قومی احتساب بیورو(نیب)کی ٹیم اسپیکر سندھ اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی کو 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود گرفتار کرنے میں ناکام ہوگئی۔سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ روز آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس میں آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔
نیب ٹیم نے سراج درانی کو گرفتار کرنے کے لیے کل ہی ان کے گھر پر چھاپا مارا لیکن نیب کی ٹیم تاحال سراج درانی کے گھر میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور رہائشگاہ کے باہر مین گیٹ اور عقبی گیٹ پر موجود ہے۔سراج درانی کے گارڈز اور پی پی پی کارکنوں نے نیب کے افسران کو ان کے گھر میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ گیٹ کے باہر بھی سراج درانی کے کارکن موجود ہیں۔
Category: کراچی
-

نیب ٹیم سراج درانی کو 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود گرفتار کرنے میں ناکام
-

معروف کمپنی کے بورے میں غیر معیاری سیمنٹ پیک کرنیوالے ملزمان گرفتار، مقدمہ درج
کراچی میں سہراب گوٹھ کے قریب پولیس نے کارروائی کرکے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا، ملزمان معروف کمپنی کے بورے میں غیر معیاری سیمنٹ پیک کرتے تھے۔
سہراب گوٹھ کے علاقے ایوب گوٹھ میں پولیس نے کارروائی کرکے 3 ملزمان کو گرفتار کرکے غیر معیاری سیمنٹ کی بوریوں سے بھرا ٹرک برآمد کیا ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان ناقص سیمنٹ کو مشہور سیمنٹ کمپنی کے نام سے پیک کرتے تھے۔سیمنٹ کمپنی کے ماہرین نے تھانے میں برآمد شدہ سیمنٹ کو کمپنی کا سیمنٹ نہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔پولیس نے گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ -

سعودی عرب اور عراق سے آنے والے مسافر کراچی پہنچتے ہی اسپتال منتقل
درجنوں مسافروں میں کرونا کی تشخیص، سعودی عرب اور عراق سے آنے والے مسافروں کو کراچی پہنچتے ہی اسپتال منتقل کر دیا گیا- تفصیلات کے مطابق سعودی عرب اور عراق سے آنے والے 19 مسافروں میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے شہر جدہ سے سعودی ایئرلائن کے ذریعے کراچی پہنچنے والے مسافروں میں سے 18 کے کرونا ٹیسٹ مثبت آگئے۔
اسی طرح عراق سے آنے والی پرواز میں سوار ایک مسافر کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ ایئرپورٹ حکام کے مطابق عراق اور سعودی عرب سے آنے والے مسافروں میں سے مجموعی طور پر 19 کو کرونا کی تشخیص ہوئی ہے۔ محکمہ صحت نے بتایا کہ کرونا پازیٹیو مسافروں کو ایئرپورٹ سے سیدھا سندھ گورنمنٹ اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں اُن کا ایک ہفتے بعد دوبارہ ٹیسٹ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ این سی او سی نے اربعین کے لیے عراق جانے والے مسافروں کے حوالے سے ایس او پیز جاری کیے، جس کے تحت انہیں پاکستان پہنچنے کے بعد ایک روز قرنطینہ لازمی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں عالمی وباء کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 2 فیصد سے بھی کم ہوگئی ، ملک بھر میں عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید 19 افراد جاں بحق ہوگئے جس سے مجموعی اموات کی تعداد 28 ہزار 106 ہوگئی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں 40 ہزار 584 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جہاں ملک بھر میں مزید767 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے اور مثبت کیسز کی شرح 1.88 فیصد رہی۔ -

12 سالہ بچہ چار کمسن دوستوں کے ساتھ گاڑی لے کر نکل پڑا،دوسری گاڑی کو ٹکر مار دی
پولیس ملازمین کے بچوں نے ٹریفک پولیس مہم کو دھجیاں اڑا دیں۔پولیس افسر کے 12 سالہ بچے نے کار دوڑانا شروع کر دی۔اس حوالے سے ایک شہری نے ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی ہے جس میں گاڑی کے اندر کمسن بچوں کو دیکھا جا سکتا ہے اور حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ اس گاڑی کے ڈرائیو کی اپنی عمر بھی 12 سال ہے۔
خود کو پولیس افسر کا بیٹا بتانے والا 12 سالہ بچہ ملیر میمن گوٹھ سے کار دوڑاتا ہوا ملیر ماڈل کالونی تک پہنچ گیا۔کمسن کار ڈرائیور ہائبرڈ کار کو اسپورٹس کار سمجھ کر دوڑا رہا تھا کہ سڑک پر موجود دوسری کار سے جا ٹکرایا۔خوش قسمتی سے حادثے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کسی کو چوٹ آئی۔شہری نے گاڑی کو روک کر چیک کیا تو ڈرائیور کمسن بچہ نکلا جو فوری طور پر رونے لگ گیا اور ہاتھ جوڑنے شروع کر دئیے۔
شہری نے بچے سے سوال کیا کہ آپ کس کی اجازت سے گاڑی لے کر نکلے۔تو بچے نے روتے ہوئے بتایا ہے کہ میرے ابو پولیس میں ہیں اور والدین کی اجازت سے گاڑی لے کر نکلا ہوں۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی میں 12 سالہ ڈرائیور کے علاوہ چار اور بچے بھی موجودہ ہیں جن کی عمریں 3 سال سے لے کر 14 سال کے درمیان ہیں۔گاڑی میں موجود بچوں میں سے ایک نے اسکول یونیفارم بھی پہن رکھا ہے۔
گاڑی کو روکنے والے شہری نے حفاظتی اور قانونی کارروائی کے لیے 15 پر اطلاع دی اور بچوں کو پولیس کے حوالے کیا۔اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کے والدین کی جانب دوبارہ بچوں کو گاڑی نہ دیجنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے جس کے بعد بچوں کو وارننگ دے کر چھوڑا گیا ہے۔تاہم ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے سخت تنقید کی جارہی ہے۔صارفین نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کو گاڑی دینے والے والدین کے خلاف ایکشن لیا جائے کیونکہ اس عمل سے کئی لوگوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ -

عمران خان صورتحال تو کیا اپنے سیاستدان مشکل سے سنبھالے ہوئے ہیں، آصف زرداری
سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان کیا صورتحال سنبھالیں گے انہوں نے اپنے سیاستدان ہی مشکل سے سنبھالے ہوئے ہیں۔
احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئی ایس آئی چیف کی تقرری سے متعلق ہمارا مؤقف ہے کہ یہ حکومت ہے ہی نااہل ہے، آرمی چیف کی مدت میں توسیح کے وقت بھی پانچ مسودے بنے تھے، مجھے علم نہیں ہے کہ فیصلہ تبدیل ہوگا یا برقرار رہے گا، اللہ خیر کرے گا۔
آصف زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان یہ صورتحال کیا سنبھالیں گے، انہوں نے اپنے سیاستدان ہی مشکل سے سنبھالے ہوئے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ اگلی باری پیپلزپارٹی کی ہوگی۔ جب تک معیشت مزید نیچے نہ آجائے یہ احتساب کے عمل کا سلسلہ جاری رہے گا۔ -

کراچی میں دہشتگردی کے کیس میں محسن داوڑ، منظور پشتین اشتہاری قرار
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے رکن قومی اسمبلی علی وزیر و دیگر کیخلاف اشتعال انگیز تقریر سے متعلق مقدمے میں محسن داوڑ سمیت 4 ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا۔
کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو رکن قومی اسمبلی علی وزیر و دیگر کیخلاف اشتعال انگیز تقریر سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے محسن داوڑ سمیت چار ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا۔ مفرور قرار دیے گئے دیگر ملزمان میں محمد شفیع، ہدایت اللہ پشین اور دیگر شامل ہیں۔ عدالت نے چاروں مفرور ملزمان کا کیس داخل دفتر کردیا۔
عدالت میں مفرور ملزمان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔ چاروں مفرور ملزمان کے نام پر کوئی جائیداد نہیں ہے۔ رپورٹ مختیار کار سب ڈویژن کراچی، بلدیہ ٹاؤن، ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان اور ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کیخلاف سہراب گوٹھ تھانے میں اشتعال انگیز تقریر کا کیس درج ہے۔ کیس میں علی وزیر گرفتار اور عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔ -

عباسی شہید اسپتال کی انتظامیہ نے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب کو ماموں بنا دیا
عباسی شہید اسپتال انتظامیہ نے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب کو ماموں بنا دیا
کے ایم سی کے سب سے بڑے اسپتال عباسی شہید کا کرونا واڈ بند تالے لگا دیے گئے
کورونا کے نام پر کرپشن،،، عباسی شہید اسپتال میں کورونا کے مریضوں کیلئے خصوصی فنڈ کی منظوری
ایڈمنسٹریٹر کراچی سے کورونا وارڈز کے لیے 30 لاکھ روپے کی اضافی گرانٹ کی منظوری حاصل کرلی،
ایک طرف یہ تاثر ہےکہ ہسپتال میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ بتاتے ہوئے مریضوں کے علاج کے لیے فوری طور پر فنڈ کی ضرورت بتائی جارہی ہے
جبکہ دوسری طرف عباسی شہید اسپتال کا خصوصی کورونا وارڈ ختم کر کے تالے لگا دیے گئے
-

کراچی کے طلبا نے سستا اور جدید پورٹ ایبل انکیوبیٹر تیار کرلیا
شہر قائد کے طالب علموں نے سستا اور جدید انکیوبیٹر تیار کرلیا ہے، جس کی تجارتی بنیادوں پر تیاری سے پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں بڑی حد تک کمی لائی جاسکے گی۔
تفصیلات کے مطابق کے مطابق اس پروٹوٹائپ (عملی نمونہ) انکیو بیٹر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا آسان ہے، اور موبائل ایپلی کیشن Neox Care کی مدد سے انکیوبیٹر میں رکھے جانے والے بچے کی رئیل ٹائم نگرانی کے ساتھ ساتھ موبائل فون کے ذریعے مانیٹر اور کنٹرول کیا جاسکے گا۔
یہ کارنامہ عثمان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شعبہ الیکٹریکل کےطلبا نے سر انجام دیا ہے۔ سید فاطمہ اعجاز، محمد احسن رضا، مرزا سمیر احمد اور عزیز ذاکر پر مشتمل طلبا کی 4 رکنی ٹیم نے اپنے اساتذہ انجینیئر ثنا سہیل اور انجینیئرعاطف فرید کی نگرانی میں جدید فیچرز سے آراستہ یہ پورٹ ایبل انکیوبیٹر تیار کیا ہے جو کم لاگت اور منفرد خصوصیات کی بنا پر پاکستان میں بچوں کی نگہداشت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
سستا اور پورٹ ایبل انکیوبیٹر بنانے والی ٹیم کی لیڈر سیدہ فاطمہ اعجاز نے ایکسپریس کو بتایا کہ ہماری ٹیم نے بچوں کی شرح اموات میں کمی لانے کے لیے مہنگے انکیوبیٹرز کی جگہ جدید اور کم لاگت کے انکیوبیٹرز بنانے کا فیصلہ کیا، یہ انکیوبیٹر خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے جسے کمرشل بنیادوں پر 25 سے 30 ہزار روپے میں تیار کیا جاسکتا ہے۔
فاطمہ اعجاز کے مطابق اس انکیوبیٹر کی سب سے بڑی خوبی کم لاگت کے ساتھ اس کا پورٹ ایبل ہونا ہے، یعنی اسے آسانی کے ساتھ گاڑی، رکشہ اور ٹیکسی میں رکھ کر بھی ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے، جب کہ عام انکیوبیٹرز کے مقابلے میں طلبا کے تیار کردہ انکیوبیٹر میں ہلکی طاقت کی الٹراوائلٹ لائٹس نصب ہیں جو پیدائشی طورپر یرقان کا شکار بچوں کے علاج میں کارآمد ثابت ہوں گی۔
اس انکیوبیٹر کے ذریعے بچوں کے دل کی دھڑکن، آکسیجن کے لیول، انکیوبیٹر کے اندر نمی کے تناسب (ہیومیڈیٹی)، درجہ حرارت اور آکسیجن کی مقدار کو کنٹرول اور مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔ انکیوبیٹر میں دو الگ الگ طرح کے سینسرز لگائے گئے ہیں جن میں سے ایک دل کی دھڑکن اور خون میں آکسیجن کی مقدار کی نگرانی کرے گا جب کہ دوسرا سینسر درجہ حرارت اورنمی کے تناسب کی نگرانی کرے گا۔
یہ تمام پیرامیٹرز وائر لیس ڈیٹا کمیونی کیشنز کی مدد سے کسی بھی جگہ سے بیٹھ کر کنٹرول اور مانیٹر کیے جاسکتے ہیں۔ انکیوبیٹر کو کنٹرول اور مانیٹر کرنے کے لیے ایک خصوصی ایپلی کیشن تیار کی گئی ہے جس کی مدد سے ان پیرامیٹرز کو رئیل ٹائم بنیادوں پر کنٹرول اور مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔
موبائل ایپلی کیشن میں انکیوبیٹر میں رکھے جانے والے بچوں کا مکمل ریکارڈ رکھنے کے ساتھ بیک وقت کئی انکیوبیٹرز کو مانیٹراور کنٹرول کرنے کی بھی صلاحیت ہوگی جس سے بچوں کی نگہداشت پر مامور عملے اور ڈاکٹروں کے لیے آسانی پیدا ہوگی، کسی ہنگامی صورت یا پیرامیٹرز میں غیرمعمولی تبدیلی آنے پر ایپلی کیشن ہنگامی الرٹ بھی جاری کرے گی تاکہ کسی ہنگامی صورت حال سے فوری نمٹا جاسکے۔
فاطمہ اعجازکا کہنا ہے کہ انکیوبیٹر کے ہیلتھ پیرامیٹرز کی جانچ کے لیے طبی ماہرین کی مدد اور مشاورت سے کوالٹی ٹیسٹنگ کی ہے جس کے بے حد اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ہم نے اسپتالوں میں موجود انکیو بیٹرز کے ساتھ اس انکیوبیٹر کا موازنہ بھی کیا جو کافی حد تک درست رہا۔ اس سارے عمل میں طبی ماہرین کی مشاورت بھی شامل رہی جنہوں نے اس انکیوبیٹرکی خصوصیات کو سراہا اور نتائج کو بہترین قرار دیا۔
فاطمہ اعجاز نے بتایا کہ انکیوبیٹر کا آزمائشی نمونہ پہلے مرحلے میں تھا، دوسرے مرحلے میں اس کو اور زیادہ پورٹ ایبل بنایا جائے گا، تاہم دوسرے مرحلے کے لیے ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ (آر اینڈ ڈی) فنڈ پہلی ترجیح ہے۔ اس مرحلے میں انکیو بیٹر کو بیٹری بیک اپ سے لیس کیا جائے گا جو 20 سے 25 گھنٹے کا بیک اپ فراہم کرے گااور ایسے علاقے جہاں لوڈ شیڈنگ کی شرح زیادہ ہے وہاں بجلی کے تعطل کے دوران بھی انکیوبیٹرمیں رکھے بچے کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ اسپتالوں میں استعمال ہونے والے انکیوبیٹرز کی قیمت کم از کم 3 سے 9 لاکھ روپے تک ہوتی ہے، مہنگے ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنا دشوار ہوتا ہے۔ ان دونوں بنیادی چیلنجز کی وجہ سے ملک کے دور دراز علاقوں کے اسپتالوں میں یہ سہولت میسر نہیں ہوتی، جب کہ پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی بلند شرح اموات بھی پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں ریکارڈ کی جاتی ہے جہاں علاج کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی شرح اموات مسلسل بڑھ رہی ہے۔ -

حکومت سندھ کے گندم ریلیز کرنے کے بعد سے آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی سامنے آئیگی، مکیش کمار چاو لہ
صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسداد منشیات اور پارلیمانی امور و خوراک مکیش کمار چاو لہ نے گورنر سندھ ڈاکٹر عمران اسماعیل کے سندھ میں آٹے کی قیمتوں پر بیان کو ان کی لاعلمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے حکومت سندھ اکتوبر کے آخر میں گندم ریلیز کرتی ہے اور امید ہے کہ گندم کے ریلیز ہوتے ہی سندھ میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آج بھی پنجاب میں ایک کلو گرام آٹا 75 روپے کا فروخت ہورہا ہے جبکہ گندم کے حساب سے پنجاب میں سب سے زیادہ گندم پیدا ہوتی ہے۔ صوبائی وزیر برائے خوراک مکیش کمار چاو لہ نے کہا کہ گورنر سندھ صاحب نے بغیر معلومات حاصل کئے بغیر اپنے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے حکومت سندھ کے خلاف بیان دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے پاس اپنے عوام کی ضرورت کے مطابق گندم وافر مقدار میں موجود ہے۔صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسداد منشیات اور پارلیمانی آمور و خوراک مکیش کمار چاو لہ نے کہا کہ جہاں تک مہنگائی کی بات ہے تو چینی، پٹرول اور دیگر اشیاخوردونوش کی قیمتیں تو وفاقی حکومت کا شعبہ ہے کیا اس نے ان اشیاکی قیمتیں کنٹرول کر رکھی ہیں۔ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے لیکن وفاقی حکومت کو غریب عوام کی حالت زار سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
-

کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کے وفد کی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سے ملاقات
کیمبرج اسیسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن کی پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر عظمی خان کی سربراہی میں تین رکنی وفد نے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سے ان کے آفیس میں ملاقات کی اور دو طرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا. اس موقع پر کیمبرج وفد نے وزیر تعلیم کو بتایا کہ پورے ملک میں 730 اسکولز جبکہ صرف کراچی میں 200 اور پورے سندھ میں 230 اسکولز کیمبرج ایحوکیشن سسٹم اپنائے ہوئے ہیں.ملاقات میں محکمہ تعلیم کے حالیہ اقدامات, کریکیولم اور محکمہ تعلیم کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں ایشین ڈولپمنٹ بینک کے تعاون سے جاری انگلش میڈیم اسکولز کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی.
اس موقع پر وزیر تعلیم سید سردار علی شاھ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سنگل نیشنل کریکیولم کا معاملا دراصل 2018 کی کہانی ہے کیونکہ یہ انکا الیکشن مینیفسٹو تھا. انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے دو ٹاسک فورسز بنائی گئی ہیں جو کہ اصل میں صوبائی سبجیکٹس ہیں. تعلیم اور سیاحت پر وفاقی حکومت کے ٹاسک فورس غیر آئینی ہیں. پاکستان ایک وفاق ہے اور یہاں صوبوں کی کثیرالجہتی اور مختلف ثقافتیں ہی دراصل ملک کے لیے خوبصورت وحدانیت کا مظہر ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کو اپنی تاریخی و ثقافتی پس منظر میں تعلیم دینی ہی, اور میں نے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود صاحب کو واضع کہہ دیا تھا کہ سندھی زبان پر سندھ کبھی سرینڈر نہیں کرے گا, ہم اردو سے بھی پیار کرتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو انکی مادری زبان کی تعلیم کے حق سے محروم نہیں کرینگی. وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ 1972 میں سندھی لازمی زبان پڑھانے کا قانون پاس ہوا اور آج تک بہت سارے پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھی پڑھانے سے نالاں ہیں.
سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سندھ سنگل نیشنل کریکیولم کو قبول نہیں کرتا, کیونکہ یہ ایک قسم کا نصابی مارشل لا ہے اور نصاب کا نفاذ نہیں ہوسکتا, انہوں نے کہا کہ ہم پھر بھی سنگل کریکیولم کے معاملے میں انگلش, سائنس اور میتھ کے مضامین پر غور کرسکتے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ نئے اساتذہ کی بھرتیوں کے بعد انکی تربیت کے لیے نامور عالمی اداروں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں, اس سلسلے میں کیمبرج سسٹم کو بھی آگے بڑھنا چاہیے اور اس سلسلے میں اپنی تکنیکی مہارت سے ہمیں مستفیض کریں.
وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے اس موقع پر موجود ایڈیشنل سیکریٹری کریکیولم ڈاکٹر فوزیہ خان کو کیمبرج وفد کے ساتھ الگ اجلاس بلانے کی ہدایت کی جس میں صوبے میں کریکیولم پر کی جانے والی نظرثانی اور دیگر معاملات پر تفصیلی گفت و شنید کی جائے گی .