Baaghi TV

Category: ملتان

  • وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا جلالپور پیروالا کے لئے مستقل حفاظتی بند اور سیلاب متاثرین کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا جلالپور پیروالا کے لئے مستقل حفاظتی بند اور سیلاب متاثرین کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان

    جلالپورپیروالا(باغی ٹی وی رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فلڈ ریلیف کیمپ کے دورے کے بعد جلالپور پیروالا سٹی کے حفاظتی بند پر پہنچ کر اہم اعلانات کیے۔ جلالپور پیروالا بائی پاس پر وزیراعلیٰ کو دیکھ کر ہزاروں کی تعداد میں عوام جمع ہو گئے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جلالپور پیروالا کے لئے مستقل حفاظتی بند بنانے اور اُچ شریف کے لئے گیلانی ایکسپریس وے پراجیکٹ کا اعلان کیا۔ انہوں نے سینئر وزیر مریم اورنگزیب کو ہدایت دی کہ وہ جلالپور پیروالا میں انخلا آپریشن کی نگرانی کے لئے وہیں قیام کریں۔
    وزیراعلیٰ نے جلالپور پیروالا کے سیلاب متاثرین کے لئے ایک سپیشل پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ سیلاب کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء کو 10،10 لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔

    مکمل طور پر منہدم ہونے والے گھروں کے مالکان کو 10 لاکھ روپے جبکہ ایک کمرہ گرنے کی صورت میں 5 لاکھ روپے امداد فراہم کی جائے گی۔

    بڑے مویشیوں کے ضیاع پر 5 لاکھ اور چھوٹے جانوروں کے نقصان پر 50 ہزار روپے امداد دی جائے گی۔

    سیلاب متاثرین سے پرجوش خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہاکہ “میں محمد نواز شریف کی بیٹی ہوں، اپنا ہر وعدہ پورا کروں گی۔ سیلاب سے متاثرہ ایک ایک فرد کا نقصان پورا کیا جائے گا۔ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں دے سکتے لیکن جاں بحق افراد کے ورثاء کے لئے ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔”

    انہوں نے کہا کہ وہ خود چل کر جلالپور پیروالا کے عوام کے پاس پہنچی ہیں تاکہ ان کے دکھ درد میں شریک ہو سکیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر نو حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    مریم نواز شریف نے کہا کہ جلالپور پیروالا میں بہت سے لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں، سب کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ متاثرین کو ریلیف دینے کے لئے خیمے، خوراک اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ“سیلاب متاثرین ہمارے مہمان ہیں، جب تک پانی نہیں اترتا، گھر واپس نہیں جانا۔ سب کو بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بہت بڑا سیلاب اور تباہی ہے، لیکن متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ جاں بحق ہونے والوں کو واپس نہیں لا سکتے مگر ان کے ورثاء کے ساتھ ہمدردی اور تعاون ہمارا فرض ہے۔”

    وزیراعلیٰ نے آخر میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر کسی کا زور نہیں چلتا، لیکن حکومت پنجاب ہر متاثرہ فرد کے لئے پوری کوشش کر رہی ہے۔

  • دریائے چناب میں سیلاب: شیر شاہ بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ

    دریائے چناب میں سیلاب: شیر شاہ بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ

    دریائے چناب میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر شیر شاہ بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ قریبی آبادیوں کو خالی کرنے کے اعلانات بھی جاری ہیں۔

    ذرائع محکمہ انہار کے مطابق شیر شاہ بند کے ساتھ ملحقہ علاقوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ دریائے چناب کے بیٹ کے علاقے پہلے ہی پانی سے بھر چکے ہیں اور مزید گنجائش نہ ہونے کے باعث بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا۔محکمہ انہار کے مطابق تریموں سے 5 لاکھ 40 ہزار کیوسک پانی کا ریلا آئندہ دو روز تک ملتان کی حدود میں داخل ہوگا۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان کاٹھیا نے کہا کہ ملتان کے علاقے مزید 48 گھنٹے ہائی رسک زون میں رہیں گے، شہری احتیاط کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔

    امریکی عدالت کا ٹرمپ پر 8 کروڑ 33 لاکھ ڈالر جرمانہ برقرار

    لندن ہیّتھرو ایئرپورٹ کا ٹرمینل 4 مشتبہ مواد کی اطلاع پر خالی

    پی ایف یو جے کا طیب بلوچ پر تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ کی یونیسیف نمائندہ سے ملاقات، سیلابی امداد پر بات

  • دریائے چناب اور ستلج میں سیلاب، جلال پور پیر والا زیر آب، مساجد میں اعلانات

    دریائے چناب اور ستلج میں سیلاب، جلال پور پیر والا زیر آب، مساجد میں اعلانات

    ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا میں دریائے چناب اور ستلج کے اونچے درجے کے سیلابی پانی کے داخل ہونے پر شہریوں کو فوری طور پر گھروں سے نکلنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

    پولیس کی جانب سے مساجد میں اعلانات کیے جا رہے ہیں، جبکہ متاثرہ بستیوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ریسکیو 1122 کی اضافی ٹیمیں بھی علاقے میں روانہ کر دی گئی ہیں تاکہ متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ مقامی ریسکیو ورکرز پہلے سے بستیوں میں موجود ہیں اور شہریوں کے انخلا کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز جلال پور پیر والا میں سیلاب متاثرین کی کشتی پانی کے تیز بہاؤ کے باعث الٹ گئی تھی، جس میں خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے۔ کشتی میں زیادہ تر خواتین اور بچے سوار تھے، جبکہ ایک بچے کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے۔

    روس کا یوکرین پر حملہ، 3 افراد ہلاک18زخمی، مختلف عمارتوں میں آتشزدگی

  • سیلاب متاثرین کو رسکیو کرتے کشتی الٹ گئی، 5 افراد جاں بحق

    سیلاب متاثرین کو رسکیو کرتے کشتی الٹ گئی، 5 افراد جاں بحق

    جلالپور پیروالا کے نواحی علاقے وچھہ سندیلہ میں سیلاب متاثرہ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے والی کشتی دریائے چناب کے تیز بہاؤ میں الٹ گئی۔

    حادثے کے فوری بعد مقامی افراد اورریسکیو ٹیموں نے موقع پرپہنچ کرامدادی کارروائیاں شروع کیں، اب تک کئی افراد کو زندہ نکالا جا چکا ہے، تاہم متعدد لاپتہ افراد کی تلاش کے لئے سرچ آپریشن جاری ہے۔پولیس کے مطابق حادثے میں کم ازکم 5 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جن میں 4 معصوم بچے بھی شامل ہیں، کشتی میں 20 سے زائد افراد سوارتھے جنہیں سیلابی پانی سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

    ریسکیو 1122، پولیس اورمقامی رضاکارمشترکہ طور پرسرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا، متاثرہ خاندانوں میں غم کی فضا چھا گئی۔ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جبکہ ڈپٹی کمشنرنے متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد اورتعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکا کشتی ڈوبنے کے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پراظہارافسوس اورلواحقین سے اظہار ہمدردی وتعزیت کی۔

  • دریائے چناب کا ریلا جنوبی پنجاب میں تباہی مچاتا ہوا ملتان کے قریب پہنچ گیا

    دریائے چناب کا ریلا جنوبی پنجاب میں تباہی مچاتا ہوا ملتان کے قریب پہنچ گیا

    دریائے چناب کا بپھرا ہوا ریلا جنوبی پنجاب میں بڑے پیمانے پر تباہی مچاتا ہوا ملتان شہر کے قریب پہنچ گیا۔

    پانی نے تمام رکاوٹیں توڑ کر درجنوں بستیاں زیرِ آب کر دیں، ٹول پلازہ اور قومی شاہراہ کا بڑا حصہ بھی متاثر ہوا۔مظفرگڑھ، جھنگ اور خانیوال سمیت کئی علاقوں کے گاؤں ڈوب گئے جبکہ پانی تیزی سے ہیڈ پنجند میں داخل ہو رہا ہے۔ شیرشاہ کے قریب زمیندارہ بند دباؤ برداشت نہ کر سکا اور پانی شہر کی جانب بڑھنے لگا۔ شیرشاہ فلڈ بند پر پانی کی سطح خطرناک حد کو چھو رہی ہے، ہیڈ محمد والا کی نواحی بستیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔شیرشاہ ٹول پلازہ تک پانی پہنچنے کے بعد سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے لاکھوں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

    بستی گرے والا میں دو سو فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے مزید بستیاں زیرِ آب آ گئیں۔ مظفرگڑھ–ڈی جی خان قومی شاہراہ کا ایک ٹریک ڈوب گیا اور عارضی رکاوٹ کھڑی کر دی گئی۔شور کوٹ کے قریب درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور سلطان باہو پل سے 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔ احمد پور سیال کے موضع سمندوانہ بند میں شگاف پڑنے سے کئی علاقے ڈوب گئے۔ جھنگ اور گردونواح میں پانی نے زندگی مفلوج کر دی ہے جبکہ متاثرین کو امدادی سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق بہاولنگر اور جھنگ کی ضلعی انتظامیہ کو اضافی ریلیف سامان روانہ کر دیا گیا ہے تاکہ امدادی کام مؤثر بنایا جا سکے۔ درکھانہ کے مقام پر ریلوے پل سے پانی ٹکرانے کے بعد شور کوٹ–خانیوال ریلوے سیکشن دوسرے روز بھی بند رہا۔ خانیوال کے درجنوں دیہات ڈوب گئے، کبیروالا میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی جبکہ 17 ہزار ایکڑ فصلیں تباہ اور 80 ہزار مکانات گر گئے۔

    لیاقت پور میں دریائے چناب اور دریائے سندھ کے ریلوں نے مزید بستیاں اجاڑ دیں۔ موضع نور والا پانی میں ڈوب گیا جبکہ ہیڈ پنجند پر پانی کی سطح 3 لاکھ 10 ہزار کیوسک سے بڑھ گئی۔

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط، اہم سوالات اٹھا دیے

    مریم نواز کا گجرات کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ،متاثرین سے ملاقات

    برطانیہ: کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل، یویٹی کوپر وزیر خارجہ مقرر

    خیبرپختونخوا میں گورننس کا وجود نہیں رہا، مولانا فضل الرحمان

  • چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

    چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

    دریائے چناب میں شیر شاہ کے مقام پر پانی انتہائی خطرے کی سطح سے اوپر آ گیا جبکہ دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی کینال میں شگاف پڑنے سے بڑی آبادی زیر آب آ گئی۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سدھنائی کینال میں گنجائش سے 4 گنا زیادہ پانی آ چکا ہے، سدھنائی کینال کے شگاف کو پر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،دریائے راوی کا پانی نہروں میں داخل ہونے سے ملتان روڈ پر رانگو نہر میں دو مقامات پر شگاف پڑ گئے۔ رانگو نہر کے شگاف سے درجنوں دیہات زیرِ آب آ گئے۔

    اس کے علاوہ دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے سے کہروڑ پکا میں میٹاں والا بند ٹوٹ گیا جس کے نتیجے میں پانی نے درجنوں آبادیوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ متاثرہ علاقوں سے انخلاء کا عمل جاری ہے ، تقریباً 70 فیصد لوگ محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے۔

    بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں کتنی ٹیلی کام سائٹس متاثر ہوئیں،اعدادوشمارجاری

    ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان کاٹھیا کا کہنا ہے کہ اگلے 24 گھنٹے ملتان کے لیے انتہائی اہم ہیں ، ملتان میں شیر شاہ برج متاثر ہوا ، تینوں دریاؤں میں سیلابی صورتِ حال کی وجہ سے 13 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی زیر آب ہے، برج کو بریچ کرنا آسان نہیں ہوتا، بہت کچھ دیکھ کر فیصلہ لیا جاتا ہے۔

    خلیج بنگال سے آنے والے مون سون سسٹم کے تحت کراچی میں بارشیں ہونے یا نہ ہونے سے متعلق پیش گوئی کر دی گئی،محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہوا کا کم دباؤ اس وقت بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے قریب ہے۔

    بچے کے زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مجرم کو 3 بار سزائے موت کا فیصلہ

    حالیہ سسٹم مغرب اور شمال مغرب کی جانب حرکت کر رہا ہے جو 6 یا 7 ستمبر کو بھارتی راجستھان اور گجرات کے قریب پہنچ جائے گا،مون سون سسٹم کے زیر اثر جنوب مشرقی سندھ میں 7 ستمبر سے بارش کا امکان ہے جبکہ گرج چمک کے تیز بارش ہو سکتی ہےسسٹم کے قریب آنے پر کراچی میں بارش کے حوالے سے حتمی پیشگوئی کی جا سکے گی۔

  • سیلابی صورتحال، یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرین کی مدد کرنی چاہیے،یوسف رضا گیلانی

    سیلابی صورتحال، یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرین کی مدد کرنی چاہیے،یوسف رضا گیلانی

    چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ملکی موجودہ سیلابی صورتحال میں تمام پاکستانیوں کو یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرین کی مدد کرنی چاہیے،مشکل وقت میں ہمیں تنقید کی بجائے عوامی مفاد اور ریلیف کیلئے مل کر کام کرنا چاہئے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں جھوک وینس، بستی ریاض آباد اور لک والا نواب پور کے علاقوں میں قائم فلڈ ریلیف کیمپوں کے دورہ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حالیہ سیلاب سے ملک بھر سمیت پنجاب میں بہت لوگ متاثر ہوئے ہیں،اپنے گھروں کو چھوڑنا آسان نہیں ہوتا لیکن زندگی بچانے کےلئے یہ ضروری ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کو فوری چھوڑا جائے،تا کہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ قومی یکجہتی کےلئے ضروری یے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کا اجتماعی طور پر ساتھ دیا جائے،پوری قوم خاص طور پر کہ مخیر حضرات کو چاہیے کہ دکھ کی اس گھڑی میں گھر بار چھوڑنے والوں کی ہر طرح سے مدد کریں۔

    چیئرمین سینٹ نے کہا کہ ملتان اور گرد و نواح میں سیلاب زدہ علاقوں میں مقامی افراد،سول سوسائٹی ،انتظامیہ اور دیگر ادارے متاثرین کی مدد کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں،میں خود مسلسل فلڈ ریلیف کیمپوں کا دورہ کررہا ہوں،سیلاب زدہ علاقوں میں جلد کی بیماری اور سانپ کاٹنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں،ریلیف کیمپوں میں تمام ادویات وافر مقدار میں موجود ہیں جبکہ ڈاکٹرز بھی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ۔

    یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جانوروں کے کھانے کے لیے چارہ بھی مہیا کیا جا رہا ہے ،تمام پاکستانیوں کو یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرین کی زیادہ سے زیادہ امداد کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف ملتان آئیں اور انہوں نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا،میرے بیٹوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ریلیف کاموں اور سیلاب متاثرین کے مسائل بارے بتایا،مریم نواز شریف نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔چیئرمین سینٹ نے کہا کہ آج کا دن بہت خطرناک ہے ،ٹیمیں پانی مانیٹر کررہی ہیں ،تمام ادارے الرٹ ہیں ،جو لوگ ابھی تک دریائی علاقوں میں ہیں ان سے درخواست ہے کہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں ۔

    انہوں نے کہا کہ مزید ایک ہزار کیمپ میں نے منگوائے ہیں ہم ٹیم ورک کے طور پر کام کر رہے ہیں،جن بندوں کو بریچ کرنا ہے میں نے ان کا دورہ کیا ہے،متعلقہ محکمہ کا ایس او پی بنا ہوا ہے ،جب صورت حال پیدا ہو تی ہے تو وہ اس کے مطابق بریچ کرتا ہے -انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب کے بعد حکومت نقصانات کا تخمینہ لگائے گی اور پھر مدد کی جائے گی۔اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی علی قاسم سمیت مقامی زمیندار و سیاسی رہنما بھی سید یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ تھے۔

    روسی ادارے کا چین کو نیوکلیئر توانائی میں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا اعلان

    سندھ حکومت نے 5 اور 6 ستمبر کو عام تعطیل کا اعلان کردیا

    سریاب خودکش حملہ: نیشنل پارٹی کا 3 روزہ سوگ، حب کا جلسہ ملتوی

  • ملتان: فلڈ ریلیف کیمپس میں واش رومز کی عدم دستیابی، خواتین کو مشکلات کا سامنا

    ملتان: فلڈ ریلیف کیمپس میں واش رومز کی عدم دستیابی، خواتین کو مشکلات کا سامنا

    دریائے چناب میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد بنائے گئے فلڈ ریلیف کیمپس میں بنیادی سہولیات کے فقدان نے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، خصوصاً خواتین شدید اذیت کا شکار ہیں۔ کیمپوں میں باتھ رومز اور دیگر ضروری سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کو جسمانی اور ذہنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    کیمپ میں موجود خواتین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے فراہم کیے گئے غیر معیاری اور کھلے واش رومز مردوں کی موجودگی کے باعث استعمال کے قابل نہیں۔ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ شرم و حیا کے تقاضوں کے باعث کئی کئی گھنٹے اپنی حاجات روکنے پر مجبور ہیں، جو ان کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔متاثرہ خواتین نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر علیحدہ اور محفوظ واش رومز کا بندوبست کیا جائے تاکہ ان کی مشکلات میں کمی آ سکے۔

    دوسری جانب کیمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور آئندہ ایک سے دو روز میں پورٹ ایبل واش رومز متاثرہ کیمپوں میں پہنچا دیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ دریائے چناب کا سیلابی ریلا ملتان ڈویژن میں داخل ہو چکا ہے، اور پانی کے مسلسل بڑھتے ہوئے بہاؤ کے باعث درجنوں بستیاں زیر آب آ چکی ہیں۔ حکام کے مطابق صرف ضلع ملتان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد چار لاکھ تک جا پہنچی ہے، جن میں دو لاکھ خواتین شامل ہیں۔ متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔عوامی اور سماجی حلقوں نے بھی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ خواتین کے لیے مخصوص سہولیات فوری طور پر فراہم کی جائیں تاکہ انسانی وقار کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

  • سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل

    سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل

    سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل ہوگیا، ملتان میں دریائے چناب کا بڑا آبی ریلا ہیڈ محمد والا سے گزر رہا ہے، پانی متعدد بستیوں میں داخل ہونے کے بعد ریسکیو ٹیموں کی جانب سے متاثرہ بستیوں سے لوگوں کو محفوط مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

    ملتان میں دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہوگئی، اکبر فلڈ بند کے قریب پولیس نے بیریئر لگاکر ہیڈ محمد والا روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے، ہیڈ محمد والا پر 4 لاکھ 90 ہزار کیوسک کا ریلا پہنچ گیا، آج ملتان میں 8 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا گزرے گا، پانی زیادہ ہونے کی صورت میں بند پر شگاف ڈالا جائے گا، جس کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔

    ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب فواد ہاشم ربانی نے مظفرگڑھ کا ہنگامی دورہ کیا، اور دریائے چناب کے کنارے دوآبہ کے مقام پر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لیا، انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی انتظامیہ اور عوام کو سیلاب کے چیلنج کا سامنا ہے، ہماری اولین ترجیح انسانی جان کو محفوظ بنانا ہے، ہم نے تدبر اور بہتر حکمت عملی سے اس چیلنج سے نمٹنا ہے، عوام خوفزدہ نہ ہوں لیکن الرٹ رہیں۔

    ٹک ٹاک انفلوئنسر خاندان سمیت قتل

    بہاولنگر میں دریائے ستلج میں آنے والے بڑے سیلابی ریلے سے چاویکا بہادر کا بند ٹوٹنے سے متعدد بستیاں پانی کی لپیٹ میں آگئیں۔۔مین شاہراہ میں پانی موجود ہونے سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہےچیچہ وطنی میں سیلاب سے متعدد دیہات زیر آب آنے کے بعد لوگوں کی مویشوں کے ہمراہ محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے،جھنگ کے موضع پکے والا میں 45 سالہ خاتون سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئی۔

    ننکانہ صاحب میں دریائے راوی میں ہیڈبلوکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، سیلاب سے قریبی علاقے زیر آب آگئے ہیں، سیلاب متاثرین کا شکوہ ہے کہ انہیں ابھی تک کوئی امداد نہیں پہنچی،پنجاب میں سیلاب سے 24 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوچکے ہیں، جب کہ تقریباً 10 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے، سندھ سے اگلے 48 سے 72 گھنٹے بعد 13 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے۔

    سوڈان : لینڈ سلائیڈنگ سے پورا گاؤں تباہ ، صرف ایک شخص زندہ بچا

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق راوی، ستلج اور چناب دریاؤں میں شدید سیلاب کے باعث 24 لاکھ سے زائد افراد اور 3 ہزار 200 دیہات متاثر ہوئے ہیں،پی ایم ڈی نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران تمام بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں آندھی اور کہیں کہیں بارش کی پیشگوئی کی ہےان مقامات میں اسلام آباد، پشاور، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور، ساہیوال، ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژنز شامل ہیں،آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران فیصل آباد اور شمال مشرقی بلوچستان میں کہیں کہیں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔

    سندھ کے 3 بیراجوں پر بدستور نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہےسندھ حکومت کی جانب سے آج 8 لاکھ کا سیلابی ریلا آنے کی توقع کی جارہی ہے، ضلع کونسل سکھر کی جانب سے کچے میں پانی میں پھنسے کئی خاندانوں کو کشتیوں پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    سندھ میں کوٹری بیراج کے مقام پر دریائے سندھ کے سیلابی ریلے سے 78 دیہات زیر آب آگئے، بے گھر لوگوں نے کشتتیوں پر محفوظ مقامات پر نقل مکانی شروع کردی،ٹھٹھہ میں سیلاب سے کچے کے متعدد گاؤں زیر آب آنے سے 100 سے زائد مکانات ڈوب گئے، سیلاب سے متاثرہ افراد اپنی مدد آپ کے تحت کیمپ لگانے میں مصروف دکھائی دیے۔

    گھوٹکی میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافے سے کچے کے متعدد دیہات زیر آب ہیں، لوگوں کی کشتیوں پر محفوط مقامات پر نقل مکانی جاری ہے،سیہون میں بھی دریائے سندھ کے پانی نے کچے کے مختلف دیہات کو ڈبودیا ہےنوشہروفیروز میں دریائے سندھ میں مسلسل پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے، دریائے سندھ کے حفاظتی پشت ایس ایم بچاؤ بند پر پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، متعدد دیہات زیر آنے کے بعد مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔

    وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد 12 سے 13 لاکھ کیوسک پانی گڈو بیراج تک پہنچے گا،5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی سکھر اور کوٹری بیراج سے بغیر کسی نقصان کے گزر چکا ہے، 4 ستمر کو بڑا ریلا سندھ میں داخل ہوگا جس کی تیاریاں کر رکھی ہے، سندھ کے کسی بیراج کو سیلابی صورت حال سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

  • پاکستان  سیلابی صورتحال سے دوچار،متاثرین کا ساتھ دیں گے،یوسف رضا گیلانی

    پاکستان سیلابی صورتحال سے دوچار،متاثرین کا ساتھ دیں گے،یوسف رضا گیلانی

    چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت مشکل سیلابی صورتحال سے دوچار ہے،غم کی اس گھڑی میں متاثرین کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو سرکٹ ہاؤس ملتان میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سینئر عہدیداروں سے ملاقات کے دوران کیا۔سجادہ نشیں درگاہ موسیٰ پاک شہید سید ابوالحسن گیلانی ،سید مجتبیٰ گیلانی اور صدر انجمن اسلامیہ سید عمران حسن گیلانی بھی ملاقات میں موجود تھے۔اس موقع پر سید یوسف رضا گیلانی نے ملتان میں اانجمن اسلامیہ کی فلاحی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انجمن اسلامیہ کی ملتان اور جنوبی پنجاب کے لوگوں کےلئے فلاحی اور علمی حوالے سے خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اس حوالے سے یہاں بہترین پلیٹ فارم مہیا کئے گئے۔عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ ولسلم کے موقع پر ہر سال جو انتظامات کئے جاتے ہیں وہ لوگوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔چئیرمین سینٹ نے مزید کہا کہ گیلانی لاء کالج تعلیمی اعتبار سے ایک بہترین درسگاہ ہے۔اس درسگاہ کے 10 پی ایچ ڈی سکالر اس وقت موجود ہیں جو ایک اعزاز ہے۔

    سید یوسف رضا گیلانی نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی میڈیا کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ صحافیوں نے قومی یکجہتی کےلئے ہمیشہ ایک مثبت کردار ادا کیا جو قابل تعریف یے۔اس سے قبل پی ایف یو جے کے صدر رانا عظیم نے ملک بھر سے آئے ہوئے سینئر عہدیداروں، کے ہمراہ چیئرمین سینٹ سے ملاقات کی اور پیکا ایکٹ کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔آخر میں پاکستان بھر کے سیلاب متاثرین اور سید تنویر حسن گیلانی کی روح کے ایصال ثواب کےلئے دعا کرائی گئی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ وائرل،غلطی یاکچھ اور