Baaghi TV

Category: لاہور

  • نارنگ منڈی: یونس روڈ محمدی والا روڈ کی تعمیر و مرمت نہ ہو سکی

    نارنگ منڈی: یونس روڈ محمدی والا روڈ کی تعمیر و مرمت نہ ہو سکی

    را بگیروں کو شدید مشکلات کا سامنا حادثات میں اضافہ اہل علاقہ کا جلد تعمیر کا مطالبہ

    نارنگ منڈی ( محمد وقاص قمر) مصروف شاہراہ یونس روڈ اورمحمدی والا روڈ کی تعمیر مرمت نہ ہوسکی انتہائی ڈ اہم سڑکیں ہونے کے باوجود حکومت کی عدم توجہ آئے روز نئے مسائل کو جنم دے رہی ہے روزانہ ہزاروں افراد یہاں سے گزر کر منزل تک پہنچتے ہیں گہرے کھڑے اور نخستہ حال ہونے کی وجہ سے اہل علاقہ کیلئے بہت سے مشکلات ہیں متعدد بار آواز اٹھانے اور حکام بالا کے نوٹس میں ہونے کے باوجود اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہزاروں طلباء وطالبات یہاں سے گزر کر سکول اور کالجزر جاتے ہیں عرصہ دراز سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے خوفناک حادثات ہورہے ہیں اہل علاقہ نے وفاقی وزیر رانا تنویر سے مطالبہ کیا ہے کہ یونس روڈا اور محمدی والا روڈ کو جلد از جلد از سرنو تمیر کیا جائے۔

  • سیلاب سے متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے کے نوٹیفکیشن جاری کردیے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق 27 اضلاع کی 72 تحصیلوں کو موضع جات کے لحاظ سے آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 50 فیصد سے زیادہ متاثر ہونیوالے علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے، نوٹیفکیشن بورڈ آف ریونیو پنجاب اور پی ڈی ایم اے کے اشتراک سے جاری کیا گیا ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ فیصلہ پنجاب نیشنل کلیمیٹیز پری وینشن اینڈ ریلیف ایکٹ 1958ء کے تحت کیا گیا، ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ علاقوں میں فوری بحالی اور امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانے اور مالی امداد کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ ریلیف کمشنر پنجاب کی جانب سے نگرانی کیلئے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، رواں سال خریف سیزن کے دوران لینڈ ریونیو اور آبیانہ کی وصولی نہیں کی جائے گی، جن کسانوں کا نقصان ہوا ہے انہیں زرعی قرضوں میں نرمی، معافی یا تاخیر کی سہولت مل سکتی ہے۔عرفان کاٹھیا کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے لئے ریلیف کیمپس کو یقینی بنایا جائے گا، پی ڈی ایم اے اور ضلعی حکومت ان علاقوں میں سڑکوں، نکاسی آب، اسکولوں، مراکز صحت اور گھروں کی بحالی کیلئے منصوبے شروع کرے گی۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب سمیت ہائی پروفائل شخصیات کی سیکیورٹی اسکریننگ کا آغاز

    وزیراعلیٰ پنجاب سمیت ہائی پروفائل شخصیات کی سیکیورٹی اسکریننگ کا آغاز

    پنجاب حکومت نے صوبے میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید مؤثر بنانے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت دیگر ہائی پروفائل شخصیات کی سیکیورٹی اسکریننگ شروع کردی ہے۔

    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی جانب سے وزیراعلیٰ مریم نواز کی حفاظت پر تعینات تمام اہلکاروں، ڈرائیورز، کمانڈوز اور دیگر سیکیورٹی اسٹاف کی مکمل اسکریننگ کی جارہی ہے۔ اس عمل میں اہلکاروں کے ذاتی و پیشہ ورانہ ریکارڈ، خاندانی پس منظر، سماجی روابط اور سیکیورٹی کلیئرنس کی از سر نو جانچ شامل ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے علاوہ دیگر اہم سرکاری شخصیات، وزراء اور صوبائی کابینہ کے اراکین کی سیکیورٹی ٹیموں کی بھی جانچ کی جارہی ہے تاکہ کسی ممکنہ خطرے یا اندرونی کمزوری کو بروقت روکا جاسکے۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں اور بدلتے سیکیورٹی چیلنجز کے باعث صوبے میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت اور جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بلا خوف و خطر اپنے عوامی فرائض سرانجام دے رہی ہیں، تاہم حفاظتی ادارے کسی بھی خطرے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مکمل الرٹ ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق اس اسکریننگ کا مقصد صرف موجودہ عملے کی تصدیق نہیں بلکہ آئندہ تقرریوں کے لیے بھی سیکیورٹی اسٹینڈرڈز طے کرنا ہے، تاکہ صوبے کی اعلیٰ قیادت اور حساس سرکاری شخصیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔اس عمل میں حساس ادارے بھی شریک ہیں، جو بایومیٹرک تصدیق، خفیہ پس منظر رپورٹنگ، اور اہلکاروں کے بینک و کمیونیکیشن ڈیٹا کی جانچ جیسے اقدامات پر عمل کررہے ہیں۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق سیکیورٹی پلان میں کسی بھی قسم کی سیاسی یا ذاتی وابستگی کے بجائے صرف پیشہ ورانہ صلاحیت، دیانت داری اور کلیئرنس کو بنیاد بنایا جائے گا۔

  • منی لانڈرنگ کیس،پرویز الہیٰ کی بریت کی درخواست پر فیصلہ مؤخر

    منی لانڈرنگ کیس،پرویز الہیٰ کی بریت کی درخواست پر فیصلہ مؤخر

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی منی لانڈرنگ کیس میں بریت کی درخواست پر فیصلہ مؤخر کر دیا گیا

    سپیشل سینٹرل عدالت لاہور میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی اور دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی، سماعت جج عارف خان نیازی نے کی، عدالت نے پرویز الہٰی کی بریت کی درخواست پر فیصلہ مؤخر کر دیا،پرویز الہٰی کی جانب سے ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ قریبی رشتہ دار کی وفات کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے، عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے پرویز الہٰی کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی،کیس کے ریکارڈ کے مطابق ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس کا چالان عدالت میں جمع کروا رکھا ہے، عدالت کی جانب سے بریت کی درخواست پر فیصلہ بعد میں سنانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا ایئر پنجاب کو جلد فعال کرنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب کا ایئر پنجاب کو جلد فعال کرنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ایئر پنجاب کو جلد از جلد فعال کرنے کا حکم دے دیا

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں ایئرپنجاب پراجیکٹ پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، ایئر پنجاب کے فیز ون کے لئے کارروائی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کر دی،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ایئر پنجاب پراجیکٹ سے متعلق بریفنگ دی گئی، لاہور سے اسلام آباد ایئرپنجاب کے فلائٹ روٹ پر اتفاق کر لیا گیا، ایئر پنجاب کے لیے جدید اور آرام دہ طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں گے،اجلاس میں مری گلاس ٹرین پراجیکٹ کا بھی جائزہ لیا گیا، وزیراعلیٰ نے مری گلاس ٹرین پراجیکٹ کے لئے ممکنہ اقدامات کی ہدایت کر دی۔

  • اسموگ نے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

    اسموگ نے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

    پنجاب کے مختلف شہروں میں اسموگ نے ایک بار پھر پنجے گاڑ لیے ہیں اور فضائی آلودگی کی صورتحال خطرناک حدوں کو چھونے لگی ہے۔ محکمہ ماحولیات اور محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے مشرقی اضلاع میں فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

    لاہور کا ایئرکوالٹی انڈیکس (AQI) ہفتے کی صبح 363 تک پہنچ گیا جو کہ انسانی صحت کے لیے نہایت مضر قرار دیا جاتا ہے، جبکہ فیصل آباد میں ایئرکوالٹی انڈیکس 500 کی انتہائی خطرناک سطح تک جاپہنچا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سطح عالمی معیار کے مطابق “Hazardous” زمرے میں آتی ہے، جس کے اثرات بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں پر فوری طور پر پڑ سکتے ہیں۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ صوبے میں خشک موسم، بارشوں کی عدم دستیابی اور فضائی آلودگی کے بڑھتے اخراجات نے صورتحال کو مزید گھمبیر کردیا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور قصور سمیت مشرقی پنجاب کے بیشتر اضلاع اسموگ کی زد میں ہیں۔اسموگ کے باعث شہریوں کو آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، سانس لینے میں دشواری اور تھکن جیسی علامات کا سامنا ہے۔ اسپتالوں میں سانس اور دمے کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔

    ماہرینِ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال سے پرہیز کریں۔

    دوسری جانب، حکومتِ پنجاب نے اسموگ سے نمٹنے کے لیے انسدادِ آلودگی مہم تیز کرنے، بھٹوں اور فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف کارروائیوں میں شدت لانے اور صنعتی اخراجات پر کڑی نظر رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔محکمہ ماحولیات کے مطابق اگر آئندہ چند دنوں میں بارش نہ ہوئی تو فضائی آلودگی کی شدت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے روزمرہ زندگی اور ٹریفک نظام بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

  • پنجاب ،اسلحہ کلچر کا خاتمہ، سالانہ اسلحہ لائسنس فیس میں 100 فیصد اضافہ کا فیصلہ

    پنجاب ،اسلحہ کلچر کا خاتمہ، سالانہ اسلحہ لائسنس فیس میں 100 فیصد اضافہ کا فیصلہ

    پنجاب کی سرزمین سے اسلحہ اورسمگلنگ کلچر کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ڈرون پولیسنگ اور نیا مربوط سکیورٹی اینڈ آرمز ریگولیشن سسٹم تیار کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت امن امان سے متعلق مسلسل چوتھا غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا جس میں پنجاب کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لئے اہم ترین فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس میں ڈرون پولیسنگ،مربوط سکیورٹی اور آرمز ریگولیشن کے نئے قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر حکومت پنجاب کا صوبے بھر میں موجود 10 لاکھ لائسنس یافتہ اسلحہ کی ازسر نو جانچ پڑتال اور سخت سکروٹنی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب سَرینڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025 ء متعارف کرایا جائے گا۔ سَرینڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025 تین مراحل میں نافذ کیا جائے گا۔ سَرینڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025 ء ایکٹ اسلحہ کی واپسی، تلفی اور اسلحہ قوانین کے نفاذ پر توجہ دے گی۔ پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو15 دن کے اندراسلحہ واپس کرنے کی ہدایت کی گئی اور پنجاب میں لائسنس یافتہ اسلحہ کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی۔ پنجاب میں لائسنس یافتہ اسلحہ کے مالک اور جاری کرنے والے کی تصدیق کی جائے گی۔ پنجاب میں جاری ہونے والے اسلحے کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں وفاقی اسلحہ لائسنس رکھنے والوں کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی اوراس سلسلے میں پنجاب حکومت کا وفاقی حکومت سے رابطہ کیا جائے گا۔ پنجاب میں صرف پولیس اہلکار اور رجسٹرڈ سیکیورٹی گارڈز کو اسلحہ رکھنے کی اجازت ہوگی۔ پنجاب میں نجی سیکیورٹی کمپنیوں کو رجسٹر کیا جائے گا اور ان کے لیے باقاعدہ ضوابط بنائے جائیں گے۔ اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ نجی سیکیورٹی گارڈز کو پنجاب پولیس ہیلپ لائن 15 سے منسلک کیا جائے گا۔ انسٹنٹ پولیسنگ کے لئے پنجاب پولیس میں سٹینڈرڈ سیکشن بنایا جائے گا۔ لاہور میں کرائم سین پر جلد از جلد رسائی کے لئے ڈرون پولیسنگ کا پائلٹ پراجیکٹ لانچ کیا جائے گا۔ ڈرون پولیسنگ کسی بھی جرم یا ہنگامی صورتحال پر فوری، منظم اور ڈیجیٹل ردِعمل یقینی بنائے گا۔ جیسے ہی جرم کی اطلاع موصول ہوگی پولیس ڈرون کرائم سین پر فوری پہنچ جائے گا تاکہ مجرم کو فوری ٹریک کیا جا سکے۔ ڈرون پولیسنگ کے اس نظام کو بعد ازاں پورے صوبے میں وسعت دی جائے گی۔ پنجاب کے 14 اہم داخلی و خارجی مقامات پر جدید اسلحہ اسکینرز نصب کیے جائیں گے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اسلحہ کی اسمگلنگ کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گااور اس جرم کی سزا 14 سال قید مقررکی جائے گی۔ سالانہ اسلحہ لائسنس فیس میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے گا تاکہ اسلحہ کلچر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

  • پنجاب میں جرائم کی شرح میں 70 فیصد کمی ہوئی،آئی جی پنجاب

    پنجاب میں جرائم کی شرح میں 70 فیصد کمی ہوئی،آئی جی پنجاب

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے کہا ہے کہ سعد اور انس رضوی کو ساتھی چھڑا کر لے گئے، پولیس یا کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے پاس نہیں، ہم خود انہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی پنجاب عثمان انور کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے چارج لیتے ہی پولیس پر اپنی خصوصی نظر رکھی، وزیر اعلیٰ صاحبہ نے پولیس پر اربوں روپے کی انویسٹمنٹ کی، ایک محکمہ سی سی ڈی بنایا، ہم نے اپنے بہادر افسر سُہیل ظفر چٹھہ کو اُس کا سربراہ بنایا،پنجاب میں جرائم میں 70% کمی آئی ہے،اس پر سی سی ڈی اور انکی ٹیم کو شاباش،پنجاب میں ڈالہ کلچر اور اسلحے کی نمائش سے پاک کررہے ہیں،پنجاب سے شوٹر اور گینگ مافیاز کا خاتمہ کر رہے ہیں،

    انسپکٹر جنرل (ایڈیشنل) کاؤنٹر کرائم ڈیپارٹمنٹ سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس میں کاؤنٹر کرائم ڈیپارٹمنٹ کے قیام کے لیے نئی قانون سازی مکمل کر لی گئی ہے۔ یہ ادارہ صوبے بھر میں جرائم کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت کارروائیوں میں مصروف ہے۔ صوبہ پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق قتل کے مقدمات میں 49 فیصد جبکہ گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 62 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبائی حکومت غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہے۔ غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے سے صوبے میں جرائم کی شرح مزید 75 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ شہریوں کو پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے غیر قانونی اسلحے کو ازخود جمع کرادیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مقررہ مدت میں اسلحہ جمع کرانے والوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

    سہیل ظفر چٹھہ نے مزید بتایا کہ نئی قانون سازی کے تحت اسلحہ لائسنس منسوخ کیے جائیں گے، اور پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں کے لیے سخت ضوابط متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ ان ضوابط میں نئی بھرتی کے طریقۂ کار، لائسنسنگ فریم ورک اور مانیٹرنگ میکانزم شامل ہوں گے تاکہ سیکیورٹی کے معیار اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ کاؤنٹر کرائم ڈیپارٹمنٹ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی اور جدید تحقیقاتی تکنیکوں کے ذریعے پنجاب کو جرائم سے پاک صوبہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

  • انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث بدنام زمانہ اشتہاری سمیت 6 ملزمان گرفتار

    انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث بدنام زمانہ اشتہاری سمیت 6 ملزمان گرفتار

    انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث بدنام زمانہ اشتہاری سمیت 6 ملزمان گرفتارکر لئے گئے

    ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور کی بڑی کاروائیاں،ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار کی ہدایت پر گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے،گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث گینگ کے اہم سرغنہ سمیت 6 ملزمان گرفتار کر لیے گئے،گرفتار ملزمان میں محمد اطہر ، بابر مسیح، محمد عمران ،ندیم عباس، بلال احمد اور اعجاز احمد کے نام سے ہوئی ہے ،گرفتار ملزمان میں ڈونرز، ایجنٹس اور پرائیویٹ لیبارٹریز کے ملازمین شامل ہیں ،ملزمان کو راولپنڈی اور اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا ہے ،گرفتار ملزمان انسانی اعضاء کی غیر قانونی خریدوفروخت اور پیوند کاری میں ملوث پائے گئے ہیں ، ملزم بابر مسیح ایف آئی اے لاہور کو 3 مقدمات میں سال 2021 سے مطلوب تھا ،ملزمان مختلف مریضوں کے گردے پیوند کروانے کے لیے جعلی ٹیشو میچنگ رپورٹس بھی تیار کروانے میں ملوث ہیں

    ملزمان نے مریضوں سے لاکھوں روپے بٹورے اور گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کے لیے پرائیویٹ اسپتالوں کا سہارا لیا،ابتدائی تفتیش کے مطابق اس مکروہ دھندے میں متعدد افراد اور سہولت کار ملوث ہیں،ملزمان سے تفتیش کے بعد دیگر ملزمان اور سہولت کاروں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی جائے گی،ملزمان کو گھناؤنے فعل پر ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

  • نیب آفس حملہ کیس، مریم نواز مقدمے سے بری

    نیب آفس حملہ کیس، مریم نواز مقدمے سے بری

    لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو نیب آفس حملے کے مقدمے سے باعزت بری کردیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ جمعے کے روز محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے جاری کیا۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق، پراسیکیوشن کی جانب سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست منظور کر لی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کے پاس مریم نواز یا دیگر ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے جن سے نیب آفس پر حملے یا پتھراؤ میں ملوث ہونے کا ثبوت مل سکے۔پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی تحقیقات کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ مریم نواز سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوسکے۔ رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ واقعے کے وقت ہجوم میں شامل افراد کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی تھی، اور کسی قسم کے شواہد یا ویڈیو ریکارڈنگ سے مریم نواز کی شمولیت ثابت نہیں ہوئی۔

    یاد رہے کہ سال 2020 میں تھانہ چوہنگ، لاہور میں یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں پر نیب آفس لاہور پر پتھراؤ، توڑ پھوڑ اور اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مریم نواز نیب آفس میں اپنی پیشی کے لیے پہنچی تھیں، جہاں لیگی کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔عدالتی فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنان نے مریم نواز کی بریت کو "حق کی فتح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے جھوٹے مقدمات کا انجام بالآخر انصاف کی صورت میں سامنے آیا۔ذرائع کے مطابق، عدالت کے فیصلے کے بعد مریم نواز نے کہا کہ ،جھوٹ اور انتقام کی سیاست ہمیشہ ناکام ہوگی، سچ کو چھپایا نہیں جا سکتا