Baaghi TV

Category: کراچی

  • شہر میں خواتین ایم ایل اوز کا معاملہ، سیکریٹری ہیلتھ سندھ کو آگاہ کر دیا گیا

    شہر میں خواتین ایم ایل اوز کا معاملہ، سیکریٹری ہیلتھ سندھ کو آگاہ کر دیا گیا

    خواتین ایم ایل اوز کی تعداد میں اضافے پر پولیس سرجن ڈاکٹر افتخار نے سیکریٹری ہیلتھ سے رابطہ کر کے انھیں تمام صورت حال سے آگاہ کر دیا۔

    ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نےگزشتہ شب کی صورت حال پر پولیس سرجن ڈاکٹر افتخار سے رابطہ کیا تھا، اور مطالبہ کیا تھا کہ جناح اسپتال میں فی الفور مزید 4 خواتین ایم ایل اوز کی تعیناتی عمل میں‌ لائی جائے۔

    ذرائع میڈیکو لیگل کا کہنا ہے کہ خواتین ایم ایل اوز کی تعیناتی اور اضافے کے لیے انتظامیہ کو کئی بار خط لکھے جا چکے ہیں، لیکن اس سلسلے میں 20 اسامیاں عرصہ دراز سے خالی ہیں۔

    ذرائع میڈیکو لیگل کے مطابق جناح اسپتال میں یومیہ میڈیکو لیگل کے لیے 100 سے زائد مردوں اور 20 سے 30 خواتین کیسز آتے ہیں، جب کہ یومیہ 7 مردوں اور 3 خواتین کے پوسٹ مارٹم کیے جاتے ہیں۔

    ادھر پولیس سرجن ڈاکٹر افتخار کا کہنا ہے کہ ایم ایل اوز کو روزانہ کیسز سے متعلق عدالتوں میں بھی پیش ہونا پڑتا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ صورت حال ایک بار پھر اُس وقت نمایاں ہو کر سامنے آئی جب گزشتہ روز کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سیکیورٹی گارڈز اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک تین سالہ بچی حرمین کی موت واقع ہوئی، اور جناح اسپتال میں اس کے پوسٹ مارٹم میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا ہوا۔

    میڈیکو لیگل ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کراچی میں محض 5 خواتین ایم ایل اوز تعینات ہیں، جن میں سے 3 عباسی شہید اسپتال میں اور 2 جناح اسپتال میں تعینات ہیں، جب کہ سول اسپتال میں کوئی لیڈی ایم ایل او موجود نہیں

  • سیکیورٹی گارڈ اور ڈاکوؤں میں فائرنگ کا تبادلہ، 4 سالہ بچی جاں بحق

    سیکیورٹی گارڈ اور ڈاکوؤں میں فائرنگ کا تبادلہ، 4 سالہ بچی جاں بحق

    سیکیورٹی گارڈ اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلے میں 4 سالہ بچی جاں بحق ہو گئی۔

    شاہ لطیف کے علاقے نیشنل ہائی وے منزل پٹرول پمپ پاکستان میڈیکل اسٹور کے قریب فائرنگ سے 4 سالہ بچی زخمی ہوگئی جسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بچی دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئی، اطلاع ملنے پر پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور زخمی شخص کو حراست میں لے لیا۔

    پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت 4 سالہ حرمین دختر ممتاز کے نام سے کی گئی۔

    واقعے کے مطابق پاکستان میڈیکل اسٹور اینڈ مارٹ کے قریب موٹرسائیکل سوار 3 ڈاکو مارٹ سے لوٹ مار کر کے فرار ہورہے تھے کہ سیکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو زخمی ہوگیا جبکہ زخمی ڈاکوئوں اور سیکیورٹی گارڈ میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں راہ گیر بچی سر میں گولی لگنے سے زخمی ہوئی تھی۔

    پولیس نے زخمی حالت میں پکڑے جانے والے ڈاکو پیار علی سے اسلحہ ، لوٹی گئی رقم 50 ہزار روپے اور دیگر سامان برآمد کر لیا ، ڈاکو کے دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

  • بند کمرے میں مچھر مار گلوب کا دھواں، مزدور دم گھٹنے سے ہلاک

    بند کمرے میں مچھر مار گلوب کا دھواں، مزدور دم گھٹنے سے ہلاک

    سپرہائی وے کے ریسٹورنٹ کے کوارٹرز میں سویا ہوا ایک مزدوردم گھٹنے سے ہلاک اور دوسرا مزدور بے ہوش ہوگیا۔

    گڈاپ ٹاؤن تھانے کے علاقے سپرہائی وے السجاد ریسٹورنٹ کے کواٹرز میں سوئے ہوئے دو مزدوروں کی حالت غیرہوگئی جنھیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک مزدور اسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ گیا۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اورپولیس نے جاں بحق ہونے والے مزدور اوربے ہوش ہونے والے مزدور کو عباسی شہیداسپتال منتقل کیا۔

    جاں بحق ہونے والے مزدور کی شناخت 38 سالہ مبین احمد ولد عبدالرحمن اوربہیوش مزدور کی شناخت 40 سالہ غلام مصطفی ولد واڑیوں کے نام سے کر لی گئی جاں بحق ہونے والے مزدور کا آبائی تعلق ٹنڈو آدم سے تھا۔

    ایس ایچ او گڈاپ سٹی نوطق خان نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والا مزدور اور بے ہوش ہونے والا مزدور رات 4 بجے کام کرنے کے بعد کمرے میں جا کر سو گئے تھے، صبح ریسٹورینٹ کا سیکیورٹی گارڈ نہانے کے لیے ان کے کمرے میں پہنچا تو مزدور قے کر رہا تھا جس پر اس نے دوسرے مزدور کواٹھانے کی کوشش کی تو دوسرا مزدور اٹھا اور وہ دوبارہ بے ہوش ہو گیا اسی دوران مزید مزدور بھی وہاں پہنچ گئے اوردونوں کو بقائی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ایک مزدور کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی۔

    انھوں نے بتایا کہ جس کمرے میں مزدور سو رہے تھے، اس کمرے میں کیڑے مار دوا کی بو پھیلی ہوئی تھی اورکمرہ مکمل طورپرسیل تھا اورجہاں سے اخراج کا کوئی راستہ نہ تھا اگرکمرے میں کوئی سوراخ بھی تھا تومزدوروں نے سردی کی وجہ سے کپڑوں کی مدد سے سوراخ بند کیے ہوئے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ پولیس نے کمرے کی تلاش لی توپولیس کو کمرے سے مچھر مارگلوب کے علاوہ کچھ نہیں ملا ہے،پولیس کو شبہ ہے کہ مزدور دم گھٹنے سے ہلاک اور بے ہوش ہوئے ہیں پولیس نے دونوں کوعباسی شہید اسپتال منتقل کردیا،ڈاکٹرز کی رپورٹ میں مزید واضح ہو گا کہ وجہ موت کیا ہے.

  • نومسلم لڑکی کی پسند کی شادی،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    نومسلم لڑکی کی پسند کی شادی،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    سندھ ہائی کورٹ میں پسند کی شادی کے حوالے سے درخواست کے معاملہ پر اہم پیش رفت ہوئی ہے، عدالت نے وقتی طور پر لڑکی کو شیلٹرہوم بھیج دیا۔

    لومیرج کرنے والی آرزو فاطمہ نے شیلٹر ہوم سے والدین کے ساتھ جانے کی درخواست دائر کی ہے، عدالتی حکم پر شیلٹر ہوم انتظامیہ نے آرزو فاطمہ کو پیش کردیا۔

    جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ عدالت نے بچی کو کم عمری کی وجہ سے شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم دیا تھا، ہم نے بچی کی اچھی تعلیم وتربیت کا بھی حکم دیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اب لڑکی خود اپنے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے، کیا آپ نے خود درخواست دائر کی؟ جس پر آرزو فاطمہ نے کہا کہ جی میں نے ہی درخواست دائرکی ہے۔

    عدالت نے آرزو فاطمہ سے استفسار کیاس کہ کیا آپ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہیں؟ آرزو فاطمہ نے کہا کہ جی ہاں میں مسلمان ہوں اور میں نے اپنی مرضی سے دین اسلام قبول کیا ہے۔

    جسٹس کے کےآغا کا کہنا تھا کہ سندھ میں کم عمری کی شادی جرم ہے اور اس حوالے سے عدالت اپنا فیصلہ دے چکی ہے، لڑکی کے والدین نے عدالت میں بیان دیا کہ بچی مسلم رہے یا عیسائی ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

    عدالت نے والدین سے استفسار کیا کہ کای آپ بچی پر کسیہ قسم کا تشدد ڈر یا خوف تو نہیں پیدا کریں گے؟ والدین نے کہا کہ بچی پر کسی قسم کا تشدد نہیں کریں گے۔

    وکیل نے کہا کہ آرزو کے شوہر نے بیوی کی حوالگی کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے، عدالت نے آرزو فاطمہ کی والدین کے پاس واپس جانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست پرآج ہی فیصلہ سنایا جائے گا، جب تک فیصلہ نہیں ہوجاتا آرزو کو کسی سے بات نہ کرنے دی جائے، بعدازاں عدالت نے آرزو کو فی الوقت دوبارہ شیلٹرہوم بھیجنے کا حکم دے دیا۔

  • کراچی میں دل کے اسپتال کے ملازمین کا احتجاج، مریض رل گئے

    کراچی میں دل کے اسپتال کے ملازمین کا احتجاج، مریض رل گئے

    قومی ادارہ برائے امراض قلب کے ملازمین اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے سراپا احتجاج ہوگئے۔

    احتجاجی ملازمین نے دوسرے روز بھی اسپتال کے وارڈز سمیت تمام شعبوں کا بائیکاٹ کرکے اسپتال کے سامنے والی سڑک کے دونوں ٹریک کو بند کردیا۔

    احتجاج کے باعث اسپتال آنے والے امراض قلب میں مبتلا مریضوں اور تیمارداروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، احتجاجی ملازمین نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔

    قومی ادارہ برائے امراض قلب کے ملازمین اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے اسپتال کے احاطے میں جمع ہوئے اور مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھائے اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے لگائے.

    احتجاجی ملازمین نے احتجاجا اسپتال کے تمام شعبوں اور وارڈز کا بائیکاٹ کردیا اور اسپتال کے سامنے والی سڑک کے دونوں ٹریکس کو ٹریفک کے لئے بند کردیا اور سڑک پر دھرنا دے دیا۔

    احتجاج کے باعث ٹریفک بھی شدید جام ہوگیا، صرف ایمبولینسوں کو سڑک سے گزرنے کی اجازت دی گئی، اس دوران اسپتال آنے والے امراض قلب میں مبتلا مریضوں اور تیمارداروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، سیکیورٹی پر موجود پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی، اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی۔

    اس موقع پر احتجاجی ملازمین کا مطالبات پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارا گزشتہ 14 ماہ سے روکا ہوا ہیلتھ رسک الاؤنس فراہم کیا جائے، ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس فراہم کیا جائے، میرٹ پر ترقیاں دی جائیں، اور ہیلتھ انشورنس کارڈ دئیے جائیں، ہمارے جائز مطالبات ہیں جنہیں فوری منظور کیا جائے بصورت دیگر مطالبات کی منظوری تک ہم احتجاج جاری رکھینگے۔

    ملازمین کا کہنا تھا کہ احتجاج صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔

    علاوہ ازیں ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ کے صوبائی صدر اعجاز علی کلیری، چئیرمین سید شاہد اقبال اور سرپرست اعلیٰ آمان اللہ رند نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ این آئی سی وی ڈی کے ملازمین کو اپنا حق دیا جائے.

    اسپتال کی انتظامیہ ملازمین کے حقوق دبا نہیں سکتی، ملازمین نے رات دن ایک کرکے این آئی سی وی ڈی کا نام روشن کیا ہے، پورے صوبے میں مریضوں کو بہتر سہولیات دے رہے ہیں، ملازمین کا رسک الاؤنس اور دیگر مطالبات انکا حق ہے، انتظامیہ مسائل حل کرے، ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ تمام ملازمین کے ساتھ ہے اور انکی تحریک انصاف کے لئے ہے، اپنے حقوق کے حصول کے لئے احتجاج کرنے والے ملازمین کو تمام بقایاجات جاری کئے جائیں۔

  • کراچی چڑیا گھر اور سفاری پارک میں موجود افریقی ہاتھی سخت تکلیف کا شکار

    کراچی چڑیا گھر اور سفاری پارک میں موجود افریقی ہاتھی سخت تکلیف کا شکار

    صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے چڑیا گھر اور سفاری پارک میں رکھے گئے 4 افریقی ہاتھیوں کی طبی رپورٹ عدالت کو پیش کردی گئی، رپورٹ کے مطابق ہاتھی تکلیف میں ہیں اور انہیں فوری علاج کی ضرورت ہے، علاج میں تاخیر سے ہاتھیوں کی زندگی کو خطرات ہوسکتے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں کراچی چڑیا گھر اور سفاری پارک میں رکھے گئے 4 افریقی ہاتھیوں سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جرمن ڈاکٹر فرینک گورٹز کی جانب سے تیار کی گئی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی چڑیا گھر اور سفاری پارک میں رکھے گئے ہاتھیوں کا معائنہ کیا گیا، سفاری پارک میں رکھے ہاتھیوں کو خوراک کے مسائل درپیش ہیں، چڑیا گھر میں 2 ہاتھیوں کو دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ چاروں ہاتھیوں کو فوری طبی امداد کی اشد ضرورت ہے، ہاتھیوں کو فوری طبی تربیت اور اچھی صحت بخش خوراک کی ضرورت ہے۔ ہاتھیوں کے ٹوٹے دانت نکالنے، سرجری کرنے، انہیں ٹیٹنس اور بیکٹریا پوش ادویات دینے کی ضرورت ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اگر علاج میں تاخیر کی گئی تو ہاتھیوں کی زندگی کو خطرات ہوسکتے ہیں، تمام ہاتھیوں کو مستقل طور پر اچھا ماحول دیا جائے۔ روٹین کی بنیاد پر علاج اور بنیادی میڈیکل چیک اپ کروایا جائے۔

    جرمن ڈاکٹر کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ہاتھیوں کا معائنہ کرنے والی ٹیم 4 بین الاقوامی ڈاکٹرز اور ماہرین پر مشتمل تھی۔ ہاتھیوں کا جسمانی معائنہ، رویے، غذا اور پاؤں کا معائنہ کیا گیا۔

    جرمن ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ہاتھیوں کی ہلاکت کی ایک بڑی وجہ پاؤں کی تکلیف ہے، چاروں ہاتھیوں کے الٹرا ساؤنڈ بھی کیے گئے ہیں، ہاتھی موٹاپے کا شکار ہیں اور ان کا وزن بڑھا ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کراچی چڑیا گھر میں رکھے گئے 2 ہاتھیوں کا ہیمو گلوبن کم ہے، ہاتھیوں کے ناخن کاٹے گئے اور دانتوں کی بھی سرجری کی گئی ہے تاہم ہاتھی ابھی بھی تکلیف میں ہیں۔

    سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس ظفر راجپوت کا کہنا تھا کہ تشخیص ہوگئی ہے، اب بتایا جائے کہ علاج کیسے ہوگا۔ کے ایم سی کے وکیل نے کہا کہ جتنا ممکن ہے ہاتھیوں کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

    این جی او کے وکیل نے کہا کہ علاج کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں، اگر کے ایم سی ہم سے رجوع کرے تو علاج کروا سکتے ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ کاون کی طرح ان ہاتھیوں کو بھی کمبوڈیا بھیج دیا جائے، کے ایم سی علاج کی درخواست دے تو عدالت اس پر حکم جاری کردے گی۔

    کے ایم سی کی جانب سے کہا گیا کہ ہمیں تفصیلی رپورٹ کی نقل فراہم کی جائے جس کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے۔

    عدالت نے رپورٹ کی نقل فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 13 جنوری تک ملتوی کردی۔

  • کراچی کے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، انہیں مایوس نہ کریں

    کراچی کے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، انہیں مایوس نہ کریں

    شہر قائد میں گیس بحران پر پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے وزیراعظم اور وفاقی وزیر توانائی کو انتباہی خط لکھ دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں گیس بحران بے قابو ہوتا جارہا ہے، جس کے باعث پی ٹی آئی ایم پی اے مایوسی کا شکار ہیں، پی ٹی آئی ایم پی اے راجہ اظہر نے وزیر اعظم اور وفاقی وزیر توانائی کو انتباہی خط لکھاہے۔

    رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر نے کہا کہ کراچی بالخصوص میرے پورے حلقے میں گیس کا بحران شدید تر ہوگیا ہے، گیس بحران پر شہری سوئی گیس اور وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم اور وفاقی وزیر توانائی کو لکھے گئےخط میں راجہ اظہر نے انتباہ کیا کہ صورتحال پی ٹی آئی کے ہاتھوں سے نکل رہی ہے، جو بلدیاتی انتخابات میں نقصان پہنچائے گی، سنگین معاملے پر وزیر اعظم اور وزیر توانائی فوری نوٹس لیں، کراچی کے عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے انہیں مایوس نہ کریں۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز کورنگی میں گیس کی عدم فراہمی پر شہریوں کی جانب سے بڑا مظاہرہ کیا گیا تھا، مظاہرین نے اس موقع پر حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی بھی کی تھی۔

    مظاہرے کے باعث کورنگی انڈسٹریل ایریا میں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں تھی، مظاہرے کا مطالبہ تھا کہ فوری طور پر گیس کو بحال کیا جائے۔

  • شیر شاہ دھماکے کا ایک اور زخمی چل بسا

    شیر شاہ دھماکے کا ایک اور زخمی چل بسا

    چند روز قبل شیرشاہ دھماکے میں زخمی ایک اور شخص دوران علاج دم توڑ گیا جس کے بعد دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 18 تک جاپہنچی ہے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق شخص کی شناخت جمیل احمد کے نام سے ہوئی، جاں بحق شخص کا تعلق راجن پور سے تھا، جو کراچی میں محنت مزدوری کی غرض سے رہائش پزیر تھا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق تمام تر ضابطے مکمل کرنے کے بعد جمیل احمد کی میت کو آبائی علاقے راجن پور روانہ کردیا گیا ہے، شیر شاہ دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 18 ہوگئی ہے۔

    یاد رہے کہ کراچی کے علاقے شیر شاہ میں ہونے والے دھماکے میں نجی بینک کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس واقعے میں تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کے والد بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔

    دھماکے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جس کی سربراہی ایس پی انویسٹی گیشن کررہے ہیں۔

    پولیس کے مطابق بی ڈی یو رپورٹ اور ابتدائی تحقیقات سے دھماکا گیس لیکیج کے باعث ہوا تھا، دھماکے کا مقدمہ بھی درج کیا جاچکا ہے، ذمہ داروں کے تعین کے لیے ٹیم دیگر اداروں کی خدمات حاصل کرلی گئیں ہیں۔

  • کراچی میں دوسری شادی کی خواہش پر سالے کی فائرنگ سے بہنوئی ہلاک

    کراچی میں دوسری شادی کی خواہش پر سالے کی فائرنگ سے بہنوئی ہلاک

    گلستان جوہر میں سالے نے جھگڑے کے دوران بہنوئی کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے آلہ قتل پستول برآمد کرلیا۔

    گلستان جوہر بلاک 8 میں واقع مکان نمبرA70 کے اندر جھگڑے کے دوران فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ قتل کی واردات کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی تو گھر والوں نے ملزم کو پکڑا ہوا تھا، تاہم پولیس نے ملزم کو گرفتارکرکے اس کے قبضے سے آلہ قتل پستول اپنی تحویل میں لیا اور لاش پوسٹ مارٹم کی کارروائی کیلئے عباسی شہید اسپتال منتقل کی۔

    ایس ایچ او فاروق سنجرانی کے مطابق مقتول کی شناخت 35 سالہ اسلم ولد پرویز کے نام سے ہوئی اور اسکا اپنے سالے فرحان سے جھگڑا ہوا تھا جس پر فرحان نے طیش میں آکر فائرنگ کردی جو بہنوئی کیلئے جان لیوا ثابت ہوئی۔

    پولیس کے مطابق مقتول دوسری شادی کرنا چاہتا تھا اور اس پر ان کے درمیان رنجشیں تھیں اور اسی سلسلے میں وہ لوگ گھر پر بات کررہے تھے کہ یہ واقعہ رونما ہوا۔ تاہم پولیس واقعے کی مزید چھان بین کررہی ہے ۔

  • سی این جی ایسوسی ایشن کا سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر پر دھرنے کا اعلان

    سی این جی ایسوسی ایشن کا سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر پر دھرنے کا اعلان

    سی این جی ایسوسی ایشن نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر پر دھرنے کا اعلان کردیا۔

    سی این جی ایسوسی ایشن نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر پر دھرنے کا اعلان کردیا ہے، اعلان آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن سندھ زون کے کوآرڈینیٹر سمیر نجمل حسین نے کیا۔

    سمیر نجمل کا کہنا تھا کہ سندھ کے اسٹیشنز کو آر ایل این جی پر منتقل کیے جانے کے باوجود آر ایل این جی بھی فراہم نہیں کی جارہی، ایس ایس جی سی نے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے آر ایل این جی پرمنتقل کیا.

    ایس ایس جی سی نے قدرتی گیس کے متبادل کے لیے آر ایل ایل جی کی ایلوکیشن بھی حاصل نہیں کی، اور اس نے سی این جی سیکٹر اور لاکھوں صارفین کو دھوکا دیا، جس کی وجہ سے سی این جی اسٹیشنز اور صارفین کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ضائع ہورہی ہے۔

    کوآرڈینیٹر سمیر نجمل نے کہا کہ آج دن 12 بجے شروع ہونے والا دھرنا اور احتجاج غیرمعینہ مدت تک جاری رہے گا، ہم سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام سے کوئی مذاکرات نہیں کریں گے، سندھ حکومت کے نمائندوں، وزیراعلیٰ یا گورنر سے بات کریں گے