Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی سیف سٹی : 1300 میں سے 891 کیمروں کی تنصیب مکمل

    کراچی سیف سٹی : 1300 میں سے 891 کیمروں کی تنصیب مکمل

    کراچی میں سیف سٹی منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں 1300 میں سے 891 کیمروں کی تنصیب مکمل کر لی گئی ہے۔ یہ بریفنگ انسپکٹر جنرل پولیس سندھ غلام نبی میمن کی زیرصدارت اجلاس میں دی گئی، جس میں منصوبے، ای-چالان اور پولیس ایمرجنسی رسپانس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیف سٹی کا پہلا مرحلہ تکمیل کے قریب ہے، جس کے بعد ایمرجنسی رسپانس وہیکل کو محض پانچ سیکنڈ میں پیغام موصول ہوگا۔ دوسرا مرحلہ رواں سال شروع کیا جائے گا۔ڈی آئی جی ٹریفک نے اجلاس کو بتایا کہ کراچی کے چند مقامات پر ای-چالان نظام تجرباتی طور پر نافذ کیا گیا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کے بعد یہ نظام شہر کی تمام شاہراہوں پر لاگو ہوگا۔آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا کہ سیف سٹی منصوبے کے تحت پولیس مددگار-15، شاہین فورس، سندھ پولیس ہائی وے پٹرول، اے وی ایل سی اور دیگر یونٹس کو مربوط کیا جائے گا، جبکہ اسٹریٹیجک مقامات پر ای وی آرز تعینات ہوں گے۔

    ان کے مطابق ای-چالان کے نفاذ کے بعد پولیس اور عوام کے درمیان براہِ راست رابطہ کم ہو جائے گا، اور منصوبے کے تحت ٹریفک اور جرائم کی نگرانی سندھ کے تمام شہروں میں ممکن ہو سکے گی۔اجلاس میں ڈی جی سندھ سیف سٹی اتھارٹی، این آر ٹی سی حکام، پولیس رینجز/یونٹس کے ڈی آئی جیز، ایس ایس پی اے وی ایل سی اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

    ٹرمپ کا نیو یارک گورنر کی ممدانی کی حمایت پر سخت ردعمل، فنڈز روکنے کی دھمکی

    دوحہ میں شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کی اہم ملاقات

  • کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونے کی  قیمت مستحکم

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونے کی قیمت مستحکم

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونے کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

    فی تولہ سونے کی قیمت 3لاکھ 86ہزار300 روپےپرمستحکم رہی جبکہ 10گرام سونا 3لاکھ31ہزار189 روپےپرمستحکم رہا،۔ سرمایہ کار مالیاتی منڈیوں میں پیدا ہونے والے خطرات کے پیشِ نظر اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے تیزی سے سونے کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔

    گزشتہ ایک سال کے دوران سونے کی قیمت میں تقریباً ایک تہائی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ مالیاتی ادارے گولڈ مین سیچز نے اپنی تازہ رپورٹ میں پیشگوئی کی ہے کہ اگر حالات اسی طرح غیر یقینی رہے تو سونے کی قیمت چار ہزار ڈالر فی اونس سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق، جاری عالمی تنازعات، معاشی بحران اور بڑھتے ہوئے خطرات نے سرمایہ کاروں کو روایتی اثاثوں سے ہٹ کر محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان حالات میں سونا سب سے محفوظ پناہ گاہ تصور کیا جا رہا ہے،بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت ساڑھے تین ہزار ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے-

  • اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے توقعات کے عین مطابق پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ فیصلہ پیر کے روز کیا گیا، گزشتہ مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس 30 جولائی 2025 کو منعقد ہوا تھا، جس میں بھی شرحِ سود 11 فیصد برقرار رکھی گئی تھی،اس وقت توانائی کی قیمتوں بالخصوص گیس ٹیرف میں غیر متوقع اضافے کے باعث افراطِ زر کا منظرنامہ مزید بگڑ گیا تھا۔

    ماہرین نے پہلے ہی پیش گوئی کی تھی کہ حالیہ سیلاب کے بعد مہنگائی میں اضافے کے خدشے کے پیشِ نظر اسٹیٹ بینک شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا72 فیصد شرکا نے یہی امکان ظاہر کیا تھا کہ پالیسی ریٹ برقرار رہے گا کیونکہ فصلوں کے نقصان اور سپلائی چین کے مسائل کے سبب غذائی افراطِ زر میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    مسلم ممالک اسرائیل کے خلاف مشترکہ آپریشن روم بنائیں،ایران

    ٹرمپ کی واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کی دھمکی

    پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں فتنۃ الخوارج کے 31 دہشتگرد ہلاک

  • شہر میں منافقت نہیں چلنے دوں گا،مرتضیٰ وہاب جماعت اسلامی پر برس پڑے

    شہر میں منافقت نہیں چلنے دوں گا،مرتضیٰ وہاب جماعت اسلامی پر برس پڑے

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بلدیہ عظمیٰ کراچی میں اپوزیشن جماعتِ اسلامی کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس شہر میں منافقت برداشت نہیں کریں گے اور ضرورت پڑی تو سخت زبان میں جواب دیں گے۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات سے شہر کا تاثر خراب ہو رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ حب کینال بہہ گئی ہے۔ اُن کے مطابق پانی کے دباؤ کے باعث حب کینال کا 20 میٹر حصہ متاثر ہوا تھا جس کی مرمت 48 گھنٹوں کے اندر کر دی گئی اور حب کینال سے پانی کی سپلائی گزشتہ روز بحال کر دی گئی تھی۔مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف پر غلط بیانی کی جاتی ہے جس سے شہر کا تاثر خراب ہوتا ہے سیاست ضرور کریں لیکن لوگوں کو گمراہ نہ کریں۔ پیپلز پارٹی نے نہ صرف دعوے کیے ہیں بلکہ عملی طور پر کام بھی شروع کیا ہے اور وہ کام دکھائیں گے بھی۔ شاہراہِ بھٹو کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا: پہلا حصہ قیوم آباد سے شاہ فیصل کالونی تک، دوسرا شاہ فیصل سے قائد آباد تک (جہاں ٹریفک رواں دواں ہے اور روزانہ تقریباً 11 ہزار گاڑیاں گزر رہی ہیں) اور تیسرا قائد آباد سے کاٹھور تک جو زیر تعمیر ہے۔ زیرِ تعمیر حصے کے 150 تا 200 میٹر کا حصہ متاثر ہوا اور اس پر کام جاری ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے طنزاً کہا کہ ہمارے ہاں ہر شخص انجینئر بن جاتا ہے اور کچھ لوگ شرارتاً وہاں پہنچ گئے تھے۔انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ "جلال پور پیروالا، ملتان میں بھی موٹروے کا حصہ پانی کے دباؤ کی وجہ سے بہہ گیا” مطلب یہ کہ بعض واقعات قدرتی یا تکنیکی اسباب کی وجہ سے ہوتے ہیں، مگر سیاسی پروپیگنڈہ کرنا درست نہیں۔

    مرتضیٰ وہاب مزید بولے کہ یہ جنگ پیپلز پارٹی کی ذاتی جنگ نہیں بلکہ شہر اور صوبے کے مفاد کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی ان کے جماعتی بھائی کہتے تھے کہ اختیارات اور وسائل نہیں، جس پر مرتضیٰ وہاب نے ڈپٹی میئر سلمان مراد سے کہا کہ "انہیں 27 ارب روپے دے دیں”۔ اُنھوں نے بتایا کہ بعد ازاں بعض حلقوں نے اعتراف کیا کہ پیسے زیادہ تر تنخواہوں پر خرچ ہو جاتے ہیں، مگر پھر بھی کام کا آغاز کیا گیا۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وہ پہلے خاموش رہے لیکن اب خاموشی نہیں برتنا چاہتے اور جماعتِ اسلامی کو بےنقاب کریں گے۔ "یہ میرے شہر کا معاملہ ہے، شہر میں منافقت نہیں چل سکتی” میئر نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے بدلے ہوئے دور میں خود شہر کی سڑکوں کو کمرشلائز کیا تھا اور اسی وجہ سے آج سیوریج سمیت متعدد انفراسٹرکچر مسائل سامنے ہیں۔ اُن کے مطابق 2003 میں شہر کے ماسٹر پلان میں جو تبدیلیاں کی گئی وہی مسائل پیدا کرنے کی وجہ بنیں۔ مزید کہا گیا کہ جماعتِ اسلامی نے ماضی میں شہر کی شاہراہوں کو کمرشلائز کرنے کی اجازت دی تھی۔

    بلدیہ کے خلاف جماعتِ اسلامی کی طرف سے کیے گئے مقدمات اور پارکس کو کمرشل کرنے کے الزامات کے بارے میں میئر نے دفاع کیا کہ پہلے شہر کے کئی پارک "چرسیوں کی آماجگاہ” بنے ہوئے تھے اور وہاں غیر اخلاقی سرگرمیاں ہوتی تھیں، اس لیے کے ایم سی نے پارکس میں کھیل اور تفریحی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ کیا جو عوامی مفاد میں تھا۔ مثال کے طور پر باغِ ابنِ قیسم بند پڑا تھا، مگر اب وہاں کھیل کود کی سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں اور پارک بحال ہو گیا ہے۔میئر نے مزید کہا کہ بعض ٹاؤن چیئرمینز نے پارکوں کو غیر مناسب طریقے سے دیگر مقاصد کے لیے دے دیا "ایک ٹاؤن چیئرمین نے پارک کو کبڈی والوں کے حوالے کیا، ایک نے پارک یونیورسٹی کو دے دیا” اس طرح کے فیصلوں پر بھی سخت تنقید کی گئی۔مرتضیٰ وہاب نے اپیل کی کہ سیاستدان منفی بیانی اور الزام تراشی سے باہر نکلیں اور مل کر شہر کے لیے کام کریں۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ عام طور پر پریس کانفرنسز صرف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کرتے ہیں، مگر جماعتِ اسلامی کے مستقل اعتراضات اور تنقید کی وجہ سے اُنھوں نے جواب دینا ضروری سمجھا۔ آخر میں انہوں نے جماعتِ اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ لاہور میں ہیں اور حقائق معلوم نہیں تو آئیں، وہ خود اُنہیں حقائق بتا دیں گے "نعیم بھائی میرے بڑے ہیں، آپ بولیں تو آپ کے پاس آ جاتا ہوں”۔

  • عارف علوی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری

    عارف علوی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری

    لاہور کی سیشن کورٹ نے سابق صدر عارف علوی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

    ایڈیشنل سیشن جج شفقت شہباز راجہ نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی غیر قانونی اقدام ہوا ہے تو ایف آئی اے قانون کے مطابق کارروائی کرے، عدالت نے ایف آئی اے کو معاملے پر ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی۔

    یہ درخواست شہری شہزادہ عدنان کی جانب سے وکیل مدثر چوہدری ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی تھی،درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ سابق صدر عارف علوی نے بیرون ملک تقریر کے دوران توہین آمیز الفاظ استعمال کیے، جس پر ایف آئی اے کو مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی گئی مگر کارروائی نہیں کی گئی۔

    عزیر بلوچ کے خلاف 2 مقدمات کا فیصلہ مؤخر

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ عارف علوی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائےسابق صدر نے گستاخانہ الفاظ استعمال کیے اور اس حوالے سے موجود ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے، تاہم پولیس کو درخواست دینے کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

    قطر: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب سے ملاقات

  • عزیر بلوچ کے خلاف 2 مقدمات کا فیصلہ مؤخر

    عزیر بلوچ کے خلاف 2 مقدمات کا فیصلہ مؤخر

    عزیر بلوچ کے خلاف 2 مقدمات کا فیصلہ مؤخر

    جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی اور سہولت کاری کے گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ کو ملزمان کو سہولت فراہم کرنے کے 2 مقدمات کا فیصلہ موخر کردیا،ملزم عزیر بلوچ کے خلاف مقدمات کا فیصلہ اس ماہ کے آخر میں سنایا جائے گا۔

    پولیس کے مطابق ملزمان شمس الدین اور عبد الغفار بگٹی نے اقبالی بیان میں کہا تھا کہ عزیر بلوچ اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ نے اسلحہ کی ترسیل میں سہولت فراہم کی۔ ملزم کے بیان پر عزیر بلوچ کیخلاف دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ملزم سے بارود اور گولیاں برآمد کی گئیں تھی۔ ملزمان کیخلاف تھانہ سی آئی ڈی میں 2012 میں درج کیا گیا تھا۔

    قطر: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب سے ملاقات

    گزشتہ،ماہ،کراچی کی عدالت نے غیر قانونی اسلحہ برآمدگی اور سہولت کاری کے مقدمے میں لیاری گینگ کے سرغنہ عزیر جان بلوچ کو بری کرتے ہوئے ریلیز آرڈر جاری کئےتھے، اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ ملزم اگر کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کر دیا جائے،عدالت نے استغاثہ کی جانب سے ناکافی شواہد کی بنیاد پر عزیر جان بلوچ کو غیر قانونی اسلحہ برآمدگی کے مقدمے سے بری کیا-

    غزہ سے اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں

  • سندھ میں سیلابی صورتحال: پیپلز پارٹی نے سیاسی سرگرمیاں معطل کردیں

    سندھ میں سیلابی صورتحال: پیپلز پارٹی نے سیاسی سرگرمیاں معطل کردیں

    پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    یہ اعلان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے اتوار کے روز ایک بیان میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دریاؤں میں پانی کی صورتحال معمول پر آنے تک سیاسی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔نثار کھوڑو نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ وہ سیلاب سے متاثرہ افراد، خصوصاً دریائی علاقوں کے متاثرین کی مدد کریں، ریلیف کیمپ قائم کریں اور ہر ممکن تعاون فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما متاثرین کی بحالی کے لیے سرگرم کردار ادا کریں، حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے مطابق حکومت مکمل طور پر الرٹ ہے اور اُمید ہے کہ سیلابی ریلا محفوظ گزر جائے گا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل سندھ کے سینیئر وزیر و وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا تھا کہ حکومت سندھ تمام بیراجوں کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے، گڈو بیراج پر اونچے اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    برلن میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے خلاف 20 ہزار افراد کا احتجاج

    اسحاق ڈار کی دوحہ میں اہم سفارتی ملاقاتیں، اسرائیلی حملوں کی مذمت

    ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے 500 ملازمین فارغ کردیے

    موجودہ حکومت بھی پالیسی میں تبدیلی نہیں لا سکی،مولانا فضل الرحمٰن

  • کراچی ڈیفنس میں پولیس موبائل پر فائرنگ، 11 خول برآمد

    کراچی ڈیفنس میں پولیس موبائل پر فائرنگ، 11 خول برآمد

    کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خیابانِ بخاری پر پولیس موبائل پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ واقعے کی جگہ سے گولیوں کے 11 خول برآمد ہوئے ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق پولیس موبائل گشت پر تھی جب پیچھے سے ایک پیدل شخص نے فائرنگ کی۔ واقعے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) جنوبی، مہزور علی کا کہنا ہے کہ ابتدائی شبہ ہے کہ ملزم پہلے سے موقع پر چھپا ہوا تھا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    نیپال کی نئی عبوری وزیراعظم سشیلا کارکی کا کرپشن کے خاتمے کا وعدہ

    سندھ میں سیلابی صورتحال، 1 لاکھ 63 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل

    اسرائیل عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، اسحٰق ڈار

    امریکا اور چین کے درمیان میڈرڈ میں اہم تجارتی مذاکرات شروع

  • سندھ میں سیلابی صورتحال، 1 لاکھ 63 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل

    سندھ میں سیلابی صورتحال، 1 لاکھ 63 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل

    سندھ کے سینیئر وزیر اور وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ بیراجوں کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ گڈو بیراج پر اونچے درجے، سکھر بیراج پر درمیانے درجے جبکہ کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔صوبائی وزیر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کچے کے علاقوں سے 5 ہزار 269 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جس کے بعد اب تک نقل مکانی کرنے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 63 ہزار 364 ہوچکی ہے۔ اس دوران 252 متاثرین کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا جہاں اس وقت 469 افراد مقیم ہیں۔

    شرجیل میمن نے بتایا کہ حکومت سندھ نے 177 فکسڈ اور موبائل ہیلتھ سائٹس قائم کی ہیں۔ ان مراکز پر گزشتہ 24 گھنٹے میں 6 ہزار 596 افراد کو جبکہ مجموعی طور پر 84 ہزار 118 مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں 11 ہزار 569 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اب تک نقل مکانی کرنے والے مویشیوں کی تعداد 4 لاکھ 38 ہزار 835 ہوچکی ہے۔ اسی دوران 51 ہزار 308 مویشیوں کو ویکسین اور علاج فراہم کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 12 لاکھ 32 ہزار 223 مویشیوں کا علاج اور ویکسینیشن کی جاچکی ہے۔

    اسرائیل عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، اسحٰق ڈار

    امریکا اور چین کے درمیان میڈرڈ میں اہم تجارتی مذاکرات شروع

  • اس وقت تک ہماری تیاریاں پوری ہیں، اب تک کا سیلابی ریلہ خیر خیریت سے گزر رہا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    اس وقت تک ہماری تیاریاں پوری ہیں، اب تک کا سیلابی ریلہ خیر خیریت سے گزر رہا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کشمور کا دورہ کرکے سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے بھی گڈو اور سکھر بیراج کا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیا تھا، انہوں نے اس وقت وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ زرعی ایمرجنسی لگائیں، میں وزیراعظم کا ایمرجنسی لگانے پر شکرگزار ہوں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے وفاق سے بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے متاثرین کو امداد دینے کا بھی کہا تھا، اس کے علاوہ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے ریلیف کے کاموں میں حصہ ڈالنے کی اپیل کرنے کی تجویز دی تھی کیوں کہ عالمی طور پر ماحولیاتی بحران کی ذمہ داری پاکستان پر نہیں ہے لیکن متاثر ہم ہورہے ہیں،وفاقی حکومت کو چاہیے کہ فوراً بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے سیلاب متاثرین کی امداد اور اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے ریلیف کی اپیل کرے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ گڈوبیراج کی گنجائش 11 لاکھ کیوسک ہے اور یہاں سے اب تک پانی کی سطح ساڑھے 5 لاکھ کیوسک تک ہے، ہم گڈو بیراج سے چھ ساڑھے چھ لاکھ تک پانی گزار سکتے ہیں، تمام بندوں کے حساس مقامات پر مشینری موجود ہے، سکھربیراج سے ساڑھے6سے7لاکھ کیوسک پانی گزر رہا ہے، امید ہے کہ کامیابی سے یہ پانی سکھر بیراج اور آگے سے گزار لیں گے۔

    گڈو بیراج پر اونچے، سکھر پر درمیانے درجے کا سیلاب

    مراد علی شاہ نے کہا کہ انشااللہ ہم خوش اسلوبی سے پانی سکھر بیراج سے گزاریں گے،اب تک دریا کے آس پاس کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے، کشمور میں 30 ہزار لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے، اس وقت تک اپنی تیاریوں سے مطمئن ہیں 2010 سے اب تک دریا کے آس پاس بندوں کو اونچا کیا ہے،انہوں نے سندھ کے لوگوں، بالخصوص کچے کے علاقے کی آبادی اور متعلقہ سرکاری محکموں کا شکریہ ادا کیا اور سیلاب کا دلیری سے مقابلہ کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا،ہماری پہلی ترجیح لوگوں کی جان بچانا ہے، الحمداللہ زیریں علاقوں میں اب تک کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

    سیلاب کے دوران ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں،محمد اورنگزیب

    مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت تک ہماری تیاریاں پوری ہیں، اللہ نے کرم کیا ہوا ہے، اب تک کا سیلابی ریلہ خیر خیریت سے گزر رہا ہے، جام خان شورو اور ان کی ٹیم نے دن رات کام کیا ہے، کابینہ کے وزرا، ارکان اسمبلی اور انتظامیہ کو شاباش دیتا ہوں،وزیراعلیٰ سندھ نے فلڈ فائٹنگ کے عملے کو 24گھنٹے موجود رہنے اور وزیراعلیٰ کی ضلعی انتظامیہ کو عوامی تعاون کے ساتھ اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کردی، عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، سندھ کے لوگ مضبوط ہیں، سیلابی چیلنج سے نکل آئیں گے۔