Baaghi TV

Category: لاہور

  • حکومت پنجاب نے کاروباری اوقات کار میں ایک بار پھر ترمیم کر دی

    حکومت پنجاب نے کاروباری اوقات کار میں ایک بار پھر ترمیم کر دی

    حکومت پنجاب نے کاروباری اوقات کار میں ایک بار پھر ترمیم کر دی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب نے کاروباری اوقات کار میں ایک بار پھر ترمیم کر دی ہے۔ بیکریز، ملک شاپس، دودھ دہی کی دکانوں، چکن اور میٹ شاپس کے اوقات کارمیں تبدیلی کی گئی ہے۔

    سیکرٹری ہیلتھ کئیر کے مطابق بیکریاں اور دودھ دہی کی دکانیں ہفتہ بھر 24 گھنٹے کھلی رہ سکیں گی۔ چکن اور میٹ شاپس صبح 9 سے شام 7 بجے تک ہفتے بھر کھلی رہ سکیں گی۔

    سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور میں بیکریوں اور ملک شاپس پر تمام ایس او پیز پر عمل کرنا لازم ہوگا۔ نوٹیفیکیشن کا اطلاق فی الفور ہو گا اور تا حکم ثانی لاگو رہے گا۔لا ہور میں لاک ڈاؤن اور کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ کورونا ایس او پیز اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر ایک سو تیتیس مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    ہفتہ اور اتوار کو لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے پر مجموعی طور پر نو سو تریسٹھ دکانوں کو سیل کیا گیا اور دو ہزار آٹھ سو بتیس دکانداروں کو وارننگ بھی دی گئی۔بغیر ماسک ڈرائیونگ کرنے والے افراد کو بھی چالان ٹکٹ جاری کئے جا رہے ہیں۔ بغیر ماسک ڈرائیونگ پر تین ہزار ساٹھ موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کو چالان ٹکٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 1813 نئے کیس، تعداد 38903 ہو گئی۔ لاہورمیں 1045، ننکانہ 4، قصور22، شیخوپورہ 14،راولپنڈی128، جہلم 12، چکوال1، گوجرانوالہ 36، سیالکوٹ میں31 کیسز رپورٹ ہوئے ۔ نارووال 1، گجرات 11، حافظ آباد 3، منڈی بہاﺅالدین 2، ملتان 143، خانیوال 7، وہاڑی 10، فیصل آباد 148، چنیوٹ25، ٹوبہ 32، جھنگ 1، رحیم یار خان میں 6 کیسز سامنے آئے۔

    سرگودھا میں 10 ، میانوالی 12، بہاولپور31، ڈی جی خان 27، مظفر گڑھ11، راجن پور 7، لیہ 20، ساہیوال 7، اوکاڑہ اورپاکپتن میں3،3 کیسز سامنے آئے ۔ کورونا وائرس سے 32 مزید اموات، کل تعداد 715 ہو چکی ہیں

  • معروف آسٹروجسٹ سامعہ خان کا کرونا سے متعلق حکومتی اقدامات کے خلاف گھٹیا پروپیگنڈہ

    معروف آسٹروجسٹ سامعہ خان کا کرونا سے متعلق حکومتی اقدامات کے خلاف گھٹیا پروپیگنڈہ

    معروف آسٹروجسٹ سامعہ خان کا کرونا سے متعلق حکومتی اقدامات کے خلاف گھٹیا پروپیگنڈہ
    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ،معروف آسٹرولوجسٹ سامعہ خان نے اپنے ایک پیغام میں‌ دعویٰ کیا ہے ، حکومت کرونا کے حوالے سے اس وقت ایک بہت بڑے ایجنڈے پرگامزن ہے . ان کا کہنا تھا کہ کرونا کے حوالے سے حکومتی سطح پر یہ کوشش کی جارہی ہے کہ لوگوں کو کرونا کے مریض ڈیکلئر کیا جائے ان کو اپنے قرنطینہ میں‌رکھا جائے پھر ان کو مارنے کو پورا بندوبست کیا جاتا ہے.

    ان کا کہنا تھا کہ ایک مرنے والے کے بدلے حکومت اسی ہزار ڈالر لے رہی ہے حکومت نے اب ان ڈالروں کو پکا کرنے اور مزید حاصل کرنے لاک ڈان کھول دیا ہے ، بازار ، مال، ادرے سب کھول دیے ہیں. تاکہ لوگ ہجوم میں جائیں اور کرونا کا زیادہ سے زیادہ شکار ہوں اور ان کو زیادہ ڈالر مل سکیں
    سامعہ خان نے کہا کہ میری تمام پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ خود کو بہت زیادہ حفاطت میں رکھیں . جو حفاظتی تدابیر ہیں ان کو سختی سے اپنائیں. اگر کسی کو کو؛ئی علامت ظاہر ہوجائے جیسے کھانسی ، بخار اور گلے میں خراش وغیرہ توپھر گھر رہ کر خود کو ٹھیک کریں. اور علاج کریں اگر آپ اس حالت میں ہسپتال چلے گئے تو یہ آپ کو مار دیں گے اور اپنے ڈالر پکے کریں گے. سامعہ خان کا کہنا تھا کہ اسے یہ بات باوثوق ذرائعے سے ملی ہے اور اس میں‌کوئی جھوٹ‌والی بات نہیں ‌ہے .

    واضح رہے کہ ایک حکومت کے خلاف ایسا دعوٰی کرنا بہت بڑی بات ہے اور اگر ان کے پاس اس دعوے کا پختہ ثبوت نہیں ہے تو یہ ایک بہت بڑا جرم ہے. اس وجہ سے ان کو سنگین نتائج کا سامنا پڑ سکتا ہے . ارباب اختیار کو چاہیے کہ وہ سامعہ خان کے ان الزامات کی صفائی پیش کریں اور لوگون کے اندر پھلینے والی ایسی افوہوں کا سد باب کرے .

  • حسن علی کی کمر کی انجری بنا سرجری کے درست ہونے کے اشارے

    حسن علی کی کمر کی انجری بنا سرجری کے درست ہونے کے اشارے

    حسن علی کی کمر کی انجری بنا سرجری کے درست ہونے کے اشارے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق فاسٹ باؤلر حسن علی نے کمر کی انجری سے چھٹکارے کے لیے ترتیب دئیے گئے ورچوئل ری ہیب سیشن کی طرف مثبت رجحان ظاہر کیا ہے۔ طبی ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ حسن علی کو سرجری کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ توقعات سے قبل ہی مسابقتی کرکٹ میں واپس آسکتے ہیں۔

    حسن علی نے گذشتہ ہفتے 2 گھنٹوں پر محیط آن لائن ری ہیب سیشن میں شرکت کی۔ اس سیشن کی نگرانی لاہور کے معروف نیوروسرجن آصف بشیر، آسٹریلیا میں مقیم ممتاز اسپائنل تھراپسٹ پروفیسر پیٹر او سولیون اور پی سی بی کی میڈیکل ٹیم نے کی۔

    پینل کے مطابق اس سیشن کے نتائج حوصلہ افزاء رہے ہیں اور وہ آئندہ5 ہفتے حسن علی میں بہتری کے اثرات کا جائزہ لیتے رہیں گے۔جس کے بعد ہی وہ اس حوالے سے کوئی دوسرا قدم اٹھانے کا فیصلہ کریں گے۔

    ڈاکٹر سہیل سلیم، ڈائریکٹر پی سی بی میڈیکل اور اسپورٹس سائنسز:

    ڈائریکٹر پی سی بی میڈیکل اینڈ اسپورٹس سائنسز ڈاکٹر سہیل سلیم نے کہا کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں حسن علی کا جسم کے ایک ہی حصے سے دو مرتبہ انجریز کا شکار ہونا کوئی معمولی بات نہیں، نتیجتاً ہم نے چند بہترین اور تجربہ کار ماہرین سے مشاورت کی۔

    انہوں نے کہا کہ ابتدائی آن لائن ری ہیب سیشن کے بعد ماہرین کی آراء جان کر خوشی ہوئی ہے کہ حسن علی میں انجری کی علامتی واپسی کے کوئی اثرات ظاہر نہیں ہوئے تاہم یہ ری ہیب پروگرام کے ابتدائی ایام ہیں اور ہم اس ضمن میں مزید کسی بھی مشترکہ فیصلے سے قبل آئندہ 5 ہفتوں تک فاسٹ باؤلر کی انجری میں بہتری کے اثرات کا جائزہ لیتے رہیں گے۔

    ڈاکٹر سہیل سلیم نے کہا کہ ایک بات تو یقینی ہے کہ اپنے شعبے کے معروف ماہرین حسن علی کا علاج کررہے ہیں اور وہ پرامید ہیں کہ حسن علی سرجری کے بغیر بہت جلدصحتیاب ہوکر مسابقتی کرکٹ میں واپس آئیں گے۔

    اس دوران پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کرکٹ میں واپسی کے لیے حسن علی کی مالی معاونت کرے گا۔پی سی بی کی جانب سے یہ فیصلہ انجری کے باعث حسن علی کے سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم رہ جانے کے سبب کیا گیا۔

    وسیم خان، چیف ایگزیکٹیو پی سی بی:

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کا کہنا ہے کہ حسن علی ہمارا اثاثہ ہیں اور وہ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2017 کی فتح کے ہیروز میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب حسن علی کو ہماری ضرورت ہے اور وہ ہماری طرف دیکھ بھی رہے ہیں تو ان حالات میں ان کی مدد کرنا پی سی بی کی ذمہ داری ہے۔

    حسن علی ایک ایسے نوجوان اور جوشیلے کرکٹر ہیں جس میں ابھی بہت سی کرکٹ باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاسٹ باؤلر کے مداحوں کی طرح پی سی بی بھی انہیں مکمل فٹ ہوکر قومی کرکٹ ٹیم میں واپس دیکھنا چاہتا ہے۔ اس وقت تک پی سی بی انہیں مکمل طبی معاونت کی فراہمی کو یقینی بنائے گا اورہم پی سی بی ویلفیئر فنڈ میں سے ان کی مالی امداد بھی کریں گے۔

    اپریل کے آخر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل پینل کی جانب سے حسن علی کی کمر کے نچلے حصے میں شدید دباؤ کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس سے قبل حسن علی نے ستمبر 2019 میں درد کی شکایت کی تھی۔ جس کے سبب دورہ آسٹریلیا کے لیے ان کا نام واپس لے لیا گیا تھا۔ قائد اعظم ٹرافی کے دوران تکلیف محسوس کرنے کے بعد انہوں نے مکمل صحتیاب ہوکر ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 میں شرکت کی تھی۔ کوویڈ 19 کے سبب لیگ 15 مارچ کو ملتوی کردی گئی تھی۔

    حسن علی نے اپنا انٹرنیشنل ڈیبیو اگست 2016 میں کیا اور وہ اب تک 9 ٹیسٹ، 53 ایک روزہ اور 30 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

  • طیارہ حادثہ: تحقیقات کے لیے ریکارڈرز سے اہم معلومات موصول ہوئیں، ایئربس حکام کے نئے نئے انکشافات

    طیارہ حادثہ: تحقیقات کے لیے ریکارڈرز سے اہم معلومات موصول ہوئیں، ایئربس حکام کے نئے نئے انکشافات

    راولپنڈی:طیارہ حادثہ: تحقیقات کے لیے ریکارڈرز سے اہم معلومات موصول ہوئیں، ایئربس حکام کے نئے نئے انکشافات،اطلاعات کے مطابق اے 320 طیارے بنانے والی کمپنی ’ایئربس‘ کا کہنا ہے کہ 22 مئی کو کراچی میں گرنے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی پرواز پی کے 8303 پر اے آئی ٹی (ایکسیڈنٹ انفارمیشن ٹرانسمیشن) کو سول ایوی ایشن سیفٹی کے لیے فرانسیسی بیورو آف انکوائری اینڈ انیلیسیس (بی ای اے) اور پاکستان ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) نے جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایئربس نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’ای اے ایس اے، سفران ایئرکرافٹ انجنز اور ایئر بس کی جانب سے پاکستان کے اے اے بی کی سربراہی میں پیرس میں بی ای اے کی سہولیات میں فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (ایف ڈی آر) اور کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) کا جائزہ لیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ریکارڈرز ایف ڈی آر اور سی وی آر نے تفتیش کے لیے اہم معلومات فراہم کی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ دستیاب ڈیٹا (جائے وقوع سے متعلق معلومات، اے ٹی سی ریکارڈ، ایف ڈی آر اور سی وی آر) کے ابتدائی تجزیے کی بنیاد پر ایئربس کے پاس تحقیقات کے اس مرحلے پر کسی قسم کی حفاظتی تجاویز نہیں ہے۔
    چیف پروڈکٹ سیفٹی آفیسر یننک مالنج نے A320 طیاروں کو چلانے والی تمام ایئر لائنز کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ایئربس سرکاری تفتیشی حکام کو مناسب طور پر اپ ڈیٹ فراہم کرتی رہے گی۔

    واضح رہے کہ کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ گرنے کے فوراً بعد واقعے کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت نے ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دے دی تھی۔ پاکستانی تفتیش کاروں کو تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لیے ایئربس نے 11 رکنی ٹیم پاکستان بھیجی تھی۔

    فرانسیسی ٹیم اور ایئر کموڈور عثمان غنی، ایف ڈی آر اور سی وی آر کو لے کر اس کا تجزیہ کرنے کے لیے فرانس روانہ ہوئے تھے جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے تفتیش کاروں کو اہم معلومات ملیں گی۔ذرائع نے بتایا کہ ائیر کموڈور عثمان غنی ایف ڈی آر اور سی وی آر کی معلومات کے ساتھ آج اسلام آباد واپس پہنچیں گے۔

    اے اے آئی بی اپنی ابتدائی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنے سے پہلے وزیر اعظم اور وفاقی وزیر ایوی ایشن کو پیش کرے گی۔وزیر ایویشن غلام سرور خان نے کہا تھا کہ حکومت 22 جون کو پارلیمنٹ میں پی آئی اے کے طیارے کے حادثے سے متعلق ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی۔

  • پنجاب میں کرونا وائرس کے  1813 نئے کیسز رپورٹ، مجموعی تعداد 39 ہزار تک پہنچ گئی

    پنجاب میں کرونا وائرس کے 1813 نئے کیسز رپورٹ، مجموعی تعداد 39 ہزار تک پہنچ گئی

    پنجاب میں کرونا وائرس کے 1813 نئے کیسز رپورٹ، مجموعی تعداد 39 ہزار تک پہنچ گئی
    باغی ٹی وی دفتر ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ، کورونا مانیٹرنگ روم کی اپ ڈیٹ دیتے ہوئے بتا یا کہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 1813 نئے کیس، تعداد 38903 ہو گئی۔ لاہورمیں 1045، ننکانہ 4، قصور22، شیخوپورہ 14،راولپنڈی128، جہلم 12، چکوال1، گوجرانوالہ 36، سیالکوٹ میں31 کیسز رپورٹ ہوئے ۔ نارووال 1، گجرات 11، حافظ آباد 3، منڈی بہاﺅالدین 2، ملتان 143، خانیوال 7، وہاڑی 10، فیصل آباد 148، چنیوٹ25، ٹوبہ 32، جھنگ 1، رحیم یار خان میں 6 کیسز سامنے آئے۔

    سرگودھا میں 10 ، میانوالی 12، بہاولپور31، ڈی جی خان 27، مظفر گڑھ11، راجن پور 7، لیہ 20، ساہیوال 7، اوکاڑہ اورپاکپتن میں3،3 کیسز سامنے آئے ۔ کورونا وائرس سے 32 مزید اموات، کل تعداد 715 ہو چکی ہیں۔ اب تک 290،074 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئی

    کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 8،109 ہو چکی ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فورا 1033 پر رابطہ کریں۔
    Daily Sitrep 07-06-2020 (1)

    ہاتھوں کی صفائی میں ہی سب کی بھلائی

  • کینسر کا مریض سب انسپکٹر جسے ہفتہ قبل حاضری نا ہونے کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا تھا ، آج وفات پا گیا

    کینسر کا مریض سب انسپکٹر جسے ہفتہ قبل حاضری نا ہونے کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا تھا ، آج وفات پا گیا

    لاہور:کینسر کا مریض سب انسپکٹر جسے ہفتہ قبل حاضری نا ہونے کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا تھا ، آج وفات پا گیا ،اطلاعات کے مطابق پولیس کا محکمہ اور خاص طور پر پی ایس پی حضرات کوئی انتہائی کم ظرف قسم کے لوگ واقع ہوئے ہیں.لاہور میں آج کینسر کا مریض سب انسپکٹر جسے ہفتہ قبل حاضری نا ہونے کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا تھا ، آج وفات پا گیا

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عین اس وقت جب اسے ہر کسی سے ہمدردی اور جذباتی سہارے کی ضرورت تھی اسے نوکری سے برخواست کر دیا گیا… وہ شاید کچھ دن اور جیتا لیکن اس بے وفائی کو برداشت نہ کرسکا اور آج داغ مفارقت دے گیا.نوکری سے برخواستگی کی وجہ سے اس کے لواحقین پینشن اور ہر دوسری قسم کی مراعات سے محروم کر دیے گئے ہیں.

    اس قوم نے عظمی خان اور ہما خان کو انصاف دلوانے کے لیے جتنا زور لگایا ہے اگر اس سے آدھا بھی زور اس معصوم کو دلوانے کے لیے لگایا تو شاید اسکے لواحقین کی داد رسی ہو سکے…..

  • پاکستان میں کرونا کے کیسز ایک لاکھ سے متجاوز ، احتیاط ہی سب سے بڑا علاج از طہ منیب

    پاکستان میں کرونا کے کیسز ایک لاکھ سے متجاوز ، احتیاط ہی سب سے بڑا علاج از طہ منیب

    آج پاکستان میں کرونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے کراس کر گئی ہے، جو صورتحال چل رہی ہے خدانخواستہ لگتا ایسے ہی کہ ساری دنیا سے کرونا ختم ہو جانا لیکن پولیو کی طرح ہم بھی انہیں آخری دو چار ملکوں میں ہونگے جہاں یہ مصیبت رہنی ہے۔ پولیو سے متعلق بھی سازشی تھیوریوں نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اور شاید ہی کوئی پولیو مہم ہو جس میں پولیو ورکرز پر حملے نا ہوئے ہوں ، مفاد عامہ پر مبنی ویکسین کی مہم کی حساسیت یہاں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے کم محسوس نہیں ہوتی جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا پولیو فری ہو گئی لیکن ہم ابھی تک ان دور افتادہ تین چار افریقی ممالک میں شامل ہیں جہاں پولیو ابھی بھی موجود ہے اور رواں سال ماضی کی نسبت پولیو کیسز کی تعداد بڑھی ہے،

    سپین ، اٹلی ، جرمنی جو ووہان کے بعد کرونا کا مرکز بنے تھے تقریباً کرونا کی بڑھتی سپیڈ کو روک کسی حد تک نیچے لانے کے بعد ، لاک ڈاؤن کھول حالات کو نارمل کر رہے۔

    جبکہ یہاں حکومت و عوام دونوں کی غیر سنجیدگی پاکستان میں کرونا کو اس پوزیشن پر لے آئی ہے، چائنہ کو تو ہم ہفتہ قبل ہی پیچھے چھوڑ چکے اور اگلے چند دن نہایت گھمبیر ہونگے ، اللہ جانے ہم کہاں کھڑے ہونگے، واحد حل احتیاط، غیر ضروری باہر نکلنا بند ، سماجی دوری ، ماسک کا استعمال ہے ، یقیناً بہت سے لوگ غیر یقینی سے یقین کی پوزیشن میں آ گئے ہیں اور اسے حقیقت سمجھنا شروع ہو گئے ، اللہ کرے یہ شعور قومی سطح پر بیدار ہو اور ہم کسی بڑے نقصان سے بچ جائیں، تعالیٰ ہمارے حال پر رحم کرے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

  • کرونا سے متعلق احتیاطی تدابیر، رکشے والے کا قابل تحسین و تقلید اقدام

    کرونا سے متعلق احتیاطی تدابیر، رکشے والے کا قابل تحسین و تقلید اقدام

    کرونا سے متعلق احتیاطی تدابیر، رکشے والے کا قابل تحسین و تقلید اقدام
    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، کرونا وائرس سے احتیاط تدابیر اختیار کرنے کے لیے عام رکشہ والے نے جو اقدام کیے وہ سب کے لیے مثال اور نمونہ ہے . اپنی حیثیت سے بڑھ کر اس رکشہ ڈرائیور نے رکشہ میں پانی کا انتظام کیا ہوا ہے اور ساتھ صابن کا بھی انتظام ہے . سواری کو بٹھانے سے پہلے وہ کہتا ہے کہ پہلے ہاتھ دھو لیں، سواری کے ہاتھ دھلوا کر پھر اسے اپنے رکشہ میں‌بٹھاتا ہے . رکشے والے کا یہ کردار یقینا سب کے لیے مثال ہے اوراس پر جس قدر اس کی تحسین کی جائے کم ہے .


    واضح‌ رہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر ملک میں‌کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے . ملک بھر میں کورونا منہ زور ہو گیا، ایک دن میں ریکارڈ 4 ہزار 960 افراد متاثر ہو گئے جس کے بعد مریضوں کی تعداد 98 ہزار 943 ہو گئی، چوبیس گھنٹوں میں 67 افراد زندگی کی جنگ ہار گئے، مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 2 ہو گئی۔

    ملک میں کورونا کا پھیلاؤ مزید تیز ہوگیا، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق چوبیس گھنٹوں میں ریکارڈ 4 ہزار 960 کیسز سامنے آئے جس کے بعد تعداد 98 ہزار 943 ہو گئی، پنجاب میں 37 ہزار 90، سندھ 36ہزار 364، خیبرپختونخوا میں 13ہزار ایک اور بلوچستان میں 6 ہزار 221 مریض ہیں۔

    اسلام آباد میں 4 ہزار 997، گلگت بلتستان 927 اور آزاد کشمیر میں 361 کیسز ہیں، ملک بھر میں ایک دن 67 افراد کی زندگیوں کو کورونا نگل گیا،
    جس کے بعد اموات کی تعداد 2002 ہو گئی۔

  • کرونا وائرس کے مریضوں کا انجیکشن  ایکٹمرا مارکیٹ‌ سے غائب ہو گیا

    کرونا وائرس کے مریضوں کا انجیکشن ایکٹمرا مارکیٹ‌ سے غائب ہو گیا

    کرونا وائرس کے مریضوں کا انجیکشن ایکٹمرا مارکیٹ‌ سے غائب ہو گیا
    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کے بعد آزمائش کی گھڑی میں پاکستانیوں کی جانب سے منافع خوری اور خود غرضی عروج پر ہے، کرونا وائرس کے مریضوں کے استعمال میں لائی جانے والی اشیاء آئے روز مارکیٹ سے غائب نظر آتی ہیں، اسی طرح کرونا وائرس کے مریضوں کو لگایا جانے والا انجکشن ایکٹمرا بھی مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہو گیا ہے۔

    ایکٹمرا انجکشن کی بلیک میں قیمت تین لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ کچھ میڈیکل سٹورز مالکان کی جانب سے اس انجکشن کی دستیابی سے انکار بھی کیا جا رہا ہے، دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ڈریپ کے پاس ایکٹمرا کہ دس ہزار انجیکشن موجود ہیں لیکن فارمیسیز کو مہیا نہیں کیے جا رہے ، جس کی وجہ سے یہ انجیکشن مارکیٹ سے نایاب ہوگیا ہے۔

    دوسری جانب وی سی یو ایچ ایس ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں کرونا وائرس اگر ایک سو لوگوں کو ہوتا ہے تو ان میں سے تشویشناک مریضوں کی شرح صرف پانچ فیصد ہے جبکہ 30 فیصد لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ انہیں کرونا ہوکر ختم بھی ہو گیا ہے ، ہمارے ڈاکٹر دن رات کوشش کرکے کرونا وائرس کے مریضوں کی زندگیاں بچانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے اور پوری دنیا کے لئے یہ ایک الارمنگ صورت حال ہے کہ کرونا وائرس کی وبا ٹائیفائیڈ اور ملیریا جیسی وبا کی صورتحال اختیار کر چکی ہے لہذا اس نے ہمارے بیچ رہنا ہی ہے اور اب ہمیں اسی وبا کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھنی ہوگی۔
    تشویشناک مریضوں کی شرح صرف پانچ فیصد ہے جبکہ 30 فیصد لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ انہیں کرونا ہوکر ختم بھی ہو گیا ہے ، ہمارے ڈاکٹر دن رات کوشش کرکے کرونا وائرس کے مریضوں کی زندگیاں بچانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

  • پنجاب میں کورونا وائرس کے 1782 نئے کیس، تعداد 37090 ہو گئی

    پنجاب میں کورونا وائرس کے 1782 نئے کیس، تعداد 37090 ہو گئی

    پنجاب میں کورونا وائرس کے 1782 نئے کیس، تعداد 37090 ہو گئی۔ ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق دفتر ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ، کورونا مانیٹرنگ روم نے کرونا بارے اپ ڈیٹس دیتے ہوئے کہا ہے کہپنجاب میں کورونا وائرس کے 1782 نئے کیس، تعداد 37090 ہو گئی۔ لاہورمیں 691، ننکانہ 7، قصور19، شیخوپورہ 13، راولپنڈی 143،جہلم 1 ،اٹک 5، چکوال1، گوجرانوالہ58، سیالکوٹ میں 31نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

    نارووال7، گجرات84،حافظ آباد6، منڈی بہاﺅالدین2، ملتان111، خانیوال5، وہاڑی 16، فیصل آباد291، چنیوٹ2، ٹوبہ6، جھنگ4، رحیم یار خان میں15 نئے کیسز سامنے آئے ۔ سرگودھا4، میانوالی4،خوشاب1، بہاونگر10،بہاولپور37،ڈی جی خان133، مظفر گڑھ41، لیہ 12، ساہیوال6، اوکاڑہ 10، پاکپتن میں 6 نئے کیسز سامنے آئے۔ کورونا وائرس سے 24 مزید اموات، کل تعداد 683 ہو چکی ہیں۔ ت

    اب تک 282807 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ پنجاب میں کورونا وائرس کے 1782 نئے کیس، تعداد 37090 ہو گئی۔ کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 8109 ہو چکی ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔

    کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فورا 1033 پر رابطہ کریں

    ہاتھوں کی صفائی میں ہی سب کی بھلائی