Baaghi TV

Category: کراچی

  • (ن) لیگ نے کراچی گرین لائن منصوبے کا علامتی افتتاح کردیا

    (ن) لیگ نے کراچی گرین لائن منصوبے کا علامتی افتتاح کردیا

    کراچی : (ن) لیگ نے کراچی گرین لائن کو نواز شریف کا منصوبہ قراردے کرعلامتی افتتاح کردیا۔

    پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکریٹری جنرل و سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے کراچی گرین لائن میٹرو بس منصوبے کا علامتی افتتاح کردیا۔ (ن) لیگی کارکنوں نے ناظم آباد 7 نمبر گرین لائن ٹریک پرجانے کی کوشش کی جس پرانتظامیہ نے راستے بند کردیئے اور ان کو وہاں داخلے سے روک دیا۔ اس موقع پر (ن) لیگی کارکنان نے نعرے بازی کی۔

    کراچی میں گرین لائن میٹرو کے علامتی افتتاح کے موقع پر (ن) لیگ کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کراچی گرین لائن کامنصوبہ مسلم لیگ ن نے 2016 میں شروع کیا تھا، اس منصوبے کی بنیاد مذکورہ وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے رکھی، یہ منصوبہ دسمبر2018میں مکمل ہوناتھا، اس منصوبے کی تعمیرمیں تاخیرکی گئی کیونکہ یہ ن لیگ کامنصوبہ تھا، لوگ کراچی میں ناقص ٹرانسپورٹ میں دھکے کھاتے رہے ہیں، سواتین سال میں بھی مکمل نہیں کیاجاسکا، یہ حکومت (ن) لیگ کے منصوبوں پرتختیاں لگاتی رہی ہے۔

    احسن اقبال نے کہا کہ سیاسی کارکنان پرسیکیورٹی ادارے نے تشدد کیا جس سے ایک کارکن زخمی ہوا، مجھے خوشی ہے کہ اس افتتاح میں ہماراخون بھی شامل ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے سے یہ حکومت پولیس والا کام لے رہی ہے، اس ادارے کوسیاست کے لیے استعمال کیا گیا۔

    احسن اقبال نے مزید کہا کہ یہ ریاست دہشت گردوں کے آگے بے بس نظرآتی ہے یہ صرف غیر مسلح سیاسی کارکنوں پرسارا زورلگاتے ہیں ہم نے پہلے بھی گولیاں کھائی ہیں اگراب بھی میرا لہو کراچی کی سرزمین پرگراہے تویہ میرے لیے فخرکی بات ہے میرا ساتھ جو ہوا وہ قابل مذمت عمل ہے ہم نے سندھ کی ترقی کاجوسفرشروع کیا، اس حکومت نے تباہ کردیا، ہم نے سکھرملتان موٹروے بنایا، سکھر، حیدرآباد منصوبہ بھی 2020میں مکمل ہوجاتا اگراس پرکام نہیں روکا جاتا۔

    پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل نے (ن) لیگ کی جانب سے گرین لائن کے علامتی افتتاح پرردعمل میں کہا کہ آج ن لیگ کے سیاسی مداریوں نے کراچی گرین لائن کے فٹ پاتھ پر تماشہ کیا۔

    شہباز گل نے ٹوئٹ میں کہا کہ ان کو بتانا پڑے گا کہ یہی منصوبہ ہے جس کا آپ نے کاغذوں میں پلان بنایا،پیسے رکھےپھر وہی والا پیسہ لوٹ کرلندن میں عمارتیں خرید لیں۔ اصل میں تو آپکو ایون فیلڈ کے فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر ٹھگ ہاؤس کا افتتاح کرنا چاہئے ۔

    وزیراعظم عمران خان 10 دسمبر کو کراچی کے پہلے جدید ٹرانسپورٹ نظام گرین لائن منصوبے کا افتتاح کریں گے اور تقریباً دو ہفتے ٹرائل آپریشن کے بعد 25 دسمبر کو کمرشل آپریشن کا آغاز کر دیا جائے گا۔

  • کورونا کا نیا ویرینٹ اومیکرون پاکستان پہنچ گیا، کراچی میں پہلا مشتبہ کیس رپورٹ

    کورونا کا نیا ویرینٹ اومیکرون پاکستان پہنچ گیا، کراچی میں پہلا مشتبہ کیس رپورٹ

    کراچی: کئی ممالک میں تیزی سے پھیلنے والا، کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ ’اومیکرون‘ پہلی بار مبینہ طور پر پاکستان میں بھی رپورٹ ہوگیا ہے۔

    محکمہ صحت سندھ نے اومیکرون ویرینٹ کے پہلے کیس کے بارے میں بتایا کہ کراچی میں اومیکرون ویرینٹ کا پہلا مشتبہ کیس ایک نجی اسپتال میں رپورٹ ہوا ہے۔
    محکمہ صحت سندھ کے مطابق، مذکورہ خاتون میں اومیکرون ویرینٹ کی ممکنہ موجودگی کا انکشاف 8 دسمبر کو ہوا، تاہم ان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی کوئی علامت موجود نہیں تھی۔ وہ خاتون ویکسی نیٹڈ بھی نہیں تاہم وہ گھر پر قرنطینہ میں ہیں۔
    دوسری جانب قومی ادارہ صحت نے بھی پاکستان میں اومیکرون کی موجودگی سے متعلق میڈیا پر آنے والی اطلاعات کے حوالے سے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ کراچی سے رپورٹ ہونے والے اومیکرون ویرینٹ کے مشتبہ کیس کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
    ابھی اس کا جینوم مکمل طور پر نہیں پڑھا گیا ہے جبکہ یہ عمل متاثرہ خاتون کے خون کا نمونہ حاصل کرنے کے بعد انجام دیا جائے گا جس میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ قومی ادارہ صحت نے عالمی وبائی حالات کے تناظر میں پاکستانی عوام سے پُرزور اپیل کی کہ وہ جلد از جلد ویکسین لگوائیں۔
    واضح رہے کہ اب تک ایشیا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا میں کورونا کے نئے ’اومیکرون ویرینٹ‘ کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مزید ملکوں میں ظاہر ہوتا جارہا ہے۔
    اپنے تیز رفتار پھیلاؤ کے باوجود، اب تک دنیا میں کسی ملک سے بھی اومیکرون ویرینٹ کے باعث اموات کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔

  • ویسٹ انڈیزکرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی

    ویسٹ انڈیزکرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی

    ویسٹ انڈیزکرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق مہمان ٹیم دبئی کے راستے کراچی پہنچی ہے، جہاں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں کھلاڑیوں کی آمد کے بعد کوویڈ19 ٹیسٹ لیے جائیں گے، جس کے بعد کھلاڑی اور آفیشلز ایک دن کے لیے قرنطینہ ہوں گے، جمعہ کو یعنی کل نیشنل اسٹیڈیم میں پہلا پریکٹس سیشن ہوگا۔

    ڈھاکا ٹیسٹ:پاکستان ایک اننگزاور8 رنز سے جیت گیا:بنگلا دیش کے خلاف پاکستان کا سیریز میں کلین سویپ

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی سیریز 13 تا 22 دسمبر نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلی جائے گی، جس میں 3 ٹی ٹوئنٹی میچز اور اتنے ہی آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ سپر لیگ میچز ہوں گے۔

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے کرکٹ شائقین کو خوشخبری سنادی

    ٹی ٹوئنٹی سیریز میں ویسٹ انڈیز کی قیادت نکولس پوران کریں گے جبکہ ون ڈے میچز میں شائی ہوپ کپتان ہیں کیرون پولارڈ انجری کے سبب دستبردار ہوگئے تھے۔

    13 دسمبر کو پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ شام 6 بجے ہوگا، 14 دسمبر کو دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا جائے گا، 16 دسمبر کو تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ کا آغازشام 6 بجے ہوگا۔

    18 دسمبر کو پہلا ون ڈے انٹر نیشنل میچ کھیلا جائے گا، دوسرا ون ڈے 20 دسمبر کو ہوگا اور 22 دسمبر کو تیسرا اور آخری ون ڈے میچ کھیلا جائے گا۔

    دورہ پاکستان سے قبل ویسٹ انڈیز ٹیم کو بڑا جھٹکا

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے کرکٹ شائقین کو خوشخبری سنائی کہا تھا کہ شائقین کرکٹ کو پی ایس ایل پوری تعداد میں دیکھنے کی اجازت ہو گی انہوں نے کہا تھا کہ 12 سال یا اس سے زائد عمر کے شائقین کرکٹ کو پوری تعداد میں اسٹیڈیم آنے کی اجازت ہو گی پی ایس ایل 7 اورغیر ملکی ٹیموں کے میچز کے دوران ویکسی نیٹڈ افراد کو اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت ہوگی۔چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے شائقین کرکٹ سے کہا تھا کہ وہ فوری طور پر اپنی کورونا ویکسینیشن مکمل کرالیں۔

    پی سی بی نے پاکستان ویسٹ انڈیز سیریز کیلئے ٹکٹوں کا اعلان کر دیا

  • امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کی جعلی پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے ارسلان محسود کے والد سے تعزیت

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کی جعلی پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے ارسلان محسود کے والد سے تعزیت

    کراچی : امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کی جعلی پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے ارسلان محسود کے والد سے تعزیت

    پولیس کی ذمہ داری عوام کی جان و مال کی حفاظت ہے لیکن سندھ پولیس عوام کی قاتل بن گئی ہے۔سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکارعوام کے لئے خوف کا باعث بن گئے ہیں۔ارسلان محسود کا قتل کراچی میں ماورائے عدالت ہونے والے قتل عام کا تسلسل ہے۔سندھ پولیس جرائم کو کنٹرول کرنے اور منشیات کی روک تھام کے بجائے ڈاکوں کی سرپرست بن گئی ہے۔
    کراچی مزید نوجوانوں کی لاشیں اٹھانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔جماعت اسلامی لیاقت محسود کے غم میں برابر شریک ہے اور سندھ پولیس کے اس ظالمانہ اقدام کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔اب شہر کراچی میں مزید کسی رائو انوار کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جعلی پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے نوجوان طالب علم ارسلان محسود کے گھراتحاد ٹائون آمدکے موقع پر انکے والد لیاقت محسود اور اہل خانے سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
    انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ اور آئی جی سندھ اعلیٰ سطح پر انکوائری کے بعد ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دیں۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع کیماڑی فضل احد ،سابق ایم پی اے حمید اللہ خان،ڈاکٹر نور حق و دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلی جواب دیں کہ سندھ پولیس کو قتل عام کا لائسنس کس نے دیا ہے ۔صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہر میں امن و مان قائم رکھے۔
    دیگر ذمہ داریوں کی طرح پیپلزپارٹی کی حکومت قیام امن میں بھی ناکام ہو گئی ہے۔قانون کسی مجرم کو بھی سرے عام گولی مارنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہاںسرے عام نوجوان طالب علموں پر گولیاں برسائی گئیں۔پولیس منشیات کو پھیلانے،جرائم کی سرپرستی اور مجرموں کی پشتی بانی کررہی ہے۔محکمہ پولیس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

  • کراچی والوں کو گرین لائن بسوں پر سفر کیلئے مزید انتظار کرنا ہو گا

    کراچی والوں کو گرین لائن بسوں پر سفر کیلئے مزید انتظار کرنا ہو گا

    کراچی : کراچی والوں کو گرین لائن بسوں پر سفر کیلئے مزید انتظار کرنا ہو گا، 10 دسمبر کو منصوبے کے افتتاح کے اعلان کی حقیقت کچھ اور ہی نکلی۔

    تفصیلات کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شہری اپنے شہر کے پہلے جدید ماس ٹرانزٹ منصوبے کے افتتاح کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، تاکہ ان کی سفری مشکلات میں کچھ کمی آ سکے۔
    وفاقی حکومت کی جانب سے رواں ماہ کی 10 تاریخ کو گرین لائن منصوبے کے افتتاح کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم اس اعلان کی حقیقت کچھ اور نکلی ہے۔
    میڈیا رپورٹس کے مطابق گرین لائن کے بیشتر اسٹیشنز کی حالت انتہائی خراب ہے، ان کی تعمیر تاحال مکمل نہیں ہوئی۔ ایسے میں حکومت کی اعلان کردہ تاریخ پر گرین لائن بسوں کا کمرشل آپریشن شروع ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ یاد رہے کہ کراچی گرین لائن بس منصوبے کیلئے 80 جدید بسیں کراچی پہنچ چکی ہیں۔ منصوبے کیلئے چین میں تیار کی جانے والی جدید بسیں 2 علیحدہ شپ منٹس کے ذریعے کراچی پہنچائی گئیں۔
    حکام کے مطابق پہلے فیز میں گرین لائن بسیں سرجانی ٹائون سے نمائش چورنگی(گرومندر)تک چلائی جائیں گی، جہاں اب تک ٹریک مکمل ہوچکا ہے۔واضح رہے کہ یہ منصوبہ 2016 میں شروع ہوا تھا۔ کراچی گرین لائن منصوبے کے لیے بسیں فراہم کرنے والی کمپنی کے مطابق کراچی کی بسیں لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں چلنے والی بسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ جدید ہیں، یہ بسیں یورو تھری معیار کی اور ہائبرڈ ہیں ، ان میں ڈیزل کے ساتھ خودکار طریقے سے چارج ہونے والی بیٹری بھی استعمال ہوگی جس سے ایندھن کی بچت کے ساتھ ماحول کو بھی فائدہ ہوگا۔
    بسوں میں خصوصی سسٹم نصب ہے جو انجن میں آگ لگنے کی صورت میں خودکار طریقے سے آگ بجھائے گا۔18 میٹر لمبی بسوں میں 40 نشستیں ہیں۔ کھڑے ہوکر اور نشستوں پر بیک وقت 150 افراد سفر کرسکیں گے، زیادہ رش کی صورت میں 190 مسافروں کی گنجائش ہوگی۔ بسوں میں معذور افراد کے لیے جگہ خصوصی ہے اور خودکار ریمپ نصب ہے۔ ہر بس میں دو وہیل چیئرز کی جگہ مخصوص ہے۔ بسوں میں خواتین اور معذور افراد کیلئے مخصوص نشستیں ہوں گی۔ کراچی گرین لائن ٹرانسپورٹ منصوبے کے لیے بنائی گئیں ہائبرڈ بسیں چین میں تیار کی گئی ہیں۔کراچی کی روائتی لوکل بسوں کی نسبت یہ بسیں لمبی اور مکمل ایئرکنڈیشنڈ ہوں گی۔ ہر بس میں 200 سے 250 افراد کے سفر کرنے گنجائش موجود ہے۔

  • کراچی میں فالٹ لائنز کی موجودگی کا انکشاف

    کراچی میں فالٹ لائنز کی موجودگی کا انکشاف

    کراچی : کراچی میں فالٹ لائنز کی موجودگی کا انکشاف۔

    تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر محکمہ موسمیات زاہد رفیع نے بدھ کی رات کو کراچی میں آنے والے زلزلے کے بعد تشویش ناک انکشاف کیا ہے۔ زاہد رفیع کے مطابق شہر قائد کراچی میں فالٹ لائنز موجود ہیں، مطابق زلزلے کے بعد صورتحال کا تجزیہ شروع کر دیا ہے۔ ماہر موسمیات نے زلزلے کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔
    نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے زاہد رفیع نے بتایا کہ کراچی میں آنے والے زلزلے نے ہم سب کو حیران کر دیا ہے۔ زلزلے کا مرکز کراچی ہی تھا جبکہ گہرائی صرف 15 کلومیٹر تھی۔ 15 کلومیٹر کی گہرائی کم سمجھی جاتی ہے۔ کراچی میں اتنی شدت کا زلزلہ نہیں آتا۔ واضح رہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بدھ کی رات کو زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
    گلشن اقبال، گلستان جوہر،گلشن حدید، آئی آئی چندریگر روڈ، ملیر، اسکیم33، صدر، گلزارہجری، پورٹ قاسم، ‏قائدآباد، کھوکھراپار ملیرم، لیاری، شیرشاہ، کھارادر، کیماڑی سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکوں کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا۔ زلزلے کے بعد لوگ خوف زدہ ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے رہے۔
    بتایا گیا ہے کہ زلزلے کی شدت 4 عشاریہ 1 تھی۔ زلزلے کی زیر زمین گہرائی 15 کلومیٹر جبکہ مرکز ڈی ایچ اے کے جنوب میں 15 کلومیٹر دور کا علاقہ بتایا گیا ہے۔ زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں۔ یاد رہے کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران ملک کے کچھ علاقے مسلسل زلزلوں کی زد میں رہے ہیں۔ بلوچستان میں ہرنائی اور آس پاس کے علاقے، جبکہ خیبرپختونخواہ میں سوات ریجن میں آئے روز زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں، جس باعث ان علاقوں کے شہری مسلسل خوف کی فضاء میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

  • رات کی شفٹ میں بے وقت کھانے سے ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ

    رات کی شفٹ میں بے وقت کھانے سے ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ

    کراچی : جسم کی اندرونی گھڑی ہمارے سونے جاگنے اور دیگر معمولات کو طے کرتی ہے، ان میں بگاڑ سے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اب معلوم ہوا کہ رات کو جاگنے اور کھانے پینے سے ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    اس سے قبل رت جگوں میں کام سے جسم کے استحالے (میٹابولزم) متاثر ہونے، امراضِ قلب اور بلڈپریشر کے درمیان تعلق سامنے آچکا ہے۔ اسی طرح سونے اور جاگنے کے قدرتی دورانیے یعنی جسمانی گھڑی (سرکاڈیئن کلاک) بگڑنے سے دل پر منفی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔
    اس کے بعد ہارورڈ میڈیکل اسکول کے سائنسدانوں نے نوجوان اور صحت مند رضا کاروں کو بھرتی کرکے انہیں دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے ایک کو دن میں کام کرایا گیا اور ان ہی اوقات میں کھانا پینا فراہم کیا۔ دوسرے گروہ کو رات میں جاگنے کو کہا اور انہی اوقات میں کھانا دیا گیا۔ یہ عمل کل 14 روز تک دہرایا گیا۔
    سب سے پہلے دونوں گروہوں کے خون میں گلوکوز کی مقدار نوٹ کی گئی۔ اب جن لوگوں نے دو ہفتے شب بیداری میں گزارے اور رات کو کھانا کھایا تو پہلے کے مقابلے گلوکوز کی شرح ساڑھے چھ فیصد بڑھی ہوئی دیکھی گئی۔
    ہارورڈ کے پروفیسر فرینک اے جے ایل نے یہ تحقیق کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری تحقیق سے عیاں ہے کہ بے وقت کھانے سے خون میں شکر کی مقدار بڑھتی ہے لیکن انہوں نے اس ضمن میں مزید تحقیق پر زور دیا۔
    اب بھی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ رات کو کھانے کے بجائے رات جاگنے کا عمل زیادہ مضر ہے کیونکہ یہ پورے بدن کے نظام کو تتربتر کردیتا ہے۔

  • ہوشیار، یہ کام کرنے سے فالج کا خطرہ 60 فیصد بڑھ سکتا ہے

    ہوشیار، یہ کام کرنے سے فالج کا خطرہ 60 فیصد بڑھ سکتا ہے

    کراچی : فالج کا شدید دورہ پوری دنیا میں فوری طور پر جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے اور ہرسال ہزاروں لاکھوں افراد میں دائمی معذوری کی وجہ بھی بنتا ہے۔

    انسان کی کچھ ایسی سرگرمیاں ہیں جو محض لمحوں میں فالج کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھاسکتی ہیں اور ان سرگرمیوں میں سرفہرست جسمانی دباؤ ہے۔
    اس ضمن میں نیشنل یونیورسٹی آف آئرلینڈ نے 2021 میں پوری دنیا میں 13 ہزار 462 کیسز کے مطالعات سے انکشاف کیا ہے کہ بھاری وزن اٹھانے اور بہت زیادہ ورزش ختم کرنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر فالج کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔
    اس تحقیق کی روداد امریکن جرنل آف ایپیڈیمیولوجی میں شائع ہوئی ہے۔ 390 متاثر ہونے والے افراد میں سے 21 یعنی 21 افراد نے اعتراف کیا کہ فالج سے قبل انہوں نے سخت جسمانی مشقت کی تھی۔ اس طرح کل پانچ فیصد افراد سامنے آئے جنہوں نے فالج کے دورے سے قبل سخت مشقت کی تھی یا کم ازکم 50 پاؤنڈ وزن اٹھایا تھا۔ ان تمام افرد کو اشکیمیئک اسٹروک (فالج) ہوا تھا۔
    دوسری جانب خود ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ بہت رنج و غم اور صدمے سے بھی فالج کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ واضح رہے کہ فالج کئی طرح کے ہوتے ہیں جن میں دماغ کی باریک رگ میں خون کا لوتھڑا پھنس جانا یا پھر خون کی رگ پٹھنے سے دماغ میں خون کا بہاؤ شامل ہے۔

  • کراچی میں دودھ کی نئی سرکاری قیمت 120 روپے فی لیٹر مقرر

    کراچی میں دودھ کی نئی سرکاری قیمت 120 روپے فی لیٹر مقرر

    کراچی: شہرقائد کے عوام کے لیے دودھ کی نئی سرکاری قیمت کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق دودھ کی نئی خوردہ قیمت 120 روپے فی لیٹر ہوگی۔

    کمشنر کراچی محمد اقبال میمن نے دودھ کی نئی سرکاری قیمت کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق کراچی میں دودھ کی نئی خوردہ قیمت 120 روپے فی لیٹر ہوگی۔ نئی قیمت کا فیصلہ ڈیری فارمرز اور ہول سیلرز، صارفین کی انجمنوں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے نمائندوں پر مشتمل اجلاس میں کیا گیا اور ڈپٹی کمشنر ملیر کی سربراہی میں قائم جائزہ کمیٹی کو بنیاد بناکر خوردہ قیمت 94 روپے لیٹر سے بڑھاکر 120روپے لیٹر کردی گئی اس طرح دودھ کی قیمت میں یک دم 26روپے لیٹر کا اضافہ کردیا گیا۔
    نوٹٰی فکیشن کے مطابق نئی قیمت پر 9 دسمبر سے عملدرآمد ہو گا۔ دودھ کی ڈیری فارمرز کی قیمت 105 اور تھوک قیمت 110 روپے فی لیٹر ہوگی۔ اجلا س نے ہر تین ماہ بعد دودھ کی قیمت کا جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
    دودھ کی سرکاری قیمت میں یکدم 26 روپے اضافے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں نے کہا کہ کمشنر کراچی کے نوٹی فکیشن سے قبل ہی ڈیری مافیا دودھ کی قیمت میں اضافہ کرچکی ہے اور کراچی میں دودھ پہلے ہی 140روپے لیٹر فروخت ہورہا ہے۔ کمشنر کراچی نے ڈیری مافیا کی من مانی اور غیرسرکاری قیمت کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے دودھ کی قیمت میں اضافہ کردیا اور دودھ کی قیمت غیرقانونی طور پر بڑھانے والی انجمنوں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی اور نہ ہی ان سے 120روپے لیٹر پر عمل درآمد کی کوئی یقین دہانی حاصل کی گئی۔
    مسابقتی کمشین کی رپورٹ کے مطابق ڈیری سیکٹر کا کارٹل کراچی کے شہریوں سے سالانہ اربوں روپے غیرقانونی قیمت کی شکل میں وصول کررہا ہے۔ دودھ کی قیمت مقرر کرنے کے لیے بھی ان ہی تنظیموں سے مشاورت کی گئی جنہیں کارٹل کا حصہ قرار دیا گیا۔

  • کراچی والے 11 ماہ میں 47148 موٹر سائیکلوں اور 23124 موبائل فونز سے محروم

    کراچی والے 11 ماہ میں 47148 موٹر سائیکلوں اور 23124 موبائل فونز سے محروم

    کراچی: شہر قائد کے باسی 11 ماہ میں 47 ہزار 148 موٹر سائیکلوں اور 23 ہزار 124 موبائل فونز سے محروم ہوگئے۔

    سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے 11 ماہ کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر شہریوں کو ایک ہزار 917 گاڑیوں سے محروم کر دیا گیا، جس میں 215 گاڑیاں چھینی جب کہ 1702 گاڑیاں چوری کرلی گئیں۔
    گزشتہ 11 ماہ کے دوران مجموعی طور پر شہریوں کو 47 ہزار 148 موٹر سائیکلوں سے ہاتھ دھونا پڑا، جس میں 4145 موٹر سائیکلیں چھینی جبکہ 43 ہزار 3 موٹر سائیکلوں کو چوری کرلیا گیا۔
    اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 23 ہزار 124 موبائل فونز شہریوں سے چھین لیے گئے، رواں سال کے 11 ماہ کے دوران اغوا برائے تاوان کے 15 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ بھتہ خوری کے بھی 23 واقعات سامنے آئے ، شہر میں جاری قتل و غارت گری کے واقعات میں مجموعی طور پر 442 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جبکہ رواں سال کے دوران بینک ڈکیتی کی 2 وارداتیں رونما ہوئیں۔
    نئے کراچی پولیس چیف عمران یعقوب منہاس نے رواں سال مئی میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا اور اس موقع پر انھوں نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا تاہم ان کی تعیناتی کے 7 ماہ کے دوران شہری مجموعی طور پر 1281 گاڑیوں ، 30 ہزار 669 موٹر سائیکلوں اور 14 ہزار 953 موبائل فونز سے محروم کر دیئے جب کہ اسی دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ڈاکوؤں نے مزاحمت پر درجنوں شہریوں کو نہ صرف مزاحمت پر فائرنگ کر کے زخمی کر دیا بلکہ کئی شہریوں کو ابدی نیند بھی سلا دیا۔
    ترجمان کراچی پولیس کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ملزمان کی گرفتاریوں کے دعوؤں کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائمز ، دکانوں میں گھس کر اسلحے زور پر لوٹ مار ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور موبائل فونز چھیننے کی وارداتیں عروج پر رہیں جس سے پولیس کی کارکردگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔