ہلکی بارش کا امکان

    دانیہ کے وکیل کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں عامر لیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم کی درخواست جمع کرائی گئی جس میں کہا گیا کہ دانیہ شاہ عامر لیاقت کی بیوہ ہیں، ان کے شوہر کی موت کی وجوہات سامنے آنا بہت ضروری ہیں۔

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس مسز کوثر سلطانہ حسین پر مشتمل بینچ کے روبرو معروف اینکر عامر لیاقت حسین کا پوسٹ مارٹم کرانے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران بیوہ دانیہ شاہ نے پوسٹ مارٹم کرانے کی استدعا کردی۔ اس موقع پر عامر لیاقت کے اہل خانہ کے وکیل ضیا اعوان ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ کوئی زخم نہیں ہے جب کہ بیٹا اور بیٹی پوسٹ مارٹم نہیں کروانا چاہتے۔

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ بیٹا اور بیٹی کیوں پوسٹ مارٹم پر اعتراض کررہے ہیں؟ پوسٹ مارٹم کے بغیر کیسے پتا چلے گا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔ قانون میں کسی کی مرضی نہیں چلتی-

    مہنگائی جو عمران خان کی حکومت کا ردعمل ہے ہم نے بھگتا ہے،خواجہ سعد رفیق

    اس دوران عامر لیاقت کے اہلخانہ کے وکیل ضیاء اعوان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس رپورٹ پر عامر لیاقت کی تدفین کی اجازت دی، دوسرے مجسٹریٹ نے کسی اور کی درخواست پر پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا، عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کے خلاف بیٹے اور بیٹی نے درخواست دائر کی ہے، بے نظیر بھٹو کا پوسٹ مارٹم بھی نہیں کیا گیا۔

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ آج تک سب افسوس کررہے ہیں محترمہ کا پوسٹ مارٹم نہ کرانے پر کئی کتابیں لکھ دی گئیں پوسٹ مارٹم نہ کرانے پر۔ اگر بے نظیر بھٹو شہید کا پوسٹ مارٹم ہو جاتا تو بہتر نہ ہوتا۔ جسٹس مسز کوثر سلطانہ حسین نے ریمارکس دیے کہ محترمہ کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوا تو پورے ملک کا پوسٹ مارٹم کردیا گیا آپ پوسٹ مارٹم نہ کرنے پر اصرار کس قانون کے تحت کر رہے ہیں۔

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کون سا قانون ہے، کون سے فقہ میں منع کیا گیا۔ عدالت نے ضیا اعوان سے مکالمے میں کہا کہ ہمارے سامنے قانونی اور اسلامی نکات رکھیں آپ قانونی رہنمائی نہیں کر پارہے۔

    پنجاب حکومت نے 11 ٹول پلازے ختم کر دیئے

    ضیا اعوان نے مؤقف اپنایا کہ سوشل میڈیا پر کہا گیا کہ جسم پر تشدد کے نشانات ہیں سرکاری وکیل نے مؤقف دیا کہ عامر لیاقت کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے سندھ حکومت کی بھی کوئی تیاری نہیں یہاں قانونی نکات پر کوئی بات نہیں کررہا سرکاری وکیل نے مؤقف دیا کہ 2 مجسٹریٹس ایک ہی آرڈر نہیں کرسکتے-

    دانیہ شاہ کی والدہ نے دوران سماعت روسٹرم پر آکر کہا کہ میں عامر لیاقت حسین کی ساس ہوں عامر لیاقت حسین کی بیوی حق رکھتی ہے کہ وجہ موت پتا چلے میری بیٹی عامر لیاقت کی اہلیہ تھی عامر لیاقت حسین اتنی بڑی شخصیت تھی، وجہ موت پتا چلنا چاہیے۔

    عدالت نے دانیہ شاہ کو فریق بنانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے فریقین کو تیاری کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ سب کو سنیں گے، جلدی میں کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ عدالت نے سماعت 28 جولائی کے لیے ملتوی کردی۔

    ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 65 میگاواٹ تک پہنچ گیا

  • 20 سے 26 جولائی تک ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی

    20 سے 26 جولائی تک ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی

    لاہور: محکمہ موسمیات نے 20 سے 26 جولائی تک ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی کی ہے-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق کل سےمون سون ہوائیں شدت کیساتھ بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوں گی۔ راولپنڈی ، اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ ، مردان ، فیصل آباد اور لاہور میں 20 سے 23 جولائی تک موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات نے 24 سے 26 جولائی کے دوران کراچی، جامشورو، میرپورخاص، لاڑکانہ ، سکھر اوربینظیر آباد میں شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ موسلا دھار بارشوں کے باعث پنجاب اورسندھ کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلا دھار بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا الرٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نےآئندہ 2 روز کے دوران کراچی میں ہلکی بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کےمطابق مغربی بحیرہ عرب میں موجود ہوا کا کم دباؤ عمان کی جانب بڑھ گیا ہے دادو اور قمبر شہداد کوٹ میں گرج چمک کے ساتھ آج بارش ہوسکتی ہے جب کہ ساحلی شہروں میں بوندا باندی اور ہلکی بارش کا امکان ہے۔

    یورپ میں شدید گرمی کی لہر جاری، برطانیہ میں آج بھی درجہ حرارت بلند رہنے کی وارننگ

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے بیشتر حصوں میں آئندہ 3 سے 4 دن موسم خشک رہے گا جب کہ آئندہ 2 روز کے دوران کراچی میں موسم ابر آلود، ہلکی بارش اور بوندا باندی کا امکان ہے کراچی میں درجہ حرارت 32 سے 34 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہے گا اور سمندی ہوائیں بھی بحال رہے گی۔

    قبل ازیں چیف میٹرولوجسٹ سردارسرفراز نے کہا تھا کہ 22جولائی کو ایک اورمون سون سلسلہ بھارت راجستھان کے راستے سندھ میں داخل ہوکربالائی سندھ پراثراندازہوسکتا ہےمون سون مکمل طورپرفعال ہے،24جولائی کو کراچی سمیت زیریں سندھ کے کچھ اضلاع میں اس کے اثرات بارش کی شکل میں نمودارہوسکتے ہیں،اس حوالے سے مذید بہترپیش گوئی آنے والے دنوں میں ممکن ہوگی۔

    سری لنکا کے قائم مقام صدر نے ملک میں ایک بار پھر ایمرجنسی نافذ کردی

    شہر میں گزشتہ دوروز کے دوران سب سے زیادہ بارش گلشن حدید میں 68ملی میٹرریکارڈ ہوئی،ابرآلودموسم کی وجہ سے شہرکےدرجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جناح ٹرمینل پر3.4 ملی میٹر،اولڈ ائیرپورٹ 2.6ملی میٹر،مسرور بیس میں 1.5 ملی میٹر،گلشن حدید اورقائدآباد میں 1ملی میٹربارش ریکارڈ ہوئی۔

    بارش کا سسٹم کراچی کے جنوب مغرب میں شمالی بحیرہ عرب کے وسطی حصوں میں ہے،سسٹم کے مرکزمیں زیادہ سے زیادہ ہوا 40-50 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے،سسٹم مغرب کی طرف عمان کے ساحل کی جانب بڑھےگا۔

    بلوچستان کے مختلف اضلاع لسبیلہ، اتھل، سونمیانی، اورماڑہ، پسنی، گوادر، جیوانی،تربت، آواران اور کیچ میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے،تیز بارشوں کے سبب پسنی، گوادر، جیوانی، تربت، آواران اور کیچ کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے پر سیلاب آسکتا ہے۔

    گھا نا میں جان لیوا ماربرگ وائرس کے اولین کیسز کی تصدیق

  • حب ڈیم سے حب ندی میں مزید ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی آنے کا خدشہ

    حب ڈیم سے حب ندی میں مزید ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی آنے کا خدشہ

    حب ڈیم کے کیچمنٹ ایریا میں پانی کے ریلوں کی آمد اور اسپل وے سے پانی کا اخراج جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈی سی افتخار احمد نے بتایا کہ حب ڈیم سے پانی کے اخراج کے باعث حب ندی سے 44 ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہےحب ڈیم سے حب ندی میں مزید ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی آنے کا خدشہ ہے حب ندی کے قریب واقع رہائشیوں کیلئے حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ جی ایم واپڈا عامر مغل نے 2 روز قبل بتایا تھا کہ سندھ بلوچستان میں بارشوں کے بعد کراچی کو پانی سپلائی کرنے والا حب ڈیم مکمل بھر گیا ہے حب ڈیم مکمل 339 فٹ بھر گیا ہے، 3 سال کا پانی ذخیرہ ہوگیا ہے اور اب ڈیم کا اضافی پانی حب ندی کے راستے سمندر میں گر رہا ہے اس سے قبل ڈیم 2007 اور 2020 میں بھرا تھا۔

    واپڈا ذرائع کا کہنا تھا کہ حب ندی کے کنارے آباد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے حب ڈیم اور ندی کے اطراف سیکورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں، غیر متعلقہ افراد کو ڈیم اور ندی کی جانب جانے کی اجازت نہیں ہےقبل ازیں کمشنر قلات، ڈپٹی کمشنر لسبیلہ اور ایکسین ایر گیشن نے حب ڈیم کے دورے میں اسپیل وے کا جائز ہ لیا تھا۔

  • عوام کے پاس پی ایس پی کے علاؤہ کوئی دوسرا آپشن نہیں،مصطفیٰ کمال

    عوام کے پاس پی ایس پی کے علاؤہ کوئی دوسرا آپشن نہیں،مصطفیٰ کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس ملک کو دوبارہ توڑنے کی سازش کر رہی ہے پاکستان پیپلزپارٹی کے خمیر میں پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے، ان کے بڑوں نے بھی یہی کیا تھا اور اب ان کی نئی نسل بھی اسی راستے پر گامزن ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ظلم کی انتہا ہے کہ انسانوں سے جینے کا حق چھین لیا گیا ہے اور تمام ظلم اور بربریت کے سامنے ریاست کا کوئی بھی ادارہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کے ریاستی ادارے اور سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف اور نہ کوئی اور ادارہ پیپلز پارٹی کی دہشت گردی کو روکنے کیلئے تیار ہے۔ شہباز شریف کی حکومت دو سیٹوں کی مرہون منت ہے۔ اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ جس کا خمیازہ کراچی حیدر آباد اور شہری سندھ کی عوام بھگت رہی ہے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے 14 سالہ حکمرانی میں پاکستان کے معاشی حب کراچی کو پینے کا ایک اضافی قطرہ پانی نہیں دیا گیا بلکہ جو پانی آتا تھا وہ بھی ہائیڈرنٹس بنا کر چوری کر کے عوام کو ہی اربوں روپے ک فروخت کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان ہاؤس میں بلدیاتی امیدوران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ اپنی نسلوں کو خاموشی سے دفنانے کے بجائے پاک سرزمین پارٹی نے پیپلز پارٹی کی جمہوری دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں دنیا نے دیکھا کہ ڈاکو، پولیس اور صوبائی الیکشن کمیشن کے اہلکار مل کر پیپلز پارٹی کے لیے ٹھپے لگاتے رہے۔ ریاست کو اگر ہماری فکر نہیں ہے تو خود اپنے حقوق کی جدوجہد کریں گے۔ اگر عوام پیپلز پارٹی کے ظلم کے سامنے کھڑے ہوگئے تو پھر جو کچھ ہوگا ریاست اور ریاستی ادارے اسکے زمہ دار ہونگے۔ کراچی اور حیدرآباد کی عوام کے پاس پی ایس پی کے علاؤہ کوئی دوسرا آپشن نہیں۔