اڈیالہ جیل میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کی نگرانی میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ شروع کر دیا گیا ہے، جس کی تصدیق جیل انتظامیہ نے کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں کے ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم معائنے میں شریک ہے، جبکہ اسلام آباد کے معروف اسپتالوں کے ڈاکٹرز بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے تفصیلی معائنے کے لیے ہولی فیملی اسپتال سے خصوصی طبی آلات بھی جیل منتقل کیے گئے ہیں تاکہ مکمل طبی جانچ ممکن بنائی جا سکے۔
جیل حکام کے مطابق طبی معائنے کی رپورٹ مرتب کیے جانے کے بعد متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا جائے گا۔
Category: لاہور

ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں بانی پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ شروع

لاہور جمخانہ انتخابات : دو پینلز کی 6،6 نشستیں
لاہور جم خانہ کی مینیجمنٹ کمیٹی کے انتخابات میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد سلمان صدیق، میاں مصباح الرحمن گروپ اور مناپلی بریکر پینل نے 12 میں سے 6،6 نشستیں حاصل کر کے برابری قائم کر دی۔
جمخانہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ دو مختلف پینلز برابر نشستیں لے کر سامنے آئے ہیں،گزشتہ روز ہونے والے انتخاب میں تین مختلف پینلز کے مجموعی طور پر 39 امیدوار مدِ مقابل تھے کلب کے تقریباً 55 سو ممبران میں سے 3158 ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا، جس سے انتخابی عمل میں غیر معمولی دلچسپی ظاہر ہوئی۔
مناپلی بریکر پینل کے ڈاکٹر علی رزاق 1772 ووٹ لے کر سرفہرست رہے سلمان صدیق 1733 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر کامیاب قرار پائے جبکہ میاں مصباح الرحمن نے 1700 ووٹ حاصل کیے واجد عزیز خان 1693، کامران لاشاری 1637، سردار احمد نواز سکھیرا 1549 اور سرمد ندیم 1536 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ دیگر کامیاب امیدواروں میں ڈاکٹر جواد ساجد (1328)، تسنیم نورانی (1297)، میاں پرویز بھنڈارا (1268)، ضیاء الرحمن خان (1220) اور مسز سمیرا نذیر (1201) شامل ہیں۔
نتائج کے بعد دونوں گروپس کے درمیان چیئرمین کے عہدے کے لیے جوڑ توڑ اور مشاورت کا سلسلہ تیز ہونے کا امکان ہے۔

نجی کمپنی کے مالک کی ساتھی کیساتھ مل کر ملازم حاملہ خاتون سے اجتماعی زیادتی
لاہور: کاہنہ میں حاملہ خاتون سے اجتماعی زیادتی پر کاہنہ پولیس نے 15 کال پر فوری کارروائی کرتے ہوئے زیادتی میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو جوہر ٹاؤن سے ٹریس کیا گیا مقدمے کی کارروائی کی نگرانی ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی خود کر رہی تھیں، متاثرہ خاتون سات ماہ کی حاملہ تھی اور نجی کٹرنگ کمپنی کے ساتھ بطور ویٹر منسلک تھی، کٹرنگ کمپنی کے مالک نے بہانے سے خاتون کو ڈیفنس روڈ پر واقع نجی سوسائٹی کے ایک گھر بلایا، جہاں اس نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن کے مطابق ایک ملزم نے خاتون کو زیادتی سے منع کرنے پر تھپڑ بھی مارا واقعے پر تھانہ کاہنہ میں دفعہ 375A کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے گرفتار ملزمان عباس اور اعظم کو مزید تفتیش کے لیے جینڈر سیل کے حوالے کر دیا گیا ہے، ایس پی شہربانو نقوی نے کہا کہ خواتین کا استحصال کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پولیس اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی۔
مریم نوازکی زیر صدارت اجلاس میں پولیس نظام میں بہتری، شفافیت اور عوام دوست رویے کو یقینی بنانے کے لیے شارٹ، مڈ اور لانگ ٹرم پلان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب بھر میں 14 ہزار باڈی کیمز اور 700 پینک بٹن نصب کیے جائیں گے جبکہ ہر پولیس اسٹیشن کے کم از کم 10 اہلکاروں کو باڈی کیم فراہم کئے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے باڈی کیمز کے لیے فنڈز کی منظوری بھی دے دی، تھانوں کے باہر پولیس سے متعلق شکایات کے فوری ازالے کے لیے پینک بٹن نصب کیے جائیں گے۔
حکومت نے انوسٹی گیشن کے عمل کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ، ایف آئی آر کی آن لائن ٹریکنگ سسٹم اور کاغذات و شناختی کارڈ کی گمشدگی کی ایف آئی آر آن لائن درج کرانے کا نظام متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، بریفنگ میں کہا گیا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پولیس صرف پانچ سوالات کر سکے گی تاکہ تاخیر ختم ہو اور مجرم فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر شہری کو ”سر“ کہہ کر مخاطب کیا جائے اور کسی پولیس اہلکار کو سر یا جناب کے بغیر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے چھوٹی شکایات 2 سے 3 گھنٹوں میں حل کرنے، 80 منٹ کے رسپانس ٹائم کو یقینی بنانے اور سائلین کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کی تاکید کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں مجموعی جرائم میں 48 فیصد جبکہ بڑے جرائم میں 80 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، ساہیوال اور گجرات جیسے شہروں میں بڑے جرائم کی کالز نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ پراپرٹی تنازعات میں کمی سے بھی جرائم میں کمی آئی ہے، ہر سال ایک کروڑ 68 لاکھ افراد تھانوں کا رخ کرتے ہیں جن میں سے 68 فیصد پولیس خدمت مراکز کی سروسز کے لیے آتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے عوام کو نہیں انہوں نے ہراسمنٹ کی شکایات پر توہین آمیز رویے کے خاتمے، خواتین کی حوصلہ افزائی اور غریب افراد کے اعتماد کی بحالی پر زور دیا۔
مزید برآں، ٹریفک کو لین میں چلانے کی پابندی، ٹریفک پولیس ون ایپ اور سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کے آغاز، سٹیزن مینجمنٹ سسٹم اور ای ٹیگ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کا بھی اعلان کیا گیا، وزیراعلیٰ نے آئی جی اور سینئر افسران کو خود عوامی فیڈ بیک لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اوپر کی سطح پر کرپشن ہوگی تو اس کے اثرات تھانے تک جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوام سے بڑا کوئی وی آئی پی نہیں، وی آئی پی موومنٹ کے نام پر شہریوں کی تذلیل برداشت نہیں کی جائے گی اگر ابھی اصلاحات نہ کیں تو پھر کبھی نہیں کر سکیں گے، قانون کو بلا امتیاز نافذ کرنے کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، اب پولیس میں رویوں کی تبدیلی ناگزیر ہے

آلو کے کاشتکاروں کیلئے وزیراعلی پنجاب نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا
آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری سامنے آگئی- آلو کے کاشتکاروں کی مشکلات کے ازالے اور منافع میں اضافہ کے لیے وزیراعلی مریم نواز شریف نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو خط لکھ دیا -وزیراعلی مریم نواز شریف کے خط میں آلو کی برآمدات بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیاگیاہے-
وزیراعلی مریم نواز شریف کے خط میں نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (NLC) کے ذریعے آلو کی برآمدات میں تیزی لانے کی درخواست کی ہے- خط میں وزیراعلی مریم نواز شریف نے آلو کی برآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی درخواست کی ہے-وزیراعلی مریم نواز شریف نے آلو کی برآمد کے لیے کرائے کی لاگت میں 25 فیصد خصوصی رعایت کی اپیل کی ہے- وزیراعلی مریم نواز شریف نے برآمد کے لیے کاغذی کارروائی میں خصوصی نرمی کی درخواست بھی کی ہے- وزیراعلی مریم نواز شریف کے خط میں یورپی یونین، افریقہ اور امریکہ سمیت عالمی منڈیوں تک رسائی سمیت دیگر ضروری اقدامات کی درخواست کی ہے-وزیراعلی مریم نوازشریف کے اقدامات سے کاشتکاروں کو آلو کی بہتر قیمتیں حاصل ہوں گی-

عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر کی غیرموجودگی میں علاج قبول نہیں کریں گے،علیمہ خان
بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ چیف جسٹس نے ابھی تک بانیٔ پی ٹی آئی کے علاج کے لیے کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
علیمہ خان نے لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر سے تفصیلات اس وقت ملیں جب وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، سلمان صفدر نے بتایا کہ ملاقات کے دوران بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ سے پانی نکل رہا تھا، بانیٔ پی ٹی آئی نے بتایا کہ 3 ماہ سے دھندلا نظر آ رہا تھا، آنکھ درد کی شکایت پر آئی ڈراپس دیے گئے، آنکھ کا علاج نہ کرنے پر جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈاکٹرز مجرم ہیں، رات کو فون آیا تھا کہ اسپتال میں علاج کروا دیں گے مگر ان کے ڈاکٹر اور فیملی ممبر نہیں ہوں گے، ہمیں چُھپا کر علاج کرانا قبول نہیں، بانیٔ پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کی موجودگی کیوں قبول نہیں کر رہے؟ ہم آپ کی رپورٹس پر اعتبار نہیں کریں گے، کے پی کے تمام ایم این ایز، محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے احتجاج پر شکر گزار ہیں۔
دوسری جانب لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 5 اکتوبر کو سڑک بلاک کرنے اور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں علیمہ خان کی عبوری ضمانت میں 13 مارچ تک توسیع کر دی،عدالت نے آئندہ سماعت پر ریکارڈ طلب کر لیا۔

کچے کے ڈاکوؤں کیلیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ، پنجاب اب محفوظ ہے،وزیراعلیٰ پنجاب
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ راجن پور اور کچے کا علاقہ ڈاکوؤں سے 100 فیصد کلیئر کرا لیا گیا ہے۔
کچا میں آپریشن پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں نے ریاست کے اندر ایک ریاست بنائی ہوئی تھی اور خوف کا ماحول پیدا کر رکھا تھا، لوگوں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اغوا کر لیا جاتا تھا، مجھے بتایا گیا تھا کہ کچے میں آپریشن بہت مشکل ہے، ہم نے رحیم یار خان اور راجن پور کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کیا، پاک فوج نے آپریشن کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کی، کچے کے علاقوں میں ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایک ڈاکو کو ٹریک کیا گیا، آپریشن کے دوران جدید ترین سرویلنس اور ہیومن سرویلنس کا استعمال کیا گیا، ڈاکوؤں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون کیمروں کا استعمال کیا گیا، سندھ پولیس اور حکومت سندھ کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے بھی آپریشن میں بھرپور ساتھ دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا راجن پور اور کچے کا علاقہ 100 فیصد ڈاکوؤں سے کلیئر کرا لیا گیا ہے، حکومت کی رٹ ان علاقوں میں بحال ہو گئی ہے، اس آپریشن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، خوف کے علاقے سے قانون کی عملداری کا علاقہ بن گیا ہے، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہے، کچے کے ڈاکوؤں کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے، 500 سے زائد ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا ، الحمدللہ پنجاب اب محفوظ ہے۔

سی ٹی ڈی کی کاروائیاں،پنجاب سے 26 دہشتگرد گرفتار
صوبہ پنجاب میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں ایک ماہ میں کارروائیوں کے دوران مختلف کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 26 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔
سرگودہ سے فتنہ الخوارج کے چار خطرناک دہشت گرد بھاری بارودی مواد اور اسلے سمیت گرفتار کیا، ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے صوبے کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس پر مبنی 286 کارروائیاں کیں، جن میں 286 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور 26 دہشت گردوں کو اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور دیگر ممنوعہ مواد سمیت گرفتار کیا گرفتار دہشت گردوں میں عرفان ۔ضامن علی ۔مجاہد علی ۔فیصل ۔شیراز ۔نعمت اللہ ۔اسامہ ۔غلام یاسین ۔یاسر وغیرہ شامل ہیں ، ان گرفتار دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے ہے گرفتار دہشت گردوں کا تعلق لاہور ۔ساہیوال ۔خوشاب ۔میاںوالی۔ بھکر ۔فیصل اباد ۔جھنگ ۔چکوال ۔راجن پور ۔ناروال ۔پاک پتن سے ہیں،دھماکہ خیز مواد4935 گرام، ڈیٹونیٹرز 19، سیفٹی فیوز وائر 34 فٹ، ای ائی ڈی بم 3. کالعدم تنظیم کے پمفلٹ ، میگزین.پرائمہ کارڈ .موبائل فون اور نقدی دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد کر لی ہے
ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں نے مختلف شہروں میں اہم عمارتوں کو ٹارگٹ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار دہشت گردوں کے خلاف 25 مقدمات درج کر کے ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے 4662 کومبنگ آپریشنز بھی کیے گئے، 160009 افراد کو چیک کیا گیا، 538 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، 516 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 389 بازیابیاں کی گئیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب مستعدی سے محفوظ پنجاب کے اپنے ہدف پر عمل پیرا ہے اور دہشت گردوں اور ریاست دشمن عناصر کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،

بنا اجازت دوسری شادی،پہلی بیوی کو حق مہر کے 10لاکھ دینے کا حکم
لاہور ہائی کورٹ نے بغیر اجازت شادی پر شوہر کو پہلی بیوی کو 10 لاکھ روپے حقِ مہر کی رقم دینے کا حکم دے دیا۔
جسٹس عابد حسین چھٹہ نے مہناز سلیم کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا،عدالت نے درخواست گزار خاتون کی حقِ مہر، خرچ، سامانِ جہیز کی ویلیو کے مطابق رقم دینے کی درخواست منظور کر لی،لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ بیوی سے اجازت کے بغیر ایک اور شادی پر شوہر پہلی بیوی کو مہر کی رقم فوری دینے کا پابند ہے،عدالت نے طلاق مؤثر ہونے تک پہلی بیوی کو ماہانہ 15 ہزار خرچ اور سامانِ جہیز کی ویلیو کے مطابق رقم ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی شق بیویوں کے مالی حقوق کے تحفظ اور من مانی شادیوں کو روکنے کے لیے ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار خاتون نے شوہر سے سامانِ جہیز اور نان نفقے کے لیے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا، موجودہ کیس میں 3 پوائنٹس حقِ مہر کی رقم، خرچہ اور سامانِ جہیز کی واپسی کا تنازع تھا، فیملی کورٹ نے عدت کے دوران 15 ہزار روپے خرچ اور حقِ مہر کے 10 لاکھ روپے ماہانہ 45 ہزار کی قسط کی صورت میں ادا کرنے کا حکم دیا،فیملی کورٹ نے بیوی کو سامانِ جہیز کی ویلیو کے مطابق 10 لاکھ 500 روپے ادا کرنے کا حکم دیا، فریقین نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی، ٹرائل کورٹ نے شوہر کی اپیل جزوی منظور کرتے ہوئے حقِ مہر اور خرچ دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، ٹرائل کورٹ نے سامانِ جہیز کی ویلیو بھی 10 لاکھ 500 روپے سے کم کر 4 لاکھ روپے کر دی، درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، درخواست گزار کے مطابق شوہر نے بغیر اجازت تیسری اور پھر چوتھی شادی کی، درخواست گزار کے مطابق شوہر نے اسے 3 کپڑوں میں گھر سے نکال دیا، فیملی کورٹ کے مطابق شوہر نے زبانی طلاق دی، لہٰذا وہ صرف عدت کے عرصے تک خرچ دینے کا پابند ہے۔
عدالت کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق شوہر نے زبانی طلاق دی جو کہ قانون کی نظر میں جائز نہیں، زبانی طلاق کے قانونی لوازمات پورے کیے بغیر میاں بیوی کے درمیان شادی برقرار رہتی ہے، بیوی کے گھر چھوڑنے پر قانونی جواز موجود ہو تو شوہر طلاق کے مؤثر ہونے تک ماہانہ خرچ دینے کا پابند ہے، ریکارڈ کے مطابق شوہر نے درخواست گزار کو صرف پہلی شادی کا بتایا جس میں بیوی فوت ہو چکی تھی، شادی کے بعد بیوی کو پتہ چلا کہ وہ پہلے سے دوسری شادی کر چکا ہے اور درخواست گزار تیسری بیوی ہے، فریقین کے درمیان یہی وجہ تنازع بنا اور درخواست گزار کو گھر سے نکال دیا گیا، شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ بیوی نے نکاح نامے پر جعلی انٹری کے ذریعے مہر کی رقم 10 لاکھ روپے کی، شوہر کے مطابق بیوی اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی، لہٰذا وہ خرچ کی حق دار نہیں، درخواست گزار نے شوہر کا گھر چھوڑنے کی ٹھوس وجوہات بتائیں، شوہر کا دوسری شادی کو چھپانا ریکارڈ سے ثابت ہوا ہے، اخلاقی طور پر شوہر کا فرض تھا کہ وہ نکاح کے وقت اپنی دوسری شادی کے بارے میں حقائق بتاتا، یہ کہیں ثابت نہیں ہوا کہ درخواست گزار نے اپنے مس کنڈکٹ یا نافرمانی کے باعث گھر چھوڑا۔

وزیراعلی پنجاب کا دس ہزار سے زائد بچوں کی مفت سرجری پر اظہار تشکر
الحمدللہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان بھر سے آنیوالے دس ہزار سے زائد بچوں کی مفت سرجری پر اظہار تشکرکیا۔
وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری کے تحت سب زیادہ خیبر پختونخوا کے 425 بچوں کی مفت ہارٹ سرجری کی گئی۔آزاد جموں و کشمیر کے 250،فیڈرل کے 107،گلگت بلتستان کے 34،بلوچستان کے 28 اور سندھ کے 27 بچوں کی بھی فری ہارٹ سرجری کی گئی۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے چلڈرن ہسپتال کے نئے آئی سی یو کا بھی افتتاح کر دیا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے آئی سی یو کا دورہ کیا اورزیر علاج بچوں کی تیمارداری اوراظہار شفقت کیا۔وزیراعلی مریم نواز شریف کی چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت 10 ہزار سرجری مکمل ہونے پر خصوصی تقریب میں شرکت کی۔وزیراعلی مریم نواز شریف تقریب میں مریض بچوں اور ان کے درمیان بیٹھ گئیں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ہارٹ سرجری کے مریض بچوں سے اظہار شفقت کیا۔
صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق نے وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے بارے تفصیلات سے آگاہ کیا۔خواجہ سلمان رفیق نے بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام تحت اب تک 10331 بچوں کی سرجری ہوچکی ہے۔ وائس چانسلر مسعود صادق نے وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام پر بریفنگ دی۔ ہر سال 50 ہزار بچے دل کی بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، 25ہزار کو فوری سرجری کی ضرورت ہے۔
وزیراعلی مریم نواز شریف نے چلڈرن ہسپتال لاہور میں کارڈیک سرجن کی تعداد 12،کارڈیک فزیشن 34 تک بڑھا دی۔ وزیراعلی ٹرانسپلانٹ کارڈ سے 800 کوکلیر ٹرانسپلانٹ اور 200 بچوں کے بون میرو ٹرانسپلانٹ ہوچکے ہیں۔وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام پر خصوصی معلوماتی فلم بھی دکھائی گئی
علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سی ای اوز اور ایم ایس کانفرنس سے خطاب کیا اورنوکرپشن اورخدمت کا عہد لیا۔سی ای اوز اورایم ایس کی کارکردگی جاننے کیلئے کے پی آئیزمقررکردیئے۔ہسپتالوں میں مانیٹرنگ اینڈ ایولیشن اسسٹنٹ مقرر کرنے اورہیلتھ فسیلیٹیشن آپریشن کی ڈیجیٹلائزیشن کا فیصلہ کیاگیا۔ہسپتالوں میں ایڈمنسٹریٹراورپرکیورمنٹ آفیسر تعینات کرنے کابھی فیصلہ کیاگیا۔آن کال ڈاکٹرز کیلئے 20منٹ میں ڈیوٹی پر پہنچے کی ہدایت کی گئی۔دوران زچگی ماؤں کی اموات کی شرح میں کمی پر منسٹر ز،سیکرٹریز اورپوری ٹیم کو شاباش دی۔ پنجاب کے تحصیل اورڈسٹرکٹ ہسپتال پیپر لیس رجیم میں داخل ہوگئے۔ڈاکٹروں کی کارکردگی جانچنے کیلئے نئی پرفارمنس،ایولیشن رپورٹ (PER)سسٹم نافذ کیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ پنجاب کے کسی فرد کو علا ج کیلئے دوسرے شہر نہ جانا پڑے،یہی ہمارا ویژن ہے۔جس نے کسی ایک جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا،یہی ہمارا موٹوہے۔سی ای اوز اورایم ایس میرے لئے منسٹر اورسیکرٹری سے بھی اہم ہے۔ہماری بنائی پالیسیوں کا نفاذ سی ای اوز اور ایم ایس کی توجہ اورتعاون کے بغیر ممکن نہیں۔تمام مسائل حل کرنا آسان کام نہیں مجھے توقع ہے کہ کھلے دل سے میری باتیں سن کر ایم ایس ان پر عمل کریں گے۔تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں کمی بیشی سے کسی کی جان نہیں جاتی،ہیلتھ میں غفلت سے کسی کی جان جاسکتی ہے۔لوگ صحت اورسلامتی کیلئے حکومت کی طرف دیکھتے ہیں،کسی کو ایک کو سسکنا یا ایڑھیاں رگڑنا پڑی تو ہم سب کی ناکامی ہے۔اللہ تعالی نے وسائل اور اختیار ہمیں دیئے توغفلت پر پوچھ گچھ بھی ہوگی،زندگیاں بہت قیمتی ہیں۔ہسپتال میں پڑ ی دوائیاں بیچ دی جاتی ہے،ساز باز کر کے سٹوروں سے دوائیاں منگوائی جاتی ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں غریب اوروسائل سے محروم لوگ ہی آتے ہیں،ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ساہیوال ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعہ پر گئے توپتہ چلا کہ گارڈ انٹری کیلئے ساڑھے چار سو روپے لیتا ہے۔غضب خدا کا،دوڈھائی کروڑ روپے کی انسولین بیچ کھائی،ذیابیطس کے مریضوں کا کیسے گزارا ہوا ہوگا۔کرپشن کرنے والے کا پیسہ بیماریوں،تکالیف اورآزمائشوں پر نکلتا ہے۔آج کی میٹنگ روایتی نہیں ٹرینڈ سیٹنگ میٹنگ ہے،ایم ایس کو جوش و جذبے اورایمانداری سے کام کرنا ہوگا۔مجھے یقین ہے کہ نئے ایم ایس ذمہ داری سے کام نہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوں گے۔اللہ تعالی نے آپ کو مقدس ذمہ داری دی،لوگوں نے زندگی بچانے کیلئے علاج آپ کے سپرد کیا۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کا علاج امانت ہے،امانت میں خیانت کریں گے تو اللہ معاف نہیں کرے گا۔میں پھر کہتی ہوں کہ پرائیویٹ ہسپتال کا رخ کرنے کی بجائے سرکاری ہسپتال میں آنے والا ہر مریض بے وسیلہ ہوتا ہے۔ہیلتھ کے بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کیا،پہلے 399ارب روپے تھا،اسے 630ارب پر لے گئے۔ہیلتھ کا بجٹ اگر 1200ارب بھی ہوجائے،ایم ایس اوردیگر ذمہ داری کا احساس نہیں کریں گے تو سب رائیگاں ہے۔لوگوں کو میڈیس،ٹیسٹ کیلئے باہر بھیج دیا جاتا ہے،کوئی بوڑھا لاچار باہر کیسے جائے گا۔مشین خراب ہے تو وسائل میسر ہے،نہیں تو گاڑی بھیج کر باہر سے ٹھیک کرالیں۔انہوں نے کہاکہ ریسپیریٹر خراب ہونے پر والدین کو مریض بچوں کو ہاتھ سے پمپ کرتے دیکھ کر دکھ ہوا۔300 ریسپیریٹر مزید منگوائے ہیں،زندگی اورموت کے درمیان وینٹی لیٹر اورریسپیریٹر ایک لائن ہے۔اگر ڈاکٹر ڈیوٹی پر نہیں ہوگا یا نرس کام نہیں کرے گی تو مریض جان سے جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں کوکیمرے میں قطار در قطار موبائل پر مصروف دیکھاتو دکھ ہوا۔بصد احترام عرض کرتی ہوں کہ ڈاکٹروں کے موبائل استعمال پر پابندی ہے۔8گھنٹے کی ڈیوٹی میں استعمال نہ کرنے سے قیامت نہیں آجائے گی۔ایمرجنسی وارڈز کو سیف سٹی کیمرے سے منسلک کیا،کیونکہ مریضوں کو دوسرے کے رحم و کرم پر بے سہارا نہیں چھوڑ سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا،بہتر بنایا لیکن عوام تک اثرات جانے چاہئیں۔جنا ح ہسپتال میں 6ماہ کا سٹاک پڑا ہوا تھا اورآکسیجن ماسک کٹ وغیرہ باہر سے منگوائی جارہی تھی۔ہر مریض کی صورتحال کے مطابق کیو مینجمنٹ کی جائے گی۔ مریض کو مرض کے مطابق ریڈ بے،یلو بے اورگرین بے علاج کیلئے بھیجا جائے گا۔ ہسپتالوں میں مریض کے ساتھ ایک سے زیادہ تیمار دار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔فارماسوٹیکل کمپنیوں کے نمائندگان کو ہسپتال میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیریچر اوروہیل چیئرکا سٹاک موجود ہے،لیکن مریض کو کیوں نہیں دیا جاتا۔ہر ہسپتال میں ڈے کے مطابق کلر فل بیڈشیٹ تبدیل کی جائے۔ہسپتالوں کی ڈیپ کلینگ کا خیال رکھا جائے،واش روم کوڈمپنگ یارڈ نہیں ہونا چاہیے۔فائر سیفٹی،شارک سرکٹ اوردیگر امور کا خیال رکھا جائے۔ایم ایس اورسی ای اوز کو دفاتر میں بیٹھنے کی بجائے مریضوں کے درمیان ہوناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ آفس میں حقائق کا علم نہیں ہوسکتا،باہر آئیں گے تو صورتحال کا پتہ چلے گا،تبدیلی نظر آنی چاہیے۔پنجاب کے ہسپتالوں میں 1500ڈاکٹر آچکے ہیں،مزید آچکے ہیں۔ سی ای او ز اورایم ایس شپ ذمہ داری نہیں عوام کی امانت ہے۔ہسپتال میں ایم ایس کی غفلت کا ایک لمحہ کسی کی جان لے سکتا ہے۔ 22ارب روپے کے سابقہ واجبات ادا کیے تاکہ ادویات کی سپلائی چین میں تعطل نہ آئے۔مریض کو واجبات فائل یا پالیسی سے غرض نہیں اسے ادویات ملنی چاہیے۔مریض کو ہر اچھائی یا برائی میں سی ای اوز،ایم ایس اورہم سب نظر آتے ہیں۔سی ای اوز اورایم ایس کے لئے ضابطہ اخلاق مقرر کردیا اب پکڑ بہت سخت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ علاج ہوسکتا تھا لیکن کوتاہی سے جان جانے پر معاف نہیں کیا جائے گا۔ پنجاب کے اضلاع میں کیتھ لیب بننے سے لوگوں کے دل کے علاج کیلئے دربدر نہیں ہونا پڑے گا۔مزدور آدمی دل کے علاج کیلئے شہر سے باہر جائے تو اس کے بچے اورگھر کیسے چلے گا۔ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں کسی قسم کا مسئلہ نہیں لیکن لوگوں کے درد کو دل سے محسوس کرنا ضروری ہے۔100ارب روپے کی میڈیسن دے رہے ہیں مگر باہر سے ادویات لانے والی پرچیوں کا کیاکریں۔ساز بازکر کے باہر سے ادویات اور ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔مریض کی کیفیت کو خود پر نافذ کر کے دیکھے تو تکلیف کا احساس ہوگا۔ہر ضلع میں ویجیلنس ٹیمیں متحرک ہیں،خود ہسپتالوں میں جاتی ہوں،کمشنر،ڈی سی،اے سی جاتے ہیں۔







