Baaghi TV

Category: لاہور

  • خشک سالی کے خطرات سے نمٹنے کے لیےجدید ٹیکنالوجی اور مؤثر پالیسی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں،مریم نواز

    خشک سالی کے خطرات سے نمٹنے کے لیےجدید ٹیکنالوجی اور مؤثر پالیسی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صحرائی اور خشک سالی سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر اپنا پیغام جاری کیاہے-

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ اس دن کا مقصد خشک سالی اور زمین کے بنجر ہونے کے تباہ کن اثرات کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنا ہے پنجاب حکومت خشک سالی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے زراعت، پانی کے مؤثر انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے،زمین کی زرخیزی میں کمی، بنجر پن اور خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر پالیسی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

    مریم نواز شریف نے کہا کہ صوبے میں چھوٹے ڈیموں اور تالابوں کی تعمیر جاری ہے جبکہ چولستان اور تھل جیسے علاقوں میں بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں،صحرائی علاقوں میں ’پلانٹ فار پاکستان‘ شجرکاری مہم کے تحت درخت لگانے اور زیتون جیسی فصلوں کی کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے، خشک سالی زراعت اور غذائی تحفظ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، اس لیے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور بنجر زمینوں کو دوبارہ سرسبز بنانے کے لیے شجرکاری کی اہمیت کو اجاگر کرنا ضروری ہے جنگلات کے تحفظ اور جنگلی حیات کی نگرانی کے لیے تھرمل سینسر سمیت جدید آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    مریم نواز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں کے باعث دنیا بھر میں زرخیز زمینیں صحراؤں میں تبدیل ہو رہی ہیں، لہٰذا بنجر زمینوں کی بحالی اور پانی کی کمی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے، پنجاب حکومت پی آر آئی اے ٹی منصوبے کے تحت پانی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنا رہی ہے جبکہ شمسی توانائی سے چلنے والے جدید اور اعلیٰ کارکردگی کے حامل آبپاشی نظام بھی نصب کیے جا رہے ہیں۔

  • حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی  کے خلاف درخواست،جواب  کی مہلت

    حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی کے خلاف درخواست،جواب کی مہلت

    لاہور ہائیکورٹ میں حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی، ملٹری کورٹ کی کارروائی اور کورٹ مارشل کے خلاف دائر درخواست اور اپیل پر سماعت ہوئی۔

    جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت وزارت دفاع اور مقدمے کے اسپیشل پراسیکیوٹر منیر احمد بھٹی کو جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دے دی گئی۔سماعت کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر منیر احمد بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ ان کا حال ہی میں اس مقدمے کے لیے تقرر کیا گیا ہے، لہٰذا جواب تیار کرنے اور جمع کرانے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے فریقین کو جواب داخل کرانے کی مہلت دے دی اور کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ حسان نیازی کی جانب سے ملٹری کسٹڈی، ملٹری کورٹ میں ہونے والی کارروائی اور کورٹ مارشل کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا ہے، جس پر عدالت قانونی نکات کا جائزہ لے رہی ہے۔

  • لاہور میں کھلے گٹر معصوم جانوں کے لیے وبالِ جان

    لاہور میں کھلے گٹر معصوم جانوں کے لیے وبالِ جان

    ‎لاہور میں کھلے گٹروں اور نالوں کی وجہ سے پیش آنے والے پے در پے حادثات نے واسا (WASA) کی کارکردگی اور ضلعی انتظامیہ کی نااہلی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ روز سندر میں ایک بچہ کھلے گٹر میں گر گیا تھا جسے خوش قسمتی سے بچا لیا گیا، لیکن آج پھر ایک اور دلدوز واقعہ پیش آیا جہاں گٹر میں گرنے کے باعث ایک معصوم بچہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
    صوبائی دارالحکومت میں اعلیٰ سطح کی سخت ہدایات کے باوجود زمینی حقائق انتہائی مایوس کن ہیں، جس پر عوام شدید سراپا احتجاج ہیں۔ شہریوں کا اصرار ہے کہ اتنی مجرمانہ غفلت کے بعد بھی واسا کا سربراہ اپنے عہدے پر کیوں برقرار ہے اور اسسٹنٹ کمشنر (AC) رائے ونڈ اس سنگین صورتحال پر کیا کر رہے ہیں؟
    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ واسا کے اعلیٰ حکام نے اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کی ہو۔ اس سے قبل بھاتی گیٹ کے المناک حادثے میں بھی، جہاں ماں اور بیٹی کھلے گٹر میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئی تھیں، واسا کے اسی سربراہ نے اپنی ذمہ داری سے پلہ جھاڑتے ہوئے یہ تک دعویٰ کر دیا تھا کہ ماں بیٹی ڈوب کر ہلاک نہیں ہوئیں۔ اس انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان اور مجرمانہ غفلت کے باوجود اب تک ان کے خلاف کوئی حتمی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
    لاہور کے علاقے چوہنگ میں ایک معصوم بچے کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے المناک واقعے پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز (DGPR) پنجاب کی جانب سے جاری کردہ ہینڈ آؤٹ کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے اس افسوسناک اور دلدوز واقعے پر شدید برہمی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری طور پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
    کھلے مین ہولز اور سیوریج کے گڑھے معصوم شہریوں کے لیے
    موت کے کنویں بن چکے ہیں، اور عوام اب محض کھوکھلے دعووں کے بجائے واسا کے اعلیٰ افسران اور مقامی انتظامیہ کے خلاف سخت اور فوری تادیبی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • 
پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج، حکومت نے ترقی، ہنر اور سکیورٹی منصوبوں کا اعلان

    
پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج، حکومت نے ترقی، ہنر اور سکیورٹی منصوبوں کا اعلان

    ‎لاہور: پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ 40 منٹ کی تاخیر سے اسپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی شریک تھیں۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک، نعت رسول مقبول ﷺ اور قومی ترانے سے کیا گیا۔
    ‎اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور "شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو” اور "جعلی بجٹ نامنظور” کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن ارکان بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز اٹھائے ایوان میں داخل ہوئے اور وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران اسپیکر ڈائس اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے سامنے جمع ہو کر مسلسل نعرے بازی کرتے رہے، جس سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کا ماحول پیدا ہوگیا۔
    ‎وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں ایران۔امریکا امن معاہدے پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے قائد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، معرکۂ حق میں کامیابی کو دنیا تسلیم کر رہی ہے، جبکہ ایران۔امریکا کشیدگی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کفایت شعاری کی بہترین مثال قائم کی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبے بلا تعطل جاری رہے، مالی نظم و ضبط کے تحت وزرا کی تنخواہوں میں بھی کمی کی گئی، جبکہ ہر ضلع اور تحصیل ترقی کے سفر میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب نے دفاعی ضروریات کے لیے وفاق کو 546 ارب روپے فراہم کیے۔
    ‎وزیر خزانہ نے کہا کہ 2025 میں شدید بارشوں اور سیلاب سے پنجاب کے 27 اضلاع متاثر ہوئے، تاہم وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر فوری ریلیف آپریشن شروع کیا گیا اور متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات، صاف پانی، عارضی رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 2 ارب 30 کروڑ روپے سے جدید تربیتی پروگرام شروع کیے گئے، جن سے اب تک 5 ہزار نوجوان مستفید ہوئے ہیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 26 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
    ‎سی ایم اسکلڈ پنجاب پروگرام کے لیے ایک ارب 44 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جس کے ذریعے اب تک 2 ہزار 200 افراد کو بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا چکے ہیں۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ "اسکلز فار گلوبل نیڈز” پروگرام کے لیے 51 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت 2 لاکھ 40 ہزار افراد کو عالمی معیار کی تربیت دی جائے گی۔ پرواز کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو بین الاقوامی روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ تعمیرات، صحت اور آٹوموٹیو سمیت 12 عالمی معیار کے تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس منصوبے سے سالانہ ترسیلات زر میں 466 ملین ڈالر کا اضافہ ہوگا۔
    ‎فرنٹیئر ٹیک اسکلز اینڈ انوویٹ پنجاب پروگرام کے لیے 12 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت جدید ایل ایم ایس پلیٹ فارم، انکیوبیٹرز، 60 لاکھ افراد کی ٹیکنالوجی تربیت، 15 لاکھ فرنٹیئر ٹیک گریجویٹس کی تیاری اور 1200 اسٹارٹ اپس کی معاونت کی جائے گی، جبکہ خواتین کی کم از کم 40 فیصد شرکت یقینی بنائی جائے گی۔
    ‎ایکسیلیریٹ پنجاب ٹیک اسکلز پروگرام کے لیے 19 ارب 70 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جس کے تحت بوٹ کیمپس، آئی ٹی انٹرن شپ اور میکر اسپیسز سے 70 ہزار 500 سے زائد نوجوان فائدہ اٹھائیں گے۔ بین الاقوامی آئی ٹی سرٹیفکیشنز کے ذریعے نوجوانوں کی متوقع ماہانہ آمدن ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
    ‎وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ لاہور میں 99 کروڑ روپے کی لاگت سے سینٹر آف ایکسیلنس فار ایڈوانسڈ آٹوموٹیو ٹیکنالوجیز قائم کیا جائے گا، جہاں ہر سال 400 افراد کو عالمی معیار کی فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔
    ‎سکیورٹی کے شعبے میں انہوں نے کہا کہ اسمارٹ سیف سٹیز پروگرام کے تحت جدید ڈیجیٹل نگرانی کا نظام تحصیل سطح تک توسیع دی جائے گی، جبکہ ریجنل ڈیٹا سینٹرز اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز بھی قائم کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے مجموعی طور پر 47 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ اسمارٹ سیف سٹیز منصوبے سے پنجاب کے 19 اضلاع اور متعدد تحصیلیں مستفید ہوں گی۔ کچے کے علاقوں میں پولیس نظام مضبوط بنانے کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے سے نئے پولیس اسٹیشنز، پوسٹس اور پکٹس تعمیر کی جائیں گی، جبکہ 28 اضلاع میں 14 ارب 21 کروڑ روپے کی لاگت سے جدید کرائم سین یونٹس قائم کیے جائیں گے، جہاں بین الاقوامی معیار کے مطابق شواہد اکٹھے اور محفوظ کیے جائیں گے تاکہ تفتیشی نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

  • پنجاب کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری دے دی

    پنجاب کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری دے دی

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی،جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مالی سال 27-2026 کے صوبائی بجٹ کی منظوری دیتے ہوئے بجٹ دستاویز پر دستخط کر دیے۔

    بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے چیف سیکریٹری سمیت صوبائی وزرا کی کارکردگی کو سراہا،انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک یونٹ بن کر کام کیا اور بجٹ کی تیاری میں غیر معمولی محنت کا مظاہرہ کیا وفاق کو حصہ دینے کی مد میں بڑی رقم کی ادائیگی کے باعث مالی دباؤ ضرور آیا، تاہم حکومت نے بھرپور کوشش کی کہ اس کا بوجھ عوام پر منتقل نہ ہو مالی مسائل اور عالمی حالات کے باوجود ایسا بجٹ تیار کیا گیا ہے جو عوامی خوشحالی اور ترقی پر مرکوز ہے اورمالی مسائل اور عالمی حالات کے باوجود کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔

    مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کے بجٹ کا بنیادی مقصد عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنا ہے امیدہے کہ حکومت گزشتہ برسوں کی طرح عوام کی توقعات پر پورا اترے گی، انہوں نے پنجاب ریونیو اتھارٹی کو ریونیو بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی یہ امید کا بجٹ ہے اور حکومت اپنے وسائل سے عوام کو مزید ریلیف فراہم کرے گی، واضح رہے کہ صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان آج پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب کا مجموعی بجٹ 5850 ارب روپے سے زائد جبکہ ترقیاتی بجٹ 752 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے تاہم حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق ہوگاپنجاب کو این ایف سی کے تحت قابل تقسیم محاصل سے 3793 ارب 70 کروڑ روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ صوبائی محصولات کی مد میں 1330 ارب روپے آمدن متوقع ہےذرائع کے مطابق پنجاب حکومت وفاق کو 570 ارب روپے کی مالیاتی رعایت دے چکی ہے، جس کے باعث ترقیاتی بجٹ کا حجم مجموعی بجٹ کا تقریباً 47 فیصد رہ جائے گا۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق تنخواہوں کیلئے 650 ارب روپے، پنشن کیلئے 505 ارب 80 کروڑ روپے اور پنجاب فنانس کمیشن کیلئے 800 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، سماجی تحفظ کیلئے 25 ارب روپے، ستھرا پنجاب پروگرام کیلئے 150 ارب روپے اور سبسڈی کی مد میں 80 ارب روپے سے زائد مختص کیے جانے کا امکان ہے صحت کے شعبے کیلئے 680 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ رکھا گیا ہے جبکہ مفت ادویات کیلئے 100 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، کینسر اور فالج کے مریضوں کیلئے ادویات کی فراہمی کیلئے بھی خصوصی فنڈز رکھے جائیں گے۔

    تعلیم کے شعبے کیلئے 900 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے، بجٹ میں طلبہ کیلئے لیپ ٹاپ، الیکٹرک اسکوٹیز اور سائیکل اسکیمیں شامل ہیں، جبکہ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کیلئے 20 ارب روپے سے زائد رکھنے کا تخمینہ ہے پرواز کارڈ کیلئے 7 ارب روپے، کسان کارڈ کیلئے 10 ارب روپے، جبکہ ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈ کیلئے مجموعی طور پر 3 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ رمضان پیکیج کیلئے 35 ارب روپے اور یونیورسٹی گرانٹس کیلئے 18 ارب روپے رکھنے کا امکان ہے۔

    بجٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو اولین ترجیح دی گئی ہے، جبکہ ان منصوبوں کیلئے 200 ارب روپے سے زائد مختص کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، آئندہ بجٹ میں مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت میں اضافے کا بھی امکان ہے۔

    اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب ، وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان، چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • محسن نقوی  کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات

    محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے اہم ملاقات کی-

    ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی مفاہمت کے بعد خطے کی موجودہ صورتحال بھی زیر غور آئی،ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کو خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے خوش آئند پیش رفت قرار دیا۔

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اس مفاہمت کے حوالے سے پاکستان کے مخلصانہ اور مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے مابین مفاہمت کے سلسلے میں پاکستان کے تاریخی کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور اس سے پورے خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے امیر جماعت اسلامی کو ایران اور امریکا مذاکرات اور اس حوالے سے حکومتی اقدامات پر اعتماد میں لیاجبکہ اس موقع پر حافظ نعیم الرحمان نے صومالیہ میں پھنسے پاکستانیوں کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت یرغمال پاکستانیوں کی فوری اور بحفاظت واپسی کے لیے مؤثر سفارتی کردار ادا کرے۔

    ملاقات میں ملکی معیشت کی بہتری اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے خطے میں امن کے قیام کے لیے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے خطے میں کشیدگی کے خاتمے کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہیں کہ ہماری حقیر کاوشوں کو قبول فرمایا۔

  • آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال،نواز شریف نے کل اجلاس طلب کر لیا

    آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال،نواز شریف نے کل اجلاس طلب کر لیا

    مسلم لیگ (ن) کے صدرنواز شریف نے آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر کل لاہور میں اہم اجلاس طلب کر لیا ۔

    اجلاس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی اعلیٰ قیادت شرکت کرے گی، جبکہ اہم سیاسی فیصلوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق اجلاس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان، سینیئر رہنما طارق فاروق اور سابق وزیر اطلاعات مشتاق منہاس خصوصی طور پر شریک ہوں گے،وفاقی وزرا اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے اہم رہنماؤں بھی اجلاس میں موجود ہوں گے-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے باعث پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال اور مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے اجلاس میں آزاد کشمیر کی قیادت کو درپیش چیلنجز، سیاسی رابطوں، پارٹی تنظیم سازی اور آئندہ کے ممکنہ اقدامات پر بھی مشاورت کی جائے گی۔

    سیاسی حلقوں کی نظریں اس اجلاس پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس کے فیصلے آزاد کشمیر کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کی سمت کا تعین بھی اسی اہم مشاورتی نشست میں ہونے کا امکان ہے۔

  • 
محرم الحرام کا چاند نظر نہ آیا، یوم عاشور 26 جون کو ہوگا

    
محرم الحرام کا چاند نظر نہ آیا، یوم عاشور 26 جون کو ہوگا

    ‎محرم الحرام 1448 ہجری کا چاند ملک بھر میں نظر نہیں آیا، جس کے بعد مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ یکم محرم الحرام 17 جون بروز بدھ جبکہ یوم عاشور 26 جون کو منایا جائے گا۔
    ‎مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں اور سائنسی معلومات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ محرم الحرام کا چاند کہیں بھی نظر نہیں آیا۔
    ‎اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے باضابطہ اعلان کیا کہ یکم محرم الحرام 1448 ہجری 17 جون کو ہوگی جبکہ 10 محرم الحرام یعنی یوم عاشور 26 جون بروز جمعہ منایا جائے گا۔
    ‎اس سے قبل محکمہ موسمیات اور ماہرین فلکیات نے بھی پیش گوئی کی تھی کہ 15 جون کو چاند نظر آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق نئے چاند کی پیدائش صبح 7 بج کر 54 منٹ پر ہوئی تھی اور غروب آفتاب کے وقت اس کی عمر تقریباً 11 گھنٹے 45 منٹ تھی، جو رویت کے لیے ناکافی سمجھی جاتی ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات نے بتایا تھا کہ لاہور میں چاند دیکھنے کا وقت شام 7 بج کر 12 منٹ سے 7 بج کر 52 منٹ تک تھا، تاہم مطلوبہ فلکیاتی شرائط پوری نہ ہونے کے باعث چاند کی رویت ممکن نہ ہو سکی۔
    ‎دوسری جانب وزارت مذہبی امور کی جانب سے مختلف شہروں میں زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس بھی منعقد کیے گئے۔ اسلام آباد میں زونل کمیٹی کا اجلاس کوہسار بلاک میں ہوا جبکہ پشاور سمیت دیگر شہروں میں بھی چاند دیکھنے کے لیے اجلاس منعقد کیے گئے۔
    ‎محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور اس کی دسویں تاریخ یوم عاشور کے طور پر منائی جاتی ہے، جو اسلامی تاریخ میں خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں مجالس، جلوسوں اور دیگر مذہبی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

  • مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چوہدری محمد سرور کے صاحبزادے کی نماز جنازہ ادا

    مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چوہدری محمد سرور کے صاحبزادے کی نماز جنازہ ادا

    مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چوہدری محمد سرور کے صاحبزادے حسین ہاشم کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، نماز جنازہ جامع مسجد القادسیہ چوبرجی میں سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ سیف اللہ قصوری نے پڑھائی،نماز جنازہ میں مرکزی مسلم لیگ کی قیادت،کارکنان کثیر تعداد میں شریک ہوئے

    مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چوہدری محمد سرور کے صاحبزادے حسین ہاشم گزشتہ ہفتے ٹریفک حادثے میں زخمی ہوئے تھے حادثے کے باعث جگر پر شدید چوٹ آئی،وہ ایک ہفتے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے تاہم گزشتہ روز انکی موت ہوگئی، حسین ہاشم کی نماز جنازہ میں مرکزی مسلم لیگ کے صدرخالد مسعود سندھو، نائب صدر حافظ طلحہ سعید،محمد یعقوب شیخ،خالد نیک گجر،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی،علامہ ناصر مدنی،شیخ نعیم بادشاہ سمیت مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان نے شرکت کی، نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مرحوم کی میانی صاحب قبرستان میں تدفین کر دی گئی،مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے چوہدری محمد سرور سے صاحبزادے کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کی لئے دعائے مغفرت،لواحقین کے لئے صبرجمیل کی دعا کی ہے.

  • پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور قیمتوں میں معمولی کمی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور قیمتوں میں معمولی کمی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور پیٹرول کی قیمتوں میں معمولی کمی کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی گئی۔

    درخواست جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے سربراہ اظہرصدیق نےدائرکی ، درخواست میں وفاقی حکومت اور متعلقہ وزارتوں کو فریق بنایا گیا ، موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت پیٹرول پر 125 اورڈیزل پر 100 فی لیٹرلیوی ٹیکس وصول کررہی ہے،ڈیزل اورپیٹرول مہنگا ہونے سےکسان اور مزدور طبقہ براہ راست متاثر ہوا ہے بین الاقوامی مارکیٹ کے برعکس حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں انتہائی معمولی کمی کی گئی جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔

    درخواست گزار کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کی گئی، حکومت کے پاس پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی یا اضافے کا کوئی میکنزم نہیں ہے، لہذا عدالت ست استدعا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی کی وصولی کو روکاجائے، عدالت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور کمی پرمیکنزم طے کرنے کا حکم دے۔