Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی: شہر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کےجھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے ملیر، صدر، شاہ فیصل کالونی، گلشن حدید، قائدآباد ، گلستان جوہر ، پہلوان گوٹھ، سعدی ٹاون، گلشن حدید اور گڈاپ میں محسوس کئے گئے۔ زلزلے سے ابتدائی طور پر کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    محکمہ موسمیات کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کے جھٹکے رات 10 بج کر 16 منٹ پر محسوس کئے گئے، زلزلے کا مرکز ڈی ایچ اے کراچی سے 15 کلومیٹر شمال میں تھا، جب کہ اس کی گہرائی 15 کلومیٹر اور شدت ریکٹر اسکیل پر 4.1 ریکارڈ کی گئی ہے۔

  • بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا اولین ترحیح ہے : سریندر ولاسائی

    بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا اولین ترحیح ہے : سریندر ولاسائی

    کراچی : وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق سریندر ولاسائی نے کہا ہے کہ بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب ہر فرد کو انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا سندھ حکومت کی اولین ترحیح ہے۔ یہ بات انہوں نے محکمہ انسانی حقوق کے زیر انتظام عالمی یوم انسانی حقوق کی مناسبت سے منعقدہ تقریری مقابلے کے شرکاسے گفتگو کے دوران کہی۔
    سریندر ولاسائی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومن اور سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں سے تعلیم حاصل کی اس کالج میں بحیثیت مہمان خصوصی آنا ان کے لیے باعث فخر ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ ایس ایم سائنس کالج کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی بنیاد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں سے رکھی گئی۔
    اس ضمن میں کالج کی بلڈنگ کو نیشنل ہیریٹیج ڈکلیئرڈ کروانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اس سے قبل "مہذب معاشرے میں انسانی حقوق کا کردار” کے عنوان پر طلبہ و طالبات نیاردو، سندھی اور انگریزی زبان میں تقریر کیں۔ اس تقریری مقابلے میں کراچی کے مختلف سرکاری اسکولز اور کالجز کے 50 سے زائد طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ تقریب میں صوبائی ہیومن رائٹس ویجیلینس کمیٹی کے ممبران ایوب کھوسہ، قیصر نظامانی ، ڈاکٹر راکیش موتیلانی، پرنسپل ایس ایم سائنس کالج بیم راج کالانی، سابق پرنسپل ایس ایم سائس کالج حافظ فصیح نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ آخر میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے گئے

  • تحریک انصاف کی آل اسٹیک ہولڈرز کانفرنس کیلئے سیاسی،سماجی تنظیموں سے رابطے تیز

    تحریک انصاف کی آل اسٹیک ہولڈرز کانفرنس کیلئے سیاسی،سماجی تنظیموں سے رابطے تیز

    کراچی : پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان کی سربراہی میں وفد نے گزشتہ روز نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز (نکاٹی) کا دورہ کیا اس موقع پر خرم شیر زمان نے نکاٹی ممبران کو آل اسٹیک ہولڈرز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو کالے قانون کے خلاف ایک پیج پر لا رہے ہیں ترمیم کے بعد میئر کے پاس شہر کو چلانے کا کوئی نظام نہیں ہوگاایک غیر منتخب میئر شہر کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔
    اس موقع پر وفد میں اراکین اسمبلی سعید آفریدی، ریاض حیدر، ڈاکٹر عمران علی شاہ، سدرہ عمران، شہزاد قریشی، ڈاکٹر سیما ضیاء، پی ٹی آئی رہنما فراز لاکھانی، نواز مندوخیل، فضہ ذیشان، شیراز ناگانی موجود تھے،پی ٹی آئی رہنماء خرم شیرزمان نے نکاٹی ممبران کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پی پی نے نئے بلدیاتی بل میں مقامی حکومتوں کو بے اختیار کردیا ہے، ہمیں ہر صورت پیپلز پارٹی کو روکنا ہیاگر اس قانون کے تحت بلدیاتی انتخابات ہوئے تو مزید تباہی آئے گی، اس کالے قانون کے خلاف مہم میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر لائیں گیخرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہم 4 سال یہی کہتے رہیں کہ ہمیں کرنا کیا ہے نکاٹی ممبران کے ہمارے موقف کو سراہا ہے،کاروباری برادری شہر کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں،شہر کے آنے والے میئر کے پاس ٹرانسپورٹ، پانی، بلڈنگ کنٹرول، صحت، تعلیم کا نظام نہیں ہوگا،ترمیمی بل کے اندر میئر چور دروازے سے سیکریٹ بیلٹ کے ذریعے آئے گاشہر کا میئر منتخب نہیں ہوگا،سندھ حکومت کی چھوٹی سوچ کی وجہ سے صوبے کا حال برا ہے،جو ڈیمانڈ ہم کررہے ہیں، وہ ہم نے اپنی صوبائی حکومتوں میں دیے ہیں دیگر صوبوں کے شہروں میں میئر با اختیار ہونگیہم نے نکاٹی کو آل اسٹیک ہولڈرز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے، سندھ میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے شہر کی بڑی بڑی سڑکیں وزیراعظم بنارہے ہیں کے سی آر وزیراعظم بنانے جارہے ہیں کووڈ کی ویکسین وزیراعظم نے دی،سندھ حکومت نے کیا کیا ہم اس کالے قانون کیخلاف یہاں آئین ہیں اس کالے قانون کے خلاف سب کو ایک ہونا ہوگا،پہلی مرتبہ اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا جارہا ہے دوسری جانب بلدیاتی آرڈیننس کیخلاف خرم شیر زمان کی سربراہی میں وفدآل پاکستان میمن فیڈریشن ایسوسیشن اور سربراہ پاکستان سنی تحریک ثروت اعجاز قادری سے ملاقات کیلئیپہنچا خرم شیر زمان نے رہنماؤں کو آل پاکستان اسٹیک ہولڈرز کانفرنس کی دعوت پیش کی اس موقع پر آل پاکستان میمن فیڈریشن ایسوسیشن کے صدر حنیف موٹلانی نے وفد کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں نہ سڑکیں صحیح ہیں،نہ یہاں کاروبار صحیح ہے، ہم کراچی کے مسائل کے حل کی بات کرتے ہیں، مئیر پہلے بھی بیاختار تھا آئندہ بھی بیاختار ہوگا، ہم کراچی کی بہتری کیلئے آواز اٹھانے والوں کا ساتھ دیں گے، عہدے آتے اور جاتے ہیں،ہمیں جواب رب کو دینا ہے، ایم پی ایز کو ہم نے منتخب کیا، چاہتے ہیں عوامی نمائندے کام کریں،ہم بلدیاتی قانون کو پڑھیں گی ۔
    ساتھ ہی ساتھ پی ٹی آئی رہنماء خرم شیرزمان نے سربراہ پاکستان سنی تحریک ثروت اعجاز قادری کو بلدیاتی ترمیمی آرڈیننس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سنی تحریک کا کراچی میں اپنا اسٹیک و اہم کردار ہیسنی تحریک نے کراچی کے حق کیلئے شانہ بشانہ آواز بلند کی ہے، کراچی کی تمام جمہوریت پسند جماعتیں پی پی کے کالے قانون کے مخالف ہیں 12 دسمبر کو آل کراچی اسٹیک ہولڈرز کانفرنس میں پاکستان سنی تحریک کے سربراہ کی نمائندگی و ساتھ کی ضرورت ہے۔

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی رہنماء خرم شیر زمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سندھ کابینہ کی فائننس کمیٹی کا اجلاس بیمعنی،صرف خانہ پوری کے کچھ نہیں، اجلاس میں اپنی اپنی کرپشن کی داستان ایک وزیر دوسرے وزیر کو سُنائیگا،بغیر اپوزیشن نمائندگان کے اہم اجلاس نہ دنیا میں کہیں دیکھینہ کہیں سنے گئے کابینہ کے اجلاس میں بات ہوگی کے کون کتنا بڑا نااہل وزیر ہے،اجلاس میں کرپشن کا نیا لائحہ عمل تیار کیا جائیگا،اپوزیشن کے کسی نمائندے کو اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی ممبرشب نہ دینے کے پیچھے کالی سوچ ہے، اجلاس میں کیا ہی اچھا ہو اگر پینشن، زکوٰة،ڈیسکوں کی خریداری،منی لانڈرنگ و دیگر پر بات کی جائے،سندھ کو لوٹ کر کھانے والے ظالم حکمرانوں کو عوام کبھی معاف نہیں کریں گیفائننس کمیٹی کا اجلاس ڈرامیبازی اور عوام کے دلوں پر نمک پاشی کے مترادف ہیہمیں یقین ہے ان اجلاسوں میں نہ پہلے عوامی مفاد کا سوچا گیا نہ آئیندہ سوچا جائے گا ۔

  • سراج درانی کی پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی آمد، اجلاس کی صدارت

    سراج درانی کی پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی آمد، اجلاس کی صدارت

    کراچی : سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ اسمبلی قوانین کے مطابق چلتی ہے کسی کو اعتراض ہے تو عدالت سے رجوع کیا جانا چاہیے، انہوں نے اپنے کیسز پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی فنانس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پروڈکشن آرڈرز پر سندھ اسمبلی پہنچے اور اجلاس کی صدارت کی ۔
    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آغا سراج درانی نے کہا کہ وہ کیس سے متعلق ابھی کچھ بھی نہیں کہہ سکتے اور نہ کورٹ کے خلاف میں کوئی بات کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سندھ اسمبلی چلانے کا آئینی طریقہ کار ہے اسی پر چلتے ہیں، اگر اپوزیشن کو اعتراض ہے تو عدالتوں میں جائیں۔اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ جب ہم نے کمیٹیوں کے الیکشن کرائے تو اپوزیشن نے شرکت نہیں کی، اب ان کے کمیٹیوں کے حوالے سے اعتراضات درست نہیں۔بلدیاتی ایکٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سراج درانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایکٹ ابھی پڑھا نہیں ہے

  • چار روزہ ”چودھویں عالمی اردو کانفرنس2021 کی افتتاحی تقریب 9 دسمبر کو ہوگی

    چار روزہ ”چودھویں عالمی اردو کانفرنس2021 کی افتتاحی تقریب 9 دسمبر کو ہوگی

    کراچی : آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام چار روزہ ”چودھویں عالمی اردو کانفرنس2021ئ“ کی افتتاحی تقریب جمعرات 9دسمبر 2021ءساڑھے تین بجے سہ پہر آڈیٹوریم Iمیں ہوگی جس کا افتتاح وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کریں گے۔جبکہ بیرونِ ممالک سے اردو کانفرنس میں کینیڈا سے شاہدہ حسن، امریکا سے تسنیم عابدی، لندن سے عامر حسین، شارجہ سے ثروت زہرا، ہندوستان سے ابوصفہیان اصلاحی، یوکے سے مہ جبیں غزل شرکت کریں گے۔
    ہندوستان سے معرو ف ادیب و شاعر آن لائن کانفرنس کا حصہ ہوں گے جن میں گلزار صاحب، گوپی چند نارنگ، منظر بھوپالی، فرحت احساس، خوش بیر سنگھ شاد، رنجیت سنگھ چوہان اور انیس اشفاق بھی کانفرنس میں آن لائن شریک ہوںگے، واضح رہے کہ اس سال آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے تین کتابیں شائع کیں جن میں جاوید صدیقی کی کتاب مٹھی بھر کہانیاں، ڈاکٹر فاطمہ حسن کی کتاب ”اردو شاعرات اور نسائی شعور“ سو برس کا سفر (1920-2020) اور اردو عالمی کانفرنس کتاب کی چھٹی جلد جس میں سال 2020ءکی مکمل رودادشامل ہے۔ان تین کتابوں کی رونمائی بھی کی جائے گی۔

  • افسران کے تیزی سے تبادلے فیصلوں پر عمل نہ کرنے کے لیے ہو رہے ہیں؟ عدالت برہم

    افسران کے تیزی سے تبادلے فیصلوں پر عمل نہ کرنے کے لیے ہو رہے ہیں؟ عدالت برہم

    افسران کے تیزی سے تبادلے فیصلوں پر عمل نہ کرنے کے لیے ہو رہے ہیں؟ عدالت برہم
    سندھ ہائیکورٹ میں محکمہ اطلاعات میں غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے تناظر میں درخواست کو مزید نہیں سن سکتے، سندھ ہائیکورٹ نے قائم علی شاہ کی عبوری ضمانت خارج کردی نیب کورٹ میں پیش ہونے کیلئے قائم علی شاہ کی10 روز کیلئے حفاظتی ضمانت منظورکر لی گئی ،وکیل نے کہا کہ شرجیل میمن ملک سے باہر ہے 10روز میں پیش نہیں ہوسکتے ،عدالت نے کہا کہ آپ چاہیں تو درخواست ضمانت واپس لے لیں مزید مہلت نہیں دے سکتے ،وکیل نے کہا کہ شرجیل میمن کو واپسی پر نئی ضمانت حاصل کرنا ہوگی سندھ ہائیکورٹ نے شرجیل میمن کے وکیل کی استدعا مسترد کردی شرجیل میمن کے وکیل کے درخواست ضمانت واپس لے لی ،نیب کے مطابق ملزمان پر گریڈ 17 کے 40 سے زائد افسران کی غیر قانونی بھرتی کا الزام ہے، قائم علی شاہ نے بطور وزیر اعلیٰ 2012 میں بھرتی کی منظوری دی تھی،

    قبل ازیں سندھ ہائیکورٹ میں گنے کی فی من قیمت 250 روپے مقرر کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،گنے کی فی من قیمت 250 روپے مقرر کرنے کے خلاف جاری حکم امتناعی میں توسیع کر دی گئی،سندھ ہائیکورٹ نے فریقین کی رضا مندی سے کیس کی سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کردی عدالت نے درخواست گزاروں کے خلاف حکومت کو کارروائی سے بھی روک رکھا ہے

    سندھ ہائی کورٹ میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،ایس بی سی اے افسران کے تیزی سے تبادلوں پر عدالت برہم ہو گئی،عدالت نے ڈی جی ایس بی سی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، عدالت نے کہا کہ ڈی جی ایس بی سی اے پیش ہو کر وضاحت دیں،افسران کے تیزی کے ساتھ تبادلے کس قانون کے تحت ہو رہے ہیں؟جس افسر سے رپورٹ طلب کرتے ہیں اگلے دن اس کا تبادلہ ہو جاتا ہے، کیا یہ عدالتی فیصلوں پر عمل نہ کرنے کا طریقہ کار ہے؟ افسران کے تیزی سے تبادلے فیصلوں پر عمل نہ کرنے کے لیے ہو رہے ہیں، عدالت نے سیکریٹری بلدیات کو ایس بی سی اے تبادلوں کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی،عدالت نے عدالتی فیصلے کی نقول سیکریٹری بلدیات کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کر دی،

    غداری کا مقدمہ، کیپٹن ر صفدر کی درخواست ضمانت پر لاہور ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ

    ن لیگی قیادت پر غداری کا مقدمہ درج کروانے والے بدر رشید کی گورنر پنجاب کے ساتھ تصاویر وائرل

    ن لیگی قیادت پر بغاوت کے مقدمے کا مدعی خود ریکارڈ یافتہ ملزم نکلا

    ریاستی اداروں کے خلاف بولنے والوں کو نشان عبرت بنائیں گے،شہر یار آفریدی

    بشیر میمن کے انکشاف کے بعد عمران خان کیخلاف مقدمہ بنایا جائے،مریم اورنگزیب

    شاہد خاقان عباسی کا وزیراعظم کیخلاف تھانہ شاہدرہ میں غداری کا مقدمہ درج کرانیکا اعلا

    مزار قائد کی بے حرمتی، شیخ رشید بھی میدان میں آ گئے

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    صحافیوں کے خلاف مقدمات ہوں تو صحافتی تنظیمیں آجاتی ہیں کہ مقدمہ واپس لو،سپریم کورٹ

  • وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی اور وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی چیرمین پی ایس پی مصطفٰی کمال کی رہائش گاہ پر آمد

    وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی اور وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی چیرمین پی ایس پی مصطفٰی کمال کی رہائش گاہ پر آمد

    کراچی: وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی اور وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی چیرمین پی ایس پی مصطفٰی کمال کی رہائش گاہ آمد۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی اور وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی چیرمین پی ایس پی مصطفٰی کمال کی رہائش گاہ پہنچے ۔ اور صوبائی وزراء نے مصطفٰی کمال کے بھائی کے انتقال پر ان سے تعزیت کی۔ صوبائی وزراء نے مرحوم کے ایصال ثواب و مغفرت کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی۔
    اللہ رب العزت مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور اہل خانہ صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔

  • چین اور پاکستان کی دوستی پہاڑوں سے بلند و مضبوط اور سمندروں سے زیادہ گہری ہے : منظور حسین وسان

    چین اور پاکستان کی دوستی پہاڑوں سے بلند و مضبوط اور سمندروں سے زیادہ گہری ہے : منظور حسین وسان

    کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیرِ زراعت منظور حسین وسان سے چین کے قونصل جنرل لی بی جیان نے ملاقات کی۔اس موقع پر نائب قونصل ڈینگ ھائی ڑیاو Deng Haixiaoاور چائنا مشینری انجینئرنگ کارپوریشن کے نائب جنرل مینیجر ڈائے باؤ Bao Dai بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر باہمی دلچسپی کے امور اور تعلقات کے مزید استحکام پر بات چیت ہوئی۔
    گفتگو کے دوران منظور حسین وسان نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی پہاڑوں سے بلند و مضبوط اور سمندروں سے زیادہ گہری ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے زندگی کے تمام شعبوں میں بے مثال ترقی کی ہے۔ہم زرعئی شعبے میں چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی زرعئی معیشت کو مستحکم کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت جدید زرعئی مشینری و آلات اور تازہ ترین زرعئی تحقیق میں تبادلے سے زرعئی معیشت کو بہتر بنانا چاہتی ہے اورسندھ کی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں چینی معاونت کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
    انہوں نے بتایا کہ ہم زرعئی پیداور کی ویلو ایڈیشن کے جدید طریقوں کو اپنا رہے ہیںاور زرعئی پیداوار کی کولڈ اسٹوریج اور ٹرانسپورٹیشن کے نظام کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کیا کہ آب پاشی کے مفید نظام کے لئے جدید طریقوں کا استعمال سندھ حکومت کی ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ سماجی و معاشی ترقی کے ضمن میں چین کے تجربات بہت قیمتی ہیں۔انہوں نے سندھ میں سرمایہ کاری کے مختلف امکانات کی نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت زراعت ، کاشتکاری، آب پاشی، کولڈ اسٹوریج اور دیگر تمام شعبوں میں چینی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گی۔
    اس موقع پر چینی قونصل جنرل نے سندھ حکومت اور مشیر زراعت کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ چین توانائی، زراعت اور دیگر شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ پاکستان اور چین کے تعلقات کا اہم ترین مظہر ہے۔اس موقع پر مشیرِ زراعت سندھ منظور حسین وسان نے کہا کہ سندھ کے آم، امرود، کھجور، سرخ مرچ اور دیگر پھل اور سبزیاں بہترین برآمدی معیار کی حامل ہیں اور سندھ حکومت چینی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات مہیا کرے گی۔
    انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ابادی کے پیش نظر خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جدید زرعی طریقوں کا استعمال ضروری ہے۔مشیر زراعت منظور وسان نے خیر پور اسپیشل اکنامک زون میں زرعئ شعبے کے حوالے سے سرمایہ کاری مواقعوں سے آگاہ کیا۔اس موقع پر مشیر زراعت سندھ منظور حسین وسان نے معزز مہمانوں کو سندھ ٹوپی اور اجرک کے ثقافتی تحفے بھی پیش کئے۔انہوں نے معزز مہمانوں کو خیر پور کی اہم ترین زرعی پیداوار کھجور بھی پیش کی۔چینی قونصل جنرل نے دونوں ملکوں کے مابین مختلف شعبوں میں تعلقات بڑھانے پر اتفاق کیا۔مشیرِ زراعت سندھ منظور حسین وسان نے کہا کہ سندھ کی ثقافت ہزاروں سال قدیم ہے۔منظور وسان نے کہا کہ موہنجو ڈارو 5 ہزار سال پہلے دنیا کا تہذیب یافتہ ترین شہر تھا ۔

  • آسٹریلیا کرکٹ بورڈ کا وفد کل نیشنل اسٹیڈیم کا دورہ کرے گا

    آسٹریلیا کرکٹ بورڈ کا وفد کل نیشنل اسٹیڈیم کا دورہ کرے گا

    کراچی: آسٹریلیا کرکٹ بورڈ کا 4 رکنی وفد بدھ کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا دورہ کرے گا۔

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب پاکستان پہنچنے والا وفد آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے سلسلے میں کراچی کے بعد اسلام آباد اور لاہور میں بھی کرکٹ، سیکیورٹی، لاجسٹک اور کوویڈ 19 کی صورتحال کا جائزہ لے گا۔

    سیکیورٹی ماہرین پر مشتمل وفد 13 اور 14 دسمبر کو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کراچی میں شیڈول میچز کا بھی جائزہ لے گا۔ مقامی انتظامیہ اور پی سی بی حکام کی جانب سے بریفنگ دی جائے گی۔

    بورڈ کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان اور ڈائریکٹر سیکیورٹی کرنل (ر) آصف موجود ہوں گے۔ دورے کے اختتام پر مہمان سیکیورٹی وفد اپنی رپورٹ کرکٹ بورڈ آسٹریلیا کو پیش کرے گا۔

    رپورٹ کی روشنی میں آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے آئندہ سال مارچ، اپریل میں دورہ پاکستان کا فیصلہ ہوگا۔ آسٹریلیا کے دورہ پاکستان میں تین ٹیسٹ، اتنے ہی ایک روزہ انٹرنیشنل اور ایک ٹی ٹونٹی میچ کھیلا جانا ہے۔

    واضح رہے کہ 1998ء کے بعد پہلی بار آسٹریلوی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔

  • کراچی میں کرکٹ کی بہار کا انتظار ختم ہونے لگا

    کراچی میں کرکٹ کی بہار کا انتظار ختم ہونے لگا

    کراچی : کراچی میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بہار کا انتظار ہونے لگا جب کہ ویسٹ انڈیز سے ہوم سیریز کیلیے11وائٹ بال کرکٹرز منگل کی شام تک مقامی ہوٹل میں رپورٹ کریں گے۔

    پاکستانی ٹیسٹ اسکواڈ اس وقت بنگلادیش میں موجود ہے، دوسری طرف کراچی میں ویسٹ انڈیز کیخلاف وائٹ بال میچز کی تیاری جاری ہے، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے پاکستان میں کھیلنے سے انکارپر انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا سفر جاری رکھنے کیلیے کسی غیر ملکی ٹیم کی آمد انتہائی اہمیت کی حامل تھی۔

    ماضی میں بھی مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینے والے کیریبیئنز کے اگرچہ چند اسٹار کرکٹرز دورے پر نہیں آ رہے، مگر اس کے باوجود موجودہ صورتحال میں محدود اوورز کی کرکٹ کے یہ مقابلے غیر اہم نہیں سمجھے جا سکتے،نیشنل اسٹیڈیم میں سجنے والے اس میلے کو شائقین کی بھرپور توجہ حاصل ہونے کی امید ہے، سیریز کیلیے کراچی میں منگل سے رونق لگنا شروع ہوجائے گی ۔
    پہلے مرحلے میں پاکستان میں موجود 11کرکٹرز منگل کی شام تک مقامی ہوٹل میں رپورٹ کریں گے، ان میں نائب کپتان شاداب خان،فخرزمان، آصف علی،حیدر علی،افتخار احمد، خوشدل شاہ، حارث رؤف،وسیم جونیئر، شاہنواز دھانی،محمد حسنین اور عثمان قادر شامل ہیں اس وقت بارش زدہ ڈھاکا ٹیسٹ میں شریک بابر اعظم،محمد رضوان، محمد نواز اور شاہین شاہ آفریدی جمعرات کی شام ساڑھے 6بجے کراچی پہنچ کر اسکواڈ کو جوائن کرلیں گے۔

    ویسٹ انڈیز سے صرف ون ڈے سیریز کیلیے منتخب امام الحق اور سعود شکیل کے ساتھ ریزرو پلیئر عبداللہ شفیق بھی بنگلادیش میں ہیں،تینوں کپتان اور دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ کراچی میں رپورٹ کریں گے۔

    ٹیم ذرائع کے مطابق کیریبیئنز سے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز کیلیے منتخب تمام کھلاڑی ایک ساتھ بایوببل کا حصہ بنیں گے، بنگلادیش سے واپس آنے والے پلیئرز میں سے سرفراز احمد ڈراپ ہوگئے جبکہ حسن علی کو آرام دیا گیا ہے، اظہر علی، فواد عالم، کامران غلام، فہیم اشرف،محمد عباس، بلال آصف، نعمان علی، ساجد خان، زاہد محمود اور نسیم شاہ صرف بنگلادیش سے ٹیسٹ سیریز کیلیے ٹیم کا حصہ تھے،ان تمام کو وطن واپسی پر گھروں میں وقت گزارنے کا موقع ملے گا۔

    دوسری جانب ویسٹ انڈین اسکواڈ کی ایئرپورٹ آمد صبح ساڑھے 10 بجے ہوجائے گی،مہمان کرکٹرز، معاون اسٹاف عملہ اور بنگلادیش سے آنے والے مہمان کرکٹرز کا صرف ایک روز کا قرنطینہ ہوگا، اس دوران کورونا ٹیسٹ رپورٹ کا منفی آنا بھی ضروری ہے۔

    جمعے کو دونوں اسکواڈ کی بھرپور مشقوں کا آغاز ہوجائے گا،سیریز کے انتظامات مکمل کرنے کا سلسلہ بھی زوروشور سے جاری ہے، میچز کے میزبان نیشنل اسٹیڈیم میں صفائی ستھرائی اور تزئین و آرائش کا کام ہونے لگا، پریکٹس اور میچ پچز کی تیاری مکمل ہورہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق شائقین کو بھرپور تفریح کا موقع فراہم کرنے کیلیے سپورٹنگ پچز تیار کرنے کی ہدایت کردی گئی، کیوریٹرز پْرامید ہیں کہ موسم گرم نہ ہونے کی وجہ سے ان کو مطلوبہ معیار کی پچز فراہم کرنے میں آسانی ہوگی۔

    یاد رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین 3ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کا پہلا مقابلہ 13دسمبر کو ہوگا،دوسرا معرکہ 14اور تیسرا 16دسمبر کو شیڈول ہے۔پہلا ون ڈے 18دسمبر کو کھیلا جائے گا، دوسرا 20اور تیسرا 22دسمبر کو ہوگا۔