ایف آئی اے نے پاکستان کے میڈیا سیکٹر میں مبینہ منی لانڈرنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نیٹ ورک کے کمپنی سیکریٹری کو طلب کر لیا گیا ہے جبکہ متعدد دیگر معروف اداروں کے مالیاتی ریکارڈز بھی حاصل کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ تحقیقات ابتدا میں ایک معمول کی کارروائی کے طور پر شروع ہوئیں جب ایف آئی اے کے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی نے جے ایس بینک کی زمزمہ برانچ پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کی وجہ حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے غیر قانونی رقوم کی ترسیل اور غیر قانونی طور پر غیر ملکی کرنسی کی فروخت کے الزامات تھے،اس کارروائی کے دوران بینک کے ایریا منیجر نعمان رؤف کو اپنے چند ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق ان پر تقریباً 15 ہزار امریکی ڈالر غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کا الزام ہے،تفتیش کے دوران جب حکام نے نعمان رؤف کا ذاتی موبائل فون چیک کیا تو اس میں موجود ڈیٹا نے پورے کیس کا رخ بدل دیا۔ تحقیقاتی ٹیم کو ایسے شواہد ملے جن سے میڈیا انڈسٹری سے مبینہ مالی روابط اور رقوم کی ترسیل کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق حوالہ سسٹم کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ متحدہ عرب امارات درہم پاکستان منتقل کیے گئے اور بعد ازاں یہ رقم جے ایس بینک کی زمزمہ برانچ سے مختلف افراد تک پہنچائی گئی۔ بعد کی کارروائیوں میں ایک اور نیٹ ورک بھی سامنے آیا جس میں حوالہ ٹرانزیکشنز اور غیر قانونی ڈالر ٹریڈنگ کا انکشاف ہوا۔ایف آئی اے کے مطابق اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے انتہائی منظم طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا۔ رقم کی نقل و حرکت میں شامل افراد ایسی سمز استعمال کرتے تھے جو سری لنکا، نیپال، دبئی اور سنگاپور میں رجسٹرڈ تھیں۔ پورے نیٹ ورک میں پاکستانی موبائل نمبرز کا استعمال نہیں کیا گیا،حکام ان نمبرز کے ذریعے متعلقہ افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ کچھ نام فرضی بھی ہو سکتے ہیں تاہم کال اور پیغامات کا ریکارڈ موجود ہے جس کی بنیاد پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مبینہ نیٹ ورک کم از کم تین سال سے خاموشی کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ ایف آئی اے کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک سامنے آنے والی معلومات ممکنہ طور پر پورے نیٹ ورک کا صرف پانچ فیصد ہیں۔تحقیقاتی ٹیم کو شبہ ہے کہ جب کمپنیوں کے مکمل مالیاتی ریکارڈ حاصل کر کے ان کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تو مزید بڑے نام سامنے آ سکتے ہیں۔








