Baaghi TV

Category: کراچی

  • جعلی دستاویز کا انکشاف، پرانی گاڑیوں کی کلیئرنس مزید سخت کرنے کا فیصلہ

    جعلی دستاویز کا انکشاف، پرانی گاڑیوں کی کلیئرنس مزید سخت کرنے کا فیصلہ

    کراچی: پرانی گاڑیوں کی کسٹم کلیئرنس جعلی دستاویزات پر کرانے کا انکشاف ہوا ہے، کسٹم نے اس حوالے سے ایک کروڑ روپے مالیت کی پانچ گاڑیاں قبضے میں کرلیں ساتھ ہی کلیئرنس کا عمل مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان کسٹمز نے پرانی گاڑیوں کی کسٹم کلئیرنس میں جعلی پی آر سی اور متعلقہ بینکوں سے تصدیق شدہ جعلی انکیشمنٹ سرٹیفکیٹ استعمال ہونے کی شکایات پر پرانی گاڑیوں کی کسٹم کلئیرنس کے عمل میں مس ڈیکلریشن اور جعلی دستاویزات کے خطرات کو روکنے کے لیے کسٹمز کار گروپ کو سخت چھان بین کی ہدایات جاری کردی ہیں جس کے تحت پرانی گاڑیوں کی کلئیرنس دستاویزات کی باریک بینی کے ساتھ چھان بین کی جائے گی۔

  • مچھروں کے وار جاری، سندھ میں ڈینگی کے مزید 63 کیس سامنےآ گئے

    مچھروں کے وار جاری، سندھ میں ڈینگی کے مزید 63 کیس سامنےآ گئے

    کراچی: سندھ میں گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے 63 کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے 32 کا تعلق کراچی سے ہے۔

    محکمہ صحت سندھ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں حیدرآباد میں 29، بدین سے ایک، عمرکوٹ سے ایک کیس رپورٹ ہوا، نومبر میں اب تک ڈینگی کے 1642 کیس رپورٹ ہوچکے ہیں۔

    کراچی کے ضلع شرقی سے 280، ضلع وسطی سے 252، ضلع کورنگی سے 221، ضلع جنوبی سے 146، ضلع ملیر سے 84 اور ضلع غربی سے 78 کیس رپورٹ ہوچکے ہیں، سندھ میں رواں سال جنوری تا اکتوبر ڈینگی کے 3840 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔
    سندھ بھر میں رواں سال ڈینگی کے اب تک 5482 کیس رپورٹ ہوچکے ہیں، رواں سال مارچ میں ایک، مئی اور جون میں 1،1، اگست میں 3، ستمبر میں 7، اکتوبر میں 6 اور نومبر میں 4 اموات رپورٹ ہوئیں، سندھ بھر میں ڈینگی کے باعث اب تک 23 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

  • سندھ حکومت کا تمام ویکسینیٹڈ افراد کو بطور بوسٹر فائزر ویکسین لگانے کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا تمام ویکسینیٹڈ افراد کو بطور بوسٹر فائزر ویکسین لگانے کا فیصلہ

    کراچی: سیکرٹری صحت سندھ ذوالفقارعلی شاہ کا اس حوالے سے کہنا ہےکہ ویکسینیشن کرنے والے تمام افراد بطور بوسٹر فائزر ویکسین لگواسکیں گے، فیصلہ حتمی طور پر کرلیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت سندھ نے کورونا کی نئی لہر سے بچاؤ کے لئے اہم فیصلہ کرلئے ہیں، اور اب تمام ویکسینیٹڈ افراد بطور بوسٹر فائزر ویکسین بھی لگوائیں گے، تاہم بوسٹر ڈوز لگانے کی کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔

    سیکرٹری صحت سندھ ذوالفقارعلی شاہ کا اس حوالے سے کہنا ہےکہ ویکسینیشن کرنے والے تمام افراد بطور بوسٹر فائزر ویکسین لگواسکیں گے، فیصلہ حتمی طور پر کرلیا گیا ہے اور آئندہ دو سے تین دنوں میں نوٹیفکیشن بھی جاری ہوجائے گا، فیصلہ کورونا کی نئی لہر سے حفاظتی تدابیر کے طور پر لیا گیا ہے۔

    سیکرٹری صحت کا کہنا تھا کہ کوئی سی بھی ویکسینیشن کے دو ڈوز مکمل ہونے کے بعد شہری بطور بوسٹر فائزر ویکسین لگواسکیں گے، فائزر ویکسین کو بطور بوسٹر پہلے بھی استعمال کیا جاچکا ہے، ائیرپورٹ پر ویکسینیشن کے حوالے سے فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی، اس وقت بوسٹر ڈوز صرف جناح اسپتال اور ڈاؤ اوجھا اسپتال میں دستیاب ہے، کوشش ہے کہ بوسٹر ڈوز کا دائرہ پورے سندھ تک پھیلایا جائے، بوسٹر ڈوز لگانے کی کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔

  • نسلہ ٹاور کے اطراف دفعہ 144 نافذ  نوٹیفکیشن جاری

    نسلہ ٹاور کے اطراف دفعہ 144 نافذ نوٹیفکیشن جاری

    کراچی: نسلہ ٹاور کے اطراف 4 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کردی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق نسلہ ٹاور کے اطراف 4 یا 4 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، اور حوالے سے کمشنر کراچی نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹ عبور کرنے پر بھی مکمل پابندی ہوگی، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 144 کے تحت کارروائی کی جائے گی، جب کہ پابندی کا اطلاق نسلہ ٹاور کے مکمل مسمار ہونے کے تک برقرار رہے گا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 26 نومبر کی سماعت کے تحریری حکم نامے میں نسلہ ٹاور کے انہدام کے لیے کمشنر کراچی کو 2 سو مزدوروں کی جگہ 4 سو مزدور لگانے کی ہدایت کی ہے، جب کہ کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ نسلہ ٹاور کو گرانے کی کارروائی ایک ہفتے میں یقینی بنائیں گے۔

  • سندھ حکومت پر وزیر اعظم کے الزامات دراصل ا ن کی اپنی نالائقی اور نااہلی کو چھپانے کی کوشش ہے،صوبائی وزراء

    سندھ حکومت پر وزیر اعظم کے الزامات دراصل ا ن کی اپنی نالائقی اور نااہلی کو چھپانے کی کوشش ہے،صوبائی وزراء

    کراچی : سندھ حکومت پر وزیر اعظم کے الزامات دراصل ا ن کی اپنی نالائقی اور نااہلی کو چھپانے کی کوشش ہے ۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور وزیرِ اعلی سندھ کے مشیرِ برائے زراعت منظور حسین وسان نے وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ اور وزیر برائے ایکسائز و ٹیکسیشن مکیش کمار چاولہ کے ہمراہ ہفتے کو سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی۔اس موقع پر وزیر اعلی سندھ کے مشیرِ زراعت منظور حسین وسان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت پر وزیر اعظم کے الزامات دراصل ا ن کی اپنی نالائقی اور نااہلی کو چھپانے کی کوشش ہے۔
    انہوں نے کہا کہ سندھ میں گندم ،کھاد، چینی وغیرہ کی قلت کا جھوٹا الزام درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے علاوہ باقی تین صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور وہاں ان اشیاء کی شدید قلت کو چھپانے اور لوگوں کی تکالیف سے پہلو تہی کرنے کے لئے سندھ حکومت پر بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں۔

    منظور حسین وسان نے کہا کہ پنجاب کے مقابلے میں سندھ میں یوریا اور جراثیم کش ادویات کم قیمت پر مل رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صوبے میں کھاد اور جراثیم کش ادویات کے تمام ڈیلرز کو مناسب قیمت پر فراہمی کی ہدایات دی ہوئی ہیں جو بھی ڈیلر خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور جو کوئی گرانفروشی کا مرتکب پایا جائے گا اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے مقابلے میں سندھ میں یوریا کھاد سستی مل رہی ہے۔
    منظور وسان نے کہا کہ پاکستان کے عوام یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم اپنی حکومت کی نااہلی چھپانے کے لئے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور کسانوں اور محنت کشوں کے استحکام کا منشور ہے لہذا ہم اچھی فصل کا فائدہ اپنے کسان کو منتقل کرتے ہیں۔منظور حسین وسان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان رٹے رٹائے جملے یعنی کرپشن ، کسی کو نہیں چھوڑوں گا اور مدینہ ریاست کے الفاظ سے عوام کو نہیں بہلا سکتے۔
    انہوں نے شوگر اسکینڈل پر کچھ بھی کارروائی نہیں کی یہ مارتے بھی ہیں اور روتے بھی ہیں میں ان کا نام عمران خان کے بجائے الطاف خان رکھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ریلیف دینا ان کے بس کی بات نہیں کیونکہ ریلیف دینے کی نہ ان کی نیت ہے نہ ریلیف دینے کی ان کو سمجھ ہے۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر تک ان کا جانا ٹھہر گیا ہے۔اس موقع پر صوبائی وزیر برائے ایکسائز و ٹیکسیشن مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ وفاقی حکومت یوریا پرائس فکس کرتی ہے لیکن تین ماہ سے یوریا فیکٹریوں نے بکنگ بند کی ہوئی تھی اور کل سے بکنگ شروع کی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ سندھ کی گیس سے یوریا بنتی ہے لیکن سندھ کو یوریا کی فراہمی میں مشکلات ہیں انہوں نے واضح کیا کہ اگر سندھ کو اس کے حصے کی یوریا نہیں ملی تو سندھ حکومت شدید احتجاج کرے گی۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو ملک یوریا برآمد کرتا تھا وہ اب یوریا درآمد کرنے پر مجبور ہے یہی حال گندم اور چینی کا بھی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بڑے بڑے مگرمچھوں اور بڑے بڑے چوہوں کو بے نقاب کرے اور پکڑے۔مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ اس وقت پاکستان بھر میں گیس کی قلت شدید ترین مسئلہ ہے۔ سندھ تقریبا 65 فیصد گیس پیدا کرتا ہے لیکن ہمیں ہمارے حصے کی گیس نہیں دی جارہی ہماری صنعتیں بند اور گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں لیکن وفاقی حکومت کو کوئی احساس نہیں انہوں نے کہا کہ ‘لگتا ہے کہ شدید سردیوں میں وفاقی حکومت احساسِ سردی پروگرام شروع کرے گی اور ان کی طرف سے جلانے کے لئے لکڑیاں بانٹی جائیں گی’ ۔
    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے سبب ملک میں گیس کی قلت ہے، فصلوں کو پانی نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سب سے زیادہ گیس ، کوئلہ اور پیٹرول پیدا کرتا ہے لیکن اپنے جائز حصے سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نا اہل لوگ وقت پر فیصلے نہیں کرسکے لہذا اب سزا پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہورہی ہیں لیکن ہمارے وفاقی حکومت اس کی قیمت آسمان تک لے جارہی ہے لوگوں کو ریلیف دینے کے بجائے تنگ کیا جارہا ہے۔امتیاز احمد شیخ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی جب آپ سے نہیں چلتی تو اسے سندھ حکومت کے حوالے کریں ہم اسے بہترین انداز میں چلانے کی صلاحیت کے حامل ہیں .

  • جماعت اسلامی کے تحت آج سندھی ہوٹل نیو کراچی میں بلدیاتی مسائل اور صحت وصفائی کی بدترین صورتحال پر احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا

    جماعت اسلامی کے تحت آج سندھی ہوٹل نیو کراچی میں بلدیاتی مسائل اور صحت وصفائی کی بدترین صورتحال پر احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا

    کراچی : جماعت اسلامی کے تحت آج سندھی ہوٹل نیو کراچی میں بلدیاتی مسائل اور صحت وصفائی کی بدترین صورتحال پر احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا

    تفصیلات کے مطابق اسلامی نیوکراچی ضلع شمالی کے تحت آج اتوار 28نومبر دوپہر 4:00 بجے سندھی ہوٹل نیو کراچی میں بلدیاتی مسائل اور صحت و صفاء کی بدترین صورتحال کے بدترین صورتحال کے حوالے سے احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا جس سے اسامہ رضی نائب امیر جماعت اسلامی کراچی، محمد یوسف امیر جماعت اسلامی ضلع شمالی ،نجیب ایوبی جنرنل سیکریٹری پبلک ایڈ کراچی خصوصی خطاب کریں گے ۔
    ناظم علاقہ نیوکراچی ڈاکٹر محمد شکیل نیاہل علاقہ نیوکراچی سے بھرپور شرکت کی اپیل ہے۔

  • بلدیہ عظمی کراچی کے پارکس، گارڈن،عمارتیں اور سٹی کونسل ہال کو ادبی کانفرنسوں اور مشاعروں کے انعقاد کے لئے استعمال کیا جائے گا : مرتضیٰ وہاب

    بلدیہ عظمی کراچی کے پارکس، گارڈن،عمارتیں اور سٹی کونسل ہال کو ادبی کانفرنسوں اور مشاعروں کے انعقاد کے لئے استعمال کیا جائے گا : مرتضیٰ وہاب

    کراچی : بلدیہ عظمی کراچی کے پارکس، گارڈن،عمارتیں اور سٹی کونسل ہال کو ادبی کانفرنسوں اور مشاعروں کے انعقاد کے لئے استعمال کیا جائے گا ۔

    ایڈمنسٹریٹر کراچی، مشیر قانون اور ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی کے پارکس، گارڈن،عمارتیں اور سٹی کونسل ہال کو ادبی کانفرنسوں اور مشاعروں کے انعقاد کے لئے استعمال کیا جائے گا، انگریزی زبان سیکھتے سیکھتے ہم نے اپنی قومی زبان اردو کو بھلا دیا ہے، ہم نے اپنے ماضی کو بھلا کر جو نئی چیزیں سیکھنی شروع کی ہیں اس کی وجہ سے آج اردو زبان کا یہ حال ہے، ایسی کانفرنسز منعقد ہونی چاہئیں تاکہ آنے والے بچوں کو ماضی کے ہیروز سے روشناس کرایا جاسکے، یہ بات انہوں نے انجمن ترقی اردو کے زیر اہتمام مولوی عبدالحق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر صدر انجمن ترقی واجد جمال، سابق صدر جامعہ کراچی شعبہ اردوڈاکٹر شاداب احسانی، اردوکے نامورادیب محقق وادب دوست شہری تقریب میں شریک تھے، ایڈمنسٹریٹر کراچی بریسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ لمحہ فکریہ ہے کہ کراچی سے زیادہ لاہور میں بہتر اردو سنی اور بولی جاتی ہے، بدقسمتی سے ہم لوگوں نے تہذیب وتمدن کو بھلا دیا ہے جس کی وجہ سے آج اردو کا یہ حال ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ ایسے اجتماعات اب بند کمروں میں نہیں ہونے بلکہ بڑی بڑی جگہوں پر کھلی فضاء میں ہونے چاہئیں، انہوں نے کہا کہ آج بھی بلدیہ عظمی کراچی کی کونسل کی قرار داد اردو میں لکھی جاتی ہے اور بلدیہ عظمی کراچی کے مرکزی بلڈنگ میں جو تختیاں آویزاں ہیں وہ بھی اردو زبان میں ہیں، سندھ حکومت فراخدلی کیساتھ انجمن ترقی اردو کو گرانٹ دیتی ہے جس کا مقصد اردو کی ترویج اور ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہے، اردو زبان کی ترویج کیلئے سب کو مل کر کام کرناہوگا، انہوں نے کہا کہ مادری اور علاقائی زبانوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے لیکن اردو لوگوں کو جوڑنے کی زبان ہے آپ ملک میں کسی بھی شہر میں چلے جائیں جو زبان آپ کے کام آئے گی وہ اردو ہے، آپ کو اس علاقے کی زبان نہ بھی آتی ہو لیکن اردو وہاں آپ کا ساتھ دے گی، انہو ں نے کہا کہ انجمن ترقی اردو جدید فنون کو استعمال کرتے ہوئے زبان کی ترویج پر کام کررہی ہے اور جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں، اردو قومی زبان ہے اور اس کی ترویج وفروغ کیلئے سندھ حکومت ہر طرح تعاون کریگی، سابق صدر جامعہ کراچی شعبہ اردو ڈاکٹر شاداب احسانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم جہانگیر پارک کراچی میں ہر ماہ خطاب کرتے تھے، ہماری خواہش ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب اس روایت کو زندہ کریں گے، میری ایڈمنسٹریٹر کراچی سے درخواست ہے کہ وہ مہینہ میں ایک بار شعراء ، ادیبوں، دانشوروں اور عمائدین کیساتھ مکالمہ رکھیں جس کا مقصد اردو زبان کا فروغ ہو۔

  • نسلہ ٹاور کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ

    نسلہ ٹاور کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ

    کراچی: نسلہ ٹاور کو مسمار کرنے کا کام جادی ، عمارت کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : کراچی میں سپریم کورٹ کی جانب سےغیر قانونی قرار دی گئی رہائشی عمارت نسلہ ٹاور کو گرانے کا کام جاری ہے کمشنر کراچی نے نسلہ ٹاور کے اطراف دفعہ 144 نافذ کردی،نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیمولیشن مکمل ہونے تک نسلہ ٹاور کے اطراف چار سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی نسلہ ٹاور کے کام میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ڈیمولیشن کے دوران کچھ افراد لا اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب کرسکتے ہیں۔

    ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنر منڈی بہاءالدین کو جیل بھیجنے کا حکم

    ڈپٹی ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے ) نے کہا کہ عمارت گرانے کا پانچ سے دس فیصد کام مکمل ہوچکا، اسی رفتار سے کام ہوا تو 15 سے 20 دن لگیں گے۔

    دوسری جانب عمارت گرانے والے ٹھیکیدار نے بتایا ہے کہ 3 شفٹوں میں 24 گھنٹے مزدور کام کررہے ہیں۔ عمارت گرانے میں 25 سے 30 دن لگ جائیں گے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور ایک ہفتے میں گرا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور حکم دیا کہ عمارت گرانے کے دوران نقصان سے بچنے کو یقینی بنایا جائے۔

    افغان حکومت نے پاکستان سے بڑی درخواست کردی

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدریکا کہنا تھا کہ نسلہ ٹاور کی تعمیر کے لیے غلط این او سی دیا ہے تو ذمےداروں کےخلاف کارروائی کرسکتے ہیں، اٹارنی جنرل سے پوچھوں گا کہ اس پر ان کا کیا موقف ہے؟ کراچی میں عمارت گرانے کا فیصلہ سپریم کورٹ کا ہے، ایک دفعہ جب این او سی ایشو ہوگیا اس کے بعد آپ کو اس کے پرائمری میں جانا بڑا مشکل ہوجاتا ہے۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب آپ نے این او سی دے دیا، لوگوں نے خریداری کی، وہاں چیزیں شروع ہوگئیں بڑا مشکل ہےمیری نظر میں خریدنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

    یاد رہے کہ جمعہ کو نسلہ ٹاور کے باہر بلڈر ایسوسی ایشن اور متاثرین کے احتجاج کے دوران سڑک میدان جنگ بن گئی تھی پولیس اور رینجرز نے مظاہرین پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا تھا، لاٹھی چارج کے باعث ڈپٹی چیئرمین آباد سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

    اس احتجاج کے حوالے سے ترجمان کراچی پولیس کا موقف تھا کہ پولیس نے شارع فیصل کو بلاک کرنے سے مظاہرین کو روکا۔ مظاہرین نے سڑک بلاک کی اور سرکاری کام میں مداخلت کی تو لاٹھی چارج کیا گیا۔

    سابق فرانسیسی وزیر کو ریپ اور ہراسانی کے نئے مبینہ الزامات کا سامنا

  • ہم کوئی دہشت گرد تھے جو لاٹھی چارج کیا گیا  , کاروبار بند کررہے ہیں : محسن شیخانی

    ہم کوئی دہشت گرد تھے جو لاٹھی چارج کیا گیا , کاروبار بند کررہے ہیں : محسن شیخانی

    کراچی : چیئرمین آباد محسن شیخانی نے کہا ہے کہ نسلہ ٹاور کا مسئلہ کراچی کا مسئلہ ہے، آباد نے تعمیراتی شعبے کو ہڑتال کی کال دی تھی، ہم کوئی دہشت گرد تھی جو ہم پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ ظلم کی حد ہوتی ہے ۔اب برداشت سے باہر ہوچکا ہے ،کاروبار بند کررہے ہیں ۔آرمی چیف سے اپیل ہے کہ ہمیں بچالیں۔
    کراچی میں بغیر نقشے کے کئی عمارتیں بنائی جا رہی ہیں، کام نہیں کرنے دیا جا رہا، بیرونِ ملک سے سرمایہ کار کیسے آئیں گے، گورنر سندھ اور وزیرِ اعلی سندھ کو کسی کی فکر نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے ہفتے کو ایف پی سی سی آئی صدر ناصر حیات مگوں ، ایف پی سی سی آئی نائب صدر عارف جیوا ،پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان ، ایم کیو ایم پاکستان رہنما عامر خان ، سابق مئیر کراچی وسیم اختر،سینیٹر فیصل سبزواری ،سیلانی ویلفیئر کے مولانا بشیر فاروقی ،ایف پی سی سی آئی ، اور دیگر ٹریڈ ایسوسی ایشن کے رہنما ؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
    چیئرمین آباد محسن شیخانی نے کہا کہ سندھ حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ریگولرائزیشن کریں گے، کل سندھ اسمبلی نے بل پاس کر دیا، مگر قرار داد پاس نہیں کرائی گئی۔انہوںنے کہا کہ شہر میں بغیر نقشوں کے عمارتیں بن رہی ہیں، ہم احتجاج بھی نہیں کر سکتے، آج بھی 700 عمارتیں بن رہی ہیں کوئی نہیں پوچھ رہا، کیا بلڈنگ ایک دن میں بنی، اداروں کی ذمے داری نہیں تھی، آباد کا مطالبہ ہے، عمارتوں کی اجازت دینے کے لیے ون ونڈو قائم کی جائے۔
    محسن شیخانی نے کہا کہ ایک ملک میں دو قانون نہیں ہوتے، بلڈنگ کی تعمیر کے 5 سال بعد آرڈر آتا ہے کہ عمارت توڑ دی جائے، اس صورتِ حال کے بعد لوگ کیسے سرمایہ کاری کریں گے، کمشنر اور پولیس اپنی نوکری بچا رہے ہیں، شہر کو ہم تباہ کر رہے ہیں، ایک عمارت کی تعمیر کے لیے 17 این او سی لینے پڑتے ہیں، عمارت گرانے پر توجہ زیادہ اور معاوضہ دینے پر پر کم ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ایسا ادارہ بنا دیں جس سے این او سی ملنے کے بعد اور کوئی تنگ نہ کرے، کراچی میں کئی برسوں سے 300 نقشے زیرِ التوا ہیں، وزیرِ اعظم، صدر، آرمی چیف اور بلاول بھٹو سے اپیل ہے کہ مسائل حل کرائیں، جہاں ڈاکیومنٹیشن کو نہیں مانا جا رہا وہاں کام بند کریں گے۔چیئرمین آباد محسن شیخانی نے کہا کہ کراچی میں بغیر نقشے کے کئی عمارتیں بنائی جا رہی ہیں، کام نہیں کرنے دیا جا رہا، بیرونِ ملک سے سرمایہ کار کیسے آئیں گے، گورنر سندھ اور وزیرِ اعلی سندھ کو کسی کی فکر نہیں ہے۔
    کراچی کا مسئلہ ہم سب کا مسئلہ ہے ۔یہ وہ کراچی ہے جو 62 فیصد ٹیکس دیتا ہے ۔اس ملک کی اکانومی چلانے والا شہر کراچی ہے ۔عرصہ دراز سے لے کر اس شہر کے ساتھ جوہوتا رہا وہ سب کے سامنے ہے ۔پہلے ٹارگٹ کلنگ کا معاملہ رہا ۔انہوںنے کہا کہ ہماری لی گئی این اوسی کو کوئی ادارہ ماننے کو تیار نہیں ۔ہمیں بلڈنگ بنانے کے لئے 17 جگہ سے این اوسی لینی پڑجاتی ہے ۔
    ادارے کیوں بری الذمہ ہوجاتے ہیں ۔کے ایم سی نے نسلہ ٹاور والی زمین الاٹ کی تھی ۔اب ایک آرڈر پر بلڈنگ توڑ دی جارہی ہے ۔ایک آرڈر ہوتا ہے تو بنی گالہ ریگولرائز ہوجاتا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا جائے گا ۔ہم نے کل احتجاج کیا اور یہ بتایا کہ اب کام نہیں کرسکتے ۔کوئی ایک ادارہ بنادیں نا جس کی این اوسی کافی ہو ۔لوگوں کا اعتماد ہم پر سے اٹھ جائے گا تو کیسے انڈسٹری چلے گی۔
    محسن شیخانی نے کہا کہ ہمارے لوگوں پر تشدد کیا گیا ۔معیشت چلانے والوں کے ہاتھ پاؤں توڑے جارہے ہیں ۔بزنس کمیونٹی کے ٹیکس سے ملک چلتا ہے اسی کو یہاں مارا جاتا ہے۔انہوںنے کہا کہ آپ کا ایس بی سی اے ناکارہ ہوچکا ہے تو اسے پرائیویٹائز کردیں ۔محسن شیخانی نے کہا کہ کراچی کے لوگوں کے ساتھ بہت ظلم ہورہا ہے ۔میں سب سے کہتا ہوں کہ خدارا کراچی کے لئے کھڑے ہوجائیں ۔
    اگر بزنس کمیونٹی نہیں بچے گی تو شہر کیسے چلے گا ۔این جی اوز کیسے چلیں گی ۔ہر سیاسی جماعت اپنا موقف پیش کرے ۔اگر گورنر اور وزیر اعلی نہیں آتے ہمارے پاس تو ہم چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ بڑے لوگ ہیں ،کمشنر کراچی اپنی نوکری بچارہا ہے ۔آج کچھ نہ کچھ نتیجہ نکلنا چاہئیے۔انہوںنے کہا کہ بس اب بہت ہوگیا۔ ظلم کی حد ہوتی ہے ۔اب برداشت سے باہر ہوچکا ہے ۔
    اب کاروبار بند کررہے ہیں بیوروکریسی کو واضح پیغام ہے ۔آرمی چیف سے اپیل کردی ہے کہ ہمیں بچالیں ۔بلاول بھٹو آئیں ہمیں بچائیں۔صدر ایف پی سی سی آئی ناصر حیات مگوں نے کہا کہ جن اداروں نے این او سی دی ان کے خلاف ایکشن لیا جائے ۔ریگولیٹر اس وقت کہاں تھے یہ ان کی ذمہ داری ہے ۔بزنس کمیونٹی کے ساتھ کل جو ہوا ان کے خلاف ایکشن لیا جائے جن لوگوں نے غلط اجازت دی ان کے خلاف ایکشن کیا جائے ۔
    انہوںنے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کی نئی بلڈنگ بنانے کی اجازت مانگی ہے وہ بھی اب تک نہیں ملی ہے ۔پورے ملک میں بلڈنگ بن رہی ہیں لیکن کراچی کو ہدف بنایا جارہاہے ۔فرسودہ نظام کو درست کیا جائے۔سیلانی ویلفیئر کے مولانا بشیر فاروقی نے کہا کہ ہم توہین عدالت نہیں کر رہے ہیں، ہم چیف جسٹس اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری فریاد کو سنا جائے، ثاقب نثار نے فیصلہ واپس لے لیا تھا، آپ بھی واپس لے لیں، ٹاور کی تعمیر کی جس نے اجازت دی تھی، اس کو عدالت بلایا جائے۔

  • لاوارث کراچی میں الیاس کوچ ڈرائیور کی خواتین سے بدتمیزی

    لاوارث کراچی میں الیاس کوچ ڈرائیور کی خواتین سے بدتمیزی

    کراچی : لاوارث کراچی میں الیاس کوچ ڈرائیور کی خواتین سے بدتمیزی*

    تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں الیاس کوچ کا ڈرائیور بہت تیز گاڑی چلا رہا تھا اور دوسری گاڑی سے ریس لگا رہا تھا جس پر خاتون کا صرف اتنا کہنا تھا کہ آپ ریس نا لگائیں قیمتی جانیں گاڑی میں موجود ہیں ۔ اس پر ڈرائیور نے خاتون سے بدتمیزی کی اور کہا کہ ہم ایسے ہی گاڑی چلاتے ہیں ہمیں ٹریفک پولیس بھی نہیں روکتی جیل مردوں کے لئے ہی بنی ہے ۔
    کراچی جیسے شہر میں یہ صرف الیاس کوچ کی کہانی نہیں لاوارث کراچی میں آئے دن حادثات ایسی ہی ریس لگاتی گاڑیوں کی کی وجہ سے رونماء ہوتے رہتے ہیں ۔
    ٹریفک پولیس کو ان کی بدمعاشی نظر نہیں آتی کیونکہ ماہانہ فی چوکی کے حساب سے بھتہ مل رہا ہے کیسے نظر آئے ان کی بدمعاشی ۔ گاڑی کا نمبر ہے 3933 روٹ الیاس کوچ ۔ کیا کوئی اس گاڑی کے ڈرائیور کو پابند کر سکتا ہے کہ وہ آئندہ ریس نہیں لگائے گا اور کسی خاتون سے کبھی بد تمیزی نہین کرے گا ۔