Baaghi TV

Category: لاہور

  • شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں ایک بار پھر توسیع

    شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں ایک بار پھر توسیع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں توسیع کے حوالہ سے درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائی کورٹ نے قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف صاحب کی عبوری ضمانت میں 16 جولائی تک توسیع کر دی،

    دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ شہبازشریف کی کورونارپورٹ تومنفی آگئی پھرکیوں نہیں آئے؟ شہباز شریف کا کوروناٹیسٹ منفی آگیا ہےاب باقی کیابچتا ہے؟شہبازشریف کی حاضری سےاستثنیٰ کی درخواست منظور کرکےابھی فیصلہ کردیتے ہیں،

    عدالت نے شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی، عدالت نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں بھی 16 جولائی تک توسیع کر دی

    اس موقع پر لاہور ہائیکورٹ کے باہر ن لیگی کارکنان موجود تھے،ن لیگ کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری عطاءاللہ تارڑ میاں شہباز شریف سے اظہار یکجیتی کیلئے لاہور ہائیکورٹ پہنچے اورعطاء اللہ تارڑ کی جانب سے میاں شہباز شریف سے اظہار یکجہتی کے لیے آنے والے کارکنان کا شکریہ ادا کیا گیا

    رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ بھی لاہو رہائیکورٹ میں موجود تھے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز شہباز شریف نے طبی بنیادوں پر حاضری معافی کی درخواست دائر کر دی شہباز شریف نے وکیل کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ شہباز شریف کرونا وائرس منفی آنے کے باوجود کمزوری محسوس کر رہے ہیں ۔شہباز شریف کا اینٹی باڈیز ٹیسٹ ہونا باقی ہے ۔شہباز شریف کو کل حاضری سے استثنی دیا جائے ۔استدعا

    نیب کا پرچہ حل کرنے میں شہباز شریف فیل ہو گئے

    فردجرم عائد کرنی تھی توکرونا ہو گیا،عدالت نے شہباز شریف کو پھر طلب کر لیا

    نیب میں اکثر سوالوں کے جواب میں شہباز شریف نے کہا مجھے نہیں پتہ ،ارشاد بھٹی

    شہباز شریف کرونا سے صحتیاب نہ ہوسکے،فرد جرم سے بچنے کیلئے ایک بار پھر درخواست دائر

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے نیب کو شہباز شریف کی گرفتاری سے روک رکھا ہے .اس سے پہلے شہباز شریف ہائی کورٹ میں‌ پیش ہوئے تھے. اور نیب بھی ان کی گرفتاری کے لیے موجود تھی ، لیکن ہائی کورٹ‌ نے انہیں‌روک دیا تھا . لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت منظور کرلی تھی

    شہباز شریف نے آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس میں متوقع گرفتاری سے بچنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں عبوری ضمانت کیلئے درخواست دائر کی تھی۔ چیئرمین نیب سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ نیب کی طرف سے زیر التوا انکوائری میں گرفتار کئے جانے کا خدشہ ہے، میں تواتر کیساتھ تمام اثاثے ڈکلیئر کرتا آ رہا ہوں۔ نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا 1972ء میں بطور تاجر کاروبار کا آغاز کیا اور ایگری کلچر، شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اہم کردار ادا کیا، سماج کی بھلائی کیلئے 1988ء میں سیاست میں قدم رکھا۔ موجودہ حکومت کے سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کی جس میں نیب کی جانب سے لگائے گئے الزامات عمومی نوعیت کے ہیں۔ 2018ء میں اسی کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اس دوران بھی نیب کیساتھ بھر پور تعاون کیا تھا۔

    شہباز شریف نے درخواست میں نیب پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2018ء میں گرفتاری کے دوران نیب نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک بھی ثبوت سامنے نہیں رکھا، نیب ایسے کیس میں اپنے اختیار کا استعمال نہیں کر سکتا جس میں کوئی ثبوت موجود نہ ہو، منی لانڈرنگ کے الزامات بھی بالکل بے بنیاد ہیں۔

  • وزیراعظم کے نوٹس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب متحرک،کسی کو عوام کا استحصال نہیں کرنے دوں گا، بزدار

    وزیراعظم کے نوٹس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب متحرک،کسی کو عوام کا استحصال نہیں کرنے دوں گا، بزدار

    وزیراعظم کے نوٹس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب متحرک،کسی کو عوام کا استحصال نہیں کرنے دوں گا، بزدار
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ صوبے میں آٹے سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کیلئے تمام انتظامی اقدامات اٹھائیں گے-

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ آٹے کی مقرر کردہ نرخوں پر فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا-آٹا تھیلا کی قیمت میں خود ساختہ اضافہ کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق قانونی کارروائی ہوگی-ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہوگی-

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ کمیٹی برائے پرائس کنٹرول کو آٹے اور دیگر اشیائے ضروریہ کی مقرر کردہ قیمتوں میں فراہمی کے لئے ضروری اقدامات کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کردی ہیں -آٹے اور دیگراشیائے ضروریہ کے نرخوں میں ناجائز اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ حالات میں عام آدمی کے مفادات کا پورا تحفظ کریں گے۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہرممکن اقدام اٹھائیں گے۔ کسی کو عوام کا استحصال نہیں کرنے دوں گا۔

    مارکیٹ میں ایک بار پھر آٹے کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ،

    پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان کا بڑا فیصلہ، پنجاب میں آٹے بحران کا خطرہ ٹل گیا

    چینی بحران رپورٹ میں کی گئی باتیں غلط، وزیراعظم کو موقف پیش کریں گے، جہانگیر ترین

    اسد عمرنے کی بجٹ کی مخالفت، غریب عوام کے دل جیت لئے

    ہمیں چور کہا جاتا ہے لیکن بتایا جائے چینی مہنگی کرکے عوام کو کون لوٹ رہا ہے؟ خواجہ آصف برس پڑے

    شوگر ملزسٹاک کی نقل و حمل اور سپلائی کی مکمل مانیٹرنگ کا حکم

    چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

    چینی بحران کا ذمہ دار جہانگیر ترین نہیں بلکہ شریف برادران،اہم انکشافات سامنے آ گئے

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

    جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

    فائیو سٹار ہوٹل اورمستحق شہریوں کیلئے ایک ہی ریٹ پر آٹے کی فراہمی درست نہیں،عبدالعلیم خان

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا تھا،وزیراعظم عمران خان نے پنجاب حکومت کو آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے کی ہدایت کی ہے،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آٹے کی قیمت کم کرکے پرانی قیمتوں پربحال کیا جائے،آٹے کے 20 کلوتھیلے کی قیمت میں 150روپے کمی کی جائے،پنجاب حکومت آٹےکی قیمت کنٹرول کرنےکیلئے ہنگامی اقدامات کرے،

    وزیراعطم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزوں کوپکڑیں یاسبسڈی دیں،غریب کوسستاآٹافراہم کریں،ہرحال میں آٹے کی قیمت پرانی سطح پربحال کی جائے،

  • میر شکیل الرحمن کو فوری رہا اور چینل 24 کی بندش فی الفور ختم کرائی جائے،شہباز شریف کا سپیکرکو خط

    میر شکیل الرحمن کو فوری رہا اور چینل 24 کی بندش فی الفور ختم کرائی جائے،شہباز شریف کا سپیکرکو خط

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میڈیا کی بندش، میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے خلاف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ دیا

    شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ میں آپ کی توجہ قانون، دستور اور جمہوریت کی صریحا خلاف ورزی سے متعلق ہنگامی اور فوری نوعیت کے سنگین معاملے کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ یہ معاملہ میڈیا پر عائد کی جانے والی غیرمعمولی قدغنوں اور میڈیا ورکرز کے روزگار سے وابستہ ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال ’چینل 24‘ کی بندش ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندانوں کا چولہا بجھ گیا ہے ۔

    شہباز شریف نے خط میں مزید کہا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جس طرح ملک کے دیگر شعبہ جات انتہائی بری طرح متاثر ہوئے ہیں، میڈیا کو بھی انتہائی تباہ کن حالات کا سامنا ہے۔ حکومت نے پہلے اشتہارات کی بندش کے آمرانہ اقدامات کا سہارا لیا۔ میڈیا پر دباو بڑھانے کے لئے مختلف اینکرز کے پروگرامز، کالم نگاروں کے کالمز کی اشاعت پر پابندی اور حکومتی نظر میں ’ناپسندیدہ‘ قرار پانے والے صحافیوں کو بے روزگار کرنے کی منظم حکمت عملی اپنائی گئی۔حکومت پر تنقید سے باز نہ آنے والے اداروں کے مالکان پر مقدمات کا سلسلہ شروع کیاگیا جس کی واضح ترین مثال میر شکیل الرحمن کی گرفتاری ہے جسے وکلاءبرادری اور پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی اور دیگر بیرونی صحافتی تنظیمیں بھی انتقامی کارروائی قرار دے چکی ہے۔

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ یہ معاملہ محض ’چینل 24 ‘ کا نہیں بلکہ مجموعی طورپر میڈیا کی آزادی کے لئے موجودہ حکومت کی عدم برداشت کا ہے۔ حکومت انتہاءپسندی کے اس درجے پر پہنچ چکی ہے جس میں حکومتی اختیار کو ہر اس آواز کو خاموش کرانے کے لئے استعمال کیاجارہا ہے جو ”حکومتی سچ“ کو ماننے سے انکاری ہے۔

    شہباز شریف نے خط میں مزید کہا کہ ‎دستور پاکستان میں آزادی اظہار رائے اور اطلاعات تک رسائی ایک بنیادی حق تسلیم کیاگیا ہے۔ 1973ءمیں پہلے سے موجود اس دستوری ضمانت کواٹھارویں ترمیم نے مزید پختہ و جاندار بنایا ہے۔ جمہوریت اور دستور کی حکمرانی میں میڈیا ریاست کا چوتھا اور باوقار ستون تصور ہوتاہے۔ آزادی اظہار رائے اور حکومتی دباو پر چینل کی بندش ، پرامن احتجاج کرنے والوں پر لاٹھیاں، گولیاں اور پتھراو غیرجمہوری، غیردستوری اور غیرقانونی حربے ہیں جن کی ہم شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

    شہباز شریف نے خط میں مطالبہ کیا کہ اپوزیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے میں آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ میر شکیل الرحمن کو فوری رہا کیا جائے اور چینل 24 کی بندش فی الفور ختم کرائی جائے۔ قاعدے قانون سے متعلق امور کو حل کرنے کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو میڈیا کی صنعت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا جائزہ لے، میڈیا کے نمائندوں، صحافتی تنظیموں کی شکایات سن کر اصلاح احوال کے لئے تجاویز دے جن پر پارلیمان کے ذریعے حکومت سے عمل درآمد کرایا جائے۔

    کسی سیٹھ کی مالی معاملات میں ہونے والی گرفتاری کو میڈیا کی‌ آزادی کے ساتھ جوڑنا صحافتی اقدار کی نفی ہے،فردوس عاشق اعوان

    میرشکیل الرحمان کی گرفتاری کیخلاف اہلیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا، کہاں پہنچ گئی

    ‎شہباز شریف نے خط میں مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ پارٹی وابستگی یا وزیراعظم کے دباو کے بجائے آئین، جمہوریت اور ریاست کے چوتھے ستون کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کریں گے. عوام کی آواز سنیں، اسے بند نہ کریں۔

    میر شکیل الرحمان کی 94 سالہ والدہ سخت بیمار،ضمانت کی درخواست جلد سنی جائے،وکیل کی استدعا، سماعت ملتوی

  • لاہور ہائی کورٹ نے چینل 24 کی معطلی کا حکم معطل کر دیا

    لاہور ہائی کورٹ نے چینل 24 کی معطلی کا حکم معطل کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے چینل 24 کی معطلی کا حکم معطل کر دیا

    لاہور ہائیکورٹ میں 24 نیوز چینل کی بندش کے حوالہ سے درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے پیمرا کا حکم نامہ معطل کرتے ہوئے نشریات کی اجازت دے دی

    لاہور ہائی کورٹ نے ٹونٹی فور نیوز کا لائسنس بحال کرنے کا حکم دے دیا،لاہور ہائی کورٹ نے پیمرا کی جانب سے ٹونٹی فور نیوز پر بندش کا غیر منصفانہ اقدام معطل کردیا،عدالت نے وفاقی حکومت ،،پیمرا سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل جواب طلب کر لیا

    جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے سٹی نیوز نیٹ ورک کی درخواست پر 24 نیوز کا لائسنس بحال کیا ،عدالت نے ہیمرا کی حکم امتناعی جاری نہ کرنے کی استدعا مسترد کردی

    واضح رہے کہ پیمرا نے 24 چینل کا لائسنس معطل کر دیا تھا جس پر اپوزیشن جماعتیں بھی سراپا احتجاج تھیں،گزشتہ روز اسلام آباد میں صحآفیوں نے بھی احتجاج کیا تھا

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران صاحب لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی.عمران مافیا حکومت صحافیوں کی آواز اور اِن ادارے بند کرتی ہے اور احتجاج پر لاٹھیاں اور گولیاں برساتی ہے.عمران صاحب آج پورا پاکستان آپ کے ظلم کے خلاف سراپا احتجاج ہے، کس کس پر لاٹھیاں اور گولیاں برسائیں گے؟پارلیمان بند، روزگار بند، زبان بند، حکومت کی آنکھیں بند، عمران صاحب یہ ہے نیا پاکستان؟

    ن لیگی رہنما رانا مشہود احمد خاں نے لاہور پریس کلب کے باہر 24 نیوز چینل کے ملازمین کی طرف سے کئے گئے احتجاج میں شرکت کی جس میں انہوں نے کہا کہ 24 نیوز چینل کا لائسنس معطل کر کے عمران خان کی حکومت کا آزادی صحافت پر ایک اور حملہ کیا ہے ۔ 24 نیوز کا لائسنس معطل کر دیا۔ پیمرا کی جانب سے یہ اقدام اس حکومت کی فاشزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے چینل 24 کی نیوز اور کرنٹ افیئرز کی نشریات جاری کردہ لائسنس اور قوانین کی خلاف ورزی پر معطل کر دیں۔

    پیمرا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سنٹرل میڈیا نیٹ ورک جاری شدہ لائسنس کے تحت ویلیو ٹی وی چینل پر انٹرٹینمنٹ سے متعلق مواد چلانے کا مجاز تھا جبکہ کمپنی تمام پیمرا قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر 24 نیوز کے نام سے نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز پر مبنی مواد نشر کر رہی ہے۔

    پیمرا کے بارہا منع کرنے اور متعدد نوٹسز جاری کرنے کے باوجود سنٹرل میڈیا نیٹ ورک نے چینل نشریات میں نیوز و کرنٹ افیئرز سے متعلق پروگرام جاری رکھے۔

    اس ضمن میں اتھارٹی نے 7 مئی 2020 کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا جس کے تحت کمپنی کو نیوز و کرنٹ افیئرز مواد کو فوری بند کرنے اور منظور شدہ انٹرٹینمنٹ مواد نشر کرنے کے احکامات جاری کیے تھے

    ذرائع کےمطابق متعدد مواقع کی فراہمی کے باوجود چینل انتظامیہ پیمرا کے احکامات پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی

    نیوز چینلزکی بندش، ایمرا صدر نے حکومتی جارحیت کا مقابلہ کرنیکا اعلان کر دیا

  • صدر مملکت کی اپنی اہلیہ کے ساتھ شفقت محمود کی ولدہ کی تعزیت کے  لیے گھر آمد

    صدر مملکت کی اپنی اہلیہ کے ساتھ شفقت محمود کی ولدہ کی تعزیت کے لیے گھر آمد

    صدر مملکت کی اپنی اہلیہ کے ساتھ شفقت محمود کی ولدہ کی تعزیت کے لیے گھر آمد

    باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اپنی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی کے ہمراہ وزیر تعلیم شفقت محمود گھر آئے اور شفقت محمود سے انکی والدہ کے انتقال پر تعزیت اور دعائے مغفرت کی ،صدر مملکت نے مرحومہ کے ایصال ثواب کیلئے دعا کی ،اس موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔ڈاکٹر عارف علوی نے غمزدہ خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہارِ کیا.

    واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر تعلیم کی والدہ انتقال کر گئی تھیں ، سیاسی شخصیات نے دکھ کی اس گھڑی میں شفقت محمود سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے مرحومہ کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی ہے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور کے نجی سکول  کے سلسلے میں  تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور کے نجی سکول کے سلسلے میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور کے نجی سکول میں طالبات کو ہراساں کیے جانے پر تحقیقات کےلیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور کے نجی سکول میں طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کی تحقیقات کےلیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا. کمیٹی واقعات کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرے گی .طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کےذمہ دار عناصر سزا سے بچ نہیں سکیں گے.

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ ہراساں کئے جانے والی طالبات کوہرقیمت پرانصاف فراہم کیاجائےگا،

    قبل ازیں لاہور گرائمر سکول میں طالبات کو سٹاف کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنے پراہم قدم اٹھا لیا گیا.لاہورگرائمر اسکول (ایل جی ایس) کی طلبات کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات کے بعد ، اسکول اتھارٹی نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاہور گریمر سکول کی چند طالبات نے جرتمندانہ قدم اٹھاتے ہوئے جنسی ہراسانی کے الزامات کو متعلقہ ذمہ داران تک پہنچایا اور مرد اساتذہ اور سٹاف کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں‌کیے جانے پر آواز اٹھائی ہے

    بہت سی لڑکیاں جنہوں نے بتایا کہ نام نہاد اساتذہ ان مختلف جگہوں پر بلا لیتے تھے ، جن کو کلاسوں میں ، آڈیٹوریم میں ، کینٹین میں ، اور دیگر مقامات پر انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ ایک ایسا کیس سامنے آیا جس میں متاثرہ لڑکی نے اسکول کی انتظامیہ سے کہا کہ وہ اپنے استاد سر وڑائچ کے خلاف کچھ کارروائی کرے جس نے اسے ہراساں کیا لیکن بالآخر مس مائرہ رانا (پاکستانی اداکار عمیر رانا کی اہلیہ) اور مسز شکیل نے اسے مسئلے کو وہیں ڈھپ کردیا۔ تاکہ ان کے اسکول کی ساکھ متاثر نہ ہو.

    ان ہی الزامات کے بعد سابق سینئر سکول طالبہ کی ایک وسیع اور تفصیلی گواہی کے بعد اسکول انتظامیہ نے آخر کار اس معاملے کو دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تشکیل دی جانے والی کمیٹی میں گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول کے پرنسپل غیاث صابر۔ ، بطور کنوینر نائب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن شاہد علی شاہ ، اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ، ایم ایس ٹی سعدیہ نسیم بطور ممبر ہوں گی

  • ‏کہتے ہیں جنہوں نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا، آئیے ہم آپ کو اس ڈاکومنٹری میں لاہور کے دروازوں کی سیر کرواتے ہیں جو وائس آف پاکستان کے ایگزیکٹو ممبر سید محمد اسد کی کاوش ہے۔

    ‏کہتے ہیں جنہوں نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا، آئیے ہم آپ کو اس ڈاکومنٹری میں لاہور کے دروازوں کی سیر کرواتے ہیں جو وائس آف پاکستان کے ایگزیکٹو ممبر سید محمد اسد کی کاوش ہے۔

    دنیا کے مختلف ممالک میں قدیم شہر موجود ہیں ہر شہر کی اپنی تہذیب و ثقافت تہوار اور طرز تعمیر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے شہروں میں ممتاز ہوتا ہے اسی طرح پاکستان کا قدیم ترین شہر لاہور ہے جس کی تاریخ کم و بیش 3000 ہزار سال قبل کی ہے اسے ایک ہندو راجہ رام چندر کے بیٹے لوہ چندر نے دریائے راوی کے کنارے ایک اونچے ٹیلے پر آباد کیا تھا-اس کا پہلا اور ابتدائی نام لوہ پور تھا -اس کا نام بدلنے کے بعد لاہور ہوا-

    لاہور میں موجود بہت سی قدیم عمارتیں سلطنت مغلیہ کی یادگار ہیں شہرلاہور کی تعمیر کچھ اس انداز میں کی گئی کہ اس کے اطراف کاروباری مراکز بنائے گئے اور وسط میں رہائشی علاقے آباد ہوئے ہر بازار میں محلے محلوں میں کوچے اور پر کوچے میں تنگ اور تاریک گلیوں کی گزر گاہیں بنائی گئیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ تمام کوچے اور محل ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    شہر لاہور میں داخل ہونے کے لئے 13 راستے بنائے گئے یہ دروازے دن میں لاہور میں داخل ہونے کے لئے استعمال کئے جاتے تھے اور رات کو بند کر دیئے جاتے تھے پہریدار پہرہ دیا کرتے تھے اور جنگی حالات مین شہر کا دفاّ انہی دروازوں سے کیا جاتا تھا-شہر کو ہنگامی حالاتوں سے بچانے کے لئے یہ دروازے اور فصیل اہم کردار اد کرتے تھے ان دروازوں کے نام کچھ یوں ہیں-

    ویڈیو سکرین شاٹ

    مستی دروازہ، کشمیری دروازہ، شیرانوالہ دروازہ، یکی دروازی، دہلی دروازہ ، اکبری دروازہ ، موچی دروازہ ، شاہ عالم دروازہ، لوہاری دروازہ، موری دروازہ، بھاٹی دروازہ، ٹیکسالی دروازہ ، روشنائی دروازہ

    یہ تمام دروازے لاہور کے ڈیفنس کے لئے بنائے گئے تھے جیسے کوئی جنگی حالات ہو ں یا مسئلہ ہو تو دروازوں کو بند کر کے فصیلوں سے دشمن کے حملوں کو روکا جا سکے اور ان سے مقابلہ کر کے منہ توڑ جواب دیا جا سکے-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    دہلی دروازہ:
    اس میں سب سے پہلے دہلی دروازہ ہے یہ چار سو سال پُرانا دروازہ ہے اور مغلوں کے دور کا بنا ہوا ہے مغلوں کے ٹائم میں یہ سب سے مصروف گزرگاہ ہوا کرتی تھی اور دہلی گیٹ کو دہلی گیٹ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا منہ دہلی کی طرف ہے اور اسیہلی میں لاہوری گیٹ ہے اسے اس لئے لاہوری گیٹ کہتے ہیں کیونکہ اس کا رُخ لاہور کی طرف ہے- دہلی دروازے سے شاہی وفد لاہور میں داخل ہوتا تھا-اس دروازے کے عقب میں شاہی حمام اور وزیر خان مسجد بوجود ہے


    ویڈیو سکرین شاٹ
    وزیر خان مسجد کی تعمیر دسمبر 1461 میں سات سال کی طویل مدت کے بعد پایہ تکمیل کو پہنچی مسجد وزیر خان مغلیہ حکومت میں تعمیر کی گئی اب تک کی نفیس کاشی کاکانسی کار کی خوبصورت مسجد ہے- یہ مسجد بادشاہی مسجد کی تعمیر سے 32 سال قبل تکیمیل کو پہنچے

    ویڈیو سکرین شاٹ
    کشمیری دروازہ:
    کشمیری دروازے کا نام اس لئے ہے کیونکہ اس کا رُخ کشمیر کی طرف ہے اس دروازے کے اندر کی جانب لاہور کا ایک اندرون لاہور کا بہت بڑا بازار ہے جو کشمیری بازار کے نام سے منسوب ہے-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    اس میں ایک سنہری مسجد بھی واقع ہے یہ مسجد 1750 میں تین خوبصورت سنہری گنبدوں کے ساتھ تعمیر کی گئی تھی-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    شیرانوالہ دروازہ:
    یہ دروازہ بھی اپنی حیرت انگیز معلومات رکھتا ہے اس دروازے پر حفاظت کے لئے شیروں کو پنجرے میں رکھا جاتا تھا جس کی وجہ سے کوئی بیرونی مداخلت نہیں کرتا تھا اس کو مغل کے دور حکومت میں بنایا گیا تھا اس کا پُرانا نام خطری دروازہ بھی تھا-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    مستی دروازہ :
    یہ شاہی قلعہ کے بالکل عقب میں واقع ہے اس دروازے کو خوشی کا دروازہ کہا جاتا ہے اس لئے اس کا نام مستی دروازہ رکھا گیا اس دروازے کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہاں جوتوں کا وسیع کاروبار ہے جس میں ثقافتی اور غیر ثقافتی جوتوں کی خریدو فروخت کی جاتی ہے-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    یکی دروازہ:
    یکی دروازہ ایک صوفی پیر زکی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے یکی پیر نے مغلیہ حملہ آوروں سے شہر لاہور کو محفوظ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا پہلے اس دروازے کا نام زکی تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کا نام بدل کر یکی دروازہ پڑ گیا-

    موچی دروازہ:
    موچی دروازہ بھی اپنا وجود کھو چکا ہے مگر اس دروازے کے نام میں تضاد پایا جاتا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ا سدروازے کے پاس موچی بیٹھا کرتے تھے اور جوتے ٹھیک کرتے تھے اس وجہ سے اس کانام موچی دروازہ پڑ گیا تھا کوئی کہتا ہے کہ اس کے محافظ کا نام موچی تھا اس لئے اس کا نام موچی رکھ دیا گیا تھا-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    شاہ عالم دروازہ:
    یہ بادشاہ اورنگزیب کے بیٹے شاہ عالم کے نام سے منسوب ہے ان کی وفات کے بعد اس دروازے کا نام شاہ عالم دروازہ رکھ دیا گیا تھا-اس دروازے کے اندرون جانب بہت بڑا رہائشی اور کمرشل علاقہ اور بہت بڑے مارکیٹ شاہ عالم مارکیٹ موجود ہے –

    ویڈیو سکرین شاٹ
    لوہاری دروازہ:
    لوہاری دروازہ ھی تاریخی دروازوں میں سے ایک ہے جو افراد تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس دروازے کا نام لوہار سے منسوب کیا گیا ہے –

    ویڈیو سکرین شاٹ
    موری دروازہ:
    موری دروازہ لاہور کے تمام دروازوں سے چھوٹا دروازہ ہے اور یہ لوہاری اور بھاٹی دروازے کے درمیان میں واقع ہے اس دروازے کو شہر سے ضائع شدہ سامان کو باہر لے جانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    بھاٹی دروازہ:
    شہر کے مغرب میں واقع ہے یہ دروازہ ان چھ دروازوں میں سے جو بھی تک سلامت ہیں اس کو چیلسی دروازہ بھی کہا جاتاہے – اس کی ایک خاصیت یہ ہے کہ اس کے اندر کی جانب بہت لذیذ پکوان ملتے ہیں بھاٹی گیٹ سے باہر حضرت داتا علی ہجویری رحمۃاللہ علیہ کا مزار واقع ہے علاوہ ازیں شاعر مشرق علامہ اقبال بھی 1901 سے 190 تک بھاٹی دروازے کے قریب مکین رہے-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    ٹیکسالی دوارزہ:
    ٹیکسالی دروازہ بھی مغلوں کے دور عہد میں تعمیر کیا گیا تھا یہاں ایک بہت بڑا جوتوں کا بازار بھی ہے جو شیخوپورہ بازار کے نام سے مشہور ہے اس دروازے کے اندر کی جانب بہت لذیذ پکوان کی بہت سی اقسام ملتی ہیں بادشاہی مسجد اس کے قریب واقع ہے اور لاہور کا حسن جسے المعروف شاہی محلہ بھی کہا جاتا ہے وہ بھی اس کے قریب واقع ہے-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    روشنائی دروازہ:
    روشنائی دروازہ اپنے نام سے ہی ثابت کرتا ہے کہ یہ روشنیوں کا دروازہ ہے اس دروازے کو حکمرانوں اور دوسرے شاہی افراد کے لئے مغلیہ دور حکومت میں اور سکھ دور عہد میں گزر گاہوں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اس دورازے کو راہگیروں کو راستی دکھانے کے لئے روشن کیا جاتا تھا-

    لاہور کے ان تمام دروازوں میں لاہور کی ایک منفرد ثقافت موجود ہے مگر گزرتے وقت کے ستم اور اتظامیہ کی عدم توجہی لاہور کی تاریخی پہچان ان دروازوں کا ذکر تو اکثر سننے جکو ملتا یہے مگر یہ دروازے نہیں ان میں کئی دروازے تو سرے سے اپنا وجود کھو چکے ہیں جو ابھی موجود ہیں وہ بھی خود پر گزرنے والی داستانیں بیان کر رہے ہیں کیونکہ اب اگر کوئی اندرون شہر جائے تو اسے جابجا ٹوٹی سڑکیں گلیاں تجاوزات کی بھر مار ٹریفک کا بے ہنگم شور اور کچھ ایسے نشان ملیں گے جنس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ئہاں کبھی کوئی ضخوبصورت دروازہ یا حویلی ہوا کرتی تھی حویلیوں کی جگہ پلازوں اور جابجا تجاوزات نے اندرون شہر کی گزر گاہوں کو تنگ کر دیا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس خزانے کو بچانے کے لئے کسی نھی بھی کوشش کی نہیں کی کئی حکومتیں آئیں یہاں سے لوگ منتخب ہوئے لیکن حالتیں سنورنے کی بجائے بگڑتی چلی گئیں ہمارے رارے رہنماؤں کو احساس ہی نہیں کہ تاریخی ورثوں کو بچانا کتنا ضروری ہے کیونکہ جو قومیں اپنے ورثے کی حفاظت نہیں کرتیں وہ ختم ہو جاتی ہیں قومی ورثے کی اس خستہ خالی نے ان دروازوں کے بیچ و بیچ بسنے والوں کوہجرت کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور بس رنگ سازوں اور کاروباوروں کی صدائیں سننے کو ملتی ہیں-

  • شہباز شریف کا منی لانڈرنگ کیس میں لاہور ہائیکورٹ پیش نہ ہونے کا فیصلہ

    شہباز شریف کا منی لانڈرنگ کیس میں لاہور ہائیکورٹ پیش نہ ہونے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے منی لانڈرنگ کیس میں کل لاہور ہائیکورٹ پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے

    شہباز شریف نے طبی بنیادوں پر حاضری معافی کی درخواست دائر کر دی ،شہباز شریف کی منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں عبوری درخواست ضمانت سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے

    شہباز شریف نے وکیل کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ شہباز شریف کرونا وائرس منفی آنے کے باوجود کمزوری محسوس کر رہے ہیں ۔شہباز شریف کا اینٹی باڈیز ٹیسٹ ہونا باقی ہے ۔شہباز شریف کو کل حاضری سے استثنی دیا جائے ۔استدعا

    جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل بینچ شہباز شریف کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت کریں گے

    نیب کا پرچہ حل کرنے میں شہباز شریف فیل ہو گئے

    فردجرم عائد کرنی تھی توکرونا ہو گیا،عدالت نے شہباز شریف کو پھر طلب کر لیا

    نیب میں اکثر سوالوں کے جواب میں شہباز شریف نے کہا مجھے نہیں پتہ ،ارشاد بھٹی

    شہباز شریف کرونا سے صحتیاب نہ ہوسکے،فرد جرم سے بچنے کیلئے ایک بار پھر درخواست دائر

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے نیب کو شہباز شریف کی گرفتاری سے روک رکھا ہے .اس سے پہلے شہباز شریف ہائی کورٹ میں‌ پیش ہوئے تھے. اور نیب بھی ان کی گرفتاری کے لیے موجود تھی ، لیکن ہائی کورٹ‌ نے انہیں‌روک دیا تھا . لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت منظور کرلی تھی

    شہباز شریف نے آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس میں متوقع گرفتاری سے بچنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں عبوری ضمانت کیلئے درخواست دائر کی تھی۔ چیئرمین نیب سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ نیب کی طرف سے زیر التوا انکوائری میں گرفتار کئے جانے کا خدشہ ہے، میں تواتر کیساتھ تمام اثاثے ڈکلیئر کرتا آ رہا ہوں۔ نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا 1972ء میں بطور تاجر کاروبار کا آغاز کیا اور ایگری کلچر، شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اہم کردار ادا کیا، سماج کی بھلائی کیلئے 1988ء میں سیاست میں قدم رکھا۔ موجودہ حکومت کے سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کی جس میں نیب کی جانب سے لگائے گئے الزامات عمومی نوعیت کے ہیں۔ 2018ء میں اسی کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اس دوران بھی نیب کیساتھ بھر پور تعاون کیا تھا۔

    شہباز شریف نے درخواست میں نیب پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2018ء میں گرفتاری کے دوران نیب نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک بھی ثبوت سامنے نہیں رکھا، نیب ایسے کیس میں اپنے اختیار کا استعمال نہیں کر سکتا جس میں کوئی ثبوت موجود نہ ہو، منی لانڈرنگ کے الزامات بھی بالکل بے بنیاد ہیں۔

     

  • پسماندہ علاقوں کی ترقی کے ساتھ لاہورکی ڈویلپمنٹ پر بھی پورا فوکس ہے، وزیراعلیٰ پنجاب

    پسماندہ علاقوں کی ترقی کے ساتھ لاہورکی ڈویلپمنٹ پر بھی پورا فوکس ہے، وزیراعلیٰ پنجاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے وفاقی وزیر صنعت و پیداوارمحمد حماد اظہر کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعلیٰ آفس میں ہونے والی ملاقات میں فلاح عامہ کے منصوبوں حلقے کے مسائل اورصنعتی عمل کو تیز کرنے کے حوالے سے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا.

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کے ساتھ لاہورکی ڈویلپمنٹ پر بھی پورا فوکس ہے۔ لاہور میں سٹیٹ آف دی آرٹ مدراینڈ چائلڈ ہسپتال پر کام جاری ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے لاہوررنگ روڈ سدرن لوپ تھری کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ فردوس مارکیٹ انڈر پاس پراجیکٹ پر دن رات کام ہورہاہے۔ لاہور کے سیوریج کے نظام کو بہتر بنائیں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکا مزید کہنا تھا کہ صوبائی دارالحکومت میں عوام کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ لاہور کے عوام کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے اربوں روپے کے منصوبوں پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں کورونا کی وجہ سے صنعتی و کاروباری سرگرمیاں کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کیلئے 18 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف پیکیج دیا۔ رواں مالی سال میں 56 ارب روپے کا ریلیف پیکج دیا گیا ہے تاکہ صنعت و کاروبار کو سہارا مل سکے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں 13 سپیشل اکنامک زونز پر کام جاری ہے۔ پنجاب میں اس وقت 10 ہزار ایکٹر سے زائد رقبے پر انڈسٹریل اسٹیٹس کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت عوام کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں۔
    منتخب نمائندوں کے علاقوں میں ترقیاتی کام ان کی مشاورت سے ہوں گے۔

    پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب بھی اس موقع پر موجود تھے

  • ٹک ٹاک پر انتہائی بیہودہ اور ذومعنی گفتگو،پاکستان میں بھی پابندی کا مطالبہ آ گیا

    ٹک ٹاک پر انتہائی بیہودہ اور ذومعنی گفتگو،پاکستان میں بھی پابندی کا مطالبہ آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی

    قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی ربعیہ نصرت کی جانب سے جمع کرائی گئی، قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان ٹک ٹاک پر لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتا ہے۔ ٹک ٹاک پر انتہائی بہودہ اور زومعنی گفتگو کی جاتی ہے۔

    قرار داد کے متن میں مزید کہا گیا کہ ٹک ٹاک کی وجہ بن سے نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہورہی ہے۔ اس سے نوجوانوں کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ٹک ٹاک کے باعث ہماری معاشرتی روایات پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں،

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا کہ یہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

    حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    ٹک ٹاک کی نئی ویڈیو، وہ بھی وزیراعلیٰ ہاؤس میں، لڑکی کون ، کیسے پہنچی؟ تہلکہ مچ گیا