Baaghi TV

Category: لاہور

  • پارلیمنٹ کے اختیارات محدود کیے ، مزید استعفے بھی آئیں گے اسپیکر پنجاب اسمبلی

    پارلیمنٹ کے اختیارات محدود کیے ، مزید استعفے بھی آئیں گے اسپیکر پنجاب اسمبلی

    پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان نے کہا ہے کہ اسمبلی میں ابھی مزید استعفے بھی سامنے آئیں گے، اور موجودہ کھینچا تانی دراصل چیف جسٹس کے منصب کے حصول کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔

    لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے پارلیمنٹ کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے باعث پارلیمنٹ طویل عرصے تک اپنے حقوق کے حوالے سے کھل کر بات کرنے سے بھی گریزاں رہی۔ ان کے مطابق اب یہ صورتحال بدلنی چاہیے تاکہ ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن قائم ہو سکے۔ملک احمد خان نے اپنے خطاب میں نوجوانوں اور خواتین کی تعلیم پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ترقی کے لیے پڑھے لکھے نوجوانوں کی ضرورت ہے، جبکہ تعلیم یافتہ خواتین کسی بھی معاشرے کی مضبوط بنیاد ہوتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے دور میں بچیوں کی تعلیم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، اس لیے پرانے اور فرسودہ نظریات کو ترک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے

    عدالتیں آئینی ہوں یا عمومی اصل مسئلہ انصاف ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

  • سکھ بھارتی خاتون پاکستان میں مبینہ طور پرلاپتہ

    سکھ بھارتی خاتون پاکستان میں مبینہ طور پرلاپتہ

    لاہور: باباگورونانک کا جنم دن منانے پاکستان آنیوالی ایک سکھ بھارتی خاتون پاکستان میں مبینہ طور پرلاپتہ ہوگئی ہے۔

    بھارتی پنجاب کی رہائشی 48 سالہ سربجیت کور 4 نومبر کو یاتریوں کے ساتھ پاکستان آئی تھی،بھارتی خاتون کے لاپتہ ہونے کاانکشاف جمعرات کے روز اس وقت ہوا جب بھارتی یاتری پاکستان میں دس روزہ قیام کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے واپس جارہے تھے۔،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت سے 1923 یاتری پاکستان آئے تھے لیکن واپس جانیوالوں کی تعداد 1922 تھی ۔ ذرائع کے مطابق سربجیت کور بھارتی پنجاب کے ضلع مکتسر صاحب کی رہائشی ہیں۔ مبینہ طور پر لاپتہ ہونیوالی بھارتی خاتون کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔ سیکیورٹی ادارے یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ بھارتی خاتون کس شہر سے لاپتہ ہوئیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ خاتون کے خلاف انڈیا میں منشیات کے مقدمات درج ہیں اور وہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر دوستی کرکے ہنی ٹریپ کرتی ہیں۔

  • کالعدم تحریک لبیک  کی جائیدادیں اور اثاثے منجمد کرنے کا حکم

    کالعدم تحریک لبیک کی جائیدادیں اور اثاثے منجمد کرنے کا حکم

    پنجاب حکومت نے کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف ایک اہم اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے اس کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں، اثاثے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ احکامات محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں سیکریٹری داخلہ پنجاب نے صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں ٹی ایل پی کی ملکیتی جائیدادوں اور مالیاتی اثاثوں کی نشاندہی کر کے انہیں فوری طور پر منجمد کریں۔مزید برآں، بورڈ آف ریونیو، سیکریٹری ہاؤسنگ، سیکریٹری كوآپریٹو سمیت دیگر متعلقہ محکموں کو بھی اس ضمن میں باضابطہ مراسلہ بھیج دیا گیا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ "پنجاب بھر میں تحریک لبیک پاکستان کی تمام جائیدادوں اور اثاثوں کی تفصیلات مرتب کر کے رپورٹ محکمہ داخلہ کو ارسال کی جائے۔”

    محکمہ داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ چیئرمین سب کیبنٹ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں مختلف حساس اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کو مزید مؤثر اور عملی شکل دی جائے۔

    یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، جس کے بعد تنظیم کے دفاتر، فلاحی اداروں، فنڈز اور دیگر مالی ذرائع کی نگرانی پہلے ہی کی جا رہی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں ٹی ایل پی کے مالی معاملات کی تفصیلی چھان بین اور ان سے وابستہ افراد کے اکاؤنٹس کی بھی جانچ کی جائے گی، تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

  • ٹک ٹاک کا کری ایٹرز کو محفوظ تر، بااختیار بنانے کا نیا فیچرز متعارف

    ٹک ٹاک کا کری ایٹرز کو محفوظ تر، بااختیار بنانے کا نیا فیچرز متعارف

    ٹک ٹاک نے حال ہی میں اپنے پلیٹ فارم کو تمام صارفین کے لیے مزید محفوظ، معاون اور بااختیار بنانے کے لیے نئے فیچرز کا ایک جامع سلسلہ متعارف کرایا ہے۔ ٹک ٹاک پاکستان میں کری ایٹرز کو حفاظتی اور پیداواری ٹولز فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کر سکیں، اپنے مداحوں سے بہتر رابطہ قائم کر سکیں، اور پلیٹ فارم پر زیادہ کنٹرول محسوس کریں۔ یہ فیچرز کری ایٹرز کو غیر مطلوب رویوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور انہیں اپنے کنٹنٹ اور مداحوں کے تعاملات کو بہتر طور پر منظم کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

    ٹک ٹاک نے "کری ایٹر کیئر موڈ” کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے، جو پاکستانی کری ایٹرز کو اپنے کمنٹس سیکشن کو بہتر طور پر منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب یہ فیچر فعال کیا جاتا ہے تو کری ایٹر کیئر موڈ خودکار طریقے سے اُن تبصروں کو چھپا دیتا ہے جو توہین آمیز، ہراساں کرنے والے یا فحش نوعیت کے ہوں، خاص طور پر ایسے کمنٹس جنہیں کری ایٹرز پہلے ہی رپورٹ یا حذف کر چکے ہوں۔اس سے کری ایٹرزکو یہ سہولت ملتی ہے کہ وہ تبصروں کی نگرانی میں زیادہ وقت ضائع کرنے کی بجائے ویڈیوز بنانے توجہ دیں۔اس فیچر کواسمارٹ ٹیکنالوجی کی طاقت حاصل ہے جو ہر کری ایٹرسے سیکھتی ہے اور طرزِ عمل کے نمونوں کی بنیاد پر ایک محفوظ اور زیادہ مثبت کمیونٹی ماحول کو یقینی بناتی ہے۔

    کنٹنٹ چیک لائٹ (Content Check Lite) کے نام سے بھی ، کری ایٹرز کے لیے، ایک اور مفید ٹول متعارف کرایا گیا ہے، جو صرف ٹک ٹاک اسٹوڈیو کے ویب ورژن میں دستیاب ہے۔یہ فیچر کری ایٹرز کو یہ چیک کرنے کی سہولت دیتا ہے کہ اُن کی ویڈیوز کی رسائی محدود تو نہیں ہوگی یعنی ان کی ویڈیوز”فور یو(For You) “ پیج پر ظاہر ہوں گی یا نہیں، تاکہ وہ پوسٹ کرنے سے پہلےاُن میں ضروری تبدیلیاں کر سکیں۔ممکنہ مسائل کی ابتدائی نشاندہی کے ذریعے، کری ایٹرز اپنے کنٹنٹ میں ایسی تبدیلیاں کر سکیں گے جو کمیونٹی گائیڈ لائنزکے مطابق ہوں، جبکہ اُن کی تخلیقی آزادی بھی برقرار رہے۔اس کے علاوہ، پلیٹ فارم نے کری ایٹر اِن باکس (Creator Inbox) بھی متعارف کرایا ہے جو یہ ایک پیشہ ورانہ میسجنگ ہب ہے، جس میں فوری جوابات کے ٹیمپلیٹس اور میسیجز جو ابھی تک پڑھے نہیں گئے ہیں اور اسٹار لگائے گئے پیغامات کے لیے الگ فولڈرز شامل ہیں۔یہ سہولت کری ایٹرزکے لیے اپنے مداحوں کے ساتھ رابطے کو مزید آسان اور تیز بناتی ہے۔

    یہ ٹولز اِس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ٹک ٹاک کری ایٹرز کو آن لائن کمیونٹیز بنانے کے سفر میں محفوظ، بااعتماد اور معاون ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔پلیٹ فارم پاکستانی کری ایٹرزکو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اِن ٹولز سے فائدہ اٹھائیں، اِن کے استعمال کا طریقہ سیکھیں، اور پھر اِنہیں استعمال کرتے ہوئے ایک مثبت، بامقصد اور محفوظ تخلیقی تجربہ تشکیل دیں۔

  • 40 فیصد پاکستانی دوسری شادی کے حامی

    40 فیصد پاکستانی دوسری شادی کے حامی

    گیلپ پاکستان کے تازہ ترین سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کی بالغ آبادی میں 40 فیصد پاکستانی دوسری شادی کے حق میں جبکہ 60 فیصد اس کے مخالف ہیں۔ یہ اعداد و شمار ملک میں خاندانی، سماجی اور مذہبی رویّوں میں جاری بحث کو ایک نئی جہت دیتے ہیں۔

    سروے کے مطابق، مخالفین نے واضح طور پر کہا کہ وہ کسی بھی صورت دوسری شادی کی اجازت نہیں دیتے اور اسے غیر ضروری یا معاشرتی مسائل کا باعث سمجھتے ہیں۔ ان افراد کا مؤقف تھا کہ موجودہ معاشی حالات، سماجی دباؤ اور خاندانی تنازعات کے باعث ایک سے زیادہ شادیوں کا رواج مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔دوسری جانب، حمایت کرنے والے 40 فیصد پاکستانیوں نے یہ رائے دی کہ اگر کوئی مرد مالی طور پر مستحکم ہو، اور پہلی بیوی کے حقوق متاثر نہ ہوں تو اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسری شادی جائز ہے۔ ان کے مطابق، مذہب نے مرد کو اجازت دی ہے بشرطِ انصاف، اس لیے اس حق کو منفی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔

    گیلپ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنس کی بنیاد پر واضح فرق سامنے آیا۔ مردوں میں 50 فیصد نے دوسری شادی کے حق میں رائے دی، جب کہ خواتین میں یہ شرح صرف 30 فیصد رہی۔ماہرینِ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سروے معاشرے کے بدلتے رویوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، شہری علاقوں میں خواتین کی تعلیم اور معاشی خودمختاری میں اضافہ دوسری شادی کی مخالفت کو بڑھا رہا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں روایتی نظریات اب بھی نمایاں طور پر موجود ہیں۔گیلپ پاکستان کے مطابق یہ سروے حال ہی میں ملک کے مختلف صوبوں کے شہری و دیہی علاقوں میں کیا گیا، جس میں ہزاروں بالغ مرد و خواتین نے حصہ لیا۔

  • اسلام آباد دھماکے کے بعد لاہور میں سکیورٹی مزید سخت، شہر بھر میں کڑی نگرانی

    اسلام آباد دھماکے کے بعد لاہور میں سکیورٹی مزید سخت، شہر بھر میں کڑی نگرانی

    اسلام آباد دھماکے کے بعد لاہور پولیس نے شہر میں سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کرتے ہوئے حساس مقامات کے گرد حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے سرچ اینڈ سویپ آپریشنز میں مزید تیزی لانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    پولیس کے مطابق ڈولفن اسکواڈ اور پیرو فورس کو شہر کے مختلف علاقوں میں اضافی گشت کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تخریب کاری یا غیر معمولی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ڈی آئی جی آپریشنز نے فیلڈ ٹیموں کو پارکنگ ایریاز، عوامی مقامات اور تجارتی مراکز میں گاڑیوں کی سخت چیکنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اسی طرح عدالتوں، سرکاری دفاتر اور دیگر حساس عمارتوں کے اطراف بھی چیکنگ کے عمل میں مزید سختی کا حکم دیا گیا ہے۔احکامات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام ڈویژنل ایس پیز اور فیلڈ افسران خود سکیورٹی انتظامات کی مانیٹرنگ فیلڈ میں موجود رہ کر کریں، تاکہ کسی بھی غفلت یا لاپرواہی کا فوری سدباب ہو سکے۔

    ڈی آئی جی فیصل کامران نے واضح کیا کہ مشکوک افراد یا گاڑیوں کے بغیر شناخت داخلے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تمام فورسز ہائی الرٹ ہیں۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی، مشکوک شخص یا لاوارث اشیاء کی اطلاع فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن 15 پر دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔

  • گورنمنٹ ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ میں یوم اقبال کے سلسلہ میں تقریب

    گورنمنٹ ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ میں یوم اقبال کے سلسلہ میں تقریب

    گورنمنٹ ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ لاہور میں یوم اقبال کے سلسلہ میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا ،
    تقریب میں طالبات نے ٹیبلو ،تقریری مقابلوں میں حصہ لیا، تقریری مقابلوں میں پہلی پوزیشن سکول کونسل راجگڑھ کی صدر ام حبیبہ نے لی،تقریب کے اختتام پر انعامات تقسیم کئے گئے

    یوم اقبال کے سلسلہ میں تقریب سے گورنمنٹ ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ کی پرنسپل ڈاکٹر شوکت اقبال نے خطاب کیا، اس موقع پر طالبات اور انکے والدین کی بڑی تعداد موجود تھی، سکول کونسل راجگڑھ کی صدر ام حبیبہ کی والدہ نے بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی، تقریب میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مائرہ شیخ نے سرانجام دیئے، سعدیہ روحی کی زیر نگرانی تقریب میں طالبات نے مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی مسلم امہ اور پاکستان کے لیے کی جانے والی خدمات پر انہیں اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔منعقدہ تقریب میں علامہ اقبال کی زندگی کے مختلف موضوعات پر طالبات نے اپنے فن خطابت کے جوہر دکھائے۔تقریری مقابلے میں سکول کونسل راجگڑھ کی صدر ام حبیبہ نے اول پوزیشن حاصل کی،دوسری پوزیشن قرت العین، تیسری پوزیشن عائشہ نے حاصل کی،انگریزی میں تقریر کرنے والی طالبہ خدیجہ کو بھی خصوصی انعام دیا گیا،تقریب کے اختتام پر پوزیشن ہولڈرز میں انعامات تقسیم کئے گئے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل ڈاکٹر شوکت اقبال،عذرا پروین،سدرہ و دیگر نے کہا کہ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو خود ہی کا درس دیا اور کہا کہ موجودہ تمام مسائل کا حل قران اور سیرت النبی پر عمل پیرا ہونے میں پنہاں ہے۔مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ اقبال ہر زمانے کے شاعر ہیں اور ان کا کلام افاقی ہے۔ کلام اقبال خوابوں کے تحفظ کا نام ہے۔اقبال کے نظریات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔آج کے سوشل میڈیا دور میں علامہ اقبال کے نظریات کے پرچار کے لیے ہر سطح پر ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • لال قلعہ کے قریب دھماکہ،بھارتی حکومت،میڈیا کا پروپیگنڈہ ایک بار پھر بے نقاب

    لال قلعہ کے قریب دھماکہ،بھارتی حکومت،میڈیا کا پروپیگنڈہ ایک بار پھر بے نقاب

    گزشتہ چند گھنٹوں میں ہندوستانی سرکاری اور پرو حکومتی میڈیا میں شائع ہونے والے الزامات نے ایک بار پھر سرحد پار “دہشت گردی” کے بیانیے کو زور پکڑنے کا موقع فراہم کیا۔ دہلی کے لال قلعے کے قریب کار دھماکے اور اسی کے بعد جاری کیے گئے دعوؤں کے تناظر میں یہ رپورٹ اُن دعوٰیوں، شواہد کی کمی، اعداد و شمار میں تضاد اور ممکنہ پروپیگنڈا پیٹرن کا تجزیہ پیش کرتی ہے۔

    ہندوستانی اداکاروں اور میڈیا کے مطابق بھارتی فورسز نے ایل او سی کے قریب دراندازی کی ایک کوشش ناکام بنائی، دو عسکریت پسند ہلاک ہوئے اور بعد ازاں بڑے پیمانے پر چھاپوں میں مجموعی طور پر 2,563 کلو گرام امونیم نائٹریٹ اور تقریباً 2,900 کلو گرام IED/دھماکہ خیز مواد ضبط کیا گیا ، جسے باضابطہ طور پر ایک “جال” یا ماڈیول کا حصہ قرار دیا گیا اور اس کا تعلق مبینہ طور پر جیشِ محمد سے جوڑا گیا ہے۔ اسی اثنا میں دہلی میں ایک کار دھماکہ بھی ہوا جس نے متعدد ہلاکتیں ہوئیں

    بھارتی مختلف نیوز سروسز اور پرو حکومتی اکاؤنٹس نے ضبط کیے جانے والے مادّوں کی مقدار کے بارے میں مختلف اعداد دیے ، کچھ نے 2,563 کلو گرام، دوسرے نے 2,900 کلو گرام اور تیسری جگہ مختلف اعداد سامنے آئے۔ ان دعووں کے ساتھ جو شکلیں اور بیانات شائع کیے گئے، ان میں کسی بھی طرح کی آزاد، غیرجانبدار فرانزک رپورٹس، لیبارٹری کے نتائج، یا چین آف کسٹڈی کی دستاویزات منظر عام پر نہیں آئیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے کلپس اور تصاویر کی صداقت بھی تفتیش کے بغیر ثابت نہیں کی گئی۔ اس تضاد اور شواہد کی عدم موجودگی نے حقائق کی آزاد تصدیق میں رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔

    یہ وہی حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے جو ماضی میں بھی دیکھی گئی: دھمکی کا شور ، ایک منظر نامہ (انکاؤنٹر/دراندازی) مبینہ شہادتیں/ثبوت کا اعلان، بڑے پیمانے پر چھاپے اور گرفتاریاں۔ پچھلے سالوں میں سوپور، پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات کے بعد بھی اسی رنگ میں بیانات اور کارروائیاں سامنے آئیں، جن پر بین الاقوامی سطح پر آزاد تصدیق طلب رہی یا بعد ازاں سوال اٹھائے گئے۔ کئی مبصرین اور حقوقِ انسانی گروپس کا ماننا ہے کہ ایسے واقعات کو مقامی آبادی اور اختلافِ رائے کو دباتے ہوئے داخلی ایجنڈے کو تقویت دینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ان دعووں کے فوراﹰ بعد کشمیری علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپے، گرفتاریوں اور تفتیشی کارروائیوں کی خبریں آئیں۔ ایسے آپریشنز میں اکثر آزاد اور غیرجانبدار مبصرین کی رسائی محدود رہتی ہے، جس کی وجہ سے انسانی حقوق کے حلقے خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں کہ “دہشت گردی” کا لیبل مقامی آبادی کے خلاف اجتماعی سزا کے تناظر میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں شفافیت اور ثالثی جانچ کا فقدان خطرناک نتائج کو جنم دے سکتا ہے۔

    اہم بین الاقوامی خبر رساں ادارے اور غیر جانبدار تجزیہ کار اس وقت تک مکمل، آزادانہ تصدیق کی تائید نہیں کر رہے جن بیانات کو بھارتی سرکاری ذرائع بڑے پیمانے پر پیش کر رہے ہیں۔ لال قلعہ کے واقعہ کی خبریں تو بین الاقوامی سطح پر رپورٹ ہو رہی ہیں، مگر منسلک دعووں ، خصوصاً ضبط ہونے والے مادّوں اور ان کے مبینہ روابط کی آزاد تصدیق ابھی دستیاب نہیں ہے۔ لہٰذا دعووں کو بطورِ حقائق قبول کرنے سے پہلے شواہد کا باضابطہ، شفاف اعلان ضروری ہے۔

    بھارتی حکام نے بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مادّہ ضبط کیے جانے اور دراندازی ناکام بنانے کے بارے میں دعوے کیے ہیں، تاہم اعداد و شمار میں مستقل مزاجی اور آزاد فرانزک شواہد دستیاب نہیں۔ دہلی کے ریڈ فورٹ کے نزدیکی کار دھماکے کی خبریں بین الاقوامی ایجنسیوں نے رپورٹ کی ہیں، مگر اس واقعہ اور ضبطی/انکاؤنٹر کے بیچ تعلق کو ثابت کرنے کے لیے مزید شفاف شواہد درکار ہیں۔ گذشتہ تجربات اور بیانیے دیکھ کر امکان ہے کہ سیاسی/سیکیورٹی ایجنڈے کے تناظر میں بیانیے کو ایک خاص سمت میں ہموار کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آبادی اور انسانی حقوق پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حقیقت جاننے کا واحد راستہ ہے، آزاد، غیرجانبدار فرانزک جانچ، شواہد کی مکمل دستاویزات، اور چین آف کسٹڈی کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ جب تک یہ شفافیت نہیں آتی، مباحثے اور قانونی کارروائیوں کو جذبات یا پراپیگنڈا پر مبنی بیانیوں کے بجائے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چلانا چاہیے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور آزاد میڈیا کو بھی آزادانہ رسائی دینی چاہیے تاکہ حقائق کو چھان کر عوام تک پہنچایا جا سکے۔

    بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور الزام تراشی کے لیے آپر یشن سندور کے خاتمے کے فوراً بعد اس بیانیے کو آگے بڑھا رہا ہے نام نہاد ایل او سی کی دراندازی اور د ھماکہ خیز مواد کا قبضہ ایک من گھڑت پرو پیگنڈہ ہے جس کا مقصد پاکستان کو ایک جارح کے طور پر پیش کرنا اور مقبو ضہ کشمیر میں ہندوستان کی فوجی تعمیر کو جائز قرار دینا ہے۔ دھمکیاں تیار کرکے اور شہریوں کو مجرم بنا کر، بھارت کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانا اور کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کو دبانا ہے۔

  • لاہور میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ، خاتون ورکر زخمی

    لاہور میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ، خاتون ورکر زخمی

    لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک فیملی نے پولیو ٹیم پر حملہ کردیا۔ اس حملے کے نتیجے میں ایک خاتون پولیو ورکر شدید زخمی ہوگئی جن کے سر پر اینٹ لگنے سے گہرا زخم آیا۔

    انسدادِ پولیو ٹیم معمول کے مطابق کوٹ لکھپت کے علاقے میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے پہنچی تھی۔ اس دوران ایک گھر کے افراد نے بچوں کو ویکسین پلوانے سے انکار کردیا۔ جب پولیو ٹیم کی خاتون ورکر نے والدین کو ویکسین کی اہمیت سمجھانے کی کوشش کی تو گھر میں موجود خاتون اور اس کی دو بیٹیوں نے غصے میں آکر ٹیم پر حملہ کردیا،عینی شاہدین کے مطابق جھگڑے کے دوران اینٹ پھینکی گئی جو خاتون پولیو ورکر کے سر پر لگی، نتیجتاً وہ موقع پر زخمی ہوگئیں۔ واقعے میں ٹیم کی اسکوٹی کو بھی نقصان پہنچا۔ اطلاع ملنے پر پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور زخمی ورکر کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا،پولیس ترجمان کے مطابق انسدادِ پولیو ٹیم کے انچارج کی درخواست پر واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں نامزد مرکزی خاتون اور اس کے دو بیٹے تاحال مفرور ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

  • لاہور،گھر میں سلنڈر دھماکہ،خاتون سمیت 2 کی موت

    لاہور،گھر میں سلنڈر دھماکہ،خاتون سمیت 2 کی موت

    لاہور کے علاقے ہربنس پورہ میں آج صبح افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک گھر میں گیس سلنڈر پھٹنے سے خوفناک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں خاتون سمیت دو افراد جاں بحق جبکہ پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ مکان کی پہلی منزل مکمل طور پر منہدم ہوگئی، جبکہ ملبے تلے متعدد افراد دب گئے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار، فائر بریگیڈ اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ریسکیو ذرائع کے مطابق ملبے سے دو لاشیں نکالی گئیں جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ پانچ زخمیوں کو تشویشناک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ کچن میں موجود گیس سلنڈر کے لیک ہونے کے باعث ہوا۔

    یہ افسوسناک واقعہ ایک مرتبہ پھر شہری علاقوں میں غیر معیاری گیس سلنڈرز کے استعمال اور حفاظتی اقدامات کی کمی کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم سرما کے آغاز پر گیس پریشر میں کمی کے باعث ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا جاتا ہے، اس لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے۔