Baaghi TV

Category: لاہور

  • آج کی رحمت ہی رحمت افطار ٹرانسمیشن میں دعا سے متعلق گفتگو  جاری

    آج کی رحمت ہی رحمت افطار ٹرانسمیشن میں دعا سے متعلق گفتگو جاری

    آج کی رحمت ہی رحمت افطار ٹرانسمشن میں دعا سے متعلق گفتگو جاری

    باغی ٹی وی: :آج کی رحمت ہی رحمت افطار ٹرانسمشن میں دعا سے متعلق گفتگو ہورہی ہے. دعا عبادت کا بنیادی جز ہے اور ایک حدیث میں دعا کوہی عبادت کہا گیا ہے . رمضان اور دعا کا آپس میں گہرا تعلق ہے. افطار ٹرانسمشن میں شریک مہمان سکالر دعا کی اہمیت ، اس کی ضرورت اور اس کے آداب پر سیر حاصل اور مفید گفتگو کریں گے.

    واضح رہے کہ رحمت ہی رحمت ٹرانسمشن سوشل میڈیا پر سب سے بڑی ٹرانسمشن ہے جو رمضان البارک کے پر سعادت مہینے میں‌ پیش کی جارہی ہے یہ ٹرانسمشن مبشر لقمان یو ٹیوب چینل پر پہلے رمضان سے جاری ہے. آج کے مہمان ڈاکٹر عامر بندش کارڈیالوجسٹ اور ڈاکٹر سیدخزیمہ بخاری ہوں گے . یوکے سے نجم شیراز اور کوثر کاظمی پروگرام کا حصہ ہوں گے جو اس ٹرانسمیشن میں اپنی ماہرانہ رائے بھی دیں گے. جبکہ میزانی کا فریضہ مبشر لقمان اور مریم خان انجام دے رہی ہیں.
    اس لنک پر یہ پروگرام دیکھا جا سکتا ہے
    https://www.youtube.com/watch?v=YM63445v4EY

  • میوہسپتال میں طبی عملے کی حالت زار،گرینڈ ہیلتھ الائنس رہنما یاسمین راشد پر برس پڑے

    میوہسپتال میں طبی عملے کی حالت زار،گرینڈ ہیلتھ الائنس رہنما یاسمین راشد پر برس پڑے

    میوہسپتال میں طبی عملے کی حالت زار،گرینڈ ہیلتھ الائنس رہنما یاسمین راشد پر برس پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گرینڈ ہیلتھ الائنس پنجاب کے رہنماؤن نے میو ہسپتال میں پریس کانفرنس کی ہے اور پنجاب حکومت کی کرونا کے حوالہ سے نااہلی پر بات چیت کی ہے

    پریس کانفرنس کے دورا ن ڈاکٹر محمود کا کہنا تھا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس حفاظتی کٹس نہ ملنے پر چودہ روز سے احتجاج کررہی ہے،میو ہسپتال میں کرونا کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کے پاس حکومتی ریکارڈ کے مطابق کوئی سرجیکل گلوز فیس شیلڈز حفاظتی عینکیں اور سینیٹائیزرز موجود نہیں ،میو ہسپتال میں کرونا سے مرنے والے لوگوں کو دفنانے کیلیے سوٹ نہیں ہے،ترکی سے جو حفاظتی فیس شیلڈز آئی وہ کہاں گئی

    حکومت دو ماہ سوئی رہی جب دنیا میں وینٹی لیٹرز دستیاب تھے،پنجاب میں 1247 وینٹی لیٹرز ہیں جن میں 77 خراب ہے،جن دو ہزار نے وینٹیلیرز کو خریدنے کا کہا گیا تھا ان میں سے ایک بھی وینٹیلیٹر نہیں خریدا گیا ،200 وینٹی لیٹرز کے لیے چار کمپنیوں نے بولی میں حصہ لیا لیکن ایک بھی کمپنی اسے وقت پر مہیا نہیں کر پائی

    ڈاکٹر اور نرسوں کیلیے ایک ہفتہ ڈیوٹی اور دو ہفتہ چھٹی کا کہا گیا لیکن اس پر عمل بھی نہیں کیا جارہا،میو ہسپتال میں کسی ڈاکٹر اور نرس کا کرونا ڈیوٹی کے اختتام پر ٹیسٹ نہیں کیا جا رہا جس سے ان کے گھر والوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ہمارے دس مطالبات تھے ان کو پورا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر ان پر عمل نہیں کیا گیا ،الاوئنس صرف کرونا وارڈز میں کام کرنے والے طبی عملے کو دیا جارہا ہے مگر جو لوگ روٹیشن پہ جارہے ہیں اور جو ہاؤس آفیسر بغیر تنخواہ کے کام کر رہے ہیں انہیں کوئی اضافی الاؤنس نہیں دیا جاتا تھا طبی عملے کا ڈیوٹی کے بعد کرونا کا ٹیسٹ نہیں کرایا جارہا ہے ہمیں دی جانے والی لائف انشورنس پولیس کے کانسٹیبل سے بھی کم ہے ہے

    عدالت کے فیصلے کے مطابق ٹرمینیٹ لوگوں کو رکھا جائے ،لاہور:وزیر صحت بھی دو ہزار دو میں ٹرمینیٹ ہوئی بعد میں ریسٹین ہوئی ، ایسا لگتا ہے کہ وزیراعلی کو سلیکٹڈ ہیلتھ منسٹر میں یرغمال بنایا ہوا ہے اور وہ صرف ڈمی وزیر اعلی کے طور پر کام کر رہے ہیں، میو ہوسپٹل میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس کا کرونا ٹیسٹ تب کیا جا رہا ہے جب انہیں شدید علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔ ملتان میں ڈھائی سو کے قریب افراد کو قرنطنیہ میں رکھا گیا مگر ٹیسٹ منفی آئے بغیر آئے بغیر گھر بھجوا دیا گیا ،پاکستان میں بارہ سو سے زائد لوگ کرو نا پوزیٹیو ہونے کے باوجود ایئرپورٹ سے ملک میں آگئے

    حکومت پنجاب کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ دن میں پانچ ہزار ٹیسٹ کر سکتی ہے مگر اصل میں ٹیسٹ پانچ ہزار سے کم ہو رہے ہیں ، میو ہسپتال میں سسٹر صائمہ اور حفظہ کرونا پوزیٹیو ہیں ،دس کے قریب سٹاف نرسز کورنٹائن میں ہیں ہیں

    ڈاکٹر شعیب نیازی نے کہا کہ سیکرٹری ہیلتھ نیبل اعوان چودہ روز سے اپنے آفس نہیں آئے ،ہم اپنا احتجاج ہسپتالوں میں کرنے پر غور کررہے ہیں ،ڈاکٹر یاسمین راشد کو تین سے چار مرتبہ ٹرمینیٹ کیا گیا تو آپ کیوں پینشن لے رہی ہیں ،ڈاکٹرز اور نرسز کرونا کا شکار ہورہی ہیں ،سندھ حکومت کی طرح پنجاب میں بھی طبی عملے کو سہولیات دی جائے ،ہم منسٹر کے غلام نہیں ہیں ہمارے دس مطالبات تسلیم کیا جائے

    طبی عملے کی شکایات، این ڈی ایم اے نے بڑا قدم اٹھا لیا

  • لاہور اقبال ٹاؤن پولیس نے خاص قسم کے ملزموں کے خلاف کامیابی حاصل کرلی

    لاہور اقبال ٹاؤن پولیس نے خاص قسم کے ملزموں کے خلاف کامیابی حاصل کرلی

    اقبال ٹاؤن پولیس نے خاص قسم کے ملزموں کے خلاف کامیابی حاصل کرلی

    باغی ٹی وی :لاہورانویسٹی گیشن پولیس اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف اقبال ٹاؤن کی کارروائی گن پوائنٹ پر ATM مشینوں پر رقم و وہیکل چھیننے اورچوری کی وارداتوں میں ملوث 3 رکنی مون گینگ گرفتار کر لیے گئے.

    گرفتار ملزمان میں گینگ کا سرغنہ گینگ عاصم علی عرف مون،عمیر اورشوکت علی گرفتار بھی شامل ہے تقریباً33 لاکھ روپے مالیت کی2 کاریں، پک اَپ، آٹو رکشہ،9 موٹر سائیکل اور ناجائز اسلحہ برآمد کیا .

    ملزمان کاشہر کے مختلف علاقوں میں درجنوں مزید وارداتوں کا اعتراف کیا ہے .ڈی ایس پی AVLSاقبال ٹاؤن نواز چیمہ کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے ملزمان کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا۔

    ایس پیAVLS نے خطرناک گینگ کی گرفتاری پر پولیس ٹیم کے لئے تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے.

  • لاہور کوٹ لکھپت پولیس کی بھتہ خوروں کے خلاف بڑی کاروائی

    لاہور کوٹ لکھپت پولیس کی بھتہ خوروں کے خلاف بڑی کاروائی

    لاہور کوٹ لکھپت پولیس کی بھتہ خوروں کے خلاف بڑی کاروائی

    باغی ٹی وی : انویسٹی گیشن پولیس کوٹ لکھپت کا بھتہ خوروں کے خلاف ایکشن۔بھتہ مانگنے اور نہ دینے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والے 3بھتہ خور گرفتار کرلیے

    گرفتار ملزمان میں طارق اسماعیل، طیب بھٹی اور حق نواز بھٹی شامل ہیں ملزمان سے کلاشنکوف اور درجنوں گولیاں و میگزینز برآمد کر کے اپنی تحویل میں لے لی ہیںِ .ملزمان نے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک شہری سے 2کروڑ روپے بھتے کا مطالبہ کیا تھا۔ ملزمان شہری عبدالرزاق سے 2لاکھ روپے بھتہ وصول بھی کر چکے ہیں۔

    صرف یہاں تک ہی معاملہ موقوف نہیں‌ہے بلکہ ملزمان باقی رقم ادا نہ کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔انویسٹی گیشن پولیس کوٹ لکھپت نے ملزمان کو مختلف معلومات سمیت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا۔
    ایس پی ماڈل ٹاؤن انویسٹی گیشن اسد مظفر کی طرف سے بھتہ خور ملزمان کی گرفتاری پر پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے .

  • حکومت پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی بجائے ان پر اضافی ٹیکس لگا کر کورونا سے ہونے والے اخراجات پورے کرے

    دنیا میں خام تیل کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بیس سال کی کم ترین سطح پر ہیں۔لیکن ایک سے زیادہ وجوہ کی بنا پر پاکستان اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں۔ یوں بھی یہ ایک عارضی مندی ہے جو چند ماہ بعد ختم ہوجائے گی۔ گزشتہ ہفتہ تاریخ کا انوکھا واقعہ ہوا کہ امریکہ میں خام تیل کی قیمت چند روز تک منفی میں چلی گئی۔ یعنی تیل بیچنے والے کہہ رہے تھے کہ ہم سے رقم لے لو اور تیل لے جاؤ۔ وجہ یہ تھی کہ امریکہ میں جن بڑے بڑے تاجروں نے تیل کے سودے کیے ہوئے تھے ان کے پاس خریدا ہوا(بُک کیا ہوا) تیل لیکر رکھنے کی جگہ نہیں تھی کیونکہ پہلے سے ذخیرہ شدہ تیل فروخت نہیں ہوا تھا۔ کورونا وبا کی وجہ سے ہر طرح کی نقل و حمل‘ ٹرانسپورٹ بہت کم ہوگئی ہے۔ امریکہ میں تیل کااستعمال ساٹھ فیصد سے زیادہ کم ہوچکاہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے امریکہ کے اندر اور دنیا بھر میںسیاحت رُکی ہوئی ہے۔ ہوائی جہازکا سفر بہت کم ہوگیا ہے۔ ہوائی جہازوں کی صنعت میں تیل کی کھپت آدھی رہ گئی ہے۔جب امریکی تیل کی قیمت منفی میں گئی اس روز پاکستان میں بعض لوگوں میںخاصا جوش و خروش پیدا ہوگیا۔ خوش فہمی کا اظہار ہونے لگا کہ اب پاکستان میںبھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیںبہت نیچے چلی جائیںگی۔حالانکہ پاکستان میں تیل کی قیمتیں امریکی منڈی سے جڑی ہوئی نہیں ہیں۔

    ہمارے ہاں تیل کی قیمتوں کا تعین لندن سے نکلنے والی تیل کی قیمت یعنی برینٹ سے ہوتا ہے۔ جس دن امریکی منڈی میں قیمت منفی میں تھی برینٹ میں خام تیل کی قیمت تقریبا ًستائیس ڈالر فی بیرل تھی ۔چند روز بعدہی ا مریکی تیل کا نرخ بھی واپس اُوپر آکر ساڑھے سولہ ڈالر فی بیرل پرپہنچ گیا۔ تاہم مجموعی طور پر یہ بات درست ہے کہ اس سال کے شروع کی نسبت عالمی منڈی میںخام تیل کی قیمتیں بہت گر گئی ہیں۔جنوری میںبرینٹ خام تیل کا نرخ ساٹھ ڈالر فی بیرل تھا۔اب یہ قیمت ایک تہائی رہ گئی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے برینٹ کی قیمت اکیس سے اٹھایئس ڈالر کے درمیان اُوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔ پہلے تو تیل پیدا کرنے والے دو بڑے ممالک روس اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار کم کرنے پر اختلافات ہوئے جس سے تیل کی قیمت گرنا شروع ہوگئی۔ رہی سہی کسر کورونا وبا کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن نے پوری کردی۔ اس شدید بحران سے ڈر کر روس اور سعودی عرب نے اتفاق رائے بھی کرلیا ۔ اوپیک اور روس نے مجموعی طور پر خام تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان کردیا لیکن دنیا میں معاشی سرگرمی اتنی کم ہوگئی ‘تیل کا استعمال اتنا کم رہ گیا کہ قیمت فی الحال واپس اُوپر نہیں جاسکی۔ بظاہر اچھا لگ رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بہت کم ہوگئی ہیں لیکن پاکستان جیسے ممالک اس کساد بازاری سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ تیل کی قیمت میں گراوٹ عارضی اور چند ماہ کے لیے ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ تیل کی قیمتیں صرف پانچ چھ ماہ نیچے رہیں گی۔ یورپ اور امریکہ لاک ڈاؤن میں نرمی کی طرف جارہے ہیں۔ جوں جوں معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی‘ تیل کا استعمال زیادہ ہوگا‘ اسکی طلب بڑھے گی تو اسکی قیمت میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔ تخمینہ ہے کہ اس سال کے آخر تک یہ دوبارہ چالیس ڈالر فی بیرل تک بڑھ جائیں گی اور اگلے سال ساٹھ ڈالر تک ہو جائیں گی۔تیل پیدا کرنے والے تما م ممالک کا مفاد اسی میں ہے کہ تیل کی قیمت کم سے کم پچاس سے ساٹھ ڈالر فی بیرل کے درمیان رہیں۔موجودہ حالات میںپاکستان کو ایک فائدہ یہ ہوسکتا تھا کہ تیل کا درآمدی بل کم ہونے سے زرمبادلہ کی بچت ہوجاتی لیکن کورونا وبا کے باعث یورپ اور امریکہ کی منڈیوں میں ہمارا مال جانا بند ہوگیا۔

    برآمدات میں شدید کمی ہوگئی۔اس پر مستزاد بیرون ملک پاکستانیوں کی ملک میں بھیجی جانے والی ترسیلات زر کم ہوگئیں۔اتنافائدہ نہیںہوا جتنا نقصان ہوگیا۔ اسی بحران پر قابو پانے کی غرض سے عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کو فوری طور پر تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کا مزید قرض دیا ہے۔اگر ہماری تیل ذخیرہ کرنے کی استعداد زیادہ ہوتی تو ہم تیل کی موجودہ کساد بازاری سے فائدہ اٹھا سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہمارا ملک اپنی ضرورت کے صرف بیس دنوں کا تیل ذخیرہ کرسکتا ہے۔ اپریل کے ماہ میں پاکستان کے تمام ذخیرے تیل سے بھرے ہوئے تھے ۔لاک ڈاون کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت بھی کم ہوگئی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں ہم نے تیل کا ایک جہاز بھی درآمد نہیں کیا کیونکہ ہمارے پاس اسے رکھنے کی جگہ ہی نہیں ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان حکومت پیٹرولیم کی عالمی منڈی میں گراوٹ کے مطابق ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید کم کردے۔ یہ فیصلہ ملک کی معیشت کی کمزور صورتحال دیکھتے ہوئے مناسب اقدام نہیں ہوگا۔وفاقی حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں لاک ڈاؤن کے باعث تین سو ارب روپے سے زیادہ کاخسارہ ہوا ہے۔ کورونا بحران سے نپٹنے کے لیے بارہ سو ارب روپے اضافی خرچ کرنے پڑرہے ہیں۔ ابھی تو اس امدادی رقم میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ مئی کا سارا مہینہ بھی نیم کرفیو میں گزرے گا۔ حکومت کو اضافی وسائل کی ضرورت پڑے گی۔ یہ تو ایک جنگی صورتحال ہے۔ اگر اس وقت حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بہت زیادہ کم کر بھی دے گی تو ٹرانسپورٹراوردیگر کاروباری ادارے اس فائدے کو نہ تو صارفین کو منتقل کریں گے نہ حکومت کو زیادہ ٹیکس دیں گے بلکہ یہ تو لاک ڈاؤن سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے حکومت سے ٹیکسوں میں چھوٹ اور آسان شرائط پر قرضے مانگ رہے ہیں ۔ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ حکومت پیٹرول‘ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے انہیں موجودہ سطح پر رکھے اور عالمی منڈی میں گراوٹ سے پہنچنے والا فائدہ پیٹرول‘ڈیزل پر ایمرجنسی کورونا ٹیکس لگا کر قومی خزانہ میں ڈالے تاکہ جو اضافی اخراجات ہورہے ہیں ان کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

    عدنان عادل

  • اوکاڑہ میں کپڑا شاپش اور جنرل سٹورز مالکان نے دکانیں کھولنے کا مطالبہ کردیا

    اوکاڑہ میں کپڑا شاپش اور جنرل سٹورز مالکان نے دکانیں کھولنے کا مطالبہ کردیا

    اوکاڑہ (علی حسین مرزا) ضلع اوکاڑہ کے مین بازار، مضافاتی علاقوں کی مارکیٹس کے کپڑے اور جنرل سٹورز کے دکانداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں روزانہ دو تین گھنٹے دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنی آمدنی کا جزوی ذریعہ بحال کرسکیں۔ باغی ٹی وی سے گفتگو کے دوران کئی دکانداروں نے ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنیکا وعدہ کیا ہے۔ شہریوں نے بھی حکومت سے ایسی دکانیں کھولنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کرسکیں۔

  • حقیقت پسندانہ لاک ڈاؤن از عدنان عادل

    تقریباًایک ماہ سے پورے ملک میں ایک نیم کرفیو کی صورتحال ہے۔لوگوں کی بڑی تعداد گھروں میں محصور ہے۔طویل لاک ڈاؤن ان کے اعصاب پر بھاری پڑ رہا ہے۔بہت سے لوگ کام کاج پر لوٹنا چاہتے ہیں۔ محنت مشقت کرکے اپنی روزی کمانا چاہتے ہیں۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ حکومت اب معاشی سرگرمیاںمکمل بحال کرنے کی اجازت دے۔ کورونا وبا نے اب تک پاکستان میں بڑے پیمانے پر نقصان نہیں پہنچایا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کورونا سے بیمار ہونے والے لوگوں میں مرنے والوں کی شرح صرف ڈیڑھ فیصد ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو زیادہ عمر کے تھے یا انہیں پہلے سے کوئی بڑی بیماری لاحق تھی جواس وائرس کی وجہ سے پیچیدہ ہوگئی۔زیادہ تر لوگ جس طرح عام نزلہ زکام سے صحت یاب ہوجاتے ہیں اس طرح کورونا سے بھی شفایاب ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک کورونا وائرس پراچھی طرح قابو پانے کا تعلق ہے تو یہ اسوقت تک ممکن نہیں جب تک اس سے بچاؤ کی ویکسین بن کر عام استعمال میں نہیں آجاتی ۔

    مستند ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کا یہی کہنا ہے کہ ویکسین بازار میں آنے میں ایک سے ڈیڑھ سال لگے گا۔ ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں کہ جو لوگ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد ٹھیک ہوجاتے ہیں وہ ہمیشہ کے لیے صحت یاب ہوجاتے ہیں یا انہیں دوبارہ بھی یہ انفیکشن لاحق ہوسکتا ہے۔ جنوبی کوریا سے خبریں آئی ہیں کہ وہاں بہت سے مریض ٹھیک ہوگئے ‘ انکا ٹیسٹ منفی آگیا لیکن کچھ دنوں کے بعد ان میں دوبارہ وائرس نکل آیا۔ جیسے اور بہت سے وائرس ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں کورونا بھی ہماری زندگیوں میں داخل ہوچکا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی بیماری زُکام کی ایک قسم ہے جواگرمریض کی قوتِ مدافعت کمزور ہو اورمرض بگڑ جائے تو زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جن کے جسم میں کورونا وائرس موجود ہے لیکن ان کی مدافعت مضبوط ہونے کی وجہ سے ان میں علامات ظاہر نہیں ہورہیں۔ہمارے معاشی حالات میںتوممکن نہیں کہ کروڑوں لوگوں کے کورونا ٹیسٹ کیے جائیں۔ یہ کام تو امریکہ جیسا ملک نہیں کرسکا۔ اس وقت دیہات میں معمول کے مطابق کام کاج ‘ کاروبارِ حیات چل رہا ہے‘ وہاں کوئی وبا نہیں پھیلی۔ لیکن شہروں‘ قصبوں میں لوگوں کی اکثریت اپنے گھروں میں بند ہے۔ بیروزگاری پھیل گئی ہے۔ حکومت ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں تک تیزی سے امدادی رقوم پہنچا رہی ہے۔بعض نجی ادارے بھی ضرورت مند خاندانوں کی مدد کررہے ہیں۔ لیکن سفید پوش طبقہ جو نہ امداد مانگتا ہے نہ لینا چاہتا ہے وہ کام کاج اور کاروبار پر پابندیوں کی سختی محسوس کررہا ہے۔ ایک ہفتہ پہلے کچھ محدود تعداد میں کارخانوں‘ ملوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے ۔سندھ میں ماہی گیروں کو سمندرسے مچھلیاں پکڑنے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔تاہم ملک کا بیشتر کاروبار بند ہے۔بہت سے ہنرمند افراد پر سے پابندی ہٹانے کا اعلان کیا گیاتھا لیکن اسکا نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ ملک میں تقریباًتیس لاکھ پرچون دکاندارہیں جن کی اکثریت روزی کمانے سے محروم ہوچکی ہے۔ ایک طبقہ سخت لاک ڈاؤن جاری رکھنے کا حامی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ مزید ایک ماہ تک یہ پابندیاں قائم رہنی چاہئیں۔ دکانیں‘ صنعتیں‘ عبادت گاہیں مکمل بند رہیں۔ نقل و حمل بہت ہی کم ہو۔لوگ گھروں میں بیٹھیں۔ ان لوگوںکا موقف ہے کہ پاکستان میں کورونا وبا مئی کے آخر تک اپنے عروج پر پہنچے گی اور اگر اسے سماجی فاصلہ کے ذریعے نہ روکا گیاتو ملک میں لاکھوں لوگ بیمار ہوجائیں گے جنہیں ہمارے ملک کا صحت کا نظام سنبھال نہیں سکے گا۔

    اس لیے بہتر یہی ہے کہ لوگ گھر بیٹھ کر اس وبا سے بچنے کی کوشش کریں جیسا کہ اب تک کیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان کی اکثر آبادی اس پوزیشن میں ہے کہ وہ گھر بیٹھ کر اپنے بنیادی اخراجات پورے کرسکے؟ کیا پاکستان کی ریاست کے اتنے وسائل ہیں کہ وہ کروڑوں لوگوں کو گھر بٹھا کر چند ماہ تک روٹی کھلا سکے؟ میرے خیال میں ایسا ممکن نہیں ہے۔پاکستان میںایک ماہ سے زیادہ طویل لاک ڈاؤ ن کرنا حقیقت پسندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ یہ ٹھیک ہے کہ شہروں کے درمیان مسافروں کی آمد و رفت کی گاڑیاں نہ چلائی جائیں‘ صرف سامان کی نقل و حمل ہوتی رہے جو اب بھی جاری ہے۔ مسافر بسوں میں درجنوں لوگ قریب قریب بیٹھتے ہیں جس سے وائرس کا پھیلاؤ بڑھ سکتا ہے۔عدالتیں بھی کچھ اور عرصہ بند رکھی جاسکتی ہیں۔ تعلیمی ادارے بھی چند ماہ مزید بند رہنے سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوگا۔ یوں بھی سخت گرمی کا موسم سر پر ہے۔ کروڑوں بچے‘ نوجوان گھروں سے اسکولوں‘ کالجوں کے لیے نکلتے ہیں تو سڑکوں‘ گلیوں میںہجوم بڑھ جاتا ہے۔ ویسے بھی سرکاری اسکولوں ‘ کالجوںمیں ایک ایک کلاس میں پچاس پچاس ‘سو سو بچے ساتھ ساتھ دیر تک بیٹھتے ہیں۔ یہ بڑا خطرہ ہے۔ تاہم‘ صنعتی پیداوار کے کارخانے اور ملیں مزید بند رکھنا معاشی تباہی کے مترادف ہوگا۔ ملک میں کام کاج کرنے والی آبادی کا ایک چوتھائی صنعتوں سے وابستہ ہے۔ اگر یہ مزید بند رہیں تو محنت کش عوام کا بھٹہ بیٹھ جائے گا۔ حکومت نے بارہ ہزار کی امداد دی ہے اس میں ایک خاندان کا بمشکل ایک ماہ گزارہ ہوگا۔حکومت دوسری بار ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو اتنی امداد دینے کی استعداد نہیں رکھتی۔ لوگوں کو کام کاج کرکے ہی اپنا گھر چلانا ہوگا۔ حقیقت پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ چند احتیاطی شرائط کے ساتھ تمام صنعتوں اور دکانداروں کو اب کام شروع کرنے کی اجازت دے دی جائے ۔کوئی بھی ملک چاہے وہ کتنا امیر‘ ترقی یافتہ ہوطویل عرصہ تک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سے کہیں زیادہ متاثر ہونے والے یورپ کے ممالک بھی کاروباری سرگرمیاں کھولتے جارہے ہیں۔

    عدنان عادل

  • یونین کونسلز بطور مقامی حکومت ختم،سیکرٹری بلدیات نے دیں اہم ہدایات

    یونین کونسلز بطور مقامی حکومت ختم،سیکرٹری بلدیات نے دیں اہم ہدایات

    یونین کونسلز بطور مقامی حکومت ختم،سیکرٹری بلدیات نے دیں اہم ہدایات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیکرٹری بلدیات پنجاب نے ڈپٹی کمشنرز کو ڈی فنکٹ یونین کونسلز سے متعلق اہم ہدایات دی ہیں

    سیکریٹری بلدیات پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا ہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 تحت قائم کردہ بلدیاتی نظام میں یونین کونسلز بطور مقامی حکومت ختم کر دی گئی ہیں۔ متروک یونین کونسلز کی زمہ داریاں اور فرائض پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت قائم کردہ نئی مقامی حکومتوں کو تفویض کر دیئے گئے ہیں۔

    ڈی فنکٹ یونین کونسلز میں متعین ملازمین کو معزز عدالت کے حکم اور ڈپلائیمنٹ پلان کے مطابق متعلقہ بلدیاتی اداروں میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت بلدیاتی اداروں کا عملہ پیدائش، انتقال، نکاح اور طلاق کے اندراج کا کام جاری رکھے گا۔

    سیکرٹری بلدیات پنجاب کا کہنا تھا کہ بہت جلد عوام کو پیدائش اور انتقال سے متعلق آن لائن رپورٹ کرنے کی سہولت مہیا کر دی جائے گی۔
    متروک یونین کونسلز کے سرکاری دفاتر متعلقہ مقامی حکومتوں کے فیلڈ دفاتر میں تبدیل کر دیئے جائیں گے۔

  • تعلیمی اداروں میں فیس کی کمی،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کا پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے کیا خیر مقدم

    تعلیمی اداروں میں فیس کی کمی،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کا پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے کیا خیر مقدم

    تعلیمی اداروں میں فیس کی کمی،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کا پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے کیا خیر مقدم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدرآل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کاشف مرزا نے سندھ ہائی کورٹ کی طرف سےفیسوں کے حوالے سے حکومت سندھ کے نوٹیفکیشن کو آئین سے متصادم اور غیر قانونی قرار دیتے ہوے مسترد کیے جانے کوپرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے اصولی موقف کی فتح قراردیا ہے

    کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ فیسوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 18،3،4،5اور25(1)سےمتصادم،امتیازی اور غیر قانونی ہے ، جلد ہی حکومت پنجاب کا فیس میں 20 فی صد کمی کا نوٹیفیکیشن اور آرڈیننس عدالت میں چیلنج کیا جائے گا،کاشف مرزا نےواضح کیا کہ فیس بارے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پابند ہیں،کنفیوژن پیدا کرنے کی بجائے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے حکومت یہ فیصلہ واپس لے۔

    کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ انسانیت کے جذبہ اور کورنٹائیں سے نبٹنے کے لیے ملک بھرکےمستحق طلبا کی فیس ادائیگی کے لیے کرونا ایجوکیشنل ریلیف فنڈقائم کر دیاہے،وزیر اعظم پاکستان اور صوبائی وزراءاعلی کوملک بھر کے2لاکھ پرائیویٹ سکولزآئسولیشن اور قرنطینہ سنٹرز بنانیں اور 15 لاکھ ٹیچرز بطوروالیئنٹیرز پیشکش بھی کر دی گئی۔ :کاشف مرزا

    کاشف مرزا کا مزید کہنا تھا کہ ٹیچرز کی تنخواہیں فکس ہیں اورملک بھر میں 90 فیصد اسکول عمارتیں کرائے پر ہیں۔وزیر اعظم پاکستان سے پرائیویٹ سکولزکے لیے ’’تعلیمی ریلیف پیکیج ‘‘ کی استدعا کردی ہے۔

  • پنجاب میں کرونا سے 100 اموات،  مریضوں کے ضلعی سطح پر اعدادوشمار جاری

    پنجاب میں کرونا سے 100 اموات، مریضوں کے ضلعی سطح پر اعدادوشمار جاری

    پنجاب میں کرونا سے 100 اموات، مریضوں کے ضلعی سطح پر اعدادوشمار جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، پنجاب سے کورونا وائرس کے 97 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں پنجاب میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 5827 ہو گئی

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے100مریض جاں بحق ہو چکے ہیں،پنجاب میں کورونا کے 1510  افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 22 کی حالت تشویشناک ہے،

    سب سے زیادہ لاہور میں کورونا کے 1469 مریض ہیں،ننکانہ صاحب13، قصور 58، شیخوپورہ 19اورراولپنڈی میں 320 ،جہلم 59، اٹک 19،چکوال 4اورگوجرانوالہ میں کورونا کے163،سیالکوٹ 118، نارووال 15اورگجرات میں کورونا کے216 ،حافظ آباد 28، منڈی بہاوَالدین 30، ملتان 70اورخانیوال میں6،وہاڑی 49، فیصل آباد 58، چنیوٹ 11اورٹوبہ ٹیک سنگھ میں 7،جھنگ 38، رحیم یار خان 65اورسرگودھا میں کورونا کے54 مریض سامنے آئے ہیں

    میانوالی 20، خوشاب 14، بھکر 10، بہاولنگر 12اوربہاولپور میں19،لودھراں 4، ڈی جی خان 27، مظفر گڑھ 23اورلیہ میں کورونا کے 2، ساہیوال 2، اوکاڑہ 18 اورپاکپتن میں کورونا کے7 مریض ہیں.

    پنجاب میں کرونا مریضوں میں اضافہ،سب سے زیادہ مریض کس ضلع میں؟

    ترجمان محکمہ صحت پنجاب کے مطابق پنجاب میں اب تک 77619 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں

    کرونا وائرس، لاہور میں کتنے گھر سیل،کن علاقوں میں ہے مکمل لاک ڈاؤن ؟