اداکار سیف علی خان کے پھوپھا میاں فریدالدین لاہور میں انتقال کرگئے
باغی ٹی وی : بھارتی اداکار سیف علی خان کے پھوپھا میاں فریدالدین انتقال کرگئے۔میاںفریدالدین جی او آر ون ميں رہتے تھے۔انہيں میاں میر قبرستان لاھور میں سپرد خاک کر دیا گیا،

واضحرہے کہ کتنے ہی بالی وڈ اداکار ایسے ہیں جن کے رشتہ دار پاکستان میں مقیم ہیں ، انہیں میں شاہ رخ خان بھی ہیں، جس کا آبائی گھر پشاور قصہ خوانی بازار میں ہے . پچھلے دنوں شاہ رخکی کزن فوت ہوئی تھی ، جسے امید تھی کہ اس کے آخری وقت سے پہلے شاہ رخ شاید اس کی خبر گیر کے لیے اس کے پاس پشاور آئے گا. لیکن اسی حسرت کو دل میںلیے وہ اس جہاں سے کوچ کر گئی ،
Category: لاہور
-

اداکار سیف علی خان کے پھوپھا میاں فریدالدین لاہور میں انتقال کرگئے
-

وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت مون سون سیزن کے پیش نظر ممکنہ سیلاب کے حوالے سے اہم اجلاس
وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت مون سون سیزن کے پیش نظر ممکنہ سیلاب کے حوالے سے اہم اجلاس
باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں کابینہ کمیٹی برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کااہم اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزراء محمد محسن لغاری،میاں خالد محمود،ملک نعمان احمد لنگڑیال،محمد تیمور خان،محمد ہاشم ڈوگر،چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ،متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام کی اجلاس میں شرکت کی.سینئر وزیر عبدالعلیم خان، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیواورڈویژنل کمشنر ز ویڈیولنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے
اجلاس میں مون سون سیزن کے پیش نظر ممکنہ سیلاب کے حوالے سے محکموں او راداروں کی تیاریوں و انتظامات کاجائزہ لیاگیا
اربن فلڈنگ کے خدشے کے حوالے سے شہرو ں میں ضروری انتظامات پر غور کیاگیا- وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے متعلقہ محکموں او راداروں کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے.مون سون سیزن کے پیش نظر دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو 24گھنٹے مانیٹر کیاجائے- پی ڈی ایم اے میں قائم کنٹرول روم صورتحال پرنظر رکھے-متعلقہ وفاقی و صوبائی محکمو ں کے درمیان بہترین کوآرڈینیشن یقینی بنائی جائے.وزیراعلیٰ کی ضلع کی سطح پر ایمرجنسی پلان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی،
وزیر اعلی نے کہا کہ ڈسٹرکٹ انسپکشن کمیٹیاں باقاعدہ اجلاس کر کے انتظامات کا جائزہ لیں.وزیراعلیٰ عثمان بزدار نالوں کی صفائی کے کام میں تاخیر پر برہم ہوئے
جون تک نالوں کی صفائی مکمل ہونی چاہیے تھی،ہنگامی بنیادوں پر نالوں کی صفائی کے کام کو مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے-اس ضمن میں تاخیر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی-اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لئے تمام انتظامات جلد مکمل کئے جائیں -دریاؤں کے حفاظتی بند او رپشتوں کی مضبوطی کے کام کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوگا-شہروں میں نکاسی آب کے لئے موثر حکمت عملی کے تحت جامع پلان مرتب کیا جائے-ڈی جی پی ڈی ایم اے اپنے ویئر ہاؤسز میں ضروری آلات او رسامان کی دستیابی یقینی بنائیں –
ڈی واٹرنگ سیٹ فنکشنل رکھے جائیں -اضلاع میں سانپ کے کاٹنے کے علاج کی میڈیسن وافر مقدار میں موجود ہونی چاہیے-لاہور کے نشیبی علاقوں سے بارش کے پانی کی جلد نکاسی کے لئے موثر پلان پہلے سے ترتیب دیاجائے
محکمہ موسمیات موسم کی صورتحال کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ پیش کرے-دریاؤں کے کیچمنٹ ایریاز میں ہونے والی بارشوں کی ڈیلی رپورٹ مرتب کی جائے،کسی بھی نا گہانی صورت میں متعلقہ محکموں او رادارے اپنا ہنگامی پلان بھی تیار رکھیں –وزیر اعلیٰ کی زیرصدارت ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا اجلاس pic.twitter.com/6EmMUJgwQC
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) July 7, 2020

-

میری ہمدردیاں آج بھی عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ ہیں لیکن سب کچھ ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے، حسن نثار
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی حسن نثار نے کہا ہے کہ میری ہمدردیاں آج بھی عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ ہیں لیکن سب کچھ ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے حسن نثار کا کہنا تھا کہ میری ہمدردیاں آج بھی عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ ہیں لیکن سب کچھ ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے،
میری ہمدردیاں آج بھی عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ ہیں لیکن سب کچھ ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے،https://t.co/rBs2hfiVVh
— Hassan Nisar (@HassanNisar) July 7, 2020
حسن نثار نے ایک ویڈیو بھی ٹویٹر پر شیئر کی جس میں انکا کہنا تھا کہ ایک سوال ہے جو مسلسل پوچھا جا رہا ہے، میں پہلے نظر انداز کر رہا تھا کہ اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہئے، خود حکومت کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے اور اپنی کمزوریوں، خامیوں کو خؤد دیکھنا چاہئے وہ زیادہ بہتر ہوتا لیکن اب میرے ویوز زیادہ عزیز ہیں، مسلسل سوال پوچھا جا رہا ہے کہ حکومت کی سب سے بڑی غلطی کیا ہے
حسن نثار کا کہنا تھا کہ میں نے لمبی لڑائی لڑی پی پی اور ن لیگ کے خلاف، 27 سال سے زیادہ،یہ وسیم اکرم پلس جیسا پلس نہیں، میں بھول جاتا تھا تاریخ، ابھی سالگرہ منائی جا رہی ہے خبریں کی، اس سے پہلے مساوات کا ایڈیٹر تھا تو اسوقت کالم نگاری سنجیدگی سے شروع کی تھی، 27 سال پلس ہو گئے دو جماعتوں کے خلاف لڑتے ہوئے، جب پی ٹی آئی بنی اس میں بھی ایک رول تھا، میری آج بھی سمت پی ٹی آئی کے ساتھ ہے لیکن میری بنیادی سوچ ملک اور لوگوں کے ساتھ ہے، باقی سب کچھ ثانوی ہے،
حسن نثار کا کہنا تھا کہ ہمیں سمجھ لینا چاہئے پسند کرتے ہیں یا نا پسند، لاجک اور ریزن ہمارے پاس ہے، ہمارے ہاں رواج ہے کہ عام آدمی کو کہو کہ تم اپنے ٹیسٹ کروا لو خون کا ،اکثر جواب ملے گا چھوڑا، کچھ نکل ہی نہ آئے، اب اگر ڈاکٹر اسکو کہیں اور مجبور کریں کہ یہ ٹیسٹ ہمیں چاہئے اور وہ کروائے اور کچھ نہ نکلے تو سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ اتنے پیسے لگ گئے کچھ نکلا ہی نہیں،
حسن نثار کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی پہلی غلطی، حکومت کے آنے سے پہلے جو غلطیاں کی ہیں پہلے ہم اس پر بات کرتے ہیں وہ ہے توقعات کا ضرورت سے زیادہ بڑھا دینا ،اس میں میرا حصہ بھی ہے،میں اگر کسی کو بہت ہی چاند تارے توڑ لاؤں گا تو وہ تو محاورے ہیں، توقعات کو بڑا نہیں کرنا چاہئے بلکہ ذمہ داری سے بات کرنا چاہئے، عمران خان، اسکی پارٹی اور لوگوں نے، میرے جیسے لوگوں نے بھی یہ حماقت کی، توقعات کا گراف بہت اوپر لے گئے جو پاکستان جیسے ملک میں ممکن ہی نہیں، ہماری اکانومی ہی نہیں اخلاقیات بھی بری طرح فریکچر ہو چکی ہیں، ہمارا کچھ بھی نارمل نہیں ہے،
https://www.youtube.com/watch?v=pxmZRxrUuMY
حسن نثار کا مزید کہنا تھا کہ ایک غلطی حکومت بنانے سے پہلے ہوئی،خواب فروشی،دوسری غلطی جس میں اکیلا،میں میڈیا میں اکیلا تھا جو کر رہا تھا،مجھے اس حد تک نہیں جانا چاہئے تھا ،سپورٹ کرتا ایک طریقے سے، دوسری غلطی ہوم ورک ،تیاری نہ کرنا تھی، اس سے بچہ میٹرک یا اے لیول کا امتحان میں پاس نہین ہو سکتا جب تک تیاری نہ ہو، آپ بڑے طاقتور ہو کشتی لڑنی ہے لیکن تیاری نہیں کی تو کچھ نہیں کر سکتے، عمران 75 فیصد، 25 فیصد اسکے وہ لوگ جو اسکو تاثر دیتے رہے کہ ہم بڑی تیاری کر رہے ہیں، اکانومی، انڈسٹری ،زراعت میں یہ ہو رہا ہے
حسن نثار کا مزید کہنا تھا کہ ایک بہت بھیانک غلطی ہوئی،عمران خان اس کا اکیلا ذمہ دار ہے، باقیوں کی کوئی غلطی نہیں، وہ ہے بہت سارے محاذ کھولنا، ایسے نہیں ہوتا، ہٹلر اور نپولین جیسے بندے مار کھا جاتے ہیں، یہ گہرا فلسفہ نہیں ہے، زندگی میں صبر، ضبط ،تحمل،مرحلہ وار منصوبہ بندی ہونی چاہئے، انہوں نے سارے کا سارا چھابہ اٹھا لیا،عمران خان نے حماقت یہ کی کہ دو درجن خربوزے پکڑنے کی کوشش کی اور وہ سارے ہاتھ سے نکل گئے، پلے کچھ نہیں، نہ تیاری تھی، نہ ٹرینڈ مین پاور تھی، اناڑی سے لوگ آ گئے، جن کی تیاری نہیں تھی، تجربہ نہیں تھا،کچھ نہ کرتے صرف اکانومی پر توجہ دیتے، اسکی ڈینٹنگ کرتے اور ایسے کرتے جیسے زیور کی کرتے ہیں، پھر یکدم سرمایہ کار بھی شرما گیا، نوا زشریف اینڈ کمپنی کے لوگ انکے بینفشریز ہیں، جو حکومت کے خلاف متحرک ہو گئے
-

میڈیا آئینہ ہے، اسے توڑنے یا بند کرنے کے بجائے حکومت اپنے چہرے پر لگے داغ صاف کرے۔ سراج الحق
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ میڈیا آئینہ ہے، اسے توڑنے یا بند کرنے کے بجائے حکومت اپنے چہرے پر لگے داغ صاف کرے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ میڈیا آئینہ ہے، اسے توڑنے یا بند کرنے کے بجائے حکومت اپنے چہرے پر لگے داغ صاف کرے۔
میڈیا آئینہ ہے، اسے توڑنے یا بند کرنے کے بجائے حکومت اپنے چہرے پر لگے داغ صاف کرے۔
— Siraj ul Haq (@SirajOfficial) July 6, 2020
سینیٹر سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ وزیراعظم سمیت ہر حکمران سمجھتا ہے کہ اس کا کوئی متبادل نہیں، مگر اقتدار کی کرسی سب سے کمزور چیز ہے۔ کب کھسک جائے، پتہ نہیں چلتا۔ ماضی میں بھی حکمران اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل ہونے کے دعوے کرتے رہے، مگر اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے بننے والی حکومتیں کوئی نتائج نہیں دے سکیں.
ایک صارف نے سراج الحق کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سراج صاحب میں آپ کی توجہ میڈیا کےحوالے سے کرواناچاہوں گا پاکستان کا میڈیا آزاد نہیں بلکہ ایک آوارہ میڈیا ہے دنیا میں ہر ملک کےمیڈیا کی حدود اور پیرامیٹر ہوتے ہتکہ امریکہ میں میڈیا کو کافی آذادی ہیں مگر وہاں بھی میڈیا حکومت یا فوج کےخلاف نہیں بول سکتا، میڈیا کاSOP لازمی ہوناچائیے
سراج صاحب میں آپ کی توجہ میڈیا کےحوالے سے کرواناچاہوں گا پاکستان کا میڈیا آزاد نہیں بلکہ ایک آوارہ میڈیا ہے دنیا میں ہر ملک کےمیڈیا کی حدود اور پیرامیٹر ہوتے ہتکہ امریکہ میں میڈیا کو کافی آذادی ہیں مگر وہاں بھی میڈیا حکومت یا فوج کےخلاف نہیں بول سکتا، میڈیا کاSOP لازمی ہوناچائیے
— Adnan Rasheed Farooqi (@AdnanRasheedFa1) July 6, 2020
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اچھا جی پہلے جماعت تو اپنے چہرے پر لگے منافقت کے داغ اچھی طرح دھو لے۔۔میڈیا کو لگام کس نے ڈالنی ھے۔۔؟؟ جو روز فیک اور جھوٹی الزام تراشیاں کرتے رھتے بیں۔ ؟؟
اچھا جی پہلے جماعت تو اپنے چہرے پر لگے منافقت کے داغ اچھی طرح دھو لے۔۔
میڈیا کو لگام کس نے ڈالنی ھے۔۔؟؟
جو روز فیک اور جھوٹی الزام تراشیاں کرتے رھتے بیں۔ ؟؟— Ch Nadeem Tufail (@maskeench) July 7, 2020
-

ایک کال پر ڈاکٹر آپ کے گھر کی دہلیز پر
ایک کال پر ڈاکٹر آپ کے گھر کی دہلیز پر
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، اتوار کی دوپہر ہو اور اچانک آپ کے بچے کو کچھ الرجی کی علامات ظاہر ہوجائیں ۔ کیا آپ کوئی کھلا میڈیکل کلینک تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا کورونا کی صورتحال کے تحت ایمرجنسی میں جائیں گے ؟ نہیں! دوسرا آپشن استعمال کریںگے ہے کہ اپنے گھر پر بلانے کے لیے کسی سند یافتہ ڈاکٹر کو فون کریں گے .
اس طرح نسخے اب دستیاب ہیں اگر آپ جس ڈاکٹر سے اپنے گھر کی رازداری کے بارے میں صلاح مشورہ کر رہے ہیں تو ، محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو اس کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر آن کال ایک حیرت انگیز نیا اقدام ہے جو اپنے سیل فون پر صرف ایک ٹچ کے ذریعے لوگوں کو آسانی اور سکون پہنچانے کے اولین مقصد کے ساتھ متعارف کرایا گیا ہے۔ڈاکٹر آن کال ایک بالکل نیا اقدام ہے جس میں متعارف کرایا گیا ہے لوگوں کے موبائل فون پر صرف ایک کلک کے ساتھ لوگوں کو راحت پہنچانا۔ یہ ایک ایسی خدمت ہے جو حقیقت میں بہت اچھی لگتی ہے لیکن حقیقت میں نہیں ہے۔

آپ کو اپنا سیل فون اٹھانے کی ضرورت ہے ، اپنے آپ کو ڈاکٹر آن کال کے ساتھ رجسٹر کریں ، اور جب بھی ضرورت ہو ڈاکٹر کو کال کریں۔
اس خدمت کی بدولت آپ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے مصدقہ ڈاکٹروں اور نرس کی سہولت اپنے دہلیز پر حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ کو اپنا سیل فون اٹھانے کی ضرورت ہے ، اپنے آپ کو ڈاکٹر آن کال کے ساتھ رجسٹر کریں ، اور جب بھی ضرورت ہو ڈاکٹر کو کال کریں۔ کئی ڈاکٹر آپ کے گھر آئیںگے جس میں آپ کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ آپ کے گھر کا عملہ بھی شامل ہوتا ہے جب بھی آپ کی ضرورت ہو۔ یہ مراعات ہمارے ملک کی موجودہ صورتحال پر غور کرتے ہوئے مثبت امید کی کرن ہیں
-

گورنر پنجاب سے سکھ برادری کے وفد کی ملاقات۔ چوہدری محمد سرور کا فاروق آباد ٹرین حادثہ پر اظہار تعزیت
گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے سکھ برادری کے وفد کی ملاقات میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا فاروق آباد ٹرین حادثہ پر سکھ کمیونٹی سے اظہار تعزیت۔ ملاقات میں پی ٹی آئی رہنما مون خان بھی موجود تھے۔ اس موقعہ پر گورنر نے کہا کہ فاروق آباد ٹرین حادثہ درد ناک واقعہ ہےجس میں قیمتی جانوں کے ناقابل تلافی نقصان پر بے حد دکھ اور افسوس ہے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ وہ ننکانہ صاحب اور پشاور میں لواحقین اور سکھ برادری کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ تمام تر دلی ہمدردی سوگواران کے ساتھ ہیں۔ گورنر پنجاب نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی
-

نجی سکولوں سے نکالے گئے اساتذہ کے لیے صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس کا اہم اقدام
نجی سکولوں سے نکالے گئے اساتذہ کے لیے صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس کا اہم اقدام
باغی ٹی وی : صوبائی وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس نے نجی سکولوں میں پڑھانے والے اساتذۂ کے لئے اہم پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ
ڈاکٹر مراد راس نے کہا کہ ان مشکل حالات میں نجی سکولوں کے اساتذہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی نہیں ہونے دیں گے .حال ہی میں لاہور کے ایک نجی سکول کی جانب سے کئی اساتذہ کو نوکری سے نکالنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں .کوویڈ 19 کے باعث نجی سکولوں کی جانب سے نکالے جانے والے اساتذۂ اپنے متعلقہ اضلاع کے سی ای اوز کو تحریری شکایات درج کروائیں، حکومت متاثرہ اساتذۂ کی ہر ممکن معاونت کرے گی:
-

حکومتی ترجمانوں میں چمچہ گیری اورچاپلوسی میں آگے بڑھنے کی ریس لگی ہے:عظمیٰ بخاری
حکومتی ترجمانوں میں چمچہ گیری اورچاپلوسی میں آگے بڑھنے کی ریس لگی ہے:عظمیٰ بخاری
باغی ٹی وی : مسلم لیگ(ن) پنجاب نے ترجمان عظمیٰ بخاری کا فیاض چوہان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہبازشریف نے سپیکر قومی اسمبلی کو قومی ایشوز پر خط لکھا اور پریشانی فیاض چوہان کو ہورہی ہے:فیاض چوہان ہر معاملے میں ٹانگ اڑانا اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہیں.فیاض چوہان کی مثال ”توں کون میں خواہ مخواہ“ والی ہے:
چوہان صاحب قومی ایشوز کی بات ہورہی ہے،جب دو بڑے بات کریں تو خاموش رہتے ہیں،یہ آپ سے بہت اوپر کی بات ہے.
جن لوگوں سے اپنی وزارتیں چلائی نہیں جارہی وہ شہباز شریف پر تنقید کرکے اپنی کارکردگی رپورٹس ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں.
تنقید برائے تنقید کی سیاست سے کارکردگی رپورٹیں کبھی درست نہیں آسکتی:.جن کے رپورٹیں پہلے دن سے ہی خراب آرہی ہیں وہ اب کیسے ٹھیک ہو سکتی ہیں:حکومتی ترجمانوں میں چمچہ گیری اورچاپلوسی میں آگے بڑھنے کی ریس لگی ہے:ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور خوشامدیوں کا ٹولہ گندی سیاست کرنے میں مصروف ہے:میڈیا سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر دھمکا جارہا ہے:عظمیٰ بخاری
دھاندلی زدہ حکومت میڈیا پر بھی دھاندلی زدہ خبریں چلوانا چاہتی ہے.دھندلی سے حکومتیں بن سکتی ہیں لیکن کارکردگی دیکھانے کےلئے لیڈرشپ اور دماغ کی ضرورت ہے .تحریک انصاف کے پاس لیڈر شپ اور دماغ کا شدید ترین فقدان ہے:
-

اورنج لائن منصوبہ مکمل نہ ہونے پر چیف جسٹس سے از خود نوٹس کا مطالبہ آ گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دو سال میں اورنج لائن منصوبے کو مکمل نہ کرنے کےخلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروا دی گئی
قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن اسوہ آفتاب کی جانب سے جمع کرائی گئی، قرار داد کے متن میں کہا گیا کہ اورنج لائن منصوبے پر قوم کا اربوں روپے لگ چکا ہے ،بزدار حکومت اورنج لائن منصوبے کو بھی پشاور بی آر ٹی کی طرح کھنڈرات میں تبدیل کرنا چاہتی ہے ،سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے دور حکومت میں اورنج لائن ٹرین کا 80فیصد کام مکمل ہو چکا تھا
قرار داد کے متن میں کہا گیا کہ بزدار حکومت دو سالوں میں 20کام مکمل نہیں کر سکی منصوبے میں تاخیر سے لاگت میں بھی اربوں روپے کا اضافہ ہورہا ہے ،قرارداد کے متن میں چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے کا از خود نوٹس لیا جائے،عدالت پنجاب حکومت کو اورنج لائن ٹرین منصوبہ جلد از جلد مکمل کرنے کی حتمی تاریخ دے.
اورنج ٹرین بجلی سے چلائی جا رہی ہے۔ اورنج ٹرین 45، منٹ میں 27.1 کلومیٹر فاصلہ طے کرے گی۔ ٹرین کی ایک بوگی میں 50 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
اورنج ٹرین کا 25.4 کلو میٹر ٹریک ایلی ویٹیڈ جبکہ 1.72 کلومیٹر انڈر گراؤنڈ ہے، 26 سٹیشنز میں سے 24 ایلی ویٹیڈ اور 2 انڈر گراؤنڈ ہیں۔ ٹرین کی زیادہ سے زیادہ رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے مگر ٹرین اوسطاً 34.8 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی۔
کیا نواز شریف صحتیاب ہو گئے؟ شہباز شریف کی پارٹی کو جشن منانے کی ہدایت
حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف
حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟
مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟
واضح رہے ایگزم بنک چائنہ سے 1.62 بلین ڈالر کے قرض سے بننے والی میٹرو اورنج لائن ٹرین منصوبہ پر کام کا آغاز 2 اکتوبر 2015 میں ہوا، پی سی ون کے مطابق منصوبہ 27 ماہ میں مکمل کیا جانا تھا مگر لاہور ہائی کورٹ کے حکم امتناعی، کام کی سست رفتاری اور لاگت میں ہوشربا اضافے کے باعث 50 ماہ بعد بھی منصوبہ ادھورا ہے۔
-

پنجاب میں کرونا کا پھیلاؤ جاری، مریض 82 ہزار سے زائد ہو گئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی طرح پنجاب میں بھی کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب میں کورونا وائرس کے706نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد پنجاب میں مریضوں کی مجموعی تعداد82,669 ہو گئی۔
ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق لاہورمیں 342،قصور2،شیخوپورہ 6،راولپنڈی83،جہلم2، اٹک 8، چکوال 26 اور گوجرانوالہ میں 18کیسز رپورٹ ہوئے۔ سیالکوٹ 15،نارووال 6،گجرات72، حافظ آباد 18،منڈی بہاؤالدین 1،ملتان 33،وہاڑی3، فیصل آباد 10 ،ٹوبہ1اور رحیم یار خان میں 2کیسز سامنے آئے۔سرگودھا 2، میانوالی 2، خوشاب 1،بہاولنگر 2، بہاولپور8، لودھراں 1،ڈی جی خان11، اوکاڑہ 9،جھنگ1،خانیوال 1بھکر16اورساہیوال میں 6کیس رپورٹ ہوئے۔
ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس سے 15 مزید اموات ہوئیں جس کے بعد پنجاب میں اموات کی کل تعداد1899 ہو چکی ہیں۔ پنجاب میں اب تک 547,481ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 47,087 ہو چکی ہے۔
ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کا کہنا ہے کہ عوام سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔ کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوراََ1033 پر رابطہ کریں۔ترجمان