Baaghi TV

Category: لاہور

  • کرونا وائرس، شہباز شریف کا قومی سطح پر مشاورت کا فیصلہ

    کرونا وائرس، شہباز شریف کا قومی سطح پر مشاورت کا فیصلہ

    کرونا وائرس، شہباز شریف کا قومی سطح پر مشاورت کا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز نے قومی سطح پر مشاورت کا فیصلہ کیا ہے

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ شہبازشریف نے کورونا کی درپیش صورتحال پر تمام سیاسی جماعتوں کی وڈیو کانفرنس پر مشاورت کا آغاز کردیا ہے،تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سے رابطے اور مشاورت کا فیصلہ گزشتہ روز پارٹی اجلاس میں کیاگیا تھا ،پارٹی صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی مشاورت کا مقصد درپیش صورتحال میں حکمت عملی کی تیاری ہے ,اتنی بڑی تباہی سے کوئی حکومت یا پارٹی تنہا نمٹ نہیں سکتی، اسی لئے سب کی مشاورت سے اقدامات کے لئے وڈیو کانفرنس کی تجویز پیش کی جا رہی ہے –

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی زیرصدارت پارٹی کا اعلی سطحی اجلاس ہوا، وڈیو لنک کے ذریعے تین گھنٹے سے زائد دیر تک اجلاس جاری رہا

    شہبازشریف نے مجموعی صورتحال پر مشاورت اور لاک ڈاون کی صورت میں قابل تجاویز پرتبادلہ خیال کیا،شہباز شریف نے اجلاس میں ہدایت کی کہ مسلم لیگ (ن) کورونا کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے جامع قومی لائحہ عمل اور سفارشات تیارکرے

    اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ چین کی طرز پر ملک بھر میں لاک ڈاون کی یکساں پالیسی اختیار کی جائے، شہبازشریف کا کہنا تھا کہ معاشی ٹیم، ہیلتھ ٹاسک فورس، سیاسی ٹیم، میڈیا ٹیم کو ذمہ داریاں سونپ دی گئیں ،ترتیب دی گئی ٹیمیں جنگی بنیادوں پر اپنے اپنے شعبے سے متعلق جامع تجاویز تیار کریں گے ،شہبازشریف منگل 24 مارچ کو جامع قومی لائحہ عمل اور سفارشات قوم کے سامنے پیش کریں گے

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ قوم کو آگاہ کریں گے کہ معاشی، سماجی و سیاسی، میڈیا کے محاذ پر ہم سب کا کیا کردار ہونا چاہئے،لاک ڈاون اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے معاشی حکمت عملی کا اعلان کیاجائے گا

  • کرونا وائرس،پنجاب میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ ہو گیا

    کرونا وائرس،پنجاب میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ ہو گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب نے 14 دن کے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے اس ضمن میں جلد اعلان کر دیا جائے گا

    پنجاب میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کابینہ کمیٹی نے کیا، پنجاب میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں، دو دن کے لئے شاپنگ مالز، مارکیٹس بند کر دی گئی تھی، تعلیمی ادارے بھی بند تھے تا ہم اب پنجاب میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے.

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر چیف منسٹر فنڈ برائے کورونا کنٹرول قائم کر دیا گیا ہے،مخیر حضرات اکاؤنٹ نمبر 6010204028500013 بینک آف دی پنجاب سول سیکرٹریٹ میں عطیات جمع کروا سکتے ہیں۔

    وزیراعظم پرتنقید کا وقت نہیں، کرونا وائرس کا پاکستان مقابلہ کر سکتا ہے، بلاول

    کرونا وائرس، سندھ حکومت نے انتہائی اقدامات کا فیصلہ کر لیا،بین الصوبائی بارڈر ہوں گے بند

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    صوبہ بھر میں ایمرجنسی کے لیے مختص 236ملین میں 217ملین کی خریداری کر لی گئی ہے۔ ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کا کہنا تھا کہ160ملین کے گاون، 20ملین کے N95ماسک، 9.3ملین کے گلوز، 1.1ملین کے سرجیکل ماسک خریدے گئے ہیں۔اسی طرح8.4ملین کی عینکیں، 4.46ملین کے شو کور، 0.7ملین کے لونگ شوز، 3.5ملین کے سینی ٹائزر،2.9 ملین کی فیس شیلڈ، 1.2ملین کے ایگزامی نیشن گلوزاور4.84ملین کے سرجیکل گلوز بھی خریدے گئے.

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ قرنطینہ کیلئے 880 بیڈوں پر مشتمل 8 ہوٹلوں کی نشاندہی کرکے تیار کر لیا گیاہے،گجرات، فیصل آباد، ٹیکسلا اور تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں قرنطینہ کیلئےمراکز تیار ہیں،قرنطینہ میں موجود متاثرین اور ان کے خاندانوں کو فوڈ پیکیج فراہم کیا جائے گا،

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے چیف منسٹر ایمرجنسی فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ چیف منسٹر ایمرجنسی فنڈ میں مخیرحضرات دل کھول کر عطیات دیں۔آپ کی پائی پائی کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر خرچ کی جائے گی۔ لاہور میں 8ہوٹلوں میں 880 بیڈز کی نشاندہی کرلی گئی ہیں،ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال کیا جاسکے گا۔دیگربڑے شہروں میں بھی ہوٹلوں میں قرنطینہ سینٹر بنانے کے لئے کام شروع کردیاگیا ہے

  • کرونا وائرس،ملک بھر کے صحافیوں کیلئے صدر ایمرا نے کیا بڑا اعلان

    کرونا وائرس،ملک بھر کے صحافیوں کیلئے صدر ایمرا نے کیا بڑا اعلان

    کرونا وائرس،ملک بھر کے صحافیوں کیلئے صدر ایمرا نے کیا بڑا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکٹرانک میڈیا رپورٹر ایسوسی ایشن نے ملک بھر کے صحافیوں کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ماس اورامدادی سامان بھجوانے کا اعلان کر دیا ہے

    ایمرا کے صدر محمد آصف بٹ کے مطابق ایمرا باڈی نے فیصلہ کیا ہے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی میڈیکل ماسک تقسیم اور سینیٹائزر پورے پاکستان کے پریس کلبز میں تقسیم کئے جائے گے تاکہ صحافتی ورکرز کرونا وائرس جیسی موذی وائرس سے بچ سکے اور ایمرا باڈی یہ کام اللہ تعالی کی رضا کے لیے کررہی ہے میری کراچی، فیصل آباد، حیدر آباد، سکھر، سرگودھا، ڈی جی خان، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، بہاولپور، پشاور، کوئٹہ پریس کلبز کی لیڈر شپ سے درخواست ہے کہ وہ وہ اپنے اپنے پریس کلبز کے ممبران کی لسٹیں ایمرا باڈی کو ارسال کرے یا صدر ایمرا محمد آصف بٹ کے اس نمبرز 03201210255 ،03228888327 پر وٹس ایپ کردے ,ہم یہ کام اللہ تعالی کی رضا کے لیے کررہے ہیں اہمرا باڈی پاکستان کے صحافتی ورکرز کے لئے ہمیشہ فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے لیے کام کرتی رہے گی انشاءاللہ

    واضح رہے کہ اس سے قبل ایمرا لاہور میں صحافیوں میں ماسک تقسیم کر چکی ہے.

    ایمرا اور باغی ٹی وی کی مشترکہ کاوش کے پیش نظر ہزاروں لوگوں‌ میں کرونا سے حفاظت کے لیے فیس ماسک تقسیم کیے گئے ہیں جو کہ چغتائی لیب کے تعاون سے جاری ہے ، اس سلسلے میں ڈاکٹر چغتائی بھی اس مہم میں‌ پیش پیش ہیں

    واضح‌ رہے کہ اس سے پہلے ایمرا باڑی نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے سلسلے میں اہم فیصلہ کیا تھا. ایمرا باڑی نے اس سلسلے میں اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ "الحمد للہ اللہ تعالی کا کرم ہے .ایمرا باڈی نے فیصلہ کیا ہے پاکستان میں پھیلتے ہوئے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لاہور کی صحافتی برادری کے ساتھ ساتھ اسلام آباد اور ملتان کی صحافتی برادری کو بھی ماسک اور دستانے تقسیم کئے جائیں گے.

    لاہورکے صحافی خدمات کے دوران کرونا وائرس کا شکارہوگئے ،اللہ تعالیٰ ان کو جلد صحت وتندرستی عطافرمائے ،مبشرلقمان کی اللہ کے حضوردعائیں

  • 23 مارچ ، تجدید عہد وفا کا دن از محمد نعیم شہزاد

    قومی زندگی میں بعض لمحات بڑے قیمتی ہوتے ہیں اور زندہ قومیں ان لمحات کو ضائع نہیں ہونے دیتیں اور تاریخ رقم کر جاتی ہیں۔ پاکستان کی قومی تاریخ میں ایسا ہی ایک اہم دن 23 مارچ 1940 کا دن ہے جب
    لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے عليحدہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

    اس کے پس منظر میں مسلم لیگ کو عام انتخابات میں ہونے والی شکست اور ہزیمت تھی جس نے مسلم قوم کی نمائندہ جماعت ہونے کے دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔ برصغیر میں برطانوی راج کی طرف سے اقتدار عوام کو سونپنے کے عمل کے پہلے مرحلے میں 1936ء/1937ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے اور ہندوستان کے 11 صوبوں میں سے ایک میں بھی مسلم لیگ اپنی حکومت قائم نہ کر سکی۔ اور مسلم لیگ برصغیر کی سیاست میں یکسر ناکام ہو کر رہ گئی تھی۔ اور مسلم لیگ پر واضح ہو گیا کہ اس کو مسلم نمائندہ جماعت ہونے کی بنا پر ہزیمت اٹھانا پڑی۔ اس بنا پر مسلم لیگ کی قیادت میں دو قومی نظریے کی اہمیت اجاگر ہوئی اور انھیں ایک روٹ میپ مل گیا کہ ہندو مسلم دو الگ قومیں ہیں جن میں اتحاد ممکن نہیں۔

    اسی اثنا میں دوسری جنگ عظیم کی حمایت کے عوض اقتدار کی بھر پور منتقلی کے مسئلہ پر تاج برطانیہ اور کانگریس کے درمیان ٹکراؤ ہوا اور کانگریس اقتدار سے الگ ہو گئی۔ اس طرح مسلم لیگ کے لیے کچھ دروازے کھلتے دکھائی دئے۔ اور اسی پس منظر میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ 3 روزہ اجلاس 22 مارچ کو شروع ہوا۔ 23 مارچ کو ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر الگ آزادانہ مسلم حکومت قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ ایک اہم گھڑی تھی اور اس وقت درست لیے گئے فیصلے کی بدولت قریب ساڑھے سات برس کے عرصے میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن قائم کر لیا گیا۔

    قیام پاکستان کے 9 برس بعد اسی دن پاکستان کے پہلے آئین کو اپنایا گیا اور پاکستان پہلے اسلامی جمہوریہ کے طور پر سامنے آیا ۔ یوں پاکستان کی تاریخ میں 23 مارچ کے دن کی اہمیت دوچند ہو گئی۔

    آج الحمدللہ پاکستان اسی نظریے پر قائم ہے اور اُس وقت اِس نظریے کی مخالفت کرنے والے لوگ بھی آج اپنے فیصلے پر خود پچھتا رہے ہیں ۔ ہمسایہ ملک بھارت کے قانون میں ہونے والی حالیہ ترامیم کو ہی دیکھ لیجیے کہ کس طرح دین اسلام سے عداوت نبھاتے ہوئے متنازعہ شہریت بل پیش کیا گیا۔ اخبارات کی شہ سرخیاں اب نظریہ پاکستان کے مخالفین کو منہ چڑھا رہی ہیں اور وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت کے قائل ہو گئے ہیں۔

    اس عظیم قومی دن کو بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ مگر اس سال کرونا وائرس جیسے وبائی مرض کے پھیلاؤ نے پوری قوم کو اپنے سحر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اور ایک عجیب خوف کی کیفیت طاری ہو رہی ہے۔ چین کے ایک شہر سے شروع ہونے والی اس بیماری نے اس وقت قریباً پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ روز بروز حالات دگرگوں ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ کرونا وائرس کے مبینہ مریضوں کی بغیر مناسب سکیننگ ملک میں آمد ہی پاکستان میں کرونا کے پھیلنے کا سبب بنی۔ مگر اب جب سانپ گزر گیا تو لکیر کو پیٹنے سے کیا حاصل؟ لہذا ہمیں مستقبل پر نظر کرنی چاہیے اور حکومت کی طرف سے عائد کردہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے کاربند ہونا جانا چاہیے۔

    آج پھر ایک قومی سوچ و فکر کی ضرورت ہے۔ آئیے تجدید عہد کے اس دن یہ عہد کریں کہ ہم اس وبائی بیماری کو شکست دیں گے اور اپنے قومی جذبات کی حرارت سے اس وبا کا خاتمہ کر دیں گے۔ اور ملک و قوم کو اس بیماری کے خلاف فتح سے ہمکنار کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ تاریخ کے تناظر میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ ہمیشہ بروقت لیے گئے درست فیصلے ہی کامیابی کی ضمانت قرار پاتے ہیں۔ لہذا بلا تاخیر سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں، بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلا جائے اور رش کے مقامات سے دور رہا جائے۔
    اس موقع پر دوسرا اہم پیغام حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ہے کہ عوامی شعور کو بیدار کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات تسلی بخش ہیں اور امید کی جا سکتی کہ پاکستانی قوم اس وبا کو ضرور شکست دے گی۔

  • کرونا وائرس، وقار یونس میدان میں آ گئے، کہا سات سال کی محنت سے پاکستان بنا، سات ہفتے اب یہ کام کریں

    کرونا وائرس، وقار یونس میدان میں آ گئے، کہا سات سال کی محنت سے پاکستان بنا، سات ہفتے اب یہ کام کریں

    کرونا وائرس، وقار یونس میدان میں آ گئے، کہا سات سال کی محنت سے پاکستان بنا، سات ہفتے اب یہ کام کریں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور بالنگ کوچ وقار یونس بھی کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں میدان میں آ گئے،

    وقار یونس نے جاری ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ 23 مارچ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا دن ہے، اس دن ہمارے بزرگوں نے فیصلہ کیا تھا کہ الگ ملک چاہئے ،یہ تاریخ کا بڑا دن ہے، سات سال بعد پاکستان بنا، جو قربانیاں ہمارے بزرگوں نے دیں وہ ہم بھول نہیں سکتے، اب وقت آ گیا ہے کہ پھر قربانی دینی پڑے گی

    وقار یونس کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا، بہت بڑا مسئلہ ہے، سب کو ملکر حکومت کی مدد کرنی پڑے گی، سات سال ملکر محنت کر کے ملک بنا سکتے ہیں تو سات ہفتے کے لئے احتیاطی تدابیر بھی اختیار کر سکتے ہیں

    انہوں نے شہریوں سے گزارش کی کہ گھروں میں رہیں، ہاتھ بار بار دھوئیں یہ ایسی جنگ نہیں جو تلواروں سے لڑنی پڑے، مشکل وقت سے نکل آئیں گے گھروں میں رہنے سے ہی ہم خود کو اور دوسروں کو عالمی وبا کورونا سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ عوام کے گھروں میں رہنے سے اس وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے، گھروں میں رہ کر ہم خود اور اپنے خاندان سمیت دوسروں کو اس وبا بیماری سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    کرونا وائرس،کھانسی ہونے پر ہوٹل میں داخلے پر پابندی،قیدیوں کے لئے بھی ایڈوائیزری جاری

    کرونا وائرس، مولانا بھی میدان میں آگئے، اینٹی کرونا سیل قائم،کریں گے گلاب کے پھول تقسیم

    کرونا وائرس سے ایک اور ہلاکت بھی ہو گئی ہے جس سے پاکستان میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 6 ہو گئی ہے.

    وزارت صحت کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے 803 مریض ہیں، جس میں سے پنجاب میں 225، سندھ میں 351، خیبر پختونخواہ میں 31، بلوچستان میں 108،گلگت میں 71 اور آزاد کشمیر میں ایک مریض ہے، اسلام آباد میں 11 مریض ہیں

  • 23 مارچ اور اتحاد از عاشق علی بخاری

    اگر بغور جائزہ لیں تو اس کے پیچھے ایک طویل اور تھکادینے والی جدوجہد اور بے شمار قربانیاں آپ کو نظر آئیں گی. وطن عزیز حاصل کرنا بچوں کا کھیل نہیں تھا بلکہ دو ایسی طاقتوں سے مقابلہ تھا، جن میں سے ایک برسرِ اقتدار انگریز اور دوسرے انہی کے مہرے تھے.

    سیدھے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ آپ بے سر و سامان تھے اور اور مقابل پورے توپ تفنگ سے آراستہ تھا، سمجھیں یہ وہی منظر تھا کہ ایک طرف 313 تو دوسری طرف 1000 کا لشکر تلواروں، نیزوں اور بہترین گھوڑوں پر سوار.
    یہاں بھی جب فضائے بدر پیدا ہوئی تو آسمانی مدد پورے جلال کے ساتھ مسلمانوں کے شانہ بشانہ موجود تھی. جب ہم نے آزادی حاصل کی تو ہمارے اثاثے تک روک لیے گئے، ہم پر جنگیں مسلط کی گئیں، یہاں تک کہ دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہو ہم دو ٹکڑے ہوگئے، لیکن ہم اس وقت سے اب تک سروائو کرتے چلے آئے ہیں.

    پوری انسانی تاریخ اٹھا کر دیکھ جب بھی، اور کہیں بھی پختہ عزم اور کامل یقین کے ساتھ جس نے بھی جدوجہد کی وہ یقیناً کامیاب ہوا ہے.
    منگول سلطنت ہو یا سلطنت عثمانیہ یا پھر امیر تیمور ہو یا مغلیہ سلطنت اس کے علاوہ بھی بے شمار حکمران اور افراد گزرے ہیں، جنہوں نے عزم کیا تو بالآخر اپنی منزل پر پہنچ ہی گئے.
    یہ دن بھی ہمارے لیے تاریخ کا بہترین سبق رکھتاہے.
    ہم لاالہ الااللہ کی بنیاد پر جمع ہوئے تھے، اسی پر ہم نے جمع رہنا ہے،
    اپنی منزل سے ہٹ کر چھوٹے چھوٹے رستوں پر چل نکلے تو پھر منزل سے ضرور بھٹک جائیں گے، ہمیشہ اپنے مرکز لاالہ الا اللہ کے قریب رہنا ہے اسی میں ہماری بقا کا راز چھپا ہوا ہے.

    چاہے کیسے بھی جھکڑ، طوفان چلیں، کیسی ہی ہوائیں مخالف کیوں نہ ہوجائیں، ہم نے اتحاد کے سبق کو نہیں بھولنا یہ گویا موت و حیات کے بیچ لٹکی ہوئی رسی ہے، اگر ذرا بھی ہاتھ ڈھیلا ہوا تو لکڑبگھوں اور اژدھوں کا نوالہ بن جائیں گے.
    ملک پاکستان ابتداء سے لیکر اب تک مختلف بحرانوں اور مسلسل مشکلات کا شکار ہے، اور حالیہ وبائی سلسلے میں بھی مشکلات میں گھرا ہوا ہے، ان تمام حالات میں ہم نے ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہے، حکومتی اقدامات چاہے کچھ بھی نہ ہوں لیکن ہم نے وہ تمام ضروری کام کرنے ہیں جو ہمارے لیے ضروری ہیں، آپ اپنا بالکل نہ سوچیں بلکہ اگر آپ بیٹے ہو تو والدین بہن بھائیوں کا سوچو، اگر شوہر ہو تو بیوی، بچوں کا سوچیں، آپ آپ نہیں ہیں بلکہ بہت سارے لوگوں کی امید ہیں آپ. بہت سارے لوگوں کے چہروں پر آپ مسکراہٹ کا سبب ہیں، اس نے کہا تھا نہ
    احتیاط ضروری اے.

    ہمارا ملک کسی بھی لسانی، صوبائی، فرقہ وارانہ کاموں کا متحمل نہیں ہوسکتا، لہذا وہ تمام کام جو مسلمانوں کے اتحاد کے لیے نقصان دہ ہوں ان سے خود بچنا یے اور دوسروں کو بچانا ہے.
    یہ ملک کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے، تو اس کے منافی کام کرکے اپنے آباء و اجداد کی قربانیوں پر پانی نہیں پھیرنا، اس ملک میں نہ لبرل ازم کی کوئی جگہ ہے اور نہ ہی سیکولرازم کی.
    سندھی، پنجابی، بلوچ سب نے مل کر اس کی بنیاد رکھی تو اب بھی ہر ایک اس کا نگران او نگہبان ہے، کوئی کسی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا.
    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
    پاکستان زندہ باد

  • کرونا وائرس، پنجاب کابینہ کا اجلاس طلب، ہوں گے اہم فیصلے،پیش ہو گا کرونا آرڈیننس

    کرونا وائرس، پنجاب کابینہ کا اجلاس طلب، ہوں گے اہم فیصلے،پیش ہو گا کرونا آرڈیننس

    کرونا وائرس، پنجاب کابینہ کا اجلاس طلب، ہوں گے اہم فیصلے،پیش ہو گا کرونا آرڈیننس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبائی کابینہ کا اجلاس کل طلب کر لیا-پنجاب کابینہ کے28 ویں اجلاس میں 17 نکاتی ایجنڈا زیر غور آئے گا ،کرونا وائرس کی صورتحال اور حفاظتی اقدامات پربریفنگ بھی دی جائے گی ،کرونا آرڈیننس بھی کل منظوری کیلئے کابینہ کے سامنے پیش ہوگا

    پنجاب کی کابینہ کا غیر معمولی اجلاس کل ہو گا، اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کرین گے،اجلاس میں کرونا وائرس پر مزید اقدامات اور اس کے معاشی اثرات پر بھی کابینہ کو بریف کیا جائے گا۔

    دوسری جانب پنجاب کابینہ کے اجلاس کا 17 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، کابینہ اجلاس میں کرونا آرڈیننس منظوری کے لئے پیش ہو گا، کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے محکمہ صحت کی ضروریات کو پورا کرنے کے اقدامات کی بھی منظوری دی گئی۔ چولستان، رحیم یار خان کی اسٹیٹ لینڈ کی لیز منظوری کا معاملہ بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ پنجاب شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ میں ترمیم کا بھی کابینہ جائزہ لے گی، بیت المال پنجاب کے ڈویژنل ڈائریکٹرز کو اختیارات کی منتقلی کا معاملہ بھی کابینہ کے زیر غور آئے گا۔ والڈ سٹی اتٰھارٹی لاہور کی پنجاب بھر میں توسیع کی منظوری بھی کابینہ کے ایجنڈے میں شامل کر لی گئی ہے۔

    صوبائی محتسب کی سالانہ رپورٹ بھی منظوری کے لئے کابینہ کے سامنے رکھی جائے گی، پیپرا ایکٹ کے سیکشن چھ میں ترمیم کا معاملہ بھی کابینہ اجلاس میں زیرغور آئے گا، آن لائن کالج ایڈمشن سسٹم 2019 کی بھی کابینہ جائزہ لیکر منظوری دے گی جبکہ سرکاری ہائیر ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز میں اقلیتوں کے لئے دو فیصد کوٹہ کی منظوری کا معاملہ بھی ایجنڈے پر رکھ لیا گیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر چیف منسٹر فنڈ برائے کورونا کنٹرول قائم کر دیا گیا ہے،مخیر حضرات اکاؤنٹ نمبر 6010204028500013 بینک آف دی پنجاب سول سیکرٹریٹ میں عطیات جمع کروا سکتے ہیں۔

    وزیراعظم پرتنقید کا وقت نہیں، کرونا وائرس کا پاکستان مقابلہ کر سکتا ہے، بلاول

    کرونا وائرس، سندھ حکومت نے انتہائی اقدامات کا فیصلہ کر لیا،بین الصوبائی بارڈر ہوں گے بند

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    صوبہ بھر میں ایمرجنسی کے لیے مختص 236ملین میں 217ملین کی خریداری کر لی گئی ہے۔ ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کا کہنا تھا کہ160ملین کے گاون، 20ملین کے N95ماسک، 9.3ملین کے گلوز، 1.1ملین کے سرجیکل ماسک خریدے گئے ہیں۔اسی طرح8.4ملین کی عینکیں، 4.46ملین کے شو کور، 0.7ملین کے لونگ شوز، 3.5ملین کے سینی ٹائزر،2.9 ملین کی فیس شیلڈ، 1.2ملین کے ایگزامی نیشن گلوزاور4.84ملین کے سرجیکل گلوز بھی خریدے گئے.

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ قرنطینہ کیلئے 880 بیڈوں پر مشتمل 8 ہوٹلوں کی نشاندہی کرکے تیار کر لیا گیاہے،گجرات، فیصل آباد، ٹیکسلا اور تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں قرنطینہ کیلئےمراکز تیار ہیں،قرنطینہ میں موجود متاثرین اور ان کے خاندانوں کو فوڈ پیکیج فراہم کیا جائے گا،

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے چیف منسٹر ایمرجنسی فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ چیف منسٹر ایمرجنسی فنڈ میں مخیرحضرات دل کھول کر عطیات دیں۔آپ کی پائی پائی کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر خرچ کی جائے گی۔ لاہور میں 8ہوٹلوں میں 880 بیڈز کی نشاندہی کرلی گئی ہیں،ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال کیا جاسکے گا۔دیگربڑے شہروں میں بھی ہوٹلوں میں قرنطینہ سینٹر بنانے کے لئے کام شروع کردیاگیا ہے۔

  • کرونا کے خلاف عمران خان کی قیادت میں حاصل کریں گے فتح، فیاض الحسن چوہان

    کرونا کے خلاف عمران خان کی قیادت میں حاصل کریں گے فتح، فیاض الحسن چوہان

    کرونا کے خلاف عمران خان کی قیادت میں حاصل کریں گے فتح، فیاض الحسن چوہان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے یومِ پاکستان کے حوالے سے پیغام میں کہا ہے کہ پوری پاکستانی قوم کو یومِ پاکستان مبارک ہو۔

    فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ 23 مارچ 1940 کو برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم کی قیادت میں علیحدہ ملک کے لیے جدوجہد شروع کی۔ سات سال عظیم الشان جدوجہد کے بعد مسلمانوں نے کامیابی حاصل کی۔ آج قائد، اقبال اور چوہدری رحمت علی کا پاکستان کرونا سے نبرد آزما ہے۔ آج ہمارے قائد وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان ہیں

    فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ آج اسی جذبے سے قوم کو کرونا کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ کرونا کے خلاف جنگ ہم نے سیاسی مفادات، پوائنٹ سکورنگ اور کھینچا تانی سے بالاتر ہو کر جیتنی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ جنگ 48، 65, 71 اور کارگل سے زیادہ خطرناک ہے۔ ہمارا نعرہ "جگ جگ جیوے پاکستان”، "جان سے پیارا پاکستان”، "سب سے پہلے پاکستان”، ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی قیادت میں اتحاد اور اتفاق سے کرونا کے خلاف فتح حاصل کریں گے۔

  • قوم زندگی ،موت کی کشمکش میں اور حکومتی ترجمان جگت بازی میں مصروف، مریم اورنگزیب برس پڑی

    قوم زندگی ،موت کی کشمکش میں اور حکومتی ترجمان جگت بازی میں مصروف، مریم اورنگزیب برس پڑی

    قوم زندگی اور موت کی کشمکش میں اور حکومتی ترجمان جگت بازی میں مصروف، مریم اورنگزیب برس پڑی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ‎قوم زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے اور حکومتی ترجمانوں نے جگت بازی ،سیاسی تماشہ اور لکی ایرانی سرکس لگایا ہوا ہے

    ‎مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ عوام کے گھروں میں قیامت آئی ہوئی ہے لیکن حکومتی ترجمانوں کو جگتیں سوجھ رہی ہیں ،‎اگر ان کا یہ رویہ نہ ہوتا تو قوم اور ملک آج اس افراتفری اور انتشار میں نہ ہوتا ،‎کورونا کا مقابلہ سوشل میڈیا پر جگت بازی سے نہیں ہوگا ، ‎نواز شریف اور شہبازشریف کی صحت کی بنائی ہوئی سہولیات کو ہی آج بھی استعمال کیاجارہا ہے ،‎شہباز شریف کا ڈینگی کے خلاف بنایا ہوا ڈیش بورڈ آج کورونا سے قوم کو بچانے کے لئے استعمال ہورہا ہے

    مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ ‎نوازشریف اور شہبازشریف نے ملک اور قوم کے لئے کیا ہے پاکستان کی عوام اور ساری دنیا جانتی ہے ،‎حکومتی ترجمان اور وزراء سیاسی نمبر سکورنگ سے کچھ عرصہ کے لئے پرہیز کریں تو بہتر ہوگا ،‎اس نوعیت کے بیانات سے معاشرے میں انتشار بڑھے گا، حالات اس کے متحمل نہیں ہوسکتے ،حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ذاتیات، سیاسی انا سے اوپر اٹھتے ہوئے تدبر، عقل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ،قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے، اس طرح کی گفتگو کرکے قوم کو مزید مایوس نہ کریں

    کرونا وائرس، شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس،قومی لائحہ عمل کریں گے کب پیش؟ اعلان کر دیا

  • ماسک پہننے والے شہری ہو جائیں ہوشیار،پہننے سے قبل یہ خبر ضرور پڑھیں

    ماسک پہننے والے شہری ہو جائیں ہوشیار،پہننے سے قبل یہ خبر ضرور پڑھیں

    ماسک پہننے والے شہری ہو جائیں ہوشیار،پہننے سے قبل یہ خبر ضرور پڑھیں
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ماسک استعمال کرنے والے شہری ہوشیار ہو جائیں،چین سے استعمال شدہ ماسک پاکستان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے

    باغی ٹی وی کی ایک ویڈیو موصول ہوئی ہے ، جس کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے چین میں شہریوں نے ماسک استعمال کر کے پھینکے جنہیں کچرا چننے والوں نے جمع کیا اور انہیں دھو کر استری کرنے کے بعد دوبارہ پیکنگ کی اور انہیں افغانستان سمگل کر دیا

    استعمال شدہ ماسک چین سے افغانستان سمگل ہوئے اور پھر افغانستان سے پاکستان پہنچ گئے، اس حوالہ سے شہریوں کو احتیاط کرنے کی ضرورت ہے. ماسک پہننے والے لوگ اس حوالہ سے احتیاط کریں اور ماسک کو دیکھ کر خریدیں

    واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے 803 مریض سامنے آ چکے ہیں جبکہ 6 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے شہری ماسک خریدتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر شہروں میں ماسک کی قلت ہو گئی ہے یا مہنگے مل رہے ہیں، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جو شہری کرونا سے متاثر نہیں ان کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں تا ہم شہریوں نے کرونا کے خؤف سے از خود ماسک پہننا شروع کر دیئے ہیں.

    گزشتہ دنوں لاہور انتظامیہ نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے ایک گھر سے 45 ہزار فیس ماسک برآمد کرلیے تھے۔اسسٹنٹ کمشنر کینٹ مرضیہ سلیم کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے چھاپے کے دوران پیراگون سٹی میں ایک گھر سے ماسک کا بڑا اسٹاک برآمد کیا تھا۔اے سی کینٹ کے مطابق تمام ماسک بلیک کر کے مہنگے داموں فروخت کیے جانے تھے۔ خفیہ اطلاع پر ذخیرہ اندوزی کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی.

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چھاپے کے دوران 2 کروڑ سے زائد کے ماسک برآمد کر لئے گئے

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عمر رندھاوا نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ایف سیون میں کاروائی کی، ایک گھر پر چھاپے کے دوران ڈیڑھ لاکھ کے قریب ماسک جن کی مالیت دو کروڑ سے زائد بنتی ہے قبضے میں لے لیا

    تعلیمی ادارے بند، میٹرک اور انٹر کے امتحانات ہوں گے کب؟ سعید غنی نے کیا بڑا اعلان

    کرونا وائرس، سندھ حکومت نے انتہائی اقدامات کا فیصلہ کر لیا،بین الصوبائی بارڈر ہوں گے بند

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    گھر میں موجود چار چینی باشندوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا، چینی باشندوں نے یہ ماسک کس مقصد کے لئے رکھے تھے اس بارے مین ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ، تا ہم گرفتار چینی باشندوں‌ کو قانونی کاروائی کے لئے گھر سے گرفتار کر کے پولیس کے حوالہ کر دیا گیا جہاں ان سے تحقیقات کی جائیں گی.

    ماسک سمگلنگ میں کون کون ملوث؟ نام سامنے آ گئے