Baaghi TV

Category: لاہور

  • جعلی کاسمیٹکس تیار کرنے والوں کے خلاف اب ہو گی کاروائی،وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا حکم

    جعلی کاسمیٹکس تیار کرنے والوں کے خلاف اب ہو گی کاروائی،وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا حکم

    جعلی کاسمیٹکس تیار کرنے والوں کے خلاف اب ہو گی کاروائی،وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا حکم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے جعلی کاسمیٹکس تیار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے،پنجاب حکومت نے ڈرگ اینڈکاسمیٹکس ترمیمی ایکٹ 2019کی منظوری دےدی

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ماضی میں غیرمعیاری وجعلی کاسمیٹکس تیارو فروخت کرنےو الےمافیاپرہاتھ نہیں ڈالا گیا،سابق حکومتیں سوئی رہیں اورجعلسازی کےذریعےعوام لٹتےرہے،غیرمعیاری وجعلی کاسمیٹکس تیاراورفروخت کرنے والے مافیاکے لیےکوئی گنجائش نہیں،غیرمعیاری کاسمیٹکس تیار اور فروخت کرنےوالےعوام کی صحت سے کھیل رہے ہیں،

    واضح رہے کہ جعلی کاسمیٹکس کے خاتمے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے سفارشات مرتب کی تھیں ، کمیٹی کی سفارشات پر جعلی کاسمیٹکس تیار کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے.

  • نیب ترمیمی آرڈیننس ،سب سے پہلے کون مستفید ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    نیب ترمیمی آرڈیننس ،سب سے پہلے کون مستفید ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    نیب ترمیمی آرڈیننس ،سب سے پہلے کون مستفید ہوا؟ جان کر ہوں حیران
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت لاہورنے نیب ترمیمی آرڈیننس کا اطلاق 1985سے کرنے کا حکم دے دیا،جج چودھری امجد نذیرنے اپنے فیصلے میں نیب ترمیمی آرڈیننس کے اطلاق سےمتعلق لکھا

    عدالت نے نوٹ لکھا کہ اختیارات سےتجاوزمیں جب تک مالی فائدہ یااثاثوں میں اضافہ نہ ہوجرم تصورنہیں ہوگا،ترمیمی آرڈیننس سے سب سے پہلے مستفید ہونے والے سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف ہیں،احتساب عدالت لاہورنےنیب ترمیمی آرڈیننس کےتحت 8 ملزمان کوبری کیا.

    بلی بارگین کرنے والے کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہئے، نیب ترمیمی بل سینیٹ میں پیش

    نیب آرڈیننس میں ترامیم کے بعد نیا مسودہ تیار

    راجہ پرویز اشرف کو گزشتہ روز عدالت نے غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں بری کیا.

    دوسری جانب اپوزیشن کی مشاورت کے بعد اب حکومت ایک نیا ترمیمی آرڈیننس لا ئے گی جس میں اپو زیشن کی تجا ویز ت کو شامل کیا جا ئے گا اس سے پہلے آرڈیننس میں 5 کروڑ سے زائد کرپشن کے ملزمان کے لیے جیل میں بی کے بجائے سی کلاس کر دی گئی تھی جبکہ دوسرے ترمیمی آرڈیننس میں تاجروں اور سرکاری افسران کو چھوٹ دی گئی تھی۔

    نیب ترمیمی آرڈیننس کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کر دی گئی،فرخ نواز بھٹی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت کا نیب آرڈیننس قانون کی حکمرانی کے منافی ہے، آرڈیننس کے ذریعے کرپٹ عناصر کو تحفظ دیا گیا ہے، ٹیکس اتھارٹیز اور کاروباری شخصیات کے ہاتھ کرپشن سے رنگے ہیں۔

    شیخ رشید نے خاموشی توڑ دی،حریم شاہ کو کال کر کے کیا کہا؟ ریکارڈنگ منظر عام پر

    حریم شاہ کی "لیکس” کا سلسلہ جاری، فیاض الحسن چوہان کی کال ریکارڈنگ شیئر کر دی

    شیخ رشید کی کردار کشی، حریم شاہ کو کس نے دیا ٹاسک؟ باغی ٹی وی سب سامنے لے آیا

    حریم شاہ نے کس ملک کی شہریت کے لئے اپلائی کر دیا؟ سن کر فیاض الحسن چوہان پریشان

    ننگے ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ، حریم شاہ نے کس کو شرمناک دھمکی دی؟

    سراج الحق بھی……حریم شاہ نے کیا تہلکہ خیر انکشاف

    حریم شاہ کی کسی شخص کے گھٹنے پر بیٹھنے کی تصویر وائرل، وہ شخص کون؟ حریم نے خود بتا دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” زرتاج گل بھی میدان میں آ گئیں، کیا کہا؟ جان کر ہوں حیران

    درخوست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نیب کو حکم دے کہ تمام کارباری شخصیات کے اعداد و شمار عدالت میں پیش کریں۔ درخواست میں وفاقی حکومت، وزیراعظم، ایف بی آر، نیب اور ایس ای سی پی کو فریق بنایا گیا ہے.

    قبل ازیں تین روز قبل بھی نیب ترمیمی آرڈیننس کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی ، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس آرٹیکل 25 کےخلاف ہے، آرڈیننس وزرا،سرکاری افسران کی کرپشن کو تحفظ دینے کی کوشش ہے، آرٹیکل 25 کےمطابق تمام شہری قانون کی نظرمیں برابرہیں،

    درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نیب ترمیمی آرڈیننس فوری معطل کرنے کاحکم دے،درخواست میں وفاق ،چیئرمین نیب،وزارت قانون اوردیگرکو فریق بنایا گیا ہے.

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نیب آرڈیننس پر دستخط کردیے جس کے بعد اب نیا قانون نافذ العمل ہوگیا۔ صدر مملکت نے وفاقی حکومت کی سفارش پر نیب کے نئے قوانین پر دستخط کیے، آرڈیننس کے تحت اب قومی احتساب بیورو کو 50 کروڑ سے زائد کرپشن اور اسکینڈل پر ہی کارروائی کی اجازت ہوگی۔

  • پنجاب حکومت نے 7 پولیس افسران کو ایس پی کے عہدے پر ترقی دے دی

    پنجاب حکومت نے 7 پولیس افسران کو ایس پی کے عہدے پر ترقی دے دی

    پنجاب حکومت نے 7 پولیس افسران کو ایس پی کے عہدے پر ترقی دے دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے 7 پولیس افسران کو ایس پی کے عہدے پر ترقی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا.افسران میں جویریہ محمد جمیل، عائشہ بٹ ، شہزادہ عمر عباس، ضیاءالدین شامل ہیں.ان کے علاوہ توحید احمد میمن، ارسلان شاہزیب، کیپٹن ریٹائرڈ علی بن طارق کو بھی ترقی دی گئی۔

    پنجاب حکومت کا 3 ایس ایس پیز کو ریلیو کرکے ایف آئی اے رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے .ان میں ایس ایس پی عبدالقادر قمر، ڈاکٹر عاطف اکرام، اطہر وحید شامل ہیں ۔ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ زعیم اقبال شیخ کو سٹاف کالج کورس کی اجازت نہ مل سکی۔

  • کیپٹن ر صفدر کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر ہوئی سماعت

    کیپٹن ر صفدر کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر ہوئی سماعت

    کیپٹن ر صفدر کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر ہوئی سماعت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں کیپٹن ر صفدر کی ضمانت منسوخی کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس فاروق حیدر نے پنجاب حکومت کی درخواست پر سماعت کی

    پراسکیوٹر ارشد فاروقی نے کہا کہ ریکارڈ کی فراہمی اور کیس کی تیاری کے لیے وقت دیا جائے ،جس پر عدالت نے کیس پر مزید سماعت 17 فروری تک ملتوی کر دی

    ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ کیپٹن ر صفدر نے سیشن کورٹ میں ریاستی اداروں کے خلاف میڈیا ٹاک کی، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی میڈیا ٹاک قابل اعتراض اور مواد غداری کے زمرے میں آتا یے، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف درج مقدمے میں دفعہ 124 اے لگائی گئی جو قابل ضمانت نہیں۔

    سرکاری وکیل نے کہا کہ سیشن عدالت نے حکومتی مؤقف کو نظرانداز کرکے ملزم کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ضمانت منظور کی۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ضمانت منظور کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے

    نوازشریف سزا معطلی کی درخواست، عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    لیگی رہنما اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد پر الزام ہے کہ نواز شریف کی صحت کی خرابی پر اشتعال انگیز تقریر کی اور لوگوں کو بھڑکاتے رہے جس پر انہیں حراست میں لیا گیا ہے،سیشن عدالت نے اُنہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے اُنہیں 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکےجمع کرانے کا بھی حکم دیا تھا۔

    شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش……..ملکی سیاست میں کھلبلی مچ گئی

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    واضح رہے کہ لاہور پولیس نے محمد صفدر کو راوی ٹول پلازہ سے گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تھانہ اسلام پورہ میں 16 ایم پی او کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔گرفتاری کے اگلے روز جب انہیں عدالت میں پیش کیا گیا تو پولیس نے ان پر مزید دو مقدمات درج کرلیے تھے۔

    نواز کی ضمانت، ہسپتال میں مریم نواز کو کس نے دیا بوسہ؟

  • لاہور ہائیکورٹ میں موبائل فون کے سگنل نہ آنے پر چیف جسٹس نے کیا حکم دیا؟

    لاہور ہائیکورٹ میں موبائل فون کے سگنل نہ آنے پر چیف جسٹس نے کیا حکم دیا؟

    لاہور ہائیکورٹ میں موبائل فون کے سگنل نہ آنے پر چیف جسٹس نے کیا حکم دیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں خراب موبائل فون سگنل کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے موبائل نیٹ ورک کمپنی سے ہائیکورٹ میں سگنل کوالٹی بہتر بنانے کے لیے رپورٹ طلب کر لی ،عدالت نے موبائل کمپنیز کو ہائیکورٹ میں سگنل کی کوالٹی بہتر بنانے کے لیے سروے کروانے کا حکم دے دیا

    چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ ہائیکورٹ میں موبائل فون کے سگنل کی پرابلم ہے، اگر ہائیکورٹ میں سگنل خراب ہے تو کمپنیز پیسے کس مد وصول کر رہی ہے، ہائیکورٹ میں سگنل پرابلم سے 20 سے 25 ہزار لوگ متاثر ہو رہے ہیں،

    موبائل فون کمپنیز کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ میں سگنل پرابلم ایمپلی فائر کی وجہ سے ہو رہی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ سے تمام ایمپلی فائر اتار دیتے ہیں، اگر ایمپلی فائر اتارنے کے باجود ٹھیک نہ ہوے تو ساری کمپنیز کو بند کر دیا جائے گا،

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مامون رشید شیخ نے کیس کی سماعت کی ،درخواست میں وفاقی حکومت، پی ٹی اے اور موبائل فون کمپنیز ودیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    درخواست گزار نے اپنی درخواست میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں موبائل فون کے سگنلز نہیں آرہے، موبائل فون کے سگنلز نہ آنے کی وجہ سے وکلاء اور سائلین کو رابطے میں مشکلات پیش ارہی ہیں، وکلاء اور سائلین کا رابطہ نہ ہونے سے کیسز کی سماعت متاثر ہو رہی ہے، سگنلز. مہیا کرنے والے ٹاور بھی پرانے ہو چکے ہیں،اگر ہائیکورٹ کے اندر احاطہ میں جیمرز لگائے گئے ہیں تو انہیں ہٹانے کا حکم دے، عدالت موبائل فون کمپنیز کو نئے ٹاورز لگانے کا حکم دے

  • اتحادیوں کو منانے کے لئے حکومت ایک بار پھر متحرک، کمیٹی کی چودھری پرویز الہیٰ سے ملاقات طے

    اتحادیوں کو منانے کے لئے حکومت ایک بار پھر متحرک، کمیٹی کی چودھری پرویز الہیٰ سے ملاقات طے

    اتحادیوں کو منانے کے لئے حکومت ایک بار پھر متحرک، کمیٹی کی چودھری پرویز الہیٰ سے ملاقات طے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی قیادت آج ملاقات کرے گی،وفاقی وزیر شفقت محمود مسلم لیگ ق کی قیادت سے ملاقات کریں گے

    وزیر اعظم کی ہدایت پر شفقت محمود اسپیکر پرویز الہیٰ سے ملاقات کریں گے،شفقت محمود اور چودھری پرویزالہیٰ کی ملاقات 3بجے لاہور میں ہوگی،ملاقات میں شفقت محمود وزیر اعظم کا پیغام پرویز الہیٰ کو پہنچائیں گے

    دوسری جانب نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ق اور حکومت کے درمیان تحریری معاہدے میں طے ہونے والے نکات سامنے آگئے۔ چار نکاتی معاہدے میں پاور شیئرنگ کے اصول طے کیے گئے تھے۔ وفاق میں 2 اور پنجاب میں میں بھی 2 وزارتیں ملنا تھیں جس پرحکومت عمل نہ کرسکی۔

    پاور شیئرنگ کے تحت ضلعی سطح اور مختلف حکومتی اداروں میں مسلم لیگ ق کے رہنماوں کو نمائندگی ملنا تھی۔ ڈے ٹو ڈے افیئرز میں بھی تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے درمیان مشاورت کا معاہدہ ہوا۔ پالیسی میکنگ میں بھی حکومت نے معاہدے میں مسلم لیگ ق کو شریک کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ ترقیاتی فنڈز اور عوامی مسائل کے حل کے لئے مسلم لیگ ق کے ارکان کو با اختیار بنانا بھی معاہدے کا حصہ تھا۔

    مسلم لیگ ق کے رہنما کامل علی آغا کا کہنا ہے کہ فیصلہ کیا ہے کہ اتحادی امور طے پانے تک مسلم لیگ ق کی قیادت ہر چار پانچ روز بعد اجلاس کرے گی، ہم حکومت پر واضح کرچکے ہیں کہ ہمیں مرکز میں دوسری وزارت نہیں چاہیے، مونس الہی کی وزارت کے معاملے پر منفی پراپیگنڈہ کیا گیا، پارٹی میں اختلاف پیدا کرنے کی بھی کوشش کی گئی، پنجاب میں بھی جو وزارتیں ملی ہیں ان میں کوئی اختیار نہیں، ہر تین ماہ بعد پنجاب کی وزارتوں میں سیکرٹری تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے ساتھ رابطوں کے لئے کمیٹی بنائے جانے پر مسلم لیگ ق کے رہنما چودھری مونس الہیٰ میدان میں آ گئے.

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے چودھری مونس الہٰی نے کہا کہ پی ٹی آئی خود معاملات کو کیوں خراب کررہی ہے؟ حکومت کی سابقہ کمیٹی سےمثبت پیش رفت ہورہی تھی، سابقہ کمیٹی میں جہانگیرترین، پرویزخٹک اور شہزاد اکبر شامل تھے.

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے مسلم لیگ ق سے وعدہ کیا تھا کہ مونس الہیٰ کو وزارت دی جائے گی لیکن ابھی تک وعدہ وفا نہ ہوا جس کی وجہ سے مسلم لیگ ق میں بے چینی پائی جاتی ہے، حکومتی کمیٹی کے وفد نے چند روز قبل ق لیگ سے ملاقات کی تھی اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے مسلم لیگ ق کے تحفظات کو جائز قرار دیا تھا.

    قبل ازیں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ایک کمیٹی بنتی ہے ،دوسری ڈالی جاتی ہے، اب حکومت کی نئی کمیٹی سامنے آگئی ، پہلی کمیٹی سے مذاکرات کےبعدمعاملات میں بہتری آئی،

    پرویز الہیٰ کا مزید کہنا تھا کہ اتحادیوں کو سوتن نہیں سمجھا چاہئے، حکومت کو نقصان پہنچا تو ہمیں بھی پہنچے گا، چاہتے ہیں حکومت اپنی مدت پوری کرے، حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، جس کے ساتھ چلتے ہیں نیک نیتی کے ساتھ چلتے ہیں، موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو اچھے طریقے سے اجاگر کیا، وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کا کیس احسن طریقے سے لڑا

    وزیراعظم عمران خان نے حکومت کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ رابطے کے لئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دیں۔

    اس حوالے سے فیصلہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے اٹھائے گئے معاملات کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا جو  وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی جماعتوں کے ساتھ رابطوں کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    پانچ کمپنیوں میں 19 کروڑ کی منتقلی،حمزہ شہباز نیب کو مطمئن نہ کر سکے

    شہباز شریف کو لائف ٹائم ایوارڈ برائے کرپشن دیا جائے: شہباز گل

    حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کے خلاف درخواست دائر

    آٹے کا بحران، حکومتی اتحادی بھی حکومت سے نالاں، بڑا مطالبہ کر دیا

    وزیراعظم عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ رابطوں کا یہ عمل مزید مضبوط اور باضابطہ ہونا چاہئے تاکہ تمام حکومتی اتحادیوں کے درمیان رابطوں میں کسی قسم کی کمی نہ رہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف کی مختلف کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کے ساتھ رابطے کے لئے تشکیل دی گئی کمیٹی میں اسد عمر (کنوینر)، عمران اسماعیل، فردوس شمیم نقوی اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ رابطے کے لئے تشکیل دی گئی کمیٹی میں چوہدری محمد سرور (کنوینر)، سردار عثمان بزدار اور شفقت محمود شامل ہیں۔ اسی طرح بی اے پی، بی این پی اور جے ڈبلیو پی کے ساتھ رابطے کے لئے تشکیل دی گئی کمیٹی میں پرویز خٹک (کنوینر)، قاسم سوری اور میر خان محمد جمالی شامل ہیں۔

  • مریم نواز ان ای سی ایل، درخواست پر سماعت کیوں نہ ہو سکی؟

    مریم نواز ان ای سی ایل، درخواست پر سماعت کیوں نہ ہو سکی؟

    مریم نواز ان ای سی ایل، درخواست پر سماعت کیوں نہ ہو سکی؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر آج سماعت نہ ہو سکی.

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نوازنے ای سی ایل سے نام نکلوانے کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، مریم نواز کی بیرون ملک جانے کی اجازت کیلئے درخواست پر سماعت آج ہونا تھی تاہم دو رکنی بنچ کی عدم دستیابی کی وجہ سے آج نہیں ہوگی،مریم نواز کی درخواست پر سماعت کیلئے نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    گزشتہ سماعت پر جسٹس طارق عباسی نے دوران سماعت استفسار کیا کہ مریم نواز کیوں ملک سے باہر جانا چاہتی ہیں؟ جس پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ مریم نواز کے والد بیمار ہیں تیمارداری کے لیے جانا چاہتی ہیں، عدالت نے کہا کہ نواز شریف کو اٹینڈ کرنے والا کوئی نہیں؟ انکے رشتے دار برطانیہ میں موجود تو ہیں،

    تیسری درخواست میں مریم نواز نے کہا کہ والد کی طبعیت دن بدن ناساز ہوتی جا رہی ہے . نواز شریف کی تازہ رپورٹس میں میں ان کے امراض میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری سے متعلق مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا لہذا میرا ان کے پاس موجود ہونا اشد ضروری ہے۔

    مریم نواز نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ عدالت میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد والد کی تیمارداری کےلیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے۔

    اس سے قبل مریم نواز نے 7 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ میں ایل سی ایل سے نام نکلوانے کی درخواست جمع کروائی تھی۔ جس کے بعد 9 دسمبر کو جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے حکومت کی نظرثانی کمیٹی کو 7 روز میں مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی نظرثانی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی تھی۔

    مریم نواز نے اپنے وکلا امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ کے ذریعے لایور ہائیکورٹ میں نئی درخواست دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ مریم نواز کا نام بغیر نوٹس دئیے ای سی ایل میں شامل کیا گیا جو ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے میمورنڈم کے منافی ہے۔

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    مریم نواز نے درخواست میں کہا عدالتی مہلت ختم ہونے کے باوجود حکومت نے اُن کا نام ام ای سی ایل سے نکالنے کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ مریم نواز نے استدعا کی کہ اُن کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے اور انہیں والد نواز شریف سے ملاقات کیلئے 6 ہفتوں کیلئے ایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔

    مریم نواز نے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا اقدام عدالت میں چیلنج کیا تھا اور ساتھ ہی اپنا پاسپورٹ واپس لینے کی استدعا کی تھی، بعد ازاں لاہورہائی کورٹ نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست وفاقی حکومت کی ریویو کمیٹی کو بھجوا دی تھی اور سات دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔تاہم وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے ذیلی کمیٹی کے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کی فیصلے کی توثیق کردی تھی، جس کے بعد مریم نواز نے دوبارہ نام ای سی ایل سے نکالنے اور پاسپورٹ واپسی کی درخواست دائر کی تھی۔جس پر عدالت نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا حکومت نام شامل کرنے پر جواز پیش کرے

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    پانچ کمپنیوں میں 19 کروڑ کی منتقلی،حمزہ شہباز نیب کو مطمئن نہ کر سکے

    شہباز شریف کو لائف ٹائم ایوارڈ برائے کرپشن دیا جائے: شہباز گل

    حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کے خلاف درخواست دائر

    مریم نواز کو والد نواز شریف کی تیمار داری کے لئے ضمانت منظور کی گئی تھی تا ہم نواز شریف  لندن جا چکے ہیں،  لاہور ہائیکورٹ نے  فیصلہ سناتے ہوئے مریم نواز کی چودھری شوگر ملز میں درخواست ضمانت منظور کی تا ہم عدالت نے فیصلے میں یہ حکم بھی دیا کہ مریم نواز اپنا پاسپورٹ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو جمع کروائیں گے .عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر مریم نواز پاسپورٹ جمع نہیں کروانا چاہتی تو 7 کروڑ روپے زرضمانت جمع کرنا ہو گا ، مریم نواز کا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے مریم پاکستان میں ہیں اور اب وہ لندن جانا چاہتی ہیں اسی لئے انہوں نے عدالت میں تیسری درخواست دائر کی ہے

  • ن لیگی رکن قومی اسمبلی کو کیا نیب نے طلب، آج ہو گی پیشی

    ن لیگی رکن قومی اسمبلی کو کیا نیب نے طلب، آج ہو گی پیشی

    ن لیگی رکن قومی اسمبلی کو کیا نیب نے طلب، آج ہو گی پیشی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رہنما مسلم لیگ ن رانا ثنااللہ کو آج نیب نے طلب کر رکھا ہے، رانا ثناء اللہ کی آج نیب میں پیشی ہو گی،رانا ثناءاللہ سے2001 سے 2018 تک کے تمام اثاثوں کی تفصیلات مانگی گئی ہیں

    رانا ثنااللہ اور ان کے فیملی اراکین کو موصول غیر ملکی ترسیلات کی تفصیلات لانے کو کہا گیا ہے ،نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سیاست میں آنے سے قبل اور بعد کے اثاثوں کی تفصیلات ہمراہ لائیں،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں بھی مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا ثنااللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائرکر دی گئی،راناثنااللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواست نےاے این ایف نےدائر کی،ضمانت منسوخی کی درخواست 17 صفحات پر مشتمل ہے ،

    رانا ثناء اللہ کی ضمانت منظور، رانا کی اہلیہ اور ن لیگی رہنماؤں نے بڑے سوالات اٹھا دیئے

    رانا ثناء اللہ ایک بار پھرمشکل میں پھنس گئے، حکومت نے اب کیا کیا؟ جان کر ہوں حیران

    رانا ثناء اللہ نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کوجیل سے لکھا خط، کیا کہا؟

    رانا ثناء اللہ کی ضمانت، شہر یار آفریدی میدان میں آ گئے، بڑا اعلان کر دیا

    واضح رہے کہ منشیات کیس میں رانا ثناء اللہ چھ ماہ کے بعد رہا ہوئے تھے ،منشیات کیس میں رہائی پانے والے رکن قومی اسمبلی ،مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اس مقدمے کا کوئی سر اور پاؤں نہیں ہے۔ جن حالات میں مجھے جیل میں رکھا گیا، اس کا ذکر نہیں کروں گا۔ میری چھ ماہ بعد ضمانت ہوئی لیکن پورا انصاف نہیں ہوا۔ جن لوگوں نے جھوٹا مقدمہ درج کرایا اللہ کا قہر اور غضب ان پہ نازل ہو ، اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پہ اللہ کا قہر اور غضب نازل ہو

  • اتحادیوں سے ایسی اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے، گورنر پنجاب کا اعتراف

    اتحادیوں سے ایسی اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے، گورنر پنجاب کا اعتراف

    باغی ٹی وی : اتحادیوں سے اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے . گورنر پنجاب چودھری سرورنے کہا ہے کہ ہم آئندہ انتخابات میں بھی ق لیگ کے ساتھ اتحادی رہیں گے، اتحادیوں کےساتھ اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے، یہ سیاست کا حسن ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسی اتحادی نے نہیں کہا کہ حکومت کو گرانا چاہتے ہیں، ملک میں جمہوری روایات کو مزید پختہ ہونا ہے، ہم نے آگے بڑھنا ہے، پیچھے مڑکر نہیں دیکھنا۔

    انہوں نے کہا کہ چودھری برادران کے ساتھ پرانے اوراچھے تعلقات ہیں، چودھری پرویزالہٰی نے میرے بارے میں کوئی بات نہیں کی بلکہ انہوں نے تومثبت بات کی کہ اتحاد ٹوٹنے سے ملک کو نقصان ہوگا۔چودھری سرور نے کہا کہ معیشت کا سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اکاوَنٹ خسارہ تھا،اب عالمی ادارے پاکستانی معیشت کے مستحکم ہونے کا اعتراف کررہے ہیں۔ رواں سال ہماری توجہ گڈ گورننس اورمہنگائی کےخاتمےپرہے۔

  • لاہور جم خانہ کلب کے سالانہ انتخابات 2020ء مکمل، ڈاکٹر جواد ساجدسب سے زیادہ ووٹ لے کر سرفہرست

    لاہور جم خانہ کلب کے سالانہ انتخابات 2020ء مکمل، ڈاکٹر جواد ساجدسب سے زیادہ ووٹ لے کر سرفہرست

    لاہور جم خانہ کلب کے سالانہ انتخابات 2020ء مکمل، ڈاکٹر جواد ساجدسب سے زیادہ ووٹ لے کر سرفہرست

    باغی ٹی وی : لاہور جم خانہ کلب کے سالانہ انتخابات 2020ء مکمل ہوگئے۔ گزشتہ روز جم خانہ کلب میں ہونے والے ان انتخابات میں کامران لاشاری گروپ اور میاں مصباح الرحمان گروپ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ ہفتے کی صبح ہونے والے انتخابات میں ووٹنگ کا عمل صبح نو بجے شروع ہو کر شام 6 بجے تک جاری رہا. سب سے زیادہ ووٹ ڈاکٹر جواد ساجد خاں نے حاصل کیے ،انہوں نے 1795ووٹ حاصل کیے دوسرے نمبر پر میاں مصباح الرحمان نے 1782 ووٹ حاصل کیے ، ووٹ حاصل کرنے والوں کی بالترتیب لسٹ یہ ہے.

    لاہور جم خانہ کے انتخابات میں میاں مصباح الرحمان پینل میں ڈاکٹرجوادساجد، میاں مصباح الرحمان، ڈاکٹرعلی رزاق، سمیرامعروف خان، میاں پرویز، سرمدندیم، آغاعلی امام، زاہد ندیم، پرویز بشیرآغا، پروفیسرمجیدچودھری، واجدعزیزخان اورتیمورعظمت جبکہ کامران لاشاری گروپ میں کامران لاشاری ،خواجہ عمران زبیر، شوکت جاوید، سمیع الرحمان خان، احسن سعید میاں، میاں جاوید ظہور، ڈاکٹرآصف کاظمی، قمرخان بوبی، سید طیب حسین رضوی، رابعہ سلمان، ظل الٰہی اورپروفیسرڈاکٹرعفت بتول مد مقابل تھے۔

    دونوں گروپوں کے امیدواروں اور سپورٹروں کی جانب سے ووٹرز کا استقبال کیا گیا ۔