Baaghi TV

Category: کراچی

  • جامعہ کراچی کے سامنے جھگیوں میں آگ بھڑک اٹھی

    جامعہ کراچی کے سامنے جھگیوں میں آگ بھڑک اٹھی

    جامعہ کراچی کے سامنے جھگیوں میں آگ بھڑک اٹھی .

    ڈپٹی کمشنر ایسٹ آصف جان صدیقی کی ہدایت پر فوری کاروائ کرتے ہوۓ فائر برگیڈ کے عملے نے آگ پر قابو پالیا ۔
    کوئ جانی نقصان نہیں ہوا . تاہم ابھی تک تفصیلات معلوم نہ ہو سکیں کہ آگ لگنے کی اصل وجہ کیا ہوئی ۔

    جھگیوں میں لگنے والی آگ کے حوالے سے تفصیلات معلوم کی جارہی ہیں ۔ تین جھگیاں جل کر خاکستر ہو چکی ہیں ۔

  • وزیر اطلاعات و محنت سندھ و صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی کی زیر صدارت پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کا اہم اجلاس

    وزیر اطلاعات و محنت سندھ و صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی کی زیر صدارت پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کا اہم اجلاس

    وزیر اطلاعات و محنت سندھ و صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی کی زیر صدارت پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کا اہم اجلاس ہوا ۔
    اجلاس میں جنرل سیکرٹری جاوید ناگوری، نائب صدر مرزا مقبول، نجمی عالم، سردار خان، ذوالفقار قائمخانی، آصف خان، عابد ستی، شکیل چوہدری، شاہینہ شیر علی، تمام ڈسٹرکٹ کے صدور، جنرل سیکٹریری و انفارمیشن سیکرٹری، پیپلز اسٹوڈنس فیڈریشن، پیپلز یوتھ، پیپلز لیبر، پیپلز وکلاء فورم، کشمیر کمیٹی کے صدور و دیگر عہدیدار شریک ہوئے ۔
    اجلاس میں ووٹرز لسٹوں، مردم شماری اور 30 نومبر کو پارٹی کے یوم تاسیس کی تیاریوں سمیت دیگر پر تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔
    سعید غنی نے کہا کہ 2017 کے قانون کے مطابق جو پتہ چاہے عارضی ہو یا مستقل ان پر ہی ووٹر لسٹ میں اس پتہ پر ہی ووٹ کا اندراج ہوسکتا ہے۔ قانون کے تحت اس کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے علاقے میں اپنی رہائش اختیار کرتا ہے تو اسے پہلے اپنا شناختی کارڈ میں اس پتہ کا اندراج لازمی کروانا ہوگا۔ تمام ڈسٹرکٹ کے عہدیداروں پر لازمی ہے کہ وہ مردم شماری اور ووٹرز لسٹ میں اپنے ڈسٹرکٹ کے رہائشی افراد کے اندراج کے لئے مکمل طور پر متعلقہ افسران کے ساتھ مل کر کام کریں۔ سعید غنی نے کہا کہ جن جن گھروں میں پچھلی ووٹرز لسٹ میں اندراج کے وقت 18 سال سے کم عمر افراد کے نام شامل نہیں ہوئے تھے اور اب وہ 18 سال کے ہوگئے ہیں تو ان کے ناموں کے اندراج کو یقینی بنایا جائے۔

    تمام ڈسٹرکٹ کے عہدیدار روزانہ کی بنیاد پر سٹی اور یوسی کی سطح پر اس حوالے سے رپورٹ طلب کریں۔ تمام ڈسٹرکٹ کے صدر اپنا ایک فوکل پرسن بنائے جو سٹی اور یوسی کی سطح پر رپورٹ مرتب کرکے روزانہ کی بنیاد پر صدر کے حوالے کرے۔ اس بات کی بھرپور کوشش کرنا ہوگی کہ مردم شماری اور ووٹرز لسٹوں میں تمام 18 سال سے زائد عمر والوں کے نام کا اندراج ہو۔
    انہوں نے مزید کہا کہ نادرہ کے اعلٰی حکام سے بات کرکے جن جن کے ایڈریس کے اشیوز کو حل کیا جائے گا۔

  • کراچی سے چوری ہوئی موٹر سائیکلیں کہاں جاتی ہیں

    کراچی سے چوری ہوئی موٹر سائیکلیں کہاں جاتی ہیں

    کراچی سے چوری ہوئی موٹر سائیکلیں کہاں جاتی ہیں

    کراچی سے چوری ہونے والی موٹرسائيکلیں ٹھکانے لگانے کا ايک راستہ ضلع لسبيلہ کی تحصيل ساکران کا علاقہ چيکو باغ بھی ہے جہاں ایسی موٹر سائيکلوں کے بدلے منشيات فراہم کی جاتی ہیں۔

    میڈیا نے اس معاملے کی تحقیقات کیں تو موٹر سائيکل چوری کے ساتھ منشیات کے دھندے کا بھی تعلق نکل آیا۔ کراچی سے چوری ہونے والی موٹر سائیکلوں کو ٹھکانے لگانے کا آّسان مقام حب کی تحصيل ساکران ہے جو کراچی سے قریب ہونے کی وجہ سے منشيات کے کھیپیوں کا آسان اور محفوظ مرکز ہے۔

    کراچی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ایک منشیات فروش عارف سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق معلوم ہوا کہ کراچی سے چرائی گئی موٹرسائیکل چیکو باغ میں ٹھکانے لگانے اور اس کے بدلے منشیات کراچی لانے کے ليے پوليس کی خدمت میں جو قيمت ادا کرنی پڑتی ہے وہ صرف دو سو روپے ہے۔

    ساکران میں رہنے والوں نے بھی میڈیا کو بتایا کہ چیکو باغ منشیات فروشی کا ايسا اڈا ہے جہاں کھیپی آتے تو چوری کی موٹر سائیکل پر ہیں مگر ان کی واپسی پیدل اور منشیات کے ساتھ ہوتی ہے۔

    سابق ایس ایس پی ویسٹ ڈاکٹرمحمد رضوان بھی اپنی ر پورٹ میں بتا چکے ہيں کہ کراچی میں منشیات کچے راستوں سے لائی جاتی ہے اور اس کا تعلق بلوچستان میں جاری چوری کی موٹر سائیکلوں کے دھندے سے ہے۔

  • ناظم جوکھیو قتل کیس، پولیس کے ہاتھ قیمتی ثبوت لگ گیا

    ناظم جوکھیو قتل کیس، پولیس کے ہاتھ قیمتی ثبوت لگ گیا

    ناظم جوکھیو قتل کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے اور پولیس حکام نے جام ہاؤس میں لگے کیمروں کا غائب کیا گیا ڈی وی آر قیمتی ثبوت کے طور پر برآمد کر لیا۔پولیس حکام کے مطابق ناظم جوکھیو قتل کی واردات کے بعد ڈی وی آر موقع سے غائب کر دیا گیا تھا جسے اب پولیس نے حاصل کر لیا ہے۔مذکورہ ثبوت گرفتار کیے گئے ملزمان سے پوچھ گچھ کے بعد برآمد کیا گیا۔
    پولیس کے مطابق ڈی وی آر سے واقعے میں ملوث ملزمان کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔برآمد ہونے والے ڈی وی آر کو فرانزک کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔کیس کے تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے موبائل ڈیٹا کی مدد سے بھی تفتیش شروع کی گئی ہے۔جس کے بعد جام گوٹھ میں افضل جوکھیو، نیاز سالار ، جام عبدالکریم کے موبائل فون کی بھی لوکیشن آئی ہے۔
    ناظم جوکھیو کے قتل کے 7 دن بعد بھی مقتول کا موبائل فون لاپتہ ہے۔
    ناظم جوکھیو کی آڈیو اور ویڈیو کو مرکزی شواہد کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ٹیم نے مقتول کے بھائی افضل جوکھیو کے ساتھ جائے وقوعہ کا بھی دورہ کیا ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق ناظم جوکھیو کو سر پر لگنے والا ڈنڈا جان لیوا ثابت ہوا۔ تاحال ناظم جوکھیو کا موبائل فون نہیں ملا۔تفتیشی حکام کے مطابق تلور کے شکار پر غیر ملکیوں کے ساتھ وائلڈ لائف کا عملہ موجود تھا۔
    مقتول ناظم جوکھیو کی قتل کی وجہ غیر ملکی شہریوں کو شکار کرنے سے منع کرنے اور ویڈیو بنانے کی بنی تھی۔حکام کے مطابق وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ سے عملے کی تفصیلات طلب کرلی گئیں، ان سے جھگڑے کی نوعیت اور وجہ کا تعین کیا جائے گا۔خیال رہے کہ ناظم جوکھیو کے قتل میں رکن اسمبلی جام اویس سمیت تین ملزمان گرفتار ہیں اور دو نامزد ملزمان کی تلاش کا عمل جاری ہے

  • جام اویس موبائل پر بہت زیادہ تشدد گیم کھیلتا تھا، اکثر نشے میں دھت رہتا تھا

    جام اویس موبائل پر بہت زیادہ تشدد گیم کھیلتا تھا، اکثر نشے میں دھت رہتا تھا

    کراچی : جام اویس موبائل پر بہت زیادہ تشدد گیم کھیلتا تھا، اکثر نشے میں دھت رہتا تھا۔
    ناظم جوکھیو پر دم توڑنے تک تشدد کیا جاتا رہا،ہو سکتا ہے مرنے کے بعد بھی تشدد کیا گیا ہو،واقعے کے بعد جام اویس کراچی سے فرار ہو کر خضدار تک پہنچ گیا تھا۔پولیس حکام کا انکشاف

    ناظم جوکھیو قتل کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پولیس حکام نے ناظم جوکھیو کے قتل کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ جام اویس موبائل پر بہت زیادہ تشدد گیم کھیلتا تھا اور اکثر نشے میں دھت رہتا تھا۔حکام کے مطابق ناظم جوکھیو پر دم توڑنے تک تشدد کیا جاتا رہا۔ہو سکتا ہے مرنے کے بعد بھی ناظم جوکیھو پر تشدد کیا گیا ہو۔
    پولیس کے مطابق جام اویس کراچی سے فرار ہو کر خضدار تک پہنچ گیا تھا۔جام اویس کراچی آیا اور پھر اس نے گرفتاری پیش کی، جام اویس پر چلنے والا کیس خالصتا قتل کا ہے۔جام اویس نے سرنڈر نہیں کیا بلکہ اسے گرفتاری دینے کے لیے مجبور کیا گیا۔پولیس کے مطابق موبائل ڈیٹا کی مدد سے بھی تفتیش شروع کی گئی ہے۔
    (جاری ہے)

    پولیس نے بتایا کہ جام اویس معاملے پر ایک اور چارج فریم کرنے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب ناظم جوکھیو قتل کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے اور پولیس حکام نے جام ہاؤس میں لگے کیمروں کا غائب کیا گیا ڈی وی آر قیمتی ثبوت کے طور پر برآمد کر لیا۔پولیس حکام کے مطابق ناظم جوکھیو قتل کی واردات کے بعد ڈی وی آر موقع سے غائب کر دیا گیا تھا جسے اب پولیس نے حاصل کر لیا ہے۔مذکورہ ثبوت گرفتار کیے گئے ملزمان سے پوچھ گچھ کے بعد برآمد کیا گیا۔
    پولیس کے مطابق ڈی وی آر سے واقعے میں ملوث ملزمان کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔برآمد ہونے والے ڈی وی آر کو فرانزک کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔کیس کے تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے موبائل ڈیٹا کی مدد سے بھی تفتیش شروع کی گئی ہے۔جس کے بعد جام گوٹھ میں افضل جوکھیو، نیاز سالار ، جام عبدالکریم کے موبائل فون کی بھی لوکیشن آئی ہے۔ ناظم جوکھیو کے قتل کے 7 دن بعد بھی مقتول کا موبائل فون لاپتہ ہے۔
    ناظم جوکھیو کی آڈیو اور ویڈیو کو مرکزی شواہد کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ٹیم نے مقتول کے بھائی افضل جوکھیو کے ساتھ جائے وقوعہ کا بھی دورہ کیا ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق ناظم جوکھیو کو سر پر لگنے والا ڈنڈا جان لیوا ثابت ہوا۔ تاحال ناظم جوکھیو کا موبائل فون نہیں ملا۔تفتیشی حکام کے مطابق تلور کے شکار پر غیر ملکیوں کے ساتھ وائلڈ لائف کا عملہ موجود تھا۔

  • حافظ نعیم الرحمن کا تحریک بحالی ناظم آباد احتجاجی فیملی واک کے شرکا سے خطاب

    حافظ نعیم الرحمن کا تحریک بحالی ناظم آباد احتجاجی فیملی واک کے شرکا سے خطاب

    ناظم آباد سمیت کراچی بحالی تحریک کامیاب بنانے کا اعلان
    جماعت اسلامی کے تحت ناظم آباد کی تباہ حالی و بربادی کے خلاف اور صورتحال کی بہتری کے لیے جاری تحریک بحالی ناظم آباد کے سلسلے میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں پیٹرول پمپ (عید گاہ) گول مارکیٹ تک واک نکالی گئی جس میں بچے ، بوڑھے، جوان ،خواتین سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    واک سے امیرجماعت اسلامی ضلع وسطی سید وجیہ حسن، شاہد قریشی، کاٹھیاواڑی برادری کے صدر عبد الرزاق خان و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

    واک سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

    آج ناظم آباد کے مسائل کے حل کے لیے خواتین بھی گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوگئیں ہیں، گول مارکیٹ، ناظم آباد نمبر 3، وہ علاقے ہیں جہاں بڑی بڑی شخصیات رہائش پذیرتھیں، اسکولز اور لائبریریاں آباد تھیں، ان علاقوں کے افراد نے اسپورٹس کی دنیا میں نام پیدا کیا۔

    2001ء میں جب اہل ناظم آباد نے جماعت اسلامی پر اعتماد کیا تو جماعت اسلامی کے سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان اور ان کی پوری ٹیم نے ناظم آباد کی گلیوں اور سڑکوں کو تعمیر کیا، ریکارڈ، مثالی اور ترقیاتی کام کرائے، آج ناظم آباد کی صورتحال سب کے سامنے ہے، گلیوں اور سڑکوں پر گندا پانی بہہ رہا ہے، پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے، کیا ہمارے بچے ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور ابلتے ہوئے گٹر غلاظت کے ڈھیر دیکھنے کے لیے رہ گئے ہیں؟ پاکستان کے دیگر شہروں میں ٹرانسپورٹ کا نظام کراچی کے ٹیکسوں پر چلتا ہے لیکن کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا ،کراچی منی پاکستان ہے، یہاں تمام زبانیں بولنے والے لوگ رہتے ہیں، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت صرف زبانی جمع خرچ کرتی ہیں لیکن عملاً کراچی کے لیے کوئی پروجیکٹ مکمل نہیں کیا جا رہا، عمران خان اور ان کی ٹیم نے کراچی کے عوام کا استحصال کیا اور کراچی کے لیے جھوٹے اعلانات کے سوا کچھ نہیں کیا۔ موجودہ حکومت نے کراچی کے لیے جتنے بھی پروجیکٹ کے اعلانات کیے وہ سب کے سب جھوٹے نکلے، کراچی سے 26 سو ارب وصول کرنے کے بعد صرف 80 بسیں دے کر احسان کررہے ہیں، ہمیں خیرات نہیں بلکہ ہمارا حق چاہیئے، وفاقی حکومت کو اب کراچی کو اس کا حق دینا ہوگا۔سندھ حکومت کو صرف کراچی کے اداروں پر قبضہ کرنے میں دلچسپی ہے، صوبائی حکومت کراچی کے تمام محکموں پر قبضہ کرکے سمجھ رہی ہے کہ ہم نے کراچی کو فتح کرلیا، اس وقت شہر کو فتح نہیں تعمیر کرنے کی ضرورت ہے، جماعت اسلامی قبضہ سیاست کی مذمت کرتی ہے، سندھ حکومت کراچی سے 96 فیصد ریونیو وصول کرتی ہے لیکن کراچی کو اپنا نہیں سمجھتی، لسانیت و عصبیت کی بنیاد پر جعلی ڈومسائل بناکر نوکریاں دی جارہی ہیں اور کراچی کا پڑھا لکھا نوجوان طبقہ بے روزگار ہے، لیکن اب ہم ایک قوت بن کر ان جاگیرداروں اور وڈیروں کی مزاحمت کریں گے اور قبضہ کی سیاست کو ختم کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام حقوق کراچی تحریک میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ وڈیرے اور جاگیردار مقامی سندھیوں کا استحصال کر کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں، جماعت اسلامی مطالبہ کرتی ہے کہ بلدیاتی ایکٹ ختم ہونا چاہیئے، کراچی کے تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کے لیے سرکاری بسیں موجود نہیں ہیں، ہمیں پیکجز کی خیرات نہیں بلکہ ہمارا حق چاہیے، حق نہ دیا گیا تو کراچی کے عوام اپنا حق لینا جانتے ہیں ۔

  • کراچی میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیروں سے وبائی امراض پھوٹ چکے ہیں، حنید لاکھانی

    کراچی میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیروں سے وبائی امراض پھوٹ چکے ہیں، حنید لاکھانی

    معروف سماجی رہنما و ماہر تعلیم حنید لاکھانی نے کہا ہے کہ شہر قائد میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے شہر میں مختلف وبائی امراض پھیل رہے ہیں کراچی کے وہ علاقے جہاں غریب یا متوسط گھرانے رہ رہے ہیں وہاں صفائی ستھرائی کا کوئی جامع نظام نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ گندگی پھیل رہی ہے اور گندی گلیوں میں جب بچے کھیلتے ہیں تو مختلف جراثیم لگنے سے وہ بیمار ہوجاتے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے حنید لاکھانی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کیا ، حنیدلاکھانی نے کہا کہ کراچی میں کچرے کے ڈھیرو ں سے اٹھنے والا تعفن اوربدبو نے شہریوں کو شدید ذہنی کوفت اور اذیت میں مبتلا کردیا ہے کئی ماہ تک کراچی کی شاہراہوں ہر کچر ا پڑ ا رہتا ہے لیکن انتظامیہ کے پاس اس کو ٹھکانے لگانے کے لیے کوئی منصوبہ بندی یا وقت نہیں ہوتا جس کی وجہ سے کراچی کی شاہراہیں بھی تباہ ہورہی ہیں اور آدھی سڑک پر کچرا ہونے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے متعلقہ اداروں کی غفلت اور لاپرواہی سے صفائی ستھرائی کے معاملات اور نظام تباہ و برباد ہوچکا ہے جبکہ شہر کی صفائی کے لیئے جاری ہونے والا فنڈ بھی کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا ایسا شہر ہے جہاں سے اربوں کا ٹیکس جمع ہوتا ہے بیرون ممالک سے لوگ کراچی آتے ہیں بڑی بڑی کاروباری شخصیات اور سیاسی و سماجی شخصیات اس شہر میں بستی ہیں لیکن ان سب کے باوجود کراچی میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں اور یہ گندگی کا یہ مسئلہ کو ئی ایک روز یا ایک ماہ کا نہیں ہے کہ جو انتظامیہ کو نظر نہ آتا ہو سالوں سے شہر میں گندگی کے ڈھیر، سیوریج نظام کی تباہی، نکاسی آب کے سسٹم کا نہ ہوتا سمیت دیگر ایسے مسائل ہیں جو صرف اور صرف انتظامیہ کی سستی اور نا اہلی کی وجہ سے ہیں ورنہ اگر انتظامیہ اپنی ذمہ داریوںکو احسن اور پوری ایمانداری سے نبھائے تو یہ مسائل تو پیداہی نہ ہوں یہ وہ مسائل ہیں جن کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا گیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کراچی کو کسی سازش کے تحت گندگی کے ڈھیر میں تبدیل کیا گیا ہے لیکن باشعور کراچی کے شہری اپنے شہر کو کسی بھی سازش کا چال کا شکار نہیں ہونے دیں گے

  • پیپلزپارٹی کے ایم پی اے جام اویس سمیت تین ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید تین دن کی توسیع کردی

    پیپلزپارٹی کے ایم پی اے جام اویس سمیت تین ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید تین دن کی توسیع کردی

    کراچی : پیپلزپارٹی کے ایم پی اے جام اویس سمیت تین ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید تین دن کی توسیع کردی ۔
    کراچی کی ملیرکورٹ نے ناظم جوکھیوقتل کیس میں پیپلزپارٹی کیایم پی اے جام اویس سمیت تین ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید تین دن کی توسیع کردی ہے۔ملیرکورٹ میں ناظم جوکھیو قتل کیس کی سماعت ہوئی ،پولیس نے مرکزی ملزم رکن صوبائی اسمبلی جام اویس کو عدالت میں پیش کیا۔
    جام اویس کی پیشی پر ملیرکورٹ میں وکلا نے جام اویس کیخلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔

    جبکہ دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں نامزد مزید دو ملزمان مفرور ہیں، مفرور ملزمان سے متعلق تفتیش کرنی ہے، تلاش کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔جس پر عدالت نے ناظم جوکھیوقتل کیس میں جام اویس سمیت 3ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 3دن کی توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیشرفت رپورٹ طلب کرلی ہے ۔

  • مہنگائی کنٹرول کرنے میں حکومت ناکام دکھائی دے رہی ہے،مفتی نعمان نعیم

    مہنگائی کنٹرول کرنے میں حکومت ناکام دکھائی دے رہی ہے،مفتی نعمان نعیم

    جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم مفتی نعمان نعیم نے کہاکہ مہنگائی کنٹرول کرنے میں حکومت ناکام دکھائی دے رہی ہے، بے ہنگم مشکلات کے پیش نظرعوام کی ذرائع آمدنی کاانتظام کرنا حکومت کے اخلاقی، آئینی اورفرائض میں شامل ہے، روز مرہ کی اشیا خورد ونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں غریب کے منہ کا نوالہ چھین رہی ہیں،سیاستدانوں ،حکمرانوںاوررفاہی ادروں کو عوامی دادرسی کیلئے اپنااپناکرداراداکرنے کی ضرورت ہے۔
    ان خیالات اظہار گزشتہ روز جامعہ بنوریہ عالمیہ میں ملاقات کیلئے آئے ہوئے مزدوررہنماں سے گفتگوکرتے ہوئے مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ مولانا نعمان نعیم نے کیا ، اس موقع پر انہوں نے بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ کے ذمہ داران کو کم آمدن والے گھرانوں کی مالی معاونت کیلئے اقدامات اٹھنے کا حکم دیا،ان کا کہنا تھاکہ بیرون ممالک میں مہنگائی کا تناسب پاکستان سے زیادہ ہے یہ حقیقت ہے لیکن وہاں روزگار اور تنخواہوں کا تناسب یہاں سے بہتر ہے اس لیے اس طرح سے موازانہ کرنے سے پہلے معروضی حالات کا بھی جائزہ لینا چاہیے ، بے ہنگم مشکلات کے پیش نظرعوام کی ذرائع آمدنی کاانتظام کرنا حکومت کی اخلاقی، آئینی فرائض میں شامل ہے۔
    انہوں نے کہاکہ عوام نے حکمرانوں کا انتخاب اچھی توقعات کے ساتھ کیا ہے اور حکمران طبقے کے ماضی میں دعوے بھی ایسے رہے ہیں جن سے جان چھڑایا نہیں جاسکتا ، عوام شکوی شکایت کا حق رکھتی ہے، انہیں یہ کہہ کر خاموش نہیں کیاجاسکتا کہ ”عالمی سطحی پر مہنگائی ہی” بلکہ ٹھوس اقدامات پر توجہ دینی ہوگی اور شہروں میں پرائس کنٹرول اتھارٹی کو منظم کرکے نرخوں کے جانچ پڑتال کے نظام میں بہتری لانی ہوگی ۔

  • لیاری جنرل اسپتال میں انڈو اسکوپی کا شعبہ قائم ہو گیا

    لیاری جنرل اسپتال میں انڈو اسکوپی کا شعبہ قائم ہو گیا

    لیاری میڈیکل کالج کی انتظامیہ حکومت سندھ کے ویژن کے مطابق لیاری کے غریب عوام کو جدید طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے ،ٹیم ورک کیوجہ سے لیاری جنرل اسپتال کے مریضوں کو دیگر سرکاری اسپتال منتقل کرنے کاعمل نہ ہونے کے برابر ہو گیا ہے بلکہ تدریسی اسپتال میں بہتر سہولیات کی بناء پر دیگر سرکاری اسپتالوں کے مریض لیاری اسپتال میں علاج کرانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔
    ان خیالات کا اظہار شہید محترمہ بے نظیر بھٹو لیاری میڈیکل کالج کی پرنسپل پروفیسر انجم رحمان نے اسپتال میں انڈو اسکوپی ڈیپارٹمنٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر اسپتال کے میڈیکل سپریٹینڈنٹ ڈاکٹر زبیر آغا ،ڈاکٹر بروہی ،عذیر رستم بلوچ ،اقبال انصاری،جمیل شاہ ،ملا عبد الغنی ،اعجاز بلوچ ،عاطف بلوچ ،عاصم بلوچ ،ریاض بابل اور دیگر بھی موجود تھے ۔
    پروفیسر انجم رحمان نے کہا کہ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو لیاری جنرل اسپتال کو کراچی کا مثالی سرکاری اسپتال بنانے کی خواہاں ہیں وہ اپنی طبی اور نیم طبی عملے کی ٹیم کے ہمراہ شب روز اسپتال میں مریضوں کے علاج و معالجے کی سہولیات کو بہتر اور جدید بنانے کیلئے کوشاں ہیں ۔اس موقع پر طبی اور نیم طبی عملے نے پروفیسر انجم رحمان گلدستے پیش کئے ۔