بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بہن علیمہ خان نے خیبر پختونخوا کے بجٹ کی منظوری کے معاملے پر پارٹی رہنماؤں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کی منظوری سے قبل بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ضروری ہے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک موقع پر جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کا ذکر کیا تو علیمہ خان نے فوری طور پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بجٹ منظوری کی جلدی کیوں کی جا رہی ہے اور اس سے پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیوں نہیں کروائی جا رہی۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے گزشتہ سال بھی خواہش ظاہر کی تھی کہ بجٹ سے متعلق امور ان کے ساتھ زیر بحث لائے جائیں۔ ان کے مطابق اس مرتبہ بھی بجٹ کی منظوری سے قبل انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا موقع دیا جانا چاہیے تاکہ اہم مالی اور سیاسی معاملات پر ان کی رائے حاصل کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے بانی کو سیاسی اور انتظامی معاملات سے الگ رکھنا مناسب نہیں اور انہیں اہم فیصلوں کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول پارٹی کارکنان اور رہنما بھی اس خواہش کا اظہار کر رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو موجودہ صورتحال سے آگاہ رکھا جائے۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو تنہا رکھا گیا ہے، جو ان کے مطابق غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان سے ملاقاتوں کے حوالے سے عائد پابندیوں میں نرمی کی جائے اور انہیں اپنے قانونی اور سیاسی حقوق استعمال کرنے کا موقع دیا جائے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری اور منظوری کے عمل میں مصروف ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بجٹ اور پارٹی امور کے حوالے سے یہ معاملہ تحریک انصاف کے اندرونی معاملات میں بھی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومتی اور قانونی حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی سرگرمیوں اور بجٹ کی تیاریوں پر مختلف حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔
Category: لاہور
-

علیمہ خان کی بجٹ منظوری پر اعتراض، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ
-

لاہور ہائیکورٹ:بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج
لاہور ہائیکورٹ نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج کردی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کردیا،عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002 میں ہوئی تھی جب کہ 2005 میں طلاق ہوگئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ خاتون نے 2019 میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کرسکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے، کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جب کہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا،لاہور ہائیکورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
-

گھریلو ملازمہ کی مبینہ گینگ ریپ ، اسقاط حمل کے دوران ہلاکت، مالکان کو دوبارہ شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ
لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی اور اسقاط حمل کے بعد گھریلو ملازمہ کی ہلاکت کے مقدمے میں دفعہ 302 شامل کیے جانے کے بعد مالکان کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مرنے سے قبل ویڈیو بیان میں لڑکی نے بتایا کہ نومبر2025 میں حاملہ ہونے کا انکشاف ہوا جس کے بعد اس نے یہ والدین کو بھی بتایا لڑکی کےتحریری اور ویڈیو بیان پر اجتماعی زیادتی کامقدمہ درج کیا گیا ہے، مقدمے میں قتل کی دفعات کا اضافہ بھی کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق کیس کی ازسرِ نو تفتیش کے لیے مالکان کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ قتل کی دفعات شامل ہونے پر تفتیش جینڈر سیل سے انویسٹی گیشن ونگ کو منتقل کر دی گئی ہے، مالکان کو متاثرہ لڑکی کے عدالتی بیان کے بعد زیادتی کی دفعات میں بے گناہ قرار دیا گیا تھا کیس کی رپورٹ مر تب کرکے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو بھجوا دی گئی ہےمبینہ زیادتی کے مقدمے میں ایک ملزم ڈرائیور حسن گرفتار ہو چکا ہے، جسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا جا چکا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ ملازمہ نے انتقال سے قبل عدالت میں دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرایا تھا، تاہم اس بیان میں اس نے مالکن کے بیٹے کو ملزم قرار نہیں دیا اسقاط حمل کے ڈیڑھ ماہ بعد لڑکی کی طبیعت فیصل آباد میں خراب ہوئی، جس کے بعد اسے علاج کے لیے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا۔
لاہور پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ موت کی حتمی وجوہات کا تعین کرے گی، جبکہ اسقاط حمل کے لیے آپریشن کرنے والے نجی اسپتال کے خلاف شواہد ملنے پر کارروائی کی جائے گی معاملے کی تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی اور جینڈر سیل کی غفلت سامنے آنے کی صورت میں محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
-

لاہور ایئرپورٹ پہنچنے والی سوئس خاتون لاپتہ، اغوا کا مقدمہ درج
لاہور ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ایک سوئس خاتون کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر پولیس نے خاتون کے شوہر کی درخواست پر اغوا کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ واقعے نے سیکیورٹی اور خاتون کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ خاتون کے شوہر، جو نیپال کے شہری ہیں، کی شکایت پر درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی اہلیہ صوفیہ ماریا ملر لاہور ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد نامعلوم افراد کے ہاتھوں مبینہ طور پر اغوا ہو گئی ہیں۔
شکایت کنندہ کے مطابق صوفیہ ماریا ملر کے لاہور پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ان کا موبائل فون بند یا ناقابلِ رسائی ہو گیا، جس کے بعد ان سے کسی قسم کا رابطہ ممکن نہیں رہا۔ موبائل فون بند ہونے اور خاتون کے اچانک لاپتہ ہونے پر اہل خانہ میں تشویش پیدا ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق شوہر نے لاہور ایئرپورٹ حکام اور متعلقہ پولیس چوکی سے رابطہ کرکے خاتون کی گمشدگی کی اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور خاتون کی تلاش کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، سفری ریکارڈ اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ خاتون کی آخری نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا سکے۔
حکام کے مطابق ابھی تک واقعے کی نوعیت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ خاتون کے لاپتہ ہونے کے پس منظر میں کیا عوامل کارفرما تھے۔
پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ تحقیقات کے ذریعے جلد حقائق سامنے آ جائیں گے اور خاتون کا سراغ لگا لیا جائے گا۔ اس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام ممکنہ پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات آگے بڑھا رہے ہیں۔ -

جناح اسپتال واش روم واقعہ، تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین غفلتوں کا انکشاف
کراچی کے جناح اسپتال میں واش روم میں بچے کی پیدائش کے مبینہ واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں انتظامی اور طبی سطح پر متعدد سنگین کوتاہیوں اور غفلتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون رات تقریباً ساڑھے نو بجے جناح اسپتال کے شعبہ امراضِ نسواں میں پہنچی تھیں، تاہم انہیں بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ کمیٹی نے اپنی تحقیقات میں یہ بات سامنے لائی کہ مریضہ کا ضروری طبی معائنہ اور دیکھ بھال وقت پر نہیں کی گئی جس کے باعث صورتحال سنگین ہوتی گئی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ خاتون کا الٹراساؤنڈ نہیں کیا گیا، حالانکہ طبی تشخیص کے لیے یہ ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق مریضہ کو طبی سہولت فراہم کرنے کے بجائے صرف چلنے کا مشورہ دیا گیا۔
کمیٹی نے اسپتال کے انتظامی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت متعلقہ کنسلٹنٹ اور ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر (آر ایم او) اپنی ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، جس سے مریضہ کی دیکھ بھال اور بروقت فیصلوں کا عمل متاثر ہوا۔
رپورٹ میں شعبہ امراضِ نسواں کے حساس علاقے میں غیر مجاز مرد افراد کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے اسپتال کے ضابطوں اور مریضوں کی رازداری کے اصولوں کے خلاف قرار دیا گیا۔ کمیٹی نے اس معاملے کو بھی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے مناسب نگرانی نہ ہونے کی نشاندہی کی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے اسپتال کے سیکیورٹی انتظامات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی کے نظام میں موجود خامیوں کے باعث مختلف انتظامی اور طبی مسائل پیدا ہوئے، جن کے فوری حل کی ضرورت ہے۔ -

پنجاب کا آئندہ بجٹ ٹیکس فری ہونے کا امکان
پنجاب حکومت کے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق صوبائی بجٹ کو عوام دوست اور ٹیکس فری رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے موجودہ محصولات کے نظام کو مؤثر بنا کر آمدن میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کی مجموعی ٹیکس وصولیاں آئندہ مالی سال میں تقریباً 712 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ان محصولات میں سب سے بڑا حصہ جی ایس ٹی آن سروسز کا ہوگا، جس سے 320 ارب روپے آمدن حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
بجٹ تخمینوں کے مطابق ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 128 ارب روپے وصول ہونے کا امکان ہے، جبکہ اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس سے 90 ارب روپے حاصل کیے جانے کا ہدف مقرر کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سیلز ٹیکس سے 82 ارب روپے اور موٹر وہیکل ٹیکس سے 47 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی سے متعلق ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں سے 35.2 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ لینڈ ریونیو کی مد میں 1.7 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ اور مقامی حکومتوں کے منصوبوں کے لیے 550 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
آئندہ بجٹ میں کسانوں، طلبہ اور مزدور طبقے کے لیے جاری فلاحی پروگراموں کو برقرار رکھنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق کسانوں کو ٹریکٹرز، سولر ٹیوب ویلز، معیاری بیج، کھاد اور زرعی قرضوں پر سبسڈی فراہم کرنے کی تجاویز شامل کی جا رہی ہیں تاکہ زرعی شعبے کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
تعلیمی شعبے میں بھی متعدد منصوبوں کو جاری رکھنے کا امکان ہے۔ ہونہار اسکالرشپ پروگرام اور طلبہ کے لیے الیکٹرک بائیک اسکیم کو برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے نوجوانوں کو تعلیم اور سفری سہولتوں میں مدد ملے گی۔
ذرائع محکمہ خزانہ کے مطابق جنوبی پنجاب کی ترقی کے لیے مختص فنڈز کی موجودہ پالیسی برقرار رکھنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کے تحت صوبائی ترقیاتی بجٹ کا کم از کم 35 فیصد حصہ جنوبی پنجاب کے منصوبوں کے لیے مختص کیا جائے گا تاکہ پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ -

انمول پنکی کے مبینہ سہولت کاروں کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ
کراچی میں منشیات اسمگلنگ کے ایک اہم مقدمے میں پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے دو اہم سہولت کاروں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے سیشن عدالت سے رجوع کر لیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواستِ ضمانت پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جیل میں قید ملزمہ انمول عرف پنکی کے مبینہ ساتھیوں سہیل الرحمان اور ذیشان نے سیشن عدالت جنوبی میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ دونوں ملزمان کے خلاف کراچی کے تھانہ گارڈن میں منشیات فروشی اور مبینہ سہولت کاری کا مقدمہ درج ہے۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلان بے قصور ہیں اور ان کا انمول عرف پنکی یا کسی منشیات کے نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، اس لیے انہیں ضمانت دی جائے۔
دوسری جانب سرکاری وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمان مبینہ طور پر انمول پنکی کے نیٹ ورک کے اہم کردار ہیں۔ استغاثہ کے مطابق انمول پنکی کے جیل میں ہونے کے باوجود اس کا نیٹ ورک بیرونِ جیل فعال رہا اور اس میں سہیل الرحمان اور ذیشان کا کردار انتہائی اہم بتایا جا رہا ہے۔
سرکاری وکیل نے عدالت سے مؤقف اپنایا کہ ملزمان کی گرفتاری تفتیش کے لیے ضروری ہے اور انہیں ضمانت دینا تحقیقات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ عدالت نے دونوں جانب کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
عدالتی ذرائع کے مطابق محفوظ فیصلہ رواں ہفتے سنائے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ ملزمان کو ریلیف ملتا ہے یا انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔
یاد رہے کہ انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات اسمگلنگ اور منشیات کے مبینہ نیٹ ورک چلانے کے الزامات کے تحت مختلف مقدمات زیرِ تفتیش ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ -

پنجاب میں آندھی کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق آج لاہور اور سینٹرل پنجاب میں موسم ابر آلود رہے گا جبکہ گرد آلود ہوائیں چلیں گی اور ہلکی بارش کے امکان ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مغرب سے کم ہواؤں کے بادلوں کا سلسلہ پاکستان میں داخل ہوگیا جس کے سبب 2 سے 5 جون تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش کا امکان ہے راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، جہلم، چکوال، بھکر، لیہ، فیصل آباد، جھنگ، اوکاڑہ، گجرانوالہ اور حافظ آباد میں بارش کا امکان ہے لاہور، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، جھنگ، سرگودھا، میانوالی، شیخوپورہ، خوشاب اور منڈی بہاالدین میں بھی بارشوں کی پیشگوئی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات کے پیش نظر صوبے بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید کے مطابق آسمانی بجلی سے بچاؤ کے لیے محفوظ مقامات پر رہیں، آسمانی بجلی کی گرج چمک کے دوران کھلے مقامات تلے ہرگز نہ جائیں کسان اپنی تمام تر پیشگی اقدامات موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں جبکہ سیاح شمالی علاقہ جات کے سفر میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، صوبہ بھر کی ضلعی انتظامیہ اور واسا نے اپنے اپنے طور پر بروقت ممکنہ بارش سے قبل انتظا مات مکمل کر لیے ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نے بھی ممکنہ بارش کے پیش نظر آپریشنل اسٹاف کو بارش کے دوران فیلڈ میں رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہیں ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔
-

سیاسی حمایت کے بغیر کوئی معاشی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا،شاہ محمود قریشی
پی ٹی آئی وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نےجیل سے وکیل رانا مدثر کے زریعے بیان میں کہا ہے کہ بجٹ 2026-27 اپوزیشن کی شرکت یا عدم شرکت کے باوجود منظور ہو جائے گا،
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سیاسی تقسیم کے ماحول میں آئی ایم ایف کی شرائط سے نجات مشکل دکھائی دیتی ہے، پاکستان کو معاشی و سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے، سیاسی قیادت اور معاشی ماہرین کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر مشترکہ ایجنڈا اپنانا ہوگا ،سیاسی حمایت کے بغیر کوئی معاشی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا،بجٹ تو منظور ہو جائے گا لیکن عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ایک بار پھر ناکامی ہوگی، بجٹ 2026-27 آئی ایم ایف کی شرائط، مشاورت اور مقررہ اہداف کے تحت تیار کیا جا رہا ہے، پارلیمنٹ بجٹ دستاویز پر محض ربڑ اسٹیمپ کا کردار ادا کرے گی،
-

مومنہ اقبال کی مہندی کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل
اداکارہ مومنہ اقبال کی مہندی کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔
مومنہ اقبال نے اپنی مہندی کی تقریب کی جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جن میں وہ نہایت خوبصورت اور روایتی انداز میں نظر آئیں، تقریب کے لیے اداکارہ نے سنہری کتان سلک سے تیار کردہ دیدہ زیب لہنگے کا انتخاب کیا، جس پر نہایت نفیس ٹون آن ٹون کڑھائی کی گئی تھیجبکہ ان کے ہمراہ دلہا حمزہ حبیب سیاہ رنگ کی شیروانی میں دکھائی دیے جس پر سنہری کام کیا گیا تھا، جبکہ دونوں نے رنگ برنگی کشیدہ کاری والی روایتی شال کے ساتھ تصاویر بنوا کر تقریب کے حسن کو مزید بڑھا دیا۔
تصاویر کے ساتھ مومنہ اقبال نے اپنے شوہر حمزہ حبیب کے نام ایک محبت بھرا پیغام بھی تحریر کیا، انہوں نے مختصر مگر جذباتی انداز میں ’’میرے حمزہ‘‘ لکھا، جسے مداحوں نے بے حد پسند کیا اور کمنٹس میں نیک خواہشات اور مبارکبادوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
مہندی کی تقریب میں مومنہ اقبال نے رسٹ رنگ کا خوبصورت لہنگا چولی زیب تن کیا، جس پر سنہری زردوزی اور ٹلہ ورک نے لباس کو خاص کشش بخشی، اس کے ساتھ جامنی رنگ کے خوبصورت دوپٹے نے ان کے برائیڈل لک کو مزید نمایاں کیا روایتی زیورات، ہاتھوں پر سجی مہندی اور سنہری چوڑیوں نے ان کی شخصیت میں دلکشی کا اضافہ کیا اور انہیں ایک روایتی پاکستانی دلہن کا منفرد روپ عطا کیا۔
واضح رہے کہ مومنہ اقبال گزشتہ دنوں اپنی شادی سے قبل ایک تنازع کے باعث بھی خبروں کی زینت بنی رہی تھیں، تاہم ان تمام حالات کے باوجود انہوں نے حمزہ حبیب کے ساتھ اپنی شادی کی تقریبات کا آغاز کیا اور اب ان کی شادی کی مختلف تقریبات خوشگوار ماحول میں جاری ہیں سوشل میڈیا پر مداح اور شوبز شخصیات اس نو بیاہتا جوڑی کو مبارکباد دے رہے ہیں-