Baaghi TV

Category: لاہور

  • حکومت پنجاب کا بسنت 2027 کے لیے نئے کائٹ فلائنگ قواعد و ضوابط کا اعلان

    حکومت پنجاب کا بسنت 2027 کے لیے نئے کائٹ فلائنگ قواعد و ضوابط کا اعلان

    حکومت پنجاب نے بسنت 2027 کے لیے نئے کائٹ فلائنگ قواعد و ضوابط کا اعلان کر دیا ہے، جن پر عملدرآمد کی آخری تاریخ 30 دسمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے مطابق شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات لازم قرار دیے گئے ہیں۔

    نئے ضوابط کے تحت پتنگ بازی صرف محفوظ اور مضبوط چھتوں تک محدود ہوگی، جہاں کم از کم ساڑھے تین فٹ اونچی چار دیواری ضروری ہوگی۔ بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے والدین کو سخت نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ بغیر نگرانی چھت کے کناروں کے قریب جانے پر پابندی ہوگی۔ چھتوں پر بھاگنے، کودنے، خطرناک انداز اپنانے اور گنجائش سے زیادہ افراد کے اجتماع پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔مزید برآں، پتنگ بازی کے دوران شور شرابہ، ڈی جے سسٹمز اور ہمسایوں کے لیے پریشانی کا باعث بننے والی سرگرمیوں کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ ہر مقام پر فرسٹ ایڈ کٹ کی دستیابی لازمی ہوگی، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو 1122 سے فوری رابطے کی ہدایت کی گئی ہے۔قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں عمارت مالکان اور ایونٹ منتظمین کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ضوابط پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

    حکومت کا واضح مؤقف ہے کہ بسنت خوشیوں کا تہوار ضرور ہے، مگر انسانی جانوں کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ ایک محفوظ اور ذمہ دار بسنت منائی جا سکے۔

  • وزیر اعلیٰ پنجاب کا کچہ کے لیے ’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘ پیکیج کا اعلان

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا کچہ کے لیے ’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘ پیکیج کا اعلان

    ر وزیراعلیٰ نے ’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘ پروگرام شروع کرنے کا اعلان بھی کیا اور ہدایت کی کہ کچہ ایریا کے لوگوں کو 14 ہزار 500 ایکڑ سرکاری اراضی فراہم کی جائے تاکہ وہ زراعت کے ذریعے روزگار حاصل کر سکیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کچہ ایریا کی ترقی، امن و امان اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے 23 ارب روپے کے بڑے پیکیج کا اعلان کر دیا، جس میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور سیکیورٹی کے متعدد منصوبے شامل ہیں انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ کچہ کے علاقے میں گزشتہ 5 ماہ کے دوران کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا اور تاریخ میں پہلی بار حکومت کی رٹ مؤثر انداز میں قائم ہوئی ہے۔

    اعلان کردہ پیکیج کے تحت 23 ارب روپے کی لاگت سے اسکول، اسپتال، سڑکیں اور پل تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ امن و امان کے قیام کے لیے 7.1 ارب روپے، سوشل انفراسٹرکچر کے لیے 13.9 ارب اور دیگر منصوبوں کے لیے 1.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کچہ ایریا میں ٹرانسپورٹ سہولیات، کلینک آن ویلز، موبائل وٹرنری اسپتال اور لیبارٹریز فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی اس کے ساتھ ساتھ جدید سولر انرجی سے چلنے والے ڈرونز کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جبکہ پولیس گاڑیوں اور چیک پوسٹوں کو بھی سیف سٹی کیمر وں سے منسلک کیا جائے گا۔

    تعلیمی شعبے میں 65 سکولوں کی تعمیر و بحالی، 16 نئے اسکولوں اور 2 گرلز کالجز کے قیام کی منظوری دی گئی ہے اس کے علاوہ 6551 طالبات کو اسکول میل ملک پیک، 300 طلبہ کو ہونہار اسکالرشپس اور 300 کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے انفراسٹرکچر کے حوالے سے 108 کلومیٹر سولنگ اور 144 کلومیٹر سڑکوں پر مشتمل 27 منصوبے مکمل کیے جائیں گے، جبکہ مثالی گاؤں منصوبہ، سیوریج، ڈرینج اور سپورٹس پراجیکٹس بھی شروع کیے جائیں گے، مزید برآں 125 ملین روپے کی لاگت سے اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام بھی شروع کیا جائے گا۔

    کچہ ایریا میں نادرا رجسٹریشن کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ شہریوں کو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور ب فارم کے اجرا میں آسانی ہو،سیکیورٹی اقدامات کے تحت ناجائز اسلحہ کی واپسی کے لیے خصوصی پلان تیار کیا گیا ہے، جس میں اسلحہ جمع کرانے والوں کو اس کی نوعیت کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا اور اس عمل کی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ نے کچہ کی مرکزی سڑکوں کے اطراف لمبی فصلوں کی کاشت پر پابندی بھی عائد کر دی تاکہ سیکیورٹی خدشات کو کم کیا جا سکے مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کچہ کے عوام کو بھی پنجاب کے دیگر علاقوں کی طرح ترقی اور خوشحالی کا حق حاصل ہے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ کچہ ایریا کو ایک محفوظ، مثالی اور ترقی یافتہ خطہ بنایا جائے گا جہاں کے لوگ باعزت روزگار حاصل کر سکیں گے۔

  • لاہور: 5 سال میں اغوا ہونے والی 824 خواتین تاحال لاپتا

    لاہور: 5 سال میں اغوا ہونے والی 824 خواتین تاحال لاپتا

    لاہور میں گزشتہ پانچ برس کے دوران اغوا کی جانے والی خواتین سے متعلق ایک تشویشناک رپورٹ سامنے آئی ہے، جس کے مطابق 824 خواتین کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

    نجی ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ خواتین 2021 سے 2025 کے درمیان مختلف علاقوں سے اغوا ہوئیں، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود ان کی بازیابی ممکن نہیں ہو سکی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ اغوا کے واقعات کینٹ ڈویژن میں رپورٹ ہوئے، جہاں 282 خواتین تاحال لاپتا ہیں۔ اس کے علاوہ صدر ڈویژن سے 152، سٹی ڈویژن سے 124، ماڈل ٹاؤن ڈویژن سے 110 اور اقبال ٹاؤن ڈویژن سے 100 خواتین کا بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا۔مزید برآں، سول لائنز ڈویژن سے اغوا ہونے والی 56 خواتین بھی اب تک بازیاب نہیں ہو سکیں۔

    پولیس حکام کے مطابق تمام واقعات کے مقدمات درج کیے گئے تھے، تاہم تحقیقات کے باوجود مغوی خواتین کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے اغوا کے واقعات شہریوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا رہے ہیں، جبکہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

  • ہوٹل میں ویڈیو بنانے پر  حنا پرویز بٹ کی یوٹیوبررجب بٹ پر سخت تنقید

    ہوٹل میں ویڈیو بنانے پر حنا پرویز بٹ کی یوٹیوبررجب بٹ پر سخت تنقید

    پنجاب اسمبلی کی رکن حنا پرویز بٹ نے معروف یوٹیوبر رجب بٹ کی ایک ویڈیو پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ اور اخلاقی حدود کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یوٹیوبر رجب بٹ ایک ریسٹورنٹ میں وی لاگ ریکارڈ کر رہے ہیں، جبکہ ان کے پیچھے بیٹھی ایک فیملی واضح طور پر کیمرے کی موجودگی سے بے چینی محسوس کرتی نظر آتی ہے۔ ویڈیو میں پس منظر میں موجود ایک خاتون کو اپنا چہرہ چھپاتے اور کیمرے سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس پر صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

    سوشل میڈیا صارفین نے اس عمل کو نجی زندگی میں مداخلت اور غیر اخلاقی رویہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات پر بھی لوگوں کی پرائیویسی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

    اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے حنا پرویز بٹ نے اپنی ایکس (ٹوئٹر) پوسٹ میں کہا کہ یہ ایک "انتہائی شرمناک حرکت” ہے۔ انہوں نے لکھا کہ کچھ افراد بغیر سوچے سمجھے جہاں دل چاہتا ہے کیمرہ آن کر دیتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ اردگرد فیملیز بھی موجود ہوتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے معاشرے میں ایسے افراد کو ہیرو سمجھا جاتا ہے، جو کہ قابل افسوس رجحان ہے۔

    واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر پرائیویسی، اخلاقیات اور ڈیجیٹل ذمہ داری کے حوالے سے بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے عوامی مقامات پر وی لاگنگ کے اصول و ضوابط بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

  • لیبر، ورکرز اور مزدوروں کی فلاح و بہبود ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے،مریم نواز

    لیبر، ورکرز اور مزدوروں کی فلاح و بہبود ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کارخانوں، فیکٹریوں اور دفاتر میں سیفٹی آلات اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا حکم دیا ہے جبکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے-

    کام کی جگہ پر حفاظت اور صحت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب نے فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے جسمانی اور ذہنی صحت کے تحفظ پر خصوصی زور دیا کہا کہ لیبر، ورکرز اور مزدوروں کی فلاح و بہبود ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔

    وزیراعلیٰ نے لیبر ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ورک پلیس پر حفاظتی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرائیں اور خلاف ورزی کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف جرمانے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائےمحفوظ اور صحت مند کارکن ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت ورکرز کے تحفظ کے لیے لیبر قوانین میں ترامیم لا رہی ہے اور سیفٹی کلچر کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، انہوں نے صنعتی شعبے کے مالکان پر زور دیا کہ وہ مزدوروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں راشن کارڈ کے ذریعے 14 لاکھ محنت کشوں کو ماہانہ مالی معاو نت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران مزید 50 ہزار مزدوروں کو اس سہولت میں شامل کیا جائے گا ہر ورکر کو محفوظ ورکنگ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں بین الاقوامی معیار کے سیفٹی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

  • 
بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ملاقات

    
بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ملاقات

    ‎جیل ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بشریٰ بی بی سے ملاقات کرا دی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔ یہ ملاقات اڈیالہ جیل میں ہوئی جہاں وہ زیر حراست ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں کے درمیان اہم امور پر گفتگو بھی ہوئی، تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ جیل حکام کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملاقات کو محدود رکھا گیا۔
    ‎دوسری جانب اہل خانہ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی غیر ضروری ہے اور اس پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔
    ‎ذرائع کے مطابق جیل انتظامیہ سیکیورٹی اور قواعد و ضوابط کے تحت ملاقاتوں کی اجازت دیتی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید وضاحت سامنے نہیں آئی۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی پیش رفت سیاسی ماحول پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔

  • آسیان ممالک کا وفد لاہور اور پنجاب کی ثقافت سے متاثر

    آسیان ممالک کا وفد لاہور اور پنجاب کی ثقافت سے متاثر

    عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ پنجاب کا کلچر اور روایات نہایت خوبصورت ہیں اور حکومت ان کے تحفظ اور ترویج کے لیے سرگرم عمل ہے-

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری سے آسیان ممالک کے وفد کی ملاقات ہوئی، جس میں خطے کے درمیان ثقافتی اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ،ملاقات میں پنجاب اور آسیان ممالک کے درمیان کلچر کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی –

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبے کی ثقافت اور تہذیب کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں، پنجاب کا کلچر اور روایات نہایت خوبصورت ہیں اور حکومت ان کے تحفظ اور ترویج کے لیے سرگرم عمل ہے مریم نواز کی قیادت میں پنجاب تمام شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہا ہے۔

    وزارت اطلاعات و ثقافت پنجاب کی جانب سے آسیان وفد کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا، جہاں عظمیٰ بخاری اور سیکرٹری اطلاعات پنجاب طاہر رضا ہمدانی نے وفد کا گرمجوشی سے استقبال کیاانڈونیشیا کے سفیر چاندرا وارسی نے آسیان وفد کی قیادت کی اس موقع پر وفد کو واہگہ بارڈر اور شالیمار باغ کا دورہ بھی کروایا گیا تاکہ وہ پنجاب کے تاریخی اور ثقافتی ورثے سے آگاہ ہو سکیں۔

    انڈونیشیا کے سفیر چاندرا وارسی نے پنجاب حکومت کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب اور لاہور کی ثقافت سے بہت متاثر ہوئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے لوگ نہایت مہمان نواز اور عزت دینے والے ہیں،عظمیٰ بخاری نے آسیان وفد کے شرکاء کو شیلڈز بھی پیش کیں جبکہ وفد نے پنجاب حکومت کی عمدہ مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔

  • سیاحت  ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی،مریم اورنگزیب

    سیاحت ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی،مریم اورنگزیب

    پنجاب کی سینیئر وزیر نے کہا ہے کہ اب سیاحت صرف ایک سافٹ سیکٹر نہیں رہی بلکہ آنے والے چند سالوں میں ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    پنجاب کی سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سیاحت کے حوالے سے خودکفیل ہو نے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے پنجاب میں سیاحت اور ورثے کی بحالی پر 28 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ ایکو ٹورزم اور وائلڈ لائف ٹورزم کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، مجموعی طور پر 78 ارب روپے کے وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ‘میگنیفیسنٹ پنجاب’ ایپ میں پورے صوبے کے سیاحتی مقامات کے بارے میں جامع معلومات فراہم کی گئی ہیں،اب سیاحت صر ف ایک سافٹ سیکٹر نہیں رہی بلکہ آنے والے چند سالوں میں ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی،سیاحتی مقامات کو پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شر یف کے وژن کے تحت ‘میگنیفیسنٹ پنجاب’ منصوبے کے ذریعے بحال کیا گیا ہے،گزشتہ 8 ماہ کے دوران لاہور سیاحتی سرگرمیوں کے حوالے سے خطے میں نمایاں مرکز بن کر ابھرا ہے۔

    انہوں نے اپنی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہت جلد مزید سیاحتی مقامات کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا،طلبہ چھانگا مانگا سمیت مختلف جنگلات اور تفریحی مقامات کا دورہ کر سکیں گے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہوٹلنگ اور ٹورازم سیکٹر میں بھی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں پہلی مرتبہ پنجاب ٹورزم اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے،یہ تمام اقدامات وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد پنجاب میں سیاحت کو عالمی معیار کے مطابق فروغ دینا ہے۔

  • پاکستانی ہندو خاندان کو بھارت میں  مشکلات اور امتیازی سلوک کا سامنا

    پاکستانی ہندو خاندان کو بھارت میں مشکلات اور امتیازی سلوک کا سامنا

    بہتر مستقبل کی تلاش میں 2 سال قبل بھارت جانے والا 24 رکنی پاکستانی ہندو خاندان پیر کے روز واہگہ بارڈر کے راستے واپس پاکستان پہنچ گیا-

    سندھ سے ایک 24 رکنی پاکستانی ہندو خاندان دو سال بھارت میں رہنے کے بعد واہگہ کے راستے پاکستان واپس آگیا، خاندان نے کہا کہ احمد آباد میں قیام کے دوران اسے مشکلات، امتیازی سلوک اور بنیادی خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا خاندان کا تعلق سندھ کے ضلع سانگھڑ سے ہے اور وہ بھارت کے شہر احمد آباد میں مقیم تھا –

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خاندان کے سربراہ رانو نے بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ، 2 شادی شدہ بیٹوں اور ان کے اہلِخانہ سمیت بہتر طرزِ زندگی کی امید میں بھارت گئے تھے پاکستانی شناخت کے باعث انہیں روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان کے بقول بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے، راشن کے حصول اور سرکاری ڈسپنسریوں سے ادویات لینے میں بھی رکاوٹیں پیش آئیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد بھارت میں مقیم پاکستانی شہریوں کو شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا، حتیٰ کہ بعض افراد پر جاسوسی کے الزامات بھی لگائے گئے وطن واپسی پر خاندان کے افراد نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک واپس آ کر سکون محسوس کر رہے ہیں، خاندان کے زیادہ تر افراد بچے ہیں جبکہ ان کی حالتِ زار مالی مشکلات کی عکاسی کر رہی تھی۔

  • آر ایل این جی کی عدم دستیابی، گیس بحران شدت اختیار کر گیا

    آر ایل این جی کی عدم دستیابی، گیس بحران شدت اختیار کر گیا

    ملک بھر میں گیس کا بحران آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، جس سے صنعتی اور گھریلو صارفین شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق سوئی ناردرن کے پاس موجود آر ایل این جی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس کے باعث پاور اور کھاد کے شعبوں کو گیس کی فراہمی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ توانائی بحران کے اس نئے مرحلے نے صنعتی پیداوار کو بھی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس کی مجموعی سپلائی کم ہو کر 700 ملین کیوبک فٹ یومیہ رہ گئی ہے، جبکہ ایران،امریکا کشیدگی سے قبل یہ مقدار تقریباً 1200 ملین کیوبک فٹ یومیہ تھی۔ اس طرح ملک کو یومیہ بنیاد پر 600 ملین کیوبک فٹ سے زائد گیس کی کمی کا سامنا ہے۔مزید برآں، گھریلو صارفین کے لیے بھی گیس کی فراہمی میں کمی کر دی گئی ہے، جس کے باعث شہری علاقوں میں کھانا پکانے کے اوقات میں مشکلات بڑھ گئی ہیں اور عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

    تاہم سوئی گیس حکام کا مؤقف اس صورتحال سے مختلف ہے۔ حکام کے مطابق گھریلو صارفین کو کھانے کے تینوں اوقات میں گیس کی مکمل فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور نظام کو متوازن رکھنے کی کوشش جاری ہے۔ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر آر ایل این جی کی بروقت درآمد نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات معیشت اور عوامی زندگی دونوں پر پڑیں گے۔