Baaghi TV

Category: لاہور

  • لاہور:چڑیا گھر کے شیروں اور شیرنیوں  کے ڈی این اے کروانے کا فیصلہ

    لاہور:چڑیا گھر کے شیروں اور شیرنیوں کے ڈی این اے کروانے کا فیصلہ

    لاہور:چڑیا گھر کے شیروں اور شیرنیوں کے ڈی این اے کروانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ، اطلاعات ہیں کہ لاہور چڑیا گھر اور سفاری پارک میں شیروں اور ٹائیگرز کا ڈی این اے کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ان کے باہمی رشتوں، نسل اور خاندان کی درست معلومات حاصل کی جا سکیں۔

    پاکستان میں سرکاری چڑیا گھروں میں پہلی بار ان جانوروں کے ڈی این اے کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا جس کے لیے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز کے ماہرین کی مدد بھی لی جا سکے گی۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے شیروں کی صحت، ان کی درست جوڑا بندی اور بہترین افزائش لی جا سکے گی۔

    لاہور چڑیا گھر اور سفاری پارک میں شیروں اور ٹائیگرز کی بڑی تعداد موجود ہے۔ تاہم محکمے کے پاس سائنسی بنیادوں پر ایسا ریکارڈ موجود نہیں ہے کہ کون سے شیر اور ٹائیگر ایک ہی فیملی سے ہیں، تاہم اب لاہور زو مینجمنٹ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ چڑیا گھر اور سفاری پارک میں موجود تمام شیروں اور ٹائیگرز کا ڈی این اے کروایا جائے گا جس سے یہ معلوم ہوسکے گا کہ ان کا باہمی رشتہ اوریجنل نسل کون سی ہے۔اس سے ان کے شجرہ نسب کی پہچان ہوسکے گی، اس کو ہم فیلو جنیٹک کہتے ہیں۔

    کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنیٰ نہ ملا ہو؟ جسٹس اعجازالاحسن

    دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمیں یہ معلوم ہو سکے گا کہ جینیاتی طور پر کسی جانور میں کس بیماری کے جراثیم موجود ہیں یا نہیں اور اس سے کسی نر اور مادہ کے جوڑا بنانے میں مدد ملے گی تاکہ ان سے صحت مند افزائش لی جا سکے۔ ڈی این اے کے لیے جانور کے خون کے نمونہ جات، جسم کے بال جڑ سمیت یا پھر دونوں چیزیں لی جا سکتی ہیں۔

  • ہسپتال کی چھت سے ملنے والی انسانی لاشوں کی تدفین کر دی گئی

    ہسپتال کی چھت سے ملنے والی انسانی لاشوں کی تدفین کر دی گئی

    ہسپتال کی چھت سے ملنے والی انسانی لاشوں کی تدفین کر دی گئی

    نشتر اسپتال ملتان کی چھت پر لاوارث لاشوں کی موجودگی کا واقعہ لاشوں کی تدفین کر دی گئی

    پولیس کے مطابق 21 مزید لاوارث لاشوں کی تدفین کا عمل مکمل کر لیا گیا 58 لاوارث لاشوں کی رات گئے سے ابتک تدفین ہوچکی ہے

    مشیر وزیراعلیٰ پنجاب طارق زمان گجر کا کہنا تھا کہ نشتر اسپتال ملتان میں لاشوں سے متعلق مسئلہ حل ہوگیا ہے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کی ہدایت پر اسپتالوں کا دورہ کیا وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کی ہدایت پر ڈاکٹرز کوچیک کیا گیا،نشتر اسپتال ملتان کے 58 لاوارث لاشوں کو دفنا دیا گیا وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق آئندہ کوئی شکایت نہیں ملے گی،ڈاکٹر سے اپیل ہے ہمیں تمام تفصیلات مہیا کیا کریں،نشتر اسپتال ملتان کے 58 لاوارث لاشوں کا ڈی این اے کرکے دفنایا گیا،نشتر اسپتال ملتان میں جو لاشیں ہیں ان کا ریکارڈ موجود ہے،ہم نے خفیہ طور پر بھی لاشوں کا ریکارڈ چیک کر لیا ہے،نشتر اسپتال ملتان کی چھت پر اب کوئی لاش موجود نہیں ہے،نشتر اسپتال انتظامیہ نے غفلت کا مظاہرہ کیا ذمہ دار وں کے خلاف کارروائی کی گئی،

    مارگلہ ہلز میں آگ لگا کر ویڈیو بنانے والی خاتون ٹک ٹاکر کے 3 ساتھی گرفتار کر لئے گئے ہیں

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

     پرویز الٰہی نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں نشتر ہسپتال ملتان کے واقعہ پر سخت ایکشن لیا

    واضح رہے کہ پنجاب کے شہر ملتان کے نشتر ہسپتال کی چھت سے لاشیں ملنے کی خبروں نے تہلکہ مچایا ہوا ہے انسانی لاشوں کا چھت پر موجود ہونا اور کافی عرصے سے پڑے رہنے پر ہسپتال انتظامیہ کوئی معقول جواب نہیں دے سکی، ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ چھت پر انسانی لاشیں پڑی ہیں، اس ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حکام جاگے اور وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی نوٹس لیا،نشتر ہسپتال کی چھت پر لاشوں کی خبر کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے مشیر طارق زمان گجرنے دعویٰ کیا ہے کہ ہسپتال کے سرد خانے میں 200 لاشیں موجود تھیں، زبردستی سرد خانہ کھلوایا تو یہ انکشاف سامنے آیا، طارق زمان گجر نے ہسپتال کا دورہ کیا اور بتایا کہ مجھے ایک شخص نے کہا اگر نیک کام کرنا ہے تو سرد خانے چلیں میں نے سرد خانہ کھولنے کا کہا تو نہیں کھول رہے تھے جس پر میں نے کہا اگر نہیں کھولا گیا تو ابھی ایف آئی آر کٹواتا ہوں سرد خانہ کھلوایا تو وہاں بہت ساری لاشیں تھیں ، اندازےکے مطابق 200 لاشیں سرد خانے میں تھیں، لاشوں پرایک کپڑا تک نہیں تھا اپنی 50 سالہ عمر میں پہلی بار ایسا دیکھا سپتال کی چھت پر لاشوں کو گدھ اور کیڑے کھا رہے تھے

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    شہر قائد، ایک ہفتے میں نالوں سے 11 لاشیں برآمد

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

  • پرویز الٰہی کی ہدایت پر راولپنڈی کا ماسٹر پلان تیار کرنے کا اصولی فیصلہ

    پرویز الٰہی کی ہدایت پر راولپنڈی کا ماسٹر پلان تیار کرنے کا اصولی فیصلہ

    پرویز الٰہی کی ہدایت پر راولپنڈی کا ماسٹر پلان تیار کرنے کا اصولی فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت راولپنڈی ڈویژن کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    ارکان اسمبلی نے حلقوں کے مسائل اورترقیاتی منصوبوں کے بارے میں تجاویز پیش کیں ،وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے راولپنڈی ڈویژن میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دے دیا، وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کی ہدایت پر راولپنڈی کا ماسٹر پلان تیار کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ گرین و براؤن ایریاز اورہاؤسنگ کے لئے مخصوص علاقے کی زوننگ کی جائے گی۔ راولپنڈی ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے۔

    پرویز الہیٰ کا وفاقی حکومت کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

    آئی بی افسران کا ہاؤسنگ سکیم کے نام پر بڑا دھوکہ، رقم لیکر ترقیاتی کام کروانے کی بجائے مزید زمین خرید لی

    ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے دی حکومت کو مہلت

    فلمسٹار لکی علی کا فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیوں سے عوام کو چونا لگانے کا اعتراف،نیب نے کی ریکارڈ ریکوری

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام شروع کئے جانے کا انکشاف

    اڈیالہ اورچکری روڈ سمیت دیگر شاہراہوں کی تعمیر ومرمت کی ہدایت کی گئی ، وزیراعلیٰ نے کہا کہ راولپنڈی ڈویژن کے دیگر اضلاع اورمضافاتی رابطہ سڑکوں کی تعمیر ومرمت کا کام پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے۔ راولپنڈی یورالوجی انسٹی ٹیوٹ کو فنکشنل کرنے کیلئے بھرتیوں کا عمل جلد شروع کیا جائے۔ راولپنڈی میں ٹریفک مسائل حل کرنے کیلئے وارڈن تعینات کیے جائیں۔ مرکزی سڑکوں اوردوردراز علاقوں میں ریسکیو 1122سینٹرز بنائے جائیں۔ ہسپتالوں اورتعلیمی اداروں کے منصوبوں کوترجیحی بنیادوں پرمکمل کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنرز ہسپتالوں کے وزٹ کریں اور مفت ادویات کی فراہمی کی مانیٹرنگ کریں۔ اساتدہ کی خالی آسامیاں سکول بیسڈ پالیسی کے تحت پرکرنے کے لئے کارروائی مکمل کی جائے۔ راولپنڈی اوردیگر اضلاع میں پانی کی فراہمی کیلئے ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر کے کام کو جلد شروع کیا جائے۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے ٹیوب ویل لگائے جائیں۔ جیلوں میں قیدیوں کو رعایتی نرخوں پر اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی،

  • تمام اضلاع میں منشیات کی علاج گاہیں بنانے کے حکم پرعملدرآمد رپورٹ طلب

    تمام اضلاع میں منشیات کی علاج گاہیں بنانے کے حکم پرعملدرآمد رپورٹ طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے تمام اضلاع میں منشیات کی علاج گاہیں بنانے کے حکم پرعمل درآمد رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے قیدیوں کا طبی ہروفائل بنانے کا حکم دے دیا عدالت نے سیکرٹری سکولز اورکمشنر لاہور کو آئندہ سماعت پرذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری سے نیچے تک تمام افسر عدالت کےسامنے جھوٹ بولتے ہیں۔ محکمہ سکول کے سیکرٹری صرف کاغذی کاروائی کرتے ہیں۔ عدالت نے محکمہ تعلیم کی سب اچھا کی رپورٹ مسترد کردی

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت محکمہ سکولز کی اس رپورٹ کی تصدیق کرائے گی۔ اگر رپورٹ میں جھوٹ ثابت ہوگیا تو سیکرٹری سمیت تمام افسروں کےخلاف پیڈا ایکٹ کےتحت کاروائی ہوگی۔ ایسے افسروں کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہےجو مافیا سے ملا ہے۔شہر کو ڈرگ فری بنانے کے لئےعدالتی کمیٹی کمشنر سے مل کر اقدامات کرے۔

    درخواست گزار سید ذوالفقارحسین کے وکیل اظہر صدیق نےدلائل دئیے، درخواست گزار نے کہا کہ منشیات کی سپلائی کی روک تھام کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے چائے خانوں میں آئس کانشہ عام ہے وہ بند کرائے جائیں سکولوں اور پارکوں میں کھلے عام منشیات کا استعمال ہوتا ہے۔ صرف لاہور میں گذشتہ 6ماہ میں 200افراد نشہ کےاستعمال سے ہلاک ہوئے۔ایڈیشنل آئی جی نے عدالت میں کہا کہ جیلوں میں آنے والے قیدیوں کے بائیومیٹرک کا نظام نافذ کردیا گیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ نشہ کے عادی قیدیوں کا طبی پروفائل بنایا جائے۔ اہسے قیدیوں کے ہرتین ماہ بعد میڈیکل ٹیسٹ کرایا جائے۔ جیل قواعد میں تبدیلی کرکے قیدیوں کےطبی معائنے کو لازم قرار دیا جائے۔

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    لسبیلہ ہیلی حادثہ، پاک فوج کیخلاف مہم میں یوٹیوبر سمیت سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی شامل

  • صحت کارڈ سے اب تک پنجاب میں  24 لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد نے اٹھایا فائدہ

    صحت کارڈ سے اب تک پنجاب میں 24 لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد نے اٹھایا فائدہ

    صحت کارڈ سے اب تک پنجاب میں 24 لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد نے اٹھایا فائدہ

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی ہدایت پر محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے صحت سہولت کارڈ سے متعلق اعدادوشمارجاری کردئیے

    اعدادوشمارکے مطابق ابھی تک پنجاب میں 24 لاکھ 49 ہزار سے زائدافراد نے صحت سہولت کارڈکے ذریعے مفت علاج معالجہ کی سہولت حاصل کرلی ہے۔ابھی تک پنجاب کی عوام تقریبا 54 ارب 63 کروڑ روپے سے زائد کے مفت علاج معالجہ کی سہولت حاصل کرچکے ہیں۔ صوبائی سیکرٹری صحت عمران سکندر بلوچ نے کہا کہ پنجاب کی عوام کو صحت سہولت کارڈکے ذریعے مفت علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرنے کیلئے 794 سرکاری ونجی ہسپتالوں کو منتخب کیاگیا ہے۔ صوبہ بھر کی عوام صحت سہولت کارڈکے ذریعے187 سرکاری و 607 نجی ہسپتالوں سے علاج معالجہ کی مفت سہولت حاصل کررہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پنجاب میں ابھی تک 5 لاکھ 26 ہزارسے زائد افراد نے صحت سہولت کارڈکے ذریعے مفت ڈائیلسز کروائے ہیں۔

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاہور میں زیادتی کیسز میں مسلسل اضافہ،نوکری کی بہانے خاتون کے ساتھ ہوٹل میں زیادتی

    ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

    پنجاب میں ابھی تک 54ہزار9سو سے زائدافراد نے صحت سہولت کارڈکے ذریعے مفت کورونری انجیوگرافی کی سہولت حاصل کی ہے۔عمران سکندربلوچ نے کہا کہ پنجاب میں ابھی تک صحت سہولت کارڈکے ذریعے 50 ہزار 400 سے زائد خواتین نے نارمل ڈلیوری جبکہ 2 لاکھ 9 ہزار سے زائد خواتین نے سیزیرین آپریشن کی مفت سہولت حاصل کی ہے۔ پنجاب میں ابھی تک 35 ہزار 800 سے زائد افرادنے صحت سہولت کارڈکے ذریعے ہرنیہ کے مفت آپریشن کروائے ہیں۔

    لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    پنجاب میں ابھی تک 35 ہزار 800 سے زائدافرادنے ابھی تک صحت سہولت کارڈکے ذریعے کیموتھراپی کی مفت سہولت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب میں اب تک 27 ہزار سے زائدافراد صحت سہولت کارڈکے ذریعے انجیوپلاسٹی کی مفت سہولت حاصل کرچکے ہیں۔ پنجاب میں اب تک 1 لاکھ 64 ہزار سے زائد افراد آنکھوں کے مفت آپریشن کروا چکے ہیں۔صوبائی سیکرٹری صحت عمران سکندر بلوچ نے کہا کہ صحت سہولت کارڈکے ذریعے پنجاب کی عوام کو زیادہ سے زیادہ علاج معالجہ کی مفت سہولت فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ڈینگی کے مریض بھی اب صحت سہولت کارڈکے ذریعے پنجاب کے منتخب سرکاری ونجی ہسپتالوں سے مفت علاج معالجہ کی سہولت حاصل کررہے ہیں۔

  • ایشیا کپ 2023: آپ ہمت تو پکڑیں، اتنے منفی کیوں ہیں، سب کچھ انڈیا نہیں ہے، صحافی کو رمیز راجا کا جواب

    ایشیا کپ 2023: آپ ہمت تو پکڑیں، اتنے منفی کیوں ہیں، سب کچھ انڈیا نہیں ہے، صحافی کو رمیز راجا کا جواب

    بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے ایشیا کپ 2023 میں پاکستان آنے سے انکار پر چیئرمین پی سی بی رمیز راجا کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رمیز راجا کی ایک ورچوئل گفتگو کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں ان سے صحافی نے بھارت کی جانب سے پاکستان آنے پر انکار سے متعلق سوال کیا کہ 2023 کا ایشیا کپ کیا صرف بھارت کی وجہ سے یو اے ای منتقل کردیا جائے گا؟

    ایشیا کپ 2023: بھارتی ٹیم کو پاکستان نہ بھیجنے کے اعلان پر پی سی بی کا شدید ردعمل


    صحافی کے سوال پر رمیز راجا نے کہا کہ نہیں یو اے ای نہیں جا رہے ایشیا کپ یو اے ای بالکل منتقل نہیں کیا جائے گا، آپ ہمت تو پکڑیں، اتنے منفی کیوں ہیں آپ بھائی صاحب ، سب کچھ انڈیا نہیں ہے کچھ ہم بھی ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارت کی جانب سے ایشیا کپ 2023 کے لیے اپنی ٹیم پاکستان نہ بھیجنے کے معاملے پر ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کو خط لکھا ہے جس میں شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

    پاکستانی دستےنےکرغستان میں ہونیوالی ماڈرن پینٹاتھلون اوپن ایشیئن چیمپئن شپ میں 3میڈلزجیت لئے

    ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے خط میں بی سی سی آئی کے سیکرٹری جے شا کے بیان کی مذمت کی ہے اورخط میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اے سی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ ایشن کرکٹ کونسل مجاذ اتھارٹی ہونے کے ناطے بی سی سی آئی سیکریٹری کے بیان پر وضاحت مانگےبطور اے سی سی رکن بھارت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے،امید ہے اے سی سی آئندہ سال پاکستان میں ہونیوالے ٹورنامنٹ میں بھارت کی شرکت کو یقینی بنائے گا-

    یاد رہے کہ اگلے برس 2023 میں ایشیاکپ کی میزبانی پاکستانی کو کرنی ہے بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری جے شا (جو اے سی سی کے صدر بھی ہیں) نے گزشتہ روز اپنے بیان میں خود ساختہ فیصلہ سناتے ہوئے ایشیا کپ نیو ٹرل وینیو پر کھیلنے کا بیان دیا تھا ایشین کرکٹ کونسل کے صدر اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری جے شاہ نے اعلان کیا تھا کہ 2023 کے ایشیا کپ میں بھارتی ٹیم پاکستان نہیں جائے گی۔

  • اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کیلئے 18 رکنی اسکوارڈ کا اعلان کردیا

    اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کیلئے 18 رکنی اسکوارڈ کا اعلان کردیا

    پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے لئے 18 رکنی اسکوارڈ کا اعلان کردیا-

    باغی ٹی وی : قومی ٹیم کی قیادت سینئر کھلاڑی عمر بھٹہ کے سپرد کت دی گئی اعلان کردہ ٹیم میں اکثریت جونیئر کھلاڑیوں کی ہے دس سینئرز نے کیمپ جوائن کرنے کے بجائے بلا اجازت غیرملکی لیگ کھیلنے کو ترجیح دی تھی-

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کےایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس ،بڑے فیصلے

    اعلان کردہ ٹیم میں عبداللہ اشتیاق اور اکمل شاہ گول کیپرز شامل ہیں ایم عبداللہ، سفیان، ارباز احمد، عقیل، احتشام، مرتضیٰ یعقوب شامل ہیں رانا عبدالوحید، رومان خان، حانان شاہد، جنید منظور، ارشد لیاقت، افراز بھی ٹیم میں شامل ہیں شاہ زیب خان، اسامہ بشیر، ایم عمران قومی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہیں-

    قبل ازیں ہاکی فیڈریشن کےایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس پی ایچ ایف ہیڈ کواٹرز لاہور میں منعقد ھوا تھا صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن برگیڈیئررخالد سجاد کھوکھر نے اجلاس کی صدارت کی تھی-

    ٹی20 ورلڈکپ: نمیبیا کوشکست دے کرنیدرلینڈ کی سپر12مرحلے میں پہنچنے کی امیدیں روشن

    اس موقع پر پی ایچ ایف ایگزیکٹو بورڈ میں سیکرٹری جنرل پی ایچ ایف حیدر حسین، ایسوسی ایٹ سیکرٹری سید محمد ظاہر شاہ، نائب صدور پی ایچ ایف محمد سعید خان، میجر جنرل طارق حلیم سوری، امجد پرویز ستی سمیت صوبائی سیکرٹریز پی ایچ ایف لیفٹینٹ کرنل ر آصف ناز کھوکھر(پنجاب)، ہدائت اللہ (کے پی کے)، اکبرعلی قائم خانی (سندھ)، سید امین مروت (بلوچستان)، ڈیپارٹمنٹل نمائندہ رانا نزاکت علی (پاکستان ایئر فورس) اور نامزد ٹیکنوکریٹ ممبران اولمپین حنیف خان ، اولمپین ناصر علی، پی ایچ ایف لیگل ونگ کے سربراہ بیرسٹر میاں علی اشفاق و سپیشل آڈیٹر سید محمد راشد شاہ نے شرکت کی تھی-

    اجلاس میں سابقہ اجلاس کی توثیق سمیت قومی کھیل کی ترویج و ترقی کے منصوبہ جات ،انٹرنیشنل ایونٹس میں قومی ہاکی ٹیم کی پرفارمنس رپورٹس، اخراجات اور آئیندہ ایونٹس میں قومی ٹیموں کی شرکت جیسےمعاملات کوزیربحث لایا گیا تھا نیز موجودہ و سابق انکوائریز، ڈسپلن کے معاملات اور سابق کوچز مینجرز کی کارکردگی، ٹیموں کی سابقہ پرفارمنس سے متعلقہ امور زیربحث لائے گئے.جبکہ مختلف کمیٹیوں کی تشکیل دی گئی ہیں. لیگل ایڈ ونگ کی سربراہی بیرسٹر میاں علی اشفاق کریں گے-

  • ایشیا کپ 2023: بھارتی ٹیم کو پاکستان نہ بھیجنے کے اعلان پر پی سی بی کا شدید ردعمل

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) نے بھارت کیجانب سے ایشیا کپ 2023 کے لیے اپنی ٹیم پاکستان نہ بھیجنے کے معاملے پر ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کو خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اے سی سی کو لکھے گئے خط میں بھارت کی جانب سے ایشیا کپ 2023 کے لیے اپنی ٹیم پاکستان نہ بھیجنے کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے بی سی سی آئی کے فیصلے پر سیکریٹری سے وضاحت طلب کی ہے-

    پی سی بی نے ایشین کرکٹ کونسل سےراہیں الگ کرنےکا فیصلہ کرلیا

    ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے خط میں بی سی سی آئی کے سیکرٹری جے شا کے بیان کی مذمت کی ہے اورخط میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اے سی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ ایشن کرکٹ کونسل مجاذ اتھارٹی ہونے کے ناطے بی سی سی آئی سیکریٹری کے بیان پر وضاحت مانگےبطور اے سی سی رکن بھارت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے،امید ہے اے سی سی آئندہ سال پاکستان میں ہونیوالے ٹورنامنٹ میں بھارت کی شرکت کو یقینی بنائے گا-

    دوسری جانب ترجمان پی سی بی کا کہنا ہے کہ صدر اے سی سی جے شاہ کے بیان پر حیرت اور مایوسی ہوئی ،بیان اے سی سی بورڈ یا پی سی بی سے مشاورت کے بغیر دیا گیا ، سوچے سمجھے بغیر دئیے گئے بیان کے منفی اثرات مرتب ہوں گے، جے شاہ کا پاکستان سے ایونٹ متنقلی کا بیان یکطرفہ ہے،ایونٹ منتقلی بیان آئی سی سی اور اے سی سی کو تقسیم کرنے کے مترادف ہےبیان سے 2023 میں بھارت میں شیڈول ورلڈکپ پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،جے شاہ کی صدارت میں اے سی سی اجلاس میں ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان کے سپرد کی گئی تھی،اے سی سی کے صدر کے بیان پر کوئی باضابطہ وضاحت موصول نہیں ہوئی ہے،پی سی بی نے اے سی سی سے حساس معاملے پر ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی ،

    قبل ازیں گزشتہ روز لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں ایشین کرکٹ کونسل سے علیحدگی اور آئندہ برس بھارت میں ہونے والے ایک روزہ ورلڈکپ میں شرکت سے انکار سمیت مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ پی سی بی کی جانب سے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری جے شاہ کے بیان کو غیر ضروری اور جلد بازی قرار دیا جائےگا، صدر ایشین کرکٹ کونسل جے شاہ تنہا کوئی فیصلہ کرنےکے مجاز نہیں۔

    بھارت کاایشیاکپ کیلئےپاکستان کادورہ کرنےسےانکار

    ذرائع نے بتایا تھا کہ ایشین کرکٹ کونسل کا مقصد رکن ممالک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، اے سی سی اگر مفادات کا تحفظ نہیں کرسکتا تو پھراے سی سی میں رہنےکا فائدہ نہیں،پاک بھارت میچ سےاے سی سی کوریونیو ملتا ہے،اے سی سی یہ ریونیو کرکٹ کےفروغ اور ڈویلپمنٹ پر خرچ کرتا ہے، اگر اے سی سی کو یہ ریونیو نہیں چاہیے توپی سی بی کے لیے بہتر ہے اے سی سی سے الگ ہو جائے۔

    ذرائع نے بتایا تھا کہ پی سی بی مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے جس میں ایشین کرکٹ کونسل سے الگ ہونے سمیت آئی سی سی ورلڈکپ 2023 بھی نہ کھیلنے پر غور کیا جارہا ہے، 50 اوورز کے ورلڈکپ کی میزبانی آئندہ سال اکتوبر نومبر میں بھارت نے کرنی ہے۔

    لاہور قلندرز کا خواتین کرکٹرز کی ترقی کے لیے سپورٹس بورڈ پنجاب سے اشتراک

    یاد رہے کہ اگلے برس 2023 میں ایشیاکپ کی میزبانی پاکستانی کو کرنی ہے بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری جے شا (جو اے سی سی کے صدر بھی ہیں) نے گزشتہ روز اپنے بیان میں خود ساختہ فیصلہ سناتے ہوئے ایشیا کپ نیو ٹرل وینیو پر کھیلنے کا بیان دیا تھا ایشین کرکٹ کونسل کے صدر اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری جے شاہ نے اعلان کیا تھا کہ 2023 کے ایشیا کپ میں بھارتی ٹیم پاکستان نہیں جائے گی۔

    دوسری جانب آئندہ سال ورلڈ کپ کیلیے گرین شرٹس کو پڑوسی ملک بھیجنے کے فیصلے پر بھی ازسرنو غور کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے جبکہ ایشین کرکٹ کونسل کی بورڈ میٹنگ میں ہونے والا فیصلہ سیکریٹری کے خود ہی کر لینے پر سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔

    سیکریٹری بی سی سی آئی جے شاہ کے بیان نے 2 آئی سی سی ایونٹس کے حوالے سے بھی خدشات کا راستہ کھول دیا ہے، پاکستان کو ون ڈے فارمیٹ کے ایشیا کپ کی میزبانی آئندہ برس ستمبر میں کرنا ہے، اس کے بعد آئی سی سی ورلڈکپ کا انعقاد بھارت میں ہوگا-

    چیمپئنز ٹرافی 2025کی میزبانی بھی پاکستان کو ملی ہے، اگر بھارتی ٹیم ایشیا کپ کیلیے نہیں آئی، اور جواب میں پاکستانی ٹیم بھارت جاکر نہیں کھیلتی تو آئی سی سی کیلیے بھی مسائل پیدا ہوں گے جس کی کمائی کا ایک بڑا حصہ پاک بھارت مقابلوں سے حاصل ہوتا ہے۔

    سارو گنگولی کی چُھٹی:راجربنی بھارتی کرکٹ بورڈ کےنئےسربراہ

    یاد رہے کہ ٹی20 ورلڈکپ 2016 میں پاکستان ٹیم کی شرکت حکومت کی اجازت کے بعد ہی ممکن ہوئی تھی۔ بھارتی ٹیم آخری بار 2008 میں ایشیا کپ کیلیے ہی پاکستان آئی تھی، اس کے بعد صرف ایک باہمی سیریز 2012/13 میں ہوئی جب گرین شرٹس نے بھارت جاکر وائٹ بال میچز کھیلے تھے۔

    واضح رہے کہ دونوں روایتی حریف ٹی20 ورلڈکپ میں 23 اکتوبر اتوار کے روز ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گے۔

  • جنرل قمر جاوید باجوہ بطور آرمی چیف اور سیکیورٹی چیلنجز ، بقلم: شکیل احمد رامے

    ملک کو درپیش دہشت گردی اور دیگر سیکیورٹی مسائل سے نمٹنے میں پاک فوج کا کردار

    بقلم: شکیل احمد رامے

    گزشتہ تین دہائیوں سے ملک کو درپیش دہشت گردی اور دیگر سیکیورٹی مسائل سے نمٹنے میں پاک فوج کا کردار مٹی کے ایک ایک ذرے سے عیاں ہے۔ موجودہ امن کا تناظر اس کا گواہ ہے۔ بلاشبہ یہ ہماری آنے والی حکومتوں کی مسلسل اور عوامی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اگرچہ آپریشن ضرب عضب جنرل راحیل شریف کے دور میں شروع کیا گیا تھا لیکن ان کے جانشین جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے ادارے کی مشترکہ کوششوں سے اسے دیرپا کامیابی سے ہمکنار کیا۔ جنرل باجوہ، جو آرمی چیف کے طور پر اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہیں، نے یہ عہدہ 6 سال قبل سنبھالا تھا۔ اپنے دور میں، انہوں نے دہشت گردی، ہائبرڈ جنگ اور سی پیک کو محفوظ بنانے سمیت کئی محاذوں پر لڑنے میں پاکستان کی قیادت کی۔

    اس طرح، سیکورٹی چیلنجوں کے تناظر میں ان کے دور کا تجزیہ کرنے کا یہ صحیح وقت ہے۔ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ملک کے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے ان کے کا کردار کتنا بہترین تھا اگرچہ، ان کے کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے، لیکن میں چار اہم ترین کارناموں پر بات کریں گے

    سب سے پہلے، ان کی کمان میں پاک فوج نے ردالفساد کے نام سے ایک جامع انسداد دہشت گردی آپریشن شروع کیا۔ یہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن ہے، جو 2017 سے جاری ہے۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عام شہریوں کے ساتھ مل کر اور قریبی تعاون سے کام کر رہے ہیں۔ پروگرام کے اہم عناصر ہیں، طاقت کے استعمال کا حق ریاست کے پاس ہے، ڈبلیو بی ایم آر کے تحت مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانا، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ، پرتشدد انتہا پسندی کا خاتمہ، اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں فلاحی اقدامات۔ یہ سب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں انتہائی عمدہ طریقے سے کام ہوا

    ملٹری اور ایل ای اے نے 3 لاکھ سے زائد آئی بی اوز آپریشن کیے، غیر قانونی ہتھیار اور گولہ بارود ضبط کیا۔ فوج نے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو بھی پکڑا اور دہشت گردوں کی سزا کو یقینی بنایا۔ ایک اندازے کے مطابق دہشت گردوں کو سزا سنائے جانے کی شرح 70 فیصد تھی۔ پاک فوج نے تقریباً 40 ہزار پولیس اہلکاروں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیت بھی دی۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے شہریوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔ سیکیورٹی کے بہتر ماحول نے بین الاقوامی برادری خصوصاً سرمایہ کاروں اور تاجروں کا اعتماد بڑھانے میں بھی مدد کی۔ اس نے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد کی جس کی اس وقت اشد ضرورت تھی۔

    دوسرا، فوج نے ففتھ جنریشن وارفیئر (FGW) یا ہائبرڈ وارفیئر (HWF) سے لڑنے کی صلاحیتیں بنانا شروع کر دیں۔ پہلا مرحلہ ففتھ جنریشن وارفیئر اورہائبرڈ وارفیئر کے دشمن عناصر کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو قائم کرنا تھا۔ دوسرا مرحلہ جنگ میں مؤثر طریقے سے قیادت کرنے کے لیے انسانی وسائل کو تربیت دینا تھا۔ تیسرا مرحلہ وسائل کی تعیناتی اور انسانی وسائل کو زمینی حقائق سے واقف کرانا اور حقیقی وقت کی لڑائی میں مشغول ہونا تھا۔ اس کی فوری طور پر ضرورت تھی، کیونکہ پاکستان ففتھ جنریشن وارفیئر اورہائبرڈ وارفیئر کے بدترین متاثرین میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے دشمنوں نے ہر طرف سائبر ویئر اور پاکستان کے خلاف تخریب کاری کی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کے آغاز نے پاکستان اور چین کے مخالفین اور دشمنوں کو مزید اشتعال دلایا اس طرح انہوں نے پروپیگنڈا، سائبر وار اور تخریب کاری کی سرگرمیوں میں تیزی لائی۔ خوش قسمتی سے، پاکستان ففتھ جنریشن وارفیئر اورہائبرڈ وارفیئر کے بہتر اور فعال نظام کی وجہ سے پروپیگنڈے اور سائبر جنگ کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہا۔

    تیسرا، افغانستان سے امریکی افواج کے اچانک انخلا نے خطے کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر دی۔ فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان کو زیادہ خطرہ لاحق تھا۔ پاکستان کے دشمنوں اور مخالفین نے اسے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کا اچھا موقع سمجھا۔ ان کی طرف سے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ دہشت گردی کی ایک نئی لہر پاکستان کو لپیٹ میں لے لے گی۔ تاہم، بروقت اقدامات اور انسداد دہشت گردی کے بہتر نظام اور ردالفساد جیسے اقدامات نے صورت حال پر قابو پانے میں پاکستان کی مدد کی۔ اس کے علاوہ افغانستان کے ساتھ 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے سے (جو کہ پاکستان کی مسلح افواج نے 4 سال میں مکمل کیا تھا) نے بھی سرحد پار دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے میں مدد کی۔ اگرچہ پاکستان نے دہشت گردی کے کچھ واقعات دیکھے لیکن بڑی حد تک صورتحال قابو میں رہی۔ اب پاکستان نئی ضروریات اور ضرورت کے مطابق انسداد دہشت گردی کے طریقہ کار کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    چوتھا، پاکستان کی مسلح افواج نے بھی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں اہم کردار ادا کیا۔ مسلح افواج نے تمام کارروائیوں کو نافذ کیا، جو انہیں تفویض کیے گئے تھے۔ فوج نے ڈی ریڈیکلائزیشن کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ پیغام پاکستان ایک اور بہترین اقدام ہے، جس نے بنیاد پرستی کو کم کرنے میں مدد کی۔

    پانچواں، سی پیک ایک بہت بڑا پروگرام ہے، جو پاکستان کے معاشی اور سماجی منظر نامے کو بدل سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی گئی، ایک ایسے وقت میں جب پاکستان متعدد مسائل میں گھرا ہوا تھا اور ہمارے دوست، خاص طور پر جنگی دہشت گردی کے اتحادی ہمیں چھوڑ گئے۔ بلکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔ اس تناظر میں چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔ یہ پاکستان کے مخالفین کے لیے بُری خبر تھی، اور انہوں نےسی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے متعدد پروگرام/کارروائیاں شروع کیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے سی پیک کی اہمیت اور سیکورٹی ضروریات کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھ کر سیکورٹی کا ایک جامع فریم ورک تیار کیا۔ سیکورٹی فریم ورک کے مالک، مسلح افواج اور LEA نے سی پیک کے پہلے مرحلے کے دوران سی پیک سے متعلق سرمایہ کاری کا کامیابی سے دفاع کیا۔

    اتنی بڑی کامیابی کے باوجود، کچھ ایسے شعبے ہیں، جن کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح نئی قیادت کو ان شعبوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ مثال کے طور پر، اب سی پیک دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو سی پیک کے پہلے مرحلے سے بالکل مختلف ہے۔ اس طرح سی پیک کے دوسرے مرحلے کی ضروریات کے مطابق سیکیورٹی فریم ورک کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ عالمی حالات بھی بہت تیزی سے بدل رہی ہیں اور بہت سے بڑے کھلاڑی سی پیک کے حق میں نہیں ہیں۔ روس اور یوکرائن کا بحران صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا بھی علاقائی صورتحال کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے۔ اس تناظر میں سی پیک کے لیے حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے۔

  • ورام اپ میچ: افغانستان کا پاکستان کا میچ بارش کے باعث ختم کردیا گیا

    ورام اپ میچ: افغانستان کا پاکستان کا میچ بارش کے باعث ختم کردیا گیا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے وارم اپ میچ میں پاکستان اور افغانستان کا میچ بارش کے باعث ختم کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : 155 رنز کے تعاقب میں پاکستان نے اپنی اننگز میں 2.2 اوورز میں 19 رنز بنائےتھے جس کے بعد بارش کے باعث میچ روک دیا گیا جو دوبارہ شروع نہ ہوسکا جس کے باعث امپائر کو میچ ختم کرنا پڑا۔

    برسبین میں کھیلے جارہے وارم اپ میچ میں فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے افغانستان کے خلاف شاندار بولنگ کا آغاز کیا اور افغانستان کی دو وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ٹی20 ورلڈکپ کے وارم اَپ میچ میں افغانستان نے پاکستان کو جیت کے لیے 155 رنز کا ہدف دیدیا۔


    ps://twitter.com/TheRealPCB/status/1582561683922628608?s=20&t=kwB7Zc1Wqtk0Aw8NOTh0Mw
    برسبین میں کھیلے جارہے میچ میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے ٹاس جیت کر افغانستان کو بیٹنگ کی دعوت دی، افغان ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 154 رنز بنائے۔

    اوپنر حضرت اللہ ززئی 9، رحمان اللہ گرباز 0 پر آؤٹ ہوئے، مڈل آرڈر میں ابراہیم زادران 35 رنز بناکر نمایاں رہے۔ کپتان محمد نبی نے میچ کےاختتامی لمحات میں جاحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا انہوں نے 17 گیندوں پر51 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ عثمان غنی نے انکا ساتھ دیتے ہوئے 32 رنز بنائے۔

    فاسٹ بولر شاہین نے افغان کرکٹر رحمان اللہ گربز کو پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو کیا ، جس کے بعد شاہین حضرت اللہ زازئی کو صرف 9 ہی رنز پر پویلین بھیجنےمیں کامیاب ہوگئےافغانستان کی تیسری وکٹ فاسٹ بولرحارث رؤف نے لی حارث نے دروش رسولی کو 7 گیندوں پر 3 رنز پر آؤٹ کیا-


    قومی ٹیم کی قیادت بابر اعظم کررہے ہیں جبکہ افغانستان ٹیم کی قیادت محمد نبی کررہے ہیں پاکستانی اسکواڈ میں محمد رضوان، شان مسعود، حیدر علی، افتخار احمد، خوشدل شاہ، محمد نواز، شاداب خان، آصف علی، محمد وسیم، حارث رؤف، شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور محمد حسنین شامل ہیں۔


    وارم اپ میچ میں فخر زمان کے علاوہ تمام کھلاڑی حصہ لیں گے، فخر زمان ری ہیب میں شامل اپنی ٹریننگ کا سلسلہ جاری رکھیں گے جبکہ وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان بھی وارم اپ میچ میں بیٹنگ کریں گے۔

    قبل ازیں پاکستان کو اپنے پہلے وارم اَپ میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔