Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی کے ساحل پر پھنسے جہاز کا معاملہ، بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا

    کراچی کے ساحل پر پھنسے جہاز کا معاملہ، بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا

    شہرقائد کے ساحل سے ‘ہینگ ٹونگ’ نامی جہاز کو نکالنا کڑا امتحان بن گیا، متعلقہ ٹیم کو آپریشن کے دوسرے روز بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، حکام نے آپریشن کل تک ملتوی کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق ‘سی ویو’ سے جہاز کو نکلانے کے آپریشن کو ایک بار پھر کل دوپہر 12 بجے تک ملتوی کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کرین بردار بوٹ میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے لنگر ڈراپ نہیں ہوپایا، کرین بردار کشتی کو 400میٹر قریب لاکر جہاز سے رسہ باندھنے کی کوشش کی گئی۔

    حکام نے بتایا کہ اینکر ڈالنے والی ٹگ بوٹ جہاز سے600میٹر تک قریب پہنچ سکی، اینکر اور دیگر چیزیں وقت پر ہوئیں تو کل12بجے آپریشن دوبارہ شروع کریں گے۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اج اینکر مقررہ جگہ پر فکس ہوجاتا ہے تو زولو بوٹس کی مدد سے 6 بجے رسیاں باندھ دیتے، جہاز کو نکالنے کے لیے تین کمپنیاں بی ایم ایس۔سی میکس اور ایان شپ بریکر کام کر رہی ہیں۔

    خیال رہے کہ وزارتِ جہاز رانی نے کراچی کے ساحل پر پھنسنے والے نجی کمپنی کے مال بردار جہاز ہینگ ٹانگ 77 کو ناکارہ قرار دیتے ہوئے قبضے میں لے لیا ہے۔

    اسی ضمن میں وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ جہاز کو پورٹ اسٹیٹ رول کے تحت تحویل میں لیا گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ کمزور انجن، خراب نیوی گیشن آلات کی وجہ سے جہاز چلنے کے قابل نہیں رہا، جہاز اپنے ناکارہ فائر فائٹنگ سسٹم کے باعث بحری راستے اور دیگر جہازوں کیلئے خطرہ بن گیا ہے۔

  • وفاقی و صوبائی حکومتوں نے کراچی کے عوام کو لوٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا ، حافظ نعیم الرحمن

    وفاقی و صوبائی حکومتوں نے کراچی کے عوام کو لوٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا ، حافظ نعیم الرحمن

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوںنے کراچی کے عوام کو لوٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا ۔ کورونا وباء میں لاک ڈائون سے تاجروں کا ایک سو ارب روپے کا نقصان کیا گیا مگر ابھی انہیں کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا ۔لاک ڈائون سے ایک روز قبل جوبلی مارکیٹ کو منہدم کیا گیا جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرہ تاجروں کو روزگار کمانے کے لیے متبادل جگہ دی جائے اور اس سے قبل کراچی میں جو 6ہزار سے زائد دکانیں مسمار کی گئیں ان سب کو بھی متبادل فراہم کیا جائے ۔
    وزیر اعظم عمران خان نے کراچی کا دورہ کیاوہ صرف دن ہی دن میں کراچی آتے ہیں ۔ انہوں نے 2019میں 162ارب روپے اور ستمبر 2020میں 1100ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا،جس میں سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ہمارا حصہ بھی اس میں شامل ہے ، کراچی کے عوام سوال کرتے ہیں کہ یہ سارے پیکیجز کہاں گئی گرین لائین منصوبہ رکا ہوا ہے ، شہر گندگی کا ڈھیر بنا ہوا ہے ، عوام پانی کے لیے ترس رہے ہیں ، لاک ڈائون نے تاجروں کو فاقہ کشی میں مبتلا کردیا ہے ۔
    دینے والے ہاتھ لینے والے ہاتھ بن گئے ہیں لیکن حکومتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز ناز و جناح پلازہ میں تاجروں کے لیے الخدمت کے زیر اہتمام موبائل ویکسی نیشن یونٹ کے افتتاح کے موقع پر تاجروں اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر اسمال ٹریڈرز کراچی کے صدر محمود حامد ، نازو جناح پلازہ الیکٹرونکس مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر سید نوید احمد نے بھی خطاب کیا ۔
    حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بھوک اور افلاس صوبے میں رقص کر رہی ہے اور پیپلز پارٹی کراچی پر قبضے کی سازشوں میں مصروف ہے ، تحریک انصاف اور عمران خان سندھ فتح کرنا چاہتے ہیں ، دونوں نے کراچی کے عوام کے بنیادی مسائل نظر انداز کردیئے ہیں اور وفاقی و صوبائی حکومتیں اور حکمران پارٹیاں مل کر کراچی کو تباہ اور برباد کر رہی ہیں ، کراچی میںسیاسی ایڈمنسٹریٹر تقرر کا مقصد بھی ایک بہتر چہرے کو آگے کر کے لوٹ مار کو جاری رکھنا ہے ، انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں لوگوں کو سہولیات میسر نہیں ، کورونا ویکسی نیشن کے لیے مشکلات ہیں اسی وجہ سے الخدمت اپنے وسائل سے عوام کو ویکسی نیشن فراہم کر رہی ہے ۔
    الخدمت اپنی استطاعت اور وسائل کے مطابق کام کرہی ہے۔الخدمت کے رضاکار مبارکباد کے مستحق ہیں جو مسلسل کام کررہے ہیں۔سندھ حکومت نے ڈیڑھ سال میں اسپتالوں میں کرونا مریضوں کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا،اسپتالوں میں او پی ڈی کے مریضوں کو ایڈمٹ نہیں کیاجارہا، اس صورتحال میںجماعت اسلامی اور الخدمت حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پرتیار ہے،الخدمت کی موبائل ویکسی نیشن وین بہادر آباد، ناظم آباد، ایکسپو سینٹر سمیت متعدد مقامات پر کراچی کے شہریوں کو سہولت فراہم کررہی ہے ۔

  • کراچی میں سیکیورٹی کمپنی کا وین ڈرائیور20 کروڑ روپے لیکر فرار

    کراچی میں سیکیورٹی کمپنی کا وین ڈرائیور20 کروڑ روپے لیکر فرار

    شہر قائد میں نجی سیکیورٹی کمپنی کا وین ڈرائیور طارق روڈ سے بینک کے 20 کروڑ روپے کی خطیر رقم لوٹ کر فرار ہوگیا۔

    شہر قائد میں راہزنی کی وارداتیں تھم نہ سکی کراچی میں رقم لوٹنے کی ایک اور بڑی واردات رونما ہوگئی جس میں سیکیورٹی کمپنی وین ڈرائیور ہی رقم لوٹ کر بھاگ نکلا، واردات 9 اگست کو صبح ساڑھے 9 بجے پیش آئی جس کا مقدمہ میٹھا در تھانے میں درج کیا گیا ہے۔

    پولیس نے واقعے کی تفصیلات کچھ اس طرح بتائیں کہ نجی سیکیورٹی کمپنی کی وین طارق روڈ سے بینک کی رقم منتقل کرنے کےلیے روانہ ہوئی تھی۔

    پولیس نے ابتدائی رپورٹ میں بتایا کہ آئی آئی چندریگر روڈ پہنچنے کے بعد گارڈز کچھ رقم لے کر نیچے اترے اور اسی دوران وین ڈرائیور گاڑی لیکر فرار ہوگیا۔

    اس حوالے سے پولیس نے مزید کہا کہ وین میں 20 کروڑ روپے کی رقم موجود تھی، ڈرائیور نے وین مسکین گلی میں چھوڑ دی اور رقم لیکر بھاگ نکلا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واردات کا مقدمہ میٹھا پولیس نے درج کرکے ڈرائیور کی تلاش شروع کردی ہے۔

    خیال رہے کہ رواں ماہ 4 تاریخ کو کراچی کے بفرزون ڈپٹی کمشنر آفس کے قریب 6 ڈاکوؤں نے واردات کے دوران منی چینجر کی ایک وین پر اندھا دھند فائرنگ کر کے دو افراد کو قتل کر دیا تھا اور کیش لوٹ کر 3 موٹر سائیکلز پر بیٹھ کر فرار ہو گئے تھے۔

  • کراچی کے ساحل پر کھڑے جہاز کو ناکارہ قرار دے دیا گیا

    کراچی کے ساحل پر کھڑے جہاز کو ناکارہ قرار دے دیا گیا

    کراچی کے ساحل پر کھڑے جہاز کو ناکارہ قرار دے دیا گیا۔وزارت میری ٹائم نے نے جہاز کو قبضے میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔جہاز ہینگ ٹانگ 77کے کپتان کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔کپتان کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ جہاز کا نیوی گیشن اور مشینری کا نظام خراب ہے۔خراب جہاز انسانی جان اور املاک کے لیے نقصان دہ ہے۔
    حکومت نے کراچی کے ساحل پر پھنسے بحری جہاز کو تحویل میں لے لیا ہے۔وزارت برائے بحری امور نے بحری جہاز ہینگ ٹونگ 77 کو حکومتی تحویل میں لینے کا حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے۔ہینگ ٹانگ 77 کو سمندری کاموں کے لیے ناقابل استعمال قرار دے دیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے بھی بحری جہاز کو حکومتی تحویل میں لینے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جہاز ہینگ ٹانگ 77 سمندری امور کے قابل نہیں ہے اس کو نیوی گیشن سسٹم بھی خراب ہے اور انجن بھی کمزور ہے۔

  • غیرقانونی تقرریاں، سراج درانی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    غیرقانونی تقرریاں، سراج درانی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    سندھ ہائی کورٹ نے شہید بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لیاری میں غیر قانونی تقرریوں کے الزام میں آغا سراج درانی کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لیاری میں غیرقانونی تقرریوں کے کیس میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر کردہ درخواست ضمانت پر سماعت پر ہوئی۔

    نیب نے سراج درانی اور دیگر ملزمان کے خلاف انکوائری مکمل کرلی ہے، جس کے بعد نیب نے ریفرنس دائر کرنے کےلیے ڈرافٹ ہیڈ کوارٹر ارسال کردیا۔

    عدالت نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلتے ہوئے سراج درانی کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی اور سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

  • کراچی :ساحل پر پھنسے بحری جہاز کو حکومت نے تحویل میں لے لیا

    کراچی :ساحل پر پھنسے بحری جہاز کو حکومت نے تحویل میں لے لیا

    کراچی کےساحل پر ریت میں پھنسنے والے بحری جہازہینگ ٹو نگ77 کو حکومت نےتحویل میں لےلیا ۔

    باغی ٹی وی : جہاز کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے بحری جہاز کے اطراف سے ریت کو نکالا جا رہا ہےجہاز کو نکالنے کے لیے میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور کے پی ٹی کی مشینری کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے گزشتہ روز سمندر میں طغیانی کے سبب آپریشن روک دیا گیا تھا۔

    پہلے مرحلے میں سمندر کے اندر اینکر گاڑ کر اس سے بندھے تار سے جہاز کو سمندر میں پانی کی طرف دھکیلا جارہا ہے تار کھینچنے کیلیے ساحل پر کھڑی بارج کی طاقت استعمال کی جارہی ہے۔ دوسرے مرحلے میں ٹگ بوٹ کے ذریعے جہاز کو کھینچا جائے گا۔

    وزارت بحری امور کے حکم نامے کے مطابق ماہرین نے جہاز کو سمندری کاموں کےلیےناقابل استعمال قرار دیا ہے جہاز کا نیویگیشن سسٹم اور مشینری خراب حالت میں ہے، یہ انسانی جانوں کےلئےبھی خطرہ ہے۔

    وزارت میری ٹائم نےسی ویو پرپھنسے جہاز کو ناکارہ قرار دیتے ہوئے اسے قبضے میں لینا کا فیصلہ کیا تھا جہاز ہینگ ٹانگ 77 کے کپتان کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیاہے۔

    بحری جہازہینگ ٹانگ77کو سی وردی نہ ہونے پر پاکستان مرچنٹ آرڈیننس 2001 کے تحت کو قبضے میں لیا گیا ہےجہازکوتسلی بخش رپورٹ کے بعدچھوڑدیا جائےگا حکومت پاکستان کی جانب سے جہاز کےکپتان اور مالک کو دستاویزات پیش کرنے کا کہا گیا تھا۔

    اور کہا گیا تھا کہ یہ واضح کریں کہ جہاز فٹنس کے اعتبار سے بالکل ٹھیک ہےاور سمندرمیں چلنے کے قابل ہے لیکن ان کی جانب سے کوئی دستاویزات اورتفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔


    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری کردہ ٹوئٹ پیغام میں وفاقی وزیر برائے بحری امورعلی زیدی نے ہینگ ٹونگ 77 بحری جہاز کو ضبط کرنے کے آحکامات کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ سی ویو پر پھنسے جہاز ہینگ ٹونگ سمندر میں سفر کرنے کے قابل نہیں ہے پھنسے بحری جہاز کا نیویگیشن پاور مشنری خراب ہے جبکہ جہاز کا انجن بھی بہت کمزور پایا گیا ہے پھنسا ہوا بحری جہاز اس حالت میں انسانی جان اور دوسرے بحری جہازوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔

    واضح رہے کہ 19 جولائی کی شب بحری جہاز ہینگ ٹانگ 77 انجن کی خرابی اور تیز ہواؤں کے باعث سی ویو پر آکر پھنس گیا تھا۔

  • 75کروڑ روپے مالیت کے سونے و رقم کے غبن کا معاملے میں دوران تفتیش مزید حقائق سامنے آئے

    75کروڑ روپے مالیت کے سونے و رقم کے غبن کا معاملے میں دوران تفتیش مزید حقائق سامنے آئے

    نجی بینک کی2برانچز میں75کروڑ روپے مالیت کے سونے و رقم کے غبن کا معاملہ میں دوران تفتیش مزید حقائق سامنے آئے ہیں، جعل ساز ملزمہ اپنے طریقہ واردات میں بینک ملازمین قیمتی تحائف دیتی رہی۔

    اس حوالے سے تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ماسٹر مائنڈ خاتون رقم بٹورنے کے ساتھ بینک ملازمین کو حصہ بھی دیتی رہی، بینک ملازمین جعل ساز خاتون سے بیش قیمت تحائف بھی لیتے رہے۔

    دوران تفتیش فراڈ کیس میں گرفتارملزم عدیل کے اکاؤنٹ میں24لاکھ روپے موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے، اس کے علاوہ گولڈ فنانس ایگزیکٹو عدیل کو ماسٹر مائنڈ خاتون نے ایک کار بھی تحفے میں دی تھی۔

    تفتیشی حکام نے بتایا کہ گلستان جوہر برانچ کی گرفتار خاتون منیجر کو بھی ایک پلاٹ تحفے میں دیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ ملزمہ نے گیگر بینک ملازمین کو قیمتی موبائل فونز بھی بطور تحفہ دیے۔

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ملزمہ نے جعل سازی سے حاصل ہونے والی رقم سے اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کی اور بینک سےحاصل شدہ رقم سے بیش قیمت گاڑیاں بھی خریدی۔

    پولیس کے مطابق ماسٹرمائنڈ خاتون دونوں برانچز میں عملے کو جیب خرچ بھی دیتی تھی،75کروڑ روپے کے بینک فراڈ میں اب تک14ملزمان گرفتار کیا جاچکا ہے۔ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔

  • پی پی رہنماؤں کو ملی سندھ ہائیکورٹ سے خوشخبری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں گوداموں سے گندم چوری پر نیب انکوائری کیس کی سماعت ہوئی

    پیپلزپارٹی رہنما نثار کھوڑو سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے سندھ ہائیکورٹ نے نیب سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی عدالت نے نثار کھوڑو کی ضمانت میں 28 ستمبر تک توسیع کردی نیب کے مطابق نثار کھوڑو کے خلاف محکمہ فوڈ میں کرپشن سے متعلق انکوائری کی جاری ہے،

    قبل ازیں سندھ ہائیکورٹ میں بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی میں غیر قانونی تقرریوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی عبوری ضمانت میں 6اکتوبر تک توسیع کر دی گئی ،نیب نے عدالت کو بتایا کہ آغا سراج درانی اور دیگر ملزمان کے خلاف انکوائری مکمل کر لی گئی ہے نیب نے ریفرنس دائر کرنے کے لیے ڈرافٹ ہیڈکوارٹر ارسال کردیا ہے،سندھ ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی سپیکر سندھ اسمبلی اور دیگر پر لیاری میڈیکل کالج میں غیر قانونی بھرتیوں کا الزام ہے

    آغا سراج درانی کے خلاف پیشرفت رپورٹ جمع کروانے کا حکم

    سراج درانی کے خلاف کیس کی سماعت،کتنے ملزمان کے شناختی کارڈ ہوئے بلاک

    نیب کی طرف سے دائر کیے گئے ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ آغا سراج درانی نے 1 ارب 61 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے بنائے جن میں سے انہوں نے کچھ جائیدادیں فروخت بھی کردیں اسپیکر سندھ اسمبلی کے غیر قانونی اثاثہ جات میں گھر اور35 گاڑیاں شامل ہیں اور دیگر اثاثوں میں 11 گاڑیاں ، بیٹے کے بنام اور اہلیہ اور بیٹوں کے نام پر کراچی اور ایبٹ آباد میں جائیداد شامل ہیں، مذکورہ جائیدادوں کی خریداری کیلئے رقم کی ادائیگی ان کے ملازمین کے نام سے کی گئی ہے۔ نیب کی طرف سے مارے گئے چھاپے کے دوران مرکزی ملزم اور ان کے دیگر اہلخانہ سے 11کروڑ روپے کی قیمتی گھڑیاں برآمد ہوئیں اور ان کے لاکر سے 350 تولے سونا بھی برآمد کیا گیا جبکہ نیب کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی نے سال 2007ء سے سال 2018ء تک 11 کروڑ روپے آمدن ظاہر کی جو کہ زرعی زمنیوں کی بتائی گئی تاہم دوران تفتیش ملزم نے آمدنی 8 کروڑ بتائی تھی۔

  • سندھ کابینہ نے نیب سے 1.59 بلین روپے کی واپسی کا مطالبہ کر دیا

    سندھ کابینہ نے نیب سے 1.59 بلین روپے کی واپسی کا مطالبہ کر دیا

    سندھ کابینہ نے قومی احتساب بیورو (نیب) پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ حکومت کو 1.59 بلین روپے ادا کرے جو اس نے گزشتہ 11 سال کے دوران رضاکارانہ واپسی اسکیم کے تحت مجموعی وصولی کا 25 فیصدایٹ سورس کٹوتی کی تھی۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں نیب سے 1.59 بلین روپے کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2016 کے سو موٹو کیس نمبر 17 اور بلوچستان ہائی کورٹ نے سی پی نمبر 1048، 2014 میں تحفظات کا اظہار کیاگیا اور نیب کی رضاکارانہ واپسی اسکیموں کے تحت واپس لی گئی رقومات وفاق اور صوبوں کے متعلقہ پبلک اکاؤنٹس میں جمع کرانے کی ہدایت جاری کی تھیں۔

    کابینہ نے معاملے پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ سندھ حکومت نیب سے 1.59 ارب روپے واپسی کی درخواست کرے گی جو کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 25 کے تحت 25 فیصد کی شرح سے ایٹ سورس کٹوتی کی گئی تھی۔

    محکمہ قانون نے ملازمت کے دوران مرنے والے سرکاری ملازمین کے قانونی وارثوں کے فوتی کوٹے کے تحت بھرتی کے لیے اہلیت کے معیار کی تجویز پیش کی۔متوفی کوٹہ 2 ستمبر 2002 سے نافذ العمل ہوگا، 2 ستمبر 2002 سے پہلے جو ملازم انتقال کرگیا ہو وہ فوتی کوٹہ کا اہل نہیں ہوگا۔

    اگر بچے نابالغ ہیں اور بیوہ فوتی کوٹہ کے تحت بھرتی کے حوالے سے درخواست جمع کرانا نہیں چاہتی تو قانونی وارث مرنے والے ملازم کی موت کے دو سال کے اندر اندر متعلقہ محکمہ کو مطلع کرنے کا پابند ہوگا کہ اس کا ایک وارث 18 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد تین ماہ کے اندر درخواست جمع کرائے گا۔

    کابینہ کوبتایاگیا کہ کے ایم سی کو 101 ایکڑ اراضی حکومت سندھ نے مذبح/سلاٹر ہاؤس کے قیام کے لیے فراہم کی تھی۔ کے ایم سی نے بھینس کالونی کی اراضی پر سلاٹر ہاؤس قائم کیا تھا۔

    فی الوقت فنی وجوہات کی بنا پر یہ سلاٹر ہاؤس فعال نہیں ہے۔سندھ حکومت نے بھینس کالونی میں جہا ں پر سلاٹر ہاؤس قائم ہے وہاں پر بی آر ٹی ریڈ لائن کے لیے بایو گیس پلانٹ کے قیام کی منظوری دی۔

    کابینہ نے کراچی واٹر بورڈ کی درخواست پر حکومت پنجاب کی طرح بوتل پانی اور مشروبات کی کمپنیوں سے فی لیٹر 1 روپے لیوی کی منظوری دی۔کابینہ نے محکمہ لوکل گورنمنٹ کی درخواست پر مقامی حکومت کی سطح پر فنڈ قائم کرنے کی تجویز منظور کی۔

    کابینہ نے لوکل گورنمنٹ کے سب انجینئرز BS-11 SCUG) کے سروسز ڈھانچے کو دیگر محکموں جیسے آبپاشی ، ورکس اینڈ سروسز ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اور ایجوکیشن ورکس کے برابر لانے کی تجویز کی بھی منظوری دی۔

    کابینہ کو بتایا گیا کہ 138.384 ارب روپے کی لاگت سے 1646 جاری اسکیمیں شروع کی گئی ہیں جن کے لیے اس نئے مالی سال 21-2020 کے دوران 38.706 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔

    محکمہ زراعت نے کابینہ کو بتایا کہ بیج کا تعین وفاقی سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (ایف ایس سی اینڈ آر ڈی) کرتاہے۔ فی الحال ایف ایس سی اینڈ آر ڈی کا انفرااسٹرکچر اور عملہ پورے سندھ کا احاطہ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

    کابینہ کے اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیلی میڈیسن کے کئی فوائد ہیں جو کہ مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں ، بشمول خدمات تک تیز رسائی۔

    یہ خاص طور پر دیہی علاقوں کے لوگوں کے اخراجات اور کاوشوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جو علاج کے لیے لمبی دوری کا سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

    محکمہ صحت نے سندھ ٹیلی ہیلتھ اینڈ ٹیلی میڈیسن ایکٹ 2021 کو کابینہ میں پیش کیا اور وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ ایکٹ ٹیلی میڈیسن کی پریکٹس کے لیے معیاری گائیڈ لائنز کی فراہمی میں مدد کرے گا۔

    کابینہ نے سندھ ایلوپیتھک نظام (غیر مجاز استعمال کی روک تھام) ایکٹ -2014 کے قواعد کی بھی منظوری دی تاکہ ادویات کے ایلوپیتھک نظام کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

    کابینہ نے سندھ میں وکلاکی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے لیے سندھ لائرز ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن بل 2021 کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے سندھ بلڈ ٹرانسفیوڑن اتھارٹی کے ضوابط کی بھی منظوری دی۔

    کابینہ نے محکمہ صحت کی درخواست پر سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز (SIEHS) بنانے کی تجویز کی منظوری دی محکمہ صحت ایک ڈونر ایجنسی کے تعاون سے 200 ایمبولینسوں کا بیڑا شامل کر رہا ہے جو کہ SIEHS کے تحت کام کرے گا۔

    کابینہ نے نئی تشکیل شدہ کمپنی SIEHS کے لیے 500 ملین روپے کی سیٹ اپ لاگت کی منظوری بھی دی۔کابینہ نے وضاحت کے لیے ایس آر بی قوانین کے کچھ حصوں میں ترمیم بھی کی۔

    ایس آر بی نے ایک آئٹم پیش کیا جس کے تحت 5 فیصد ایس ایس ٹی اسکول فیس اور نجی صحت کے اداروں پر عائد کرنے کی تجویز دی تھی جسے کابینہ نے مسترد کر دیا۔

  • محرم الحرام :مجالس اور جلوسوں کے روٹس پر سیکیورٹی کےاقدامات کو مربوط اور منظم بنایا جائے    آئی جی سندھ

    محرم الحرام :مجالس اور جلوسوں کے روٹس پر سیکیورٹی کےاقدامات کو مربوط اور منظم بنایا جائے آئی جی سندھ

    آئی جی سندھ نے کہا کہ محرم الحرام سال 2021 کے موقع پر منعقدہ جملہ مجالس، برآمد ہونیوالے چھوٹے بڑے جلوسوں،مجالس کے مقامات،جلوسوں کے روٹس پر سیکیورٹی کے مجموعی اقدامات کو مربوط اور منظم بنایا جائے۔

    باغی ٹی وی : محرم الحرام کے موقع پر ممکنہ حساس علاقوں میں اسپیشل برانچ اور علاقہ تھانہ پولیس تمام تر سیکیورٹی امور واقدامات کو باہم روابط کے تحت انتہائی ٹھوس اور غیرمعمولی بنائےیہ ہدایات آئی جی سندھ نے محرم الحرام کےحوالے سےشہید بینظیرآباد رینج میں سیکیورٹی اقدامات کے جائزے پر مشتمل ویڈیو لنک اجلاس کے دوران دیں۔

    اجلاس میں ڈی آئی جی ایس بی اے اور تمام ضلعی ایس ایس پیز کے علاوہ اہل تشیع علماء بھی ذریعہ ویڈیو لنک موجود تھے جبکہ ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز سندھ،اے آئی جیز آپریشنز اور ایڈمن سی پی او نے براہ راست اجلاس میں شریک تھے۔

    کراچی پولیس کامحرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کےلئے سخت انتظامات

    آئی جی سندھ نے کہا کہ محرم الحرام سال 2021 کے موقع پر منعقدہ جملہ مجالس، برآمد ہونیوالے چھوٹے بڑے جلوسوں،مجالس کے مقامات،جلوسوں کے روٹس پر سیکیورٹی کے مجموعی اقدامات کو مربوط اور منظم بنایا جائے۔علاوہ اذیں محرم کے موقع پر کورونا وائرس کے ایس او پی پر عمل درآمدی اقدامات کو یقینی بنانیکے ضمن میں پولیس کے ساتھ ساتھ محرم کے مرکزی جلوسوں، مجالس کے شرکاء میں ماسک،ہینڈ گلوز/دستانے, سینیٹائزر کے استعمال پر بھی خصوصی توجہ دی جائے اور سماجی فاصلہ(سوشل ڈسٹینس) کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

    اس موقع پر شہید بینظیرآباد پولیس رینج کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے میں شریک اہل تشیع علماء/ذاکرین محمد حسین چانڈیو،غلام عباس،عطاءچانڈیو، جام فیروز انڑ،مظفر علی ہزارہ،فہد خان وسان،اللہ جریو ڈھری،امتیاز عرف بابو مری،سید شبیر حسین شاہ،سید نوید شاہ،زروار انوارالحسن زروارجمیل الرحمان، زروارامجدعلی جعفری،ڈاکٹرممتاز میمن اورغلام مجتبٰی میمن پر مشتمل وفد نے محرم سیکیورٹی اقدامات پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور پولیس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا اعادہ کیا اور یقین دہانی کرائی۔