کورونا وبا کے دوران وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کی خدمات کے اعتراف میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وزیراعلیٰ آفس میں منعقدہ ہونے والی تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار تھے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور ڈبلیو ایچ او کے کنٹری ہیڈ برائے پاکستان ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالاگنا رتنے نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر عثمان بزدار کا کہنا تھا کے عالمی سطح پر ڈاکٹر یاسمین راشد کی خدمات کا اعتراف پنجاب حکومت کے لئے باعث فخر ہے اور ڈاکٹر یاسمین راشد نے کورونا وباء کے دوران فرنٹ لائن پر رہ کر فرائض سرانجام دیئے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کے محکمہ صحت کو کورونا وباء سے نمٹنے کیلئے ہر طرح کے وسائل فراہم کئے گئے ہیں لیکن گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران پنجاب میں کورونا کے 2451 مریض سامنے آئے اور اس وقت پنجاب میں کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد20274 ہو چکی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے باعث43 اموات ہوئیں جو کہ قُل تعداد پنجاب میں اب تک 6140 ہو چُکی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 17,315 ٹیسٹ کئے گئے ہیں جس کی اب تک کی قُل تعداد 3,719,232 ہے۔ کورونا کی تیسری لہر کے دوران شہری احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور ہدایت دی کے انسداد کورونا کیلئے حکومتی گائیڈلائنز پھر عمل کرنا شہریوں کے اپنے مفاد میں ہے۔ عثمان بزدار کا یہ بھی کہنا تھا کے عوام کی زندگیوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ پنجاب میں 60 سال سے زائد عمر کے شہریوں کو ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے۔
کنٹری ہیڈ ڈبلیو ایچ او کا اس موقع پر کہنا تھا کے کورونا وبا کے دوران ڈاکٹر یاسمین راشد نے بے مثال خدمات سرانجام دیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے کورونا وباء کے دوران فرنٹ لائن پر خدما ت سر انجام دیں اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے بہترین کام کیا اور ہزاروں زندگیاں بچائیں۔اس موقع پر ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کے ہم وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی سربراہی میں پنجاب میں کورونا وبا کی تیسری لہر سے نمٹنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور ایوارڈ پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور عالمی ادارہ صحت کی شکر گزار ہوں۔
Category: لاہور
-

ڈاکٹر یاسمین راشد نے بے مثال خدمات سرانجام دیں: کنٹری ہیڈ ڈبلیو ایچ او
-

مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی کی وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی اشرف انصاری سے ملاقات ہوئی۔ یونس انصاری اور طاہر بشیر چیمہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اشرف انصاری اور یونس انصاری کا گوجرانوالہ کے لئے اربوں روپے کا ترقیاتی پیکیج دینے پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو خراج تحسین پیش کیا۔ اشرف انصاری کا کہنا تھا کے آپ نے یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کر کے گوجرانوالہ کے لوگوں کے دل جیت لئے ہیں۔ آپ کی قیادت میں گوجرانوالہ ترقی کرے گا اور عوام کے مسائل حل ہوں گے۔ شہر کی صفائی کے لئے جی ڈبلیو ایم سی کو 106گاڑیاں فراہم کرنا قابل تحسین ہے۔ اس موقع پر یونس انصاری کا کہنا تھا کے ماضی میں گوجرانوالہ کی صفائی اور دیگر بنیادی مسائل کو بری طرح نظر انداز کیا گیا تھا۔ گوجرانوالہ کو لاہور سیالکوٹ موٹروے سے منسلک کرنے سے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل ہوں گے۔ ہمیں آپ کی قیادت پر بھرپور اعتماد ہے۔ عثمان بزدار کا اس موقع پر کہنا تھا کے صوبہ کے تمام شہروں کی یکساں ترقی ہمارا عزم ہے۔ خدمت کے جذبے سے کام کررہے ہیں۔ عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے ہر وقت دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ گوجرانوالہ کے ترقیاتی منصوبوں کی خود مانیٹر نگ کروں گا اور ترقیاتی منصوبوں کو بروقت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ گوجرانوالہ میرا اپنا شہر ہے اور اس کے مسائل پر میری پوری نظر ہے۔ اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے عثمان بزدار نے کہا کے اپوزیشن کا منفی بیانیہ عوام نے مسترد کردیاہے اور پی ڈی ایم مکافات عمل کا شکار ہو کر ٹوٹ چکی ہے۔ پی ڈی ایم بے سمت دوڑنے والا سیاسی ہجوم ہے۔
-

اداروں پر چڑھائی این آر او کے لئے، ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ
ڈسکہ ضمنی الیکشن کا فیصلہ،اور مریم نواز کی نیب پیشی، سپریم کورٹ کے کیخلاف مہم: نوازشریف اورمریم نے عدلیہ پرحملے کی پھرتاریخ دہرادی،اطلاعات کے مطابق این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے جج کے خلاف ٹویٹر پر مہم چلائی گئی۔
ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم میں بینچ میں شامل جج کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی، جن ٹویٹر اکاؤنٹ سے مہم چلائی جارہی ہے بیشتر کو مریم نواز فالو کرتی ہیں۔
دوسری طرف ن لیگی حلقوں کی طرف سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ نوازشریف سپریم کورٹ کے اس فیصلے پربہت زیادہ مشتعل ہیں اوروہ میڈیا کے ذریعے سخت ردعمل دینا چاہتے تھے لیکن پھران کوساتھیوں نے روک دیا کہ عوام اس کو قبول نہیں کریں گے
جسٹس عمر عطا بندیال کےخلاف ن لیگی میڈیا سیل کی جانب سے 19 منٹ میں 25 مختلف اکاؤنٹس سے 50 ٹویٹس کیے، مریم نواز ان 25 میں سے 20 اکاؤنٹس کو خود فالو کررہی ہے
جسٹس عمر عطا بندیال کےخلاف ن لیگی میڈیاسیل نےپہلے 19 منٹ میں 25 مختلف اکاؤنٹس سے 50 ٹویٹس کیے، مریم ان 25 میں سے 20 اکاؤنٹس کو خود فالو کررہی ہے
پہلے 50 ٹویٹس تک پہنچنے کیلیے #MicrosoftExcel میں بنی ہوئی پوری ڈیٹابیس اس لنک سے ڈاؤنلوڈ کریں https://t.co/UTfxwG8SnR@cybercrimefia pic.twitter.com/5nAE5WxXK5
— Nadeem Zaidi (@_NadeemZaidi) March 25, 2021
دوسری جانب مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر بھی ن لیگ نے منصوبہ بندی کر رکھی تھی،اسی لئے مریم نواز کارکنان کے ساتھ پیشی پر آ رہی تھیں تا کہ پچھلی پیشی کی طرح ہنگامہ آرائی ہو، سوشل میڈیا پر بھی نیب پر اور مریم کی پیشی پر تنقید کی گئی تا ہم نیب نے کرونا کی وجہ سے نیب پیشی منسوخ کر دی
ن لیگی میڈیا سیل کی جانب سے اور مریم نواز کے حمایت یافتہ ٹویٹر اکاؤنٹس کے ٹویٹ کے بعد ٹویٹر پر ایک اور ٹرینڈ اداروں پر چڑھائی این آر او کے لئے ٹرینڈ چلایا گیا جس میں صارفین نے اپنے جذبات کا اظہار کیا.
چند سیاسی گھرانوں نے اپنے پالتو رکھے ہوئے ہیں میڈیا میں جوڈیشری میں اور اب یہ اداروں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جب قانون سوال کر رہے ہیں#اداروں_پہ_چڑھائی_NRO_کیلیے@TeamPakAlpha_ pic.twitter.com/1VjTc65ucc
— Khalid (@KhalidHu7) March 26, 2021
سی طرز سیاست جہاں سفاکی ، مکاری ، عیاری ، ابنلوقتی ، جھوٹ ، بہتان اور لوٹ مار کا دور دورہ ہو اور سیاستدان میک اپ کی دبیز تہوں اور سفید لباس میں اپنا مکروہ چہرہ اور جسم چھپا لیں اور عوام ، اہل علم اور شرفاء کی نظر میں پھر بھی معتبر ٹہریں .#اداروں_پہ_چڑھائی_NRO_کیلیے @MAJOfficial pic.twitter.com/Pvoknvlp9T
— ریگستانی ناگن (@r_nagan) March 26, 2021
#اداروں_پہ_چڑھائی_NRO_کیلیے پاکستان کے اداروں کو گذشته دور میں تباه کیا گیا۔ ہر دور میں مخصوص خاندانوں کوNRO ملتے رہے جسکی وجہ سے مافیاز ابھی طاقت ور ہوچکا مگر موجوده حکومت کی کوششیں رنگ لا ہیں گی . pic.twitter.com/WekaMV4tp2
— .Khan (@MZk64201446) March 26, 2021
PTIofficial: چوری اور پھر سینہ زوری!
جیسے نواز شریف نے نوے کی دہائی میں سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا مریم صفدر نے بھی 2020 میں وہی تاریخ دہرائی اور جتھے لے کر نیب دفتر پر حملہ کیا۔ کیوں کہ انکی #اداروں_پہ_چڑھائی_NRO_کیلیے ہے جو کہ انکو نہیں ملنے والا۔— Shahzad Rasool (@ishahzadrasool) March 26, 2021
-

شہباز شریف سے عدالت میں اہم شخصیت کی ملاقات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت لاہور میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت 3اپریل تک ملتوی کر دی گئی
ن لیگی رہنما خواجہ سلمان رفیق نے عدالت میں حاضری لگوائی،عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہان کو بیان قلمبند کرانے کے لیے طلب کر لیا ،خواجہ سعد رفیق عدالت دیر سے پیش ہوئے، جج نے سوال کیا کہ خواجہ سعد رفیق ابھی تک کیوں نہیں آئے؟ خواجہ سعد رفیق وقت پر پہنچا کرے، ایسے انتظار نہیں کر سکتے،
قبل ازیں احتساب عدالت لاہور میں منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت آدھے گھنٹے تک ملتوی کر دی گئی، شہباز شریف اور حمزہ شہباز عدالت پیش ہوئے،ا سپیشل پراسیکیوٹر نیب عثمان جی راشد چیمہ اور عاصم ممتاز عدالت میں پیش ہوئے
خواجہ سعد رفیق کی کمرہ عدالت میں شہباز شریف سے ملاقات ہوئی،ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی، حمزہ شہباز نے بھی اپنے والد شہباز شریف سے ملاقات کی اور موجودہ سیاسی صورتحال پر بات چیت کے علاوہ سپریم کورٹ کے ڈسکہ ضمنی الیکشن فیصلے، مریم نواز کی نیب پیشی بارے بات چیت ہوئی، شہباز شریف نے حمزہ شہباز کو اہم ہدایات دیں
شہباز شریف اور میاں حمزہ شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر شائستہ پرویز ملک، علی پرویز ملک اور شیر شاہدرہ چوہدری واحد احمد سمیت دیگر احتساب عدالت میں موجود تھے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،
-

عدالتوں کو مذاق بنا رکھا ہے؟ خواجہ آصف کیس میں چیئرمین نیب سے جواب طلب
عدالتوں کو مذاق بنا رکھا ہے؟ خواجہ آصف کیس میں چیئرمین نیب سے جواب طلب
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت لاہو رمیں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئیعدالت نے خواجہ آصف کے مزید 8 اپریل تک جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کر دی عدالت نے جیل حکام کو 8 اپریل کو خواجہ آصف کو پیش کرنے کا حکم دے دیا عدالت نے آئندہ سماعت پر جیل سپرنٹنڈنٹ سے رپورٹ طلب کر لی،عدالت نے خواجہ آصف کا ریفرنس دائر نہ کرنے پر نیب چیئرمین سے جواب طلب کر لیا،خواجہ آصف کی میڈیکل رپورٹ ڈپٹی جیل سپرنٹنڈنٹ نےجمع کرائی
دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی تک ریفرنس دائر کیوں نہیں کیا گیا ؟ کیا مسئلہ ہے آپ نے ابھی تک کیوں نہیں ریفرنس دائر نہیں کیا،آپ نے عدالتوں کومذاق بنا رکھا ہے، ایک ملزم اور4 گواہ ہیں ،آپ اسکا ریفرنس ابھی تک نہیں بنا سکے، آپ کی وجہ سے عدالتیں بدنام ہوتی ہیں، اگر آپ نے ایسے ہی کیا تو ملزم بری یا آسانی سے رہا ہو سکتا ہے،
-

معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین کی وفات،مبشر لقمان و دیگر کا اظہار افسوس
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معروف ڈرامہ وناول نگار حسینہ معین وفات پا گئی ہیں
حسینہ معین کراچی میں رہائش پذیر تھیں، انکے اہل خانہ نے افسوسناک خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حسینہ معین کی نماز جنازہ آج بعد نماز عصر نارتھ ناظم آباد بلاک آئی میں ادا کی جائے گی۔ حسینہ معین طویل عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔ حسینہ معین نے ان کہی، تنہا ئیاں اور دھوپ کنارے سمیت متعدد یادگار ڈرامے تخلیق کیے۔
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سمیت اہم سیاسی، سماجی ،ادبی شخصیات نے حسینہ معین کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور انکے لئے دعائے مغفرت کی ہے
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر حسینہ معین کے نام کا ٹرینڈ چل رہا ہے جس میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے
very sad news
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ pic.twitter.com/okUkG7Fn3A— Mubasher Lucman (@mubasherlucman) March 26, 2021
حسینہ معین نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے پاکستان اور بیرون پاکستان بہت سے ڈرامے لکھے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی بھی دیا گیا۔حسینہ معین پاکستان کی مشہور ادیبہ اور ڈرامہ نویس حسینہ معین 20 نومبر 1941ء کو اترپردیش کے شہر کان پور میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی اور تقسیم ہند کے بعد ان کا گھرانہ راولپنڈی میں آباد ہوا مگر جلد ہی لاہور منتقل ہوگیا۔ 50 کی دہائی میں کراچی آئیں اور اپنی خداداد صلاحیت کی بنا پر بطور ادیب لکھنا شروع کیا،
-

لاہور پریس کلب کی جانب سے سینئر صحافی کو قتل کی دھمکیاں دینے کی شدید مذمت سامنے آگئی
لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری ، سینئرنائب صدر جاوید فاروقی ، نائب صدر سلمان قریشی ، سیکرٹری زاہد چوہدری ، جوائنٹ سیکرٹری خواجہ نصیر ، خزانچی زاہد شیروانی اور اراکین گورننگ باڈی نے لاہور پریس کلب کے کونسل ممبراور 92 نیوز کے سینئراینکرپرسن رانا محمد عظیم کو بدنام زمانہ بد معاش افتخار بھولا کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دینے کی پرزور مذمت کی ہے ۔ انھوںنے اپنے مذمتی بیان میں غنڈہ عناصر افتخار بھولا کی جانب سے سینئر صحافی رانا محمد عظیم کو جان سے مار دینے کی دھمکیوںپر گہری تشویش کا اظہا رکیا ہے،
انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کی اچھی بری تمام خبریں عوام کے سامنے لاتے ہیں مگر صحافیوں کو کسی بھی فورم پر تحفظ حاصل نہیں ہے، سینئر صحافی کو سرعام قتل کی دھمکیاں دینا لاقانونیت کا بدترین مظاہرہ ہے جو صحافی برادری کے لئے کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزم افتخار بھولا کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور سینئر صحافی رانا محمد عظیم کو تحفظ فراہم کیا جائے وگرنہ صحافی برادری احتجاج کرنے پر حق بجانب ہوگی ۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیز ٹو ورکنگ گروپ کے صدر خالد فاروق۔جنرل سیکرٹری طارق چوہدری۔سنئیر نائب صدر فرید بابر ۔نائب صدر عید محمد ۔نائب صدر محمد ارشاد ۔جوائنٹ سیکرٹری سہیل کوثر ۔سیکرٹری انفارمیشن جبار صدیقی ۔نچارج اقلیتی امور طاہر وکی ۔
نے92کے سنئیر اینکر پرسن رانا محمد عظیم کو بدنام زمانہ بدمعاش افتخار بھولا کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے صدر خالد فاروق نے آئی جی پنجاب انعام غنی سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر سےمطالبا کہاہےکہ وہ فوری طور پر بدنام زمانہ افتخار بھولا کیخلاف کارروائی کرنے کا حکم جاری کریں اجلاس میں پولیس حکام سے سنئیر صحافی رانا محمد عظیم کی سکیورٹی کافوری فول پروف بنانے کامطلبا بھی کیاگیا خالد فاروق نے کہا کہ اگر افتخار بھولا کیخلاف کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو بھر پور احتجاج کیا جائے گا ۔
-

معاون خصوصی ملک عمر فاروق نے پختون یوتھ کونسل سے ملاقات کے دوران حکومت دشمن عناصر کو تنقیدی نشانہ بنایا
فیصل آباد ممبر صوبائی اسمبلی اور وزیر اعلی پنجاب کے معاون خصوصی ملک عمر فاروق نے کہا ہے کہ سیاسی لاوارثوں کا مسترد شدہ ٹولہ پاکستان کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا، پاکستان کے باشعور لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ پی ڈی ایم پاکستان دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،
پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی تمام سازشیں ناکام ہونگی، عمران خان کا ہر سپاہی اس ملک کا محافظ اور رکھوالا ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے پی ٹی آئی پختون یوتھ کونسل لاہور کے بارہ رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا .جنہوں نے آج یہاں روزی خان کی قیادت میں ان سے ملاقات کی۔
ملک عمر فاروق نے کہا کہ مریم صفدر کا ملکی اداروں پر لشکر کشی کا اعلان ملک دشمن طاقتوں کا ایجنڈا ہے جس کی ہر ذی شعور شہری پرزور مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کی آڑ میں کسی کو انتشار پھیلانے اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
-

وزیر اعلی پنجاب سینئر اینکر پرسن رانا عظیم کو قتل کی دھمکیوں کانوثس لیں۔
صدر فیز ٹو ورکنگ گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب 92کے سنئیر اینکر پرسن رانا عظیم کو قتل کی دھمکیوں کانوثس لیں۔ ملک بھر کی صحافی برادری راناعظیم کیساتھ کھڑی ہے ۔صحافی برادری بدنام زمانہ افتخار بھولا کی دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں، آئی جی پنجاب انعام غنی سی سی پی او غلام محمود ڈوگر افتخار بھولا کیخلاف کارروائی کا حکم دیں
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیز ٹو ورکنگ گروپ کے صدر خالد فاروق۔جنرل سیکرٹری طارق چوہدری۔سنئیر نائب صدر فرید بابر ۔نائب صدر عید محمد ۔نائب صدر محمد ارشاد ۔جوائنٹ سیکرٹری سہیل کوثر ۔سیکرٹری انفارمیشن جبار صدیقی ۔نچارج اقلیتی امور طاہر وکی ۔نے92کے سنئیر اینکر پرسن رانا محمد عظیم کو بدنام زمانہ بدمعاش افتخار بھولا کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے
صدر خالد فاروق نے آئی جی پنجاب انعام غنی سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر سےمطالبا کہاہےکہ وہ فوری طور پر بدنام زمانہ افتخار بھولا کیخلاف کارروائی کرنے کا حکم جاری کریں اجلاس میں پولیس حکام سے سنئیر صحافی رانا محمد عظیم کی سکیورٹی کافوری فول پروف بنانے کامطلبا بھی کیاگیا خالد فاروق نے کہا کہ اگر افتخار بھولا کیخلاف کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو بھر پور احتجاج کیا جائے گا ۔
-

ورلڈکپ 1992 کی شاندار فتح کی انتیسویں سالگرہ
مصباح الحق، یونس خان، محمد حفیظ اور ندا ڈار نے ورلڈکپ 1992 سے جڑی اپنی بچپن کی یادوں کو تازہ کی۔ ورلڈکپ 1992 کی چیمپئن ٹیم کے رکن عامر سہیل، عاقب جاوید اور مشتاق احمد کی قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں کو فاتحانہ سوچ اپنانے کے لیے مفید مشورے دئیے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نےاپنے ڈیجٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ 1992 کی تاریخی فتح کی انتیسویں سالگرہ کا جشن منایا۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے ایونٹ کے فائنل میں انگلینڈ کو 22 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
اس موقع پرنہ صرف پی سی بی نے اپنے مداحوں کے لیے فاتحانہ لمحات کی یادیں تازہ کیں بلکہ یہ بھی واضح کیاکہ اس تاریخی فتح نےکیسے پاکستان میں بسنے والی ایک نسل کو اس کھیل سے روشناس کروایا۔
قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ اور سال 2016 میں آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر پہنچنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا تھا کہ یہ فتح پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، انہیں آج بھی یاد ہے کہ وہ اس وقت ایف ایس سی کے طالب علم تھے اور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ کے ٹائم زون کی وجہ سے انہیں ورلڈکپ کے میچز دیکھنے کے لیے صبح جلدی اٹھنا پڑھتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس تاریخی فتح نے ان میں کرکٹ کا شوق پیدا کیا، ورلڈکپ سے قبل وہ صرف ٹیپ بال سے کرکٹ کھیلا کرتے تھے مگر پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیمپئن بننے کے بعد انہوں نے باقاعدہ ہارڈبال سے کرکٹ کھیلنا شروع کی۔مصباح الحق نے مزید کہا کہ اس ورلڈکپ میں عمران خان کی ولولہ انگیز قیادت، بطور ایک سینئر کرکٹر جاوید میانداد کاکردار اور انضمام الحق، وسیم اکرم اور عاقب جاوید کی بحیثیت نوجوان کرکٹر کارکردگی قابل دیدتھی، انہوں نے اپنے کرکٹ کیرئیر کے دوران ان کرداروں سے بھرپور رہنمائی حاصل کی۔
قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ بیٹنگ کوچ اور دس ہزار ٹیسٹ رنز بنانے والے کلب کے واحد پاکستانی رکن یونس خان کاکہنا تھا کہ وہ اس وقت چھٹی یا ساتویں جماعت کے طالب علم تھے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کا مہینہ تھا مگر وہ ورلڈکپ کے میچز دیکھنے کی غرض سے سارا دن ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے رہتے تھے۔
یونس خان نے کہا کہ انہیں آج بھی اس ورلڈکپ کے فائنل میں پھینکی گئی ایک ایک گیند یادہےاوریہ جیت سال 2009 میں کھیلے گئے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے دوران ان کی حوصلہ افزائی کاباعث بھی بنی۔
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017 کی فاتح پاکستان کرکٹ ٹیم کے رکن محمد حفیظ کا کہناتھا کہ تمام پاکستانیوں کے لیے یہ ایک قابل فخر لمحہ تھااور اس فتح نے انہیں کرکٹ کھیلنے پر متاثر کیا، اس وقت ان کی عمر 12 سال تھی۔
ویمنز ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کی سب سے کامیاب باؤلر ندا ڈار نے کہا کہ یوں تو وہ اس وقت پانچ سال کی تھیں مگر پاکستان کے ورلڈ چیمپئن بننے پر ان کے گھر میں جس جوشیلے انداز سےخوشی منائی گئی وہ انہیں آج بھی یاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ وقت تھا کہ جب انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ بھی ایک دن ملک کی نمائندگی کریں گی ۔
آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2006 اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017 کی فاتح پاکستان کرکٹ سائیڈز کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ اس تاریخی فتح کے وقت ان کی عمر پانچ سال تھی، یاد ہے کہ انہوں نے کرکٹ کھیلنے کا آغاز بھی ورلڈکپ کے بعد ہی کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس تاریخی فتح میں اہم کردار ادا کرنے والے انضمام الحق، معین خان اور مشتاق احمد ہمارے لیجنڈز بنے،یہ کامیابی آج بھی ہمارے کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب بنتی ہے۔
دوسری طرف ورلڈکپ 1992 کی چیمپئن ٹیم کے رکن عامر سہیل، عاقب جاوید اور مشتاق احمد نے قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں کو فاتحانہ سوچ اپنانے کے لیے مفید مشورےدئیے۔
ٹورنامنٹ میں 32.60کی اوسط سے 326 رنز بنانے والے عامر سہیل نے امام الحق،حیدر علی، آصف علی، عبداللہ شفیق، دانش عزیزاور عماد بٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچز میں بھاری مارجن سے شکست کے باوجودہمارے پاس اگلے راؤنڈ میں رسائی کا موقع موجود تھا، ایسے میں آسٹریلیا کے خلاف میچ ہمارے لیے مارو یا مرجاؤ کی حیثیت اختیار کرگیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس میچ سے قبل ٹیم کا ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا جہاں سینئر اور جونیئر تمام کھلاڑی مدعو تھے اور ہمیں یہاں اپنی غلطیوں کی نشاندہی کا کہا گیا۔عامر سہیل نے کہا کہ یہ اجلاس ہمارے لیے ایونٹ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا اور اس کے بعد ہم نے پیچھے موڑ کر نہیں دیکھا۔
ا نہوں نے کہا کہ ہمیں کرکٹ میں مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم اگر آپ کی تکنیک اچھی ہے تو آپ ان چیلنجز سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ٹورنامنٹ میں11 وکٹیں حاصل کرنے والے عاقب جاوید نے شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خود اعتمادی کی کمی کی وجہ سےکسی بھی کرکٹر کی فارم خراب ہو جاتی ہے مگر فاتحانہ سوچ کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود پر اعتماد کریں۔انہوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے ابتداء میں ہی پے درپے شکستوں کی وجہ سے ہمیں خود پر اعتماد نہیں تھا مگر ہمارےکپتان عمران خان کو ہم پر اعتماد تھا اور پھر آسٹریلیا کے خلاف جیت نے ہمارا اعتماد اتنا بڑھا دیا کہ ہم فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
ٹورنامنٹ کے 9 میچز میں 16 وکٹیں حاصل کرنے والے مشتاق احمد نے شاداب خان اور عثمان قادر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک چیمپئن کبھی ہار نہیں مانتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب ہمت ہار چکے تھے مگر عمران خان کے حوصلے بلند تھے، انہیں ہم پر یقین تھا، وہ ہماری حوصلہ افزائی کرتے رہے اور بالآخر ہم نے تقدیر بدل دی۔
مشتاق احمد نے کہا کہ فائنل میں ہماری ٹیم کا ایک ایک کھلاڑی خود اعتمادی کی ایک مثال تھا، ہم سب کو یقین تھا کہ یہ میچ ہم ہی جیتیں گے، انگلینڈ کے گریم ہک اس وقت ایک اچھی فارم میں تھے مگرمیرے اعتماد کا عالم یہ تھا کہ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے انہیں لیگ اسپن کھیلنی ہی نہیں آتی اور وہی ہوا کہ وہ میری گگلی پر آؤٹ ہوگئے۔
سابق کرکٹر نے کہا کہ 1992 ورلڈکپ کی فتح ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے، خود پراعتماد کرنا چاہیے اور آخری وقت تک لڑنا چاہیے۔