Baaghi TV

Category: لاہور

  • ہائیکورٹس میں آئینی بینچز کی فوری بحالی کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    ہائیکورٹس میں آئینی بینچز کی فوری بحالی کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    آئین کے آرٹیکل 202 اے کے تحت آئینی بینچز کو فوری طور پر فعال کرنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے-

    جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے چیئرمین اظہر صدیق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں وفاق، لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان، نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی سمیت وفاقی اور صوبائی حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ 2024 میں 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے باوجود لاہور، اسلام آباد، پشاور اور بلوچستان ہائیکورٹس میں تاحال آئینی بینچز قا ئم نہیں کیے گئے، جبکہ صرف سندھ ہائیکورٹ نے آرٹیکل 202 اے کے تحت مطلوبہ نظام پر خاطر خواہ عملدرآمد کیا ہےآرٹیکل 202 اے میں آئینی بینچز کے قیام کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر ہونے والی درخواستوں کی سماعت صرف انہی خصوصی بینچز کو کرنی چاہیے۔

    درخواست گزار کے مطابق آئینی بینچز کے قیام میں تاخیر سے ملک میں آئینی انصاف کا دوہرا نظام وجود میں آ گیا ہے، سندھ کے شہریوں کو خصوصی آئینی بینچز تک رسائی حاصل ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں آئینی مقدمات اب بھی عام بینچز کے سامنے سنے جا رہے ہیں، مؤثر اور فوری متبادل قانونی چارہ جو ئی نہ ہونے کے باعث عوامی مفاد میں لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔

    درخواست میں لاہور ہائیکورٹ کےکیس فائلنگ برانچ کے اس طریقہ کار کو بھی چیلنج کیا گیا ہےجس کے تحت درخواست کی باقاعدہ سماعت سے قبل قا بلِ سماعت ہونے، دائرہ اختیار، درخواست گزار کے قانونی حق (لوکس اسٹینڈی) اور متبادل قانونی چارہ جوئی جیسے نکات پر ابتدائی اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔

    درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ یہ تمام معاملات عدالتی نوعیت کے ہیں جن کا فیصلہ صرف جج ہی کر سکتے ہیں، انتظامی عملہ نہیں رجسٹری کی جانب سے اس نوعیت کی جانچ پڑتال انصاف تک رسائی میں غیر آئینی رکاوٹ ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10A اور 25 کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ درخواست میں پاکستان، بھارت اور برطانیہ کی عدالتی نظیروں کے ساتھ ساتھ عدلیہ کی آزادی سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

    درخواست میں عدالتی نظام میں ججوں کی شدید کمی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اس کے مطابق ملک بھر کی ہائیکورٹس میں منظور شدہ 200 ججوں کی آسا میو ں میں سے 76 خالی ہیں، جس کے باعث مقدمات کے مؤثر عدالتی انتظام کے بجائے انتظامی سطح پر چھان بین کا رجحان بڑھ گیا ہے لاہور ہائیکورٹ کو سب سے زیادہ دباؤ کا سامنا ہے، جہاں ایک لاکھ 98 ہزار 5 مقدمات زیر التوا ہیں، جو ملک بھر کی ہائیکورٹس میں زیر التوا مقدمات کا تقریباً 56.8 فیصد بنتے ہیں۔

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ وہ زیر التوا نمائندگیوں پر 30 روز کے اندر وجوہات پر مبنی تفصیلی فیصلے جاری کریں اور یہ قرار دیا جائے کہ مبہم یا غیر مدلل مراسلت آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کرتی، متعلقہ اداروں کو آرٹیکل 202 اے پر فوری عملدرآمد، تعمیلی رپور ٹس جمع کرانے اور عدالتی کارروائی میں انتظامی رکاوٹوں کے مستقل خاتمے کا حکم دیا جائے۔

  • مریم اورنگزیب کی امریکی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت

    مریم اورنگزیب کی امریکی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت

    سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے امریکی قونصلیٹ لاہور کے زیرِ اہتمام حضوری باغ میں منعقدہ امریکہ کے 250ویں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی-

    تقریب میں امریکی قونصل جنرل اسٹیٹسن سینڈرز، برطانوی ہائی کمیشن کے نمائندے بین وارنگٹن، یونیسیف پاکستان کے سربراہ رمیز بہدووز، ترکیہ کے قو نصل جنرل، مختلف ممالک کے سفارت کاروں، سیاسی و سماجی شخصیات اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے امریکی عوام اور حکومت کو یومِ آزادی کی مبارک باد پیش کی انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات باہمی اعتماد، تعاون اور امن کے اصولوں پر استوار ہیں دونوں ممالک سفارتی روابط کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی، سرمایہ کار ی، موسمیاتی تبدیلی، سیاحت اور دیگر اہم شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں، جبکہ حالیہ عرصے میں پاک امریکہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

    سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ دنیا نے حالیہ دنوں میں سفارت کاری کی اہمیت کا عملی مظاہرہ دیکھا، اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عالمی امن کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا، امریکہ جدت، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں نمایاں مقام رکھتا ہے، جبکہ امریکی نجی شعبہ پنجاب میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھی بھرپور دلچسپی لے رہا ہے۔

  • لاہور ہائیکورٹ میں موسم گرما کی تعطیلات کے پہلے ہفتے کا ججز روسٹر جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں موسم گرما کی تعطیلات کے پہلے ہفتے کا ججز روسٹر جاری

    لاہور ہائی کورٹ میں موسمِ گرما کی تعطیلات کے پہلے ہفتے کا ججز روسٹر جاری کر دیا گیا-

    روسٹر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم کی منظوری سے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے جاری کیا،روسٹر کا اطلاق 6 جولائی سے ہوگا لاہور ہائی کورٹ میں پرنسپل سیٹ پر پہلے ہفتے میں 6 ڈویژن بینچ اپیلوں پر سماعت کریں گے جبکہ 23 ججز بطور سنگل بینچ کیسز کی سماعت کریں گے۔

    چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ تمام نوعیت کی اپیلوں جبکہ جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ تمام نوعیت کی کریمنل اپیلوں پر سماعت کرے گا جبکہ جسٹس فیصل زمان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ تمام نوعیت کی سول اپیلوں اور جسٹس احمد ندیم ارشد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ تمام نوعیت کی سول اپیلوں پر سماعت کرے گا اس کے علاوہ جسٹس محمد طارق ندیم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ تمام نوعیت کی کریمنل اپیلوں اور جسٹس ملک اویس خالد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ تمام نوعیت کی سول اپیلوں پر سماعت کرے گا۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے ججز کی 10 خالی آسامیاں پر کرنے کیلئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے جوڈیشل کمیشن کو 11 نام ارسال کرد یے ہیں، ہائی کورٹ ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے 4 جولائی تک ناموں کی فہرست طلب کر رکھی تھی۔

  • لاہور پولیس نے نومولود کو دفنانے کی کوشش ناکام بنا دی، 3 ملزمان گرفتار

    لاہور پولیس نے نومولود کو دفنانے کی کوشش ناکام بنا دی، 3 ملزمان گرفتار

    لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک نومولود کو مبینہ طور پر دفنانے کی کوشش ناکام بنا دی اور اس سلسلے میں 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کی گئی، جس کے دوران ملزمان زمین میں گڑھا کھود کر نومولود کو دفنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ گرفتار افراد میں ایک مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے مبینہ اسقاط حمل سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔ تاہم واقعے کی مختلف پہلوؤں سے شفاف اور میرٹ پر تفتیش جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے اور قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • حنا پرویز بٹ کی سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر تنقید،جاہل کہہ دیا

    حنا پرویز بٹ کی سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر تنقید،جاہل کہہ دیا

    لاہور: رکنِ پنجاب اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے بعض معروف سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور فیملی وی لاگرز پر سخت تنقید کرتے ہوئے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دیں۔

    حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں یوٹیوبرز رجب بٹ، علی حیدر آبادی اور سمیع رشید کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ہمارے سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہیں، ان جاہلوں کو ہماری عوام فالو کرتی ہے۔ جو بچے ان کو فالو کرتے ہیں، وہ اپنی تربیت کا ستیاناس کر رہے ہیں۔والدین کو سوچنا ہوگا۔۔اپنے بچوں کو ان سے دور رکھیں.

    حنا پرویز بٹ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی، جہاں صارفین نے مختلف آراء کا اظہار کیا۔ بعض صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ والدین کو بچوں کے ڈیجیٹل استعمال اور آن لائن مواد پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ ان کی مثبت تربیت یقینی بنائی جا سکے۔دوسری جانب کئی صارفین نے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی انفلوئنسر کو ہدفِ تنقید بنانے کے بجائے والدین اور معاشرے کو بچوں کی رہنمائی اور ڈیجیٹل آگاہی پر توجہ دینی چاہیے۔ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ کسی بھی کانٹینٹ کریئیٹر کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت اس کے مجموعی مواد اور ناظرین کی ذمہ داری کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

  • زیر علاج بیٹی کے وارڈ سے زبردستی نکالے جانےپروالد کی ہسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ

    زیر علاج بیٹی کے وارڈ سے زبردستی نکالے جانےپروالد کی ہسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ

    لاہور میں واقع چلڈرن اسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ لگانے والا 28 سالہ شخص شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق زخمی شخص کی شناخت عمران صابر کے نام سے ہوئی ہے، جس کی کمسن بیٹی چلڈرن اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اسپتال کے سیکیورٹی گارڈز نے مبینہ طور پر عمران کو زبردستی وارڈ سے باہر نکال دیا، جس پر وہ شدید ذہنی دباؤ اور دل برداشتگی کا شکار ہو گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ عمران نے اسی حالت میں اسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجے میں اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔واقعے کے فوراً بعد زخمی شخص کو جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے سرجیکل ایمرجنسی میں داخل کر کے علاج شروع کر دیا گیا۔

    جنرل اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق عمران صابر کی حالت پہلے سے بہتر ہے اور اسے ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ اسپتال میں پیش آنے والے حالات اور سیکیورٹی عملے کے مبینہ رویے نے واقعے میں کس حد تک کردار ادا کیا۔

  • مجھے برہنہ کیا، میں روتی رہی،  مجھے تھپڑ مارے ،متعدد بار زیادتی کی گئی، غیر ملکی خاتون کا بیان آ گیا

    مجھے برہنہ کیا، میں روتی رہی، مجھے تھپڑ مارے ،متعدد بار زیادتی کی گئی، غیر ملکی خاتون کا بیان آ گیا

    لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کے کیس میں غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کا مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروائے گئے بیان کا کچھ حصہ منظرِ عام پر آ گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میری عمر 40 سال ہے اور میں اسپین کے شہر ہنڈاس دی لاس کی رہائشی ہوں اور حلف لے کر اپنا بیان ریکارڈ کروا رہی ہوں،غیر ملکی خاتون کا کہنا ہے کہ میری کہانی ویسی ہی ہے جیسے اسٹیفنی نے بتایا، اس گھر میں قیام کے دوران میرا تجربہ مختلف تھا، پہلی رات 4 لوگ اسلحے کے ساتھ آئے اور ہمیں باندھ دیا، ایک شخص جس نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے، اُس نے میرے جسم کے مخصوص حصوں کو چھوا، انہوں نے میرے چہرے پر متعدد گھونسے مارے، رضا ڈار آیا اور اس نے مجھ سے کمپیوٹر اور پیسوں کے بارے میں پوچھا،میں نے بتایا دونوں چیزیں سبز بیگ میں پڑی ہوئی ہیں، اس دوران اسٹیفنی کو واپس لایا گیا اور ہم دونوں سے پاس ورڈ اور کمپیوٹر کے بارے میں پوچھتے رہے، انہوں نے میرے سر پر بہت زور سے پسٹل کا بٹ مارا،وہاں ایک اور شخص موجود تھا جو بہت اچھی انگلش بول رہا تھا جس سے میں نے پوچھا کہ کیا تم لوگ ہمیں مار دو گے، جس پر اس نے کہا کہ اگر تم نے ہمیں پیسے نہ دیے تو زندہ نہیں جاؤ گی۔
    کچھ دیر بعد یہ شخص نیچے چلا گیا اور 3 لوگ بیڈ روم میں آ گئے، ایک بڑی عمر کا شخص رائفل کے ساتھ تھا جس نے 2 لوگوں کو میرے پاس رکنے کا کہا، وہ صرف اردو بول رہے تھے اور زور زور سے ہنس رہے تھے۔

    غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کے مطابق انہوں نے مجھے جنسی تعلق کا کہا جس کا میں نے متعدد بار انکار کیا، مگر کالے کپڑوں میں ملبوس شخص مجھے دوسرے فلور پر لے گیا اور مجھے برہنہ کیا، میں روتی رہی، اس نے مجھے تھپڑ مارے اور منہ بند کرنے کا کہا،میرے ساتھ متعدد بار زیادتی کی گئی، میرے شور مچانے پر وہ رک گیا اور مجھے دوبارہ کپڑے پہنا دیے اور مجھے دوبارہ اس کمرے میں لے جایا گیا جہاں دیگر لوگ موجود تھے۔

  • لاہور ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی اور اغوا کا مقدمہ درج، ایس ایچ او سمیت کئی اہلکار نامزد

    لاہور ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی اور اغوا کا مقدمہ درج، ایس ایچ او سمیت کئی اہلکار نامزد

    ‎لاہور کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کو مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے، زیادتی کا نشانہ بنانے اور ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان طلب کرنے کے سنگین واقعے کا مقدمہ سی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔
    یہ مقدمہ جوڈیشل ریسٹ ہاؤس دھرم پورہ کے چوکیدار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں ایک ایس ایچ او اور دو پولیس اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق، مرکزی ملزم نے ان غیر ملکی خواتین سے بیرونِ ملک دوستی کی اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی، جس کے بعد وہ 29 جون کو لاہور پہنچیں تو ملزم انہیں ڈیفنس میں واقع ایک رہائش گاہ پر لے گیا۔
    وہاں قیام کے دوران ایک خاتون سے زیادتی کی کوشش کی گئی جبکہ دوسری خاتون کو تین ملزمان نے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، اور بعد ازاں خواتین کے ذریعے بیرونِ ملک رابطہ کروا کر 15 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔
    پولیس حکام کے خلاف درج اس مقدمے میں سرکاری رہائش گاہ میں غیر قانونی داخلے، بدسلوکی اور دھمکیوں کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں اور معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • 
عظیم لوک گلوکار عالم لوہار کی 47ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

    
عظیم لوک گلوکار عالم لوہار کی 47ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

    ‎پاکستان کے عظیم لوک گلوکار عالم لوہار کی 47ویں برسی آج 3 جولائی کو عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ تقریباً نصف صدی گزر جانے کے باوجود ان کی دلکش آواز، چمٹے کی منفرد تھاپ اور پنجابی لوک موسیقی کا منفرد انداز آج بھی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔
    ‎یکم مارچ 1928 کو ضلع گجرات میں پیدا ہونے والے عالم لوہار نے کم عمری میں ہی گلوکاری کا آغاز کیا۔ اپنی سادہ مگر منفرد شخصیت، رنگ برنگے لباس، ہاتھ میں چمٹا اور روایتی پنجابی انداز نے انہیں برصغیر کے مقبول ترین لوک فنکاروں میں شامل کر دیا۔ میلوں، عرسوں اور ثقافتی تقریبات میں ان کی پرفارمنس ہزاروں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی تھی۔
    ‎عالم لوہار نے پنجابی لوک موسیقی کو نئی زندگی بخشی اور اسے عالمی سطح پر متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے گائے ہوئے لازوال گیت "جگنی”، "بول مٹی دیا باویا”، "واجاں ماریاں” اور دیگر شاہکار آج بھی موسیقی کے چاہنے والوں میں یکساں مقبول ہیں۔
    ‎انہوں نے صوفی شعرا، خصوصاً میاں محمد بخش، سلطان باہو، بابا بلھے شاہ اور دیگر بزرگوں کے کلام کو اپنی منفرد آواز میں پیش کیا، جس سے نئی نسل کو صوفیانہ شاعری اور پنجابی ثقافت سے روشناس کرانے میں اہم مدد ملی۔ ان کی گائیکی میں روحانیت، محبت، انسان دوستی اور دیہی زندگی کی خوبصورتی نمایاں نظر آتی تھی۔
    ‎عالم لوہار نے دنیا کے مختلف ممالک میں بھی اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور پاکستانی ثقافت و لوک موسیقی کو بین الاقوامی سطح پر پہچان دلائی۔ ان کا فن آج بھی نئی نسل کے گلوکاروں کے لیے مشعلِ راہ سمجھا جاتا ہے۔
    ‎ان کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں موسیقی سے وابستہ شخصیات، ثقافتی تنظیمیں اور مداح انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ ماہرینِ موسیقی کا کہنا ہے کہ عالم لوہار کا نام ہمیشہ پاکستانی لوک موسیقی کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

  • 
تجارتی خسارہ 39.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، برآمدات بڑھائے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں: ایس ایم تنویر

    
تجارتی خسارہ 39.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، برآمدات بڑھائے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں: ایس ایم تنویر

    ‎یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے رہنما اور معروف صنعتکار ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 39.5 ارب ڈالر کی تشویشناک سطح پر پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔
    ‎ایس ایم تنویر نے ملکی تجارتی اعداد و شمار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال کے دوران درآمدات میں 8 فیصد اضافہ جبکہ برآمدات میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو معیشت کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ رجحان برقرار رہا تو بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ معاشی خودمختاری قرضوں یا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر پر انحصار سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ پائیدار اور مضبوط معیشت کے لیے ضروری ہے کہ ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جائے اور صنعتی شعبے کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنایا جائے۔
    ‎ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ حکومت کو برآمدی صنعتوں کو سستی توانائی، جدید ٹیکنالوجی، آسان مالی سہولیات اور کاروبار دوست پالیسیوں کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ ملکی مصنوعات عالمی منڈی میں بہتر انداز سے مقابلہ کر سکیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ صنعتکاروں کو درپیش مسائل کے فوری حل، پیداواری لاگت میں کمی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے بغیر برآمدات میں مطلوبہ اضافہ ممکن نہیں۔ ان کے مطابق برآمدات میں اضافہ نہ صرف تجارتی خسارہ کم کرے گا بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر، روزگار کے مواقع اور مجموعی معاشی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
    ‎ایس ایم تنویر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صنعت اور برآمدات کو قومی اقتصادی پالیسی کا مرکزی ستون بنائے تاکہ پاکستان دیرپا معاشی ترقی اور مالی خودمختاری کی جانب بڑھ سکے۔