Baaghi TV

Category: کراچی

  • ملک بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ناکام ہونے کا خدشہ.

    ملک بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ناکام ہونے کا خدشہ.

    ‏کراچی : ملک بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ناکام ہونے کا خدشہ.

    ذرائع کے مطابق ملک بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ناکام بنانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔
    آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کردیا.
    آئل ٹینکرز کی لاتعلقی سے 80 فیصد پیٹرول پمپ کھلیں رہیں گے۔
    صدر آئل ٹینکرز میر شمس شہوانی نے کہا ہے کہ 26 ہزار آئل ٹینکرز ملک بھر میں سپلائی جاری رکھیں گے.

  • فاروق ستار سے ملاقات اتفاقیہ نہیں تھی کراچی ان سے ہی ملنے آئی تھی : حریم شاہ

    فاروق ستار سے ملاقات اتفاقیہ نہیں تھی کراچی ان سے ہی ملنے آئی تھی : حریم شاہ

    کراچی : ٹک ٹاکر حریم شاہ نے کہاہے کہ ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سربراہ فاروق ستار سے ملنا حادثاتی نہیں تھا وہ ان ہی سے ملنے کراچی آئیں تھیں۔

    حریم شاہ کے انسٹاگرام اکائونٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں وہ یوٹیوب کے مشہور شو میں اس بات کا دعوی کر رہی ہیں کہ وہ کراچی فاروق ستار سے ہی ملنے آئی تھیں، تاہم اس سے پہلے فاروق ستار بھی اس شو میں مہمان بن چکے ہیں۔

    ان سے بھی میزبان نے یہی سوال کیا، جس پر انہوں نے کہاکہ ان کی حریم شاہ سے ملاقات اتفاقیہ طور پر ہوئی۔اس ویڈیو کی کیپشن فاروق ستار ورسز حریم شاہ دیا گیا ہے

    ۔نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے حریم شاہ نے کہا کہ وہ جس سے دوستی کرتی ہیں اسے نبھاتی ہیں، فاروق ستار نے غلط بیانی کی ہے ان کی سابق ایم کیو ایم رہنما سے ملاقات ہوٹل میں باقائدہ پلینڈ تھی۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد ہوٹل میں پہلی ملاقات میں فاروق ستار نے نمبر دیا ، دوسری ملاقات لاہور میں ہوئی اس کے بعد 6 ماہ تک وہ فاروق ستار سے رابطے میں رہیں اور پھر کراچی آئیں جس کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں۔

  • پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیشہ عام آدمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے : بلاول بھٹو زرداری

    پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیشہ عام آدمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے : بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومتِ سندھ کی جانب سے ماں و بچے کو دوران حمل، دوران زچگی اور پیدائش کے بعد علاج و معالجے کی مفت سہولیات اور وظیفے کے اجرا کے پروگرام کو صوبے میں صحتِ عامہ کے لیئے ایک تاریخی اقدام اور انقلابی منصوبہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیشہ عام آدمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔
    سندھ حکومت کے سوشل پروٹیکشن اسٹریٹجی یونٹ کے تحت ماں اور بچے کو دوران حمل، دوران زچگی اور پیدائش کے بعد علاج و معالجے کی مفت سہولیات اور وظیفے کے اجرا کے حوالے سے امدادی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ غریب عوام کی خدمت کرنا ہی پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ہم یہ وعدہ نہیں کرتے کہ اگر پی پی پی کی حکومت ہوگی تو ہمیشہ اچھا وقت ہوگا، لیکن ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر عوام تکلیف میں ہوگی، تو ہم دن رات کام کرکے اس تکلیف کا حل نکالیں گے۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی جماعت کی تاریخ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ عوام کی بہبود و ترقی کے لیئے کام کیا ہے۔ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کا لینڈ ریفارم پروگرام ملک کا بہت بڑا معاشی انقلاب تھا۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دور حکومت لیڈی ہیلتھ ورکز(ایل ایچ ڈبلیو)جیسے انقلابی پروگرام پر ملک کے اندر اور باہر سے بہت تنقید کی گئی۔
    لیکن اس پروگرام کے آغاز کے بعد بنگلادیش، بھارت اور دیگر ممالک نے بھی اس کی تقلید کی اور یہ منصوبہ ان کے لیئے بھی کامیاب ثابت ہوا۔ پی پی پی کی سابقہ حکومت کے دوران جب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام(بی آئی ایس پی)کا آغاز کیا جا رہا تھا، تو اس کی بھی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ اس پروگرام کے ذریعے فقیر پیدا کیئے جارہے ہیں۔ لیکن سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایک عزم کے ساتھ، اِس پروگرام کو عوامی حکومت کے پہلے سال سے شروع کرنے کو یقینی بنایا۔
    انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے پاکستان کی غریب خواتین کو اس وقت مالی معاونت ملی، جب پوری دنیا میں معاشی بحران تھا۔ عالمی بحران کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے تھے، لیکن ہم نے عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریب خواتین کی معاونت اس وسیع منصوبے کا ایک جز تھا۔
    وسیلہ روزگار، وسیلہ صحت، اور وسیلہ تعلیم بھی اس پروگرام کے دیگر اجزا میں شامل تھے۔ یہ درحقیقت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا منشور تھا، جسے پی پی پی کی مخالفین حکومتیں چاہتے ہوئے بھی ختم نہیں کرسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں غربت کا پہلا سروے پی پی پی کے گذشتہ دورِ حکومت میں کیا گیا تھا اور اس وقت ملک میں جو واحد سوشل سکیورٹی کا پروگرام موجود ہے، وہ پی پی پی حکومت کا بنایا ہوا ہے۔
    بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ حکومتِ سندھ کا ایک اور مثالی منصوبہ پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام ہے، جس کے تحت غریب خواتین کو کاروبار کے آغاز کے لیئے بے سود قرضے فراہم کیئے جاتے ہیں۔ اس پروگرام سے تاحال 13 لاکھ خواتین مستفید ہوچکی ہیں، اور وہ اب اپنے خاندانوں کی معاشی استحکام کو یقینی بنا رہی ہیں۔ انہوں نے نشان دہی کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ پروگرام کی رکوری کا تناسب 99 فیصد ہے، اور اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ بلاسود قرضہ حاصل کرنے والی خواتین کا کاروبار کامیابی سے چل رہا ہے۔
    اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سندھ کی خواتین ایک چھوٹی سے مدد پر پوری معیشت میں انقلاب لاسکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ چند سال قبل نولومود اور چھوٹے بچوں کی شرح اموات کے معاملے پر بہت تنقید کی جاتی تھی، لیکن یو ایس ایڈ اور اس طرح کے دیگر اداروں کے اعداد شمار اب سندھ میں ایک بہتر صورتحال پیش کر رہے ہیں۔ سال 2013 سے سال 2018 کے دوران پنجاب میں نومولود بچوں میں شرحِ اموات 19 فیصد تھی۔
    اسی عرصے کے دوران خیبر پختونخواہ میں 2 فیصد اضافہ، جبکہ سندھ میں 30 فیصد کمی ہوئی ہے۔ سال 2013ع سے 2018ع تک کے عرصے میں پنجاب میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شرح اموات 17 فیصد کم ہوا، اور خیبر پختونخواہ میں 7 فیصد، جبکہ سندھ میں 19 فیصد کمی آئی ہے۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ صوبہ سندھ میں پی پی پی حکومت نے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر کام کیا ہے، لیکن ہمارے لیئے یہ اب بھی کافی نہیں ہے۔
    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 2018ع کے بعد ملک میں معاشی بحران ہے، اور مہنگائی میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔ غربت اور مہنگائی کا سب سے زیادہ نقصان دیہی میں ہوتا ہے۔ اس بحران کی وجہ سے ماں اور بچے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت سندھ کے نئے پروگرام پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ اس پروگرام کے تحت ماں اور بچہ کی صحت پر توجہ مرکوز کیا جائے گا۔
    یہ پروگرام بچے کے پہلے ایک ہزار دنوں پر فوکس کرے گا، اور پہلا دن ماں کے حاملہ ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حاملہ ماں کو اسپتال میں معمول کے مطابق چیک اپ کرانے پر 1000 روپے، جبکہ صحت مرکز میں بچے کی پیدائش پر 4000 روپے مالی معاونت کے طور پر دیئے جائیں گے۔ اس طرح سے بچے اور ماں کی صحت کے لیئے تمام ضروری اقدام کو یقینی بنایا جائے گا۔
    انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کے تحت ہر ماں اور بچہ پر 20000 ہزار روپے خرچ ہوں گے۔ یہ پروگرام پہلے مرحلے میں دو اضلاع تھرپارکر اور عمرکوٹ میں شروع کیا جائے گا، اور آئںدہ دو سال کے دوران اس منصوبے کو سندھ بھر میں توسیع دی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت 10 لاکھ خواتین مائیں مستفید ہوں گی۔ اس موقع پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیرِصحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو اور دیگر وزرا، مشیران، ارکان اسمبلی اور پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

  • سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں 9 لاکھ کی کمی

    سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں 9 لاکھ کی کمی

    کراچی: الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں بڑی پیشرفت، سندھ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں بڑی کمی کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 10 لاکھ 80 ہزار روپے سے کم کرکے 1 لاکھ 6 ہزار روپے کردی ہے۔ رجسٹریشن فیس میں ہونے والی بڑی کمی سے سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوگا۔

    سندھ کے وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 10لاکھ 80 ہزار روپے تھی تاہم سندھ کابینہ کی منظوری کےبعد الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں ریکارڈ کمی کردی گئی ہے۔
    مکیش چاولہ کے مطابق سندھ میں تاحال 11 الیکٹرک گاڑیاں رجسٹرڈ ہوچکی ہیں جب کہ 1490 گاڑیوں کی رجسٹریشن کی درخواست صوبائی محکمہ ایکسائز کے پاس جمع ہوچکی ہے۔

  • پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال، کون سے پمپ کھلے رہیں گے؟

    پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال، کون سے پمپ کھلے رہیں گے؟

    پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کل ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کردیا لیکن کچھ پمپ کھلے رہیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی جانب سے دیگر آئل کمپنیز کی کمپنی ملکیتی نے پمپس کھلے رکھنے کا اعلان کردیا۔

    پی ایس او کا کہنا ہے کہ ہمارے پیٹرول پمپس جو کمپنی زیر ملکیت ہیں وہ کھلے رہیں گے۔

    شیل پاکستان کی جانب سے بھی کمپنی کی ملکیت والے پمپس چلانے کا اعلان کیا گیا ہے، پی ایس او کے ملک بھر میں 23، شیل کے 40 کمپنی ملکیت زیر انتظام پمپس ہیں۔

    واضح رہے کہ پی ایس او کے کراچی میں 7، شیل کے 6 کمپنی ملکیت پیٹرول پمپس ہیں ۔
    پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے 21 نومبر کو اعلان کیا گیا تھا کہ جمعرات سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پورے ملک میں پٹرول پمپس بند رہیں گے۔

    آل پاکستان پٹرولیم ریٹیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے پٹرولیم ڈیلرز کی 25 نومبر کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے، شعیب خان کا کہنا ہے کہ 25 نومبر صبح 6 بجے سے تمام پٹرول پمپس احتجاجاً بند رکھیں گے۔

    پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ملک بھر میں ہڑتال کے اعلان پر سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ پٹرولیم ڈیلرز کا ہڑتال کا اعلان انتہائی اہم معاملہ ہے، پٹرول پمپس کی بندش سے پٹرول کا شدید بحران پیدا ہوگا۔

    سلیم مانڈوی والا نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پٹرولیم ڈیلرز سے مذاکرات کرکے معاملے کا حل نکالے۔

    خیال رہے کہ پٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے ڈیلر مارجن 6 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

  • کراچی چڑیا گھر میں موجود نایاب نسل کا سفید شیر ہلاک

    کراچی چڑیا گھر میں موجود نایاب نسل کا سفید شیر ہلاک

    کراچی: چڑیا گھر میں موجود نایاب نسل کا سفید شیر ہلاک ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی زو میں موجود نایاب نسل کا سفید شیر 13 دن بیمار رہنے کے بعد آخر کار مر گیا، زو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شیر نمونیا کا شکار تھا، اور نہایت کمزور ہونے کے باعث دوران علاج مر گیا۔

    چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق نایاب نسل کے اس سفید شیر کو افریقا سے 2012 میں درآمد کیا گیا تھا، شیر کو اُس وقت ایک کروڑ روپے کی خطیر رقم ادا کر کے لایا گیا تھا، شیر کی عمر 14 سے 15 سال تھی۔

    ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا ہے کہ سفید شیر کو ٹی بی کا مرض لاحق تھا، اور اس کے پھیپھڑوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا، شیر کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے، رپورٹ سامنے آنے پر موت کی وجہ سامنے لائی جائے گی۔

    دوسری طرف ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی چڑیا گھر میں سفید شیر کے مرنے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل کراچی زو میں جانوروں کو کھانا فراہم کرنے والے ٹھیکیدار نے بقایہ جات ادا نہ ہونے کی وجہ سے جانوروں کو کھانا دینا بند کر دیا تھا، جس کے باعث تین روز تک چڑیا گھر کے جانوروں نے کچھ نہیں کھایا۔

    تاہم ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی نے تردید کرتے ہوئے کہا چڑیا گھر میں جانوروں کی خوراک سے متعلق خبریں حقائق کے منافی ہیں، کے ایم سی افسران کے دورے میں یہ بات سامنے آئی کہ چڑیاگھر میں موجود جانوروں کے لیے ایک ہفتےکی خوراک موجود ہے، اور چڑیا گھر اور سفاری پارک کے تمام جانور صحت مند ہیں۔

  • کراچی میں ڈرائیور نے رکشے کو آگ لگادی

    کراچی میں ڈرائیور نے رکشے کو آگ لگادی

    کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں ٹریفک پولیس کے رویے سے تنگ آکر ڈرائیور نے رکشے کو آگ لگادی۔

    میڈیا نیوز کے مطابق کراچی کے علاقے گلستان جوہر منور چورنگی کے قریب رکشے ڈرائیور نے ٹریفک پولیس کی مبینہ رشوت مانگنے سے تنگ آکر اپنے رکشے کو آگ لگا دی ۔ آگ لگنے کے سبب رکشہ جل کر تباہ ہوگیا۔

    رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس اہلکار نے رشوت مانگی، رشوت نہ دینے پر بلا وجہ چالان کاٹ دیا گیا۔

    رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ کرایے پر رکشہ چلا رہا ہوں، رشوت کہاں سے دوں، اہلکار نے کہا کہ ہاں رکشے کو آگ لگا دو۔

    یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل کراچی کے علاقے ناظم آباد میں غربت کے مارے رکشہ ڈرائیور نے سی این جی نہ ملنے پر رکشہ جلادیا تھا، پمپ سے پیٹرول خریدا اور کچھ دور جاکر رکشے پر چھڑکا اور آگ لگائی اور خودسوزی کی کوشش کی جسے شہریوں نے ناکام بنایا تھا۔

    رکشہ ڈرائیور شاہد کا کہنا تھا کہ دو مہینے سے گھر کا کرایہ نہیں دیا مالک مکان گھر خالی کرنے کا کہہ رہا ہے بچوں کو تڑپتا نہیں دیکھ سکتا، شاہد کے پانچ میں سے تین بچے پراسرار بیماری میں مبتلا ہیں انہیں مغرب کے بعد کچھ نظر نہیں آتا تھا۔

  • بہادرآباد میں 16منزلہ عمارت کی تعمیر ، سپریم کورٹ کا بلڈر کو نوٹس

    بہادرآباد میں 16منزلہ عمارت کی تعمیر ، سپریم کورٹ کا بلڈر کو نوٹس

    سپریم کورٹ نے بہادرآباد میں سولہ منزلہ عمارت کی تعمیر پر بلڈر کو نوٹس کی تعمیل کرانے کا حکم دے دیا اور سعیدغنی کو طلب کرلیا۔

    تفصیلات کے مطابق نسلہ ٹاور کے بعد ایک اور 16منزلہ عمارت کی نشاندہی ہوئی ، سپریم کورٹ میں بہادرآباد میں سولہ منزلہ الباری ٹاور کی تعمیر کے خلاف درخواست دائر کردی گئی۔

    وکیل درخواست گزار نے بتایا پارک کی زمین پر غیر قانونی عمارت بنائی گئی ، عدالتی نوٹس کےبعدبھی تعمیرات نہیں روکی گئیں ، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا بلڈر کون ہے اس کا کون بنارہا ہے یہ ؟

    عدالت نے ایس ایچ او نیو ٹاؤن کے ذریعے بلڈر کو نوٹس تعمیل کرانے کا حکم دے دیا ، دوران سماعت چیف جسٹس نے عمارت کی تصویر عدالت میں لہرائی۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا یہ کیا ہورہا ہے بتائیں ، سعید غنی صاحب کہاں ہیں ؟ وہ کہتے ہیں ایسی عمارتیں بنیں گی ، بلائیں انہیں ، کہتے ہیں عہدہ چھوڑ دوں گا مگر گراؤں گا نہیں۔

    چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمے میں کہا کب چھوڑیں گے وہ عہدہ یہ توبتائیں ؟ سپریم کورٹ نے سعید غنی کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

  • سپریم کورٹ کا سول ایوی ایشن کو کلب ختم کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کا سول ایوی ایشن کو کلب ختم کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے سول ایوی ایشن کو کلب ختم کرنے کا بڑا حکم دیتے ہوئے کلب کی جگہ بطور میس استعمال کرنےکی اجازت دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سول ایوی ایشن اراضی پر کلب بنانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، دوران سماعت چیف جسٹس نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے مکالمے میں کہا آپ کیسے کاموں میں لگ گئے، ساری دن تو کلب کے معاملات دیکھتے ہوں گے آپ۔

    چیف جسٹس نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے کا کہنا تھا کہ شادی کےکھانے اور شادیاں کرانے پرپورادن لگ جاتاہوگا، کل جہاز اڑانے کی جگہ پربھی کلب بنا دیں گے ، اس طرح تو آپ اپنے گھربھی بنا لیں گے، یہ سب کب سے کرنے لگے آپ لوگ؟

    ڈی جی سول ایوی ایشن نے بتایا یہ 90کی دہائی سے شروع ہوا، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کیا نجی لوگوں کو بھی ممبر شپ دی آپ نے؟ تو

    ڈی جی سول ایوی ایشن نے جواب میں کہا جی پرائیوٹ لوگوں کوبھی رکنیت دے رکھی ہے۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مطلب نجی لوگ بھی سول ایوی ایشن سہولتیں انجوائےکر رہےہیں، جس پر ڈی جی سول ایوی ایشن کا کہنا تھا کہ کلب ختم کرکے میس بنانے کی اجازت دی جائے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا پھر نجی لوگوں کو اجازت نہیں ہونی چاہیے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کس کام کے لیے بنایا تھاکلب آپ نے؟ ڈی جی سول ایوی ایشن نے بتایا آفیسرز کے لیے کلب بنایا گیا تو چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ عام ملازمین کے لیے کیوں نہیں؟

    سپریم کورٹ نے سول ایوی ایشن کو کلب ختم کرنے کا بڑا حکم دیتے ہوئے کلب کی جگہ بطور میس استعمال کرنےکی اجازت دے دی تاہم نجی افراد کو سول ایوی ایشن میس استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

  • کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

    کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

    کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں رفاہی پلاٹس اورپارکوں پرقبضہ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    ایڈمنسٹریٹرکراچی مرتضیٰ وہاب عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈمنسٹریٹر کراچی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں 4 جھیلیں ہوا کرتی تھیں ،جھیلوں کاپانی کہاں گیا؟ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں جواب دیا کہ پانی کا لیول کم ہونے سے جھیلیں ختم ہوئیں، جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پھرزمین تومحفوظ ہونی چاہیے تھی ،جھیل پارک کا کیا بنا وہ تو ختم ہوگئی شائد ، دو تین جھیلیں تھیں وہاں کیا بنادیا گیا ہے ؟ کراچی میں تین جھیلیں تھیں ، پارک میں 2 تھیں کہاں ہیں کے ایم سی والے جن کی ذمہ داری تھی ،آپ نے کراچی کی 4 جھیلیں بند کردیں؟ یہ نیچرل جھیلیں تھیں ختم کردی گئیں ،ہم یہاں کھیلتے اور مچھلی پکڑا کرتے تھے کیا یہ جھیلیں بھرگئی ہیں ؟ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ یہ جھیلیں بھر کے زمینیں الاٹ کردی گئی ہیں ان جھیلوں سے پہلے ہی پانی ختم ہوگیا تھا ،ایک شہری نے عدالت میں کہا کہ جھیل پارک سے متصل پارک پر غیر قانونی دکانیں بن گئی ہیں، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنا خوبصورت علاقہ تھا کتنے تمیز کے لوگ رہتے تھے سارے علاقے کا کیا حال کردیا ہے ؟ مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ ہمیں کہیں عدالتی حکم اورکہیں کے پی ٹی روک دیتا ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارکس کے انتظام کے حوالے سے تو قانون سازی کریں یہ سارا انتظام ایک تھا رٹی کے پاس ہونا چاہیے ، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ اب تو سارا کمرشل ہوگیا ہے ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ میونسپل کمشنر ادھر آجائیں ، میونسپل کمشنر نے کہا کہ میں نے تو ابھی 3 دن پہلے چارج لیا ہے ،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے مرتضیٰ وہاب سے کہا کہ آپ کیسے غیر قانونی تعمیرات ختم کریں گے ؟ مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ ماہرین کی مدد سے مارکنگ کرکے کارروائی کریں گے ،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اپنے بچوں کیلئے کیا چھوڑا ہے ؟ کوئی تفریح نہیں ہے، مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی میں 2003 میں کمرشلائزیشن کی گئی ، 26 سڑکوں کو کمرشلائز کیا گیا ،چیف جسٹس گلزار احمد نے مرتضیٰ وہاب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس کوانڈو نہیں کرسکتے ؟ کچھ تو کریں ، مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ دو دفعہ شہری حکومت نے کمرشلائزیشن کی گئی عدالتوں نے فیصلہ برقرار رکھا ، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شارع فیصل پر بھی سارے بنگلے تھے ختم ہوگئے ، مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کمرشلائزیشن کے بعد ٹاورز بنتے چلے گئے ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بڑے شہروں میں کثیر المنزلہ عمارتیں ہوتی ہیں مگر پراپر پلاننگ تو ہو ،سوک سینٹر کے پاس مشرق سینٹر کا حال دیکھیں ، ہٹائیں تجاوزات ،سوک سینٹر سے چھیپا کو ہٹائیں وہ گرین بیلٹ پر بیٹھے ہیں شارع فیصل پر لائٹ کون جلاتا ہے ؟ عموماً اندھیرا رہتا ہے ، مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی کی حدود میں لائٹس آن رہتی ہیں کنٹونمنٹ علاقوں میں بند رہتی ہیں ، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ میں نے نوٹ کیا ہے ، کنٹونمنٹ والوں کا کیا مسئلہ ہے ؟ کیا کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کی جھنڈے لگے ہوتے ہیں پرچم لگانا ہے تو پاکستان کا پرچم لگائیں ،

    @MumtaazAwan

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

    نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

    پاک فوج کے پاس مشینری موجود، جائیں ان سے مدد لیں،نسلہ ٹاور گرائیں، سپریم کورٹ

    عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں،نسلہ ٹاور نہ گرانے پر سپریم کورٹ برہم