Baaghi TV

Category: کراچی

  • سندھ بھر میں تعلیمی ادارے کُھل گئے

    سندھ بھر میں تعلیمی ادارے کُھل گئے

    سندھ بھر میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر بند ہونے والے تعلیمی ادارے آج سے کھل گئے۔اسکول، کالجز اور جامعات میں اسٹاف کی 100 فیصد ویکسینیشن اور طلبہ کی 50 فیصد حاضری کے ساتھ تعلیمی ادارے کھولے گئے ہیں۔

    محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق صرف وہ اسکول کھلیں گے جہاں تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف ویکسینیشن کراچکا ہوگا۔

    حکام محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق والدین کو بھی ویکسینیشن کرانےکی ہدایت کی گئی ہے۔

    وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کی طبیعت ناساز
    اردو بازار کے کتب فروشوں کے مطابق رواں سال 2021 میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی نئے سال کی ایک کتاب بھی بازار میں دستیاب نہیں۔اس کے علاوہ کتابوں، کاپیوں اور اسٹیشنری کی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ کیا جاچکا ہے

  • پی ڈی ایم کے بےموسمی جلسے کورونا پھیلاؤ کا باعث بنیں گے

    پی ڈی ایم کے بےموسمی جلسے کورونا پھیلاؤ کا باعث بنیں گے

    وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کےبےموسمی جلسوں سےحکومت کوکوئی تشویش ‏نہیں، اپوزیشن بےوقت کی راگنی الاپ رہی ہے۔

    ملتان میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ پی ڈی ایم کےبےموسمی جلسے کورونا ‏پھیلاؤ کا باعث بنیں گے اپوزیشن وباکاپھیلاؤ کم ہونےپراپنےجلسوں کاشوق پورا کرے 3سال میں پی ڈی ایم کی ‏تمام تحریکیں ناکام ہوئیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اب اپنی کوئی نئی چال چلناچاہتی ہےتوشوق پورا کر لے ماضی کی طرح اب بھی ‏ناکامی ان کا مقدرہوگی جولوگ عمران خان سےاستعفیٰ لینےنکلےتھےوہ کہاں گئے پی ڈی ایم عملاًختم ہوچکی ‏ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں ملکی ترقی کاسفرجاری ہے ترقی کا سفراپوزیشن ‏کے شورشرابے سے رک نہیں سکتا اپوزیشن کےپاس ملکی ترقی کاکوئی ایجنڈا نہیں اپوزیشن افراتفری اور انتشار کے ‏ایجنڈے پرعمل پیراہے اس کےبرعکس وزیراعظم کےپاس ملکی ترقی کا بھرپور ایجنڈا ہے آئندہ اقتداربھی تحریک ‏انصاف کا ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کرپشن، احتساب پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں اس ضمن میں اندرونی ‏و بیرونی کسی قسم کادباؤقبول نہیں وزیراعظم لٹیروں کومعافی دیدیں تواپوزیشن کیلئےحکومت اچھی ہو جائے ‏گی.

    روایت بن چکی ہےکہ قومی خزانہ لوٹو، بیرون ملک جائیدادیں بناؤ اب ایسانہیں ہوگاکہ قومی خزانہ لوٹ ‏کربیرون ملک فرار ہو جاؤ، وزیراعظم واضح کہہ چکےہیں جس نےملک لوٹااس کوجواب دیناہوگا۔

  • وفاق کی ذمہ داری ہے وہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل کرے

    وفاق کی ذمہ داری ہے وہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل کرے

    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے مختلف منصوبوں کی مد میں دو ہزار ارب روپے درکار ہیں، سندھ حکومت کے پاس اتنی رقم نہیں، وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ سندھ میں منصوبوں پر عمل درآمد کرے۔

    یہ بات انہوں نے احسن آباد میں منعقدہ کھلی کچہری میں کہی۔ کھلی کچہری میں وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، امتیاز شیخ، شہلا رضا، ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب اور پی پی کے دیگر ارکان اسمبلی موجود تھے۔ وزیر اعلی نے شکایات سنیں اور موقع پر ہی ازالے کے احکامات جاری کیے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے مختلف منصوبوں کے لیے دو ہزار ارب روپے درکار ہیں، سندھ حکومت کے پاس اتنی رقم وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ سندھ میں منصوبوں پر عمل درآمد کرے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی میں فلائی اوورز اور انڈر پاسز تعمیر کروائے ہیں، سڑکوں کی حالت زار بہتر کی ہے، قومی شاہراہ پر تعمیری کام کروائے ہیں جب کہ لیاری میں سوک سینٹر بنایا جائے گا، کورنگی میں پل بنا رہے ہیں، کراچی میں ٹریفک کے مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم سے حساب مانگنے والے سندھ حکومت کی طرف سے وفاق کو دیے جانے والے پیسوں کا حساب دیں، ہم حساب عوام کو دیں گے، چور دروازے سے آنے والوں کو جواب دہ نہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ دریاؤں میں پانی کی کمی ہے لیکن پانی کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے، سندھ کو پینے کے پانی سے بھی محروم رکھا جارہا ہے، سندھ حکومت کو عوامی مسائل کا اندازہ ہے، ہم کولیکٹیو نہیں ہیں، مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔

    انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ تین سال سے تباہی مچانے والوں نے مہنگائی کا طوفان کھڑا کیا ہوا ہے، وفاقی حکومت سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا، مہنگائی عروج پر ہے اور یہ جشن منا رہے ہیں، پی ٹی آئی نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے پر عمل کی بجائے لاکھوں افراد کو بے روزگار کردیا، اسٹیل ملز سے لوگوں کو نکالا، 11 وفاقی محکموں سے ہزاروں افراد کو بے روزگار کردیا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لیڈرز نے اپنے رہنماؤں کو بری زبان سکھانے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا، مجھ سے بدزبانی نہیں ہوتی، صوبے بھر میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ مزید بڑھایا جائے گا، ہم انسان ہیں، غلطیاں ہو سکتی ہیں، ہماری جڑیں عوام میں ہیں،عوام کی بہبود کے لیے اقدامات کرے رہیں گے۔

    دریں اثنا وزیراعلی سندھ کی کھلی کچہری ہڑبونگ کا شکار ہوکررہ گئی، شکایات پیش کرنے والے آپے سے باہر ہوگئے، ایم ڈی اے کے خلاف بینرز اٹھائے مظاہرین نے لینڈ مافیا اور ان کے آلہ کار سرکاری افسران اور عملے کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے رینجرز پہنچ گئی، افراتفری کے بعد کھلی کچہری ختم کردی گئی۔

    بعد ازاں وزیراعلی اسی ہڑبونگ میں چلے گئے، اس موقع پر کوویڈ 19 کی ایس او پیز کے دھجیاں بکھیر دی گئیں، دھکم بازی کے دوران بھی جیالے وزیر اعلیٰ کے ساتھ سیلفیاں بنانے میں مصروف رہے۔

  • بینظیر بھٹو کے میک اپ آرٹسٹ نے پرانی یاد تازہ کر دی

    بینظیر بھٹو کے میک اپ آرٹسٹ نے پرانی یاد تازہ کر دی

    اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شادی کے میک اپ آرٹسٹ طارق امین کو پرانے دنوں کی یاد ستانے لگی۔میک آرٹسٹ طارق امین نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکائونٹ پر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شادی کے دن کی نایاب تصویر شیئر کی ہے۔انسٹاگرام پر شیئر کی گئی تصویر میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو بیحد حسین لگ رہی ہیں جبکہ ان کے ہاتھوں میں خوبصورت مہندی بھی لگی ہوئی ہے۔
    میک اپ آرٹسٹ طارق امین نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ ماضی کی خوبصورت یاد۔انہوں نے مزید لکھا کہ یہ وہ دلہن تھیں جنہوں نے میرا کیریئر بنایا۔واضح رہے کہ آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کی منگنی 29جولائی 1987 کو لندن میں ہوئی، اس خبر کی دنیا کے تمام ہی ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر تشہیر ملی۔آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کا رشتہ آصف زرداری کی والدہ ٹمی بخاری اور بینظیر بھٹو کی والدہ نصرت بھٹو نے طے کیا۔منگنی کی تقریب لندن میں بینظیر بھٹو کی بہن صنم بھٹو کے فلیٹ میں ہوئی، منگنی کے تقریبا پانچ ماہ بعد 18دسمبر 1987 کو آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کی یادگار شادی کراچی میں ہوئی.

  • کراچی شہر سنوارنے والےخاکروبوں کے خستہ حال گھر

    کراچی شہر سنوارنے والےخاکروبوں کے خستہ حال گھر

    کراچی کے نارائن پورہ کوارٹرز میں رہنے والے سارا شہر سنوارتے ہیں لیکن وہ خود اجڑے گھروں ميں رہتے ہيں جن کی خستہ حالی کے باعث موت ہر وقت رہائشیوں کے سروں پر منڈلا رہی ہوتی ہے۔

    خاکروبوں کے یہ کوارٹرز اتنے خستہ حال ہيں کہ یہاں حادثات آئے دن رونما ہوتے رہتے ہیں اور اس کے مکین خصوصاً بچے اکثر شدید زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔
    کے ایم سی نے شہر کو سب سے بنیادی سروس دینے والے خاکروبوں کو انہی کھنڈروں میں بسایا ہوا ہے جہاں چند لمحات بھی گزارنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا.
    ان گھروں کی سیڑھیاں ہوں یا راہداریاں، چھتیں ہو بالکونیاں روز ہی ان کا کوئی نہ کوئی حصہ زمین پر آن گرتا ہے۔ بے خوفی سے ٹوٹی راہداری کو پھلانگتے بچوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ کب فرش ان کے قدموں سے سرک جائے گا اور کب چھت سے ملبہ گرپڑے اسی وجہ سے آئے روز عمارت کے ملبے گرنے سے بچے زخمی ہوتے ہیں۔
    انہی سوئپرز کوارٹرز میں بسنے والی روبینہ کی بھانجی بھی ایسے ہی حادثے میں زخمی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ میری بہن کی بیٹی پر پتھر گرنے سے وہ زخمی ہوگئی تھی اور ہم اسے دیکھ کر چیخیں مار رہے تھے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر مجبور نہ ہوتی تو یہاں رہ کر کبھی اپنے بچوں کی زندگیاں یوں خطرے میں نہ ڈالتے۔
    انہوں نے کہا کہ یہاں رہنا ہمارا شوق نہیں بلکہ مجبوری ہے، جب میں جاب پر جاتی ہوں تو لرزتی ہوں کہ کہیں پیچھے کوئی حادثہ نہ ہوجائے۔
    جن لوگوں کے پاس تھوڑی بہت بھی گنجائش تھی وہ نارائن پورہ کوارٹرز چھوڑ کر جا چکے ہیں اور ان خالی کھولیوں میں کچھ اور لوگوں کا بسیرا ہے.
    جبکہ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی مرتضیٰ وہاب کا نارائن پورہ سوئپرز کوارٹرز کی دگرگوں حالت کے حوالے سے کہنا تھا کہ انہیں آئے ہوئے ابھی کچھ ہی روز ہوئے ہیں۔

  • بلاول بھٹو زرداری کا میر چنگیز خان جمالی کے نام تعزیتی پیغام

    بلاول بھٹو زرداری کا میر چنگیز خان جمالی کے نام تعزیتی پیغام

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی پی پی بلوچستان کے صدر میر چنگیز خان جمالی سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں میر چنگیز خان جمالی سے ان کی والدہ کی رحلت پر افسوس و ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت پوری پارٹی آپ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ دعاگو ہوں، اللہ تعالی مرحومہ کو جنت الفردوس اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

  • ایم پی اے فریال تالپور کی محمد علی ملکانی کے گھر آمد

    ایم پی اے فریال تالپور کی محمد علی ملکانی کے گھر آمد

    پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و ایم پی اے فریال تالپور کی رکنِ سندھ اسمبلی محمد علی ملکانی کے گھر آمد ۔

    تفصیلات کے مطابق پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے کراچی میں محمد علی ملکانی کی رہائشگاہ پہنچ کر ان کی والدہ کی رحلت پر تعزیت کی ،فریال تالپور نے مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی۔

    اس موقع پر سندھ کے وزیر برائے محکمہ بلدیات ناصر حسین شاہ، وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی ارباب لطف اللہ اور ایم پی اے قاسم سراج سومرو بھی فریال تالپور کے ہمراہ تھے۔

  • جمہوریت صرف مردوں کے لیے نہیں : شازیہ مری

    جمہوریت صرف مردوں کے لیے نہیں : شازیہ مری

    ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز و رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا ہے کہ جمہوریت صرف مردوں کے لئے نہیں ہے، جمہوریت کی جدوجہد اور حصول میں خواتین کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز و رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے پی ڈی ایم کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے کل منقعد ہونے والے جلسے میں خواتین پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر افسوس ہے۔

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پی پی پی عورتوں کی جدوجہد اور انکی محنت و کوشش کو سراتی ہے۔

    رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان سے لیکر اب تک خواتین نے جمہوریت کی جدوجہد میں پیش قدم رہ کر قربانیاں دیں اور محنت کی، آج پی ڈی ایم کے اعلان سے پاکستان میں موجود جمہوری سوچ رکھنے والے لوگوں کو ٹھیس پہنچی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ امید نہیں تھی کہ پی ڈی ایم اپنے فیصلے اس قدر انتہا پسندی کی طرف لے جائے گی۔

    ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز و رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کا مزید کہنا تھا کہ ہم پی ڈی ایم کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اسکی مذمت کرتے ہیں ۔

  • آزاد عدلیہ کی جدوجہد کے لیے ہم میدان میں ہیں، مولانا فضل الرحمن

    آزاد عدلیہ کی جدوجہد کے لیے ہم میدان میں ہیں، مولانا فضل الرحمن

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قابل اور آزاد عدلیہ کی جدوجہد کے لیے ہم میدان میں ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کراچی لانڈھی سمیت جو بم دھماکے ہوئے اس پر نے افسوس کا اظہار کیا، شہید اور زخمی ہونے والوں کے لیے دعا بھی کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک اتھارٹی بنانے جا رہی ہے، اجلاس نے اس اتھارٹی کو مسترد کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے اراکین اسمبلی میڈیا کے لیے بھرپور احتجاج کریں گے، میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے نہیں دیں گے۔

    مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پوری دنیا نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کو مسترد کیا، الیکشن کمیشن نے بھی ای وی ایم پر اعتراض کیا ہے۔

    سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ڈی ایم نے وکلاء کہ جدوجہد میں شانا بشانہ شریک ہونے کا فیصلہ کیا ہے، قابل اور آزاد عدلیہ کی جدوجہد کے لیے ہم میدان میں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی تاریخی مہنگائی کی وجہ سے لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہے اور یہ حکومت کی ناکامی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم غریب قوم کی ہم آواز بنیں گے، بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہمارے نوجوانوں کے ساتھ ظلم ہے۔

    مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں جلسوں کا جال بچھا دیں گے، سڑکوں پر روڈ کارواں شروع کریں گے۔

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ستمبر کے اجلاس میں تاریخ سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا، 3 سالہ کارکردگی پر وائٹ پیپر لائیں گے۔

  • فیکٹری میں ہونے والی آتشزدگی سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات

    فیکٹری میں ہونے والی آتشزدگی سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات

    کراچی کے علاقے کورنگی مہران ٹائون میں واقع کیمیکل فیکٹری کی آگ نے کئی محکموں کی اہلیت پر سوالات اٹھا دیئے۔ فیکٹری سانحے سے متعلق تفتیش میں کہا گیا ہے کہ مختلف محکموں کی غفلت سے ریسکیو آپریشن تاخیر سے شروع ہوا، فیکٹری سے چند قدم دور تھانے کی نفری بھی تاخیر سے پہنچی۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے ضلع کورنگی کے علاقے مہران ٹان میں واقع چمڑا رنگنے کی فیکٹری میں ہونے والی آتشزدگی سے متعلق تفتیش میں چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے ہیں۔
    تفتیشی ذرائع نے بتایاکہ مختلف محکموں کی غفلت سے ریسکیو آپریشن میں تاخیر ہوئی، فیکٹری سے چند قدم دور تھانے کی نفری بھی تاخیر سے پہنچی۔تفتیشی ذرائع نے بتایاکہ فائربریگیڈ کو 10بجکر 8 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع ملی لیکن ڈرائیور نہ ہونے کی وجہ سے کورنگی فائر اسٹیشن سے 2 میں سے ایک گاڑی ہی روانہ کی جاسکی، 10 بجکر 24 منٹ پر مزید گاڑیاں لانڈھی اور سٹی فائر اسٹیشن سے بھیجی گئیں۔
    تفتیشی ذرائع نے کہا کہ فیکٹری میں چمڑے کی اشیاء تیار کی جاتی تھیں جہاں کیمکلز کا استعمال زیادہ تھا اسی لیے آگ زیادہ پھیلی جب کہ مختلف کیمیکل ملنے سے گیس بنی جس سے اموات زیادہ ہوئیں۔تفتیشی ذرائع کے مطابق تمام افراد کی اموات دھواں بھرجانے سے ہوئی، فائر بریگیڈ کی ابتدائی رپورٹ تاحال تیار نہیں کی جاسکی۔پولیس کے مطابق سیکیورٹی گارڈ کا بیان لے لیا گیا ہے، فیکٹری مالک کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز فیکٹری میں آگ لگنے سے 16 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ ایک شخص حادثے میں اپنے بیٹے کی موت پر صدمے سے چل بسا۔