وزیر اعلی سندھ کی معاون خصوصی برائے انفارمیشن سائنس وٹیکنالوجی تنزیلہ ام حبیبہ نے کہا ہے کہ واقعہ کربلا ہمیں ہمت و جرات سے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کا درس دیتا ہے، حضرت امام حسین نے دین کی سربلندی کی خاطر اپنی اور اپنے پیاروں کی قربانی دی لیکن باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے کہا رہتی دنیا تک حسین مظلومیت جبکہ یزید ظلم و جبر کی شناخت بن چکا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایڈمنسٹریٹر ماتلی زارا زاہد کے ہمراہ ماتلی شہر کی مختلف امام بارگاہوں اور مجالس کے دورے کے موقع پر منتظمین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کورونا وباسے متعلق حکومت سندھ کی ایس او پیز اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔ انہوں نے امام بارگاہوں اور مجالس میں ایس او پیز اور حفاظتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے منتظمین کی تعریف کی اور انھیں سندھ حکومت کی جانب سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
Category: کراچی
-

وزیر اعلی سندھ کی معاون خصوصی کا شہر کی مختلف امام بارگاہوں و مجالس کا دورہ
-

مینارِ پاکستان واقعہ پر بختاور بھٹو حکومت پر برس پڑیں
سابق وزیرِاعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اورسابق صدر آصف زرداری کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے مینارِ پاکستان میں خاتون ٹک ٹاکر سے دست درازی کے خوفناک واقعے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں بختاور بھٹو زرداری نے کہا کہ مینارِ پاکستان میں برین ڈیڈ زومبیز نے خوفناک گھات لگاکر خاتون پر حملہ کیا۔
حکومت ہر خوفناک واقعہ کو قالین کے نیچے صاف کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حکومت میں مرد نے کئی بار عورت کو نقصان پہنچایا ہے اور ہر بار یہ حکومت درندون کو رہا کرنے کا جواز بھی فراہم کرتی ہے۔ بختاور بھٹونے کہاکہ اس حکومت کا کوئی نیا قانون تحفظ فراہم نہیں کرے گا اور نہ ہی تبدیلی لائے گا۔واضح رہے کہ لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں یومِ آزادی کے موقع پر خاتون ٹک ٹاکر سے دست درازی کا خوفناک واقعہ 3 روز بعد سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آیا۔اوباش نوجوانوں نے ٹک ٹاکر عائشہ اکرم اور اس کے ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کپڑے پھاڑ دیے جبکہ پولیس واقعہ سے بے خبر رہی۔خاتون کی درخواست پر 400 نامعلوم ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ -

بلاول بھٹو بھی لاہور میں خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر بول پڑے
پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو بھی لاہور میں خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر بول پڑے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مینار پاکستان پر مجمع کا نوجوان لڑکی سے دست درازی اور زدوکوب کرنا ہر پاکستانی کیلئے باعثِ شرم ہے اور ہمارے سماج کی پستی کو بیان کرتا ہے، ذمے داروں کے خلاف سخت ایکشن ہونا چاہئیے، پاکستانی خواتین خود کو غیرمحفوظ سمجھ رہی ہیں،یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کےتحفظ اورمساوی حقوق کو یقینی بنائیں۔
واضح رہے کہ لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے سب کے دل دہلا دیئے ہیں۔جہاں منچلوں کا ہجوم خاتون سے بدتمیزی کرتا رہا۔
فوٹیج وائرل ہونے پر پولیس نے چار سو افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقدمے کے متن میں بتایا گیا ہے کہ 14 اگست کو جشن آزادی کے دن لوگوں کی بڑی تعداد گریٹر اقبال پارک میں جمع تھی۔ٹک ٹاک پر خاتون عائشہ اکرام اپنے دوستوں عامر سہیل اور صدام حسین کے ساتھ وہاں پہنچی اور ویڈیو بنانا شروع کر دی کہ اچانک منچلوں کے ایک گروہ نے خاتون پر ہلہ بول دیا۔کپڑے پھاڑے اور ہوا میں اچھالتے رہے۔خاتون دہایاں دیتی رہی لیکن کسی نے نہ سنی۔ خاتون نے مشکل سے اس ہجوم سے جان چھڑائی۔ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو پولیس نے چار سو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔مقدمے میں سرعام خاتون کو برہنہ کرنے اور ہنگامہ آرائی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔انہوں نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ویڈیو آئی جی کو بھیجی اور ملزمان کی گرفتاری سے متعلق رپورٹ طلب کی۔
-

سندھ حکومت کا تمام جامعات اور بورڈز پیر سے کھولنے کا فیصلہ
سندھ حکومت نے تمام جامعات اور بورڈز پیر سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔وزیر برائے جامعات بورڈ اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ سندھ کی تمام جامعات ایس اوپیز کے تحت 23 اگست کو کھول دی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ جامعات، بورڈ اور ووکیشنل ایجوکیشن ٹریننگ 50 فیصد حاضری کےساتھ پیر سے کھلیں گے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ یونیورسٹیز کے اسٹاف کی ویکسی نیشن 100 فیصد لازمی ہونی چاہیے، طالب علموں کو بھی ویکسی نیشن کروانی ہوگی۔
اُن کا کہنا تھا کہ طالب علم، اساتذہ اور جامعات کا عملہ ویکسی نیشن کارڈ ساتھ رکھیں۔
-

9 محرم کا جلوس مقررہ راستوں پر رواں دواں
کراچی میں 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہو گیا، جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کھارادر میں امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان پر اختتام پزیر ہو گا۔
جلوس برآمد ہونے سے قبل نشتر پارک میں 9 ویں محرم الحرام کی مرکزی مجلس سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کیا۔
جلوس کی سیکیورٹی پر پولیس کے 5 ہزار سے زائد افسران و جوان تعینات ہیں۔جلوس کے شرکاء مسجد و امام بارگاہ علی رضا پر نمازِ ظہرین ادا کریں گے۔جلوس کی سیکیورٹی کے لیے جلوس کی گزرگاہ کی طرف آنے والی گلیاں اور سڑکوں کو کنٹینر لگا کر سیل کیا گیا ہے۔
گزرگاہ کی عمارتوں پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار بھی تعینات ہیں، جلوس کی گزرگاہ کی بم ڈسپوزل اسکواڈ نے سرچنگ کی ہے۔
جلوس کے راستے سے متصل علاقوں میں سیکیورٹی کے سلسلے میں موبائل فون سروس بھی معطل ہے۔جلوس کی سیکیورٹی پر 5 ہزار سے زائد افسران و جوان تعینات ہیں، جن میں خواتین اہلکار، ایس ایس یو کے کمانڈو اور آر آر ایف کے جوان بھی شامل ہیں۔
جلوس کی گزرگاہوں پر موجود بلند عمارتوں پر اسنائپرز بھی تعینات ہیں۔کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے سی سی ٹی وی کے ذریعے جلوس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔جلوس کی گزرگاہ کی طرف آنے والے ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑا گیا ہے۔
-

ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم قبول نہیں
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم قبول نہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پی پی ضلع سجاول کے صدر و رکن سندھ اسمبلی محمد علی ملکانی کی رہائش گاہ گاؤں راج ملک میں ان کی والدہ ماجدہ کے انتقال اور ضلعی اطلاعات سیکریٹری سجاول سورج سجاولی کی رہائشگاہ پر ان کے لواحقین سے تعزیت و فاتح خوانی جبکہ بیگنا موری پر سابق صوبائی وزیر غلام قادر ملکانی کی عیادت کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں تعلیمی نصاب بہتر ہے، وفاقی حکومت کا ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم قبول نہیں جبکہ وفاقی حکومت نے صوبہ سندھ کو اس ضمن میں اعتماد میں بھی نہیں لیا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے دوران یوم عاشور پر تھریٹ موجود ہیں، کوشش ہے کہ یوم عاشور کے موقع پر بھی بھرپور سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائیں،
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سیکیورٹی سخت ہونے سے عاشورہ کے موقع پر لوگوں کو تکلیف ضرور ہوتی ہے لیکن عوام کو چاہیے کہ حکومت سے تعاون کریں، ہم اپنے تجربات کے تحت سندھ کے بچوں کو بہتر تعلیم کی فراہمی کیلیے کوشاں ہیں۔
پانی کی قلت سے متعلق سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے پہلے ہی معاہدے کو فالو نہیں کیا جا رہا اور پانی کی تقسیم کے متعلق سندھ حکومت نے اپنا موقف رکھا ہے۔
-

کراچی میں موٹرسائیکل چوری کی وارداتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
شہر قائد میں رواں سال 30 ہزار سے زائد موٹرسائیکلیں چوری کی گئیں ، بفرزون میں پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سےملزم کی تلاش شروع کردی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں موٹرسائیکل چوری کی وارداتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں ، رواں سال شہریوں کی 30 ہزار سے زائد موٹرسائیکلیں چوری کی گئیں ، بفرزون میں چورایک اور شہری کی موٹرسائیکل چرا کر لے گیا۔
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سےملزم کی تلاش شروع کردی ہے۔
گذشتہ ماہ رینجرز اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے انتہائی مطلوب 3 رکنی موٹر سائیکل لفٹنگ گینگ گرفتار کرکے چوری کی گئی 10موٹر سائیکلیں اور 10چیسز برآمد کرلی تھی۔
اس سے قبل بھی اے وی ایل سی پولیس نے موٹرسائیکل اسنیچنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہریوں سےموٹرسائیکلیں چھیننےکی وارداتوں کی سنچری کرنے والے گروہ کو گرفتار کرلیا تھا۔
ایس ایس پی اےوی ایل سی عارف اسلم راؤ نے بتایا تھا کہ ملزمان میں منیربنگالی، بابرعلی، حسن عرف بوائے اورمظفر چانڈیوشامل ہیں ، ملزمان نے 100سے زائد موٹر سائیکل چھیننے کا انکشاف کیا۔
-

ویکسی نیشن سے بے خبر گداگر کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بن گئے
کراچی میں کورونا کی چوتھی لہر کی روک تھام کے لیے جاری ویکسین مہم میں گدا گروں کی بڑی تعداد آگاہی مہم نہ ہونے کے سبب کورونا ویکسین لگانے سے گریز کر رہی ہے۔
صفائی کا خیال نہ رکھنے اور کورونا ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے گدا گروں کی بڑی تعداد ممکنہ طور پر کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے، سماجی کارکنوں نے رائے دی ہے کہ حکومت سندھ ان کی مخصوص آبادیوں میں فوری طور پر کورونا ویکسین کیمپوں کا انعقاد کرے اور ویکسین ورکرز کے تعاون سے فوری طور پر گدا گروں کو کورونا ویکسین لگائی جائیں۔
وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ گدا گروں کی ویکسین نیشن کے لیے فوری اقدامات کرے گی، ایکسپریس نے کراچی میں گدا گروں کے ذریعے کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ۔
ان کی جانب سے ویکسی نیشن نہ کرانے کی وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کی تو اس حوالے سے المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے ٹرسٹی حاجی احمد رضا نے بتایا کہ کورونا کی چوتھی لہر پر قابو پانے کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے مختلف پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ویکسی نیشن کا عمل بھی جاری ہے تاہم لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد شہریوں کی جانب سے ویکسی نیشن کرانے کے معاملے میں دوبارہ عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویکسی نیشن سے محروم ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو تاحال حکومتی نظروں سے اوجھل ہے، وہ طبقہ گداگروں سے تعلق رکھتا ہے، یہ گدا گر کورونا کے پھیلاؤ کا بھی سبب بن رہے ہیں کیونکہ آگاہی مہم نہ ہونے اور ان کی آبادیوں میں کورونا ٹیسٹنگ کی سہولیات نہ ہونے کے سبب یہ معلوم ہی نہیں چلتا کہ گدا گروں کو کورونا وائرس لاحق ہے یا نہیں۔
انھوں نے بتایا کہ گدا گروں کی بڑی تعداد ویکسی نیشن کرانے سے گریزاں نظر آتی ہے کیونکہ ان کا کوئی مخصوص ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ یہ سیزن کی کمائی کے حساب سے کراچی کا رخ کرتے ہیں اور پھر واپس اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ جاتے ہیں جو گدا گر عرصہ دراز سے کراچی کے مختلف علاقوں میں مقیم ہے ، وہ بھی ویکسین کرانے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں، حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی اور اس کے لیے کوئی مربوط حکمت عملی مرتب کرنا ہو گی۔
کورونا ریلیف کے حوالے سے کام کرنے والے ایک سماجی ورکر عمران الحق نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ کراچی میں اس وقت گدا گروں کی کمائی کا سیزن نہیں ہے، بیشتر گدا گر جو ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں، وہ عیدالاضحیٰ کے بعد لاک ڈاون اور کورونا پابندیوں کے سبب اپنے آبائی علاقوں کی طرف چلے گئے ہیں۔
یہ گدا گر حیدر آباد ، ہالہ ، میرپور خاص ، تھر ، عمر کوٹ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں، ان گدا گروں کا مشہور قبیلہ اوڑھ ہے۔ اس قبیلے کے علاوہ دیگر مذاہب اور قومیتوں کے لوگ بھی معاشی پریشانیوں کے سبب بھیک مانگتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ اوڑھ قبیلے کے زیادہ تر گدا گر خانہ بدوش ہوتے ہیں، یہ کراچی میں مختلف فلائی اوورز کے نیچے اور ندی نالوں کے ساتھ خالی اراضی اور مضافاتی علاقوں میں جھگیاں ڈال کر رہائش اختیار کرتے ہیں۔
کراچی میں ان کی بڑی آبادی تین ہٹی ، عیسی نگری پل ، کریم آباد فلائی اوور، ناظم آباد فلائی اوور ، سہراب گوٹھ ، پہلوان گوٹھ ، موسمیات ، شیر شاہ ، خدا کی بستی ، موسی کالونی ، لانڈھی ، کورنگی ، ملیر ، گلشن معمار ، گلشن اقبال اوردیگر علاقوں میں مقیم ہیں، ان کی بستیاں عارضی ہوتی ہیں، انھوں نے بتایا کہ زیادہ تر گدا گر خواتین ، بچے اور ان کے بزرگ شہر کے مختلف شاپنگ مالز ، مارکیٹوں ، بازاروں ، ہوٹلوں اور عوامی مقامات پر بھیک مانگتے ہیں۔
ان کے مرد غبارے اور کھلونے بیچنے کا کام کرتے ہیں، ان میں سے کچھ بچے پالش کرنے کا کام کرنے سمیت بھیک بھی مانگتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ ان میں اکثر گدا گر سماجی برائیوں میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہوتے ہیں۔
عمران الحق نے بتایا کہ کورونا کی چوتھی لہر کراچی میں اس وقت موجود ہے، جو گدا گر اس وقت شہر کے مختلف مقامات پر بھیک مانگتے ہیں ، ان میں سے اکثر سماجی دوری کا خیال نہیں کرتے اور لوگوں کو چھوتے ہیں اور بھیک طلب کرتے ہیں، سماجی دوری کا خیال نہ کرنا اور ہاتھوں کو لوگوں کے ساتھ چھونا کورونا کے پھیلاو کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ معاشی مسائل کے سبب بنگالی ، برمی اور دیگر مختلف برادریوں کی خواتین اور مرد بھی بھیک مانگتے ہیں اور بھیک مانگنے کے لیے یہ لوگ مختلف طریقے کار اپناتے ہیں،انھوں نے کہا کہ اکثر گدا گروں کی بڑی تعداد نے کورونا ویکسین نہیں کرائی ہے کیونکہ ان میں ویکسین کرانے کا شعور موجود نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے گدا گروں کی ویکسین کرانے کے لیے کوئی موثر اقدامات کیے گئے ہیں۔
کورونا کیا چیز ہے ، ہمیں تو معلوم نہیں،گداگر خاتون
کورونا ویکسین کے حوالے سے مختلف گدا گروں سے بات چیت کی، تین ہٹی پر موجود گدا گر خواتین کے ایک گروپ میں موجود عورتوں نے مختلف رائے کا اظہار کیا، 55 سالہ مائی دینا نے کہا کہ کورونا کیا چیز ہے، ہمیں تو معلوم نہیں، بس یہ پتہ ہے کہ یہ کوئی بیماری چل رہی ہے، ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے تو ہم علاج کہاں سے کرائیں گے۔
40 سالہ شادی شدہ عورت رانی نے کہا کہ ہمارا ذریعہ معاش بھیک مانگنا ہے، ہماری برادری کے اکثر لوگوں کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں ہے، ہم کورونا ویکسین کیسے لگوائیں، اگر کوئی کورونا ویکسین لگوانے جاتا بھی ہے تو اسپتالوں میں انھیں حقارت سے دیکھتے ہیں ہماری برادری میں اکثر ان پڑھ ہیں، انھیں کورونا ویکسین کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، 23 سالہ خاتون ریکھا نے بتایا کہ ہماری برادری کی اکثریت نے ویکسین نہیں کرائی ہے، کیونکہ ہم نے یہ سنا ہے کہ ویکسین کرائیں گے تو ہم مر جائیں گے۔
مقامی مسجد کے باہر ایک معذور شخص محمد وقار بابا نے بتایا کہ ہم لوگ بھیک مانگتے ہیں ، ویکسین کیسے لگوائیں گے، ان کے پاس تو کھانے کو ہی نہیں ہے، اورنگی ٹاون سے لیاقت آباد مارکیٹ میں بھیک مانگنے والی ایک خاتون شازیہ مسیح نے بتایا کہ میرے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے، ایک بچہ ہے ،میں پڑھی لکھی نہیں ہوں، ایک فیکٹری میں ملازمت کر رہی تھی ، لاک ڈاؤن کی وجہ سے نوکری چلی گئی، اب بھیک مانگ کر گزارا کر رہی ہوں لیکن میں نے ویکسین کرائی ہے۔
انھوں نے کہا کہ بہت سے لوگ مالی مجبوری کی وجہ سے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں تاہم ان میں سے اکثر لوگ پڑھے لکھے اور شعور بھی رکھتے ہیں، وہ ویکسین کرا رہے ہیں۔
عیسی نگری کے قریب گدا گروں کی آبادی میں رہائش رکھنے والے ایک شخص راج کمار نے بتایا کہ کراچی کے بیشتر گدا گر اس وقت کمائی کا سیزن نہ ہونے کی وجہ سے اپنے آبائی علاقوں میں جا کر کھیتی باڑی کا کام کر رہے ہیں، جو لوگ موجود ہیں ، وہ یا تو بھیک مانگ رہے ہیں یا پھر مختلف کاموں سے منسلک ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ گدا گروں کو بھی ویکسین لگائے، سماجی ورکر عمران الحق کا کہنا تھا کہ جن گدا گروں کے پاس شناختی بھی نہیں ہے ان کو بھی ویکسین لگائی جائے۔
معاشرے کے ہر فرد کو کورونا ویکسین لگائی جائے گی ، وقار مہدی
وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی نے بتایا کہ حکومت سندھ کی کوشش ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو کورونا ویکسین لگائی جائے، گدا گروں کو ویکسین لگانے کے لیے محکمہ صحت فوری اقدامات کرے گا اور ہماری کوشش ہو گی کہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر گدا گروں کو کورونا ویکسین لگائیں اور اس حوالے سے جو رکاوٹ ہو گی ان کو دور کیا جائے گا۔
-

بلاول بھٹو کا افغانستان میں موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر وہاں کے عام شہریوں کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان میں موجودہ صورتحال کی پیشِ نظر وہاں کے عام شہریوں کو درپیش مسائل پر اپنی جماعت کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا ہے کہ وہ امن کی جانب بڑھیں۔ پی پی پی افغانستان میں ایک کثیرالجہتی، مساوی حقوق اور جمہوری حکومت کی حمایت کرے گی، جو کئی دہائیوں سے جنگ سے متاثر ملک میں تمام عوام کے لیئے امن، تحفظ، زندگی اور آزادی کے ساتھ ساتھ ان کی املاک کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے۔
افغانستان کے موجودہ حالات اور پاکستان کی سیاسی صورتحال پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکیوٹیو کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعلی ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ انہیں اپنے افغان بھائیوں اور بہنوں کے لیئے تشویش ہے، جو کئی دہائیوں سے بڑی جرئت اور حوصلے کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں افغانستان کے تمام شہریوں ، خصوصا خواتین، نوجوانوں اور تمام اقلیتوں، کے لیئے تشویش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ محرم کا مہینہ ہے، اور افغانستان کے شہریوں کو محرم کا مہینہ بلا روک ٹوک منانے کی اجازت دی جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پاکستان میں امن و امان کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اب حکومت پاکستان ملک دہشتگردی کے معاملے پر کسی مصلحت کا شکار نہ ہو، بلکہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کیا جائے۔
یہاں مختلف دہشتگرد گروپس ہیں، جنہوں نے ہمارے شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا ہے، انہیں یہ واضح پیغام جانا چاہیئے کہ ہم یہاں ان کی اس طرح کی سرگرمیاں برداشت نہیں کریں گے۔ ‘داسو، کوئٹہ اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں، حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد جاری نہیں رکھے گی تو خطرہ ہے کہ واقعات میں اضافہ ہوگا’۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ امید اچھی رکھنی چاہیے مگر ہمیں ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
اس کے علاوہ پاکستان میں سی پیک کے منصوبوں کے سیکیورٹی پر نظر ثانی کی جانی چاہیے اور ان پر کام کرنے والوں کو پوری سیکیورٹی دی جانی چاہیے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کے لیے بہت ضروری ہے کہ قوم پرست ذہنیت کے لوگوں کو مشغول کرنا چاہیے اور پر امن حل نکالنا چاہیے۔ ملک بھر کے قوم پرست نوجوانوں سے مل کر پرامن حل نکالنا چاہیے۔
ہم سمجھتے ہیں حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال پر پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ فوری اور ابتدائی رد عمل ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ہماری پالیسیز بھی بنیں گے۔ پی پی پی چیئرمین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغان صورتحال پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے اور پاکستانی کی پالیسی کے بننے کے طریقہ کار میں سینیٹ کی قرار داد کیطریقہ کار پر عمل کیا جائے تاکہ بہتر پالیسی بن سکے۔
سب افغانستان کی صورتحال کو غور سے دیکھ رہے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ افغانستان میں ایسا نظام آئے جس میں تمام برادریوں کی نمائندگی شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرحد پر باڑ لگانے کے عمل پر ہم انحصار کر سکتے ہیں، اگر افغانستان میں امن و عامہ کی صوررتحال بہتر ہوجاتی ہے تو ہم پناہ گزینوں کی آمد نہ دیکھیں تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو ہمیں ان چیزوں کا خطرہ ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی پالیسی واضح ہونی چاہیے کہ پاکستان کی عوام دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہر معاملے پر ایک موقف اپنایا ہے اور پھر یوٹرن لیتے رہے ہیں جس سے الجھن پیدا ہوتی ہے اور ہم اس وقت ایسی چیزیں برداشت نہیں کرسکتے۔ اس وقت ہمیں ایک واضح پالیسی، سیاسی حمایت اور اتفاق چاہیے، اگر حکومت میں وضاحت نہیں ہوگی تو الجھن کا ریاست پر اثرات مرتب ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشتگردوں کے معاملے پر ایک سیکنڈ کے لیئے بھی کنفیوژ نہیں ہونا چاہیئے، پاکستان کی عوام نے ہمیشہ دہشتگردوں کو مسترد کیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان بار بار یوٹرن لیتے رہے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں ملک کسی کنفیوژن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مسلم لیگ (ن) سے روابط کے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی کے سب کے لیئے دروازے کھلے ہیں۔ وزیراعلی سندھ کے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سندھ کے عہدے کے لیئے ان کے تین نام ہیں، اور وہ ہیں "مراد علی شاہ، مراد علی شاہ، اور مراد علی شاہ”۔ -

کابل کے پر خطر ایئرپورٹ سے مسافروں اور طیارے کو بحفاظت واپس پاکستان لے آنے والے پی آئی اے کے پائلٹ کو خراج تحسین
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے پر خطر ایئرپورٹ سے مسافروں اور طیارے کو بحفاظت واپس پاکستان لے آنے والے پی آئی اے کے پائیلٹ کیپٹن مقصود بجارانی کی غیر معمولی جرأت اور قوت فیصلہ کو زبردست سراہا جا رہا ہے ،پی آئی اے کے سی ای او ایرمارشل ارشد ملک نے کیپٹن مقصود بحارانی سے ملاقات کرکے انہیں شاباش دی ہے ۔
پائلٹوں کی تنظیم پالپا نے بھی اپنے نائب صدر کیپٹن مقصود بجارانی کو ان کی شاندار کارکردگی پر مبارک باد پیش کی ہے ۔کیپٹن مقصود بجارانی پی آئی اے کی پرواز پی کے 6252 کے کپتان تھے جس نے کابل ائیرپورٹ پر انتہائی خراب صورتحال میں پرواز بھری اور 170 مسافروں اور طیارے کو بحفاظت اسلام آباد لے آئے ،کابل ایئر پورٹ سے ٹیک آف کے وقت کیپٹن بجارانی کو کنٹرول ٹاور اور ایئر کنٹرولر کی رہنمائی بھی حاصل نہیں تھی ۔
حالات اس قدر تیزی سے خراب ہورہے تھے کہ پی آئی اے کے پائلٹ سے کہہ دیا گیا تھا کہ اپنا فیصلہ خود کریں ۔ سی ای او پی آئی اے ایئر مارشل ارشد ملک نے ایئر لائن انتظامیہ کے ہمراہ کیپٹن مقصود بجارانی سے ملاقات کی اور ان کی کاررکردگی کی تعریف کی۔ ایئر مارشل ارشد ملک نے کہا کہ بحرانی صورت حال میں معاملہ فہمی، تجربے اور صلاحیتوں کو بروکارلانا کیپٹن مقصود بجارانی کے پروفیشنل ہونے کی نشانی ہے۔
ساوتھ ایشین اسٹریٹیجک اسٹے بلیٹی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ماریا سلطان نے بھی ایک تقریب میں کیپٹن مقصود بجارانی کی غیرمعمولی کاررکردگی یادگاری شیلڈ پیش کی۔ کپٹن مقصود بجارانی پائلٹو ں تنظیم پالپا کے نائب صدر بھی ہیں ، پالپا نے کیپٹن مقصود بحارانی کو ان کی غیر معمولی کاررکردگی پر مبارک باد دی ہے ۔