Baaghi TV

Category: لاہور

  • محرم الحرام کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

    محرم الحرام کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

    محرم الحرام 1448 کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا۔

    وزارت مذہبی امور کے مطابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت اجلاس آج شام بادشاہی مسجد لاہور میں ہوگا اس کے علاوہ سعودی عرب میں بھی آج شام کو اجلاس ہوگاجب کہ یکم محرم الحرام کو غلافِ کعبہ بھی تبدیل کیا جاتا ہے جبکہ ماضی میں غلافِ کعبہ ماہ ذوالحج میں تبدیل کیا جاتا تھا۔

    دوسری جانب پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (اسپارکو) اور محکمہ موسمیات نے محرم الحرام 1448 ہجری کے چاند کی رویت کے حوالے سے اہم پیش گوئیاں جاری کر دی ہیں دونوں اداروں کے مطابق 15 جون کو محرم الحرام کا چاند نظر آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں، جس کے باعث یکم محرم الحرام 1448 ہجری بدھ 17 جون کو ہونے کی توقع ہے۔

    ‎اسپارکو کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نئے چاند کی پیدائش 15 جون کو صبح 7 بج کر 54 منٹ پر متوقع ہے ماہرین کے مطابق اسی روز غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 11 گھنٹے 50 منٹ ہوگی، جو رویت کے لیے مطلوبہ معیار سے کم سمجھی جا رہی ہے ساحلی علاقوں میں غروب آفتاب اور غروبِ قمر کے درمیان تقریباً 40 منٹ کا وقفہ متوقع ہے، تاہم چاند کی کم عمر اور دیگر فلکیاتی عوامل کے باعث اس کی رویت کے امکانات بہت محدود ہیں۔

    ‎جبکہ محکمہ موسمیات نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 جون، جو 29 ذوالحج کے مساوی ہوگی، ملک بھر میں چاند نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اس روز پاکستان کے بیشتر علاقوں میں موسم صاف یا جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے، تاہم فلکیاتی صورتحال چاند کی رویت کے حق میں نہیں ہے۔

    ‎اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں چاند رات 7 بج کر 59 منٹ پر غروب ہوگا، سندھ میں رات 8 بج کر 5 منٹ، آزاد کشمیر میں رات 8 بج کر 7 منٹ، گلگت بلتستان میں رات 8 بج کر 12 منٹ، خیبر پختونخوا میں رات 8 بج کر 23 منٹ جبکہ بلوچستان میں رات 8 بج کر 34 منٹ پر غروب ہونے کی توقع ہے۔

    ‎رویت ہلال ریسرچ کونسل نے بھی اپنی پیش گوئی میں کہا ہے کہ 15 جون کو چاند نظر آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں، جس کے باعث نئے اسلامی سال کا آغاز 17 جون سے ہونے کا امکان زیادہ ہے-

  • سپارکو کی محرم الحرام کے چاند سے متعلق اہم پیشگوئی

    سپارکو کی محرم الحرام کے چاند سے متعلق اہم پیشگوئی

    پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (اسپارکو) اور محکمہ موسمیات نے محرم الحرام 1448 ہجری کے چاند کی رویت کے حوالے سے اہم پیش گوئیاں جاری کر دی ہیں۔ دونوں اداروں کے مطابق 15 جون کو محرم الحرام کا چاند نظر آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں، جس کے باعث یکم محرم الحرام 1448 ہجری بدھ 17 جون کو ہونے کی توقع ہے۔
    ‎اسپارکو کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نئے چاند کی پیدائش 15 جون کو صبح 7 بج کر 54 منٹ پر متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اسی روز غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 11 گھنٹے 50 منٹ ہوگی، جو رویت کے لیے مطلوبہ معیار سے کم سمجھی جا رہی ہے۔
    ‎اعلامیے کے مطابق ساحلی علاقوں میں غروب آفتاب اور غروبِ قمر کے درمیان تقریباً 40 منٹ کا وقفہ متوقع ہے، تاہم چاند کی کم عمر اور دیگر فلکیاتی عوامل کے باعث اس کی رویت کے امکانات بہت محدود ہیں۔
    ‎دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 جون، جو 29 ذوالحج کے مساوی ہوگی، ملک بھر میں چاند نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس روز پاکستان کے بیشتر علاقوں میں موسم صاف یا جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے، تاہم فلکیاتی صورتحال چاند کی رویت کے حق میں نہیں ہے۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں چاند رات 7 بج کر 59 منٹ پر غروب ہوگا، سندھ میں رات 8 بج کر 5 منٹ، آزاد کشمیر میں رات 8 بج کر 7 منٹ، گلگت بلتستان میں رات 8 بج کر 12 منٹ، خیبر پختونخوا میں رات 8 بج کر 23 منٹ جبکہ بلوچستان میں رات 8 بج کر 34 منٹ پر غروب ہونے کی توقع ہے۔
    ‎رؤیت ہلال ریسرچ کونسل نے بھی اپنی پیش گوئی میں کہا ہے کہ 15 جون کو چاند نظر آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں، جس کے باعث نئے اسلامی سال کا آغاز 17 جون سے ہونے کا امکان زیادہ ہے۔
    ‎یاد رہے کہ محرم الحرام 1448 ہجری کے چاند کی رویت کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 15 جون کی شام لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد میں منعقد ہوگا۔ چاند کی رویت کے بارے میں حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہی کرے گی، جس کے بعد نئے اسلامی سال اور یوم عاشور کی تاریخوں کا باضابطہ تعین کیا جائے گا۔

  • عشرہ محرم الحرام کا سکیورٹی پلان فائنل،پنجاب میں ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار فرائض سر انجام دیں گے

    عشرہ محرم الحرام کا سکیورٹی پلان فائنل،پنجاب میں ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار فرائض سر انجام دیں گے

    پنجاب پولیس کی جانب سے عشرہ محرم الحرام کے دوران لاہور سمیت صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 47 ہزار 280 مجالس اور عزاداری جلوسوں کو بھرپور سکیورٹی فراہم کی جائے گی-

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق عشرہ محرم الحرام کے دوران صوبہ بھر میں 37 ہزار 868 مجالس منعقد، 09 ہزار 412 عزاداری جلوس برآمد ہوں گے، عشرہ محرم الحرام کے دوران لاہور سمیت صوبہ بھر میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار فرائض سر انجام دیں گے مجالس سکیورٹی پر 41 ہزار 200 سے زائد، عزاداری جلوسوں کی سکیورٹی پر 73 ہزار 400 سےزائد افسران و اہلکار فرائض انجام دیں گےصوبہ بھر میں عزاداری جلوسوں کے روٹس ، مجالس سمیت اہم و حساس مقامات کے اطراف 9 ہزار 500 سے زائد اہلکار موثر پٹرولنگ کریں گے۔

    ترجمان نے کہا کہ سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، ٹریفک پولیس، ڈولفن سکواڈ، پیرو سمیت تمام فیلڈ فارمیشنز محرم سکیورٹی انتظامات میں ڈیوٹی انجام دیں گے سیف سٹیز کیمروں کی مدد سے جلوس اور مجالس کی مسلسل مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے گی تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام،کمیونٹی لیڈرز محرم الحرام میں امن اور افہام و تفہیم یقینی بنائیں، ملک دشمن عناصر کی نفاق پھیلانے، امن متاثر کرنے کی کسی بھی مذموم کوشش کو بین المسالک ہم آ ہنگی سے ناکام بنائیں۔

    آئی جی پنجاب عبدالکریم کا کہنا تھا کہ امن کمیٹیوں، مجالس و عزاداری جلوسوں کے منتظمین کے ساتھ مسلسل کوآرڈینیشن سے تمام مسائل قبل از وقت حل کر یں، لاہور سمیت تمام اضلاع میں طے شدہ روٹس اور مقامات کے علاوہ کسی بھی جگہ عزاداری جلوس، مجالس کی اجازت نہیں ہوگی دفعہ 144، لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، اشتعال انگیزی، مذہبی منافرت کے خطرے کے پیشِ نظر فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈبل سواری پر پابندی کا اطلاق 9 اور 10 محرم الحرام کو ہوگا، بزرگ شہریوں،خواتین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ ڈبل سواری پر پابندی عائد ہوگی، سی سی پی او لاہور، آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز محرم سکیورٹی انتظامات کی خود نگرانی کریں گے تمام اضلاع میں محرم کنٹر و ل رومز فعال، سنٹرل پولیس آفس کے مرکزی کنٹرول روم سے 24 گھنٹے رابطہ میں ہوں گے۔

  • جو کھلاڑی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے گا، اسے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا ،محسن نقوی

    جو کھلاڑی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے گا، اسے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا ،محسن نقوی

    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے نظام میں جامع اصلاحات متعارف کرانے کے لیے نئی پالیسیوں پر کام مکمل کیا جا رہا ہے،جبکہ ٹی20، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ تینوں فارمیٹس کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے-

    ایل سی سی اے گراؤنڈ میں جاری ریڈ بال کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ ٹی20، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ تینوں فارمیٹس کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے سلیکشن کے نظام کو زیادہ سے زیادہ کمپیوٹرائزڈ بنایا جا رہا ہے تاکہ انسانی مداخلت کو کم کیا جا سکے، جبکہ قریباً 85 فیصد فیصلے ڈیٹا، فٹنس اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔

    چیئرمین پی سی بی نے واضح کیاکہ سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت لازمی قرار دی جا رہی ہے جو کھلاڑی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے گا، اسے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے 5 مختلف کیٹیگریز متعارف کرائی جا رہی ہیں، جبکہ ایمرجنگ پلیئرز کے لیے بھی ایک خصوصی کیٹیگری قائم کی جا رہی ہے، جس پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

    محسن نقوی نے کہاکہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 تینوں فارمیٹس میں میچ فیس میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈومیسٹک کرکٹرز کے معاوضوں میں اضافے کے حوالے سے بھی کام جاری ہے کسی بھی کھلاڑی کو قومی سطح پر آگے بڑھنے کے لیے فٹنس، ڈومیسٹک کارکردگی اور مجموعی پرفارمنس کے تمام مراحل سے گزرنا ہوگا پیر کے روز تمام کھلاڑیوں کو مشاورت کے لیے مدعو کیا گیا ہے کیونکہ وہ اس پورے عمل کے اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں جبکہ موجودہ اصلاحات کے نتائج ایک سے 2 سال کے اندر سامنے آئیں گے اور یہ اقدامات پاکستان کرکٹ کو طویل المدتی بنیادوں پر مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    محسن نقوی نے کہاکہ ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے حوالے سے فیصلہ وہ خود نہیں کریں گے بلکہ متعلقہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن حکام اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے جبکہ شاداب خان کی ممکنہ کپتانی کے حوالے سےمیرے علم میں کوئی حتمی بات نہیں ہے سابق کپتان سرفراز احمد پاکستان کرکٹ کا ایک اہم اثاثہ ہیں، تاہم ان کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیاامید ہے کہ نئی پالیسیاں قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لانے میں مدد دیں گی، ماضی میں بعض غلط پالیسیوں اور ذاتی مفادات نے پا کستان کرکٹ کو نقصان پہنچایا، لیکن اب ادارے کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے تاکہ قومی ٹیم بہتر نتائج دے سکے، خراب کارکردگی کی ایک بڑی وجہ سوچ میں خرابی تھی، کیونکہ لوگ ملک کے بجائے اپنے لیے کرکٹ کھیل رہے تھے، تاہم اب اس سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جا سکے۔

    اس موقع پر ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید، سابق کپتان سرفراز احمد اور مصباح الحق، مائیک ہیسن سمیت دیگر کوچز بھی موجود تھے محسن نقوی نے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف سے ملاقات کی اور تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔

  • کسانوں نے بجٹ  27-2026 کو مسترد کر دیا

    کسانوں نے بجٹ 27-2026 کو مسترد کر دیا

    کسانوں اور مختلف زرعی تنظیموں کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کو اس لیے یکسر مسترد کیا گیا ہے کیونکہ اس میں زرعی شعبے کو خاطر خواہ ریلیف نہیں دیا گیا۔

    کسان تنظیموں نےحکومتی بجٹ کی مخالفت میں تحفظات کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کھادوں پر سبسڈی کا فقدان ہے یوریا اور ڈی اے پی (DAP) کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی کسانوں کے مطابق پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے کھادوں اور زرعی اسپرے پر سبسڈی کا اعلان ہونا چاہیے تھا، زرعی مشینری اور آلات پر ٹیکسز برقرار ہیں جس سے کاشتکاروں کی قوتِ خرید متاثر ہو رہی ہے زرعی ٹیوب ویلز کے لیے بجلی کے بلوں اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کسانوں پر بوجھ بڑھا ہے-

    دوسری جانب زرعی ادویات اور کھاد فروخت کرنے والے دکاندار اور ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پہلے کسان بڑی تعداد میں ان سے اسپرے اور کھاد خریدتے تھے، تاہم قیمتیں آسمان کو چھونے کےباعث اب کاروبارشدید متاثر ہو چکا ہےاور فروخت میں نمایاں کمی آ گئی ہے ڈیلرز کے مطابق کسانوں کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہے جس کا براہِ راست اثر مارکیٹ پر پڑ رہا ہے-

    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملکی بقا اور زرعی خودکفالت کے لیے ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے،اگر زرعی شعبے کے لیے خصوصی سبسڈی کا اعلان نہ کیا گیا تو زرعی پیداوار میں شدید کمی ہو سکتی ہے، اس لیے حکومت کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے۔

  • موجودہ حالات میں قومی وحدت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے،طاہر اشرفی

    موجودہ حالات میں قومی وحدت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے،طاہر اشرفی

    لاہور: چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ بھارت کے پاس پاکستان میں بے امنی پھیلانے کے علاوہ اب کچھ نہیں بچا، تاہم دشمن کی تمام سازشیں ناکامی سے دوچار ہو رہی ہیں۔

    لاہور چیمبر میں خطاب کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ محرم الحرام کو پرامن انداز میں منانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم کا مقدس مہینہ امت مسلمہ کو اتحاد، اتفاق اور باہمی ہم آہنگی کا درس دیتا ہے اور موجودہ حالات میں قومی وحدت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جو عناصر ملک میں انتشار، فساد اور انارکی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں وہ درحقیقت ملک دشمن ہیں اور ان کے عزائم کو ناکام بنانا پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل کا کہنا تھا کہ ’’معرکۂ حق‘‘ کے بعد اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت اور وقار سے نوازا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرتے ہوئے تیسری عالمی جنگ کے خدشات کو کم کرنے میں اپنا حصہ ڈالا، جبکہ امریکی صدر کی جانب سے مسئلہ کشمیر کا متعدد بار ذکر بھی پاکستان کے مؤقف کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

    حافظ طاہر محمود اشرفی نے مزید کہا کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے بھاری وسائل خرچ کر رہے ہیں، تاہم پاکستانی قوم، سیکیورٹی اداروں اور ریاستی قوتوں کے اتحاد کے باعث دشمن کے تمام منصوبے ناکام ہو رہے ہیں۔انہوں نے خوارج کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر ڈرون حملوں اور دیگر کارروائیوں کے ذریعے معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن دشمن جتنی بھی کوشش کر لے، اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنائے گی۔

  • لاہور ہائیکورٹ،پٹرولیم لیوی کیخلاف اظہر صدیق کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ،پٹرولیم لیوی کیخلاف اظہر صدیق کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری

    لاہور ہائی کورٹ نے پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) کے خلاف آئینی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیے

    لاہور ہائی کورٹ نے پٹرولیم لیوی کی آئینی حیثیت اور قانونی جواز پر وفاق سے جواب طلب کر لیا،جوڈیشل ایکٹوازم پینل اور وحید شہزاد بٹ کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کی اہم کارروائی،محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی وساطت سے دائر درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیئے گئے،پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو پارلیمانی منظوری کے بغیر عائد اور بڑھانے کا اقدام چیلنج کیا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پٹرولیم لیوی درحقیقت ایک ٹیکس ہے جسے صرف پارلیمنٹ ہی منظور کر سکتی ہے،لاہور ہائی کورٹ نے پٹرولیم لیوی سے متعلق رپورٹ اور پیراوائز کمنٹس طلب کر لیے

    درخواست میں پٹرولیم لیوی کے مسلسل اضافے کو آئین کے منافی قرار دیا گیا،پٹرولیم لیوی کے تعین اور اضافے کے لیے ایگزیکٹو کو دیے گئے لامحدود اختیارات چیلنج کئے گئے،درخواست میں مؤقف کہ قانونی حدود اور رہنما اصولوں کے بغیر لیوی بڑھانے کا اختیار غیر آئینی ہے،پٹرولیم لیوی کو این ایف سی ایوارڈ کے قابل تقسیم محاصل سے باہر رکھنے کا اقدام بھی چیلنج کیا گیا،درخواست گزاروں کا مؤقف کہ پٹرولیم لیوی کی رقم صوبوں کے مالی حقوق کو متاثر کر رہی ہے،لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،جسٹس حسن نواز مخدوم اور جسٹس خالد اسحاق پر مشتمل بینچ نے سماعت کے بعد حکم جاری کیا،عدالت نے کیس گرمیوں کی تعطیلات کے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا

    لاہور ہائی کورٹ میں پٹرولیم لیوی کی قانونی حیثیت، پارلیمانی بالادستی اور صوبائی حقوق کا معاملہ زیر سماعت آ گیا،درخواست میں مؤقف کہ ٹیکس کا نفاذ، اضافہ یا وصولی صرف آئین اور قانون کے مطابق ہی ہو سکتی ہے،پٹرولیم لیوی کیس کا فیصلہ وفاقی ٹیکس پالیسی اور صوبائی مالی حقوق پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے

  • خیبر پختونخوا،پنجاب تیز آندھی ،بارش،5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    خیبر پختونخوا،پنجاب تیز آندھی ،بارش،5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں آندھی اور تیز بارش نے تباہی مچا دی،5 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں تیز بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔ لاہور، فیصل آباد،جھنگ، چنیوٹ، سیالکوٹ، سمیت دیگر علاقوں میں بارش سےکئی علاقوں میں بجی کی فراہمی معطل ہوگئی،تیز ہواؤں سے کئی مقامات پر درخت اور سولر پینل اکھڑ گئے،پی ڈی ایم اے کے مطابق بنوں میں آندھی اور موسلادھاربارش سے 4 افرادجاں بحق جبکہ 16 زخمی ہوئے

    فیصل آباد اور جھنگ میں بارش اور آندھی کے باعث درجنوں افراد مختلف حادثات میں زخمی ہوگئے،ترجمان ریسکیو کے مطابق فیصل آباد میں تیز آندھی اور بارش کے دوران 7 مقامات پر حادثات پیش آئے جہاں 6 واقعات میں عمارتوں کی دیواریں گرنے سے 15 افراد زخمی ہوئے جب کہ غازی آباد کے علاقے میں مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق ہو گئیں، ریسکیو اہلکاروں نے تمام واقعات میں زخمیوں کو ملبے سے نکال کر علاج کیلئے قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا۔

    دوسری جانب جھنگ شہر اور گرد و نواح میں طوفانی آندھی اور بارش کے باعث 5 خواتین سمیت 9 افراد زخمی ہوئے،ریسکیو ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں آندھی اور بارش کے باعث سائن بورڈز ، دیواروں ، چھتوں اور سولر پینلز کے اسٹینڈز گرنے کے واقعات میں 2 خواتین سمیت 5 افراد زخمی ہوئے،نواحی علاقے منڈی شاہ جیونا میں آندھی کے باعث ایک مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں 3خواتین سمیت 4افراد زخمی ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ آندھی اور بارش سے مختلف علاقوں میں دیواریں، مکانات گر گئے، متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں،پی ڈی ایم اے نے ہدایات جاری کی ہیں کہ عوام خراب موسم میں خستہ حال عمارتوں سے دور رہیں، ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل فعال ہے۔

  • ‎یہ مجموعی طور پر ترقی اور سرمایہ کاری کا بجٹ ہے، ایس ایم تنویر

    ‎یہ مجموعی طور پر ترقی اور سرمایہ کاری کا بجٹ ہے، ایس ایم تنویر

    فیڈریشن چیمبر ریجنل آفس لاہور میں بجٹ تقریر سننے کے بعد سابق نگراں وفاقی وزیر اور کاروباری شخصیت ایس ایم تنویر نے دیگر صنعتکاروں اور کاروباری رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی بجٹ 2026-27 کو مجموعی طور پر ترقی، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا بجٹ قرار دیا۔
    ‎ایس ایم تنویر نے کہا کہ حکومت نے ایف بی آر کے محصولات کے ہدف کو برقرار رکھتے ہوئے معیشت میں استحکام لانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ نان ٹیکس ریونیو کو 4845 ارب روپے تک بڑھانے کے بعض اثرات مہنگائی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 150 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں وسائل کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہے۔
    ‎ایس ایم تنویر نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی استحکام اور معاشی بحالی کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کا کردار قابل تعریف ہے۔
    ‎انہوں نے دفاعی بجٹ کو 3 ہزار ارب روپے تک بڑھانے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    ‎پراپرٹی سیکٹر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکسوں میں کمی ایک مثبت قدم ہے جس سے رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو فروغ ملے گا۔ ان کے مطابق لیٹ فائلر کی کیٹیگری ختم کرنا بھی ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ کنسٹرکشن اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے بجٹ میں دی گئی سہولیات سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اسی طرح تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں دیے گئے ریلیف کو بھی خوش آئند قرار دیا، اگرچہ ان کے بقول ملازمت پیشہ افراد کو مزید سہولت ملنی چاہیے تھی۔
    ‎ایس ایم تنویر نے زرعی شعبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے زراعت کو مزید فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس کے خاتمے کو بھی مثبت قرار دیا اور کہا کہ 50 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس کا خاتمہ اور اس سے زائد آمدن پر شرح میں دو فیصد کمی کاروباری برادری کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گی۔
    ‎انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ مجموعی طور پر یہ بجٹ سرمایہ کاری، کاروبار اور معاشی ترقی کے فروغ کی سمت میں ایک مثبت کوشش ہے، جس کے نتائج آنے والے مہینوں میں سامنے آئیں گے۔

  • موجیں ختم،اورنج لائن ٹرین،میٹرو پر سفر کے لئے اب کرایہ دینا ہو گا

    موجیں ختم،اورنج لائن ٹرین،میٹرو پر سفر کے لئے اب کرایہ دینا ہو گا

    پنجاب میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کے تحت چلنے والی تمام پبلک ٹرانسپورٹ پر مفت سفر کی سہولت ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد مسافروں کو دوبارہ کرایہ ادا کرنا ہوگا۔

    انچارج ماس ٹرانزٹ اتھارٹی عزیر شاہ کے مطابق اورنج لائن میٹرو ٹرین، میٹرو بس اور اسپیڈو بس سروس پر مفت سفر کی سہولت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرایوں کا دوبارہ اطلاق لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں چلنے والی تمام ماس ٹرانزٹ سروسز پر ہوگا،عزیر شاہ نے بتایا کہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی ٹرانسپورٹ سروسز کو عارضی طور پر مفت کیا گیا تھا، تاہم اب یہ سہولت واپس لے لی گئی ہے اور مسافروں سے معمول کے مطابق کرایہ وصول کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اپریل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عوام کو سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کر دیا گیا تھا۔ اب حکومت کی جانب سے اس پالیسی کو ختم کرتے ہوئے دوبارہ کرایہ نظام بحال کر دیا گیا ہے۔