Baaghi TV

Category: لاہور

  • غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی و اغوا کیس میں نیا موڑ، حادثے کا الگ مقدمہ بھی درج

    غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی و اغوا کیس میں نیا موڑ، حادثے کا الگ مقدمہ بھی درج

    لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اغوا میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی گاڑی سے پیش آنے والے ٹریفک حادثے کے بعد متاثرہ گاڑی کے مالک نے بھی الگ مقدمہ درج کرا دیا ہے،

    پولیس کے مطابق حادثے کا مقدمہ گاڑی کے ڈرائیور عثمان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے بھٹہ چوک کی جانب جا رہا تھا کہ ائیرپورٹ روڈ پر ایک تیز رفتار گاڑی نے اس کی گاڑی کو ٹکر مار دی۔ تصادم کے نتیجے میں اس کی گاڑی کو تقریباً تین لاکھ روپے مالیت کا نقصان پہنچا، جبکہ حادثے کے فوراً بعد دوسری گاڑی کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔مقدمے کے متن کے مطابق عثمان نے فوری طور پر ایمرجنسی ہیلپ لائن ون فائیو پر اطلاع دی، جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی۔ حادثے کے دوران گاڑی میں موجود غیر ملکی خواتین باہر نکل کر اپنی جان بچانے کے لیے قریبی دکان میں پناہ لینے میں کامیاب ہوئیں۔

    دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا کیس میں اب تک آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی اور اس کے مالک کی بھی شناخت کر لی گئی ہے، جبکہ گرفتار ملزمان کا تعلق لاہور، سرگودھا اور دیگر علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔ڈی آئی جی کے مطابق پولیس نے جس مکان پر چھاپہ مارا، وہاں چند نوجوان کرائے پر مقیم تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ مکان میں رہنے والوں میں سے کوئی شخصیت نائب وزیراعظم کا رشتہ دار ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے تصدیق کے لیے متعلقہ خاندان سے رابطہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھی تمام صورتحال سے آگاہ کیا گیا، جنہوں نے واضح ہدایت دی کہ کیس کو مکمل طور پر میرٹ پر چلایا جائے اور جو بھی قصوروار ثابت ہو، اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔فیصل کامران نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ غیر ملکی خواتین خود اغواکاروں کے چنگل سے نکل کر محفوظ مقام تک پہنچی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کے بیانات کے مطابق انہیں پنجاب پولیس نے بازیاب کرایا۔ ان کے مطابق ایک ملزم رضا ڈار خواتین کو گاڑی میں ائیرپورٹ لے جا رہا تھا کہ بھٹہ چوک کے قریب خواتین نے مزاحمت کی، جس کے دوران ملزم سے ہاتھا پائی ہوئی اور گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی۔

    ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ حادثے کے بعد خواتین نے گاڑی سے چھلانگ لگا کر قریبی اسٹور میں پناہ لی، جہاں سے پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں بحفاظت ریسکیو کیا۔ انہوں نے کہا کہ دو خاتون ایس پیز نے متاثرہ غیر ملکی خواتین کو اعتماد میں لے کر طبی معائنے کے لیے آمادہ کیا، جس کے بعد قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

  • دو غیر ملکی خواتین کا مبینہ اغوا اور زیادتی ، کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا ،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور

    دو غیر ملکی خواتین کا مبینہ اغوا اور زیادتی ، کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا ،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے انکشاف کیا کہ دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کا پس منظر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا۔

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کا پس منظر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا سنگاپور میں ملنے کے بعد ملزم رضا ڈار نے خواتین سے رقم کا مطالبہ کیا اور ڈیفنس میں انہیں حبس بے جا میں رکھا پولیس نے کارروائی کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے-

    خواتین اور مرکزی ملزم رضا ڈار (مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار کے قریبی رشتے دار کے درمیان سنگاپور میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کے حوالے سے لاکھوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کا معاملہ تھا۔جب خواتین لاہور واپس آئیں تو ملزم نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انہیں ڈیفنس کے علاقے میں کرائے کے مکان میں یرغمال بنایا اور مبینہ طور پر تشدد و زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی متاثرہ خاتون کے والد نے بیرون ملک سے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لے کر گاڑی کو ٹریس کیا اور دونوں خواتین کو بحفاظت بازیاب کرا لیا، پولیس نے مرکزی ملزم رضا ڈار سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر کے کینٹ کچہری کی عدالت میں پیش کیا، جہاں سے عدالت نے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، میڈیکل رپورٹ میں بھی ایک خاتون سے زیادتی ثابت ہوئی ہے۔

    دوران پریس کانفرنس ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہاکہ پہلی کال سیف سٹی پر آئی ، سیف سٹی کال کے ایکشن کے بعد یہ ہوا، اس کے بعدوہ لوگ گھر سےتتربترہوئے،اس کی وجہ سے وہ گاڑی وہاں سے نکلی،اس کال کا ٹائم چیک کرلیں،7بج کر 18منٹ کی کال سے پہلے اے ایس پی کی وہاں موجودگی ہے، اے ایس پی کا لڑکی سے رابطہ ہے،یہ چیپٹرتوکلوز ہو جاتا ہے،ہم لائیو لوکیشن اور ٹھوس ثبوت آپ کے سامنے رکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ قیاس آرائی تھی جس کو پوری سٹوری نہیں پتہ تھی اس نے وہاں سے سٹوری شروع کی۔

    فیصل کامران نے کہا کہ غیر ملکی خواتین کی معاونت کے لیے پولیس نے متعلقہ سفارت خانوں سے رابطہ کیا انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے اسپین کے سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا جب کہ متاثرہ خواتین میں شامل ایک خاتون وینزویلا کی شہری ہے، جس کا سفارت خانہ پاکستان میں موجود نہیں ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق متاثرہ خواتین کی سہولت اور اعتماد کے لیے خواتین پولیس افسران کو ان کے ساتھ تعینات کیا گیا اور انہیں طبی معائنے کے لیے آمادہ کیا گیاہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کے مرحلے پر کچھ دشواری پیش آئی، تاہم سفارت خانے کے حکام سے ہونے والی تمام گفتگو پولیس کے ریکارڈ میں موجود ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ایک روز مزید لاہور میں قیام پر آمادہ کیا گیا، جس کے بعد اگلے روز انہیں عدالت میں پیش کر کے دفعہ 164 کے تحت ان کے بیانات ریکارڈ کرائے گئے۔ بعد ازاں ملزمان کا ریمانڈ حاصل کر کے مزید تفتیش شروع کی گئی۔

    واضح رہے کہ خواتین نے اپنے بیانات میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزم رضا ڈار نے انہیں دھمکانے کے لیے باس نامی شخص کو موقع پر بلایا تھا جو اپنے گن مینوں کے ساتھ موقع پر پہنچا تھا اور اسی نے قتل سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ غیر ملکی خواتین کے بیانات میں جس شخص کو ’باس‘ کہا گیا تھا، اس کا اصل نام وحید ہے اب تک اس مقدمے میں 8ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ ’باس‘ کے نام سے سامنے آنے والے کردار وحید کے خلاف پہلے سے8 مقدمات درج ہیں۔

    فیصل کامران کا کہنا تھا کہ جب کسی بااثر شخصیت کا رشتہ دار کسی مقدمے میں ملوث ہو تو متعلقہ حکام سے رابطہ کرنا ضروری ہوتا ہےتفتیش کے دوران جب یہ معلوم ہوا کہ ایک ملزم ملک کے ڈپٹی وزیراعظم کا رشتہ دار ہے تو اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے پر انہیں ہدایت دی گئی کہ قانون کے مطابق بلا امتیاز کارروائی کی جائے، جس کے بعد تحقیقات جاری ہیں۔

    ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید بتایا کہ اس مقدمے کے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی رابطہ کیا اور ہدایت کی کہ کیس کی تفتیش اور کارروائی مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پولیس کسی جج کے گھر پر چھاپہ مارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی ان کے مطابق جج کے گھر جانے پر متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کر کے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔

  • ہیلمٹ نہ پہننے والوں کی موٹرسائیکلیں بند کرنے کا فیصلہ

    ہیلمٹ نہ پہننے والوں کی موٹرسائیکلیں بند کرنے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نےہیلمٹ نہ پہننے والے موٹرسائیکل سواروں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر لاہور میں ہیلمٹ کے استعمال کو سو فیصد یقینی بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے باضابطہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں ٹریفک حکام کے مطابق شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر موٹرسائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے جو افراد بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل چلاتے ہوئے پکڑے جائیں گے، ان کے خلاف چالان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی موٹرسائیکل بھی ایک دن کے لیے بند کر دی جائے گی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ہیلمٹ کی پابندی کے علاوہ لین لائن کی خلاف ورزی کرنے والے موٹرسائیکل سواروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جا رہی ہے اور ان کی موٹرسائیکلیں بھی بند کی جا رہی ہیں گزشتہ ایک ماہ کے دوران مختلف ٹریفک خلاف ورزیوں پر 20 ہزار سے زائد موٹرسائیکلیں بند کی جا چکی ہیں۔

    حکام نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد شہریوں کی جانوں کا تحفظ اور ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ہے انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے ہیلمٹ کا لازمی استعمال کریں اور ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں۔

  • دھواں چھوڑنےوالی گاڑیوں کےڈرائیورزکالائسنس معطل کرنے کا فیصلہ

    دھواں چھوڑنےوالی گاڑیوں کےڈرائیورزکالائسنس معطل کرنے کا فیصلہ

    لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کے حکم پر اسموگ تدارک کریک ڈاؤن جاری ہے،سی ٹی او لاہور نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے ڈرائیورز کا ڈرائیونگ لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور عبدالرحیم شیرازی کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے خلاف اب مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے جائیں گے۔

    سی ٹی او عبدالرحیم شیرازی کے مطابق کمرشل گاڑیوں کے معاملے میں بھی زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے ایسی گاڑیاں جو مقررہ ماحولیاتی معیار پر پورا نہیں اتریں گی، ان کے ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ساتھ روٹ پرمٹ بھی معطل کیے جائیں گے تاکہ فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بننے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

    انہوں نے بتایا کہ شہر میں بغیر ترپال ریت، مٹی یا تعمیراتی سامان لے جانے والی ٹرالیوں اور ڈمپرز کے داخلے پر بھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اگر کوئی گاڑی اس پابندی کی خلاف ورزی کرتی پائی گئی تو اس کے خلاف صرف جرمانہ ہی نہیں بلکہ مقدمہ بھی درج کیا جائے گا بغیر ترپال گاڑیوں سے اڑنے والی گرد و غبار سموگ میں اضافے کا اہم سبب بنتی ہے، جس کے خاتمے کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے۔

    سی ٹی او لاہور کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں اس عرصے میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 14 ہزار 378 گاڑیوں کے چالان کیے گئے، جبکہ سموگ کے تدارک کے لیے جاری خصوصی مہم کے دوران ایک ہزار 401 مقدمات بھی درج کروائے گئے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ بغیر ترپال ریت اور مٹی لے جانے والی گاڑیوں کے خلاف بھی بھرپور کارروائی کی گئی گزشتہ مالی سال میں ایسی 53 ہزار 599 گاڑیوں کو قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جنہیں جرمانے، چالان اور دیگر قانونی اقدامات کا سامنا کرنا پڑا، لاہور میں صاف ماحول کی فراہمی اور شہریوں کی صحت کا تحفظ ٹریفک پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے

    عبدالرحیم شیرازی ے گاڑی مالکان، ٹرانسپورٹرز اور کمرشل ڈرائیوروں پر زور دیا کہ وہ اپنی گاڑیوں کی بروقت فٹنس یقینی بنائیں، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی مرمت کرائیں اور تعمیراتی سامان کی نقل و حمل کے دوران ترپال کا لازمی استعمال کریں سموگ کے خاتمے کے لیے شروع کی گئی مہم آئندہ بھی بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی تاکہ لاہور کو فضائی آلودگی سے پاک اور شہریوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔

  • ہائیکورٹس میں آئینی بینچز کی فوری بحالی کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    ہائیکورٹس میں آئینی بینچز کی فوری بحالی کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    آئین کے آرٹیکل 202 اے کے تحت آئینی بینچز کو فوری طور پر فعال کرنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے-

    جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے چیئرمین اظہر صدیق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں وفاق، لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان، نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی سمیت وفاقی اور صوبائی حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ 2024 میں 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے باوجود لاہور، اسلام آباد، پشاور اور بلوچستان ہائیکورٹس میں تاحال آئینی بینچز قا ئم نہیں کیے گئے، جبکہ صرف سندھ ہائیکورٹ نے آرٹیکل 202 اے کے تحت مطلوبہ نظام پر خاطر خواہ عملدرآمد کیا ہےآرٹیکل 202 اے میں آئینی بینچز کے قیام کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر ہونے والی درخواستوں کی سماعت صرف انہی خصوصی بینچز کو کرنی چاہیے۔

    درخواست گزار کے مطابق آئینی بینچز کے قیام میں تاخیر سے ملک میں آئینی انصاف کا دوہرا نظام وجود میں آ گیا ہے، سندھ کے شہریوں کو خصوصی آئینی بینچز تک رسائی حاصل ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں آئینی مقدمات اب بھی عام بینچز کے سامنے سنے جا رہے ہیں، مؤثر اور فوری متبادل قانونی چارہ جو ئی نہ ہونے کے باعث عوامی مفاد میں لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔

    درخواست میں لاہور ہائیکورٹ کےکیس فائلنگ برانچ کے اس طریقہ کار کو بھی چیلنج کیا گیا ہےجس کے تحت درخواست کی باقاعدہ سماعت سے قبل قا بلِ سماعت ہونے، دائرہ اختیار، درخواست گزار کے قانونی حق (لوکس اسٹینڈی) اور متبادل قانونی چارہ جوئی جیسے نکات پر ابتدائی اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔

    درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ یہ تمام معاملات عدالتی نوعیت کے ہیں جن کا فیصلہ صرف جج ہی کر سکتے ہیں، انتظامی عملہ نہیں رجسٹری کی جانب سے اس نوعیت کی جانچ پڑتال انصاف تک رسائی میں غیر آئینی رکاوٹ ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10A اور 25 کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ درخواست میں پاکستان، بھارت اور برطانیہ کی عدالتی نظیروں کے ساتھ ساتھ عدلیہ کی آزادی سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

    درخواست میں عدالتی نظام میں ججوں کی شدید کمی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اس کے مطابق ملک بھر کی ہائیکورٹس میں منظور شدہ 200 ججوں کی آسا میو ں میں سے 76 خالی ہیں، جس کے باعث مقدمات کے مؤثر عدالتی انتظام کے بجائے انتظامی سطح پر چھان بین کا رجحان بڑھ گیا ہے لاہور ہائیکورٹ کو سب سے زیادہ دباؤ کا سامنا ہے، جہاں ایک لاکھ 98 ہزار 5 مقدمات زیر التوا ہیں، جو ملک بھر کی ہائیکورٹس میں زیر التوا مقدمات کا تقریباً 56.8 فیصد بنتے ہیں۔

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ وہ زیر التوا نمائندگیوں پر 30 روز کے اندر وجوہات پر مبنی تفصیلی فیصلے جاری کریں اور یہ قرار دیا جائے کہ مبہم یا غیر مدلل مراسلت آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کرتی، متعلقہ اداروں کو آرٹیکل 202 اے پر فوری عملدرآمد، تعمیلی رپور ٹس جمع کرانے اور عدالتی کارروائی میں انتظامی رکاوٹوں کے مستقل خاتمے کا حکم دیا جائے۔

  • مریم اورنگزیب کی امریکی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت

    مریم اورنگزیب کی امریکی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت

    سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے امریکی قونصلیٹ لاہور کے زیرِ اہتمام حضوری باغ میں منعقدہ امریکہ کے 250ویں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی-

    تقریب میں امریکی قونصل جنرل اسٹیٹسن سینڈرز، برطانوی ہائی کمیشن کے نمائندے بین وارنگٹن، یونیسیف پاکستان کے سربراہ رمیز بہدووز، ترکیہ کے قو نصل جنرل، مختلف ممالک کے سفارت کاروں، سیاسی و سماجی شخصیات اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے امریکی عوام اور حکومت کو یومِ آزادی کی مبارک باد پیش کی انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات باہمی اعتماد، تعاون اور امن کے اصولوں پر استوار ہیں دونوں ممالک سفارتی روابط کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی، سرمایہ کار ی، موسمیاتی تبدیلی، سیاحت اور دیگر اہم شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں، جبکہ حالیہ عرصے میں پاک امریکہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

    سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ دنیا نے حالیہ دنوں میں سفارت کاری کی اہمیت کا عملی مظاہرہ دیکھا، اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عالمی امن کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا، امریکہ جدت، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں نمایاں مقام رکھتا ہے، جبکہ امریکی نجی شعبہ پنجاب میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھی بھرپور دلچسپی لے رہا ہے۔

  • لاہور ہائیکورٹ میں موسم گرما کی تعطیلات کے پہلے ہفتے کا ججز روسٹر جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں موسم گرما کی تعطیلات کے پہلے ہفتے کا ججز روسٹر جاری

    لاہور ہائی کورٹ میں موسمِ گرما کی تعطیلات کے پہلے ہفتے کا ججز روسٹر جاری کر دیا گیا-

    روسٹر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم کی منظوری سے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے جاری کیا،روسٹر کا اطلاق 6 جولائی سے ہوگا لاہور ہائی کورٹ میں پرنسپل سیٹ پر پہلے ہفتے میں 6 ڈویژن بینچ اپیلوں پر سماعت کریں گے جبکہ 23 ججز بطور سنگل بینچ کیسز کی سماعت کریں گے۔

    چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ تمام نوعیت کی اپیلوں جبکہ جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ تمام نوعیت کی کریمنل اپیلوں پر سماعت کرے گا جبکہ جسٹس فیصل زمان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ تمام نوعیت کی سول اپیلوں اور جسٹس احمد ندیم ارشد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ تمام نوعیت کی سول اپیلوں پر سماعت کرے گا اس کے علاوہ جسٹس محمد طارق ندیم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ تمام نوعیت کی کریمنل اپیلوں اور جسٹس ملک اویس خالد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ تمام نوعیت کی سول اپیلوں پر سماعت کرے گا۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے ججز کی 10 خالی آسامیاں پر کرنے کیلئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے جوڈیشل کمیشن کو 11 نام ارسال کرد یے ہیں، ہائی کورٹ ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے 4 جولائی تک ناموں کی فہرست طلب کر رکھی تھی۔

  • لاہور پولیس نے نومولود کو دفنانے کی کوشش ناکام بنا دی، 3 ملزمان گرفتار

    لاہور پولیس نے نومولود کو دفنانے کی کوشش ناکام بنا دی، 3 ملزمان گرفتار

    لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک نومولود کو مبینہ طور پر دفنانے کی کوشش ناکام بنا دی اور اس سلسلے میں 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کی گئی، جس کے دوران ملزمان زمین میں گڑھا کھود کر نومولود کو دفنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ گرفتار افراد میں ایک مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے مبینہ اسقاط حمل سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔ تاہم واقعے کی مختلف پہلوؤں سے شفاف اور میرٹ پر تفتیش جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے اور قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • حنا پرویز بٹ کی سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر تنقید،جاہل کہہ دیا

    حنا پرویز بٹ کی سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر تنقید،جاہل کہہ دیا

    لاہور: رکنِ پنجاب اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے بعض معروف سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور فیملی وی لاگرز پر سخت تنقید کرتے ہوئے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دیں۔

    حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں یوٹیوبرز رجب بٹ، علی حیدر آبادی اور سمیع رشید کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ہمارے سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہیں، ان جاہلوں کو ہماری عوام فالو کرتی ہے۔ جو بچے ان کو فالو کرتے ہیں، وہ اپنی تربیت کا ستیاناس کر رہے ہیں۔والدین کو سوچنا ہوگا۔۔اپنے بچوں کو ان سے دور رکھیں.

    حنا پرویز بٹ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی، جہاں صارفین نے مختلف آراء کا اظہار کیا۔ بعض صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ والدین کو بچوں کے ڈیجیٹل استعمال اور آن لائن مواد پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ ان کی مثبت تربیت یقینی بنائی جا سکے۔دوسری جانب کئی صارفین نے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی انفلوئنسر کو ہدفِ تنقید بنانے کے بجائے والدین اور معاشرے کو بچوں کی رہنمائی اور ڈیجیٹل آگاہی پر توجہ دینی چاہیے۔ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ کسی بھی کانٹینٹ کریئیٹر کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت اس کے مجموعی مواد اور ناظرین کی ذمہ داری کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

  • زیر علاج بیٹی کے وارڈ سے زبردستی نکالے جانےپروالد کی ہسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ

    زیر علاج بیٹی کے وارڈ سے زبردستی نکالے جانےپروالد کی ہسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ

    لاہور میں واقع چلڈرن اسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ لگانے والا 28 سالہ شخص شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق زخمی شخص کی شناخت عمران صابر کے نام سے ہوئی ہے، جس کی کمسن بیٹی چلڈرن اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اسپتال کے سیکیورٹی گارڈز نے مبینہ طور پر عمران کو زبردستی وارڈ سے باہر نکال دیا، جس پر وہ شدید ذہنی دباؤ اور دل برداشتگی کا شکار ہو گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ عمران نے اسی حالت میں اسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجے میں اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔واقعے کے فوراً بعد زخمی شخص کو جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے سرجیکل ایمرجنسی میں داخل کر کے علاج شروع کر دیا گیا۔

    جنرل اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق عمران صابر کی حالت پہلے سے بہتر ہے اور اسے ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ اسپتال میں پیش آنے والے حالات اور سیکیورٹی عملے کے مبینہ رویے نے واقعے میں کس حد تک کردار ادا کیا۔