Baaghi TV

Category: لاہور

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا ایئر پنجاب کو جلد فعال کرنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب کا ایئر پنجاب کو جلد فعال کرنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ایئر پنجاب کو جلد از جلد فعال کرنے کا حکم دے دیا

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں ایئرپنجاب پراجیکٹ پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، ایئر پنجاب کے فیز ون کے لئے کارروائی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کر دی،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ایئر پنجاب پراجیکٹ سے متعلق بریفنگ دی گئی، لاہور سے اسلام آباد ایئرپنجاب کے فلائٹ روٹ پر اتفاق کر لیا گیا، ایئر پنجاب کے لیے جدید اور آرام دہ طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں گے،اجلاس میں مری گلاس ٹرین پراجیکٹ کا بھی جائزہ لیا گیا، وزیراعلیٰ نے مری گلاس ٹرین پراجیکٹ کے لئے ممکنہ اقدامات کی ہدایت کر دی۔

  • اسموگ نے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

    اسموگ نے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

    پنجاب کے مختلف شہروں میں اسموگ نے ایک بار پھر پنجے گاڑ لیے ہیں اور فضائی آلودگی کی صورتحال خطرناک حدوں کو چھونے لگی ہے۔ محکمہ ماحولیات اور محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے مشرقی اضلاع میں فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

    لاہور کا ایئرکوالٹی انڈیکس (AQI) ہفتے کی صبح 363 تک پہنچ گیا جو کہ انسانی صحت کے لیے نہایت مضر قرار دیا جاتا ہے، جبکہ فیصل آباد میں ایئرکوالٹی انڈیکس 500 کی انتہائی خطرناک سطح تک جاپہنچا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سطح عالمی معیار کے مطابق “Hazardous” زمرے میں آتی ہے، جس کے اثرات بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں پر فوری طور پر پڑ سکتے ہیں۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ صوبے میں خشک موسم، بارشوں کی عدم دستیابی اور فضائی آلودگی کے بڑھتے اخراجات نے صورتحال کو مزید گھمبیر کردیا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور قصور سمیت مشرقی پنجاب کے بیشتر اضلاع اسموگ کی زد میں ہیں۔اسموگ کے باعث شہریوں کو آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، سانس لینے میں دشواری اور تھکن جیسی علامات کا سامنا ہے۔ اسپتالوں میں سانس اور دمے کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔

    ماہرینِ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال سے پرہیز کریں۔

    دوسری جانب، حکومتِ پنجاب نے اسموگ سے نمٹنے کے لیے انسدادِ آلودگی مہم تیز کرنے، بھٹوں اور فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف کارروائیوں میں شدت لانے اور صنعتی اخراجات پر کڑی نظر رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔محکمہ ماحولیات کے مطابق اگر آئندہ چند دنوں میں بارش نہ ہوئی تو فضائی آلودگی کی شدت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے روزمرہ زندگی اور ٹریفک نظام بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

  • پنجاب ،اسلحہ کلچر کا خاتمہ، سالانہ اسلحہ لائسنس فیس میں 100 فیصد اضافہ کا فیصلہ

    پنجاب ،اسلحہ کلچر کا خاتمہ، سالانہ اسلحہ لائسنس فیس میں 100 فیصد اضافہ کا فیصلہ

    پنجاب کی سرزمین سے اسلحہ اورسمگلنگ کلچر کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ڈرون پولیسنگ اور نیا مربوط سکیورٹی اینڈ آرمز ریگولیشن سسٹم تیار کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت امن امان سے متعلق مسلسل چوتھا غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا جس میں پنجاب کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لئے اہم ترین فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس میں ڈرون پولیسنگ،مربوط سکیورٹی اور آرمز ریگولیشن کے نئے قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر حکومت پنجاب کا صوبے بھر میں موجود 10 لاکھ لائسنس یافتہ اسلحہ کی ازسر نو جانچ پڑتال اور سخت سکروٹنی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب سَرینڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025 ء متعارف کرایا جائے گا۔ سَرینڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025 تین مراحل میں نافذ کیا جائے گا۔ سَرینڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025 ء ایکٹ اسلحہ کی واپسی، تلفی اور اسلحہ قوانین کے نفاذ پر توجہ دے گی۔ پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو15 دن کے اندراسلحہ واپس کرنے کی ہدایت کی گئی اور پنجاب میں لائسنس یافتہ اسلحہ کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی۔ پنجاب میں لائسنس یافتہ اسلحہ کے مالک اور جاری کرنے والے کی تصدیق کی جائے گی۔ پنجاب میں جاری ہونے والے اسلحے کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں وفاقی اسلحہ لائسنس رکھنے والوں کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی اوراس سلسلے میں پنجاب حکومت کا وفاقی حکومت سے رابطہ کیا جائے گا۔ پنجاب میں صرف پولیس اہلکار اور رجسٹرڈ سیکیورٹی گارڈز کو اسلحہ رکھنے کی اجازت ہوگی۔ پنجاب میں نجی سیکیورٹی کمپنیوں کو رجسٹر کیا جائے گا اور ان کے لیے باقاعدہ ضوابط بنائے جائیں گے۔ اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ نجی سیکیورٹی گارڈز کو پنجاب پولیس ہیلپ لائن 15 سے منسلک کیا جائے گا۔ انسٹنٹ پولیسنگ کے لئے پنجاب پولیس میں سٹینڈرڈ سیکشن بنایا جائے گا۔ لاہور میں کرائم سین پر جلد از جلد رسائی کے لئے ڈرون پولیسنگ کا پائلٹ پراجیکٹ لانچ کیا جائے گا۔ ڈرون پولیسنگ کسی بھی جرم یا ہنگامی صورتحال پر فوری، منظم اور ڈیجیٹل ردِعمل یقینی بنائے گا۔ جیسے ہی جرم کی اطلاع موصول ہوگی پولیس ڈرون کرائم سین پر فوری پہنچ جائے گا تاکہ مجرم کو فوری ٹریک کیا جا سکے۔ ڈرون پولیسنگ کے اس نظام کو بعد ازاں پورے صوبے میں وسعت دی جائے گی۔ پنجاب کے 14 اہم داخلی و خارجی مقامات پر جدید اسلحہ اسکینرز نصب کیے جائیں گے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اسلحہ کی اسمگلنگ کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گااور اس جرم کی سزا 14 سال قید مقررکی جائے گی۔ سالانہ اسلحہ لائسنس فیس میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے گا تاکہ اسلحہ کلچر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

  • پنجاب میں جرائم کی شرح میں 70 فیصد کمی ہوئی،آئی جی پنجاب

    پنجاب میں جرائم کی شرح میں 70 فیصد کمی ہوئی،آئی جی پنجاب

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے کہا ہے کہ سعد اور انس رضوی کو ساتھی چھڑا کر لے گئے، پولیس یا کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے پاس نہیں، ہم خود انہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی پنجاب عثمان انور کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے چارج لیتے ہی پولیس پر اپنی خصوصی نظر رکھی، وزیر اعلیٰ صاحبہ نے پولیس پر اربوں روپے کی انویسٹمنٹ کی، ایک محکمہ سی سی ڈی بنایا، ہم نے اپنے بہادر افسر سُہیل ظفر چٹھہ کو اُس کا سربراہ بنایا،پنجاب میں جرائم میں 70% کمی آئی ہے،اس پر سی سی ڈی اور انکی ٹیم کو شاباش،پنجاب میں ڈالہ کلچر اور اسلحے کی نمائش سے پاک کررہے ہیں،پنجاب سے شوٹر اور گینگ مافیاز کا خاتمہ کر رہے ہیں،

    انسپکٹر جنرل (ایڈیشنل) کاؤنٹر کرائم ڈیپارٹمنٹ سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس میں کاؤنٹر کرائم ڈیپارٹمنٹ کے قیام کے لیے نئی قانون سازی مکمل کر لی گئی ہے۔ یہ ادارہ صوبے بھر میں جرائم کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت کارروائیوں میں مصروف ہے۔ صوبہ پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق قتل کے مقدمات میں 49 فیصد جبکہ گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 62 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبائی حکومت غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہے۔ غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے سے صوبے میں جرائم کی شرح مزید 75 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ شہریوں کو پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے غیر قانونی اسلحے کو ازخود جمع کرادیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مقررہ مدت میں اسلحہ جمع کرانے والوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

    سہیل ظفر چٹھہ نے مزید بتایا کہ نئی قانون سازی کے تحت اسلحہ لائسنس منسوخ کیے جائیں گے، اور پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں کے لیے سخت ضوابط متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ ان ضوابط میں نئی بھرتی کے طریقۂ کار، لائسنسنگ فریم ورک اور مانیٹرنگ میکانزم شامل ہوں گے تاکہ سیکیورٹی کے معیار اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ کاؤنٹر کرائم ڈیپارٹمنٹ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی اور جدید تحقیقاتی تکنیکوں کے ذریعے پنجاب کو جرائم سے پاک صوبہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

  • انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث بدنام زمانہ اشتہاری سمیت 6 ملزمان گرفتار

    انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث بدنام زمانہ اشتہاری سمیت 6 ملزمان گرفتار

    انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث بدنام زمانہ اشتہاری سمیت 6 ملزمان گرفتارکر لئے گئے

    ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور کی بڑی کاروائیاں،ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار کی ہدایت پر گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے،گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث گینگ کے اہم سرغنہ سمیت 6 ملزمان گرفتار کر لیے گئے،گرفتار ملزمان میں محمد اطہر ، بابر مسیح، محمد عمران ،ندیم عباس، بلال احمد اور اعجاز احمد کے نام سے ہوئی ہے ،گرفتار ملزمان میں ڈونرز، ایجنٹس اور پرائیویٹ لیبارٹریز کے ملازمین شامل ہیں ،ملزمان کو راولپنڈی اور اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا ہے ،گرفتار ملزمان انسانی اعضاء کی غیر قانونی خریدوفروخت اور پیوند کاری میں ملوث پائے گئے ہیں ، ملزم بابر مسیح ایف آئی اے لاہور کو 3 مقدمات میں سال 2021 سے مطلوب تھا ،ملزمان مختلف مریضوں کے گردے پیوند کروانے کے لیے جعلی ٹیشو میچنگ رپورٹس بھی تیار کروانے میں ملوث ہیں

    ملزمان نے مریضوں سے لاکھوں روپے بٹورے اور گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کے لیے پرائیویٹ اسپتالوں کا سہارا لیا،ابتدائی تفتیش کے مطابق اس مکروہ دھندے میں متعدد افراد اور سہولت کار ملوث ہیں،ملزمان سے تفتیش کے بعد دیگر ملزمان اور سہولت کاروں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی جائے گی،ملزمان کو گھناؤنے فعل پر ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

  • نیب آفس حملہ کیس، مریم نواز مقدمے سے بری

    نیب آفس حملہ کیس، مریم نواز مقدمے سے بری

    لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو نیب آفس حملے کے مقدمے سے باعزت بری کردیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ جمعے کے روز محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے جاری کیا۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق، پراسیکیوشن کی جانب سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست منظور کر لی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کے پاس مریم نواز یا دیگر ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے جن سے نیب آفس پر حملے یا پتھراؤ میں ملوث ہونے کا ثبوت مل سکے۔پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی تحقیقات کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ مریم نواز سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوسکے۔ رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ واقعے کے وقت ہجوم میں شامل افراد کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی تھی، اور کسی قسم کے شواہد یا ویڈیو ریکارڈنگ سے مریم نواز کی شمولیت ثابت نہیں ہوئی۔

    یاد رہے کہ سال 2020 میں تھانہ چوہنگ، لاہور میں یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں پر نیب آفس لاہور پر پتھراؤ، توڑ پھوڑ اور اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مریم نواز نیب آفس میں اپنی پیشی کے لیے پہنچی تھیں، جہاں لیگی کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔عدالتی فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنان نے مریم نواز کی بریت کو "حق کی فتح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے جھوٹے مقدمات کا انجام بالآخر انصاف کی صورت میں سامنے آیا۔ذرائع کے مطابق، عدالت کے فیصلے کے بعد مریم نواز نے کہا کہ ،جھوٹ اور انتقام کی سیاست ہمیشہ ناکام ہوگی، سچ کو چھپایا نہیں جا سکتا

  • نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران

    نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی زیر صدارت پولیس لائنز قلعہ گجرسنگھ میں اہم اجلاس ہوا

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایس پی سیکیورٹی، ڈویژنل ایس پیز، سرکل افسران، ایس ایچ اوز اور انچارج چوکیوں کے ساتھ سیکیورٹی صورتحال اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈی آئی جی آپریشنز نے ہدایت کی کہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ وال چاکنگ اور انتشار پھیلانے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے۔ غیر قانونی رہائش پذیر غیر ملکی خصوصاً افغان باشندوں اور انہیں پناہ یا مالی مدد دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ محکمہ اوقاف کی جائیدادوں پر غیر قانونی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ پتنگ بازی، اسلحہ کی نمائش اور ہوائی فائرنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔ ڈولفن اسکواڈ سمیت تمام پٹرولنگ یونٹس سٹاپ اینڈ سرچ آپریشنز میں مزید تیزی لائیں۔فیصل کامران نے واضح کیا کہ قیمتی انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

  • اپنی چھت اپنا گھر،عام آدمی کو احساس دلایا  کہ ریاست واقعی ماں کے جیسی ہے،مریم نواز

    اپنی چھت اپنا گھر،عام آدمی کو احساس دلایا کہ ریاست واقعی ماں کے جیسی ہے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ پراجیکٹ کے تحت ایک لاکھ گھر کا ہدف پورا ہونے پر اظہارِ تشکر کیا ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ پراجیکٹ کے تحت گھر بنانے والے تمام افراد کو مبارکباد دی اور 10 ماہ میں ایک سال کا ہدف پورا کرنے پر پراجیکٹ کی ٹیم کو شاباش دی۔پراجیکٹ کے تحت 100835 خاندانوں کو 120 ارب روپے کے قرض جاری کیے گئے، 22305 گھر آباد ہو چکے جبکہ 64190 گھر تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔مریم نواز شریف نے کہا کہ ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ پراجیکٹ نے ہاؤسنگ کے شعبے میں نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔غریب آدمی کو چھت ملنے کے خواب کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ غریب آدمی کے لیے گھر کا خواب نواز شریف نے دیکھا اور کاوشوں کی توفیق اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی،10 ماہ میں پراجیکٹ کے لیے ایک لاکھ قرضوں کا شفاف اجراء قابلِ تقلید مثال ہے۔ 5 سال میں 5 لاکھ گھروں کا ہدف پورا کیا جائے گا۔ ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ پراجیکٹ نے پہلی مرتبہ عام آدمی کو احساس دلایا ہے کہ ریاست واقعی ماں کے جیسی ہے۔

  • پنجاب میں امن و امان کے لیے سخت اقدامات، لاؤڈ اسپیکر ایکٹ سمیت کئی فیصلے

    پنجاب میں امن و امان کے لیے سخت اقدامات، لاؤڈ اسپیکر ایکٹ سمیت کئی فیصلے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت لاہور میں امن و امان سے متعلق اجلاس میں صوبے بھر میں لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے سخت نفاذ اور اس پر مزید کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

    اجلاس میں ہر ضلع میں ’وِسل بلور سیل‘ قائم کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ انتہا پسند جماعتوں اور غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کے لیے پنجاب پولیس ہیلپ لائن 15 پر خصوصی سیل قائم کر دیا گیا۔اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ انتہا پسند گروہوں اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی اطلاع فوری طور پر 15 پر دیں۔ صوبے کو غیر قانونی اسلحے سے پاک کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں واضح کیا گیا کہ کومبنگ آپریشنز اور کارروائیاں صرف مخصوص انتہا پسند ذہنیت کے خلاف ہوں گی، کسی فرقے یا عقیدے کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

    ڈیورنڈ لائن پرطالبان کا اعتراض اور پاکستان کا مؤقف، مبشر لقمان کا تاریخی تجزیہ

    مزید فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں ڈالا کلچر، بدمعاشی اور مافیا کلچر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، امن کمیٹیوں کو مؤثر اور فعال بنانے کی ہدایت بھی دی گئی۔اجلاس میں ہر شہری تک موبائل پولیس اسٹیشن کی خدمات پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ ضلعی انتظامیہ کو روزانہ غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشنز کی رپورٹس اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں عوام کو خبردار کیا گیا کہ غیر قانونی رہائشیوں کو مکان یا دکان کرائے پر دینے والوں کے خلاف کرایہ داری اور پاسپورٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی، جبکہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔

    مزید یہ کہ صوبے میں سوشل میڈیا پر شرانگیزی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی، اور غیر قانونی اجتماعات یا بازار بند کرانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی.

    کسی مدرسے یا مسجد کو بند نہیں کیا ، پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے: محسن نقوی

    پاکستان کے فضائی حملوں میں دہشت گرد کمانڈر گل بہادر ساتھیوں سمیت ہلاک

    اسرائیلی پارلیمنٹ کی مغربی کنارے کے انضمام سے متعلق بل کی منظوری

  • بچی کو انسان نما جن لے گئے،آئی جی پنجاب کوعدالت سے ملی مہلت

    بچی کو انسان نما جن لے گئے،آئی جی پنجاب کوعدالت سے ملی مہلت

    کاہنہ سے لاپتہ خاتون کی بازیابی کی درخواست کی سماعت کے دوران آئی جی پنجاب نے کہا کہ بچی کو انسان نما جن لے کر گئے ہیں، بچی کا نادرا ریکارڈ موجود نہیں، تلاش کررہے ہیں کچھ مہلت دی جائے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں کاہنہ سے مبینہ اغواء ہونیوالی خاتون فوزیہ کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی، آئی جی پنجاب پیش ہوگئے، عدالت نے بازیابی کیئے آئی جی پنجاب کو 10 روز کی مہلت دے دی۔ دوران سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے آئی جی سے پوچھا کہ آئی جی صاحب بتائیں یہ کون سے جن تھے جو بچی کو اغواء کرکے لے گئے؟، کیا یہ جن انسان تھے جہنوں نے بچی کو اغواء کیا؟۔ آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ یہ جن انسان نما تھے جو بچی کو لے کر گئے، بچی کا نادرا میں ریکارڈ رجسٹرڈ نہیں تھا، ہم نے تمام شیلٹر ہومز کا دورہ کیا لیکن بچی نہیں ملی۔

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے کہا کہ 2019ء میں بچی اپنے گھر سے مبینہ طور پر اغواء ہوئی، بچی نے جو جو موبائل فون استعمال کیا وہ نمبرز حاصل کرلیے ہیں، ہم نے لاوارث لاشوں کی شناخت کیلئے ٹیسٹ بھی کیے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایدھی ہومز سے بھی بچی کی بازیابی کیلئے رابطہ کیا مگر کامیابی نہیں ملی، معاشرے میں ایسے افراد ہیں جو بچیوں کو پنجاب سے سندھ اور بلوچستان لے جاتے ہیں۔ڈاکٹر عثمان انور نے مزید کہا کہ ملزمان فیس بک اور سوشل میڈیا ایپس سے بچیوں کو ورغلا کرلے جاتے ہیں، جیو فینسنگ کی جارہی ہے، ہمارے پاس فریش رپورٹس آئی ہیں جس پر مزید تفتیش کیلئے مہلت دی جائے۔