کراچی کے علاقے مواچھ موڑ دھماکے میں 13 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعے میں ملوث دہشتگردوں کے سر کی قیمت 50لاکھ روپے مقرر کر دی گئی۔ذرائع کے مطابق دھماکے میں ملوث ملزمان کی تلاش کے لیے ان کے سر کی قیمت مقرر کر دی گئی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری اورانعام سے متعلق اشتہارات دیئے جائیں گے۔
تفتیشی اداروں نے مواچھ موڑ کیس میں مزید سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی ہیں۔ ویڈیو میں گاڑی کو مختلف سڑکوں پرجاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ایک سڑک پر شہزور گاڑی جیسے ہی آگے گئی تو زور دار دھماکا ہوا۔ گاڑی کے پیچھے موٹرسائیکل پر3مبینہ دہشتگردوں کو جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تفتیشی اداروں کی جانب سے کیس پر کام مزید تیز کردیا گیا ہے اور مختلف پہلوئوں سے تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
پولیس نے بلدیہ ٹائون کے مواچھ گوٹھ میں دھماکے کا مقدمہ نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف درج کیا ہے، مقدمہ معراج محمد خان کی مدعیت میں تھانہ مدینہ کالونی میں درج کیا گیا ، مقدمے میں دہشت گردی ، ایکسپلوزوایکٹ، قتل سمیت دیگر دفعات شامل کی گئیں ہیں۔یاد رہے مواچھ گوٹھ میں منی ٹرک پر کریکر حملے میں دو بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، ایس پی بلدیہ نے بتایا تھا کہ گاڑی میں بیس سے پچیس افراد سوار تھے،خواتین اوربچوں کی تعداد زیادہ تھی، متاثرہ خاندان لانڈھی شیرپائو کالونی کا رہائشی ہے جو کہ شادی کی تقریب سے واپس آرہے تھے کہ بلدیہ مواچھ موڑپر موٹر سائیکل سوار نے کریکر پھینکا، واقعے کے بعد منی ٹرک کے ڈرائیورکوحراست میں لے لیا ہے۔
Category: کراچی
-

کراچی مواچھ گوٹھ دھماکے کے دہشتگردوں کے سر کی قیمت 50 لاکھ مقرر
-

بلاول کو جھوٹ بولتے ہوئے تھوڑی سی شرم کر لینی چاہیے : حلیم عادل شیخ
اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ بلاول زرداری کے لیے کہوں گا کہ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے، بلاول کو جھوٹ بولتے ہوئے تھوڑی سی حیائ اور شرم آنی چاہیے،1100 ارب میں سوا 600 ارب وفاق اور ساڑھے 400 ارب سندھ حکومت نے خرچ کرنے تھے، کراچی کے تین بڑے نالوں پر وفاق کا اس پیکیج کے تحت کام مکمل ہوچکا، گرین لائین کی بسیں اکتوبر میں کراچی کے روڈوں پر نظر آئیں گی، کے فور پر اس پیکیج کے تحت وفاق کام کررہا ہے، کے سی آر، ٹرمینل پر کام بھی شروع ہوچکا ہے، بلاول ہاؤس میں جب شعلے جل رہے تھے تو اسے بجھانے بھی وزیراعظم کی فائربریگیڈز آئی تھی، ان کے ٹوپی ڈرامے شروع ہوگئے ہیں،بلاول کی حکومت نے 13 سال میں ایک بس شہر کو نہیں دی، ایک بوند پانی بھی بلاول کی حکومت کراچی کو نہیں دے سکی، بلاول کی حکومت نے کراچی کو دس بدترین شہروں میں دھکیل دیا ہے، 13 سال بعد ان کی پھڑتیاں اور دوڑیں لگ چکی ہیں،کے ایم سی، ڈیم ایم سیز کا پیسہ جعلی اکاؤنٹس، یونس اکاؤنٹس، بلاول ہاؤس اکاؤنٹس میں چلا جائے گا، ایک رجیکٹڈ شخص کو ایڈمنسٹریٹر لگادیا وہ ترجمان بھی ہیں وزیر بھی ہیں، ان کا فارمولا ہے صرف مال کھپے، گٹروں، کچرے کی صفائی کا کام بھی شہری حکومت سے لیکر وزیراعلیٰ کے ماتحت کیا ہوا ہے، کراچی کی گٹروں پر اب وزیراعلیٰ کے ساتھ بلاول کی بھی تصاویر لگیں گی،ًاس شہر پر پی پی نے ظلم کیے تاجروں شہروں سے بھتے لیے گئے، لاڑکانہ کو ایڈز لگانے والے اب کراچی کو ایڈز لگارہے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہونے دیں گے سندھ حکومت کو کچرے، گٹروں سے بھی پیسہ کھپے،ہوا پر سندھ حکومت کا کنٹرول نہیں ورنہ وہ بھی بند کرکے پیسے لیتے، روینیو دینے والے شہر پر روینیو خرچ نہیں ہوتا۔
-

جس معاشرے میں کرپشن پروان چڑھتی ہے وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا : محمد شاہد
نیب کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد شاہد نے کہا ہے کہ کرپشن کے حوالے سے قائد اعظم محمد علی جناح کا قول ہے کہ جس معاشرے میں کرپشن پروان چڑھتی ہیوہ ملک ترقی نہیں کرسکتا ، وہاں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی رک جاتی ہے ،اگرہم بحیثیت مسلمان حضور اکرم ؓ کی تعلیمات پر عمل کرتے تو آج ہمارے معاشرے میں کرپشن کا وجود تک نہ ہوتا ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ بوائے اسکاوٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام صوبائی ہیڈ کوارٹرز پر محمد صدیق میمن اسکاوٹس آڈیٹوریم میں "معاشرے سے کرپشن کے خاتمہ میں نوجوانوں کا کردار ” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے بہت سے ممالک نے ہماری ترقی سے استفعادہ حاصل کیا اور وہ اس وقت دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شامل تھے جبکہ آج کرپشن کے باعث ہمارا ملک برباد ہوگیا ، آج ترقیاتی بجٹ میں 20سے 40فیصد خردبرد کرلیا جاتا ہے جس کے باعث ہمارا ملک ترقی کے سفر میں بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔
اقوام متحدہ کی کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے قائم کردہ ایپکس انٹی کرپشن آرگنائزیشن میں نیب پاکستان کی نمائندگی کررہا ہے ۔ اس موقع پر صوبائی اسکاوٹس سیکریٹری سید اختر میر نے نیب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی کردار سازی میں نیب بھی اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے جبکہ اسکاوٹنگ میں بچوں کی کردار سازی کے حوالے سے بچوں کی تربیت کیلئے روحانی ، جسمانی ، ذہنی اور سماجی نشوونما سے متعلق چار پروگرام ہیں جن کے ذریعے اسکاوٹنگ میں بچوں کی تربیت کی جاتی ہے ۔
تقریب میں سینئر اسکاوٹ لیڈر ز محمد طاہر شیخ ،عبد الحئی خان ، فرقان احمد یوسفی ،الیاس میمن ، محمد جاوید ، انور علی بھٹی ، سید عبد الباسط اور دیگر کے علاوہ بوائز اور گرلز اسکاوٹس کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔سیمینار میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ثاقب صدیق نے حاضرین کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب دیئے ۔ آخر میں صوبائی سیکریٹری سید اختر میر،فرقان احمد یوسفی اور محمد طاہر شیخ نے نیب کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد شاہد اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ثاقب صدیق کواجرک، اسکارف اور شیلڈ پیش کیں جبکہ سیمینار کے شرکا میں اسناد تقسیم کی گئیں ۔ -

کراچی پیپلزپارٹی کا شہر بن چکا ہے، کنٹومنٹ سمیت تمام الیکشن جیتیں گے، سیدہ تحسین عابدی
پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور تجزیہ کار سیدہ تحسین عابدی نے کہا ہے کہ کراچی کا طرز سیاست بدل چکا ہے ہمارا چیئرمین کراچی کی تقدیر بدلنے میدان میں آچکے ہیں۔ کراچی کی گلیوں اور ایمپریس مارکیٹ سمیت کراچی میں عوام کے مسائل جاننے اور حل کرنے کے لئے چیئرمین بلاول بھٹو کی آمد اور شجرکاری مہم میں حصہ انکی کراچی کے عوام سے محبت کا عکاس ہے۔
کراچی پیپلزپارٹی کا شہر بن چکا ہے۔ کنٹومنٹ سمیت تمام الیکشن جیتیں گے۔ سیدہ تحسین عابدی رہنما پاکستان پیپلزپارٹی ، چیئرمین بلاول بھٹو، فریال تالپور ، نثار کھوڑو، مراد علی شاہوقار مہدی اور پی پی پی کی اعلی قیادت کے ہمراہ اجلاس میں شرکت۔ پیپلزپارٹی دلوں پر حکومت کرتی ہے۔
شہری علاقوں کے عوام پی پی پی کا ھصہ بن رہے ہیں ۔ سیدہ تحسین عابدی نے کہا کہ عوامی لیڈر نے کراچی کی گلی گلی جا نا شروع کردیا ہے عوام میں گھل مل رہے ہیں ۔کراچی کے دن بھی پیپلزپارٹی پھیرنے والی ہے۔ کامیابی کام سے ملتی ہے عودوں اور دوووں سے نہیں ۔ سیدہ تحسین عابدی کا کنٹومنٹ ایریاز میں انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے بڑی تعداد میں علاقہ عوام اور پی پی پی میں شامل ہونے والے ساتھیوں کی بڑی تعدداد کے ہمراہ گھر گھر اور کیمپوں پر جا کر مہم چلائی۔ انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت شہری اور دیہی کی تفریق کی گئی لیکن اب عوان جاگ چکے ہیں وہ کسی کارڈ پر نہیں کھیلیں گے۔ کنتومنٹ انتخابات میں تیر پر مہر لگے گی۔ بلاول بھٹو کی سوچ ملک بھر اور بالخصوص کراچی اور سندھ کے عوام کو ترقی یادتہ دیکھنے کی ہے اور یہی انکی کامیابی کی کنجی ہے۔
-

پورٹ اینڈ شپنگ انتظامیہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا
صوبہ سندھ کے داراؒھوکمت کراچی کے ساحل پر ایک ماہ سے پھنسے بحری جہاز کے معاملے پر پورٹ اینڈ شپنگ انتظامیہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈی جی پورٹ اینڈ شپنگ نے کہا ہے کہ اب سیلویج کمپنی کو جہاز نکالنے کے لیے 2 سے 3 دن کا وقت دیا جائے گا ، اگر کمپنی آئندہ تین روز تک بھی جہاز نہ نکال سکی تو پھر جہاز کے مالک کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا اس کے علاوہ کمپنی کے پلان کے اجازت نامے کی بھی تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ بحری جہاز کی مالیت 2 ملین ڈالر کے قریب ہے، جس کو ریت سے نکالنے کے لیے غیر ملکی ایکسپرٹ نے ایک ملین ڈالر کا تقاضا کیا لیکن جہاز کے مالک نے ناتجربہ کار کمپنی سے رجوع کر لیا اور جہاز کے مالک نے شپنگ ایجنٹ کے ذریعے سی میکس کو ہائر کیا جب کہ سی میکس کے پاس اس طرح کے جہاز نکالنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے ، جس کی وجہ سے سی میکس نے بھی جہاز کو نکالنے کے لیے ایان شپنگ کو ٹھیکہ دے دیا ، جس کا تعلق گڈانی سے ہے جہاں ایان کمپنی جہاز توڑنے کا کام کرتی ہے اور ریت سے جہاز نکالنے کا اس کے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے۔
(جاری ہے)ذرائع کے مطابق جہاز کو نکالنے میں ناکامی پر دونوں کمپنیاں اب نا تجربہ کاری کی وجہ سے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کر رہی ہیں، گزشتہ روز بھی جہاز کو نکالنے کے لیے پرانی رسی استعمال کی گئی جو ٹوٹ گئی حالاں کہ اگر گزشتہ روز ہی دو مضبوط اور نئے رسے استعمال کیے جاتے تو جہاز نکالنے میں کامیابی ہونے کے امکانات واضح تھے۔ خیال رہے کہ جہاز کو کراچی کے سی ویو پر پھنسے ہوئے ایک ماہ 4 گزر چکے ہیں، جہاز کو نکالنے کے آپریشن میں ایک بار پھر ناکامی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب جہاز کو 800 میٹر تک سمندر میں کھینچا گیا اور اس نے لہروں پر تیرنا شروع کردیا لیکن اسے بروقت ٹگ بوٹ سے منسلک نہ کیا جاسکا کہ اس دوران جہاز سے ٹگ بوٹ تک باندھا گیا رسہ ٹوٹ گیا اور جہاز دوبارہ ساحل پر آکر لگ گیا ۔
-

شہری سندھ کے عوام کو سول نافرمانی کی طرف دھکیلا جارہا ہے، ایم کیو ایم پاکستان
متحدہ قومی پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ شہری سندھ کے عوام کو مزاحمت اور سول نافرمانی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے موجودہ متنازع مردم شماری کو جواز بنا کر صوبے میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے معذرت کرلی ہے جب کہ اس متنازع مردم شماری کا سب سے بڑا فائدہ خود پیپلز پارٹی کو ہوا ہے۔ 2017 کی مردم شماری میں شہری سندھ بالخصوص کراچی کے ساتھ تاریخی دھوکہ ہوا ہے، بلاول بھٹو زرداری بتائیں کہ پیپلز پارٹی کی نام نہاد جمہوریت کے پچھلے ادوار میں ایسی کون سی مجبوریاں تھیں جن کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے کبھی ملک میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں کروایا۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ جب بھی ملک میں آتی ہے تو بنیادی جمہوریت ختم ہوجاتی ہے۔
کنوینر ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ ملک میں 1998 کی مردم شماری کی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں۔ شہری سندھ کے مسائل کا حل مضبوط بلدیاتی نظام میں ہی مضمر ہے، سندھ کی بدقسمتی ہے کہ صوبے میں تاریخ کی بدترین کرپٹ حکومت قابض ہے۔ کتوں کے کاٹنے کے واقعات سے لے کر جرائم کے واقعات میں سندھ سب سے آگے ہے۔ سندھ میں وزیروں سے لے کر سرکاری افسران کرپشن میں گرفتار ہورہے ہیں اور معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹنے والے ایسے وزیروں اور افسران کو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اپنے سروں کا تاج سمجھتی ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنی کراچی دشمنی کو چھپانے کیلئے رونا روتی ہے کہ ایم کیو ایم کراچی میں انہیں کام نہیں کرنے دیتی تو کیا ایم کیو ایم نے انہیں لاڑکانہ، دادو اور باقی سندھ میں بھی کام کرنے سے روکا ہے؟ کیا پیپلز پارٹی نے لاڑکانہ اور دادو کے عوام کو بنیادی حقوق دے دیئے ہیں؟ کورونا وبا پر ایم کیو ایم پاکستان حکومت کے ساتھ کھڑی رہی ہے مگر سندھ حکومت کورونا کا بہانہ بناکر شہری سندھ کا معاشی اور تعلیمی قتل عام کر رہی ہے۔ پیپلزپارٹی پاکستان کے معاشی حب کو پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے جو کہ کھلی ملک دشمنی ہے۔رہنماایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ شہری سندھ کے ساتھ بڑھتی ہوئی زیادتیوں کے خلاف ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، مسلسل احتجاج کیا مگر اب ہمارا صبر جواب دے رہا ہے، سندھ کے شہری عوام کو مزاحمت پر مجبور کیا جارہا ہے اور سول نافرمانی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ جب انتظامی بنیادوں پر پنجاب کی تقسیم کی بات کی جاسکتی ہے تو پھر سندھ کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟، حکمران اس موضوع پر سیاست اور منافقت کرنے کے بجائے اصولی موقف اختیار کریں کیونکہ سندھ میں انتظامی بنیادوں پر صوبہ شہری سندھ کے عوام کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
-

کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کی برق رفتار تکمیل کیلئے اقدامات کیے جائیں، اسد عمر
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کی برق رفتار تکمیل کیلئے اقدامات کیے جائیں۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت کراچی سرکلر ریل اور ریلویز فریٹ کاریڈور کا اجلاس ہوا جس میں اسد عمر نے کراچی سرکلر ریلوے کی سنگ بنیاد کیلئے ستمبر تک تمام انتظامات مکمل کیے جانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے کے 43 کلومیٹر ٹریک پر کام جاری ہے ، کراچی سرکلر ریلوے کے لیے ماحول دوست الیکٹرک ٹرین چلے گی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں کیماڑی سے پیپری مارشلنگ یارڈ تک 50 کلومیٹر طویل فریٹ ٹرین منصوبے پر بھی بات چیت ہوئی۔
-

انٹر کے کرونا متاثرہ امیدواروں کا امتحان
کرونا وائرس سے متاثرہ انٹر کے طلبہ سے آج بورڈ آفس کے امتحانی مرکز میں امتحان لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق خبر پر امتحانی بورڈ نے قدم اٹھاتے ہوئے کووِڈ متاثرہ امیدوارں سے آج بورڈ آفس کے امتحانی مرکز میں امتحان لیا گیا۔
امتحان کے دوران ایس او پیز کے تحت امیدواروں کا خاص خیال رکھا گیا، انٹر بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر سعید الدین نے امتحانی مرکز کا معائنہ بھی کیا۔
انٹر کے سالانہ امتحانات کے آغاز پر پہلے مرحلے میں کووِڈ مثبت کیس والے امیدوار امتحانات میں شر کت نہیں کر سکے تھے، جس کے بعد انٹر بورڈ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے جولائی میں سوال پر دوسرے مرحلے میں امتحانات میں شرکت کی اجازت کووِڈ نیگیٹو سرٹیفکیٹ سے مشروط کی تھی۔
ایسے امیدواروں کے لیے آج انٹر بورڈ آفس میں ایس او پیز کے تحت سینٹر بنایا گیا تھا، جہاں ان سے انٹر کا امتحان لیا گیا۔
-

کراچی مواچھ گوٹھ دھماکا،دہشتگردوں کے سر کی قیمت 50 لاکھ مقرر
کراچی کے علاقے مواچھ موڑ دھماکے میں 13 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعے میں ملوث دہشتگردوں کے سر کی قیمت 50لاکھ روپے مقرر کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق دھماکے میں ملوث ملزمان کی تلاش کے لیے ان کے سر کی قیمت مقرر کر دی گئی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری اورانعام سےمتعلق اشتہارات دیئےجائیں گے۔
تفتیشی اداروں نے مواچھ موڑ کیس میں مزید سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی ہیں۔ ویڈیو میں گاڑی کو مختلف سڑکوں پرجاتے دیکھا جاسکتا ہے۔
ایک سڑک پر شہزور گاڑی جیسے ہی آگے گئی تو زور دار دھماکا ہوا۔ گاڑی کے پیچھےموٹرسائیکل پر3مبینہ دہشتگردوں کو جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
تفتیشی اداروں کی جانب سے کیس پر کام مزید تیز کردیا گیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
پولیس نے بلدیہ ٹاؤن کے مواچھ گوٹھ میں دھماکے کا مقدمہ نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف درج کیا ہے، مقدمہ معراج محمد خان کی مدعیت میں تھانہ مدینہ کالونی میں درج کیا گیا ، مقدمے میں دہشت گردی ، ایکسپلوزوایکٹ، قتل سمیت دیگر دفعات شامل کی گئیں ہیں۔
یاد رہے مواچھ گوٹھ میں منی ٹرک پر کریکر حملے میں دو بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، ایس پی بلدیہ نے بتایا تھا کہ گاڑی میں بیس سے پچیس افراد سوار تھے.
خواتین اوربچوں کی تعداد زیادہ تھی، متاثرہ خاندان لانڈھی شیرپاؤ کالونی کا رہائشی ہے جو کہ شادی کی تقریب سےواپس آرہےتھے کہ بلدیہ مواچھ موڑپر موٹر سائیکل سوار نےکریکر پھینکا، واقعے کے بعد منی ٹرک کےڈرائیورکوحراست میں لے لیا ہے۔
-

سندھ میں مختلف محکموں میں فوتی کوٹے پر 309 ملازمتوں کی منظوری
سندھ میں مختلف محکموں میں فوتی کوٹے پر 309 ملازمتوں کی منظوری
چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت فوتی کوٹا پر عملدرآمد کے متعلق اجلاس۔
سال 2019 سے اب تک فوتی کوٹے پر 6522 ملازمتوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں محکمہ صحت میں 50، روینیو میں 12 اور محکمہ بلدیات میں 29 ملازمتوں کی منظوری دی گئی
اجلاس میں اسکول ایجوکیشن میں 129، ورکس سروسز میں 10 اور محکمہ ایکسائیز میں 3 ملازمتوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں محکمہ خوراک میں 7، کالج ایجوکیشن میں 6، پاپولیشن میں 6، کوآپریٹو میں 3 ملازمتوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ نے تمام سیکریٹریز کو فوتی کوٹا درخواستوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت
چیف سیکریٹری سندھ نے تمام ضلعی ڈپٹی کمشنر کو ڈی آر سی اجلاس بلانے کی ہدایت
کمیٹی نے جو کیس پہلے منظور کئے ان کی تنخواہیں جاری کی جائیں.